3rd-May-2026

خبرنامہ نمبر3594/2026
کوئٹہ، 03 مئی:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ آزاد، ذمہ دار اور باخبر صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور پاکستان میں جمہوری استحکام، قومی یکجہتی اور ریاستی مضبوطی کے لیے اس کا کردار ناگزیر ہے ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ صحافت ہی حقیقی آزادیِ صحافت کا بنیادی تقاضا ہے، اور اسی کے ذریعے معاشرے میں توازن، شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے صحافی انتہائی کٹھن اور مشکل حالات میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں جو قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق و صداقت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے صحافی ریاست کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت مثبت اور تعمیری تنقید کو ہمیشہ خوش آئند سمجھتی ہے کیونکہ یہی عمل اصلاحِ نظام اور بہتر طرزِ حکمرانی کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے قومی میڈیا پر زور دیا کہ وہ صرف جرائم کی خبروں تک محدود نہ رہے بلکہ بلوچستان کے سماجی مسائل، ترقیاتی اقدامات اور مثبت پہلوؤں کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کرے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں خبر کی تصدیق اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ صحافیوں کی اہم اخلاقی ذمہ داری ہے انہوں نے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے تدارک کے لیے بلوچستان کی پہلی سوشل میڈیا پالیسی سے متعلق کہا کہ اس اقدام کا مقصد ذمہ دارانہ اور مستند معلومات کے فروغ کو یقینی بنانا ہے انہوں نے میڈیا ہاؤسز کی جانب سے بیورو دفاتر کی بندش اور عملے کی برطرفی کو پیمرا معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس عمل پر تشویش کا اظہار کیا وزیراعلیٰ نے تمام نجی ٹی وی چینلز پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں اپنے بیورو دفاتر کو فعال بنائیں، حکومت انہیں مکمل سیکیورٹی اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزادیِ صحافت، ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور سچائی پر مبنی معلومات ہی پاکستان کے استحکام، ترقی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

خبرنامہ نمبر3595/2026
کوئٹہ، 03 مئی:سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پانیزئی نے کہا ہے کہ شیخ خلیفہ بن زاید ہسپتال سریاب میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح جیسے ہی انہیں سامان کی منتقلی سے متعلق اطلاعات موصول ہوئیں، انہوں نے فوری طور پر معاملے کی مکمل تفصیل حاصل کی تاکہ حقائق کو سامنے لایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں باقاعدہ منظوری کے بعد شیخ زاید ہسپتال میں موجود کارڈیک ایکوپمنٹ کو عارضی طور پر بی آئی سی وی ڈی منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی آئی سی وی ڈی کے لیے نئے اور جدید طبی آلات کی خریداری کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ان کی ڈلیوری آئندہ دو سے تین ماہ میں متوقع ہے۔ نئے آلات کی فراہمی کے بعد مذکورہ ایکوپمنٹ کو دوبارہ شیخ زاید ہسپتال میں نصب کر دیا جائے گا سیکرٹری صحت نے واضح کیا کہ کسی بھی ہسپتال سے طبی سہولیات ختم نہیں کی جا رہیں بلکہ وسائل کی بہتر اور مؤثر تقسیم کے ذریعے مزید ہسپتالوں کو فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ان کے اپنے علاقوں میں معیاری علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا، وقت کی بچت اور صحت کی بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے مجیب الرحمٰن پانیزئی نے کہا کہ شیخ خلیفہ بن زاید ہسپتال ماضی میں غیر فعال رہا، تاہم موجودہ حکومت کی خصوصی توجہ کے باعث اسے مکمل طور پر فعال بنایا گیا ہے۔ اس ہسپتال میں ایمرجنسی، گائنی، سرجری سمیت چوبیس گھنٹے طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور دیگر جدید تشخیصی سہولیات بھی فعال کر دی گئی ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق ویڈیوز اور معلومات کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے عوام میں بے چینی اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ انہوں نے شہریوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ کسی بھی خبر کو پھیلانے سے قبل اس کی تصدیق کو یقینی بنایا جائے اور مثبت پیش رفت کو ذمہ داری کے ساتھ اجاگر کیا جائے سیکرٹری صحت بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت صوبے بھر میں صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور عوام کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر3596/2026
استامحمد۔۔ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول علی آباد کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اس موقع پر ایس ڈی او بی اینڈ آر عاشق علی بوہڑ بھی ان کے ہمراہ تھے دورے کے دوران اسکول میں BSDI کے تحت چار دیواری کی تعمیر کا کام جاری پایا گیا حکام کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد تعلیمی ادارے کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا اور طلبہ کو ایک محفوظ، پرسکون اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے متعلقہ افسران کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کی پیش رفت، استعمال ہونے والے میٹریل اور تکمیل کے متوقع وقت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو پی سی ون کے مطابق مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی کام میں کسی بھی قسم کے ناقص میٹریل یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کی قیادت میں صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سردارزادہ فیصل خان جمالی نے ترقیاتی اسکیموں کی نشاندہی اور ان کے اجرا میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو قابل تحسین ہے آخر میں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کو ایک محفوظ، جدید اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے، جو ان کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنے۔

خبرنامہ نمبر3597/2026
گوادر: ضلع میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایات پر محکمہ صحت نے فوری، مربوط اور مؤثر حکمت عملی کے تحت انسدادِ ڈینگی اقدامات میں نمایاں تیزی لا دی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر کی سربراہی میں متعلقہ محکموں کے اشتراک سے کمیونٹی سطح پر روزانہ کی بنیاد پر بھرپور سرگرمیاں جاری ہیں۔اس ضمن میں لیڈی ہیلتھ سپروائزرز(LHS) اور لیڈی ہیلتھ ورکرز (LHWs) کو متحرک کرتے ہوئے ضلع بھر میں گھر گھر آگاہی مہم شروع کی گئی ہے۔ ٹیمیں شہریوں کو ڈینگی سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ فعال سرویلنس کے ذریعے مشتبہ کیسز کی بروقت نشاندہی، لاروا کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنا رہی ہیں، تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکا جا سکے۔حالیہ دنوں میں تحصیل گوادر کی یونین کونسل نارتھ کے بعض علاقوں، خصوصاً نیا آباد، شمبے اسماعیل اور فقیر کالونی میں ڈینگی کیسز میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر ہدفی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر وی بی ڈی (Vector Borne Diseases) کی قیادت میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جو متاثرہ علاقوں میں کیس فائنڈنگ، آگاہی، ماحولیاتی صفائی کے فروغ اور حفاظتی اقدامات پر بھرپور کام کر رہی ہیں۔ مشتبہ و تصدیق شدہ کیسز کی بروقت رپورٹنگ اور فالو اپ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔مزید برآں، ایک مربوط اور مؤثر حکمت عملی کے تحت میونسپل کمیٹی گوادر کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں باقاعدہ فوگنگ مہم شروع کر دی گئی ہے، جسے ہفتے میں کم از کم ہر تیسرے دن جاری رکھا جائے گا تاکہ بالغ مچھروں کی افزائش کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اسی تسلسل میں آئندہ دو سے تین روز کے اندر انڈور ریزیڈیول اسپرے (IRS) مہم کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت گھروں کے اندر حفاظتی اسپرے کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور وائرس کی منتقلی کو مؤثر انداز میں روکا جائے گا۔علاوہ ازیں، منتخب عوامی نمائندگان (کونسلرز) کے ہمراہ متاثرہ مریضوں کے گھروں کے دورے بھی کیے جا رہے ہیں، جہاں نہ صرف زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے بلکہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی عملی رہنمائی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ضلعی انتظامیہ کی مؤثر ہم آہنگی کے تحت تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے، جن میں محکمہ ماحولیات، میونسپل کمیٹی، لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، محکمہ تعلیم، سوشل ویلفیئر اور مختلف غیر سرکاری تنظیمیں شامل ہیں۔ ان اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے صفائی مہمات، آگاہی پروگرامز اور ماحولیاتی بہتری کے اقدامات میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے ان بروقت، مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات کا بنیادی مقصد ڈینگی کیسز پر مؤثر قابو پانا، بیماری کے پھیلاؤ کی زنجیر توڑنا اور کسی بھی ممکنہ آؤٹ بریک سے قبل مؤثر بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اپنے اردگرد صفائی کا خاص خیال رکھیں اور محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ایک محفوظ اور صحت مند گوادر کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3598/2026
ژوب 3مئی:کمانڈنٹ ایف سی بریگیڈیئر محمد اظہر خان نے کہا ہے کہ معیاری تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، کیونکہ یہی تعلیم موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کا موثر ذریعہ ہے انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے سنہری اصول ایمان اتحاد اور تنظیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی آر سی ژوب کے فارغ التحصیل طلبا کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں پرنسپل بی آر سی پروفیسر گلدار علی خان وزیر پرنسپل بوائز ڈگری کالج پروفیسر عبدالرحمان امین مندوخیل صدر پریس کلب رفیق مندوخیل سمیت اساتذہ کرام اور والدین نے شرکت کی بریگیڈیئر محمد اظہر خان نے کہا کہ بی آر سی ژوب کا شمار صوبے کے بہترین اقامتی اداروں میں ہوتا ہے جہاں کے طلبا نے امتحانات میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرکے نہ صرف ادارے بلکہ پورے ژوب ڈویژن کا نام روشن کیا ہے انہوں نے اس کامیابی پر کالج انتظامیہ اور اساتذہ کو مبارکباد دی انہوں نے کہا کہ طلبا نے اپنی تعلیمی زندگی کا ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے تاہم اب ان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے جس میں مزید محنت، لگن اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہو گی کمانڈنٹ نے سکول انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے پوزیشن ہولڈر طلبا کے لیے بھاری نقد انعامات کا بھی اعلان کیا اس موقع پر پرنسپل بی آر سی پروفیسر گلدار علی خان وزیر اور پرنسپل بوائز ڈگری کالج پروفیسر عبدالرحمان امین مندوخیل نے فارغ التحصیل طلبا کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی آر سی ژوب معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے اور مستقبل میں بھی طلبا کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی جاتی رہے گی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طلبا کے والدین نے کہا کہ ان کے بچوں کو گزشتہ چھ سال کے دوران معیاری تعلیم اور بہترین تربیت کے مواقع فراہم کیے گئے جس پر وہ کالج انتظامیہ اور اساتذہ کے شکر گزار ہیں انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں سے والدین کی بڑی تعداد میں شرکت ادارے کی بہترین کارکردگی کا واضح ثبوت ہے آخر میں کالج اساتذہ اور فارغ التحصیل طلبا میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں .

خبرنامہ نمبر3599/2026
لورالائی3مئی 2026 بلوچستان میں زیتون کی کاشت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں تقریباً 26 لاکھ زیتون کے پودے اب باقاعدہ پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری اس زرعی انقلاب نے نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت دی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی زیتون مارکیٹ میں ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر بھی متعارف کروانا شروع کر دیا ہے۔لورالائی: زیتون کی پیداوار کا نیا مرکزماہرین زراعت کے مطابق ضلع لورالائی زیتون کی کاشت کا مرکزی حب بن کر سامنے آیا ہے، جہاں پیدا ہونے والے زیتون میں تیل کی شرح 25 سے 32 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ شرح بین الاقوامی معیار کے مطابق نہایت اعلیٰ تصور کی جاتی ہے، جو اس خطے کی زمین اور موسمی حالات کی موزونیت کو ظاہر کرتی ہے۔خشک سالی کا مؤثر متبادل بلوچستان جیسے خشک سالی سے متاثرہ خطے میں زیتون کی کاشت ایک پائیدار اور مؤثر متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق زیتون کا پودا کم پانی میں بھی نشوونما پا سکتا ہے اور ایک بار لگانے کے بعد تقریباً 40 سے 50 سال تک مسلسل پیداوار دیتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ایک اسٹریٹجک فصل بناتی ہیں۔کاشتکاروں کے لیے معاشی خوشحالی کی نوید زیتون کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے ساتھ ساتھ اس کہ پراسیسنگ، پیکجنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جدید مشینری اور مارکیٹنگ کے نظام کو فروغ دیا جائے تو کاشتکاروں کی آمدن میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔ مقامی سطح پر آئل ایکسٹریکشن یونٹس کے قیام سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔مکمل پیداوار کی جانب پیش رفت حکام کے مطابق بلوچستان 2028-29 تک مکمل پیداواری مرحلے میں داخل ہو جائے گا، جس کے بعد نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں گی بلکہ برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہونے کی توقع ہے۔قومی و عالمی تناظرعالمی سطح پر زیتون کے تیل کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً صحت بخش غذا کے رجحان کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں بلوچستان کا زیتون عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔وائس آف بلوچستان کا عزم وائس آف بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ صوبے کے محنتی کسانوں کی کاوشوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرے گا۔ ان کے مطابق،یہ زیتون صرف ایک پودا نہیں بلکہ بلوچستان کی خوشحالی، خودکفالت اور روشن مستقبل کی علامت ہے
بلوچستان میں زیتون کی کاشت نہ صرف زرعی ترقی کی ایک روشن مثال ہے بلکہ یہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے، دیہی معیشت کو مستحکم کرنے اور پاکستان کو زرعی برآمدات میں خود کفیل بنانے کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔ مستقبل قریب میں“بلوچستان کا زیتون”عالمی معیار کی پہچان بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

خبرنامہ نمبر3600/2026
صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہاہے کہ سیاست اور صحافت کا اپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے صحافی اپنے قلم کے ذریعے معاشرے کے مسائل اجاگر کرتا ہے اور سیاستدان انہی مسائل کے حل کے لیے پارلیمان اور دیگر فورمز پر فعال کردار ادا کرتا ہے بلوچستان حکومت صوبے میں ازادانہ صحافت کو یقینی بنانے اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے پوری طرح پرعزم ہے عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر اپنے میں پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان دنیا بھر اور بالخصوص بلوچستان کے تمام صحافیوں، کالم نویسوں، رپورٹرز، مدیران اور شعبہ صحافت سے وابستہ افراد کو دلی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو سچائی، دیانت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحافت کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے اور ایک آزاد، خودمختار اور ذمہ دار میڈیا ہی عوام کو درست معلومات فراہم کرکے شعور بیدار کرتا ہے۔ میڈیا ریاست اور عوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتا ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ غیر جانبدار، مستند اور بروقت معلومات کی فراہمی صحافت کا اصل حسن ہے، جو معاشرتی بہتری اور قومی استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے خصوصاً بلوچستان کے صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل حالات کے باوجود سچ کی تلاش اور اس کی اشاعت کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر3601/2026
گوادر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق صوبے میں تعلیمی معیار کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں عملی اقدامات جاری ہیں۔ اسی تناظر میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زرّاتون بلوچ نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول پاک چائنا اور گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول زربار کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں، دستیاب سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کا جامع جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، بالخصوص مناسب شیڈ/شلٹر کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے موسم میں طالبات کو کھلے ماحول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف ان کی صحت بلکہ تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ طلبہ و طالبات کو محفوظ، صحت مند اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ڈی ای او (خواتین) نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول زربار کی عمارت کی خستہ حالی کا بھی نوٹس لیتے ہوئے فوری مرمت اور بحالی کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ طالبات کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ اسکولوں میں فوری طور پر شیڈ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ طالبات کو گرمی کی شدت سے محفوظ رکھا جا سکے اور تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں۔زرّاتون بلوچ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ تعلیم ضلع بھر میں تعلیمی سہولیات کی بہتری، انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گا، تاکہ حکومتی ویژن کے مطابق ایک بہتر اور روشن تعلیمی مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3602/2026
حب: دریائے حب میں نہانے اور تفریحی سرگرمیوں پر دفعہ 144 نافذ، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے ضلع حب میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد دریائے حب اور اس کے اطراف میں نہانے، تیراکی اور ہر قسم کی تفریحی سرگرمیوں پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق 3 مئی 2026 کو دریائے حب میں پیش آنے والے دلخراش ڈوبنے کے واقعے میں تین قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے انسانی جانوں کے مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت یہ احکامات جاری کیے ہیں۔حکم نامے کے مطابق دریائے حب کے حدود میں نہانے، تیراکی اور دیگر تفریحیسرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ دریا کے کناروں پر قائم خطرناک مقامات میں غیر مجاز افراد کے داخلے پر بھی سختی سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور 60 روز تک برقرار رہے گی، تاہم حالات کے پیش نظر اس میں توسیع یا ترمیم بھی کی جا سکتی ہے۔مزید برآں حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومت بلوچستان نے ڈپٹی کمشنر حب، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس حکم پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور عوام کی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں۔

خبرنامہ نمبر3603/2026
ہرنائی 3 مئی: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ کی خصوصی فنڈز سے، اور فوکل پرسن ہرنائی حاجی باز محمد دمڑ کی انتھک محنت، لگن اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت ضلع ہرنائی کے علاقے کلی زرمانہ پیڑی میں تمام گھرانوں کو شمسی توانائی (سولر سسٹم) کی فراہمی اور تقسیم کا عمل مکمل کر لیا گیا اس موقع پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ نے کہا کہ یہ منصوبہ موجودہ توانائی بحران کے تناظر میں ایک انقلابی اقدام ہے، جو حکومت کی عوام دوست پالیسیوں اور ترقیاتی وژن کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف علاقے میں بجلی کی دیرینہ کمی کا خاتمہ ہوگا بلکہ تعلیمی، سماجی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی اہلِ علاقہ نے اس تاریخی اقدام کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے صوبائی قیادت بالخصوص حاجی نور محمد خان دمڑ اور فوکل پرسن حاجی باز محمد دمڑ کی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ عوام نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے فلاحی منصوبے جاری رہیں گے اہل علاقہ کے لوگوں نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت اور عوام کے درمیان مضبوط اعتماد، خدمتِ خلق اور ترقی کے عزم کا واضح مظہر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *