15th-May-2026

خبرنامہ نمبر4076/2026
کوئٹہ، 15 مئی:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ آج کا دن صرف چند ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کا نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کا دن ہے ماضی میں بلوچستان کے عوام شاید یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ انہیں گھر کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی تاہم آج جدید ٹراما سینٹر، پیپلز ایئر ایمبولینس اور بینظیر ایمبولینس سروس جیسے منصوبے حقیقت بن چکے ہیں جو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت اور وژن کا عملی ثبوت ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں محکمہ صحت بلوچستان کے مکمل شدہ منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدیداران بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی اقدامات پر عمل پیرا ہے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق بلوچستان میں تعلیم و صحت اور غریب عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کا تسلسل جاری ہے بلوچستان میں 99 بند اسکول فعال ہوچکے ہیں 13 ہزار سے زائد اساتذہ کی تعیناتی میرٹ پر کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں، خصوصاً نصیر آباد ڈویژن میں بحالی کا عمل جاری ہے اور اب تک آٹھ ہزار سے زائد مکانات کی تعمیر مکمل کی جاچکی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ یہ منصوبہ وفاقی حکومت کے تحت جاری ہے اور صوبائی حکومت اس میں صرف معاونت فراہم کر رہی ہے گو کہ اس منصوبے میں صوبائی حکومت جو کردار چاہتی ہے وہ نہیں پایا اس لئے یہ منصوبہ اس رفتار سے مکمل نہیں کیا جاسکا جو ہماری خواہش تھی تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ اس منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندان جلد مکمل بحالی کی منزل حاصل کرسکیں انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن خواتین کو بااختیار بنانا اور انہیں گھروں کی ملکیت فراہم کرنا ہے جس کے حصول کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پیپلز بس سروس کا آغاز ہوچکا ہے اور کوئٹہ کے بعد تربت میں بھی یہ جدید سفری سہولت فراہم کردی گئی ہے ہمارا عزم ہے کہ صوبے کے تمام بڑے شہروں تک اس سروس کو توسیع دی جائے تاکہ عوام کو محفوظ معیاری اور جدید ٹرانسپورٹ کی سہولیات میسر آسکیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات ملک کے دیگر صوبوں سے مختلف ہیں، تاہم یہاں کی اپوزیشن نے جمہوری روایات کے مطابق اپنا کردار ادا کیا ہے جہاں بھی بلوچستان کے وسیع تر مفاد کا معاملہ سامنے آیا حکومت نے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اپنائی اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی عوامی مفاد کے معاملات میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر کوئٹہ کے جدید ٹراما سینٹر کو شہید بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے پہلے ہی دن چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے حوالے سے تین بنیادی ترجیحات کے اہداف دئیے تھے پہلی ترجیح صوبے کے مستحق عوام کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی، دوسری تعلیم کے شعبے میں نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا جبکہ تیسری ترجیح سیلاب متاثرین کی بحالی اور بلوچستان کی ہاری خواتین کو گھروں کی ملکیت کے حقوق دینا تھی جن پر پہلی دو ترجیحات پر تیزی سے عمل درآمد ہوا جبکہ تیسرے میں وفاقی منصوبے کے باعث تاخیر ہوئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مسلسل رہنمائی و حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق عوام دوست اقدامات کا تسلسل جاری رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر4077/2026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت ممکنہ مون سون بارشوں کی تیاری، جنگلات میں آگ اور گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے جامع ہنگامی منصوبے سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مون سون سیزن، اربن فلڈنگ، ممکنہ سیلابی صورتحال اور جنگلاتی آگ سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ رواں سال کے مون سون سیزن سے قبل تمام تیاریاں تیز کی جائیں تاکہ شدید بارشوں، شہری سیلاب اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حساس علاقوں میں حفاظتی اور انتظامی اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹنے میں آسانی ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ بروقت منصوبہ بندی، مؤثر رابطہ کاری اور عوامی آگاہی کے ذریعے ممکنہ نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے شہری سطح پر عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور موسم کی صورتحال کے مطابق حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔چیف سیکرٹری نے شیرانی، موسیٰ خیل اور ژوب جیسے اضلاع میں حالیہ برسوں کے دوران پیش آنے والے جنگلاتی آگ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے پیشگی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ اس سلسلے میں آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خندقیں کھودنے سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ آگ کے لیے ایندھن کم ہو اور اس کی پیش قدمی روکی جا سکے۔ انہوں نے ہیٹ ویو پلان بھی فعال کرنے کی ہدایت دی تاکہ شدید گرمی کے دوران فوری اور مؤثر ردِعمل ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے صوبائی اور ضلعی اداروں کو موسمی صورتحال کے مطابق مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے درخشاں، مکران اور نصیرآباد بیلٹس میں گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے گرمی کی لہر کے دوران اسپتالوں میں ادویات اور طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ چیف سیکرٹری نے موسمیاتی تبدیلیوں اور حالیہ ہیٹ ویو الرٹس کے تناظر میں عوامی آگاہی مہم تیز کرنے پر بھی زور دیا، تاکہ شہری حکومت کی جانب سے جاری کی گئی احتیاطی تدابیر پر مؤثر انداز میں عمل کر سکیں۔ اس موقع پر ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اجلاس کو تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، سیکرٹری جنگلات عمران گچکی، سیکرٹری ایریگیشن سہیل الرحمٰن بلوچ، سیکرٹری اسکولز لعل جان جعفر، ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ عسکر خان، ڈی جی پی ڈی ایم اے، کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

خبرنامہ نمبر4078/2026
جھل مگسی۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی، سید رحمت اللہ شاہ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی جھل مگسی، فہد خان عمرانی نے گزشتہ شب رورل ہیلتھ سینٹر جھل مگسی کا اچانک سرپرائز دورہ کیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور طبی و پیرا میڈیکل عملے کی حاضری کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف وارڈز میں طبعی سہولیات کا معائنہ کیا اور زیرِ علاج مریضوں سے سہولیات کے حوالے سے مختلف سوالات دریافت بھی کئے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر فہد خان عمرانی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں اور ڈیوٹی میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں آنے والے مریضوں، خصوصاً دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو بروقت معیاری اور بہترینطبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے مزید تاکید کی کہ ادویات کی مسلسل دستیابی، صفائی کے بہتر انتظامات اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا عملے کی اولین ذمہ داری ہے، تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات میسر آسکیں.

خبرنامہ نمبر4079/2026
اُستامحمد۔۔ڈپٹی کمشنر اُستامحمد، محمد رمضان پلال نے آج حکومتِ بلوچستان کے BSDI (بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو) منصوبے کے تحت علی گوہر چوک تا مینگل اسٹریٹ تعمیر ہونے والی گلی کے مقام کا تفصیلی دورہ کیا یہ دورہ اس وقت کیا گیا جب مقامی کمیونٹی کی جانب سے گلی کی تعمیر عارضی طور پر روک دی گئی تھی علاقہ مکینوں نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ مجوزہ تعمیر کے باعث ایک رہائشی مکان کی سطح نیچے ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ممکنہ طور پر گھر کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس پر اہلِ علاقہ نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کام رکوا دیا تھا ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ یاسین جمالی بھی موجود تھے یہ منصوبہ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک فیصل خان جمالی کی نشاندہی پر BSDI پروگرام میں شامل کیا گیا تھا جس کا مقصد علاقے میں بنیادی سہولیات کی بہتری ہے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران انجینئرز اور علاقہ مکینوں سے تفصیلی مشاورت کی انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ مسئلے کا ایسا متوازن اور قابلِ عمل حل نکالا جائے جس سے کسی بھی شہری کو مالی یا جانی نقصان نہ ہو، جبکہ ترقیاتی کام بھی بلا تعطل اور خوش اسلوبی سے مکمل ہو سکے اہلِ علاقہ نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مسئلے کا فوری نوٹس لینے اور موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینے کے اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ان کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر حل نکالا جائے گا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں عوامی سہولت، تحفظ اور معیار کو اولین ترجیح دی جائے گی تاکہ شہریوں کو بہتر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے جائز تحفظات کا بروقت ازالہ بھی یقینی بنایا جا سکے

خبرنامہ نمبر4080/2026
استامحمد۔۔ڈپٹی کمشنر اُستامحمد، محمد رمضان پلال نے آج تنیہ محلہ میں حکومتِ بلوچستان کے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد یاسین جمالی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے زیرِ تعمیر گلی اور ڈرینج اسکیم کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور کام کے معیار رفتار اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ متعلقہ حکام نے انہیں منصوبے کی پیش رفت، درپیش مسائل اور متوقع تکمیل کے حوالے سے بریفنگ دی۔ یہ منصوبہ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک فیصل خان جمالی کی خصوصی نشاندہی پر BSDI پروگرام میں شامل کیا گیا، جس کا مقصد علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے موقع پر موجود افسران اور ٹھیکیداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ ٹائم لائن کے اندر مکمل کیا جائے اور تعمیراتی کام میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت رفتار اور معیار کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوام کو جلد از جلد سہولیات میسر آ سکیں اہلِ علاقہ نے حکومتِ بلوچستان کے BSDI منصوبے کو سراہتے ہوئے اس اقدام کو علاقے کی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا مقامی افراد کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف آمد و رفت میں آسانی ہوگی بلکہ نکاسی آب کے دیرینہ مسائل بھی حل ہوں گے، جس سے علاقہ صاف ستھرا اور صحت مند ماحول کی جانب گامزن ہوگا یہ گلی ٹی ایچ کیو اُستامحمد سے خانپور ڈسٹری کراس تک تعمیر کی جا رہی ہے جو مکمل ہونے کے بعد شہریوں کے لیے ایک اہم رابطہ سڑک ثابت ہوگی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ BSDI منصوبے کے آئندہ مراحل میں اُستامحمد شہر کی اندرونی گلیوں اور ڈرینج کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی صاف ستھرا ماحول اور بہتر طرزِ زندگی کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے

خبرنامہ نمبر4081/2026
شیرانی15مئی: ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر آفس مانی خواہ میں ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام سیکورٹی اداروں کے سربراہان، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور مختلف محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ضلع شیرانی میں جاری ترقیاتی منصوبوں، امن و امان کی صورتحال اور عوامی مسائل کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس کے دوران BSDI پراجیکٹ کے تحت مختلف محکموں کی جانب سے جاری ترقیاتی کاموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، درپیش مشکلات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر حالیہ منظور ہونے والے BSDI پراجیکٹس پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ ان منصوبوں کو بروقت اور شفاف انداز میں مکمل کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ نے تمام محکموں کے افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور ضلع کی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔اجلاس میں ضلع شیرانی کو درپیش مختلف مسائل، بالخصوص سڑکوں، تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ عوامی مشکلات کے فوری حل کے لیے باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے تمام اداروں کے مابین بہتر ہم آہنگی، امن و امان کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ضلع شیرانی کی ترقی اور عوام کی فلاح اولین ترجیح ہے۔

خبرنامہ نمبر4082/2026
لورالائی15مئی: ڈپٹی کمشنر لورالائی کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے شہر میں پرائس کنٹرول اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا۔ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف بازاروں، تنوروں، بیکریوں اور گوشت کی دکانوں کا تفصیلی معائنہ کیا جا رہا ہے۔انتظامی ٹیم نے شہر کے مختلف تنوروں کا دورہ کرتے ہوئے روٹی کے مقررہ وزن اور سرکاری نرخوں کا جائزہلیا، جبکہ بیکریوں میں صفائی کی صورتحال، اشیائے خورونوش کے معیار اور ان کی میعاد ختم ہونے کی تاریخوں کو بھی چیک کیا گیا۔ اس کے علاوہ گوشت کی دکانوں پر سرکاری نرخ ناموں کی دستیابی اور صفائی کے انتظامات کا معائنہ کیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے دکانداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کم وزن روٹی یا غیرمعیاری اشیائے خورونوش کی فروخت سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دریں اثنا، اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے ژوب روڈ پر مختلف شورومز اور دکانوں کا دورہ کرتے ہوئے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھی کارروائی کی۔ سڑکوں اور سرکاری اراضی پر قائم تجاوزات پر دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کی گئی اور فوری طور پر تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ عوامی راستوں کو کھلا رکھنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی اور غیر قانونی تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر4083/2026
تربت: ایس پی کیچ کیپٹن(ر) زوہیب محسن سے انجمن تاجران تربت کے چیئرمین نثار آدم جوسکی نے اُن کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران تربت بازار میں ٹریفک کی روانی، امن و امان کی مجموعی صورتحال اور شہری مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک، مین بازار میں بینکوں کی مین روڈ کی جانب منتقلی اور عوامی سہولیات سے متعلق مختلف امور بھی زیرِ غور آئے۔ملاقات میں انجمن تاجران کی جانب سے محدود وسائل کے باوجود پولیس کی خدمات کو سراہا گیا۔ چیئرمین انجمن تاجران نثار آدم جوسکی نے کہا کہ تربت پولیس سخت اور دشوار حالات میں بھی عوام کے تحفظ کیلئے دن رات سرگرمِ عمل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شدید گرمی، محدود وسائل اور مختلف چیلنجز کے باوجود پولیس اہلکار 45 سے 48 سینٹی گریڈ کی جھلسا دینے والی گرمی میں سڑکوں، بازاروں اور گلی محلوں میں گشت اور چیکنگ کرکے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں۔نثار آدم جوسکی نے مزید کہا کہ پولیس اہلکار اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کی حفاظت کیلئے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس لیے دکانداروں اور شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس اور ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ اس موقع پر ایس پی کیچ کیپٹن(ر) زوہیب محسن نے کہا کہ تربت بازار سمیت پورے ضلع میں پولیس فورس عوام کی خدمت، امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کیلئے مسلسل فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اہلکار صبح سے رات گئے تک شدید گرمی اور سخت موسمی حالات میں بھی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں، تاہم مؤثر نتائج کیلئے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ایس پی کیچ کیپٹن(ر) زوہیب محسن نے شہریوں سے اپیل کی کہ جہاں بھی کسی بھی نوعیت کی مشکوک سرگرمی یا جرم نظر آئے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جاسکے اور کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ تربت بازار میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے ڈی ایس پی ٹریفک کی سربراہی میں اقدامات جاری ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مختلف مقامات پر کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ ٹی ایم سی اسپتال کی گلی میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کیلئے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

خبرنامہ نمبر4084/2026
برشور15 مئی۔صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں سرکاری اداروں کے انتظامی امور میں شفافیت لانے اورعوامی مسائل کے فوری حل کیلئے ڈپٹی کمشنر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی جانب سے ضلع برشور میں پہلی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا،جس میں عوام الناس نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہوئے دلچسپی کا اظہار کیا اور اپنے مسائل پیش کئے،جن کے فوری حل کے لئے موقع پر ہدایات جاری کی گئیں،ڈپٹی کمشنر خالد شمس کی زیر صدارت کھلی کچہری میں تمام محکمہ جات کے جملہ افسران کے علاوہ قبائلی عمائدین اور دیگر مکاتب فکر سمیت عوام الناس نے بھرپور شرکت کی،کھلی کچہری میں ضلع کے تمام اداروں سے جڑے درپیش مسائل پر کھل کر گفتگو کی گئی،اور عوام الناس نے کھلی کچہری کے انعقاد کو شفافیت اورمیرٹ کا ایک انقلابی اقدام قراردیا،منعقدہ کھلی کچہری میں عوامی مسائل و مشکلات کو غور سے سنا گیا اور موقع پر موجود آفسران وحکام کو انکے مسائل فوری طور پر حل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے، 4 گھنٹوں کے دورانیے پرمشتمل کھلی کچہری کے آخر میں ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے عوام الناس کو یقین دلایا کہ موجودہ حکومت کی عوام دوست پالیسی کے تحت عوامی مسائل کو کھلی کچہری کے ذریعے موقع پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی،انہوں نے کھلی کچہری کو موجودہ صوبائی حکومت کا ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ کھلی کچہری سے عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے کم ہونگے اور عوام الناس حکومتی اقدامات کو میرٹ و شفافیت سے مانیٹر کرسکیں گے،انہوں تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ کھلی کچہری میں پیش کردہ عوامی مسائل کوفوری طورپر حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں اورعملدرآمد کی رپورٹ جلد پیش کی جائے۔

خبرنامہ نمبر4085/2026
پشین15مئی:انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر کی خصوصی ہدایات اور وژن کے تحت ضلع پشین میں امن و امان کے قیام، جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کیلئے مؤثر اقدامات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ایس ایس پی پشین کیپٹن (ر) نوید عالم کی نگرانی میں ضلع بھر میں غیر قانونی اسلحہ، کالے شیشوں والی گاڑیوں، منشیات فروشوں، اشتہاری و عادی مجرمان اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔پشین پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں، شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندیاں قائم کرکے گاڑیوں اور مشکوک افراد کی چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ کارروائیوں کے دوران متعدد کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی جبکہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بھی مقدمات درج کرکے کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اشتہاری ملزمان اور جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے متعدد اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ایس ایس پی پشین کیپٹن (ر) نوید عالم نے کہا ہے کہ پشین پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، قیامِ امن اور قانون کی بالادستی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرائم، منشیات، غیر قانونی اسلحہ اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور عوام کے باہمی تعاون سے پشین کو ایک پُرامن ضلع بنانے کیلئے سنجیدہاقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائیں اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں۔شہری حلقوں نے ایس ایس پی پشین کیپٹن (ر) نوید عالم کی قیادت میں پشین پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پولیس قیادت کے آنے کے بعد ضلع میں قانون کی عملداری مضبوط ہوئی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں سے عوام میں احساسِ تحفظ بڑھا ہے۔

خبرنامہ نمبر4086/2026
برشور15 مئی۔صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں سرکاری اداروں کے انتظامی امور میں شفافیت لانے اورعوامی مسائل کے فوری حل کیلئے ڈپٹی کمشنر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی جانب سے ضلع برشور میں پہلی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا،جس میں عوام الناس نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہوئے دلچسپی کا اظہار کیا اور اپنے مسائل پیش کئے،جن کے فوری حل کے لئے موقع پر ہدایات جاری کی گئیں،ڈپٹی کمشنر خالد شمس کی زیر صدارت کھلی کچہری میں تمام محکمہ جات کے جملہ افسران کے علاوہ قبائلی عمائدین اور دیگر مکاتب فکر سمیت عوام الناس نے بھرپور شرکت کی،کھلی کچہری میں ضلع کے تمام اداروں سے جڑے درپیش مسائل پر کھل کر گفتگو کی گئی،اور عوام الناس نے کھلی کچہری کے انعقاد کو شفافیت اورمیرٹ کا ایک انقلابی اقدام قراردیا،منعقدہ کھلی کچہری میں عوامی مسائل و مشکلات کو غور سے سنا گیا اور موقع پر موجود آفسران وحکام کو انکے مسائل فوری طور پر حل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے، 4 گھنٹوں کے دورانیے پرمشتمل کھلی کچہری کے آخر میں ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے عوام الناس کو یقین دلایا کہ موجودہ حکومت کی عوام دوست پالیسی کے تحت عوامی مسائل کو کھلی کچہری کے ذریعے موقع پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی،انہوں نے کھلی کچہری کو موجودہ صوبائی حکومت کا ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ کھلی کچہری سے عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے کم ہونگے اور عوام الناس حکومتی اقدامات کو میرٹ و شفافیت سے مانیٹر کرسکیں گے،انہوں تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ کھلی کچہری میں پیش کردہ عوامی مسائل کوفوری طورپر حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں اورعملدرآمد کی رپورٹ جلد پیش کی جائے۔

خبرنامہ نمبر4087/2026
تربت:15 مئی: کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کا دورہ کیا، جہاں اسکول کے پرنسپل اکبر اسماعیل اور اساتذہ کرام نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے دوران کمشنر مکران نے اسکول میں نو تعمیر شدہ جدید لائبریری کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر پرنسپل نے انہیں اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں، انتظامی امور اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمشنر مکران نے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔بعدازاں کمشنر مکران نے اسکول گراؤنڈ کا دورہ کرکے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو تعمیراتی معیار برقرار رکھنے اور منصوبے بروقت مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔دریں اثناء کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے سی پی ڈی پائٹ (CPD PITE) کیچ کی جانب سے یونیسیف UNICEF اور جی پی ای (GPE) گرانٹ کے تعاون سے فرائم کردہ اسمارٹ اسکرین بمعہ یو پی ایس پرنسپل اکبر اسماعیل صاحب کے حوالے کیا۔اس اقدام کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔اس موقع پر مختلف تعلیمی، سماجی اور سرکاری شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں سابق پرنسپل و ڈی ای او تمپ جناب منظور احمد، سابق پرنسپل و ای ڈی او جناب اصغر صاحب، شیر جان صاحب، محمد عیسیٰ صاحب، حاجی درمحمد صاحب، شہزاد صاحب، ایکسین سٹی پروجیکٹ بہرام گچکی، انجینئر قاسم گچکی، انجینئر یاسر گورگیج،انجینئر الٰہی بخش،اسپورٹس آفیسر غفار یوسف، کیپٹن رحیم بخش، کونسلر مولا بخش مری اور پی ٹی ایس ایم سی کے چیئرمین ندیم حسرت شامل تھے۔دورے کے اختتام پر اسکول انتظامیہ کی جانب سے کمشنر مکران اور دیگر معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔چین کے تعاون سے شروع کیا گیا زرعی ترقیاتی منصوبہ بلوچستان کی کھجور انڈسٹری کے مستقبل کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے، جس کے تحت کسانوں کو جدید پروسیسنگ مشینری، پیکجنگ آلات اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام فراہم کیے جا رہے ہیں۔یہ منصوبہ Turbat، Gwadar، Kharan، Panjgur اور Kech سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کسانوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے، جہاں اعلیٰ معیار کی کھجور پیدا کی جاتی ہے۔اس بااختیار بنانے والے منصوبے کے تحت کسانوں کو کھجور کی صفائی، گریڈنگ، خشک کرنے، پروسیسنگ اور عالمی معیار کے مطابق حفظانِ صحت کے اصولوں کے تحت پیکجنگ کے لیے جدید ترین مشینری فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جامع تربیتی پروگرامز کے ذریعے مقامی کسانوں اور کارکنوں کو جدید زرعی طریقوں، فصل کے بعد بہتر انتظام، اور مارکیٹ سے ہم آہنگ کاروباری مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔اس منصوبے سے کھجور کی پیداوار کے معیار میں نمایاں بہتری، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی، اور برآمدات میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے مقامی کسان قومی اور بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے۔ منصوبے سے وابستہ حکام کے مطابق یہ اقدام بلوچستان میں زرعی جدیدکاری اور دیہی معیشت کی ترقی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔مقامی کسانوں نے اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت نہ صرف ان کی آمدنی میں اضافہ کرے گی بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی اور صوبے کی مجموعی معیشت کو مضبوط بنائے گی۔ماہرین کے مطابق چین کے تعاون سے جاری یہ منصوبہ بلوچستان کی کھجور انڈسٹری کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جو مقامی کاشتکاروں کو روایتی زراعت سے جدید، پائیدار اور تجارتی لحاظ سے کامیاب زرعی نظام کی جانب لے جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر4088/2026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن، گڈ گورننس، ریاستی رٹ کے استحکام اور شہری مسائل کو اُن کی دہلیز پر حل کرنے کی پالیسی کے تحت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر سربندن میں ایک جامع عوامی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ نے کی، جس میں مختلف محکموں کے سول و عسکری افسران، خواتین، طلبہ، ماہی گیر برادری اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ مومن بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ دوست محمد، ایکسین بی اینڈ آر مقصود بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زائد حسین، ڈپٹی ڈائریکر فشریز مشتاق احمد، ایس ڈی او بی اینڈ آر جنید کاشانی، تحصیلدار منیر بلوچ، پولیس، کیسکو، فشریز، ماحولیات، جنگلات اور دیگرمتعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران بلوچستان سوشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) فیز ون اور فیز ٹو کے تحت مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ فیز تھری میں عوامی ضروریات اور مقامی ترجیحات کے مطابق نئے منصوبوں کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے ترقیاتی عمل کو عوامی فلاح اور ساحلی علاقوں کی پائیدار ترقی کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔مقامی شہریوں نے سربندن میں پل کی تعمیر، پرانے واٹر اسٹوریج ٹینک کی مرمت، بجلی کے کھمبوں، لائنوں اور ٹرانسفارمرز کی بحالی، سیوریج سسٹم کی تعمیر، ساحلی کٹاؤ سے بچاؤ کے لیے پروٹیکشن وال اور پرانے سربندن کراس پر ایک کلومیٹر سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر ایگزیکٹو انجینیئر پی ایچ ای مومن بلوچ نے بتایا کہ سربندن کو پینے کے صاف پانی کی مستقل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک علیحدہ پمپنگ اسٹیشن تعمیر کیا جائے گا، جس سے علاقے میں پانی کے مسائل کے دیرپا حل میں مدد ملے گی۔کھلی کچہری میں صحت کے شعبے سے متعلق مسائل بھی تفصیل سے زیر بحث آئے۔ شہریوں نے آر ایچ سی سربندن کی مرمت، ایمبولینس کی بحالی، ادویات کے کوٹے میں اضافے، ایکسرے، لیبر روم اور دیگر طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے طبی سہولیات کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔تعلیم کے شعبے میں طالبات اور والدین نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سمیت مختلف تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے ریاضی، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی اور دیگر مضامین کے اساتذہ کی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔ مڈل اسکول بلوچ محلہ کے مسائل بھی کھلی کچہری میں پیش کیے گئے۔ ضلعی انتظامیہ نے تعلیم کے فروغ کو حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو مسائل کے حل کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت دی۔ماہی گیر برادری نے فشریز سے متعلق مسائل پیش کرتے ہوئے ایک اضافی فلوٹنگ جیٹی کی فراہمی، پرانے سمندر میں موجود ناکارہ کشتیوں کو کرینوں کے ذریعے ہٹانے اور ماہی گیروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔شہریوں نے موبائل نیٹ ورک کی خرابی، اراضی سیٹلمنٹ، گرلز ہائی اسکول کی زمین سے متعلق مسائل اور دیگر عوامی نوعیت کے معاملات بھی انتظامیہ کے سامنے رکھے۔ فنکاروں اور موسیقاروں نے حکومت بلوچستان سے ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ اور مقامی فنکاروں کی سرپرستی کی اپیل کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ساحلی علاقوں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور حکومت کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا اور شہریوں کے مسائل کو فوری طور پر متعلقہ اداروں تک پہنچا کر ان کے حل کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے ازالے، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں تاکہ حکومت بلوچستان کے عوامی خدمت کے وژن کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر4089/2026
چمن:اے ڈی سی چمن فدا بلوچ نے افغان ود ہولڈنگ کیمپ کا تفصیلی دورہ کیا انہوں نے کیمپ میں افغان مہاجرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور انتظامات کا جائزہ لیا اور افغان باشندوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور انتظامات پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا اس دوران انہوں نے افغان ود ہولڈنگ کیمپ میں موجود نادرا ڈیٹا بیس کا بھی جائزہ لیا نادار ڈیٹا بیس افسر نے افغانوں کی رجسٹریشن اور دیگر ضروری دستاویزی کاروائی کے حوالیسے ڈی سی چمن کو تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اس موقع پر انہوں نے کیمپ کی سیکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور افغان باشندوں کو فراہم کی جانے والی علاج و معالجہ کھانے پینے کی اشیاء صفائی ستھرائی باتھ رومز اور انتظار گاہ اور دیگر ضروری سہولیات کا باریک بینی سے جائزہ لیا انہوں نے کیمپ منتظمین کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان باشندوں کے ساتھ شائستگی نرمی اور پیار ومحبت کے ساتھ پیش آئیں اور انھیں کسی قسم کی تکلیف اور اذیت پہنچانے والوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے دینی بھائی اور اچھے پڑوسی ہیں لہذا ہم سب کو بحیثیت ایک قوم انکی باعزت واپسی کو یقینی بنانے کیلئے تمام اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے پیار ومحبت کے جذبے قائم رہیں

خبرنامہ نمبر4090/2026
کوئٹہ، 15 مئی: صوبائی حکومتِ بلوچستان، یورپی یونین ہیومینیٹیرین ایڈ، ورلڈ فوڈ پروگرام، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور آزات فاؤنڈیشن کے اشتراک سے Anticipatory Actions کے موضوع پر دو روزہ صوبائی سطح کا اہم تربیتی پروگرام 14 اور 15 مئی کو کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری محکموں، تکنیکی اداروں اور این جی اوز کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ آراء کا تبادلہ کیا بلکہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے اپنے تجربات اور مشاہدات بھی پیش کیے۔ اس جامع تربیتی پروگرام کا مقصد صوبے میں ممکنہ قدرتی آفات سے قبل پیشگی تیاری، مؤثر حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا تاکہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور متاثرہ آبادی کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ تربیتی سیشنز کے دوران لیڈ ٹرینر ورلڈ فوڈ پروگرام اسلام آباد محترمہ خدیجہ عابد، آزات فاؤنڈیشن کے خالد، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن سے خورشید اور ورلڈ فوڈ پروگرام سے اسد نے شرکاء کو Anticipatory Actions کے بنیادی تصورات، عملی اطلاق اور بین الاقوامی بہترین طریقہ? کار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز اور دیگر قدرتی خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات (Early Actions) ناگزیر ہو چکے ہیں، جن کے ذریعے نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہے بلکہ معاشی نقصانات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر خدیجہ عابد نے ضلع نوشکی سے متعلق ایک اہم اور جامع کیس اسٹڈی پیش کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ 50 برسوں میں سے 22 سال نوشکی شدید خشک سالی کا شکار رہا، جو ایک نہایت تشویشناک رجحان ہے اور مستقبل میں مزید سنگین اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے منفی اثرات بلوچستان میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں زراعت، لائیو اسٹاک، خوراک کی دستیابی اور عوامی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، خصوصاً دیہی اور کمزور طبقات زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔ تربیت کے دوران اس امر کو خصوصی اہمیت دی گئی کہ مختلف محکموں اور اداروں کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن، ڈیٹا شیئرنگ اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آفت سے قبل بروقت اقدامات یقینی بنائے جا سکیں اور ریسپانس میکانزم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ شرکاء نے عملی مشقوں، گروپ ڈسکشنز اور تکنیکی سیشنز کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں حاصل کردہ علم کو بروئے کار لاتے ہوئے مؤثر کردار ادا کریں گے۔ یہ تربیتی پروگرام یورپی یونین ہیومینیٹیرین ایڈ کے تعاون سے کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا، جس میں ورلڈ فوڈ پروگرام، حکومتِ بلوچستان اور آزاتفاؤنڈیشن نے کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ پروگرام کے اختتام پر تمام شرکاء میں اسناد (سرٹیفکیٹس) بھی تقسیم کیے گئے، جو ان کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کا اعتراف ہیں۔

خبرنامہ نمبر4091/2026
کوئٹہ، 15 مئی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ کو پیپلز ایئر ایمبولینس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ان کے ہمراہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور اراکین اسمبلی بھی موجود تھے اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیپلز ایئر ایمبولینس کے آغاز کا مقصد صوبے کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے مریضوں کو بروقت اور فوری طبی امداد کی فراہمی اور ہنگامی صورتحال میں فضائی منتقلی کو ممکن بنانا ہے اس سروس کے ذریعے شدید بیمار اور حادثات کے شکار مریضوں کو کم سے کم وقت میں جدید طبی سہولیات سے آراستہ اسپتالوں تک منتقل کیا جا سکے گا ایئر ایمبولینس میں جدید طبی آلات، آکسیجن سسٹم اور مانیٹرنگ مشینیں نصب کی گئی ہیں تاکہ دوران پرواز مریض کو مکمل طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ نوزائیدہ بچوں کی ہنگامی منتقلی کے لیے خصوصی انکیوبیٹر بھی شامل کیا گیا ہے جو اس سروس کو مزید مؤثر اور جدید بناتا ہے یہ منصوبہ بلوچستان میں ایمرجنسی طبی نظام کو مضبوط بنانے اور دور افتادہ علاقوں تک صحت کی سہولیات کی رسائی بہتر بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر4092/2026
کوئٹہ, 15 مئی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے ہمراہ 150 بستروں پر مشتمل جدید ٹراما سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کردیا حکام کے مطابق یہ جدید طبی سہولت بلوچستان میں ہنگامی طبی خدمات کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے افتتاحی تقریب میں نیشنل پارٹی کے سربراہ اور بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی شریک تھے۔ اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری، سینیٹر عمر گورگیج اور علی حسن زہری بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ موجود تھے نئے قائم ہونے والے ٹراما سینٹر کو جدید طبی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے، جس میں ایمرجنسی وارڈز، انتہائی نگہداشت یونٹس، جدید آپریشن تھیٹرز اور فوری تشخیصی سہولیات شامل ہیں۔ یہ مرکز خاص طور پر حادثات، قدرتی آفات، اور دیگر ہنگامی صورتحال میں زخمی مریضوں کو فوری اور معیاری علاج فراہم کرے گا اس منصوبے کا مقصد کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایمرجنسی ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانا اور مریضوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ جدید ٹراما سینٹر کی فعال ہونے سے صوبے میں ٹراما کیئر کے شعبے میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

خبرنامہ نمبر4093/2026
کوئٹہ، 15 مئی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور مختلف شعبہ جات میں پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں، فلاحی منصوبوں اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات سے چیئرمین پیپلزپارٹی کو آگاہ کیا بریفنگ کے دوران صوبے میں ترقیاتی رفتار، جاری منصوبوں کی پیش رفت اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری بھی موجود تھیں چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی، امن و امان کی صورتحال اور انتظامی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا بریفنگ میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے، عوامی سہولیات کے فروغ اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری کے لیے اقدامات کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 4094/2026
کوئٹہ، 15 مئی : پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی موجودگی میں حکومت بلوچستان اور مختلف اداروں کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے لیے اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی تقریب میں حکومت بلوچستان اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد صوبے میں صحت کے شعبے میں مالی تحفظ اور انشورنس کے جدید نظام کو فروغ دینا ہے اس موقع پر حکومت بلوچستان اور چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے درمیان بھی معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت بلوچستان میں بچوں کے لیے ایمرجنسی طبی سہولیات، چائلڈ ایمرجنسی کیئر سروسز اور فوری علاج کی سہولیات کو مزید بہتر اور وسیع بنایا جائے گا اسی طرح حکومت بلوچستان اور باچا خان اسپتال کے درمیان بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد اسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری، جدید علاج معالجے کی فراہمی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا ہے تقریب میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ان معاہدوں کے ذریعے بلوچستان میں صحت کے نظام کو مزید مؤثر، جدید اور عوام دوست بنایا جائے گا اور شہریوں کو معیاری طبی سہولیات تک آسان رسائی ممکن بنائی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *