خبرنامہ نمبر1671/2026
کوئٹہ27 فروری :بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سائنس کالج، ہاکی چوک تا سریاب ریلوے کراسنگ سڑک اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے متعلق تفصیلی پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات) زاہد سلیم نے عدالت کو بتایا کہ اکرم ہسپتال تا امداد چوک اور امداد چوک تا ہاکی چوک مرکزی شاہراہ (MCW) پر اسفالٹ بیس کورس، سروس روڈز، کراس ڈرینیج، یوٹرنز اور دیگر ساختی کام تیزی سے جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی اسفالٹ سڑک کی تکمیل عیدالفطر سے قبل متوقع ہے، جبکہ سروس روڈ، اسفالٹ وئیرنگ کورس اور دیگر ذیلی کام 15 تا 30 اپریل 2026 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ طوفانی پانی کی نکاسی کا منصوبہ 98 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ 15,905 میٹر میں سے 15,675 میٹر کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ صرف 230 میٹر باقی ہے۔ اسی طرح اسفالٹک بیس کورس بھی زیادہ تر حصے میں مکمل کیا جا چکا ہے، تاہم بعض مقامات پر گیس لائنوں کی منتقلی میں تاخیر رکاوٹ بن رہی ہے۔عدالت کے استفسار پر سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کے حکام مخدوم الرحمٰن (منیجر لٹیگیشن) اور انجینئر سمیر علی نے یقین دہانی کرائی کہ گیس منتقلی کا کام فوری مکمل کیا جائے گا۔ عدالت نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ وہ ایس ایس جی سی ایل حکام کے ہمراہ فوری سائٹ وزٹ کر کے کھدائی اور دیگر تکنیکی امور جلد نمٹائیں تاکہ مزید تاخیر نہ ہو۔مزید برآں، عدالت کو بتایا گیا کہ کوئٹہ کے اطراف اسٹون کرشنگ اور اسفالٹ پلانٹس پر عدالتی پابندیوں کے باعث مشکلات پیش آئیں، تاہم منصوبے کے لیے کیچ/ہنہ روڈ پر اسفالٹ پلانٹ قائم کیا گیا ہے۔ بعض شکایات کے باعث ایس ایچ او تھانہ کینٹ کی جانب سے رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی، جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو ہدایت کی کہ منصوبے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہ کی جائے اور ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ رینج کو بھی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے۔عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات) کو منصوبے کی نگرانی جاری رکھنے اور اگلی سماعت پر پیش رفت رپورٹ بمعہ تصویری ثبوت جمع کرانے کا حکم دیا۔دریں اثنائ، این-25 کراچی تا چمن شاہراہ کی دو رویہ تعمیر سے متعلق بھی پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی۔ بتایا گیا کہ کام جاری ہے اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ تاہم گاہی خان چوک اور سریاب کسٹم کے اوورہیڈ برجز اس منصوبے کا حصہ نہیں بلکہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے علیحدہ منصوبے ہیں، جن کے متعلق بھی اگلی سماعت پر رپورٹ طلب کر لی گئی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 مارچ 2025 تک ملتوی کرتے ہوئے حکم نامے کی نقل متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کی۔
خبرنامہ نمبر1672/2026
لورالائی 26 فروری ::میونسپل کمیٹی ہال لورالائی میں بلوچستان رینج لینڈ مینجمنٹ پالیسی 2025-2035(version3.0) کے مسودے پر غور وفکر اور بہتر ی کے لیے ڈویژنل سطح کی ایک اہم اور بامقصد اسٹیک ہولڈرز کنسلٹیشن منعقد ہوئی، جس کی سربراہی یورپی یونین کے فنڈڈ پراجیکٹ کے تحت محمد یوسف کاکڑ نے کی۔ اجلاس میں چراگاہوں کے پائیدار استعمال، تحفظ اور مؤثر انتظام کے لیے قابلِ عمل تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر لورالائی ڈویژن جناب ولی محمد بڑیچ تھے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم بلوچ، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ، کنزرویٹر فاریسٹ محمد آمین مینگل، اے ڈی سی جنرل نور علی کاکڑ، محکمہ زراعت و جنگلات کے افسران، زمینداران، مالدار برادری، اشر موومنٹ کے نمائندے، سینئر صحافی پیر محمد کاکڑ، کسان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا گیا۔اپنے کلیدی خطاب میں کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ بلوچستان کی وسیع چراگاہیں صوبے کی معیشت اور مالداری کے شعبے کی اصل بنیاد ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ رینج لینڈ کا تحفظ محض ماحولیاتی تقاضا نہیں بلکہ دیہی خوشحالی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، بے ہنگم چرائی اور پانی کی قلت جیسے چیلنجز کے پیشِ نظر چراگاہی وسائل کو سائنسی خطوط پر منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان رینج لینڈ کی بحالی، مؤثر مینجمنٹ اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت کے ذریعے مالداری کے شعبے کو مستحکم اور دیہی آبادی کے روزگار کے مواقع کو بڑھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ورکشاپ کے دوران ماہرین نے پالیسی کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ چراگاہیں دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور پانی و زمین کے وسائل کا تحفظ پائیدار ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سابق چیف کنزرویٹر فاریسٹ (جنوبی) سید غلام محمد نے بلوچستان میں رینج لینڈ مینجمنٹ کے چیلنجز اور مواقع پر جامع بریفنگ دی، جبکہ کنزرویٹر فاریسٹ جعفر علی بلوچ نے پالیسی کے کلیدی نکات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر مفصل اظہارِ خیال کیا۔اجلاس کے دوران شرکائ کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا جہاں پالیسی کی مضبوطیوں، کمزوریوں اور مواقع کا جائزہ لے کر عملی سفارشات مرتب کی گئیں۔ شرکائ نے زمینی حقائق، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، چراگاہوں کی بحالی، پانی کے مؤثر استعمال اور مقامی آبادی کی شمولیت جیسے اہم امور پر بھرپور گفتگو کی۔ سوال و جواب کے سیشن میں پالیسی کے نفاذ، نگرانی کے نظام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے متعلق قیمتی آرائ پیش کی گئیں۔اختتام پر ماہرین نے اس مشاورتی عمل کو بلوچستان میں چراگاہوں کے پائیدار تحفظ، مالداری کے فروغ اور دیہی معیشت کی مضبوطی کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جامع پالیسی سازی، جدید سائنسی طریقہ? کار اور مقامی کمیونٹیز کی فعال شمولیت کے ذریعے بلوچستان کے وسیع چراگاہی وسائل کو محفوظ بنا کر نہ صرف مالداری کے شعبے کو ترقی دی جا سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی توازن اور معاشی استحکام بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ورکشاپ کے اختتام پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا اور مغرب کی نماز و افطار/ڈنر کے ساتھ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔
خبرنامہ نمبر1673/2026
قلات27فروری: شیخاڑی ایریا، یوسی اسکالکو کےگاؤں سور اور لونڈ میں خسرہ-روبیلا کی وبائ سےآؤٹ بریک ریسپانس کےمثبت نتائج سامنے آناشروع ہوگئےبلوچستان کے تاریلی شہر قلات کے دورافتادہ علاقوں میں خسروروبیلا کی وبائ سے متعلق اطلاعات پر ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی نے بروقت ایکشن لیتے ہوئےایک ریپڈ ریسپانس ٹیم کو شیکھڑی، یوسی اسکالکو کے دور افتادہ اور ہائ رسک سیکیورٹی ایریا میں خسرہ کی مشتبہ وبا پر قابو پانے اور ریپڈ ریسپانس کیلیئے بھیجا* دشوارگزار دور دراز اور انتہائی حساس اور سیکیورٹی کمپرومائزڈ ایریا میں RRT کی تعینات ٹیم نے جنگی بنیادوں ہر حکمت عملی کے تحت کام کیاآر آر ٹی کی قیادت میر بلال، ایم اینڈ ای آفیسر، ای پی آئی قلات کر رہے تھے اور انکے ساتھ کمیونٹی کی خدمت میں ہمہ وقت پیش پیش مفتی علی حسن، نجیب اللہ مینگل، میر نذر خان جتک اور ڈبلیو ایچ او کے ویکسینیٹر محمد حفیظ موجود تھے۔ ضلعی انتظامیہ اور ڈی ایچ او اور ڈپٹی ڈی ایچ او قلات کے تعاون سے، ٹیم رضاکارانہ طور پر اس انتہائی سیکورٹی کمرو مائزڈ ایریا میں موجود سورو اور لوند کے دیہات پہنچی۔کیس انویسٹی گیشن، ایکٹیو سرچ اور 30 ??ہاؤس کلسٹر انویسٹی گیشن کی گئی۔ ایم آر کے کل 13 کیسز EPI پاکستان کی اپلیکیشن پر رپورٹ کیے گئے ۔ مشتبہ خسرہ کیسز کے چار بچوں کے خون کے نمونے جمع کیے گئے اور بدقسمتی سے ایک موت کا کیس ریکارڈ کیا گیا۔ 6 ماہ سے 8 سال تک کے 24 بچوں کو ایم آر ویکسین لگائ گئی اور وٹامن اے کیپسول پلاے گئے تاکہ اس وبائ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔کیس کی تفتیش کے فارم مکمل طور پر بھرے گئے اور کامیابی کے ساتھ اپلیکیشن پے اپلوڈ کئے گئے۔ خون کے نمونے سینٹری فیوج کے بعد آج این آئی ایچ لیب اسلام آباد بھجوائے جائیں گے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر قلات ڈاکٹر انجم بلوچ کا کہنا ہے کہ مکمل گاؤں سورو کسی بھی قسم کی ویکسینیشن سے دائمی انکاری تھا بچوں کی ویکسینیشن اور مشتبہ کیسز کے نمونے لینے کے لیے کمیونٹی کو مشکل سے متحرک کیا گیا۔ اس دوران گاؤں لونڈ اور سورو میں دو ہیلتھ کیمپس کا اہتمام کیا گیا جہاں ہر عمر کے افراد و خواتین کی او پی ڈی کی گئی اور ڈی ایچ او کی طرف سے فراہم کردہ ادویات تقسیم کی گئیں اور ساتھ ہی کمیونٹی کو EPI ویکسینز کی اہمیت (VPDs) کے حوالے سے دوبارہ کونسلنگ کی گئی اور* کمیونٹی میں ویکسین کی ڈیمانڈ جنریشن کے لیے کوششیں کی گئیں کمیونٹی کو سمجھایا گیا کہ ماہانہ بنیادوں پر جب بھی ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے مقامی ویکسینیٹر محمد حفیظ ان علاقوں کا دورہ کرے تو کمیونٹی انکے ساتھ تعاون کرے اور اپنے تمام پانچ سال سے کم عمر بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائیں اسکالکو کے یوسی چیئرمین حاجی عبدالواحد پندرانی کے تعاون سے RRT ٹیم کی تعیناتی اور EPI ویکسین اور OPV ڈرائیوز کے حوالے سے ان کا تعاون میڈیکل ٹیم کو حاصل رہا اورآئندہ بھی یوسی چیئرمین نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ڈی ایچ او کا کہنا ہیکہ ہماری ٹیمیں EPI ORTs اور پولیو ویکسینیشن ڈرائیوز کے حوالے سے مسلسل رابطے میں رہیں گی ضلعی ناظم صحت قلات نے خالق آباد قلات کے عوام الناس اوربلدیاتینمائندوں سے اپیل کی ہے کہ اپنے تمام بچوں کو اپنے کسی بھی قریبی سینٹر سے حفاظتی ٹیکاجات لگوائیں اور جب بھی ہمارے ویکسینیٹرز آپ کے گھروں کے قریب حفاظتی ٹیکے لگانے آئیں تو ان سے مکمل تعاون کریں اور کسی بھی علاقے میں اگر ہماری ویکسینیشن ٹیمز نہیں بہنچی تو ڈی ایچ او آفس کو اطلاح فراہم کریں
خبرنامہ نمبر1674/2026
تربت. وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے ماہِ رمضان المبارک میں گرانفروشی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے اسٹار پلس مارکیٹ تربت میں اچانک معائنہ کیا کارروائی کے دوران متعدد دکانداروں کو سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیائے خوردونوش فروخت نہ کرنے پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے، ایک دکان کو سیل کر دیا گیا جبکہ موقع پر موجود سامان بھی ضبط کر لیا گیا ایک دکاندار کو خلاف ورزی پر گرفتار کرلیا گیا۔ اس موقع پر میونسپل کارپوریشن تربت کا عملہ اور پرائس کنٹرول کمیٹی کے نمائندہ نیاز احمد بھی اسسٹنٹ کمشنر تربت کے ہمراہ موجود تھے جنہوں نے نرخ ناموں کی جانچ پڑتال اور عوامی شکایات کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے واضح کیا کہ ماہِ رمضان المبارک میں گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ نامے کے مطابق خرید و فروخت نہ کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور ناجائز منافع خوری کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔انہوں نے دکانداروں کو متنبہ کیا کہ وہ سرکاری نرخ نامے کو نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور مقررہ قیمتوں پر اشیائے ضروریہ فروخت کریں بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر1675/2026
نصیرآباد27فروری:صحبت پور: بلوچستان میں تعلیم نظام کے لیے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول مانجھی پور میں سالانہ نتائج کے اعلان اور یومِ والدین کے سلسلے میں شاندار تقریب منعقد ہوئی جس میں ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب کا مقصد تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ، طلبہ کی حوصلہ افزائی اور والدین و اساتذہ کے درمیان باہمی روابط کو مضبوط بنانا تھا جبکہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن صحبت پور کی جانب سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر علاقے کے معززین، والدین، اساتذہ اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کے دوران طلبہ نے تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ، اردو و انگریزی تقاریر، ملی نغمے، ٹیبلو اور مختلف کھیلوں کے مظاہرے پیش کیے جنہیں شرکائ نے خوب سراہا۔ تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ، پوزیشن ہولڈرز اور اسپورٹس ویک میں کامیاب ٹیموں میں انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تعلیمی میدان میں کامیابی کے لیے محنت، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی بنیادی عناصر ہیں جبکہ اساتذہ اور والدین کا کردار طلبہ کی تربیت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ آخر میں ملک و قوم کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
خبرنامہ نمبر1676/2026
چمن :ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن فدا بلوچ نے گزشتہ رات دیر گئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چمن کا اچانک دورہ کیا اور ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے شعبہ حادثات، میڈیکل وارڈ، بچوں کے وارڈ اور دیگر شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹروں اور سٹاف کی حاضریاں چیک کیں اس موقع پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے اے ڈی سی چمن کو ہسپتال میں داخل مریضوں کی علاج معالجہ ادویات کی سٹاک اور ہسپتال میں موجود طبی آلات مشینری اور انتظامات کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کہا کہ مریضوں کی علاج و معالجہ کے حوالےسے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو تاکید کی کہ ہنگامی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ادویات کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایسے دورے تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔ مزید برآں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ حالات کے پیش نظر چمن کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوید بادینی نے سول ہسپتال چمن میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ہسپتال کے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ہسپتال میں اضافی ادویات اور خون کی دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات مکمل کیے گئے ہیں۔
خبرنامہ نمبر1677/2026
نصیر آباد: ڈپٹی کمشنر نصیر آباد ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت کلسٹر کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر و کمیٹی کے سیکرٹری حفظ اللہ کھوسہ، فوکل پرسن عبدالحکیم فرمان مگسی، اعجاز علی ساسولی، ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کے امور، کلسٹر سسٹم کی کارکردگی اور اسکولوں کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ضلع نصیر آباد کے 631 سرکاری اسکولوں کے لیے 42 کلسٹر قائم کیے گئے ہیں جن کے ذریعے تعلیمی انتظام و انصرام، وسائل کی تقسیم اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر و کمیٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی کرار نے ہدایت کی کہ کلسٹرز کی ضروریات کے مطابق ڈیمانڈ کی بروقت تیاری اور ٹینڈرنگ کے عمل کو مزید تیز اور شفاف بنایا جائے تاکہ اسکولوں کو درکار سہولیات کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی شعبے کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اساتذہ، افسران اور متعلقہ عملہ باہمی رابطے کے ذریعے تعلیمی معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دیں۔ اجلاس کے دوران کلسٹر مینجمنٹ کے طریقہ کار کو مزید فعال بنانے اور اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی زیر غور آئیں۔
خبرنامہ نمبر1678/2026
کوئٹہ 27 فروری۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی پرائس کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اس سلسلے میں گزشتہ روز مختلف ٹیموں نے شہر کی 210 دکانوں اور مارکیٹس کا معائنہ کیں جس پر خلاف ورزی کی صورت میں 55 افراد گرفتار،45 افراد جیل منتقل اور 22 دکانیں سیل کردیے گئے تفصیلات کے مطابق ماہ رمضان میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہر میں گرافروشوں، منافع خوروں اور پرائس کنٹرول لسٹ پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائیوں کے سلسلے میں سب ڈویژن سٹی میں 80 دکانوں کا معائنہ کیا گیا اس موقع پر 30 افراد گرفتار اور 5 دکانیں سیل کردیے گئے جبکہ سب ڈویژن صدر میں 50 دکانوں کا معائنہ کرکے 9 افراد گرفتار اور 4 دکانیں سیل کردیے گئے اس کے علاوہ سب ڈویژن سریاب میں 102 دکانوں کا معائنہ کرکے18 افراد گرفتار اور11 دکانیں سیل کردیے گئے جبکہ سب ڈویژن کچلاک 30 دکانوں کا معائنہ کرکے 9 افراد گرفتار اور 5 دکانیں سیل کردیے گئے۔ضلع انتظامیہ کی جانب سے دکانداروں اور تاجروں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ماہ رمضان کے دوران اشیائ خوردونوش کی ناجائز قیمت وصول کرنے اور گرانفروشی کرنے سے گریز کریں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر1679/2026
کوئٹہ 27فروری۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خصوصی رمضان ریلیف پیکج کے تحت ضلع بھر میں مستحق افراد کی معاونت کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اس پروگرام کے تحت ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی زیر نگرانی شفاف اور منظم انداز میں راشن کی تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ حقیقی ضرورت مند افراد تک بروقت امداد پہنچ سکے۔اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر (صدر) کیپٹن (ر) حمزہ انجم نے صدر ڈویژن میں مستحق افراد کی مدد کے لیے عملی اقدامات کرتے ہوئے 200 غریب و نادار خاندانوں، بیواؤں اور یتیموں میں راشن تقسیم کیا۔ راشن پیکج میں آٹا، چاول، دالیں، گھی، چینی اور دیگر بنیادی اشیائے خوردونوش شامل تھیں، جو رمضان المبارک کے دوران گھریلو ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت کے مطابق ریلیف سرگرمیوں میں شفافیت، میرٹ اور عزتِ نفس کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستحق افراد کی فہرستیں مقامی سطح پر تصدیق کے بعد مرتب کی گئی ہیں تاکہ امداد صرف حقداروں تک پہنچے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران ریلیف پیکج کی تقسیم کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا اور مزید مستحق خاندانوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنا اور کم آمدنی والے طبقات کو ماہِ صیام میں سہولت فراہم کرنا ہے۔شہریوں نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ایسے فلاحی اقدامات سے معاشرے کے کمزور طبقات کو حقیقی ریلیف ملے گا اور رمضان المبارک کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں گے۔
خبرنامہ نمبر1681/2026
لورالائی26فروری،ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس لورالائی رینج جنید احمد شیخ سےنیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نےملاقات کی، جس میں علاقے کی امن و امان کی صورتحال، درپیش مشکلات اور کمیونٹی کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وفد میں حاجی ظاہر ناصر، حاجی مالک ناصر، جلیل خان ناصر (واپڈا)، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہوم ڈیپارٹمنٹ جہان زیب خان ناصر، عبدالرحمن ناصر، نظر و خان ناصر، حبیب اللہ ناصر، حسین خان، اسلم خان اور دیگر معززین شامل تھے۔ ملاقات کے دوران وفد نے اپنے علاقے میں امن و استحکام کے فروغ، عوامی مسائل کے حل اور سماجی ہم آہنگی کے لیے کمیٹی کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے وفد کے عوامی خدمات اور قیامِ امن کے لیے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس عوامی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ مضبوط روابط قائم رکھ کر جرائم کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو محفوظ اور پُرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور فریقین نے علاقے میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کے لیے مشترکہ کاوشیں تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبرنامہ نمبر1682/2026
سبی 27 فروری:کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے یوتھ روزگار پروگرام کے تحت قائم سبی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس جدید تربیتی سینٹر میں 120 طلبائ و طالبات کو سلائی کڑھائی، بیوٹیشن، موبائل ریپیرنگ اور کمپیوٹر کورسز کے لیے منتخب کیا گیا ہے جہاں انہیں چھ ماہ کی مدت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار اساتذہ کی زیر نگرانی تربیت فراہم کی جائے گی۔ افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امجد جاوید لاشاری، چیف ایگزیکٹو National Vocational and Technical Training Commission حاجی محمد حنیف رند، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر حیات جمالی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر NAVTTC سبی میر حبیب الرحمن رند، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر جعفرآباد سجاد رند اور پی ایس کمشنر زیشان طاہر سمیت دیگر افسران موجود تھے۔ اس موقع پر سینٹر کا تفصیلی دورہ بھی کرایا گیا اور جاری پروگرامز سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ National Vocational and Technical Training Commission کے تحت قائم یہ ادارہ نوجوان مرد و خواتین کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں معیاری فنی تعلیم فراہم کرے گا، جس سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوتھ روزگار پروگرام کا مقصد باصلاحیت نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی مہارتیں فراہم کرنا ہے تاکہ وہ قومی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ دیگر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کے مزید ادارے قائم کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع میسر آئیں۔ تقریب میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حکومت کے اس اقدام کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر کمشنر سبی ڈویژن نے فارسٹ آفیسر اللہ وسایا و دیگر کے ہمراہ پودا لگا کر شجرکاری مہم میں حصہ لیا اور سرسبز ماحول کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبرنامہ نمبر1683/2026
کوئٹہ 27 فروری: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی سب سے بڑی اکثریتی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے جن کے معزز ارکان کے کندھوں پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ تمام پالیسیوں اور منصوبوں کی رہنمائی کریں جو عوام کی بہتری اور روشن مستقبل کی راہ ہموار کریں۔ واضح رہے کہ عوام کی طرف سے فراہم کردہ یہ اعتماد بہت زیادہ عوامی توقعات کے ساتھ منسلک ہے لہٰذا منتخب عوامی نمائندے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں اور عوامی مطالبات کو ٹھوس حقیقتوں میں بدل دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی وزرائ سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا جن صوبائی وزیر سلیم کھوسہ، میر شعیب نوشیروانی، سردار عبد الرحمٰن کھتران اور حاجی برکت رند شامل تھے۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بحیثیت عوامی نمائندے آپ بلوچستان جاری ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ وعدے اور ڈیلیوری کے درمیان فرق ختم ہو سکے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ اس صوبے کی تقدیر سنوارنے میں آپ کا پریکٹیکل کردار بہت اہم ہے، اس بات کو یقینی بنانے میں کہ ہر شہری ترقی کے ثمرات حاصل کرے اور ہر آواز کو سنا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹرینز کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں لیکن اجتماعی کوشش، لگن اور خدمت کے عزم کے ساتھ، مسلم لیگ (ن) بلوچستان کو خوشحالی اور ترقی کی طرف گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں ںے کہا کہ بلاشبہ لوگ نتائج کا انتظار کر رہے ہیں اور وقت آپہنچا ہے کہ منتخب نمائندے فیصلہ کن طور پر کام کریں، تیزی سے کام کریں اور غریب و محروم کی فلاح و بہبود کیلئے کام کریں۔ بلوچستان کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اسے نئی امید، پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا مستقبل بننے دیں۔
خبرنامہ نمبر1684/2026
کوئٹہ، 27 فروری : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خیبرپختونخوا میں پاک۔افغان سرحد سے متصل علاقے میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس طرح کی اشتعال انگیزی کسی صورت قابل قبول نہیں سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دے کر دشمن کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، بروقت کارروائی اور قومی دفاع کے عزم کو سراہا میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی اور پاکستان اپنی قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ملک کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے معاملے پر پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے، اور دشمن کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر1685/2026
کوئٹہ، (27 فروری) وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے پاک۔افغان سرحد پر حالیہ افغان جارحیت کا بروقت اور مؤثر جواب دینے پر افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اس کی سرحدوں کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ خطے میں قیامِ امن کے لیے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے۔انہوں نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پورے خطے کا مسئلہ ہے، اور اس کے تدارک کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی انسانی ہمدردی، اسلامی اخوت اور برادرانہ تعلقات کے جذبے کے تحت کی ہے۔ لاکھوں افغان شہریوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات فراہم کی گئیں، تاہم اس کے باوجود سرحد پار سے بدامنی کے واقعات نہایت افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کی بہتری اسی صورت ممکن ہے جب ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر ملک کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں لیکن قوم کی یکجہتی اور سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث ان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادارے ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور وطن سے وفاداری پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔
خبرنامہ نمبر1686/2026
تربت 27 فروری :یونیورسٹی آف تربت کے شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے بی ایس بوٹنی پروگرام کے طلبہ کے زیراہتمام یونیورسٹی کے احاطے میں شجرکاری مہم کا آغاز کیا گیا۔ یہ سرگرمی بی ایس بوٹنی کے تعلیمی پروگرام کا عملی حصہ ہےجس کا مقصد طلبہ میں ماحولیاتی شعور کو فروغ دینےاور انہیں عملی تربیت فراہم کرنے کے علاوہ کیمپس کو خوبصورت اور صاف ستھرا رکھناہے۔ شجرکاری مہم کا افتتاح یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد نے پودا لگا کر کیا۔شجرکاری مہم میں طلبہ نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی اور ہر طالب علم نے کیمپس میں ایک ایک پودا لگایا۔اس شجرکاری مہم کے تحت ہر طالب علم اپنی تعلیمی مدت کے دوران اپنے لگائے گئے پودے کی باقاعدگی سے آبیاری، نگہداشت اور دیکھ بھال کرے گا تاکہ اسے تناور درخت میں تبدیل کیا جا سکے۔پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد نے شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام طلبہ کی ماحول دوستی اور عملی تعلیم سے وابستگی کا واضح مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی قیادت میں تربت یونیورسٹی نے سرسبز اور صاف ستھرے ماحول میں معیاری اعلی تعلیم کے فروغ کاعزم کررکھاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم گرین یوتھ موومنٹ سمیت شجرکاری کے مختلف پروگراموں کے ذریعے تربت یونیورسٹی ماحولیاتی تحفظ، کاربن کے اخراج میں کمی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں موثر کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں طلبہ میں ماحولیاتی ذمہ داری کا شعور اجاگر کرتی ہیں اور قدرتی وسائل کے تحفظ اور ان کے بہتر استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔
خبرنامہ نمبر1687/2026
کوئٹہ 27 فروری :محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں ڈرونز، یو اے ویز، کواڈ کاپٹرز، کیم کاپٹرز اور دیگر ریموٹ کنٹرول فضائی آلات کے استعمال، قبضے اور آپریشن پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نگرانی، جاسوسی، ممنوعہ اشیائ اور دھماکہ خیز مواد کی ترسیل، خوف و ہراس پھیلانے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عوامی تحفظ، حساس اور اہم تنصیبات، عوامی اجتماعات اور اہم شخصیات و قافلوں کی نقل و حرکت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے صوبے بھر میں ڈرونز کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور تاحکم ثانی برقرار رہے گی۔حکم نامے کے مطابق پولیس اور فرنٹیئر کور کو پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پر عمل درآمد کی رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مجاز پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر1688/2026
کوئٹہ 27فروری۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت زرعی انکم ٹیکس کی وصولی اور ریکارڈ کی بہتری کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں چاروں سب ڈویژنز سے تعلق رکھنے والے تحصیلداران، نائب تحصیلداران، پٹواریوں اور دیگر متعلقہ ریونیو عملے نے شرکت کی۔اجلاس کا مقصد زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور منظم بنانا تھا۔ اس موقع پر سب ڈویژنز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ہر تحصیل کی وصولیوں، زیرِ التوائ کیسز اور ریکارڈ کی درستگی سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس صوبائی حکومت کے ریونیو کا ایک اہم ذریعہ ہے، لہٰذا اس کی بروقت اور مکمل وصولی کو یقینی بنانا متعلقہ عملے کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ریونیو ریکارڈ کو ڈیجیٹل اور دستی دونوں سطح پر درست اور اپ ڈیٹ رکھا جائے۔ٹیکس وصولی کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔بڑے زرعی مالکان سے واجبات کی وصولی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔زیر التوائ کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔فیلڈ اسٹاف اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام اپنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا جائے تاکہ ادارے پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ہر سب ڈویژن کی کارکردگی کا ماہانہ جائزہ لیا جائے گا اور مقررہ اہداف حاصل نہ کرنے والے عملے کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پرایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے کہا کہ ریونیو نظام میں بہتری، شفافیت اور حکومتی محصولات میں اضافے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ صوبے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
Handout No 1689/2026
Quetta (February 27) Advisor to the Chief Minister of Balochistan on the Department of Women Development, Dr. Rubaba Khan Buledi, has paid rich tribute to the officers and soldiers of the Armed Forces of Pakistan for giving a timely and effective response to the recent Afghan aggression along the Pakistan-Afghanistan border. She stated that the entire nation stands firmly with its brave armed forces.
In her statement, Dr. Rubaba Khan Buledi said that any attempt to create instability in border areas cannot be tolerated under any circumstances. Pakistan is a sovereign state, and the protection of its borders will be ensured at all costs. She added that recent incidents demand a serious and responsible approach to ensure lasting peace in the region.
She expressed deep concern over the use of Afghan soil by elements hostile to Pakistan, resulting in terrorist incidents in various parts of the country. She emphasized that terrorism is not the problem of one country alone but of the entire region, and a joint strategy is essential to effectively combat this threat.
Dr. Rubaba Khan Buledi further stated that Pakistan has hosted Afghan refugees for decades on humanitarian grounds, guided by Islamic brotherhood and fraternal ties. Millions of Afghan nationals were provided with access to education, healthcare, and employment opportunities. However, despite these efforts, incidents of unrest originating from across the border are deeply regrettable and unacceptable. She noted that improvement in bilateral relations is only possible when mutual sovereignty and security are respected.
She made it clear that Pakistan will not compromise on its sovereignty, border security, or the protection of its citizens. She stated that hostile elements seek to sabotage the country’s peace, but due to national unity and the professional capabilities of security institutions, their malicious intentions will never succeed.
Dr. Rubaba Khan Buledi concluded by appreciating the timely and effective action of the security forces, stating that Pakistan’s institutions possess the full capability to respond decisively to any form of aggression. She affirmed that the sacrifices of the Armed Forces of Pakistan are unforgettable, and their bravery, professionalism, and loyalty to the nation remain a source of pride for the entire country.
خبرنامہ نمبر 1690/2026
خبر نامہ: کوئٹہ(27 فروری 2026):- محکمہ تعلقات عامہ حکومت بلوچستان اس امر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہے کہ خبرنامہ نمبر 1680/2026 جو ڈی جی پی آر کے آفیشل سوشل میڈیا (واٹس ایپ گروپس) میں مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا ہے۔ مذکورہ خبر میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کے بیان کے تناظر میں محکمہ تعلقات عامہ کے افسران و ملازمین کی جانب سے ردعمل کا اظہار، محکمہ کی کارکردگی کے دفاع، خصوصی الاؤنس کے معاملے اور ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ محکمہ واضح کرتا ہے کہ یہ خبر حکومت بلوچستان یا محکمہ تعلقات عامہ کے سرکاری مؤقف کی عکاسی نہیں کرتی۔ محکمہ تعلقات عامہ یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ سرکاری خبر سکاری ضابطہ کار، قواعد و ضوابط اور مجاز افسران کی باقاعدہ منظوری کے بعد جاری کیے جاتے ہیں۔ محکمہ تعلقات عامہ حکومت بلوچستان کے کسی بھی پلیٹ فارم، بشمول آفیشل واٹس ایپ گروپس، کا غیر مجاز استعمال محکمانہ ضوابط کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ مزید برآں محکمہ تعلقات عامہ نے اس غیر سنجیدہ عمل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے باضابطہ تحقیقات اور اس عمل میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف خلاف مروجہ سروس رولز اور بلوچستان سرکاری ملازمین (کارکردگی و نظم و ضبط) قواعد کے تحت سخت انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ محکمہ تعلقات عامہ اپنے پیشہ ورانہ صلاحیتوں، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور حکومتی پالیسیوں کی مکمل پاسداری کا اعادہ کرتا ہے۔
خبرنامہ نمبر1691/2026
اسلام آباد، 27 فروری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جمعہ کو یہاں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی رہائش گاہ پہنچے جہاں انہوں نے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی بھابی کے انتقال پر تعزیت و فاتحہ خوانی کی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے صبر جمیل کے لئے دعا کی۔
خبرنامہ نمبر 1692/2026
گوادر۔ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق جی ڈی اے کے جدید اور دلکش اسپورٹس گراؤنڈز میں میر کلمتی رمضان المبارک اسپورٹس فیسٹیول 2026 کا باوقار آغاز ہو چکا ہے، جہاں ایمان افروز راتیں اب صحت مند سرگرمیوں اور ولولہ انگیز مقابلوں سے بھی منور ہیں۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے، معین الرحمٰن خان کی خصوصی ہدایت پر گراؤنڈز میں جدید لائٹنگ سسٹم، بلا تعطل بجلی، شاندار سبزہ زار اور معیاری سہولیات کی فراہمی نے میدانوں کو نئی روح بخش دی ہے۔ روشن قمقموں تلے خوبصورت سبزہ زار پر دوڑتے نوجوانوں کا جوش و خروش، تماشائیوں کا ولولہ اور کھیلوں کا اعلیٰ معیار گوادر کی بدلتی اور سنورتی تصویر کو نمایاں کر رہا ہے۔آج گوادر میں رات کے اوقات میں کھیلوں کی سرگرمیاں ایک شاندار اور خوبصورت روایت بن چکی ہیں، جو نہ صرف نوجوان نسل کو مثبت سمت اور صحت مند مصروفیات فراہم کر رہی ہیں بلکہ شہر کے روشن، پرامن اور متحرک چہرے کو بھی دنیا کے سامنے اجاگر کر رہی ہیں۔یہ فیسٹیول کھیل، ثقافت اور اجتماعی ہم آہنگی کا حسین امتزاج ہے، جہاں ہر نعرا، ہر مقابلہ اور ہر کامیابی گوادر کے تابناک اور روشن مستقبل کی نوید ثابت ہو۔







