خبرنامہ نمبر 4081/2022
کوئٹہ24جون۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن/پراجیکٹ ڈائریکٹر سہیل الرحمن بلوچ کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت سٹرکوں کی تعمیر سے متعلق منصوبوں پر کام کی پیش رفت کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کوئٹہ نور محمد مندوخیل،اسٹنسٹ کمشنر سٹی فاروق عبداللہ،ڈپٹی پی ڈیز،محکمہ ایس ایس جی سی،کیسکو اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ دویلپمنٹ پیکیج کے منصوبوں پر تمام متعلقہ اداروں کے درمیان کوارڈینیشن ناگریز ہے تاکہ مسائل اور رکاوٹوں کو بروقت دور کرکے کام کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔تمام ادارے ایک ٹیم ورک کے نتیجے میں کام کریں۔ تمام ادارے کام کی سائٹ پر موجود رہیں تاکہ مسائل کی بروقت نشاندھی کرکے انکو حل کیا جا سکے۔سبزل روڈ اور سریاب روڈ کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔تمام یوٹیلیٹی سروسز فراہم کرنے والے ادارے عدم تعاون کی شکایت کا ازالہ کریں۔انہوں نے کہا کہ سریاب روڈ پر جہاں مسائل نہیں وہاں کام کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔تمام منصوبوں پر متواتر نگرانی کرکے حائل رکاوٹوں کو بروقت دور کیا جائے۔ایک ٹیم تشکیل دیکر تمام منصوبوں کا سروے کیا جائے جو حائل رکاوٹوں اور مشکلات کا جائزہ لے کر ان کا حل کریگی۔کیسکو کی جانب سے کام تسلی بخش ہے لہذا دیگر ادارے بھی اپنا کام مقررہ ڈیڈ لائن میں مکمل کریں۔انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ بلوچستان ان منصوبوں پر سنجیدہ ہے اور اگلی سماعت میں کارکردگی پیش کرنی ہے لہذا ہمارا کام ہی ہماری کارکردگی ہوگا۔مساجد کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ تاکہ منصوبوں پر کام کی رفتار تیز اور مقررہ وقت پر مکمل ہو سکے۔ سبزل روڈ پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے سرکی روڈ کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری ہے۔اجلاس کے آ خر میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکیج کے منصوبوں پر کام کی پیش رفت اور حائل رکاوٹوں کے حل کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق تفصیلاً بریفنگ دی گئی۔
()()()
خبرنامہ نمبر 4082/2022
گوادر 24جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے بلوچستان کی جانب خصوصی توجہ نہ دی تو بلوچستان کی حالت سو سال میں بھی تبدیل نہیں ہوگی یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کو اپنی ترجیحات میں شامل کررکھا ہے وزاعظم کے کوئٹہ اور گوادر کے تسلسل کے ساتھ دورے حوصلہ افزاء ہیں ان خیالات کا اظہا رانہوں نے وزیراعظم کے دورہ گوادر کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا وفاقی اور صوبائی وزراء، چینی حکام،گوادر کے معتبرین اور ماہی گیر وں کے علاوہ وفاقی و صوبائی متعلقہ حکام بھی تقریب میں موجود تھے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو مسائل سے نکالنے کیلئے اس کے حصے سے بڑھ کر دینا ہوگا ورنہ ہمیں بین الاقومی طور پر بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور بیرونی قوتیں ہمارے لوگوں کو بنیادی حقوق نہ ملنے کی آڑ لے کر بدامنی پیدا کرنے کیلئے استعمال کررہی ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں وزیراعظم سے بہت سے توقعات ہیں جس طرح انہوں نے پنجاب کی ترقی کیلئے کام کیا ہے ہمیں یقین ہے کہ وہ اسی طرز پر بلوچستان کی ترقی کیلئے بھی کام کریں گے اللہ تعالیٰ نے انہیں پورے پاکستان کو ترقی دینے کا موقع فراہم کیا ہے ہمیں امید ہے کہ وزیراعظم بلوچستان کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں گے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ گوادر انتہائی اہمیت کا حامل ہے وزیراعظم بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں سمیت سی پیک اور گوادر کو خصوصی اہمیت دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر ماہی گیری کے شعبے کے فروغ اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کررہی ہیں گوادر اولڈ ٹاؤن کی ترقی کے منصوبوں کا آغاز کیاگیا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کو کامیاب بنانے کیلئے چاہ بہار بندر گاہ کی طرز پر ٹیکس فری زون بنانے سے ترقی کا عمل تیز ہوگا وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادرکی ترقی پاکستان کی ترقی ہے گوادر آئندہ آنے والے برسوں میں پاکستان کا صنعتی اور تجارتی حب ثابت ہوگا انہوں نے کہا کہ گوادر مستقبل کی پورٹ سٹی بننے جارہا ہے گوادر کی ترقی بلوچستان حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہماری تمام تر توجہ گوادرکی ترقی اور مسائل کے حل پر مرکوز ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گوادر اولڈ ٹاؤن کی بحالی کے منصوبے کی کل لاگت 3305ملین روپے ہے اس کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت نصف بنیاد پر فنڈز فراہم کررہی ہیں صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس منصوبے کیلئے 1652 ملین روپے مختص کئے ہیں جبکہ 900ملین روپے کی لاگت سے گوادر کے مختلف دیہاتوں کو کوسٹل ہائی وے سے منسلک کرنے اور 700ملین روپے کی لاگت سے علاقے کے مختلف دیہاتوں کو M-8سے منسلک کرنے کے منصوبے صوبائی پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ 700ملین روپے کی لاگت سے گوادر کے تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی ڈی ایچ کیو گوادر کی اپ گریڈیشن 38کروڑ روپے کی لاگت سے گوادر کو فراہمی آب کیلئے واٹر سپلائی سکیم اور گوادر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے قیام کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل کیاگیا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گبت، مند اور چیدگی میں لوگوں کے روزگار کو یقینی بنانے کیلئے 13کمرشل بارڈر مارکیٹس کا قیام ہماری ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی نے فشریز فورس کی تشکیل کی قانونی سازی کی ہے حکومت مقامی ماہی گیروں کیلئے 2 ہزار بوٹ انجن فراہم کرے گی سمندری طوفان سے ماہی گیروں کی کشتیوں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں غیر قانونی ٹرالنگ اور قومی شاہراہوں پر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کردیاگیا ہے تاہم انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ کسٹم اور کوسٹ گارڈ کی غیر ضروری چیک پوسٹوں کو بھی ختم کیا جائے صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے سات اجلاسوں کے انعقاد کے ذریعے 200سے زائد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی صوبائی اسمبلی نے 25اہم بل پاس کئے صوبے میں بلدیاتی اداروں کے صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد کیاگیا انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے صحت کارڈ کا اجراء کیا ہے جس سے 18لاکھ خاندانوں کو 10لاکھ روپے تک بلا معاوضہ علاج کی سہولت ملے گی صوبے کے کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے کسان کارڈ کا اجراء کیاگیا ہے اور مستحق کسانوں کو اقساط پر گرین ٹریکٹرز فراہم کئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم کی فراہمی کیلئے 2ارب روپے کی لاگت سے انڈوومنٹ فنڈ قائم کیاگیا ہے پنجگور میں مکران یونیورسٹی اور ایگریکلچر کالج کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب سے ہم نے حکومت سنبھالی ہے ورثے میں ملنے والے احتجاجوں اور دھرنوں کو بات چیت کے ذریعے ختم کیاگیا آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 612ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 192ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں 59ارب روپے 3470نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے حکم، پلاننگ کمیشن کی گائیڈ لائن اور صوبائی مالی انتظامی ایکٹ کے تحت ترقیاتی بجٹ کا 70فیصد حصہ جاری منصوبوں کیلئے مختص کیاگیا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئے مالی سال کے صوبائی بجٹ میں مواصلات، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں جن سے بیروزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو اس وقت بجلی کی کمی کا شدید مسئلہ درپیش ہے اور صوبے کو اس کے کوٹے کے مطابق بجلی نہ ملنے کے باعث زراعت اور دیگر شعبے مشکلات کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی 70فیصد سے زائد آبادی کا روزگار شعبہ زراعت سے وابستہ ہے تاہم طویل لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی کمی بیشی سے فصلوں اور باغات کو پورا پانی نہیں مل رہا اگر صورتحال بہتر نہ بنائی گئی تو نہ صرف شعبہ زراعت بری طرح متاثر ہوگا بلکہ اس سے وابستہ لوگوں کا روزگار بھی ختم ہوجائے گا وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے بجلی کے مسئلے پر خصوصی توجہ دینے کی درخواست کی وزیراعلیٰ نے کہا کہ چمن کوئٹہ کراچی شاہراہ کا منصوبہ وزیراعظم کے وعدے کی تکمیل ہے اور امید ہے کہ وزیراعظم منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات کریں گے وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں وزیراعظم سے سوئی گیس لیز اور بارڈر ٹریڈ کے معاملات کے جلد حل کے علاوہ بلوچستان کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز کی فراہمی کی درخواست بھی کی۔
٭٭٭٭٭٭
خبرنامہ نمبر 4083/2022
گوادر 24جون: وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی طویل دورانیہ کی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سیاسی صورتحال سمیت بلوچستان کے مسائل اور ترقیاتی ترجیحات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے دیرینہ مسائل اور ان کے حل کی تجاویز سے وزیراعظم کو آگاہ کیا وزیراعظم نے اس حوالے سے وفاقی حکومت کی بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی دونوں رہنماؤں نے بلوچستان کی تعمیر و ترقی کیلئے بھرپور اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
٭٭٭
خبرنامہ نمبر 4084/2022
پشین 24 جون: سیکرٹری لوکل گورنمنٹ و سیکرٹری لوکل بورڈ کا علی الصبح کچلاک سٹی کا اچانک دورہ سیکرٹریز نے ڈویلپمنٹ اسکیم اور میونسپل سروسز کا معائنہ کرکے دفاتر کا بھی جائزہ لیا۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ دیہی ڈویلپمنٹ بلوچستان دوستین خان جمالدینی اور سیکرٹری بلوچستان لوکل گورنمنٹ بورڈ ظفر اقبال خان نے گزشتہ روز علی الصبح کچلاک سٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ڈویلپمنٹ اسکیم اور میونسپل سروسز کا معائنہ اور لوکل گورنمنٹ کے دفاتر اور ترقیاتی اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ نے کچلاک سمیت خانوزئی اور مسلم باغ کا بھی تفصیلی دورہ کیا۔عوامی حلقوں نے آفیسران کی اچانک دورے پر داد جبکہ عوامی مسائل کے حل اور درخواستوں پر فوری کارروائی کرنے پر اْنکی تعریف کرتے ہوئے اْمید ظاہر کی کہ مذکورہ آفیسران کے دورے سے عوام کے مسائل حال ہوں گے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 4085/2022
کوئٹہ 24جون:سیکریٹری مواصلا ت و تعمیرات روشن علی شیخ نے زیارت تا سنجاوی روڈ کی تعمیر کے معائینے کے دوران غیر معیاری کام اور ناقص میٹریل کے استعمال پر ایکشن لیتے ہوے روڈ کی تعمیر کا کام تاحکم ثانی بند کرنے کا حکم دیتے ہوے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی چیف انجینئر سبی زون کی سربراہی میں قائم کر دی ہے۔ سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے روڈ کا تفصیلی معائنہ کرنے اور انکوئری رپورٹ تین دن میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس ضمن میں سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے انکوائری کمیٹی کو ہدایات دیتے ہوے کہا کہ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات سردار عبدالرحمٰن کھیتران کی یہ واضح ہدایات ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں میں اگر کوئی بھی کمی بیشی اور منصوبوں کے معیار کے متعلق کسی بھی قسم کی شکایت موصول ہوئی تو متعلقہ حکام کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے گی ترقیاتی منصوبے چاہے روڈز ہوں یا بلڈنگز انکی تعمیر کے معیار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تمام ضلعی انجینئرز اور آفیسران کو سختی سے ہدایات دیتے ہوے کہا کہ اپنے اپنے اضلاع میں جو بھی ترقیاتی منصوبے جاری ہیں انکی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment