خبرنامہ نمبر3604/2026
دکی:4,مئی ۔ڈپٹی کمشنردکی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے دکی بازار کا دورہ کرتے ہوئے مختلف کریانہ اسٹورز، سبزی و فروٹ کی دکانوں، ہوٹلوں اور بیکریوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ یہ دورہ عوام کو معیاری اور محفوظ اشیائے خورد و نوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جاری جامع کریک ڈاون کا حصہ تھا۔معائنے کے دوران کئی دکانوں پر صفائی کے ناقص انتظامات، اشیاءکی غلط ذخیرہ اندوزی اور ایکسپائر شدہ اشیائ کی موجودگی پائی گئی، جس پراسسٹنٹ کمشنر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بھاری جرمانے عائد کیے جبکہ بڑی مقدار میں زائد المعیاد اور مضر صحت اشیاء ضبط کرکے تلف کرنے کے احکامات جاری کیے۔ بار بار خلاف ورزی اور سنگین غفلت برتنے پر بعض دکانوں کو سیل بھی کر دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ صفائی کے اصولوں پر عمل کریں، اشیاء کی معیاد کا خاص خیال رکھیں اور سرکاری نرخنامے کے مطابق قیمتیں وصول کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اچانک چھاپوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔یہ اقدام نہ صرف دکانداروں کے لیے ایک سخت وارننگ ہے بلکہ عوام کے لیے ایک مثبت پیغام بھی ہے کہ ضلعی انتظامیہ ان کی صحت اور حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3605/2026
نصیرآبا د 4مئی ایگزیکٹو انجینئر مواصلات و تعمیرات نصیرآباد عبدالرحمان خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، صوبائی چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی ہدایات اور صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق خان عمرانی کی خصوصی دلچسپی کے تحت ضلع نصیرآباد خصوصاً ڈیرہ مراد جمالی میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی، شفافیت اور اعلیٰ معیار کے مطابق کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے انجینئرز اور عملہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ جاری منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچا کر عوام کو جدید اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ اور سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر خان کی انتھک محنت اور موثر پالیسیوں کے باعث محکمہ تعمیرات کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس سے نہ صرف عوام بلکہ منتخب نمائندوں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ عبد الرحمان خان کاکڑ نے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں جاری ترقیاتی منصوبے بی اینڈ آر کے انجینئرز اور فیلڈ اسٹاف کی شبانہ روز کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن کی بدولت ترقی کا سفر تسلسل سے آگے بڑھ رہا ہے انہوں نے بتایا کہ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق خان عمرانی کی کاوشوں سے ڈیرہ مراد جمالی ماسٹر پلان کے تحت ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں شرقی و غربی سائیڈز پر ترقیاتی منصوبوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ ماسٹر پلان کے تحت منی بائی پاس، شہید میر مراد ابڑو روڈ، الحسینی چوک اور میر محمد صادق عمرانی روڈ سمیت اہم شاہراہوں کو جدید خطوط پر ازسرنو ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جبکہ کشادہ سڑکوں، بہتر آمدورفت اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شہری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے واٹر سپلائی اور سیوریج سسٹم کے منصوبوں پر بھی بھرپور پیش رفت جاری ہے۔ واٹر سپلائی اسکیم کے تحت ایک لاکھ گیلن گنجائش کا اوور ہیڈ واٹر ٹینک اور پچھتر ہزار گیلن گنجائش کا زیر زمین ٹینک تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو صاف پانی کی مستقل فراہمی یقینی بنائی جا سکے، جبکہ جدید سیوریج نظام کے قیام سے نکاسی آب کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی دوست پالیسیوں کے تحت نصیرآباد کو ایک جدید، خوبصورت اور سہولیات سے آراستہ ضلع بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر3606/2026
لورالائی4مئی کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کی خصوصی ہدایت پر شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید موثر اور فعال بنانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری ہیں۔ میونسپل کمیٹی کا عملہ مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر صفائی، کچرا اٹھانے اور نکاسی آب کے مسائل کے حل کے لیے متحرک ہے تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔اس سلسلے میں کمپلینٹ زون سلیم داد کی نشاندہی پر ڈپٹی کمشنر آفس کے ساتھ واقع بڑے نالے کی صفائی کا کام مکمل کر لیا گیا۔ نالے میں جمع شدہ کچرا اور مٹی نکالنے سے نکاسی آب کا نظام بہتر ہوا ہے، جس کے باعث پانی کی روانی بحال ہوئی اور اردگرد کے علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح کمپلینٹ زون ٹیچنگ ہسپتال میں بھی صفائی کی خصوصی مہم کے تحت کچرے کو بروقت اٹھا کر ٹھکانے لگایا گیا۔ میونسپل کمیٹی کے عملے نے موقع پر موجود رہ کر صفائی کے معیار کو یقینی بنایا تاکہ مریضوں، تیمارداروں اور عملے کو صاف اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔علاوہ ازیں شہر کے مختلف علاقوں میں کچرا اٹھانے، بند نالیوں کو کھولنے، گلی محلوں میں جھاڑ پھونک اور صفائی کے دیگر امور تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ صفائی عملہ صبح سویرے سے لے کر شام تک مختلف زونز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے جبکہ سپروائزری اسٹاف بھی نگرانی کے عمل کو یقینی بنا رہا ہے۔حکام کے مطابق شہریوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے نہ صرف صفائی کے عمل کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے بلکہ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کے عمل میں تعاون کریں، کچرا مقررہ مقامات پر ڈالیں اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ایک صحت مند اور خوشگوار معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3607/2026
تربت4مئی چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ کی زیر صدارت نو تشکیل شدہ ضلع تمپ کے انتظامی امور کو موثر انداز میں چلانے کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس ڈسٹرکٹ کونسل ہال تربت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تمپ شیہک حیات، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ، ڈی ایچ او تمپ ڈاکٹر نوروز یعقوب، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تمپ منظور بلوچ، ڈسٹرکٹ منیجر تمپ حاجی خان، ڈی ایچ او تربت ڈاکٹر عبدالروف بلوچ سمیت ضلع کیچ کے مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد نو تشکیل شدہ ضلع تمپ کے انتظامی ڈھانچے کو موثر اور منظم بنانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع تمپ میں مختلف آسامیوں کو پر کرنے کے لیے ضلع کیچ کی انتظامیہ کے ساتھ باہمی مشاورت انتہائی اہم ہے۔اجلاس کے دوران ضلع تمپ کے انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے نئی آسامیوں کی تخلیق، نیز ضلع کیچ کے مختلف محکموں میں موجود فاضل عملے کی ضلع تمپ میں تعیناتی کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں ضلع کیچ کے مختلف محکموں میں تعینات ملازمین کی فہرستوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں خالی اور پر شدہ آسامیوں کی صورتحال کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔مزید برآں، ضلع تمپ میں نوتعینات عملے کی مرحلہ وار منتقلی (شفٹنگ) کو یقینی بنانے کے لیے ایک موثر حکمت عملی وضع کی گئی تاکہ عملے کی منتقلی کا عمل منظم اور احسن انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر3608/2026
لورالائی 4 مئی ۔ ضلعی انتظامیہ نے ماربل فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات کے فقدان پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے فیکٹری مالکان کو آخری وارننگ جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم کی زیر صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں ماربل فیکٹری ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی، جہاں اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ بھاری گاڑیوں، بالخصوص ٹرکوں پر حفاظتی چین (زنجیر) لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ حادثات کی روک تھام اور قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ ایسوسی ایشن کے لیے آخری وارننگ ہے، اور آئندہ کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا حکومتی احکامات کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ فیکٹریوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے، سیلنگ اور لائسنس کی منسوخی شامل ہو سکتی ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے اور تمام صنعتی یونٹس کو حفاظتی اصولوں کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔ لورالائی میں غیر معیاری ماربل فیکٹریوں کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر میں قائم غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ماربل فیکٹریوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاون شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ اجلاس میں یہ طے پایا کہ حفاظتی اصولوں اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ متعدد فیکٹریاں نہ صرف حفاظتی اقدامات سے محروم ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا بھی باعث بن رہی ہیں، جس سے مقامی آبادی کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مختلف علاقوں میں فیکٹریوں کا معائنہ کریں گی۔حکام نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3609/2026
کوئٹہ 4مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت انتظامی آفیسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں شہر میں جاری پرائس کنٹرول مہم اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پرائس کنٹرول، تندور مافیا، دودھ فروشوں، گوشت فروشوں اور ممنوعہ پلاسٹک تھیلوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز اور موثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قسم کی گرانفروشی یا غیر قانونی منافع خوری کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق، اسسٹنٹ کمشنر (سٹی)، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک، اسسٹنٹ کمشنر سریاب اور اسسٹنٹ کمشنر صدر نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے تمام افسران کو نئے ٹاسک سونپتے ہوئے ہدایت کی کہ فیلڈ میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3610/2026
کوئٹہ، 4 مئی: وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر شہر کے مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول کے تحت تندوروں اور گوشت فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں اس موقع ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پرنس روڈ، گوالمنڈی چوک، قلندر مقام، نواں کلی، ائیرپورٹ روڈ اور عالمو چوک میں سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے خصوصی چیکنگ کی گئی۔اور پرائس کنٹرول کی خلاف ورزی پر 20افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا گیا تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) کوئٹہ محمد امیر حمزہ کی نگرانی میں کارروائیوں کے دوران تندوروں اور گوشت کی دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی پر 14 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ متعدد دکانداروں کو سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئیں۔دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی نے نواں کلی، ائیرپورٹ روڈ اور عالمو چوک کے علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی اور دیگر بے ضابطگیوں پر مزید 6 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کیا جبکہ 3 دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوامی شکایات کے ازالے اور اشیائے ضروریہ کی مقررہ قیمتوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے شہر بھر میں بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3611/2026
کوئٹہ، 04 مئی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ چیف سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد اضافی مراعات سے متعلق نوٹیفکیشن سابق دور حکومت میں جاری کیا گیا تھا جبکہ اس حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی اسی وقت کی حکومت نے دائر کی تھی موجودہ صوبائی حکومت اس نوٹیفکیشن سے اصولی طور پر اتفاق نہیں رکھتی انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور پوری صوبائی حکومت کا موقف بالکل واضح ہے کہ عوامی وسائل کی ایک ایک پائی عوام کی امانت ہے اور اسے صرف عوامی فلاح و بہبود پر ہی خرچ کیا جانا چاہیے شاہد رند نے کہا کہ وفاقی سول سروسز میں مراعات کا ایک طے شدہ مالی چارٹ موجود ہے جبکہ بلوچستان میں بھی سرکاری عہدوں کے لیے باقاعدہ مراعاتی شیڈول نافذ ہے موجودہ صوبائی حکومت کسی بھی ایسی اضافی مراعات کی حامی نہیں ہے جس سے سرکاری خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نہ تو اس نوٹیفکیشن کا دفاع کیا ہے اور نہ ہی کسی مرحلے پر اس کے حق میں اپیل دائر کی ہے حکومت کا موقف واضح اور اصولی ہے کہ سرکاری وسائل کا استعمال صرف عوامی مفاد اور ترقیاتی ترجیحات کے مطابق ہونا چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3612/2026
جعفرآباد 4مئی ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ جعفرآباد محمد کاظم لونی، ایگزیکٹو انجینئر بی اینڈ آر عرفان علی راجپوت، سب ڈویژنل آفیسر محمد صدیق زہری سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں بی ایس ڈی آئی فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری، مکمل شدہ اور زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے شعبوں میں منصوبوں کی پیش رفت، معیار اور درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف سیکٹرز میں ترقیاتی اسکیموں پر کام حکومتی ہدایات کے مطابق جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن اور احکامات کی روشنی میں ضلع جعفرآباد میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیاری تعمیر کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، کیونکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبے عوام کی امانت ہیں، جن کی شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اس لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ تمام منصوبوں کی کڑی نگرانی، مسلسل مانیٹرنگ اور گاہے بگاہے جائزہ لیتی رہے گی تاکہ جاری ترقیاتی عمل کو مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچا کر عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جعفرآباد میں ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ حکومتی وڑن کے مطابق پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3613/2026
کو ئٹہ 4مئی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے صحت عامہ سے متعلق اصلاحاتی وژن کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کوئٹہ متحرک ہے۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) امیر حمزہ نے شہید بے نظیر بھٹو جنرل ہسپتال مری آباد کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ اس دورے کے موقع پر ہسپتال کے آر ایم او ڈاکٹر معیز نے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ کو ہسپتال کے مجموعی انتظامی و طبی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مریضوں کی یومیہ آمد، ادویات کی دستیابی، طبی آلات، مختلف شعبہ جات کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے متعلق آگاہ کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) کوئٹہ امیر حمزہ نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا جن میں میڈیسن وارڈ، ایمرجنسی یونٹ، لیبارٹریز، ویکسی نیشن سینٹر اور آپریشن تھیٹرز شامل تھے۔انہوں نے مریضوں سے ملاقات بھی کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ اس موقع پر صفائی ستھرائی، ادویات کے اسٹاک، طبی آلات کی فعالیت اور سٹاف کی موجودگی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور تمام ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور دیگر ملازمین اپنی حاضری اور ذمہ داریوں میں غفلت کا مظاہرہ نہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری، بروقت اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے صحت اصلاحات وژن کے تحت سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایسے دورے اور مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ شہریوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات میسر آسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3614/2026
کوئٹہ 4مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر مزاری نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ہمراہ کچلاک میں ہوٹلوں کے خلاف کریک ڈاون کیا۔ان کارروائی کے دوران غیر معیاری خوراک ،صفائی کے ناقص صورتحال اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر 4 ہوٹل سیل کر دیے گئے جبکہ 5 افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا اس دوران متعدد ہوٹل مالکان کو سخت وارننگ بھی جاری کی گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے سیل کیے گئے ہوٹلوں میں ابدالی ہوٹل، بٹ کڑائی، سلیم باچا ہوٹل اور شاہین ہوٹل شامل ہیں، جبکہ محفل ہوٹل کا گودام بھی سیل کر دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اس قسم کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی، اور کسی کو بھی قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3615/2026
گوادر/پسنی:4مئی ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر تحصیل پسنی کے علاقوں نلینٹ، کپر، کلانچ اور کلگ کے عوامی مسائل کے فوری اور موثر حل کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نلینٹ میں ایک جامع کھلی کچہری (اوپن کورٹ) کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) ظہور احمد بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی، پاک آرمی کے میجر علی رضا، ایس ڈی او بی اینڈ آر (بلڈنگ) جنید کاشانی، ایس ڈی او بی اینڈ آر (روڈ) عبدالسلام بلوچ، انجینئر بی اینڈ آر احسان بلوچ، نائب تحصیلدار عبدالرحمن بلوچ، سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر شریف میانداد، ، محکمہ ایجوکیشن کے ریاض احمد بلوچ ، چیئرمین یونین کونسل نلینٹ ظفر جان سمیت مختلف محکموں کے سول و عسکری نمائندوں نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی نوعیت اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ شرکاء کو آئندہ شروع ہونے والے بی ایس ڈی آئی فیز تھری کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) ظہور احمد بلوچ اور اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے ترقیاتی عمل کو مزید مو¿ثر اور عوام دوست بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی فیز تھری کے تحت کمیونٹی کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے گی، لہٰذا عوام اپنے علاقوں کی ضروریات کے مطابق قابلِ عمل تجاویز پیش کریں تاکہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم، صحت، سڑکوں، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اسکیمات کی بروقت نشاندہی اور شمولیت سے ترقیاتی عمل کو بہتر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے۔کھلی کچہری میں شہریوں نے اپنے مسائل اور تجاویز پیش کرتے ہوئے زرعی زمینوں کے بندات کی تعمیر کے لیے بلڈوزر گھنٹوں کی فراہمی، بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کی بہتری، اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی، قبرستانوں میں شیڈز کی تعمیر، پینے کے پانی کی پائپ لائنز اور اسٹوریج ٹینکس کی تنصیب، بجلی کے ٹرانسفارمرز کی مرمت، لائیو اسٹاک کے لیے ویٹرنری سینٹر کے قیام اور اسکولوں کی سولرائزیشن جیسے اہم مطالبات پیش کیے۔مزید برآں، کلانچ میں سول ڈسپنسری کی عمارت کی مرمت اور اسے بی ایچ یو میں اپ گریڈ کرنے، پی ٹی سی ایل لائنز کی بحالی اور منشیات جیسے ناسور کے خلاف موثر کریک ڈاون اور بھرپور آگاہی مہم چلانے پر بھی زور دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے افسران نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ پیش کیے گئے تمام مسائل اور تجاویز کو متعلقہ محکموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کچھ مسائل ضلعی انتظامیہ کے افسران اور لائن ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے موقع پر حل کر دیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3616/2026
مچھ، 4 مئی ۔: انسپکٹر آف مائنز مچھ قربان علی عمرانی کی قیادت میں کان کنوں کے لیے پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی و تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم پروگرام کا مقصد کان کنوں میں حفاظتی شعور کو فروغ دینا اور انہیں محفوظ انداز میں کام کرنے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ تربیتی سیشن میں انسپکٹر آف مائنز مچھ قربان علی عمرانی، جونیئر انسپکٹر آف مائنز غلام قادر مری اور الیکٹرک انسپکٹر آف مائنز عارف حسین عمرانی نے آگاہی فراہم کی۔ اس دوران کان کنوں کو کان کنی کے دوران درپیش خطرات، حفاظتی اصولوں، جدید حفاظتی آلات کے موثر استعمال اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔یہ پروگرام رضا خان کول کمپنی کی سائٹ پر، کمپنی کے تعاون سے منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں کان کنوں نے شرکت کی۔ شرکاءکو بنیادی حفاظتی نکات، احتیاطی تدابیر اور عالمی سطح پر اپنائے جانے والے معیارات سے بھی آگاہ کیا گیا تاکہ وہ اپنے کام کو زیادہ محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں انجام دے سکیں۔ اس موقع پر انسپکٹر آف مائنز قربان علی عمرانی نے رضا خان کول کمپنی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ کان کنوں کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کان مالکان، حکومتی اداروں اور مزدوروں کے درمیان موثر رابطہ اور باہمی تعاون ہی ایک محفوظ کام کے ماحول کی بنیاد رکھتا ہے۔ پروگرام کے دوران انسپکٹر آف مائنز قربان علی عمرانی نے رضا خان کول کمپنی میں ایک ایمرجنسی روم کا بھی افتتاح کیا، جس کا مقصد ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سہولیات کا قیام کان کنوں کی جانوں کے تحفظ میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا اور دیگر کمپنیوں کو بھی اس مثال کی پیروی کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حفاظتی قوانین اور اصولوں پر سنجیدگی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تو کان کنوں کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور بہتر کام کا ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر یکم مئی (یومِ مزدور) کی مناسبت سے کان کنوں کی محنت، عزم اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ مستقبل میں ایسے آگاہی پروگرامز کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا تاکہ کان کنوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Mach, May 4, 2026: Under the leadership of Inspector of Mines Mach, Qurban Ali Umrani, a one-day awareness and training program on occupational health and safety was organized for miners. The initiative aimed to promote a culture of safety among workers and equip them with practical knowledge to carry out their duties in a safer and more responsible manner.During the training session, Inspector of Mines Qurban Ali Umrani, Junior Inspector of Mines Ghulam Qadir Marri, and Electrical Inspector of Mines Arif Hussain Umrani shared valuable insights. They briefed the participants on workplace risks, essential safety protocols, the effective use of modern safety equipment, and ways to respond promptly in emergency situations.The program was held at the site of Raza Khan Coal Company, with the company’s support, and was attended by a large number of miners. Participants were guided on basic safety measures, precautionary practices, and internationally recognized standards to help improve safety at work.Speaking on the occasion, Inspector of Mines Qurban Ali Umrani appreciated the cooperation of Raza Khan Coal Company and emphasized that ensuring the safety of miners is a shared responsibility. He highlighted that strong coordination and a sense of responsibility among mine owners, government institutions, and workers are key to creating a safe working environment.On this occasion, he also inaugurated an emergency room at Raza Khan Coal Company. He stated that such a facility would play a vital role in providing immediate medical assistance during emergencies and would significantly contribute to protecting precious lives. He encouraged other companies to follow this positive example.He further added that strict adherence to safety laws and regulations can help ensure a secure, dignified, and improved working environment for miners.At the end of the program, tribute was paid to the hard work, dedication, and sacrifices of miners in connection with Labour Day (May 1). It was also reaffirmed that such awareness initiatives will continue in the future to further strengthen the safety and well-being of miners.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3617/2026
کوئٹہ، 4 مئی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ “معرکہ حق” محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی عزم، حوصلے اور اتحاد کی ایک روشن علامت ہے جس نے ثابت کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاع پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاک افواج نے دشمن کی جارحیت کا نہ صرف موثر اور بھرپور جواب دیا بلکہ اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور جرات کے ساتھ وطنِ عزیز کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف میدان جنگ کی نہیں بلکہ اس قوم کی جیت ہے جو ہر آزمائش میں یکجا ہو کر کھڑی ہوتی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ “معرکہ حق” اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان کا اصل سرمایہ اس کا اتحاد، اس کے اداروں کی مضبوطی اور عوام کا اپنے محافظوں پر غیر متزلزل اعتماد ہے انہوں نے کہا کہ شمالی علاقوں سے لے کر ساحلی پٹی تک پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہو کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں متحد رہی انہوں نے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں ان کی دانشمندانہ، متوازن اور موثر قیادت نے قومی اتحاد کو مزید مضبوط کیا اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنایا وزیر اعلیٰ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ اور بصیرت افروز عسکری قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف میدان جنگ میں دشمن کو موثر جواب دیا بلکہ قومی وقار اور دفاعی صلاحیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر یہ امن عزت، برابری اور خودمختاری کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو آزمائشوں سے نکھرا ہے اور قربانیوں سے مضبوط ہوا ہے انہوں نے کہا کہ “معرکہ حق” پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے اتحاد، عزم اور قربانی کا پیغام دیتا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی، استحکام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مضبوط اور متحد رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3622/2026
کوئٹہ 4مئی ۔ بلوچستان ریونیواتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ State Life Insurance Corporation of Pakistan کی جانب سے بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت ریٹرن فائلنگ اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی میں مسلسل عدم تعمیل دیکھنے میں آئی ہے، باوجود اس کے کہ اتھارٹی کی جانب سے متعدد نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ بی آر اے کے مطابق متعلقہ ادارے کو بارہا ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریاں بروقت پوری کرے، تاہم تاحال مکمل عملدرآمد سامنے نہیں آیا، جو کہ ٹیکس قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ریٹرنز جمع کرانے اور ٹیکس واجبات کی ادائیگی کو یقینی نہ بنایا گیا تو قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے، بینک اکاونٹس کی اٹیچمنٹ اور دیگر اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ بی آر اے نے تمام سروس فراہم کنندگان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کریں، بروقت ریٹرنز فائل کریں اور واجبات ادا کریں تاکہ قانونی پیچیدگیوں اور مالی نقصانات سے بچا جا سکے اور صوبہ بلوچستان کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر3623/2026
کوئٹہ 4 مئی: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اگر ہم پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی حقیقی ترقی اور تعلیمی معیار کی بلندی کیلئے شعوری کوششیں کر رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے بجٹ میں بیتحاشہ اضافہ کیا ہے اور بڑے مسائل عملی طور پر حل کر کے ثابت کیا تو اس ضمن میں ہم تمام وائس چانسلرز سے اب فوری ٹھوس نتائج اور اعلیٰ کارکردگی کی توقع بھی رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی سینیٹ کے اجلاسوں میں کیے گئے تمام فیصلوں پر فوری طور پر عملدرآمد اور کے ٹھوس نتائج اگلے اجلاس سے پہلے سامنے لانے پڑیں گے۔ اب ہماری توجہ جوابدہی اور ٹھوس پیشرفت پر ہے، اس بات کو یقینی بنانا کہ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ کوالٹی ایجوکیشن اور خدمات کی فراہمی سے مشروط کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار نے بیوٹمز یونیورسٹی کے 14 ویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ،، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنربلوچستان عبدالناصر دوتانی، پرووائس چانسلر بیوٹمز ڈاکٹر میروائس کاسی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نمایندہ ڈاکٹر ظہور بازئی سمیت تمام سینیٹ کے ممبران موجود تھے. بیوٹمز یونیورسٹی کے سینیٹ ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ زیر تعلیم اسٹوڈنٹس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کریں. ژوب کیمپس اور مسلم باغ کیمپس کی کارکردگی میں بہتری لائق تحسین ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی کیمپسز میں نئی تعیناتیوں کے دوران میرٹ کی پاسداری یقینی بنانا ضروری ہے. بیوٹمز یونیورسٹی کے چودھویں ویں اجلاس کے شرکاء کی سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں کئی نئے اہم فیصلے کیے گئے۔
خبر نامہ نمبر3624/2026
اسلام آباد04 مئی:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ اسلام آباد میں ان سے اہم ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان اور حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے صوبے میں امن و استحکام کے قیام، سیاسی ہم آہنگی کے فروغ اور مختلف عوامی و انتظامی امور پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر حالیہ دنوں میں مدارس کے حوالے سے پیدا ہونے والے بعض امور پر بھی بات چیت ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام مسائل کو باہمی افہام و تفہیم اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں پائیدار امن، برداشت اور مکالمے کی سیاست کو فروغ دینے کے لیے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ رابطے جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے مفاد میں سیاسی ہم آہنگی اور تعاون ناگزیر ہے ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ رابطوں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ابھرتے ہوئے مسئلے کو بروقت اور خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام کی صوبائی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے اس موقع پر مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا صلاح الدین ایوبی اور مولانا اسد محمود بھی موجود تھے۔
خبر نامہ نمبر2625/2026
کوئٹہ 4مئی:۔ڈائریکٹر جنرل بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اسلام آباد رومانہ گل کاکڑ اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جلال نے یہاں مفتی محمود میموریل ہسپتال میں قائم نشونما فسیلیٹیشن سینٹر کا دورہ کیا۔ انہوں نے مرکز میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا اور ادویات کے اسٹاک کو بھی چیک کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستحق خواتین اور بچوں کو بروقت اور معیاری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ڈائریکٹر جنرلز نے مرکز میں نظم و ضبط، صفائی ستھرائی اور سہولیات کے معیار کو سراہتے ہوئے عملے کی کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے ٹیم کو ہدایت دی کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ خدمات جاری رکھیں تاکہ پروگرام کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔بے نظیر نشونما پروگرام کا مقصد غذائی قلت کے باعث بچوں میں نشوونما کی کمی جیسے مسائل کی روک تھام کرنا ہے، اور یہ اقدام صوبہ بلوچستان میں مستحق خاندانوں کی فلاح و بہبود اور ایک صحت مند معاشرے کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
خبر نامہ نمبر3626/2026
کوئٹہ 4مئی:۔بلوچستان صوبائی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ممبر کمیٹی خیر جان بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور ضیاء اللہ لانگو، اصغر علی ترین اور علی مدد جتک نے شرکت کی۔ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، گورایا اور دیگر متعلقہ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس کے دوران بلوچستان وٹنس پروٹیکشن (ترمیمی) بل 2026 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی نے بلوچستان وٹنس پروٹیکشن ایکٹ 2016 کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر کو تسلیم کیا کہ اس کے نفاذ کے دوران پیش آنے والی عملی اور انتظامی خامیوں کے باعث قانون میں بہتری ناگزیر ہے۔مجوزہ ترامیم کا مقصد قانون کی مؤثریت میں اضافہ اور اسے موجودہ قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی بہترین روایات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اہم ترامیم میں سنگین جرائم کی تعریف کو ازسرنو متعین کرتے ہوئے ایسے جرائم تک محدود کرنا شامل ہے جن کی سزا سات سال یا اس سے زائد قید ہو، تاکہ تحفظ کے وسائل زیادہ خطرناک نوعیت کے مقدمات پر مرکوز کیے جا سکیں۔اسی طرح گواہ کی تعریف کو وسعت دیتے ہوئے اس میں متاثرین، متاثرہ افراد اور مدعیان کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے قانون کو مزید جامع اور متاثرہ فریق کے لیے مؤثر بنایا گیا ہے۔ مزید برآں، محفوظ گواہوں کی شناختی تفصیلات میں تبدیلی اور گواہی کے محفوظ اندراج کے لیے خصوصی سہولیات کے قیام کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ انہیں دھمکیوں اور دباؤ سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت وٹنس پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ کی ازسرنو تشکیل، جس میں عدالتی نمائندگی، کورم کی وضاحت اور مقامی سطح پر ذیلی یونٹس کا قیام شامل ہے، تجویز کیا گیا ہے تاکہ نظام کو مزید مؤثر اور قابل رسائی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ جامع اصلاحات بلوچستان میں گواہوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط، مؤثر اور شفاف بنائیں گی، جس سے عوام کو بلا خوف و خطر نظام انصاف میں شرکت کا حوصلہ ملے گا اور قانون کی حکمرانی پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
خبر نامہ نمبر3627/2026
کوئٹہ 4مئی:۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں اراکین غلام دستگیر بادینی، رحمت صالح بلوچ، صفیہ بی بی، ولی محمد نورزئی اور خیر جان بلوچ نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری صحت ثاقب احمد اور اسپیشل سیکرٹری اسمبلی سراج لہڑی بھی موجود تھے۔اجلاس میں بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ کے خصوصی آڈٹ کا جائزہ لیا گیا، جو آڈیٹر جنرل کی نشاندہی پر کیا گیا تھا۔ چیئرمین PAC نے بتایا کہ آڈٹ حکام نے متعدد بار ہسپتال انتظامیہ سے ریکارڈ طلب کیا تاہم فراہم نہیں کیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ ادارہ پرانے نظام پر چل رہا ہے اور ریکارڈ جون 2026 تک مکمل کیا جائے گا۔آڈٹ رپورٹ میں مجموعی طور پر مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کی مالیت تقریباً اربوں روپے سے زائد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ادویات کی خریداری میں بے ضابطگیاں، سرکاری محصولات کی کم وصولی، غیر شفاف ادائیگیاں، ریکارڈ کی عدم دستیابی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ہسپتال میں جدید طبی مشینری جیسے سی ٹی اسکین اور اینجیوگرافی مشینیں اور آکسیجن گیس پلانٹ غیر فعال ہیں جبکہ ادویات کی ڈرگ ٹیسٹنگ اور اسٹورز کی فزیکل ویری فکیشن بھی نہیں کی گئی۔چیئرمین PAC نے اجلاس میں اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت نے کمیٹی کو سنجیدہ نہیں لیا، تاہم ایک سال کے دوران پی اے سی نے بڑی مقدار میں ریکوریز یقینی بنائی ہیں اور محکمہ صحت سے بھی ریکوریاں یقینی بنائے گا۔کمیٹی نے ہدایت دی کہ 10 دن کے اندر ہسپتال انتظامیہ اور آڈٹ حکام باہمی تعاون سے ریکارڈ کی تصدیق کریں اور ذمہ دار افراد کے خلاف BEDA ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ افسران کو طلب کیا جائے گا اور کسی کو بھی احتساب سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور ہر متعلقہ آفیسر اپنا جواب خود دے گا۔
خبر نامہ نمبر3628/2026
زیارت4مئی:۔ صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دومڑ کی ذاتی فنڈ سے، چیئرمین میونسپل کمیٹی سنجاوی حاجی خان محمد دومڑ اور فوکل پرسن زیارت حاجی راز محمد دومڑ کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں زیارت کے علاقے کلی عبدالمنان گلزار وچہ غوسکی میں بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمر کی تنصیب کا اہم منصوبہ مکمل کر کے باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی کاروان کے سینئر رہنما ماسٹر محمد اعظم تھے، جنہوں نے منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے خطاب میں کہا کہ عوامی خدمت اولین ترجیح ہے اور علاقے کی ترقی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف عوام کو بجلی کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور مقامی قیادت عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور ایسے منصوبے عوام کی فلاح و بہبود کی واضح مثال ہیں۔ بجلی کی فراہمی میں بہتری سے مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا اور عوام کی روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا ہوگی اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما عبدالمنان کاکڑ، منظور احمد تارڑ، منظور احمد ناصر، حافظ نظام الدین، سوشل میڈیا کے سینئر ممبر بلال خان، محمد دان تارڑ، محمد دین تارڑ، قبائلی رہنما حاجی عصمت اللہ ناصر، اقلیتی برادری کے نمائندے چوہدری پپو سمیت علاقے کے معتبرین اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی مقررین اور شرکاء نے منصوبے کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دومڑ، چیئرمین میونسپل کمیٹی سنجاوی اور فوکل پرسن زیارت کی کاوشوں کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے ترقیاتی منصوبے جاری رہیں گے اور علاقے کے دیگر مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے تقریب کے اختتام پر علاقہ مکینوں نے اجتماعی طور پر علاقے کی مزید ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں اور حکومت سے اپیل کی کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
خبر نامہ نمبر3629/2026
ہرنائی4مئی:۔ ایس پی پولیس ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جھکرانی نے گزشتہ روز شاہرگ پولیس تھانے کا اچانک دورہ کیا اور نفری کی حاضری سمیت ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ آفس سپرنٹنڈنٹ لاشار بہرانی بھی موجود تھے۔ دورے کا مقصد تھانہ کلچر میں بہتری اور اہلکاروں کی موجودگی کو یقینی بنانا تھا۔ معائنے کے دوران ایس ایچ او شاہرگ عبدالمجید دشتی اور دیگر اہلکار اپنی پوزیشنز پر الرٹ پائے گئے۔ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جھکرانی نے تھانے کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا، روزنامچہ اور دیگر ریکارڈ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ نفری کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کی حاضری اور فرائض کی درست ادائیگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا کام صرف جرائم کا خاتمہ نہیں بلکہ عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی ہے۔?انہوں نے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ تھانے آنے والے سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جس میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ایس پی ہرنائی نے تمام اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ علاقے میں امن و امان کے قیام کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں ایمانداری کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس فورس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس طرح کے سرپرائز دورے مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ ضلع بھر میں قانون کی بالادستی کو قائم رکھا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر3630/2026
موسیٰ خیل 04 مئی:۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے اچانک مختلف بنیادی مراکز صحت کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے BHU راڑہ شم، BHU کنگری اور MCH سینٹر کنگری کا تفصیلی معائنہ کیا اور تمام انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اس اچانک دورے کا بنیادی مقصد صحت مراکز میں عملے کی حاضری کو یقینی بنانا، ادویات کی دستیابی کا جائزہ لینا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانا تھا دورے کے دوران راڑہ شم میں LHS اور LHWs کے ساتھ ایک اہم میٹنگ بھی منعقد ہوئی، جس میں عملے نے آفس ٹریننگ ہال کے قیام کے حوالے سے اپنی درخواست پیش کی۔ ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے اس دیرینہ مسئلے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرتے ہوئے فوری اقدامات کی یقین دہانی کروائی، جس پر عملے نے اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے موقع پر موجود اسٹاف کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کریں تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس موقع پر انہوں نے ادویات کے سٹاک، صفائی ستھرائی اور مریضوں کے لیے بنیادی سہولیات کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔
خبرنامہ نمبر2026/3631
سبی 4 مئی:ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں آئندہ پولیو مہم کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی ڈاکٹر میر حمزہ لاشاری، ڈویژنل کوارڈینیٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر احسان اللہ، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان، ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر ایس آر آئی پی ارسلان لاشاری، این اسٹاپ ڈاکٹر شہزادہ کامران، ڈی پی او صلاح الدین مری سمیت ذیلی محکموں کے افسران، علمائے کرام اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈویژنل کوارڈینیٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر احسان اللہ نے گزشتہ پولیو مہم کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ آئندہ پولیو مہم 18 تا 21 مئی تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران گرمی کا موسم ہوگا لیکن تمام افسران اور ٹیموں کو فیلڈ میں رہ کر مہم کو کامیاب بنانا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہر ایک بچے تک پہنچنا ہمارا ہدف ہے اور کوئی بھی بچہ ویکسینیشن سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ ڈپٹی کمشنر نے علمائے کرام سے خصوصی اپیل کی کہ وہ جمعہ اور دیگر خطبات میں پولیو مہم کے حوالے سے عوام میں شعور و آگاہی فراہم کریں کیونکہ علماء کا کردار عوام کی رہنمائی میں انتہائی مؤثر اور اہم ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے افسران کو بھی ہدایت کی کہ اسکولوں میں پولیو ویکسینیشن کی کوریج کو بھرپور طریقے سے یقینی بنایا جائے اور کوئی بھی 5 سال سے کم عمر اسکول جانے والا بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام شرکائے اجلاس سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ہے اور اس میں ہر ایک کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سبی کو پولیو سے پاک بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خبرنامہ نمبر2026/3632 سبی 4 مئی:کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض کی صدارت میں ڈویژنل ٹاسک فورس برائے پولیو و ای پی آئی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ڈویژنل کوارڈینیٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر احسان اللہ، ایم ایس ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال سبی ڈاکٹر جہانزیب اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ سبی ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز، ڈی ایچ اوز اور ای او سی ای پی آئی کے صوبائی افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر احسان اللہ نے پولیو صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایچ او نے اپنے اپنے ضلع میں پولیو ڈیٹا اور ای پی آئی ویکسینیشن کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر اسد اللہ فیض نے کہا کہ پولیو مہم کا ڈیٹا سو فیصد درستگی سے حاصل کرنے کے لیے تمام افسران محنت اور لگن سے کام کریں۔ انہوں نے واضح ہدایت دی کہ ڈویژن کے تمام زیرو ڈوز بچوں کو لازمی ویکسین کیا جائے اور کوئی بھی بچہ ویکسینیشن سے محروم نہ رہنے پائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مائیکروپلاننگ کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر گھر اور ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گرمیوں کے موسم میں سبی سے ہونے والی نقل مکانی کے پیشِ نظر ڈیٹا کی مناسب توثیق انتہائی ضروری ہے تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسینیشن سے محروم نہ رہے۔ کمشنر اسد اللہ فیض نے یہ اہم تجویز بھی پیش کی کہ ہر پولیو مہم سے قبل ایک پری مہم کا انعقاد کیا جائے تاکہ تیاری مزید مضبوط ہو اور مہم کے دوران کسی قسم کی کمی نہ رہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مرکزی نالے اور ماحولیاتی نمونوں (انوائرمنٹل سیمپلز) کے حصول کے لیے پرائمری اور سیکنڈری سطح پر ای او سی سے باقاعدہ تحریری تعاون طلب کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سبی ڈویژن کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/3633
گوادر 4مئی: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی کے ہمراہ بنیادی مرکز صحت نلینٹ کا مشترکہ مانیٹرنگ دورہ کیا۔ دورے کے دوران طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور فراہم کردہ خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
معائنہ کے دوران افسران نے اسٹاف کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سائٹس (حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام)، ایم این سی ایچ سینٹر (ماں اور بچے کی صحت) سمیت دیگر متعلقہ ریکارڈز کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ اس موقع پر مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور ادویات کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے عملے کو ہدایت دی کہ وہ اپنی حاضری یقینی بناتے ہوئے مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کریں، جبکہ حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو مزید مؤثر بنانے اور ماں و بچے کی صحت کے پروگرام کو ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھنے کی تاکید کی گئی۔دورے کے دوران بنیادی مرکز صحت نالینٹ کو ضروری ادویات بھی فراہم کی گئیں تاکہ مقامی آبادی کو علاج معالجے کی سہولیات میں کسی قسم کی کمی کا سامنا نہ ہو۔اس موقع پر ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ ضلعی محکمہ صحت عوام کو بنیادی سطح پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے، جبکہ ڈاکٹر مرشد دشتی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی پی ایچ آئی کے زیر انتظام مراکز صحت کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/3634
تربت 4 مئی:_وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت یونیورسٹی آف تربت میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمان خصوصی سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منظور علی میرانی تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور آئی بی اے کے ڈائریکٹر ORIC و پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ایراسمس پلس، پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد شاہانی کے ہمراہ مستحق طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے۔تقریب میں یونیورسٹی آف تربت کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، رجسٹرار گنگزار بلوچ، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اعجاز احمد، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اسٹاف اینڈ پروٹوکول معراج محمد مہر اورتربت یونیورسٹی کے پی ایس او ٹو وائس چانسلر میر باہڑ سمیت طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر منظور علی میرانی نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی قیادت میں یونیورسٹی آف تربت کی نمایاں تعلیمی ترقی اور معیاری اور خوبصورت انفراسٹرکچر کو سراہا۔ انہوں نے کوالٹی ایجوکیشن کے فروغ، ادارہ جاتی نظم ونسق اور اعلی تعلیم کے حصول میں طلبہ کے عزم کو قابل تحسین قرار دیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد نے طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے یونیورسٹی کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی میں آئی ٹی ڈپلومہ پروگرامز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز متعارف کروائے گئے ہیں تاکہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نوجوان تیار کئے جاسکیں اور وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔وائس چانسلر نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ فراہم کیے گئے لیپ ٹاپ تحقیقی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے اپنی علمی استعداد اور ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافہ کریں جو ایک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی گزار نے کے لئے ناگزیر ہیں۔اہداف کے حصول میں تربت یونیورسٹی کے ساتھ مسلسل تعاون کرنے پر انہوں نے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد شاہانی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی تحقیقی مواقع تک رسائی میں معاونت، یورپی فنڈڈ ایراسمس پلس منصوبے کے تحت اسمارٹ کلاس روم کے قیام کے لیے فنڈنگ کے حصول اور تربت یونیورسٹی کی بین الاقوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے میں تربت یونیورسٹی کی انتظامیہ ان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے یونیورسٹی آف تربت میں پی ایم لیپ ٹاپ اسکیم کے فوکل پرسن انجینئر بلال الرحمان نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت چودہ سو سے زائد طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے ہیں۔اس سے پہلے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے وفد نے یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں اداروں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں مشترکہ تعلیمی پروگرامز، فیکلٹی ٹریننگ و ڈیولپمنٹ ، قومی و بین الاقوامی سطح پر تحقیقی منصوبوں، اور اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرامز کے امکانات کا جائزہ لیاگیا۔بعد ازاں وفد نے یونیورسٹی کی لائبریری، اسمارٹ کلاس روم، انوویسٹا لیب اور دیگر شعبہ جات کا دورہ بھی کیا۔






