22nd-April-2026

خبرنامہ نمبر3270/2026
کوئٹہ22 اپریل۔وزیراعلی بلوچستان کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی وماحولیات نسیم الرحمان خان ملاخیل نے پاکستان نیوی کی جانب سے ”تیمور“ ایئر لانچڈ کروز میزائل کے کامیاب تجربے پر پوری قوم کو دلی مبارکباد پیش کی ہے،اپنے تہنیتی بیان میں نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا کہ “تیمور” میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی دفاعی خود انحصاری اور مقامی سطح پر جدید عسکری ٹیکنالوجی کی ترقی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کردہ اس اینٹی شپ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان نیوی کے سائنسدانوں اور انجینئرز کا ایک شاندار کارنامہ ہے جو دفاعی میدان میں پاکستان کی بڑی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے، صوبائی مشیر نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ سسٹم نہ صرف بحری دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنائے گابلکہ پاکستان کی بحری سرحدوں کو بھی غیر معمولی حد تک محفوظ کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی سائنسدانوں، انجینئرز اور ٹیکنیکل ماہرین کی محنت اور لگن نے دفاعِ وطن کو مضبوط، جدید اور ناقابلِ تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید حکمت عملی اور دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری پرفخر ہے اور ایسے کامیاب تجربات پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کو مزید مضبوط کرتے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان نیوی اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لئے پوری طرح پرعزم اور تیار ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3271/2026
کوئٹہ22اپریل۔ سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان بلوچستان درا بلوچ نے قومی کراٹے کھلاڑی آرزو حیدر علی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ آرزو حیدر باصلاحیت، محنتی اور باہمت کھلاڑی تھیں جنہوں نے کم عمری میں اپنی کارکردگی سے کھیلوں کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحومہ کی ناگہانی وفات نے نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پورے سپورٹس کمیونٹی کو افسردہ کر دیا ہے اس سانحے پر کھیلوں سے وابستہ ہر فرد رنجیدہ ہے اور اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحومہ اپنی محنت اور لگن کے ذریعے ملک و صوبے کیلئے فخر کا باعث بنیں۔ ان کی کامیابیاں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ محکمہ کھیل ان کی محنت اور کارکردگی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا رہے گا۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3272/2026
لورالائی22, اپریل ۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے تعاون سے سماجی تنظیم سحر آرگنائزیشن کی جانب سے لورالائی میں افغان مہاجرین کے حقوق اور ان کی باوقار ملک بدری کے موضوع پر ایک روزہ اہم سیمینار میونسپل کمیٹی ہال لورالائی میں منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً پولیس کو مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی اصولوں، انسانی حقوق اور باعزت واپسی کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا تھا۔سیمینار میں لورالائی پولیس کے افسران اور اہلکاران نے بھرپور شرکت کی اور مختلف سیشنز کے دوران ماہرین نے افغان مہاجرین کے بنیادی حقوق، ان کے ساتھ انسانی سلوک، اور ملک بدری کے دوران قانونی تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ مہاجرین کے ساتھ پیش آنے میں صبر، برداشت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہایت ضروری ہے تاکہ انسانی وقار کو ہر حال میں برقرار رکھا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر UNHCR کی جانب سے شریک پولیس اہلکاروں میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3273/2026
پشین22 اپریل ۔ .ضلعی ایجوکیشن آفیسر فیض اللہ خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیم دوست وڑن اور تعلیمی اصلاحات کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلعی محکمہ تعلیم پشین نے سکول داخلہ مہم (بلوچستان انرولمنٹ ڈرائیو) 2026 کے تحت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ ہدف سے 13 فیصد زائد بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے سکولوں میں داخل کیا گیا ہے،جو ایک خوش آئند اقدام اور کامیابی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکول داخلہ مہم کے آخری روز والدین اور اساتذہ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،انکا کہنا تھا کہ ضلع پشین کو 24000 بچوں اور بچیوں کو داخل کرنے کا ہدف دیا گیا،جوکہ 13 فیصد اضافے سمیت اور بروقت کامیابی سے حاصل کیا گیا ہے،یعنی ٹوٹل 27432 بچوں اور بچیوں کو سکولوں میں داخل کیا جا چکا ہے،جبکہ اس میں بوائز کی تعداد 18253 اور گرلز 9179 ہیں،انہوں نے صوبائی محکمہ تعلیم کی کاوشوں کوخوب سراہتے ہوئے بتایا،کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی محکمہ تعلیم کی کاوشوں کی بدولت کنٹریکٹ اساتذہ کی تعیناتی سے ضلع بھر کے تمام بند سکولوں کو فعال بنانے میں خاطر خواہ مدد ملی ہے،اس موقع پر یونیسیف کے تعاون سے تعلیمی بہتری کے لیے برسرپیکار ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (ESP) کے ضلعی سپورٹ منیجر اسماعیل خان جلالزئی نے کہا کہ بہتر تعلیم کی فراہمی یونیسیف کی ترجیح ہے،اور (ہر بچہ سکول میں) ہمارا وڑن ہے،جس کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا ریے ہیں،ایجوکیشن سپورٹ منیجر نے بتایا کہ داخلہ مہم کے سلسلے میں رواں سال یونیسیف کے تعاون سے گھر گھر بھرپور آگاہی مہم چلائی گئی ہے،جبکہ آگاہی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے لاوڈ اسپیکر/واک و سیمینارز کا بھی انعقاد کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3274/2026
لورالائی 22, اپریل۔ کمشنرلورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی ہدایت پر ایڈنشیل کمشنر لورالائی ڈویژن اعجاز احمد جعفر نے ٹیچنگ لورالائی ہسپتال کا دورہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے چلڈرن وارڈ ،ڈسئلاسز یونٹ ، سرجیکل وارڈ ، آپریشن تھیٹر اور ایم ایس آفس کا معائنہ کیا اور ہسپتال اور وارڈز کے متعلق تفصیلات معلوم کیں۔انہوں نے علاج معالجے کی ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر محمد انور مندوخیل نے دستیاب وسائل ، علاج معالجے کی سہولیات، اور مریضوں کی تعداد کے بارے مکمل بریفنگ دی اور درپیش مسائل بیان کئے،ڈاکٹر حنیف دمڑ ، ڈاکٹر امجد پرویز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے سیعد بوری وال بھی اس موقع پر موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3275/2026
نصیر آباد 22اپریل ۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت محکمہ مواصلات و تعمیرات (روڈز بلڈنگز) کے ترقیاتی امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپرنٹنڈنگ انجینئر فدا حسین کھوسہ، ارسلا رن، ایگزیکٹو انجینئر عبدالرحمن خان کاکڑ، محمد یاسین چانڈیو، سجاد حسین شاہ، جہانگیر کھوسہ، ڈائریکٹر ترقیات حماد فارس قمبرانی، سب ڈویژنل آفیسران نادر علی پہنور، عابد علی پہنور، محمد یونس ابڑو، سمیع اللہ بہرانی سمیت دیگر افسران موجود تھے۔اجلاس کے موقع پر آفیسران نے نئے منصوبوں، جاری (آن گوئنگ) اسکیموں اور فنڈز کی کمی کے باعث التوا کا شکار اسکیموں کے متعلق فرداً فرداً آگاہی فراہم کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ روڈ اور بلڈنگز کے شعبے سے عوام کے وسیع تر مفادات وابستہ ہیں، اس لیے ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تعمیراتی امور انجینئر اپنی نگرانی میں جاری رکھیں تاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے احکامات کے مطابق پختہ تعمیراتی کام پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں انہوں نے کہا کہ ڈویڑنل انتظامیہ تمام امور کا باریک بینی سے جائزہ لیتی رہے گی۔ جن اسکیموں میں فنڈنگ کا مسئلہ درپیش ہے، اس حوالے سے حکامِ بالا سے قریبی روابط رکھے جائیں تاکہ منصوبے التوا کا شکار نہ ہوں کمشنر نے مزید احکامات دیے کہ ان منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے جو اجتماعی نوعیت کے حامل ہیں اور جن سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیاری کام نہ صرف محکمے کی کارکردگی کے لیے سودمند ثابت ہوں گے بلکہ عوام کو حکومتی سہولیات کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3276/2026
موسیٰ خیل22اپریل ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے عوامی فلاح و بہبود کے وژن کی روشنی میں اور ڈپٹی کمشنر موسٰی خیل عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر درگ نے درگ ٹاو¿ن میں فلڈ پروٹیکشن وال (اسکیم Z2022.0451) کا اچانک معائنہ کیا۔معائنے کے دوران دیوار کی بنیاد میں نقائص اور کام میں تاخیر پر اسسٹنٹ کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مقامی افراد کی شکایات سنتے ہوئے واضح کیا کہ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک کی جانب سے سخت احکامات ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل اور غفلت قطعی برداشت نہ کی جائے۔انہوں نے تاکید کی کہ حکومتی پالیسی کے تحت ہر منصوبے میں اعلیٰ معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوامی فنڈز کا درست استعمال ہو اور علاقے کی پائیدار ترقی کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3277/2026
ژوب 22اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر ژوب محمد عارف زرکون کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل، غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات کے خلاف کریک ڈاون تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر صبح اور شام کے اوقات میں شہر کی اہم شاہراہوں پر کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔انتظامیہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سڑکوں پر قائم غیر قانونی ریڑھیوں، ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے والی پارکنگ اور دیگر تجاوزات کو ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے عوام، تاجروں اور انجمن تاجران سے اپیل کی ہے کہ وہ شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور خود بھی ٹریفک قوانین کی پابندی کو یقینی بنائیں۔ضلعی انتظامیہ ژوب نے شہری سہولیات کی بہتری کے لیے صفائی مہم کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کے تحت میونسپل کمیٹی کے عملے کو متحرک کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی ستھرائی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ نالوں کی صفائی اور کچرے کی بروقت تلفی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جلد ہی شہر میں مزید ترقیاتی منصوبوں کا آغاز بھی متوقع ہے، جن سے عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3278/2026
نصیرآباد 22اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات اور کمشنر نصیر آباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی سربراہی میں عوامی مسائل ان کی دہلیز پر جانچنے اور ان کے بہتر حل کے لیے آر ایچ سی منجھو شوری میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں عوام نے اپنے جائز مسائل کے حل کے لیے تحریری اور زبانی طور پر اپنے درپیش مسائل پیش کیے۔ کھلی کچہری میں ایس ایس پی نصیر آباد اسد ناصر سمیت دیگر ضلعی افسران اور ان کے نمائندگان موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل کا بروقت حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ضلعی انتظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ لوگوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا اور مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ہے، انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، انہوں نے مزید کہا کہ جن مسائل کا موقع پر حل ممکن ہے انہیں فوری طور پر حل کیا جائے جبکہ دیگر مسائل کو مقررہ وقت میں حل کرنے کو یقینی بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے عمل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکمے اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں ادا کریں تاکہ عوام کو حکومتی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3279/2026
کوئٹہ22اپریل ۔ بلوچستان نے ایک اور باصلاحیت، محنتی اور باہمت کراٹے کھلاڑی آرزو حیدر کی صورت میں اپنا ایک روشن ستارہ کھو دیا، ان کے انتقال کی خبر نے صوبے بھر میں افسردگی کی فضا پیدا کر دی اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ محکمہ کھیل حکومت بلوچستان، بلوچستان اولمپک ایسوسی ایشن، تمام کھیلوں سے وابستہ کھلاڑی، کوچز اور ہر فرد نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ قومی کراٹے کھلاڑی آرزو حیدر علی ایک باصلاحیت کھلاڑی تھیں جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے صوبائی سطح کیساتھ قومی مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور بلوچستان کا نام روشن کیا۔ آرزو حیدر ہفتے کے روز اپنی موٹر سائیکل پر کوئٹہ میں منعقد ہونے والی کراٹے چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے ایوب اسٹیڈیم جا رہی تھیں اسی دوران اسپنی روڈ سی پیک چوک کے قریب تعمیراتی کام کے مٹیریل کے باعث ان کی موٹر سائیکل پھسل گئی، جس کے نتیجے میں ان کا سر فٹ پاتھ سے ٹکرایا انہیں فوری طور پر تشویشناک حالت میں نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جس کے بعد سے وہ کومہ میں تھیں اور ان کا علاج جاری تھا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں اور آج صبح انتقال کرگئیں۔ کھیلوں سے وابستہ ہر فرد نے ان کے انتقال کو کھیلوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے مرحومہ کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اللہ پاک مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3280/2026
ؑضلع قلعہ سیف اللہ /مسلم باغ 22اپریل ۔ اسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ کا امتحانی مرکز کا دورہاسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ دھیرج کالرا نے شہید باز محمد کاکڑ ڈگری کالج مسلم باغ میں قائم ایف اے / ایف ایس سی امتحانی مرکز کا دورہ کیا۔دورے کا مقصد امتحانات میں شفافیت، نظم و ضبط کو یقینی بنانا اور نقل کی روک تھام تھا۔ معائنے کے دوران امتحانی عملہ اور نگران اساتذہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے پائے گئے جبکہ طلباء نے بھی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔اس موقع پر نگران عملے کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہمہ وقت چوکس رہیں اور نقل یا موبائل فون کے استعمال کی ہرگز اجازت نہ ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3281/2026
تربت22اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت اسپرنگ فیسٹیول 2026 کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈی سی کیچ آفس تربت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اے ڈی سی کیچ تابش بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت، اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ، محکمہ تعلیم، میوزیم اینڈ کلچرل ڈیپارٹمنٹ، میونسپل کارپوریشن، مختلف ایسوسی ایشنز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں کیچ اسپرنگ فیسٹیول 2026 کی تاریخوں کا اعلان کرتے ہوئے مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے لیے ٹیموں، کھلاڑیوں، اور شیڈول کو حتمی شکل دی گئی۔ اس موقع پر فیسٹیول کی افتتاحی تقریب 28 اپریل 2026 کو صبح 10 بجے میر عیسیٰ قومی پارک میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں علاقے کی معروف سیاسی شخصیات، عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی اور مختلف بوائز و گرلز اسکولوں کے اساتذہ اور اساتذات کو مدعو کیا جائے گا۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ کھیلوں کے مختلف ایونٹس کی نگرانی، تیاری اور انعقاد کے لیے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جنہیں فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔مزید برآں، فیسٹیول کے دوران بینرز، فلیکسز اور دیگر ضروری سامان کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپرنگ فیسٹیول 2026 کو ایک بھرپور اور منظم انداز میں منعقد کیا جائے تاکہ یہ نہ صرف کھیلوں کی سرگرمیوں تک محدود رہے بلکہ عام عوام کے لیے ایک مکمل تفریحی موقع بھی ثابت ہو۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران، سول سوسائٹی اور مختلف ایسوسی ایشنز کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کریں اور فیسٹیول کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ اسپورٹس فیسٹیول میں نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جائے اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی اور ثقافتی کھیلوں کو بھی ترجیح دی جائے تاکہ مقامی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے اور نئی نسل کو اپنی روایات سے جوڑا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ فیسٹیول کے دوران نظم و ضبط، سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کو موثر بنایا جائے، جب کہ عوامی شرکت کو آسان بنانے کے لیے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہ چار روزہ ایونٹ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو اور لوگوں کے لیے خوشگوار یادیں چھوڑے۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے افسران، سول سوسائٹی اور ایسوسی ایشنز کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اسپورٹس فیسٹیول کو عوامی تفریح کا موثر ذریعہ بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس چار روزہ سرگرمی میں شریک ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ فیسٹیول میں روایتی اور ثقافتی کھیلوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف عوام کو تفریح میسر آئے بلکہ مقامی ثقافت اور روایات کو بھی فروغ دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3282/2026
جعفرآباد 22اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ضلعی ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں طبی سہولیات کی فراہمی، ہسپتالوں کی کارکردگی اور عوام کو درپیش طبی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے افسران، ایم ایس حضرات، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور اس ضمن میں سخت نگرانی کا نظام وضع کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ غیر حاضر عملے کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی، صفائی کی صورتحال، لیبارٹری اور ایمرجنسی سروسز کی بہتری پر بھی زور دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ دیہی مراکز صحت (RHCs) اور بنیادی مراکز صحت (BHUs) میں سہولیات کو بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو مقامی سطح پر ہی علاج معالجہ کی بہتر سہولت میسر آسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ شکایات کے ازالے کے لیے موثر نظام قائم کیا جائے تاکہ عوام کی آواز کو سنا جا سکے اور فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ باقاعدگی سے ہیلتھ مراکز کے دورے کیے جائیں گے اور کارکردگی کی بنیاد پر عملے کے خلاف کارروائی یا حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر3283/2026
لورالائی22اپریل ۔: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ماہانہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا، جس میں ضلعی محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نور علی کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الحمید ابڑو، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر محمد زبیر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) فوزیہ درانی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) قمر سلطانہ، ڈسٹرکٹ منیجر عبید ترین، آر ٹی ایس ایم محمد خان سمیت یونیسیف کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران داخلہ مہم، سکولوں میں اساتذہ کی حاضری، درسی کتب کی بروقت فراہمی، کلسٹر بجٹ، زیرِ تعمیر سکولوں کی تکمیل، عمارتوں کی مرمت، غیر فعال و بند سکولوں کی بحالی، سکولوں میں چار دیواری اور بیت الخلاء کی سہولیات، اساتذہ کی کمی، ٹرانسفر، پوسٹنگ اور اٹیچمنٹ سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔محکمہ تعلیم کے حکام نے ڈپٹی کمشنر کو غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی اور ان کے خلاف کارروائی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حاضری کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا نظام مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں تعلیمی معیار کی بہتری ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اساتذہ کی غیر حاضری ہرگز قابل قبول نہیں اور اس ضمن میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ اپنی تمام تر توجہ طلبہ کی معیاری تعلیم و تربیت پر مرکوز رکھیں کیونکہ بچے قوم کا مستقبل ہیں۔انہوں نے محکمہ تعلیم کے افسران اور آر ٹی ایس ایم کو ہدایت کی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر سکولوں کے دورے کریں اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کریں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ داخلہ مہم کو مزید موثر بنانے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے گی جبکہ غیر فعال سکولوں کی فوری بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ یونیسیف کے نمائندوں نے تعلیم کے فروغ کے لیے تکنیکی معاونت جاری رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہ کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3284/2026
کوئٹہ، 22 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعرات کو یہاں محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے زیر انتظام بیورو آف سٹیٹسٹکس کے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور پبلیکیشنز کا افتتاح کر دیا جس کا مقصد صوبے میں مستند معلومات پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دینا اور ترقیاتی منصوبہ بندی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے افتتاحی تقریب میں صوبائی وزرائ، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات زاہد سلیم اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور متعلقہ پبلیکیشنز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ مذکورہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ میں صوبے کے 17 مختلف شعبوں سے متعلق جامع اور مربوط ڈیٹا شامل کیا گیا ہے، جس میں ترقیاتی منصوبوں کی مکمل تفصیلات بھی موجود ہوں گی اس نظام کے ذریعے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل کو مزید موثر اور شفاف بنایا جا سکے گا بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ ہر سال ڈیٹا سے متعلق دو نئی رپورٹس کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ معلوماتی نظام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ اجلاس میں 2010 سے اب تک مختلف شعبوں میں ہونے والی مجموعی ترقی اور گروتھ کے رجحانات پر بھی روشنی ڈالی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس اقدام کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت عوامی مفاد میں زیادہ موثر اور بہتر پالیسیاں تشکیل دے سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ترقی کا انحصار بروقت اور درست منصوبہ بندی پر ہے اور حکومت بلوچستان تمام شعبوں کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے اجلاس کے دوران سرکاری آسامیوں اور ان پر درخواست دینے والے افراد سے متعلق ڈیٹا بھی پیش کیا گیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ڈیٹا بیس میں نشادہی کردہ ایک ایسے شخص جس نے نوکری کے حصول کے لیے 45 مختلف آسامیوں پر درخواست دی تھیں کو بذریعہ فون کال رابطہ کیا اور اسے نوکری دینے کا اعلان کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی اور ان کی ٹیم کو اس اہم پیش رفت پر مبارکباد دی اور ڈیٹا اکٹھا کرنے اور ڈیش بورڈ کی تیاری میں نمایاں کارکردگی پر متعلقہ ٹیم کے لیے تعریفی سرٹیفکیٹس اور کیش ایوارڈ دینے کا اعلان بھی کیا انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان شفافیت، میرٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کو فروغ دیتے ہوئے ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرے گی تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3285/2026
کوئٹہ، 22 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان عوام کو معیاری انفراسٹرکچر کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے، اور محدود وسائل کے باوجود شفافیت، رفتار اور معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں چمن پھاٹک تا کوئلہ پھاٹک بلیک ٹاپ روڈ کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 1.02 کلومیٹر طویل سڑک محض 76 دنوں میں مکمل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 33 کروڑ 83 لاکھ 60 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی جبکہ اس پر 30 کروڑ 86 لاکھ 30 ہزار روپے خرچ ہوئے، یوں منصوبے میں 2 کروڑ 97 لاکھ 30 ہزار روپے کی بچت بھی حاصل کی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے سے ایئرپورٹ روڈ، شہباز ٹاون، ماڈل ٹاون اور دیگر ملحقہ علاقوں کے ہزاروں شہری مستفید ہوں گے اور شہر میں ٹریفک کے دباو میں واضح کمی آئے گی منصوبہ جدید معیار کے مطابق مکمل کیا گیا ہے جس سے شہریوں کو محفوظ اور بہتر سفری سہولت میسر آئے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محض 76 دنوں میں اس اہم شاہراہ کی تکمیل حکومت کی موثر حکمت عملی اور ادارہ جاتی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں لاگت کی بچت شفافیت اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال کی بہترین مثال ہے جبکہ اس سڑک کی تعمیر سے آمدورفت میں نمایاں بہتری آئے گی اور شہریوں کو ٹریفک مسائل سے ریلیف ملے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کوئلہ پھاٹک تا چمن پھاٹک روڈ کو ڈبل کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ شہریوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انفراسٹرکچر کو مزید وسعت دی جائے گی روڈ کے افتتاح کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ماڈل ٹاون سے متصل دہشت گردی کے ایک حملے کے باعث سڑک بند رہی تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ بند شاہراہ کھولی جاسکے ، انہوں نے کہا کہ کوئلہ پھاٹک تا چمن پھاٹک سڑک کا افتتاح کر دیا گیا ہے جبکہ ملحقہ سڑک کو بھی 70 دنوں میں مکمل کرکے افتتاح کیا جائے گا انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی اینڈ ڈبلیو نے محدود وقت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے، تاہم اسٹریٹ کرائم میں اضافے کے تدارک کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے حالات سب کے سامنے ہیں، ایسے میں امن و امان کے قیام کے لیے مربوط پلان پر کام جاری ہے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کا پیسہ کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور تمام منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے انہیں ملاقات سے قبل آگاہ کیا تھا اور بعد ازاں بھی رابطہ کیا ملاقات میں دی گئی تجاویز پر عملدرآمد کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ جو لوگ تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں تو وہ اپنا شوق پورا کر سکتے ہیں حکومت اپنی آئینی مدت اور ذمہ داریوں کے مطابق کام جاری رکھے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام کی امانت ایک ایک پائی عوام کی بہبود پر خرچ کی جائے گی گزشتہ مالی سال بھی بجٹ میں مختص ترقیاتی وسائل کا بروقت استعمال یقینی بنایا گیا تھا اور رواں سال بھی یہ تسلسل برقرار رکھیں گے بلوچستان کے عام آدمی کی بہبود کیلئے فلاحی منصوبوں کا تسلسل جاری رکھا جائے گا اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیائ اللہ لانگو، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3286/2026
کوئٹہ، 22 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ جس معاشرے میں کتاب کی جگہ سطحی مصروفیات لے لیں، وہ اپنی شناخت اور درست سمت دونوں کھو دیتا ہے۔ کتابیں محض کاغذ کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ روشن مینار ہیں جو اندھیروں میں منزل کا پتہ دیتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کتاب کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری اپنے ایک خصوصی پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دورِ جدید کے ڈیجیٹل انقلاب اور سکرین ٹائم میں بے پناہ اضافے کے باوجود کتاب کی اہمیت اور اس کے مطالعے سے وابستہ علم کی افادیت میں کمی نہیں آئی ہے۔ مطالعہ کرنے والے افراد نہ صرف بہتر فیصلہ سازی کی قوت رکھتے ہیں بلکہ وہ پیچیدہ سماجی و معاشی مسائل کو گہرائی سے سمجھنے کی زیادہ صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے میں لائبریری کلچر کو دوبارہ فعال کرنا اور عوامی سطح پر مطالعے کے رجحان کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نسلِ نو کا رشتہ علم و حکمت اور تحقیق سے مضبوط کیا جا سکے۔ صوبے کی وسیع جغرافیائی حدود اور دور دراز علاقوں میں علم کی شمع روشن کرنے کے لیے کتابوں تک رسائی کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان اپنی قدیم تہذیب، لوک داستانوں اور علمی تاریخ کے حوالے سے انتہائی زرخیز ہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں کے مقامی مصنفین کی تخلیقات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تحقیقات کے مطابق روزانہ محض 6 منٹ کا مطالعہ ذہنی تناو کی سطح کو 68 فیصد تک کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کتابیں انسانی ہمدردی اور رواداری کے فروغ کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کے اندر تنقیدی سوچ بیدار کرتی ہے جو اسے جھوٹی معلومات اور پروپیگنڈے سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ مطالعے کی عادت کو روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنانا ضروری ہے کیونکہ کتاب سے دوستی درحقیقت خود آگاہی، فکری آزادی اور ایک روشن مستقبل کی جانب پہلا قدم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
QUETTA, April 22, 2026 :Advisor to the Chief Minister of Balochistan for the Women Development Department, Dr. Rubaba Khan Buledi, the has stated that any society where superficial engagements replace the habit of reading inevitably loses both its identity and its sense of direction. In a special message issued on the occasion of World Book Day, she remarked that books are not merely collections of paper; rather, they are beacons of light that guide humanity toward its destination in times of darkness. emphasized that despite the modern digital revolution and the overwhelming increase in screen time, the inherent importance of books and the profound utility of knowledge gained through reading remain undiminished.Dr. Rubaba Khan Buledi further highlighted that individuals who maintain a habit of reading possess superior decision-making skills and a greater capacity to comprehend complex socio-economic issues at a deeper level. She stressed that revitalizing the library culture and promoting reading trends at the public level is a critical necessity of our time. This is essential to ensuring that the connection of the new generation with wisdom, logic, and research remains strong. Highlighting the need to make books accessible across the vast geographical landscapes and remote areas of the province, Dr.Rubaba Khan Buledi noted that Balochistan is exceptionally rich in terms of its ancient civilization, folklore, and academic history. However, there is a pressing need to introduce the creative works of local authors to both national and international platforms.Dr. Rubaba Khan Buledi pointed out that according to global research, just six minutes of daily reading can help reduce stress levels by up to 68%. She described books as the best medium for fostering human empathy and tolerance, noting that a good book awakens critical thinking, which helps individuals protect themselves from misinformation and propaganda. Dr.Rubaba Khan Buledi urged the public to make reading a part of their daily routine, asserting that a friendship with books is, in reality, the first step toward self-awareness, intellectual freedom, and a bright future.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3287/2026
کوئٹہ 22 اپریل ۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیرِ صدارت ژوب تا منزکئی اور ژوب تا وانا روڈ منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں چیف انجینئر لورالائی ژوب زون قاضی نور الحق چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ ایگزیکٹو انجینئر روڈز ژوب عبدالسلام ٹیکنیکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران حکام کو دونوں اہم شاہراہوں کی تعمیر سے متعلق پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں منصوبوں کو درپیش مسائل تکنیکی امور اور فنڈز کی دستیابی سے متعلق امور پر بھی تفصیل سے آگاہ کیا گیا حکام نے منصوبوں کی رفتار معیار اور درپیش رکاوٹوں پر کھل کر تبادلہ خیال کیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ ژوب تا منزکئی اور ژوب تا وانا روڈ منصوبے صوبے کے انتہائی اہم انفراسٹرکچر منصوبوں میں شامل ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان سڑکوں کی تکمیل سے صوبے کے دور افتادہ علاقوں کو جدید اور محفوظ سفری سہولیات میسر آئیں گی جس سے نہ صرف عوام کی آمدورفت آسان ہوگی بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں سے علاقے کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد مستفید ہوں گے جس سے مقامی معیشت میں بہتری آئے گی اور علاقائی رابطے مضبوط ہوں گےسیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبوں کو درپیش تمام مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے اور تعمیراتی کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائےانہوں نے کہا کہ دونوں منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے رکاوٹوں کو دور کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3288/2026
قلات 22اپریل ۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے قلات کے قدیمی محلہ چشمہ دورہ۔کے موقع پرلوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیئے نئے پائپ لائن اسکیم کے جاری کام کا جائزہ لیاڈپٹی کمشنر نے کام کی رفتار اور کام کے معیار کا بغور معائنہ کیا اور ہدایات جاری کرتے ہوے کہا کہ پائپ لائن کے کام کو جلداز جلد مکمل کیاجائے تاکہ علاقہ مکینوں کو جلداز جلد پانی کی فراہمی یقینی بنایاجاسکےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکمے کے انجینئر کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہ مفادعامہ میں ترقیاتی اسکیمات کے فنڈز عوام کی امانت ہوتے ہیں ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے اورعوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ قلات تمام تروسائل بروئے کار لارہی ہے اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی ضلع قلات کے عوامی حلقوں نےڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی کی علاقے کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ہمہ وقت پیش پیش رہنے پر خراج تحسین پیش کیا ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3289/2026
قلعہ سیف اللہ22اپریل ۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے شہد عثمان کاکڑ کے پبلک لائبریری کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ، لائبریری کی سہولیات کا جائزہ لینے اور عوام کو علم و ادب کی طرف راغب کرنے کے اقدامات کو مزید بہتر بنانا تھا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے لائبریری کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لائبریری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر پی کے نیب کے صوبائی رہنما چیئرمین اللہ نور بھی اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے لائبریری کے فروغ اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ایسے ادارے معاشرے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے خاندان کے دیگر افراد نے بھی لائبریری کے ماحول کو سراہا اور اسے علم کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔تقریب کے دوران معزز مہمانوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو کتابوں سے جوڑنے کے لیے مزید پروگرامز، سیمینارز اور مطالعاتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے۔ اس کے علاوہ لائبریری میں جدید سہولیات جیسے ڈیجیٹل لائبریری اور انٹرنیٹ کی فراہمی پر بھی غور کیا گیا تاکہ طلبہ کو تحقیق اور سیکھنے کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔آخر میں، ڈپٹی کمشنر نے لائبریری انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ علاقے میں علم و شعور کے فروغ کا مرکز بنے گا اور عوام بالخصوص نوجوان اس سے بھرپور استفادہ کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3290/2026
کوئٹہ22 اپریل ۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے غیر رجسٹرڈ اور ناقص بوتل بند پانی کی تیاری و فروخت کے خلاف کریک ڈاون کو مزید تیز کرتے ہوئے کویٹہ کے مختلف علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں کیں۔ سرکی روڈ، پٹیل روڈ، شاوکشاہ روڈ، سیٹلائٹ ٹاون، نواں کلی، چشمہ اچوزئی، ویسٹرن بائی پاس، ہزارہ ٹاون اور علمدار روڈ سمیت متعدد مقامات پر فوڈ سیفٹی ٹیموں نے واٹر پلانٹس کی جامع انسپکشن کی۔کارروائیوں کے دوران 18 سے زائد یونٹس کا معائنہ کیا گیا جن میں 9 واٹر پلانٹس کو سیل کیا گیا جبکہ متعدد یونٹس سے پانی کے نمونے لے کر لیبارٹری تجزیے کیلئے بھجوا دیے گئے۔ انسپکشن کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کئی پلانٹس بغیر پروڈکٹ رجسٹریشن اور بی ایف اے لائسنس کے کام کر رہے تھے جبکہ بوتلوں پر تیاری و معیاد کی تاریخ واضح نہیں تھی اور مختلف برانڈز کے لیبلز کا غیر قانونی استعمال بھی کیا جا رہا تھا۔مزید برآں کئی یونٹس میں پانی کے ذخیرہ ٹینکس میں الجی، آلودہ ذرات کی موجودگی، ناقص فلٹریشن سسٹم، پیسٹ کنٹرول کا فقدان، ورکرز کیلئے حفاظتی کٹس (PPEs) نہ ہونا اور ویسٹ مینجمنٹ کے ناقص انتظامات بھی سامنے آئے۔بعض مقامات پر پانی کی تیاری اور پیکنگ کے عمل میں بنیادی حفظانِ صحت کے اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا تھا جس عوامی صحت کیلئے خطرناک قرار دیا گیا۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق غیر قانونی واٹر پلانٹس میں غیر معیاری پانی کی تیاری عوامی صحت کیلئے سنگین خطرہ ہے اسی لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ صرف مستند اور رجسٹرڈ بوتل بند پانی استعمال کریں جبکہ گلی محلوں میں قائم غیر قانونی یونٹس اور کارخانوں سے متعلق فوری طور پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 3291/2026
کوئٹہ، 22 اپریل 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک منفرد اور انسان دوست اقدام کے تحت مختلف محکموں میں نوکری کے لیے 45 مرتبہ درخواست دینے والے ایک محنتی نوجوان کو براہِ راست فون کال کے ذریعے سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کر دیا یہ دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال اس وقت سامنے آئی جب محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی جانب سے متعارف کردہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور پبلیکیشنز کے ذریعے سرکاری اداروں میں دستیاب خالی آسامیوں اور ان پر درخواست دینے والے امیدواروں کا تفصیلی ڈیٹا پیش کیا گیا بریفنگ کے دوران انکشاف ہوا کہ ایک میٹرک پاس نوجوان نے صوبے کے مختلف 45 محکموں میں مسلسل نوکری کے لیے درخواستیں جمع کروائیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم اور مستقل مزاجی کو سراہتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نوجوان سے رابطہ قائم کیا جائے تاکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ حکام نے مستونگ سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد ایاز سے رابطہ کروایا، جس پر وزیر اعلیٰ نے خود اس سے گفتگو کی گفتگو کے دوران وزیر اعلیٰ نے نوجوان کی خیریت دریافت کی اور اس کی مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے سرکاری ملازمت کی خوشخبری سنائی۔ اس غیر متوقع اعلان پر محمد ایاز نے خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

خبرنامہ نمبر 3292/2026
کوئٹہ 22اپریل ۔بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک اعلامیہ کے مطابق پروموشن کمیٹی کی سفارش پر معزز چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کی منظوری سے بلوچستان ہائی کورٹ میں اہم انتظامی پیش رفت کے تحت 6 ڈپٹی رجسٹرارز (بی پی ایس-19) کو ترقی دے کر ایڈیشنل رجسٹرار (بی پی ایس-20) مقرر کر دیا گیا ہے۔جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ترقی پانے والے افسران میں مسٹر عاصم خان، ملک شعیب سلطان، مسٹر منیر احمد، مسٹر محمد قذافی خان، مسٹر محمد عیسیٰ اور مسٹر نثار احمد شامل ہیں۔ ان تقرریوں کا اطلاق مختلف تاریخوں سے ہوگا جن میں 30 اگست 2025، 4 جنوری 2026 اور 13 مارچ 2026 شامل ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ترقی پانے والے تمام ایڈیشنل رجسٹرارز ایک سال کی مدت کے لیے پروبیشن پر رہیں گے، جیسا کہ ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ (اپائنٹمنٹ اینڈ کنڈیشنز آف سروس) رولز 2020 میں درج ہے۔

خبرنامہ نمبر 3293/20206
کویٹہ 22 اپریل ۔انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات بلوچستان کیپٹن ( ر) عبدل سعید نوید نے آج سینٹرل جیل ژوب اور ڈسٹرکٹ جیل لورالائی کا اہم اور تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیکیورٹی، انتظامی امور اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کا جامع جائزہ لیا اور متعدد اہم احکامات جاری کیے۔دورے کے دوران آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان، ڈی آئی جی ایسٹ لورالائی عبداللہ خان کاکڑ اور دیگر اعلیٰ افسران کے ہمراہ سینٹرل جیل ژوب پہنچے، جہاں سپرنٹنڈنٹ چٹا خان نے ان کا استقبال کیا اور جیل کے انتظامی و سیکیورٹی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ آئی جی نے جیل کے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے صفائی، قیدیوں کی رہائش، خوراک، طبی سہولیات اور نظم و ضبط کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں ہدایت جاری کی کہ جیل کے اندر منشیات اور موبائل فون کے استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف فوری انکوائری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان نے قیدیوں کے حقوق پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بہتر رہائش، معیاری خوراک، صفائی، تعلیم اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے قیدیوں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی حل کے احکامات جاری کیے، جبکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ قیدیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی اور قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے تاکہ ان کی اصلاح و بحالی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے جیل عملے سے ملاقات کے دوران ان کے مسائل بھی سنے اور ہدایت دی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں اور ہر صورت نظم و ضبط برقرار رکھیں۔بعد ازاں آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان نے ڈسٹرکٹ جیل لورالائی کا دورہ کیا، جہاں سپرنٹنڈنٹ سکندر خان کاکڑ نے استقبال کیا اور جیل کے انتظامی امور پر بریفنگ دی۔ آئی جی نے وہاں بھی جیل کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور وہی سخت ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی، خصوصاً منشیات اور موبائل فون کے استعمال کو فوری طور پر روکا جائے اور قیدیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
دورے کے اختتام پر آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان نے وزیراعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کی تمام جیلوں کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے 33 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان فنڈز سے جیلوں کے انفراسٹرکچر، سہولیات اور مجموعی ماحول میں نمایاں بہتری آئے گی اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر3294/2026
کوئٹہ22 اپریل۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج ہم نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے چھٹے سینیٹ اجلاس میں میڈیکل کی تعلیم میں بہترین کارکردگی کو یقینی بنانے کیلئے مختلف شعبوں میں ایم فل پروگرام شروع کرانے کا تاریخی فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں مذکورہ یونیورسٹی جلد ہی جدید طبی شعبوں میں پیشہ ورانہ ماہرین پیدا کرنا شروع کریگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہائیر ایجوکیشن سیکٹر میں “سینیٹ” کو وہی اختیار حاصل ہے جو حکومت میں “کابینہ” کو حاصل ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر جب سینیٹ کوئی فیصلہ کر لیتی ہے تو پھر وہی فیصلہ حتمی رہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے چھٹے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹ اجلاس میں صوبائی وزیرتعلیم راحیلہ حمید خان درانی، بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس گل حسن ترین، وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم جہانزیب مندوخیل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندہ پروفیسر ڈاکٹر ظہور بازئی اور رجسٹرار بولان میڈیکل یونیورسٹی اورنگزیب کاسی سمیت سینیٹ کے تمام ممبران موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم نے تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ کو بہتر بنانے کیلئے روز اول سے ان پر کڑی نظر رکھی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ ہم نے کسی بھی وائس چانسلر کی ذمہ داریوں میں کبھی مداخلت نہیں کی ہے۔ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں تمام وائس چانسلرز منصب اور کارکردگی کے اعلیٰ ترین معیارات پر فائز ہیں۔ اختیارات کے توازن اور ادارہ جاتی خودمختاری کے پیش نظر بولان میڈیکل یونیورسٹی دیگر یونیورسٹیوں کی طرح ایک روشن اور جدید مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ امید ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی اور ان کی پوری اسی جذبہ سے پیوستہ ہوکر شعوری کوششیں کرتے رہیں گے۔گورنر بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ہائیر ایجوکیشن میں انٹرنیشنل معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم ہمارے اسٹوڈنٹس کیلئے قابل رسائی اور سستی رہے۔ بولان میڈیکل یونیورسٹی کے چھٹے سینیٹ اجلاس کے شرکائ کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3295/2026
قلات 22اپریل ۔وزیرداخلہ بلوچستان کے حلقئہ انتخاب ضلع قلات کی تحصیل خالق آباد میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں نقل کی روک تھام کیلئے اقدامات جاری ہیں ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کے ہدایت پر اے سی خالق آباد ڈاکٹر علی گل عمرانی نے ایف ایس سی کے امتحانات دینے والے مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیادورے کا مقصد شفافیت اور امتحانی قواعد کی سختی سے پابندی کو یقینی بنانا تھاامتحانی عمل کی مکمل نگرانی کی گئی اور انتظامات تسلی بخش پائے گئےطلباء کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اپنی محنت پر بھروسہ کریں اور نقل سے گریز کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3295/2026
استامحمد22اپریل ۔ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی دلچسپی اور کاوشوں کے نتیجے میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول خانپور جمالی کی خستہ حال عمارت کی مرمت اور اضافی کمروں کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے اس اہم اقدام سے نہ صرف تعلیمی ماحول میں بہتری آئے گی بلکہ طلباء اور اساتذہ کو درپیش مسائل میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی اس حوالے سے سکول کے ہیڈ ماسٹر نیاز محمد سومرو نے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سکول کی عمارت انتہائی خستہ حال ہو چکی تھی جس کے باعث ہر وقت یہ خدشہ لاحق رہتا تھا کہ کہیں چھت یا دیواریں گرنے سے طلبائ کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی تھیں اور والدین میں بھی تشویش پائی جاتی تھی ہیڈ ماسٹر نے مزید کہا کہ مرمتی کام اور نئے کمروں کی تعمیر سے یہ دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور سکول میں ایک محفوظ، بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم ہوگا۔ اس سے نہ صرف طلباءکی حاضری میں اضافہ ہوگا بلکہ تدریسی عمل بھی مزید موثر انداز میں جاری رکھا جا سکے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہتر سہولیات کی فراہمی کے بعد اساتذہ پوری لگن اور محنت کے ساتھ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے تاکہ طلباء کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3296/2026
کویٹہ 22 اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کااجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ای او میل/فیمیل، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ کے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے مختلف اہم فیصلے کیے گئے۔ نئے داخل شدہ بچوں کی تعداد اور ان کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ فنکشنل اور نان فنکشنل اسکولوں سے متعلق ڈیٹا بھی پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں غیر حاضر عملے کے حوالے سے بھی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر آر ٹی سی ایم کی جانب سے دورہ کیے گئے سرکاری اسکولوں کی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں غیر حاضر اسٹاف کی نشاندہی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ جن سرکاری اسکولوں کی عمارتیں موجود نہیں ہیں، ان کی تفصیلات فوری طور پر جمع کی جائیں تاکہ حکومت کی جانب سے وہاں عمارتوں کی تعمیر ممکن بنائی جا سکے۔ اسی طرح جن اسکولوں میں کلاس رومز کی کمی ہے، ان کی مکمل تفصیلات بھی جلد از جلد فراہم کی جائیں تاکہ نئے کلاس رومز کی تعمیر عمل میں لائی جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مختلف سرکاری اسکولوں میں واٹر ٹینکر، واش رومز اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے کہا کہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے اور تمام بچوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/3297
کوئٹہ 22 اپریل :ـصوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت منرل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن اتھارٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے جنگلات سردار مسعود خان لونی، صوبائی مشیر برائے ماحولیات نسیم الرحمن، سیکرٹری مائنز سیدال لونی، ڈی جی مائنز عبداللہ شاہوانی، مائنز اونر ایسوسی ایشن کے صدر میر بیرز ریکی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مائنز ایکٹ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مائنز اونر ایسوسی ایشن کے خدشات کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس کے علاوہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مائنز سیکٹر پر عائد رائلٹی اور ٹیکسز پر نظرثانی کی جائے گی اور انہیں پاکستان کے دیگر صوبوں کے برابر لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اسی طرح مائنز کے شعبے کو جدید ٹیکنالوجی اور مشینری سے آراستہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں مائنرز کی حفاظت کے لیے جامع حکمت عملی اور نئی پالیسیاں وضع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ طے پایا کہ کمیٹی کا اجلاس ہر دو ماہ بعد منعقد کیا جائے گا تاکہ مائنز سیکٹر کی بہتری اور ترقی کے لیے مسلسل پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ مائنز سیکٹر صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومت اس شعبے کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور مزدوروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ ٹیکس نظام میں بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس شعبے کو ایک مضبوط اور منظم بنیاد فراہم کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3298
کوئٹہ22 اپریل:ـحکومتِ بلوچستان کے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز سے گرفتار ہونے والی ایک طالبہ کے خلاف دہشتگردوں کی معاونت اور سہولت کاری کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں، جن کی بنیاد پر قانونی طریقۂ کار کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی اپنے جاری ایک بیان میں انہوں نے وضاحت کی کہ متعلقہ اداروں کو شواہد موصول ہونے کے بعد کیس کو مکمل قانونی دائرہ کار میں لیتے ہوئے تمام تقاضے پورے کیے گئے۔ مذکورہ طالبہ کو قوانین کے مطابق انٹرنمنٹ و ڈٹینشن سینٹر منتقل کیا گیا ہے، جہاں اسے قانون کے تحت رکھا گیا ہے بابر یوسفزئی نے بتایا کہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے حراست کے احکامات گزشتہ روز جاری کیے گئے، جبکہ طالبہ کے اہلِ خانہ کو بھی قانونی تقاضوں کے مطابق حراست سے باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں تمام کارروائی مقررہ قوانین اور ایس او پیز کے مطابق انجام دی گئی ہے اور کیس کو مکمل طور پر قانونی طریقۂ کار کے تحت ہینڈل کیا جا رہا ہے معاون برائے داخلہ نے عوام اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ حقائق پر مبنی معلومات ہی سامنے آئیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3299
کوئٹہ 22 اپریل: ـاسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور بالخصوص صوبائی اسمبلی کی حفاظت کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد، اور ایڈیشنل سیکرٹری فیاض علی نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری نے اسپیکر کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی۔اسپیکر نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات اور غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر اور سخت بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے خاص طور پر بلوچستان صوبائی اسمبلی کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے پر زور دیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیکیورٹی پلان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی کو مؤثر بنایا جائے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو مزید بہتر کیا جائے۔یہ اجلاس موجودہ غیر یقینی اور غیر متوقع حالات کے پیش نظر منعقد کیا گیا، جس کا مقصد ممکنہ خطرات کا سدِباب اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا تھا۔
خبر نامہ نمبر 2026/3300
استامحمد21اپریل :ـموجودہ حکومت وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبے اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی اپنے حلقہ انتخاب میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری کو ترجیح دیتے ہوئے نوجوانوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سکولوں کی تعمیر، مرمت، اپ گریڈیشن اور اضافی کمروں کی تعمیر کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں صوبائی وزیر کی خصوصی ہدایات پر سردارزادہ میر ضرار خان جمالی نے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن عبدالکریم مستوئی اور سب انجینئر کنسٹرکشن اینڈ ورکس عبدالباسط بوھڑ کے ہمراہ مختلف تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ کیاان اداروں میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سردار رستم خان جمالی، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول خانپور جمالی، گورنمنٹ بوائز مڈل سکول اللہ ڈنہ رند، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نور پور جمالی، گورنمنٹ بوائز مڈل سکول علی آباد جمالی، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول استامحمد اور گورنمنٹ بوائز مڈل سکول قربان کالونی استامحمد شامل ہیں
دورے کے دوران انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا کمیٹی نے تمام منصوبے بروقت مکمل کرنے اور ان کے معیار کو ہر صورت یقینی بنانے پر زور دیا اس موقع پر ہیڈ ماسٹرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے سکولوں میں جاری ترقیاتی کاموں کی خود بھی نگرانی کریں، معیار کی جانچ پڑتال پر خصوصی توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تعلیمی ماحول مزید بہتر بنایا جا سکے
زیرِ تعلیم طلباء نے صوبائی وزیر برائے لائیو سٹاک سردارزادہ میر فیصل خان جمالی کی تعلیم دوست پالیسیوں اور سکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر و مرمت کے اقدامات پر ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اساتذہ کرام نے بھی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
خبر نامہ نمبر 2026/3301
خضدار22اپریل:ـ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیر صدارت ڈی سی آفس خضدار میں سبزی منڈی مارکیٹ سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈی جی پی ار قلات ڈویژن شبیر احمد بلوچ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر علم دین ، اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ ، مارکیٹ کمیٹی کے افسران عبدالخالق گزگی فرید اکبر پولیس آفیسر محمد عالم جھالاوان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن خضدار کے صدر چیف حاجی محمد نور زہری آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد جتک انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل ضلعی افسران اور دیگر متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کا مقصد چیف سیکریٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں سبزی منڈی سے ریونیو جنریشن کے معاملات کو دیکھنے ، مارکیٹ کے نظام کو بہتر بنانے اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ جھالاوان سبزی منڈی خضدار نہ صرف ضلع بلکہ پورے ریجن کے لیئے تازہ اجناس کی مارکیٹنگ، خرید و فروخت اور بین الصوبائی تجارت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مارکیٹ کو جدید خطوط پر استوار کر کے مزید ترقی دینے کے اقدامات بدستور آگے بڑھائے جائیں گے ۔اس تجارتی مرکز سے ایک طرف حکومت کو ریونیو کی مد میں خاطر خواہ آمدنی حاصل ہوگی، تو دوسری طرف عوام کو معیاری سبزیاں و پھل مناسب نرخوں پر دستیاب ہوں گے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی نے ہدایت کی کہ سبزی منڈی میں صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی کے انتظامات یقینی بنانے کے ساتھ نرخ نامہ مناسب انداز میں جاری کیا جائے تاکہ ناجائز منافع خوری روکی جا سکے۔ دور دراز سے آنے والے زمینداروں اور کاشتکاروں کے لیئے منڈی میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر علم دین ، اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ ، مارکیٹ کمیٹی کے افسران عبدالخالق گزگی فرید اکبر ڈی ایس پی محمد عالم لہڑی جھالاوان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن خضدار کے صدر چیف حاجی محمد نور زہری آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد جتک انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل نے اپنے تجاویز پیش کیئے ۔ اس موقع پر رئیس محمد اکبر گنگو بھی موجود تھے ۔

خبر نامہ نمبرRECAST 3292/2026
کوئٹہ22 اپریل: بلوچستان ہائی کورٹ میں اہم انتظامی ترقیوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔ معزز چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے پروموشن کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں چھ (6) ڈپٹی رجسٹرارز (بی پی ایس-19) کو ترقی دے کر ایڈیشنل رجسٹرار (بی پی ایس-20) کے عہدوں پر ترقی دینے کی منظوری دے دی ہے جبکہ (9) پرائیویٹ سیکریٹریز (بی پی ایس-18) کو ڈپٹی رجسٹرار (بی پی ایس-19) مقرر کر دیا گیا ہے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار کے عہدوں پر ترقی پانے والے افسران میں عاصم خان، ملک شعیب سلطان، منیر احمد، محمد قذافی خان، محمد عیسیٰ اور نثار احمدجبکہ ڈپٹی رجسٹرار کے عہدوں پر ترقی پانے والوں میں اسداللہ خان، اسلم خان، عبدالناصر، زاہد حسین، گل شاہ خان بابر، محمد زبیر، عصمت اللہ، محمد آصف اور سید ذوالفقار علی شاہ شامل ہیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/3302
دکی22اپریل: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کلی دکی میں عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کیلئے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر 87 ونگ کے میجر علی رضا، ایس پی دکی منصور احمد بزدار، اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال، چیئرمین میونسپل کمیٹی ملک کلیم اللہ ترین، مختلف لائن ڈپارٹمنٹس کے افسران اور مکینِ علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جس کے بعد اہلِ علاقہ کو کھل کر اپنے مسائل بیان کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ شرکاء نے صاف پانی کی فراہمی، تعلیمی سہولیات کی بہتری، صحت کے مراکز میں عملے اور ادویات کی کمی، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سڑکوں کی خستہ حالی، منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور ہوائی فائرنگ جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی کی۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے تمام شکایات اور مسائل کو نہایت توجہ سے سنا اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران سے وضاحت طلب کی۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ بعض مسائل کو فوری طور پر موقع پر ہی حل کر دیا گیا، جبکہ دیگر مسائل کے حل کیلئے متعلقہ محکموں کو ٹائم لائن دی گئی اور ان کی باقاعدہ مانیٹرنگ کا حکم دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنا اور لوگوں کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے۔ آخر میں ڈپٹی کمشنر نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کھلی کچہریوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ لوگوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3303
قلعہ سیف اللہ22اپریل:۔اسٹنٹ کمشنر عمران مندوخیل نے گورنمنٹ پرائمری اسکول کلی عبد الکاریز کا دورہ کیا، اسسٹنٹ کمشنر قلعہ سیف اللہ نے طلباء سے خوشگوار اور حوصلہ افزا ماحول میں ملاقات کی۔ مختلف کلاسوں کاوزٹ کیا، طلباء میں اسکول بیگز تقسیم کیے گئے تاکہ وہ اپنی تعلیم کو بہتر انداز میں جاری رکھ سکیں۔انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کا فروغ نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی اداروں کی بہتری اور شرح خواندگی میں اضافہ کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں تمام قواعد و ضوابط اور سرکاری پروٹوکول کی مکمل پابندی کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔اس دورے کو اساتذہ، طلباء اور مقامی افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کو سکول سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا اس پر اسسٹنٹ کمشنر نے ان مسائل کو حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ اساتذہ طلبا اور مقامی افراد نے اس دورے کو بے حد سراہا اور اسے ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/3304
قلعہ عبداللہ 22اپریل:۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے آج گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول میزئی اڈہ کا تفصیلی دورہ کیا انہوں نے مختلف کلاسوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ہیڈ ماسٹر عزت اللہ کاکڑ نے ڈی سی قلعہ عبداللہ کو اسکول کے حوالے سے مختلف شعبہ جات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ہیڈ ماسٹر نے اسکول کو درپیش مسائل، ضروریات اور دستیاب سہولیات سے بھی ڈی سی قلعہ عبداللہ کو معلومات فراہم کی گئی ڈپٹی کمشنر کو مختلف کلاس رومز کا دورہ کرایا گیا اس دورے کے دوران ایس ایچ او سلیم کاکڑ ناصر مسے زئی بھی ڈی سی کے ہمراہ تھے ڈپٹی کمشنر نے کلاس رومز میں جاری تدریسی عمل کا بغور جائزہ لیا، طلبہ کی حاضریاں تعلیمی معیار اور اساتذہ کی کارکردگی کا بغور معائنہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا اساتذہ اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں اور وقت کی پابندی کریں اور اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، محنت اور لگن کے ساتھ ادا کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور اسکولوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو باقاعدگی سے اسکول بھیجیں انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور والدین بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں، تاکہ وہ مستقبل میں ملک و قوم کے کارآمد شہری بن سکیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/3305
کوئٹہ22 اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ کتب 23 اپریل کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ کتاب انسان کی فکری تربیت، شعوری بالیدگی اور مہذب معاشرے کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطالعہ نہ صرف علم کے دروازے کھولتا ہے بلکہ انسان کو وسیع النظر، باشعور اور ذمہ دار شہری بننے میں بھی مدد دیتا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان سمیت پورے ملک میں مطالعہ کے فروغ کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو مثبت سمت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کتابیں ہمیں مختلف خیالات، تہذیبوں اور تجربات سے روشناس کرواتی ہیں، جس سے برداشت، مکالمہ اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں معلومات تک رسائی آسان ہو گئی ہے، وہیں کتابوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ کتاب ہی مستند علم اور گہری سوچ کی بنیاد فراہم کرتی ہے میر سرفراز بگٹی نے اساتذہ، والدین اور تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں میں مطالعہ کی عادت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں اور انہیں معیاری کتب تک رسائی فراہم کریں تاکہ وہ علمی و فکری طور پر مضبوط بن سکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیمی بہتری اور علمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں لائبریریوں کے قیام، کتب کی فراہمی اور تعلیمی ماحول کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر اس عزم کی تجدید کریں کہ کتاب اور علم سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں گے اور ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان و پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3306
کوئٹہ22 اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پاکستان ٹیلی ویژن کی ایوارڈ یافتہ سینئر آرٹسٹ دردانہ بلوچ کی اچانک سرِ راہ غیر متوقع ملاقات ہوئی، جس کے دوران سینئر فنکارہ نے اپنی مالی مشکلات سے آگاہ کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دردانہ بلوچ کی بات کو توجہ سے سنتے ہوئے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ حکومت اپنے فنکاروں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ آپ کو فاقہ کشی کا شکار نہیں ہونے دیں گے اور آپ کی ہر ممکن مدد کی جائے گی اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے محکمہ ثقافت کو ہدایت جاری کی کہ سینئر آرٹسٹ دردانہ بلوچ کی مکمل سرپرستی کو یقینی بنایا جائے اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سینئر فنکار ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔ انہوں نے دردانہ بلوچ کو یقین دلایا کہ ان کا مکمل خیال رکھا جائے گا اور حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3307
زیارت 22اپریل:۔ترقی فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام 2022کے سیلاب متاثرین میں ضلع زیارت، تحصیل زیارت میں IFRAP-HRU پراجیکٹ کے تحت مستحقین میں ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کیش ڈسٹری بیوشن چیک تقسیم کئے گئے۔پہلے مرحلے میں 13، دوسرے مرحلے میں 39 اور تیسرے مرحلے میں 90 مستحقین (BNFs) کو نقد امداد فراہم کی گئی۔اس موقع پر ترقی فاؤنڈیشن کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر زیشان علی کاکڑتحصیلدار زیارت۔،نوراحمد کاکڑبھی موجود تھے اس موقع پر باقاعدہ طور پر 100,000 روپے کی پہلی قسط جاری کرکے عمل کا آغاز کیامجموعی طور پر کیش ڈسٹری بیوشن کا عمل نہایت منظم اور شفاف طریقے سے مکمل ہوا۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ سیلاب متاثرین میں ترقی فاؤنڈیشن کی جانب سیچیک کی تقسیم خوش آئند ہے اس اقدام سے سیلاب متاثرین کی مشکلات کا کافی حد تک ازالہ ہوگا۔
خبر نامہ نمبر 2026/3308
زیارت 22اپریل:۔یونیسیف کے زیر اہتمام زیارت میں ہیڈ ٹیچرز کے لیے آٹھ روزہ ٹریننگ کا انعقاد کیا گیا تقریب کے اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی تھے ڈسٹرکٹ مینیجر یونیسیف فداحسین پانیزئی نے ڈپٹی کمشنر کو ویلکم کہا،اس موقع پر ڈی ڈی او نقیب اللہ کاکڑ،تحصیلدار نور احمد کاکڑ بھی موجود تھے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا ہیڈ ٹیچرز کی ٹریننگ کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے اور ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد ہیڈ ٹیچرز اپنی سروسز بہترین طریقے سے منتقل کریں گے اور نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں گے انہوں نے کہا تمام اساتذہ اپنی اسکولوں میں داخلہ مہم کو مزید تیز کریں،اسکولوں میں عوضی اساتذہ کی تعیناتی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے،اسکولوں میں بی ایس ڈی آئی کے فیز ون اور فیز ٹو کے جو سکیمات ہے ان کو جلد مکمل کیا جائے،ورلڈ بینک کے تعاون سے اسکولوں میں جلد ہی کام شروع کریں گے اور آئندہ ہفتے اسکولوں میں چیک تقسیم کریں گے کمپرومائز نہیں کی فروغ کے لیے اقدامات تقریب کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی،ڈسٹرکٹ مینیجر یونیسیف فداحسین پانیزئی،ڈی ڈی او نقیب اللہ کاکڑ،تحصیلدار نوراحمد کاکڑ نے ہیڈ ٹیچرز میں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3309
موسیٰ خیل22 اپریل:۔ضلع موسیٰ خیل میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ کے ہمراہ (M&E) آفیسر عبدالرؤف جعفر نے تحصیل کنگری اور اس کی مختلف یونین کونسلز کا مشترکہ اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس دوران BHU کوٹ خان محمد، BHU کنگری، BHU کھجوری، BHU سکندر لاکھی اور BHU راڑہ شم کا معائنہ کیا گیا۔اس دورے کا بنیادی مقصد اسٹاف کی حاضری کو یقینی بنانا، EPI سینٹرز میں ILR کی درست فعالیت اور مینٹیننس کا جائزہ لینا، ریکارڈز کی جانچ پڑتال کرنا اور ویکسین و ادویات کی دستیابی کو چیک کرنا تھا۔ اس کے ساتھ جاری 16 روزہ (IOA) مہم کی مؤثر نگرانی بھی کی گئی۔دورے کے دوران ویکسینیٹرز کی حاضری، فیلڈ سرگرمیوں اور مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ویکسینیٹرز کے رجسٹرز، ڈیفالٹر لسٹ اور زیرو ڈوز (0 Dose) بچوں کی فہرستوں کو بھی چیک کیا گیا تاکہ کسی بھی بچے کو نظر انداز نہ ہونے دیا جائے۔ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے خود فیلڈ میں جا کر ویکسینیٹرز کے ہمراہ گھر گھر وزٹ کیا اور بچوں کی ویکسینیشن کے عمل کی نگرانی کی۔ خصوصاً ان گھروں پر خصوصی توجہ دی گئی جہاں زیرو ڈوز بچے موجود تھے۔ انہوں نے کمیونٹی کے افراد، بالخصوص گھروں کے سربراہان سے ملاقات کر کے ویکسینیشن کی اہمیت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔دورے کے اختتام پر تمام ویکسینیٹرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی فیلڈ حاضری اور کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں، ریکارڈز کو مکمل اور اپڈیٹ رکھیں اور اس بات کو ہر صورت یقینی بنائیں کہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہ جائے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3310
چمن22اپریل:ـچمن میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے پوست کی غیر قانونی کاشت کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق افسران نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈرون کے ذریعے مختلف علاقوں کی نگرانی کی اور مشتبہ مقامات کی نشاندہی کی۔متعلقہ حکام نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد منشیات کی پیداوار کی روک تھام اور علاقے میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے جبکہ ڈرون سرویلنس کے ذریعے ان علاقوں تک بھی رسائی ممکن ہوئی جہاں زمینی ٹیموں کے لیے پہنچنا مشکل تھا۔محکمہ حکام کا کہنا ہے کہ نشاندہی کے بعد جلد ہی متعلقہ مقامات پر کارروائیاں تیز کی جائیں گی اور غیر قانونی فصلوں کو تلف کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے خلاف اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔اس موقع پر مقامی افراد نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقے میں منشیات کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں مدد ملے گی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *