9th-May-2026

خبرنامہ نمبر3887/2026
اسلام آباد، 9 مئی: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن نورین بانو لہڑی کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران خواتین کے حقوق، اختیارات اور بنیادی آزادیوں سمیت صنفی مساوات کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن درحقیقت خواتین اور بچیوں کے حقوق، بہبود، تحفظ، معاشی خودمختاری اور انصاف تک رسائی میں انتہائی اہم اور موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ کمیشن کے مینڈیٹ اور جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے معاشرے میں خواتین کے باوقار مقام کو مستحکم کرنے اور صنفی مساوات کے فروغ کیلئے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ پہلی بار بلوچستان کی ایک قابل اور باصلاحیت خاتون محترمہ نورین بانو لہڑی کو خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ محترمہ نورین بانو لہڑی اپنے تجربے، وژن اور قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بلوچستان میں خواتین کی ترقی، تحفظ اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کیلئے مزید موثر اقدامات کریگی۔ گورنر بلوچستان نے یقین دلایا کہ صوبے میں خواتین کے حقوق، تعلیم، معاشی خودمختاری، انصاف تک رسائی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے سے متعلق ہر مثبت اقدام میں گورنر ہاؤس اور صوبائی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے مشترکہ کاوشیں وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا۔ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن اور ان کی ٹیم نے گورنر بلوچستان کا ہر ممکن تعاون اور رہنمائی فراہم کرنے کی یقین دہانی پر خصوصی شکریہ ادا کیا اور ملاقات کو انتہائی مثبت، تعمیری اور حوصلہ افزاء قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر3888/2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کوئٹہ سے دو سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی گرفتاری سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ افراد کی گرفتاری سے صوبائی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے کہا کہ دونوں سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارہ میں مختلف شکایات پہلے سے موجود تھیں ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف دو سرکاری افسران نے ذاتی حیثیت میں شکایات درج کرائی تھیں جبکہ دوسرے ایکٹوسٹ کے خلاف ایک شہری کی درخواست پر انکوائری ابتدائی مرحلے میں تھی شاہد رند نے واضح کیا کہ ایف آئی اے ایک وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہے جو اپنے رائج الوقت قوانین اور ضابطہ کار کے مطابق کارروائی کر رہا ہے لہٰذا اس معاملے کو صوبائی حکومت سے جوڑنا درست نہیں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایک تحقیقاتی ادارے اور عدالت کے درمیان قانونی تقاضوں کے مطابق طے ہونا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت آزادیِ اظہارِ رائے کے آئینی حق پر یقین رکھتی ہے، تاہم اگر کسی سرکاری افسر نے اپنی ذات یا کردار کے دفاع کے لیے قانونی فورم سے رجوع کیا ہے تو صوبائی حکومت اپنے سرکاری افسران کے حقِ دفاع کی حمایت کرے گی وزیر اعلیٰ معاون نے کہا کہ حکومت بلوچستان قانون کی بالادستی، آئینی دائرہ کار اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے احترام پر یقین رکھتی ہے اور تمام معاملات قانون کے مطابق آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر3889/2026
پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت و ثقافت بلوچستان میر زرین خان مگسی نے بلوچستان ٹورازم پالیسی کی تشکیل کے حوالے سے منعقدہ دو روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع سے مالا مال صوبہ ہے، جسے عالمی سطح پر سیاحتی مرکز بنانے کے لیے مؤثر پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ، مقامی معیشت کی بہتری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں، پہاڑی سلسلوں، تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثے کو جدید سہولیات سے آراستہ کرکے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنایا جائے گا۔ پارلیمانی سیکرٹری میر زرین مگسی نے کہا کہ ٹورازم پالیسی کی تشکیل میں ماہرین، متعلقہ اداروں، سرمایہ کاروں اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کی آراء کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ایک جامع اور پائیدار پالیسی مرتب کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف بلوچستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا بلکہ صوبے کی معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔اس موقع پر سیکرٹری ٹورازم و کلچر بلوچستان حمید اللہ ناصر نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور حکومت سیاحتی شعبے کی ترقی کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق پالیسی سازی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔افتتاحی تقریب میں پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے سیاحوں، ٹور آپریٹرز، ماہرین، سول سوسائٹی نمائندوں اور سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے بلوچستان کے سیاحتی مقامات، ثقافتی ورثے اور قدرتی حسن کو سراہتے ہوئے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔ کانفرنس کے دوران بلوچستان میں سیاحت کے فروغ، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی بہتری، ماحول دوست سیاحت اور سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا.

خبرنامہ نمبر3890/2026
کوئٹہ 09 مئی 2026۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیرِ آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے ”معرکہ حق” کو پاکستان کی عزت، طاقت اور بلند وقار کا دن قرار دیا ہے، اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے جرات اور بہادری سے فوری ردعمل کے ذریعے دشمن ملک بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا تھا، انہوں نے کہا کہ معرکہ حق پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے جس میں پاک فوج نے دشمن کی حملے کو مہارت سے ناکام بنایا اس تاریخی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر نو مئی 2026 کو ملک بھر میں اس کا جشن منایا جا رہا ہے یہ معرکہ قومی یکجہتی عسکری مضبوطی اور دفاعی صلاحیتوں کے عروج کی علامت قرار دیا گیا ہے، میر محمد صادق عمرانی نے مزید کہا کہ پاک فوج کے لڑاکا طیاروں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں عسکری مہارت کے ذریعے بھارتی جنگی جہازوں کو تباہ کرکے پوری دنیا میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا، صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیاء میں ایک ذمہ دارایٹمی ملک ہے اور ہماری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر باوقار طریقے سے پرامن رہ کر خطے کی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا کیا جائے لیکن جنگی جنون میں مبتلا بھارت شروع دن ہی سے پاکستان کو غیر مستحکم کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے جس میں اسے ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ہمیشہ حب الوطنی کے ساتھ سیاسی و عسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ملک کی سلامتی اور استحکام کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

خبرنامہ نمبر3891/2026
نصیرآباد: ضلع نصیر آباد کے علاقے میر حسن کے قریب یونین کونسل دولت گھاڑی گوٹھ زیاد خان کھوسہ میں گزشتہ روز اچانک پیش آنے والے پراسرار واقعے سے متاثرہ خاندانوں کی امداد کے لیے ضلعی انتظامیہ فوری طور پر متحرک ہو گئی۔ کمشنر نصیر آباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی اور ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے موقع پر پہنچ کر متاثرہ خاندانوں میں اشیائے خوردونوش، ٹینٹ اور روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری امدادی سامان تقسیم کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر یوٹی محمد طہ جمالی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بروقت امدادی کارروائی پر متاثرین نے کمشنر نصیر آباد ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو انسان دوستی اور عوامی خدمت کی بہترین مثال قرار دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے متاثرہ خاندانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصیر آباد کی ضلعی انتظامیہ مشکل اور مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے متاثرین کی فوری مدد اور ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں جن پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کے ازالے، ان کے مسائل کے حل اور دکھوں کے مداوے کے لیے مزید موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقے میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

خبرنامہ نمبر3892/2026
جعفرآباد: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی سربراہی میں معرکہ? حق“بنیان مرصوص”کی شاندار کامیابی کے سلسلے میں ضلع جعفرآباد میں ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی جس میں ایس ایس پی جعفرآباد کامران نواز، ضلعی افسران، سیاسی و سماجی رہنماؤں، اقلیتی برادری کے نمائندگان، تاجر تنظیموں، طلبہ، اساتذہ، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پاک افواج کی دلیرانہ قیادت، شہداء کی عظیم قربانیوں، قومی سلامتی اور دفاع وطن کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ ریلی کے دوران شرکاء پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد، شہداء کو سلام اور وطن کے محافظوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے فلک شگاف نعرے لگاتے رہے جبکہ پورا شہر قومی جذبے، اتحاد اور حب الوطنی کی فضا سے گونج اٹھا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ معرکہ? حق“بنیان مرصوص”کی کامیابی پاکستان کی بہادر افواج، نڈر جوانوں اور مدبر قیادت کی بے مثال جرات، قربانی اور شاندار حکمت عملی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے دفاع کے لیے ہماری افواج نے ہر محاذ پر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، خودمختار اور ناقابل تسخیر ریاست ہے۔ خالد خان نے کہا کہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے کیونکہ ہماری افواج ہر قسم کی جارحیت کا فوری، موثر اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہیں اور انہی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان امن، وقار اور استحکام کی علامت بنا ہوا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ متحد ہے اور ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی، سماجی، مذہبی اور اقلیتی برادری سمیت ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ قومی اتحاد، یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کو مزید مضبوط کرے تاکہ دشمن کے ہر ناپاک ارادے کو ناکام بنایا جا سکے۔ ایس ایس پی جعفرآباد کامران نواز، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور اقلیتی برادری کے نمائندگان نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ افواج پاکستان ہماری قومی سلامتی کی ضامن ہیں اور پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے اتحاد، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے اور قوم اپنے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ریلی کے اختتام پر ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی، شہداء کے درجات کی بلندی اور افواج پاکستان کی مزید کامیابیوں کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

خبرنامہ نمبر3893/2026
نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی قیادت میں معرکہ? حق“بنیان مرصوص”کی شاندار کامیابی کے حوالے سے ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی جس میں ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ ضلعی افسران، سول سوسائٹی، طلبہ و طالبات، اساتذہ، سیاسی و سماجی شخصیات علماء کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہو کر پریس کلب تک نکالی گئی جہاں شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر پاک فوج کی دلیرانہ قیادت، جوانوں کی بے مثال قربانیوں، قومی سلامتی اور دفاع وطن کے حوالے سے نعرے اور تحریریں درج تھیں۔ ریلی کے شرکاء نے پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد، افواج پاکستان کو سلام اور وطن کے محافظوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے فلک شگاف نعرے بلند کیے جس سے پورا شہر قومی جذبے سے گونج اٹھا۔ اس موقع پر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ پاکستان کو بار بار آزمانے والوں نے ہمیشہ عبرتناک شکست کا سامنا کیا ہے اور اس بار بھی دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب ملا ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے نڈر، بہادر اور باہمت سپوتوں نے اپنی جرات، حکمت عملی اور بے مثال قربانیوں سے کئی گنا بڑے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سرزمین ناقابل تسخیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ غرور اور طاقت کے نشے میں مست دشمن کو پاک فوج کیجوانوں اور دلیر قیادت نے ایسا سبق سکھایا کہ دنیا پر واضح ہو گیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت ناقابل شکست ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہماری عظیم افواج نے رہتی دنیا تک یہ واضح پیغام پہنچا دیا ہے کہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اس کی سالمیت، خودمختاری اور بقا پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگی حالات کے دوران پوری قوم نے جس اتحاد، یکجہتی اور جذبہ حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا وہ ایک ناقابل فراموش باب ہے، یہی قومی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے مزید کہا کہ ہم ایک متحد، منظم، باوقار اور غیرت مند قوم ہیں اور ملک کا دفاع ہمارے لیے ہر شے سے مقدم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سالمیت، بقا اور دفاع کے لیے پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ ریلی کے اختتام پر وطن عزیز کی سلامتی، استحکام، شہداء کے درجات کی بلندی اور پاک افواج کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

خبرنامہ نمبر3894/2026
لورالائی: لورالائی پولیس نے منشیات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک مبینہ منشیات ساز فیکٹری پر چھاپہ مار کر کروڑوں روپے مالیت کی بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی، جبکہ تین ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد (PSP) نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 8 مئی کو خفیہ اطلاع پر ایس ایچ او میختر انسپکٹر ہمایوں ناصر اور سی آئی اے انچارج سب انسپکٹر محمد انور جلالزئی کی سربراہی میں لورالائی کے علاقے منزکی، میختر میں کامیاب کارروائی کی گئی۔ کارروائی کے دوران منشیات تیار کرنے والی ایک فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے کارروائی کے دوران 5 من سے زائد چرس، 15 من سے زائد بھنگ اور 39 کلوگرام کوکنار قبضے میں لے لیا۔ برآمد شدہ منشیات کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ایس ایس پی ڈاکٹر فہد احمد کے مطابق واقعے میں ملوث تین ملزمان کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لورالائی پولیس منشیات کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے اور نوجوان نسل کو منشیات جیسی لعنت سے بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ایس ایس پی لورالائی کا کہنا تھا کہ منشیات فروشوں، اسمگلروں اور منشیات کی کاشت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منشیات سمیت دیگر جرائم کے حوالے سے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں تاکہ عوامی تعاون سے علاقے میں امن و امان کے قیام، نوجوان نسل کے محفوظ مستقبل اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3895/2026
گوادر: ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس مکران رینج عمران قریشی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گوادر عطائالرحمان خان کی خصوصی ہدایات پر ایس ڈی پی او گوادر چاکر حیات بلوچ کی قیادت میں معرکہ? حق“بنیان المرصوص”کی عظیم الشان کامیابی کے حوالے سے ایک پُروقار اور بھرپور قومی یکجہتی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں پولیس افسران و اہلکاروں، سول سوسائٹی، سیاسی و سماجی شخصیات، علماء کرام، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے پاک افواج کے ساتھ بھرپور یکجہتی اور قومی عزم کا اظہار کیا۔ریلی کا آغاز شہید محمد خماری پولیس تھانہ سے ہوا، جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی ایئرپورٹ روڈ تک پہنچی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پاک فوج کی دلیرانہ قیادت، شہداء کی عظیم قربانیوں، قومی سلامتی، دفاعِ وطن اور استحکامِ پاکستان کے حوالے سے نعرے اور تحریریں درج تھیں۔ ریلی کے دوران“پاکستان زندہ باد”،“پاک فوج پائندہ باد”،“افواجِ پاکستان کو سلام”اور“وطن کے محافظوں کو خراجِ تحسین”جیسے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھی، جبکہ شرکاء نے بھرپور قومی جذبے اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی او گوادر چاکر حیات بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت، غیر معمولی جرات اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وطنِ عزیز کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ہر بار عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس مرتبہ بھی دشمن کو ایسا مؤثر اور فیصلہ کن جواب ملا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے بے مثال قربانیوں اور جرات مندانہ کردار سے پوری دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت مضبوط، مستحکم اور ناقابلِ شکست ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگی اور مشکل حالات میں پوری قوم نے جس اتحاد، یکجہتی اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا ثبوت دیا، وہ قومی تاریخ کا ایک روشن اور قابلِ فخر باب ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ پاکستانی قوم ایک متحد، باوقار اور غیرت مند قوم ہے جو ملک کی سالمیت، خودمختاری اور دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی رہے گی اور وطنِ عزیز کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گی۔ریلی کے اختتام پر وطنِ عزیز کی سلامتی، ترقی، استحکام، شہداء کے بلند درجات اور پاک افواج کی مزید کامیابیوں کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

خبرنامہ نمبر3896/2026
نصیرآباد9 مئی:استامحمد۔۔معرکہ حق کی یاد میں صوبائی وزیر لائیو اسٹاک بلوچستان سردار زادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی ہدایات پر گوٹھ سردار رستم خان جمالی بکھرڑہ سے ایک عظیم الشان اور بھرپور عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا اس ریلی کی قیادت سردار محمد ہارون خان جمالی نے کی، جس میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی ریلی اپنے آغاز کے مقام سے شہر کے مختلف اہم راستوں سے ہوتی ہوئی ڈپٹی کمشنر آفس استامحمد پہنچی، جہاں یہ باقاعدہ طور پر اختتام پذیر ہوئی ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جبکہ فضا پاک فوج زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی شرکاء نے افواجِ پاکستان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی، محبت اور یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا اس موقع پر ریلی کے شرکاء کا جذبہ حب الوطنی دیدنی تھا نوجوانوں، بزرگوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کرکے یہ پیغام دیا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد ہارون خان جمالی، میئر میر مظفرخان جمالی، ایس پی اُستامحمد حافظ معاذ الرحمٰن، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری، اسسٹنٹ کمشنر محمد رمضان اشتیاق اور دیگر مقررین نے کہا کہ 9 مئی 2025ء ملکی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن ہے، جسے معرکہ حق کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس دن افواجِ پاکستان نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور عزم کا لوہا منوایا.مقررین نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ وطنِ عزیز کے دفاع، سرحدوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے ہر لمحہ مستعد اور تیار ہے انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر کی ہر سازش کو بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ناکام بنایا گیا، جو کہ افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیمقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملکی سالمیت، خودمختاری اور استحکام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوم اور افواجِ پاکستان کے درمیان مضبوط رشتہ ہر آزمائش میں مزید مستحکم ہوگا اور پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا جائے گا.

خبرنامہ نمبر3897/2026
سبی، 9 مئی:ضلع سبی میں معرکہ حق“بنیان المرصوص”کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے زیرِ اہتمام مختلف تعلیمی اداروں میں پروقار تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ تقریبات میں اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں اور خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔تقاریب میں طلبہ اور اساتذہ نے حب الوطنی سے بھرپور تقاریر پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے اور پوری قوم ہر مشکل گھڑی میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اس موقع پر طلبہ نے خوبصورت ٹیبلوز اور ملی نغمے بھی پیش کیے جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔مقررین نے پاک فوج کی بہادری، قربانیوں اور ملکی سلامتی کے لیے دی جانے والی لازوال خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور دفاعِ وطن کے جذبے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ضلعی انتظامیہ کے ان تقریبات کے انعقاد کا مقصد نئی نسل میں قومی شعور بیدار کرنا اور افواجِ پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

خبرنامہ نمبر3898/2026
برشور09 مئی:صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اربن پلاننگ و چیئرمین کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی خان اسفند یار خان کاکڑ نے معرک? حق”بنیان المرصوص” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں افواجِ پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ کی شاندار پیشہ ورانہ کارکردگی،جرات مندانہ صلاحیتوں اور عوامی اعتماد کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معرک? حق اور ”بنیان المرصوص” نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل تیاری،صلاحیت اور پختہ عزم رکھتی ہیں،جبکہ پاکستانی قوم کا اپنے مسلح افواج پر غیر معمولی اور غیر متزلزل اعتماد بھی بنیان المرصوص کی کامیابی کی اصل بنیاد ہے،چونکہ پاک فضائیہ نے اپنی بہترین حکمتِ عملی،مہارت اور بہادری سے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر نہ صرف پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے بلکہ قوم کو ریاستی اداروں اور شہداء کی قربانیوں کے احترام کا احساس بھی دلایا ہے،اب وطن عزیز کی سالمیت،سرحدوں کی حفاظت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے دی گئی ریاستی اداروں کی قربانیاں قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی،چونکہ پاکستانی قوم اپنے سپوتوں پر ناز کرتے ہوئے انکے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی،انہوں نے کہا ہے کہ یہ تاریخی دفاعی کامیابی قومی اتحاد،عوامی یکجہتی اور افواجِ پاکستان کے غیر متزلزل حوصلے کا واضح مظہر ہے،جو ہمارے ہر دشمن کے لیے واضح پیغام بھی ہے،انکا مزید کہنا ہے کہ پاکستانی افواج آرمی چیف سید عاصم منیر کی قیادت میں اپنے وطن کی دفاع کے لیے ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پیشہ ورانہ ماہر دفاع فوج بھی ثابت ہو ئی،جس کا اعتراف پوری دنیا بھی کر چکی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری اسفندیار خان کاکڑ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہمارے لیے مادر وطن کی حفاظت اور ترقی سب سے مقدم ہے،جس کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا کیونکہ معرکہ حق صرف ایک جنگ نہیں بلکہ قومی اتحاد،آئین کی بالادستی،ریاستی طاقت و وقار اور جمہوری استحکام کے تحفظ کا نام بھی ہے،انہوں نے وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء،غازیوں اور بہادر جوانوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہمارے لیے مشعل راہ اور قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے،جبکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی جذب? حب الوطنی کی مثال اور فخر کا باعث بنا رہے گا،انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے معرکہ حق ”بنیان المرصوص”کی یہ داستان ہمیشہ پیغام دیتی رہے گی کہ مادر ملت کی سلامتی،دفاع،استحکام اور ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

خبرنامہ نمبر3899/2026
متحدہ عرب امارات کے پاکستان میں قونصل جنرل ڈاکٹر بخیت عتیق الرمیثی اور متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے اراکین کی دعوت پر سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمان نے کراچی میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کا دورہ کیا، جہاں جیوانی کے عوام کے لیے متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کی جانب سے تعمیر کردہ طبی مرکز کی حکومت بلوچستان کو حوالگی اور اس کی فعالیت سے متعلق تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے دوران اسپتال کی فعالیت، آپریشنل ضروریات، مستقبل میں توسیع، اور جیوانی سمیت ملحقہ علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمان نے حکومتِ متحدہ عرب امارات اور شاہی خاندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے دور افتادہ ساحلی علاقے جیوانی میں اسپتال قائم کرکے عوام دوستی اور بھائی چارے کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے اس طبی مرکز کو مزید اپ گریڈ کرتے ہوئے اسے تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) اسپتال کا درجہ دے دیا ہے، جس سے مقامی آبادی کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ڈاکٹر بخیت عتیق الرمیثی نے یقین دہانی کروائی کہ اسپتال کے لیے درکار تمام طبی آلات اور مشینری متحدہ عرب امارات کی جانب سے فراہم کی جائے گی، جبکہ حکومت بلوچستان اسپتال کے آپریشنل اخراجات، ہیومن ریسورس اور دیگر جاری اخراجات برداشت کرے گی تاکہ اسپتال کو مؤثر اور پائیدار انداز میں فعال رکھا جا سکے۔سیکرٹری صحت بلوچستان نے پاکستان، بالخصوص بلوچستان کے عوام، اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام متحدہ عرب امارات کی قیادت اور شاہی خاندان کی جانب سے صوبے کے لیے کی جانے والی معاونت، محبت اور خیرسگالی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔دونوں جانب سے اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات اور عوامی فلاح وبہبود کے اقدامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا

خبرنامہ نمبر3900/2026
تربت۔9 مئی:معرکہ حق آپریشن بنیان المرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر جامعہ تربت میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کی جبکہ اس میں فیکلٹی اراکین، انتظامی عملے اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کا مقصد پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دی گئی قربانیوں اور ان کے غیر متزلزل عزم کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ شرکاء نے مسلح افواج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امن، استحکام اور قومی اتحاد کے لیے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے بیرونی خطرات کے مقابلے میں پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے ملک کے دفاع، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔وائس چانسلر نے کہا کہ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کے ردِعمل نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے اصولوں سے پاکستان کی مضبوط وابستگی کو ثابت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے پاکستان کے خلاف بھارت کے جارحانہ عزائم اور مخاصمانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا اور علاقائی امن و خودمختاری کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کو مزید واضح کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جامعات، جو علم و فکری ترقی کے مراکز ہیں، نوجوانوں میں برداشت، پُرامن بقائے باہمی، تنقیدی سوچ اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم ذمہ داری رکھتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعلیم، اتحاد اور مثبت کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم رہیں۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے ساتھ ساتھ قوم کی مسلسل خوشحالی اور کامیابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

خبرنامہ نمبر3901/2026
لورالائی: میونسپل کمیٹی ہال لورالائی میں محکمہ بہبودِ آبادی، پی ایس آئی (Population Services International) اور پی پی ایچ آئی کے اشتراک سے انٹیگریٹڈ سروسز ڈلیوری (DMPA-SC) کے حوالے سے نرسنگ اسٹاف کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی سے مکمل ہوگئی۔ ٹریننگ کا مقصد ماں اور بچے کی صحت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات، حفظانِ صحت (واش) اور جدید خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی اور سہولیات کو مؤثر انداز میں فروغ دینا تھا۔تربیتی سیشن کے اختتامی پروگرام سے پراونشل کوآرڈینیٹر بلوچستان ڈاکٹر محمد نسیم، ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر زرینہ، ڈاکٹر ماریہ، پی پی ایچ آئی کی ڈاکٹر فریال اور پاپولیشن سروسز انٹرنیشنل کی آفیسر ڈاکٹر نسرین گل نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت صحت، صفائی، غذائیت اور حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرامز کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات ان کی دہلیز تک فراہم کی جاسکیں۔پراونشل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد نسیم نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انٹیگریٹڈ سروسز ڈلیوری (DMPA-SC) پروگرام کا بنیادی مقصد ماں اور بچے کی صحت سے متعلق مختلف خدمات کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرکے عوام کو جامع اور معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کے ذریعے غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات، صاف پانی اور حفظانِ صحت کی سہولیات کو مربوط انداز میں عوام تک پہنچایا جا رہا ہے۔ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر زرینہ نے حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ویکسینیشن ماں اور بچوں کو مختلف مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے، لہٰذا والدین میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مقررین نے کہا کہ ڈی ایم پی اے۔ایس سی (DMPA-SC) ایک جدید مانع حمل انجکشن ہے جسے خواتین تربیت کے بعد خود بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ تربیتی سیشن کے دوران شرکاء کو انجکشن محفوظ انداز میں خود لگانے، صفائی کے اصول اپنانے اور بروقت استعمال سے متعلق عملی تربیت فراہم کی گئی۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں، طبی عملے اور کمیونٹی ورکرز پر زور دیا کہ وہ عوام میں آگاہی بڑھانے اور ماں و بچے کی صحت کے پروگرامز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ٹریننگ کے اختتام پر شرکاء اور ٹرینرز میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں جبکہ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ماں اور بچے کی بہتر صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور عوامی شعور کی بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔لورالائی: ماہرین صحت نے کہا ہے کہ ڈی ایم پی اے۔ایس سی (DMPA-SC) خواتین کے لیے ایک محفوظ، آسان اور مؤثر مانع حمل طریقہ ہے، جس کے ذریعے خواتین طبی عملے کی رہنمائی میں خود انجکشن لگانے کی تربیت حاصل کرسکتی ہیں۔لورالائی میں منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے دوران شرکاء کو بتایا گیا کہ سیلف انجکشن کے استعمال سے خواتین کو بار بار ہسپتال یا مراکزِ صحت جانے کی ضرورت کم ہوجاتی ہے، جبکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین بھی بآسانی خاندانی منصوبہ بندی کی سہولت سے فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ماہرین نے بتایا کہ انجکشن استعمال کرنے سے قبل ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا، مقررہ وقت پر دوا استعمال کرنا اور تربیت کے مطابق محفوظ طریقے سے انجکشن لگانا انتہائی ضروری ہے۔ شرکاء کو عملی طور پر انجکشن لگانے کا طریقہ، استعمال شدہ سامان کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے اور احتیاطی تدابیر سے بھی آگاہ کیا گیا۔ڈاکٹر نسرین گل نے کہا کہ ڈی ایم پی اے۔ایس سی خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے وہ اپنی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے فیصلوں میں زیادہ خودمختار بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید طریقہ کار کے ذریعے غیر مطلوب حمل کی شرح میں کمی اور ماں و بچے کی صحت میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا کہ سیلف انجکشن کا استعمال ہمیشہ تربیت یافتہ طبی عملے کی ہدایات کے مطابق کیا جائے تاکہ محفوظ اور مؤثر نتائج حاصل کیے جاسکیں۔

خبرنامہ نمبر3902/2026
کوئٹہ۔ 09 مئی۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر نگرانی بنیان المرصوص کی پہلی سالگرہ اور معرکہ? حق کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ، اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی، اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اور اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر مزاری نے کی۔ ریلی میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور قومی یکجہتی، امن و استحکام اور معرکہ حق کے حق میں نعرے لگائے۔ ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہو کر مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی سرینا چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔سرینا چوک پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق قومی اتحاد، قربانی اور عوامی شعور کی علامت ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی، ترقی اور امن کے لیے پوری قوم متحد ہے اور نوجوان نسل ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار اداکرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ ملک کی دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار بنایے گی۔

خبرنامہ نمبر3903/2026
ہرنائی: ایف سی پبلک اسکول ہرنائی میں گزشتہ سال مئی میں پاک فوج کی جانب سے دشمن کے خلاف کیے گئے کامیاب معرکہ? حق ”آپریشن بنیان المرصوص” کی تاریخی کامیابی اور افواجِ پاکستان کی شجاعت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ضلعی انتظامیہ، عسکری حکام، قبائلی عمائدین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے معزز مہمانوں میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی میر ارشد حسین جمالی، ایف سی 81 ونگ کے کرنل ارباب خان، اور ایس پی پولیس ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی شامل تھے۔ دیگر شرکاء میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین، پی ایس ٹو ڈی سی امیر محمد، بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر نائب صدر ملک مظفر خان ترین، انجمن تاجران کے صدر حاجی فاضل خان ترین، ہرنائی بچاؤ تحریک کے چیئرمین سید نور محمد شاہ، جی ایس ملک ظفر سمیت اساتذہ اور معززین علاقہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔?تقریب کے دوران ایف سی پبلک سکول کے طلباء نے ملی نغموں، ولولہ انگیز تقاریر اور ٹیبلو کے ذریعے پاک فوج کی جرات اور حب الوطنی کے جذبے کو اجاگر کیا۔ طلبہ نے اپنے مخصوص انداز میں سرحدوں کے محافظوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا اور ہال ”پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونج اٹھا۔?اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں جب بھارت نے ارضِ پاک کی سالمیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو پاک فوج نے ”آپریشن بنیان المرصوص” کے ذریعے دشمن کو وہ منہ توڑ جواب دیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ مقررین کا کہنا تھاپاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بروقت جوابی کارروائی نے نہ صرف دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔مقررین نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدبرانہ حکمت عملی کی بدولت ملک کے دفاعی حصار کو مزید مضبوطی ملی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملکی خود مختاری کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔?پروگرام کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ بعد ازاں، مہمانِ خصوصی نے پروگرام میں بہترین کارکردگی دکھانے والے اور مختلف مقابلوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات اور اسناد تقسیم کیں تقریب نے عوام اور افواجِ پاکستان کے درمیان محبت اور اعتماد کے رشتے کو مزید جلا بخشی۔

خبرنامہ نمبر3904/2026
پشین میں پاکستان پولیس سروس (PSP) کے افسر نوید عالم نے بطور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) پشین اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا۔چارج سنبھالنے کے فوراً بعد ایس ایس پی نوید عالم نے پولیس لائن پشین، مختلف برانچز اور اپنے دفتر کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات، نفری، گشت، جرائم کی روک تھام اور جاری پولیس کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ایس ایس پی پشین نے پولیس افسران اور اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں اور قانون کی بالادستی کا قیام پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تھانہ کلچر میں بہتری، عوامی شکایات کے فوری ازالے، میرٹ اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پشین پولیس عوام کے تعاون سے امن و امان کے قیام، منشیات، جرائم اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ ایس ایس پی نوید عالم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہریوں کو شفاف، ذمہ دار اور عوام دوست پولیسنگ کی فراہمی کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں گے

خبرنامہ نمبر3905/2026
تربت.09 مئی :معرکہ حق – آپریشن بنیان المرصوص کی شاندار کامیابی اور وطنِ عزیز کے بہادر سپوتوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول تربت میں ایک پُروقار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دشت شیر جان بلوچ، ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت اکبر اسمعیل،طلبہ، اساتذہ کرام اور معززینِ علاقہ نے بھرپور شرکت کی۔ریلی کا مقصد ملک و قوم کے محافظوں کی لازوال قربانیوں، جرات و بہادری اور معرکہ? حق میں حاصل ہونے والی عظیم کامیابی کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر شرکاء نے پاک وطن سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے وطن کے بہادر سپاہیوں کی عظیم قربانیوں، عزم، حوصلے اور دفاعِ وطن کے لیے دی جانے والی بے مثال خدمات کو زبردست انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ معرکہ? حق اور بنیان المرصوص آپریشن کی کامیابی قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، جس نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اور افواج ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شیر جان بلوچ اور ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول تربت اکبر اسماعیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ہماری بہادر افواج قوم کا فخر ہیں، جن کی قربانیوں کی بدولت ملک میں امن، استحکام اور سلامتی قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور اپنے محافظوں کے لیے احترام کے جذبات کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ریلی کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور پاک افواج کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں جبکہ شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے بھی دعا مانگی گئی شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ وطنِ عزیز کی ترقی، استحکام اور دفاع کے لیے ہمیشہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر3906/2026
کوئٹہ 9 مئی۔۔۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے سنئیر وکیل سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل حکومت پاکستان امین الدین بازئی ایڈوکیٹ نے معرکہ حق آپریشن بیان مرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ولولہ انگیز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معرکہ ملکی دفاع کی تاریخ کا ایک روشن اور سنہرا باب ہیجس نے پاکستان کی عسکری صلاحیت، قومی یکجہتی اور دفاعی عزم کو دنیا بھر میں اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے والے غازیوں اور وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا پوری قوم کا فخر ہیں جن کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ہفتہ کو معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر اپنے خصوصی پیغام میں امین الدین بازئی ایڈوکیٹ نے کہا کہ معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں تہنیتی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن کا مقصد پاک فوج اور دیگر مسلح افواج کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وکلا اور تمام طبقات کے لوگ اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور وطن کے دفاع کے لیے ہر سطح پر یکجہتی کا مظاہرہ کرتی رہے گی۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے سنئیر وکیل سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل حکومت پاکستان امین الدین بازئی ایڈوکیٹ نے اس کامیابی کو وزیراعظم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تمام عسکری قیادت کی بہترین حکمت عملی، بروقت فیصلوں اور غیر معمولی قیادت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل کی زیر قیادت بری، بحری اور فضائی افواج نے جس جرات، اتحاد اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔امین الدین بازئی ایڈوکیٹ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دشمن کو عبرتناک شکست دی اور عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی وقار کو مزید بلند کیا۔انھوں کہا کہ بھارت کے خلاف اس معرکے میں کامیابی نے دنیا پر واضح کر دیا ہیکہ پاکستان کے دفاع کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے ہر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ امین الدین بازئی ایڈوکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کی وکلا برادری وطن عزیز کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے لیے ہمیشہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہینگے اور قومی اتحاد و یکجہتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہینگے تاکہ دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بناکر مادر وطن کیاستحکام و تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
خبرنامہ نمبر3907/2026
کوئٹہ، 09 مئی:ایشین ڈیولپمنٹ بینک (ADB) کا ایک اعلیٰ سطحی وفد کنٹری ڈائریکٹر ایما فین اور ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر سید حسین حیدر کی سربراہی میں بلوچستان کے دورے پر کوئٹہ پہنچا وفد کے دورے کا مقصد صوبے کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینا اور ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا تاکہ ان علاقوں کی معاشی و سماجی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے دورے کے دوران ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے وفد نے محکمہ مواصلات و تعمیرات بلوچستان کے حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں شرکت کی محکمہ مواصلات و تعمیرات کے وفد کی قیادت سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کی جبکہ اجلاس میں چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک تھے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے وفد کو صوبے میں جاری اہم ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے صوبے کی معاشی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف صوبے میں آمد و رفت کے نظام میں بہتری آئے گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگاانہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا تعاون انتہائی اہم ہے اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی معاونت سے صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے اس موقع پر ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے وفد نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ صوبے کی پسماندگی دور کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا وفد نے یقین دہانی کرائی کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک آسان شرائط پر قرض اور مالی معاونت فراہم کرے گا تاکہ صوبے میں انفراسٹرکچر کی ترقی مواصلاتی نظام کی بہتری اور عوامی سہولیات کے منصوبوں کو مزید مؤثر انداز میں مکمل کیا جا سکے وفد نے بلوچستان حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باہمی تعاون سے صوبے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

خبرنامہ نمبر3908/2026
پنجگور۔ 9 مئی 2026: معرکہ حق – آپریشن بنیان المرصوص کے پہلی سالگرہ کے موقع پر پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجتی کی مناسبت سے ایف سی ساؤتھ پنجگور رائفلز اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی آف مکران سے ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں شہریوں طلباء سیاسی سماجی رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کیا ریلی یونیورسٹی آف مکران سے نکل کر شاہراہوں پر گشت کرتے ہوئے اللہ اکبر چوک تک پہنچ گیا ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا اور سبز ہلالی پرچم اٹھا رکھے تھے جن پر پاک فوج کی حمایت کے نعرے درج تھے .ریلی کی قیادت یف سی کمانڈنٹ پنجگور ظفر اقبال، ڈپٹی کمشنر پنجگور عبدالکبیر زرکون ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایاز خان ڈسٹرکٹ چیئرمین عبدالمالک صالح بلوچ دیکر سرکاری محکموں کے افسران شہری اور سیاسی رہنماء کررہے تھے.شرکاء فوج کے حق میں نعرے لگاتے رہے اس موقع پر ریلی کے شرکاء نے سبز ہلالی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے افواج پاکستان سیکورٹی اداروں کی قائدانہ قیادت۔صلاحیت اور جرات کو سلام پیش کیا اس ریلی کا مقصد قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے آج کے اس بڑے مجمعے کے توسط سے پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہمارا فخر ہے پاک فوج اپنی بہادری اور صلاحیتوں کا لوہا پوری دنیا میں منوا چکی ہے پاک فوج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قائدانہ صلاحیتوں سے بھارت کا غرور کئی بار خاک میں ملا چکی ہے دشمن کسی خوش فہمی میں نہ رہے پاکستان مضبوط اور باصلاحیت قیادت کے ہاتھوں میں ہے

خبرنامہ نمبر3909/2026
گوادر۔ 9 مئی:ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی سربراہی میں گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت آئندہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گوادر کے آئندہ 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گوادر کو عالمی معیار کی جدید، اسمارٹ، ماحول دوست اور معاشی حب بندرگاہی شہر بنانے کے لیے گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے دوسرے یعنی درمیانی مرحلے (2025 تا 2035) کے تحت تقریباً 280 ارب روپے کے میگا ترقیاتی منصوبے مرحلہ وار شروع کیے جائیں گے۔اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی جبکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبہ میر دودا خان مری، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میر جان بلوچ، سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگ شیخ آصف غنی، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ عبدالرزاق سمیت سینئر انجینئرز اور افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ عبدالرزاق نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں جی ڈی اے ایک جامع 10 سالہ ترقیاتی پروگرام“امبریلا پی سی ون”کے تحت مرتب کر رہی ہے، جسے منظوری اور فنڈز کے حصول کے لیے پہلے صوبائی حکومت اور بعد ازاں وفاقی حکومت کو پیش کیا جائے گا جو آئندہ مالی سال 27-2026 میں شامل ہونے کا امید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام جی ڈی اے کے پہلے سے جاری بزنس پلان سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ایک مربوط مجموعہ ہوگا اور اس کا بنیادی مقصد گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ماسٹر پلان اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے تحت گوادر میں جدید شہری انفراسٹرکچر، صنعتی ترقی، سماجی و معاشی بہتری، ماحولیاتی تحفظ، سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ اور جدید میونسپل سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔آئندہ دس سالہ مجوزہ ترقیاتی پروگرام میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ، اسپیشل اکنامک زونز، جی ڈی اے ہاؤسنگ اسکیم، ایکولوجیکل کوریڈورز اور ماسٹر پلان کی مائیکرو پلاننگ پر عملدرآمد کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کمرشل سینٹرز، پبلک اسپیسز، میوزیم، ہیریٹیج سینٹر، کوسٹل ٹورازم ریزورٹس، فارنرز ٹورازم ریزورٹس، گراب بیچ پارک اور جی ڈی اے کلب جیسے اہم منصوبے بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔اجلاس میں سنیٹر محمد اسحاق کرکٹ گراؤنڈ کی اپ گریڈیشن، شہر میں انڈر گراؤنڈ بجلی کی کیبلنگ، جی ڈی اے شاہراہوں پر سولرائزیشن کے تحت جدید اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، گرین بیلٹس کے قیام اور شہر کی خوبصورتی میں اضافے سے متعلق منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے تحت شمبے اسماعیل وارڈ، سربندر اور پشکان میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع، سیوریج و ڈرینیج نظام کی بہتری، اسٹریٹ لائٹس، یادگاری مونومنٹس اور جدید میونسپل سروسز کی فراہمی کے منصوبے بھی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔ جبکہ ماسٹر پلان ایریاز میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 200 کلومیٹر نئی پائپ لائن بچھانے اور واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبوں کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ دس سالہ پروگرام کے تحت شہر کی اندرونی و بیرونی شاہراہوں کی تعمیر و توسیع، جی ڈی اے کی نامکمل سڑکوں کی تکمیل اور ماسٹر پلان کے مطابق نئی شاہراہوں کی تعمیر بھی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ماحولیاتی تحفظ، سماجی و اقتصادی ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے گی۔اجلاس میں معین الرحمٰن خان نے کہا کہ گوادر پاکستان کا مستقبل کا معاشی، تجارتی اور بحری مرکز بننے جا رہا ہے، اس لیے ترقیاتی منصوبوں کو جدید تقاضوں، ماحول دوست پالیسیوں اور عالمی معیار کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ مقامی آبادی کو بنیادی اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گوادر کی اسٹریٹیجک اہمیت، سی پیک، بندرگاہی سرگرمیوں، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے تناظر میں یہ ترقیاتی پروگرام شہر کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں گوادر نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مضبوط معاشی انجن ثابت ہوگا۔

خبرنامہ نمبر 3910/2026
کوئٹہ، 09 مئی 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے معرکۂ حق کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ معرکۂ حق وہ تاریخی دن ہے جب پاکستان نے اپنی قوت، خودداری اور غیر متزلزل عزم کا لوہا پوری دنیا میں منوایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن قومی اتحاد، جرات، قربانی اور مادرِ وطن کے دفاع کے عزم کی روشن علامت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عظیم موقع پر افواجِ پاکستان، قومی سیاسی قیادت اور خصوصاً سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جراتمندانہ قیادت میں افواجِ پاکستان نے طاقت کے غرور میں مبتلا دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے اور دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہاتھوں میں ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اس دن کو پاکستان کے تحفظ، سلامتی اور استحکام کے عزم کے ساتھ یومِ فخر کے طور پر مناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے غیور عوام ہمیشہ وطنِ عزیز کے دفاع، قومی سلامتی اور یکجہتی کے لیے صفِ اول کا کردار ادا کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی اپنی اس قومی ذمہ داری کو بھرپور انداز میں نبھاتے رہیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان کی جانب اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کے سامنے افواجِ پاکستان اور پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان سے وفاداری، محبت اور قومی یکجہتی میں کسی قسم کی کمزوری آنے نہیں دی جائے گی اور ملک کی سلامتی و استحکام کے لیے پوری قوم متحد رہے گی انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان ایک مضبوط، خودمختار اور باوقار ریاست ہے اور قوم اپنے دفاع اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

خبرنامہ نمبر3911/2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ معرکہ حق پاکستان کی تاریخ کا ایک عظیم اور فیصلہ کن باب ہے جس نے دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان ہر قسم کے داخلی و خارجی خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج کا دن قومی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ دشمن نے پاکستان کو کمزور سمجھتے ہوئے نقصان پہنچانے کی کوشش کی، مگر افواجِ پاکستان نے جس جرات، حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت سے جواب دیا، اس کی مثال نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جراتمندانہ قیادت میں افواجِ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے اور یہ ثابت کیا کہ ایک منظم اور مضبوط فوج کی موجودگی میں کوئی اندرونی یا بیرونی قوت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کے عوام، بالخصوص نوجوان نسل، اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کے دفاع، سلامتی اور استحکام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر ریاست کے خلاف سرگرم ہیں اور جو لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں، وہ خود دیکھ لیں کہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں ان کے حامیوں کو کس قدر نقصان اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ان کی شناخت بلوچ ہونے سے پہلے ایک پاکستانی کی ہے اور بلوچستان کے عوام کو بھی یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ تشدد، نفرت اور ہتھیاروں کے ذریعے کوئی مثبت مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں ہمارے بزرگوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا جو تاریخی فیصلہ کیا، ہمیں اس پر فخر ہے اور یہی فیصلہ آج بھی ہماری قومی شناخت اور وحدت کی بنیاد ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کو تعلیم، ترقی اور روشن مستقبل کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے صوبائی حکومت نے نوجوانوں کے لیے دنیا کے ممتاز تعلیمی اداروں، بشمول آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹیوں، تک رسائی کے دروازے کھولے ہیں تاکہ بلوچستان کا نوجوان عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے حالیہ دورہ تربت کے دوران اس امر کا مشاہدہ کیا کہ ایک منظم سازش کے تحت نوجوانوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے، تاہم بلوچستان کے باشعور عوام ایسی منفی سرگرمیوں کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے مخصوص افراد کو ہیرو بنا کر ایک مصنوعی بیانیہ کھڑا کرنے کی کوشش کی، لیکن زمینی حقائق اور عوامی شعور نے ان عزائم کو ناکام بنا دیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آباد تمام اقوام اور برادریاں برابر کی شہری ہیں اور پنجابی برادری، جو صدیوں سے بلوچستان میں آباد ہے، اتنی ہی بلوچستانی ہے جتنی دیگر قومیتیں۔ صوبے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام طبقات کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے معرکہ حق کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں کو یقین دلاتی ہے کہ ان کے پیاروں کا مقدس خون کبھی رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا ہر بچہ افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور پوری قوم متحد ہو کر“پاکستان زندہ باد”اور“پاک فوج زندہ باد”کا نعرہ بلند کرتی رہے گی۔

خبرنامہ نمبر3912/2026
چمن 9 مئی معرکہ حق یوم بنیان المرصوص پاک فوج کی عظیم کامیابی معرکہ حق آپریشن بنیان المرصوص کو ایک سال مکمل ہونے پر آج گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول چمن میں ایک شاندار اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب میں اسکول پرنسپل محمد مدثر اور وائس پرنسپل حاجی غلام سرور نے افواج پاکستان کے عظیم غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے مادر وطن کی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جدید اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی اور جنگی سازو سامان اور جذبہ ایمانی سے سرشار ہوکر منوایا انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ایک سال پہلے پاک آرمی کے افسران اور جوانوں نے بھارت کے مکروہ عزائم اور حملے کو دندان شکن شکست سے دو چار کرایا انہوں نے کہا کہ ”معرکہ حق آپریشن بنیانُ المرصوص”ہماری قومی یکجہتی، اتحاد اور وطن سے محبت کی علامت ہے اور پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطن کے دفاع کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق10 مئی ”آپریشن یومِ بنیا المرصوص”ہمیں اتحاد، قربانی، حب الوطنی اور قومی یکجہتی کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا “بنیانُ المرصوص”کا مطلب ہے ایسی مضبوط دیوار جس کی اینٹیں ایک دوسرے سے مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں۔یہی پیغام آج پوری پاکستانی قوم کے لیے ہے کہ ہم سب ایک ہیں، متحد ہیں اور اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔پاک فوج دنیا کی اُن عظیم افواج میں شامل ہے جس نے ہمیشہ وطن کے دفاع کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ چاہے سرحدوں کی حفاظت ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو، قدرتی آفات میں عوام کی مدد ہو ہو یا قومی سلامتی کا معاملہ ہو انہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے ہر میدان میں اپنی بہادری، قربانی اور شجاعت سے داستان رقم کی ہے تقریب سے طلباء اساتذہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا اور پاک فوج کی لازوال قربانیوں بہادری جرات اور شجاعت کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور پاک فوج اور پاکستان زنداباد اور پائنداباد کے پرجوش نعرے لگائے گئے اور وطن عزیز کی سالمیت خودمختاری اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں اور تقریبمیں پاک فوج کی قربانیوں اور فوج کی سپوتوں پر بنائی گئی مختلف قسم گانوں کو لاؤڈ اسپیکر پر خصوصی طور پر سنایا گیا

خبرنامہ نمبر3913/2026
چمن 9 مئی:معرکہ حق” آپریشن بنیان المرصوص کو ایک سال مکمل ہونے پر گورنمنٹ شہید ایڈووکیٹ ایمل خان اچکزئی بوائز ڈگری کالج چمن میں ایک شاندار اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب کی صدارت پرنسپل عجب خان مروت نے کی آپریشن بنیان المرصوص کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں اساتذہ اور طلباء نے بھرپور شرکت کی اس موقع پر طلباء نے اپنی تقاریر میں اس دن کی اہمیت اور ملک و ملت کے دفاع میں افواجِ پاکستان کے مثبت اور مثالی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب سے کالج پرنسپل عجب خان مروت نے خطاب کرتے ہوئے آپریشن بنیان المرصوص کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام طلباء ملک وقوم سے سچائی اور حب الوطنی کے راستے پر چلنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افواجِ پاکستان کی قربانیاں اور نوجوانوں کا عزم ہی ملک کی سلامتی کی بنیاد ہے؛ لہٰذا طلباء اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ تقریب سے دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں افواج پاکستان کی بہادری شجاعت اور دلیری کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور بھارت کی مکروہ عزائم اور جنگی جنون اور پاکستان سے ازلی دشمنی پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی.

خبرنامہ نمبر3914/2026
نصیرآباد 09مئی:ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی، جدید سہولیات کی بہتری اور تعلیمی معیار کو مؤثر بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اسی مقصد کے تحت محکمہ تعلیم، PITE اور غیر سرکاری تنظیم UNICEF کے تعاون سے ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، طلبہ کی بہتر نگرانی اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کیلئے جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات جاری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس جعفرآباد میں محکمہ تعلیم، PITE اور UNICEF کے اشتراک سے ضلع جعفرآباد کے مختلف سرکاری اسکولوں کے سربراہان میں ڈیجیٹل ٹیبلٹس، رجسٹرز، جدید اسمارٹ بورڈز اور LED اسکرینز کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفرآباد میڈم عائشہ بگٹی، ڈسٹرکٹ ٹریننگ مینیجر CPD PITE محمد یوسف، آفس سپرنٹنڈنٹ بابو افضل کھوکھر سمیت محکمہ تعلیم کے افسران، اسکول سربراہان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ضلع جعفرآباد میں بچوں کے داخلہ مہم کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کیا گیا ہے اور اب ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ان بچوں کے داخلے برقرار رہیں، انہیں معیاری تعلیمی ماحول فراہم ہو اور ان کی حاضری، تعلیمی کارکردگی اور تدریسی معیار کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ UNICEF اور PITE کے تعاون سے فراہم کردہ جدید ڈیجیٹل ٹیبلٹس، رجسٹرز، اسمارٹ بورڈز اور LED اسکرینز اسکول سربراہان کیلئے نہ صرف طلبہ کے ریکارڈ، مانیٹرنگ اور تعلیمی نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ اساتذہ کرام کیلئے جدید تدریسی طریقہ کار، اکیڈمک سپرویژن، پروفیشنل ڈویلپمنٹ اسکلز اور کوالٹی کلاس رومز کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ تعلیمی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق سرکاری اسکولوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں کے بچوں کو بھی بہتر اور معیاری تعلیم میسر آ سکے۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد نے محکمہ تعلیم، PITE اور UNICEF کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی تعلیمی میدان میں حقیقی بہتری ممکن ہے اور ضلعی انتظامیہ تعلیم کے شعبے میں مزید اصلاحات، نگرانی اور سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی تاکہ جعفرآباد کے سرکاری اسکول ترقی، معیار اور جدید تعلیم کے حوالے سے ایک مثالی مقام حاصل کر سکیں۔

خبرنامہ نمبر3915/2026
خضدار 9 مئی خضدار میں دو روزہ جھالاوان سمر فیسٹیول کا پہلا کامیاب دن۔ بلوچستان حکومت کے وژن کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ کی اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی و ماتحت منیجمنٹ نے بھرپور محنت اور منصوبہ بندی کے ساتھ اس فیسٹیول کا انعقاد کیا۔ ولولے اور رونق ایسی ہے جیسے بہار خود چلی آئی ہو۔ فیسٹیول کا پہلا دن خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لئیے منعقد کیا گیا۔ ہوا میں پھولوں اور لذیذ بلوچی پکوانوں کی خوشبوئیں گھل رہی تھیں، رنگوں کا ایک سمندر بکھرا ہوا تھا اور ہر طرف مسکراہٹیں اور خوشی کی لہریں نظر آ رہی تھیں۔ اس سے قبل سابق ایجوکیشن آفیسر غلام فاطمہ نے فیتہ کاٹ کر فیسٹیول کا افتتاح کیا۔کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ اور کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیر نگرانی منعقدہ اس فیسٹیول میں تعلیم، ثقافت اور روایات کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملا۔ فیسٹیول میں علم، آے آئی جدیدیت فنون لطیفہ اور تفریحی سرگرمیوں کی بھرپور رونق ہے۔ مختلف شعبہ جات کے افسران نے فیسٹیول کا دورہ کیا اور شرکاء کے ساتھ خوشگوار لمحات گزارے۔فیسٹیول میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کے ہمراہ ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے چیئرمین ایڈووکیٹ بشیر احمد جتک، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ، ایم ایس خضدار ہسپتال ڈاکٹر سرمد سعید، ایگزیکٹو آفیسر انجینئر سلیم رزاق عمرانی، روبینہ کریم، ظاہر کریم اور دیگر معززین موجود تھے۔ انہوں نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور بچوں و خواتین کے ساتھ مل کر فیسٹیول کا لطف اٹھایا۔خضدار میں منعقدہ دو روزہ جھالاوان سمر فیسٹیول تعلیم، ثقافت اور روایات کا حسین امتزاج نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف خوبصورت بک اسٹالز ہیں جہاں نئی کہانیوں کی کتابیں، بچوں کی رنگین کہانیاں اور پرانی ادبی کتابیں سب کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ دوسری طرف روایتی بلوچی لذیذ ڈشز کے اسٹالز سجے ہوئے ہیں۔ کہیں رنگ برنگے پھولوں اور ہینڈی کرافٹس کے اسٹالز تو کہیں روایتی بلوچ میوزکل سازوں کی دھنیں فضا کو مسحور کر رہی ہیں۔ بچے ماں کے ہاتھ تھامے مختلف اسٹالز کے گرد گھوم رہے ہیں، طالبات روایتی لباس میں خوش ہیں اور شرکاء کی آنکھوں میں خوشی کی چمک صاف نظر آ رہی ہے۔بلدیہ پارک خضدار میں لگ بھگ 50 اسٹالز سجائے گئے ہیں۔ چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ کی تعریف کی جا رہی ہے کہ انہوں نے بلدیہ پارک کی صفائی ستھرائی اور خوبصورتی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے چیئرمین محمد آصف جماعتیں اور وائس چیئرمین نے بھی تعاون کیا۔ فیسٹیول میں پولیس نے سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کررکھی ہے جب کہ خواتین پولیس اہلکاروں نے بھی سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیئیے۔ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی نے کہا: یہ فیسٹیول نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے اور صحت مند تفریح کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔ امن و امان کے ساتھ ساتھ ثقافتی سرگرمیاں بھی ہماری ترجیح ہیں۔”ایڈووکیٹ بشیر احمد جتکچیئرمین آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی نے کہا کہ شہریوں اور انتظامیہ کے تعاون سے ایسے پروگرامز خضدار کی مثبت تصویر کو اجاگر کر رہے ہیں۔ آج یہاں بچیوں کی خوشی دیدنی ہے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ ایگزیکٹو آفیسر محکمہ مواصلات و تعمیرات انجینئر سلیم رزاق نے کہا کہ فیسٹیول میں بک اسٹالز اور تخلیقی سرگرمیاں بچوں اور طالب علموں کے تعلیمی معیار کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ایم ایس خضدار ہسپتال ڈاکٹر سرمد سعیدنے کہا کہ صحت مند تفریح معاشرے کی فلاح کے لیے ضروری ہے۔ یہ فیسٹیول لوگوں میں خوشی اور مثبت سوچ پیدا کر رہا ہے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ روبینہ کریم اور ظاہر کریم کی محنت اور لگن کو خاص طور پر سراہا جا رہا ہے۔ ان دونوں نے فیسٹیول کے کامیاب انعقاد میں دن رات ایک کر کے بھرپور حصہ ڈالا، جس کی وجہ سے پروگرام میں بچوں، طالبات اور خواتین کی بڑی تعداد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔یہ دو روزہ فیسٹیول خضدار کے نوجوانوں، خواتین اور بچوں کے لیے ایک یادگار موقع ثابت ہو رہا ہے جو نہ صرف تفریح فراہم کر رہا ہے بلکہ مقامی ثقافت، تعلیم اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی فروغ دے رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر3916/2026
خضدار 9 مئی: محکمہ سماجی بہبود حکومت بلوچستان کے سیکریٹری عصمت اللہ قریش اور ڈائریکٹر لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن بلوچستان جانانا مرزا خان کی ہدایات کی روشنی میں، ڈسٹرکٹ سپروائزر لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن خضدار میڈم صبیحہ نے لیڈیز پارک خضدار میں منعقدہ جھالاوان سمر فیسٹیول 2026 میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے ایک معلوماتی و آگاہی اسٹال قائم کیا، جس کا مقصد عوام میں خواندگی اور غیر رسمی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا، بالخصوص ایسے بچوں، اسکول ڈراپ آؤٹ طلبہ، نوجوانوں اور بالغ افراد کے لیے جو مالی، سماجی یا جغرافیائی وجوہات کی بنا پر تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں؛ اس موقع پر ڈسٹرکٹ سپروائزر نے ڈپٹی کمشنر خضدار، معزز مہمانان، تعلیمی اسٹیک ہولڈرز اور پرنٹ، الیکٹرانک و سوشل میڈیا نمائندگان کو ضلع میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بڑی تعداد میں بچے اسکول سے باہر ہیں جنہیں غیر رسمی تعلیمی مراکز اور لٹریسی پروگرامز کے ذریعے دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کیا جا رہا ہے، جبکہ اسٹال پر فراہم کی جانے والی سہولیات میں بنیادی تعلیم، خواندگی و تحریر کی مہارتیں، لائف اسکلز اور مزید تعلیمی مواقع سے متعلق آگاہی بھی شامل تھی؛ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مرد و خواتین دونوں کو بلا امتیاز یکساں تعلیمی مواقع فراہم کر کے انہیں خودمختار بنایا جائے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں، فیسٹیول میں اس اقدام کو عوام اور میڈیا کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی جس سے“تعلیم سب کے لیے”کے پیغام کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور متعلقہ محکمے کے درمیان باہمی روابط مزید مضبوط ہوئے، جو حکومت بلوچستان کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے کہ تعلیم کے ذریعے کمیونٹیز کو بااختیار بنا کر ہر شہری کو روشن مستقبل کی جانب گامزن کیا جائے۔

خبرنامہ نمبر3917/2026
کوئٹہ 09 مئی: اسسٹنٹ کمشنر شاہان یار محمد نے کوئٹہ میں منعقدہ ایک خصوصی آگاہی و رہنمائی سیشن کے دوران طلباء کو مقابلہ جاتی امتحانات کے حوالے سے جامع اور مؤثر رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے تیاری کے جدید تقاضوں، مؤثر نصابی حکمتِ عملی، وقت کے بہترین استعمال اور امتحانی دباؤ سے نمٹنے کے طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس موقع پر انہوں نے طلباء کو ہدایت کی کہ وہ منظم منصوبہ بندی، باقاعدہ مطالعہ، معیاری کتب کے انتخاب اور تسلسل کے ساتھ محنت کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کے لیے صرف ذہانت کافی نہیں بلکہ مستقل مزاجی، خود اعتمادی اور درست سمت میں رہنمائی نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس موقع پر طلباء کو مختلف امتحانات کی نوعیت، سلیبس کی بہتر سمجھ، تحریری و انٹرویو مراحل کی تیاری اور عام غلطیوں سے بچنے کے حوالے سے بھی مفید نکات فراہم کیے گئے۔ سوال و جواب کے سیشن میں طلباء نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اپنے تعلیمی و کیریئر سے متعلق سوالات کے تسلی بخش جوابات حاصل کیے۔اس سیشن میں سیکشن آفیسر ڈاکٹر شعیب نے بھی خصوصی شرکت کی اور طلباء کی رہنمائی کرتے ہوئے نہایت مدلل اور بصیرت افروز گفتگو کی۔ انہوں نے اپنی علمی و پیشہ ورانہ مہارت سے طلباء کو نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ انہیں عملی زندگی میں کامیابی کے لیے واضح سمت بھی فراہم کی۔ ان کی رہنمائی کو شرکاء نے بے حد سراہا اور اسے اپنے لیے انتہائی مفید قرار دیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ سیشن کے اختتام پر شرکاء نے اس آگاہی پروگرام کو انتہائی سودمند قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے رہنمائی سیشنز کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔

خبرنامہ نمبر3918/2026
گوادر: ضلعی انتظامیہ گوادر کی تعاون سے ڈسٹرکٹ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ گوادر کی جانب سے“معرکہ? حق”کے سلسلے میں نوجوانوں میں اتحاد، مثبت سرگرمیوں اور صحت مند کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک شاندار کرکٹ میچ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ میچ ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر گوادر نجیب بشام کی نگرانی میں ینگ اسپورٹس کرکٹ کلب گوادر اور اسلم کٹّے کرکٹ اکیڈمی کے درمیان کھیلا گیا۔میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے شاندار کھیل، نظم و ضبط اور بہترین اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کیا، جبکہ شائقینِ کرکٹ کی بڑی تعداد نے بھی بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ ینگ اسپورٹس کرکٹ کلب گوادر نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 144 رنز کا ہدف دیا، جس کے تعاقب میں اسلم کٹّے کرکٹ اکیڈمی کی ٹیم 129 رنز بنا سکی۔ اس طرح ینگ اسپورٹس کرکٹ کلب گوادر نے 15 رنز سے کامیابی اپنے نام کر لی۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ کھیل نوجوانوں کی مثبت تربیت، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ“معرکہ حق”کے سلسلے میں اس نوعیت کی سرگرمیوں کا مقصد نوجوان نسل میں حب الوطنی، اتحاد اور صحت مند معاشرتی اقدار کو فروغ دینا ہے تاکہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لا سکیں۔ضلعی انتظامیہ گوادر اور ڈسٹرکٹ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ نوجوانوں کو کھیلوں اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے مستقبل میں بھی اس طرح کے پروگرامز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر3919/2026
موسیٰ خیل09 مئی:ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کی سربراہی میں فری میڈیکل کیمپ Al Hijra Alumni Pakistan کا انعقاد راڑہ شم میں کیا گیا۔ اس میڈیکل کیمپ میں بڑی تعداد میں مریضوں کا معائنہ کیا گیا جہاں انہیں مفت طبی سہولیات اور ادویات فراہم کی گئیں ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے خود مریضوں کا تفصیلی معائنہ کیا، ان کے مسائل سنے اور بہترین طبی مشورے فراہم کیے۔ اس موقع پر مریضوں کے مختلف ٹیسٹ، چیک اپ اور علاج کی سہولیات بھی مہیا کی گئیں تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو معیاری طبی خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے کہا کہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت کی اولین ترجیح ہے، اور ایسے فری میڈیکل کیمپس کے انعقاد کا مقصد غریب اور مستحق افراد تک صحت کی سہولیات پہنچانا ہے علاقہ مکینوں نے فری میڈیکل کیمپ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کا شکریہ ادا کیا

خبرنامہ نمبر3920/2026
گوادر/کراچی: چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کی کراچی میں اہم کاروباری، لاجسٹک اور شپنگ شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، جن کا مقصد گوادر پورٹ کو خطے کے ایک فعال تجارتی، ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر مزید مستحکم بنانا ہے۔ اسی سلسلے میں چیئرمین گوادر پورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل فریٹ فارورڈرز ایسوسی ایشن (PIFFA) کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا جہاں کاروباری برادری، لاجسٹک انڈسٹری اور شپنگ سیکٹر کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں پی آئی ایف ایف اے کے کابینہ اراکین، سابق عہدیداران، گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان، شپنگ کمپنیوں، فریٹ فارورڈرز، سرمایہ کاروں اور گوادر پورٹ حکام نے شرکت کی۔ شرکاء نے گوادر پورٹ کی تجارتی استعداد، ٹرانزٹ ٹریڈ، ٹرانس شپمنٹ، فیڈر سروسز اور وسط ایشیائی ریاستوں تک ایران کے راستے تجارتی رسائی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ پاکستان کی معاشی ترقی، علاقائی رابطہ کاری اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور متعلقہ ادارے گوادر پورٹ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فعال بندرگاہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں تاکہ اسے عالمی تجارتی روٹس سے مؤثر انداز میں منسلک کیا جا سکے۔اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ گوادر پورٹ کو کامیاب بنانے کے لیے مربوط ٹرانسپورٹ نظام، جدید کنٹینر ٹرمینلز اور مؤثر فیڈر سروسز ناگزیر ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ دنیا کی اکثریتی کمرشل تجارت کنٹینرز کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے، لہٰذا گوادر پورٹ کو بھی جدید شپنگ اور لاجسٹک سہولیات سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ گوادر پورٹ مختلف اقسام کے کارگو ہینڈل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور مستقبل میں یہ خطے کی بڑی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے۔سابق صدر گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فیصل دشتی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ سینکڑوں ایل پی جی ٹینکرز اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل تجارتی ٹریفک پرامن انداز میں گوادر سے ملک کے مختلف حصوں کی جانب روانہ ہو رہی ہے، جبکہ گزشتہ برس گوادر بارڈر سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوا، جو خطے میں جاری مضبوط تجارتی سرگرمیوں کا واضح ثبوت ہے۔اجلاس میں چینی شپنگ کمپنی“کوسکو”سمیت عالمی شپنگ لائنز کو گوادر پورٹ کی جانب راغب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ بندرگاہ کی بین الاقوامی کنیکٹیویٹی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ شرکاء نے کہا کہ اگر گوادر سے قومی اور مقامی کارگو کی ترسیل بلا تعطل جاری رہی تو عالمی شپنگ کمپنیاں اور فریٹ فارورڈرز قدرتی طور پر گوادر کا رخ کریں گی۔اجلاس میں ایران کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں تک نئے تجارتی روٹس کھولنے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس اقدام سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا، افغانستان پر انحصار کم ہوگا اور گوادر پورٹ خطے کی ٹرانزٹ ٹریڈ کا مرکزی گیٹ وے بن کر ابھرے گا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ اس نئے روٹ کے ذریعے ابتدائی شپمنٹس کامیابی کے ساتھ روانہ بھی کی جا چکی ہیں۔شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گوادر پورٹ پر فیڈر سروسز کو سبسڈی، چارجز میں خصوصی رعایت اور بندرگاہ کو باضابطہ طور پر ٹرانس شپمنٹ پورٹ کا درجہ دیا جائے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور شپنگ آپریشنز کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس میں 30 روزہ فری اسٹوریج سہولت کو بھی ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے ایک اہم معاشی سہولت قرار دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوادر پورٹ کی کامیابی دراصل پاکستان کی معاشی خوشحالی، علاقائی رابطہ کاری اور تجارتی استحکام سے جڑی ہوئی ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے نجی شعبہ، لاجسٹک انڈسٹری اور کاروباری برادری حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر3921/2026
قلعہ سیف اللہ۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے سلسلے میں یومِ تشکر کے حوالے سے ایک پروقار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں انتظامی افسران، مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس کے نمائندوں، محکمہ تعلیم کے افسران و اساتذہ کرام، پی ایچ ای، سی اینڈ ڈبلیو، پی پی ایچ آئی، ایگریکلچر انجینئرنگ سمیت دیگر سرکاری محکموں کے اہلکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے قومی یکجہتی، امن اور ملکی سلامتی کے حق میں نعرے لگائے جبکہ ملک و قوم کے دفاع کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص ملک کی سلامتی، امن و استحکام اور دفاعی قوت کا مظہر ہے، جس نے دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔افسران نے کہا کہ یومِ تشکر منانے کا مقصد ملک کی بہادر افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ مقررین نے آپریشن کی کامیابی کو پاکستان اور دفاعی اداروں کی عظیم فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملکی امن و استحکام کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے۔آخر میں ملکی سلامتی، ترقی، امن اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

خبرنامہ نمبر3922/2026
کوئٹہ 09 مئی: اسسٹنٹ کمشنر شاہان یار محمد نے کوئٹہ میں منعقدہ ایک خصوصی آگاہی و رہنمائی سیشن کے دوران طلباء کو مقابلہ جاتی امتحانات کے حوالے سے جامع اور مؤثر رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے تیاری کے جدید تقاضوں، مؤثر نصابی حکمتِ عملی، وقت کے بہترین استعمال اور امتحانی دباؤ سے نمٹنے کے طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس موقع پر انہوں نے طلباء کو ہدایت کی کہ وہ منظم منصوبہ بندی، باقاعدہ مطالعہ، معیاری کتب کے انتخاب اور تسلسل کے ساتھ محنت کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کے لیے صرف ذہانت کافی نہیں بلکہ مستقل مزاجی، خود اعتمادی اور درست سمت میں رہنمائی نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس موقع پر طلباء کو مختلف امتحانات کی نوعیت، سلیبس کی بہتر سمجھ، تحریری و انٹرویو مراحل کی تیاری اور عام غلطیوں سے بچنے کے حوالے سے بھی مفید نکات فراہم کیے گئے۔ سوال و جواب کے سیشن میں طلباء نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اپنے تعلیمی و کیریئر سے متعلق سوالات کے تسلی بخش جوابات حاصل کیے۔اس سیشن میں سیکشن آفیسر ڈاکٹر شعیب نے بھی خصوصی شرکت کی اور طلباء کی رہنمائی کرتے ہوئے نہایت مدلل اور بصیرت افروز گفتگو کی۔ انہوں نے اپنی علمی و پیشہ ورانہ مہارت سے طلباء کو نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ انہیں عملی زندگی میں کامیابی کے لیے واضح سمت بھی فراہم کی۔ ان کی رہنمائی کو شرکاء نے بے حد سراہا اور اسے اپنے لیے انتہائی مفید قرار دیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ سیشن کے اختتام پر شرکاء نے اس آگاہی پروگرام کو انتہائی سودمند قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے رہنمائی سیشنز کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔

خبرنامہ نمبر 3823/2026
کوئٹہ 9 مئی: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں معرکہ حق کی مناسبت سے منعقدہ جشن پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں معرکہ حق پاکستان کی شاندار تاریخی فتح کا جشن منانے کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاتھ میں ایک ایسا مشعل ہے جو ہمارے مستقبل کی راہیں بھی روشن کریگا۔ پاکستان کی شاندار جیت کا جشن درحقیقت ہماری قومی یکجہتی اور افواج پاکستان کے غیرمتزلزل جذبے کو مزید استحکام بخشتا ہے۔ یہ فتح پورے پاکستان کی پے۔ ہم ایک جیتی ہوئی جنگ کا جشن منا نے کے ساتھ ساتھ ایک متحد، پرعزم اور آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کی لامحدود صلاحیت کا جشن منا رہے ہیں۔ بلاشک و شبہ ہم نے تاریخ رقم کی ہے۔ ہم ایک ایسے ملک بھارت سے نبرد آزما تھے جو فوج میں، ہتھیاروں میں اور افرادی قوت میں ہم سے کئی گنا بڑا تھا۔ پھر بھی یہ ہماری فوج کی دلیری، حکمت عملی اور ثابت قدمی کے سامنے نہیں ٹھہر سکا۔ یہ واقعی ایک متحد اور اُبھرتی ہوئی قوم کی طاقت اور حکمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی، کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، لیڈر آف دی اپوزیشن میر یونس زہری، اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ر عبد الخالق اچکزئی اور صوبائی وزراء و اراکین اسمبلی سمیت اعلیٰ سول و ملٹری آفیسران موجود تھے۔ واضح رہے کہ معرکہ حق کی فتح کی مناسبت سے منعقدہ جشن کے پروگرام میں پچاس سے زائد ممالک کے مہمانان اور خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تقریباً آدھی دنیا دیکھی ہے لیکن جو عزت ہمیں اور آپ کو اپنے ملک پاکستان میں ملتی ہے وه کہیں بھی نہیں ملے گی۔ آج بھی ہمارا عزم اٹل ہے اور ہمارا مستقبل بہت روشن ہے لیکن دشمن نے ذلت آمیز شکست کے بعد ایک اور چال چلی ہے، مختلف سازشوں پر اتر آیا ہے۔ ہماری قومی یکجہتی کو اپنے پراکسیز کے ذریعے خراب کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ واضح رہے کہ ہم دشمن کے ہر قسم کے پروپیگنڈوں اور سازشوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ہم نے بھارت کو میدان جنگ میں ادھر بھی شکست دی اور ہم خدا کے فضل و کرم سے ان پراکسیوں کو ادھر بھی شکست دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے بالخصوص ہماری دلیر افواج درپیش اندرونی چیلنجوں پر بھی بآسانی قابو پالیں گے۔ اس فتح کا سہرا پوری طرح ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر ہے جنہوں نے پورے پاکستان کو فخر کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں ہر فتح جو ہم حاصل کرتے ہیں۔ ہماری سالمیت کو مضبوط کرتا ہے اور ہمیں آگے بڑھاتا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ، ہمیں اپنے نوجوانوں میں حب الوطنی کا یہ جذبہ ابھارنا ہوگا تاکہ ہماری فوج کی جرات اور شجاعت انہیں محب وطن پاکستانی بنانے میں رہنمائی فراہم کریں۔ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے جسطرح پاکستان امریکہ اور ایران کیلئے امن اور مذاکرت بن گیا اسی طرح اب پاکستان شاندار میگا پروجیکٹ سی پیک کی تکمیل کے بعد دنیا کے معاشی جمود کا خاتمہ کر کے پورے خطے میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا عالمی مرکز بنے گا۔ آئیں مل کر اٹھیں، ایک دوسرے کے ہاتھ تھامیں اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنائیں۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی اور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے پاک آرمی کی جانب سے لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا اور جنگی ساز و سامان سے متعلق بریفینگ دی۔ گورنر بلوچستان نے معرکہ حق کی فتح کے حوالے سے شاندار پروگرام کے انعقاد پر وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی کو مبارکباد دی ۔

خبرنامہ نمبر 3824/2026
Recast
کوئٹہ: محکمہ کھیل حکومت بلوچستان کے زیرِ اہتمام “معرکۂ حق” تقریبات کے سلسلے میں قیوم پاپا فٹبال گراؤنڈ مری آباد میں ایک شاندار نمائشی فٹبال میچ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزارہ کمبائنڈ ایف سی کوئٹہ نے سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلے کے بعد مسلم ایف سی چمن کو شکست دے کر میچ اپنے نام کر لیا۔سیکرٹری اسپورٹس و امورِ نوجوانان بلوچستان درا بلوچ نے کہا ہے کہ کھیلوں کے مثبت مقابلے نوجوانوں میں نظم و ضبط، اتحاد، برداشت اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ حکومت بلوچستان صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ کھیل حکومت بلوچستان کے زیرِ اہتمام “معرکۂ حق” تقریبات کے سلسلے میں قیوم پاپا فٹبال گراؤنڈ مری آباد میں منعقدہ نمائشی فٹبال میچ کے موقع پر بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔نمائشی اور سنسنی خیز فٹبال میچ مسلم ایف سی چمن اور ہزارہ کمبائنڈ ایف سی کوئٹہ کے درمیان کھیلا گیا، جس میں ہزارہ کمبائنڈ ایف سی کوئٹہ نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر لی۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے اعلیٰ کھیل کا مظاہرہ کیا، جبکہ شائقینِ فٹبال کی بڑی تعداد نے گراؤنڈ میں موجود رہ کر کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔سیکرٹری اسپورٹس درا بلوچ نے نمائشی میچ کے کامیاب انعقاد پر محکمہ کھیل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی سرگرمیاں نہ صرف نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرتی ہیں بلکہ صوبے میں کھیلوں کے کلچر کو بھی فروغ دیتی ہیں۔تقریب میں ڈپٹی ڈائریکر اسپورٹس آصف فاروقی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسپورٹس آصف لانگو بھی موجود تھے۔ اختتام پر مہمانِ خصوصی نے کامیاب ٹیم کے کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *