5th-March-2026

خبرنامہ نمبر1937/2026
کوئٹہ، 5 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ایران میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان کی تمام متعلقہ مشینری کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور صوبائی حکومت ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے نے کہا کہ پاکستان۔ایران سرحد کے راستے پاکستانی شہریوں سمیت غیر ملکیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جنہیں تفتان بارڈر پر ہر ممکن سہولیات اور ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سرحدی علاقوں میں انتظامی اور سیکیورٹی اداروں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ آنے والے افراد کی آمد و رفت کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامات یقینی بنائے جائیں انہوں نے کہا کہ تفتان بارڈر پر امیگریشن، سیکیورٹی اور ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ ادارے ہمہ وقت اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں تاکہ پاکستان میں داخل ہونے والے افراد کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اب تک تفتان بارڈر کے ذریعے مجموعی طور پر 1979 افراد پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں جن میں 37 سفارتکار بھی شامل ہیں انہوں نے کہا کہ آنے والے تمام افراد کو ضروری سہولیات، رہنمائی اور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے اور حکومت بلوچستان اس عمل کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے تحت سرحد پر آنے والے افراد کو بھرپور تعاون اور سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

خبرنامہ نمبر1938/2026
کوئٹہ بلوچستان ریونیواتھارٹی کی انفورسمنٹ ٹیم نے بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کی عدم تعمیل پر صوبے بھر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق ٹی فار یو، بٹ کڑاہی، کیو ایف سی، اور میر افضل کڑاہی ہوٹل کو ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر سیلنگ نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں بی آر اے نے ٹیکس قوانین کی مسلسل عدم تعمیل پر 57 ٹریول ایجنٹس، 27 ایل پی جی پلانٹس اور درجنوں دیگر سروس سیکٹر سے تعلق رکھنے والے سروس پرووائیڈرز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائ جا رہی ہیں تاکہ واجب الادا سرکاری محصولات کی وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ رجسٹریشن نہ کروانے، ٹیکس ریٹرنز بروقت جمع نہ کرانے اور واجبات ادا نہ کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں کاروباری مراکز کی سیلنگ اور بینک اکاؤنٹس کی ضبطی شامل ہے۔ بی آر اے نے تمام سروس فراہم کنندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی اور اضافی مالی بوجھ سے بچا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1939/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) بلوچستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عزیز کاکڑ نے ایل پی جی/گیس ڈیکینٹنگ اسٹیشنز کے حوالے سے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور بھی موجود تھے ۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر اوگرا گوادر میں ایل پی جی گیس کو درپیش مسائل کے حل کے لیے خصوصی طور پر گوادر پہنچے، جہاں انہوں نے ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ حکام کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔ ملاقات کے دوران ایل پی جی کی ترسیل، سیفٹی اقدامات، لائسنسنگ اور عوام کو درپیش مشکلات سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ایل پی جی ڈیکینٹنگ اسٹیشنز کو ضابطہ کار کے مطابق فعال بنایا جائے گا اور عوام کو محفوظ، معیاری اور بلاتعطل گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر1940/2026
تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے جمعیت علمائ اسلام تربت کے امیر مولانا غلام اللہ نقشبندی دُرزادہ نے ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں ملاقات کی۔ اس دوران ملاقات میں جمیعت علمائ اسلام کے ضلعی رہنما بھی ملاقات میں موجود تھے ۔ملاقات کے دوران ضلع کیچ میں احترامِ رمضان المبارک کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جمعیت علمائ اسلام کے ذمہ داران کو یقین دہانی کرائی گئی کہ رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس حوالے سے قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوام کو رمضان المبارک کے احترام کا خیال رکھنا چاہیے، تاہم مریضوں اور مسافروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کھانے پینے کے معاملات میں احتیاط اور پردہ داری کا خاص خیال رکھیں۔ملاقات کے دوران مولانا غلام اللہ نقشبندی دُرزادہ کی جانب سے شہر کے بعض مقامات اور چند ہوٹلوں میں دن کے وقت کھانے پینے کے واقعات کی نشاندہی بھی کی گئی، جس پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ بعد ازاں ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے مختلف ہوٹلوں کا دورہ کرکے مالکان کو سختی سے تنبیہ کی اور رمضان المبارک کے احترام کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔جمعیت علمائ اسلام کے ذمہ داران نے اس بات پر زور دیا کہ اگر علمائ کرام اور ضلعی انتظامیہ باہمی ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ کام کریں تو معاشرے میں نظم و ضبط اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے اور کسی کو بھی بدامنی پھیلانے کا موقع نہیں ملے گا۔ اس موقع پر اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اپنی قانونی اور شرعی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرتی رہے گی۔

خبرنامہ نمبر1941/2026
تربت ۔گرلز کیڈٹ کالج تربت میں یوتھ انگیجمنٹ پروگرام کے تحت “زندگی کا درست زاویہ نظر اور مثبت طرزِ فکر” کے موضوع پر ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں کمانڈنٹ مکران اسکاوٹس بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے، جبکہ پرنسپل، اساتذہ سمیت 200 طالبات نے شرکت کی۔اس موقع پر تقریب میں کمانڈنٹ نے “زندگی کا درست زاویہ نظر اور مثبت طرزِ فکر” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے طالبات کو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگی میں واضح مقاصد کا تعین کریں، نظم و ضبط کو اپنائیں، محنت اور ستقامت کو شعار بنائیں اور معاشرے کی مثبت تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔اس موقع پر دو مستحق کیڈٹس فاطمہ غفار اور ایمان جہانزیب کو تعلیمی وظائف دینے کا اعلان کیا گیا تاکہ انہیں تعلیم کے ذریعے بااختیار بنایا جا سکے اور ان کے روشن مستقبل کی راہ ہموار ہو۔بعد ازاں تقریب کے اختتام پر پرنسپل، اساتذہ اور طالبات نے ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کا شکریہ ادا کیا۔

خبرنامہ نمبر1942/2026
نصیرآباد۔۔۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں پاک فوج کی قیادت اور شہدائ کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ضلع جعفرآباد میں ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کی۔ ریلی کا آغاز ڈی سی آفس جعفرآباد سے ہوا جو شہر کے مختلف شاہراہوں اور اہم مقامات سے گزرتی ہوئی دوبارہ ڈی سی آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکائ نے ہاتھوں میں قومی پرچم، پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر پاک فوج اور شہدائ کے حق میں نعرے درج تھے۔ ریلی میں ضلعی افسران، مختلف محکموں کے نمائندے، سیاسی و سماجی شخصیات، قبائلی عمائدین، معتبرین علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پاک فوج سے اپنی والہانہ محبت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ ریلی کے شرکائ نے “پاک آرمی زندہ باد”، “پاکستان پائندہ باد” اور “شہدائ ہمارے فخر ہیں” کے فلک شگاف نعرے لگائے جس سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں پاک فوج کے جوان جس جرات، بہادری اور پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ ملکی سالمیت، دفاع اور استحکام کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں پوری قوم انہیں سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہر مشکل وقت میں اپنی قربانیوں سے وطن عزیز کا دفاع کیا ہے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے جارحانہ عزائم کو ماضی میں بھی ناکام بنایا اور ہر میدان میں اسے منہ توڑ جواب دیا جس کی مثالیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ایک نڈر، بہادر اور منظم قوت ہے جو دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی رہتی ہے اور ملک کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر سطح پر یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائ کی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور ان کی بدولت آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ریلی کے اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام اور شہدائ کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

خبرنامہ نمبر1943/2026
نصیرآباد۔۔۔۔۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائر ذوالفقار علی کرار نے کہا ہے کہ پاکستان کی آرمی دنیا میں ایک عظیم رتبہ اور مان رکھتی ہے جس نے ہمیشہ جنگ کے ہر موڑ پر اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کئے ہیں اس وقت بھی پاک آرمی سرحدوں پر ملکی سالمیت اور تحفظ کے لیے جنگ لڑ رہی ہے آج کی ریلی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پوری قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں پاک آرمی کے حق میں نکالی گئی ریلی کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کیا پاکستان ذندہ باد ریلی ڈپٹی کمشنر نصیرآباد آفس سے نکالی گئی ریلی میں ضلعی آفیسران سیاسی و سماجی شخصیات سکولوں کے طلبائ شریک تھے شرکائ نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر پاک فوج کے حق میں نعرے درج تھے ریلی اللہ ہو چوک سے ہوکر واپس ڈی سی آفس پہنچی شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ آج کی ریلی میں شرکائ نے شرکت پاک آرمی سے والہانہ محبت کا اظہار کیا ہے ہم پوری قوم متحد اور منظم ہیں اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے کہا کہ آج کی اس ریلی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پوری قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں یہ پیغام دیا جائے کہ پاکستانی عوام اپنی افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے مزید کہا کہ آج کی ریلی میں عوام، افسران اور طلبائ کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم متحد، منظم اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہمارے لیے فخر کا باعث ہے اور اس کی قربانیاں پوری قوم کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی بہادر افواج پر فخر ہے اور ہم ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر1944/2026
کوئٹہ 5 مارچ :سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالرئوف بلوچ کی زیرِ صدارت محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور مختلف انتظامی امور کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں، منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل محکمہ لوکل گورنمنٹ ایوب قریشی، سیکرٹری بلوچستان لوکل گورنمنٹ بورڈ شجاعت علی، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی ثنائ اللہ قریش ، ڈائریکٹر آر ڈی اے عارف منگل ، ڈیپٹی ڈائریکٹر بی پی پی آر اے (BPRA) نعمان رزاق سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مختلف اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور نامکمل ترقیاتی اسکیموں کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ نامکمل ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو بنیادی بلدیاتی سہولیات بروقت فراہم کی جاسکیں۔ اس موقع پر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے نئے ترقیاتی منصوبوں کے کانسپٹ پیپرز پر بھی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے دوران بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPPRA) کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ سے متعلق امور اور سرکاری خریداری کے طریقہ کار پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ علاوہ ازیں محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بجٹ کال سرکلر 2026-27 کے اہم نکات اور اس کے تحت آئندہ مالی سال کی منصوبہ بندی کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں محکمہ بلدیات و دیہی ترقی میں بھرتیوں کی موجودہ صورتحال، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور محکمہ کی سہ ماہی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں مختلف منصوبوں اور پروگراموں کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور معیار کو یقینی بنانا محکمہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ افسران جاری ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کریں اور مقررہ مدت میں ان کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں بلدیاتی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ عوام کو صاف پانی، صفائی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔سیکرٹری بلدیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کی پالیسی کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور ترقیاتی عمل میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر1945/2026
نصیرآباد5 مارچ :ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائر ذوالفقار علی کرار نے کہا ہے کہ پاکستان کی آرمی دنیا میں ایک عظیم رتبہ اور مان رکھتی ہے جس نے ہمیشہ جنگ کے ہر موڑ پر اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کئے ہیں اس وقت بھی پاک آرمی سرحدوں پر ملکی سالمیت اور تحفظ کے لیے جنگ لڑ رہی ہے آج کی ریلی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پوری قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک آرمی کے حق میں نکالی گئی ریلی کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کیا پاکستان ذندہ باد ریلی ڈپٹی کمشنر نصیرآباد آفس سے نکالی گئی ریلی میں ضلعی آفیسران سیاسی و سماجی شخصیات سکولوں کے طلبائ شریک تھے شرکائ نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر پاک فوج کے حق میں نعرے درج تھے ریلی اللہ ہو چوک سے ہوکر واپس ڈی سی آفس پہنچی شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ آج کی ریلی میں شرکائ نے شرکت پاک آرمی سے والہانہ محبت کا اظہار کیا ہے ہم پوری قوم متحد اور منظم ہیں اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے کہا کہ آج کی اس ریلی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پوری قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں یہ پیغام دیا جائے کہ پاکستانی عوام اپنی افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے مزید کہا کہ آج کی ریلی میں عوام، افسران اور طلبائ کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم متحد، منظم اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہمارے لیے فخر کا باعث ہے اور اس کی قربانیاں پوری قوم کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی بہادر افواج پر فخر ہے اور ہم ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر1946/2026
صحبت پور۔۔ ضلعی انتظامیہ صحبت پور و زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے پاک فوج کے حق میں ایک پروقار اور منظم ریلی کا انعقاد کیا گیا ریلی میں ضلعی و سول افسران اقلیتی برادری کے نمائندگان اور مختلف سماجی و شہری حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ریلی کا مقصد وطنِ عزیز کی سلامتی استحکام اور دفاع کے لیے پاک فوج کی لازوال خدمات اور کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ شرکائ قومی پرچم تھامے ہوئے تھے اور پاک فوج سے اپنی بھرپور یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے۔ اس موقع پر شرکائ کی جانب سے پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد اور پاک فوج زندہ باد” کے پُرجوش نعرے لگائے گئے جس سے قومی یکجہتی، حب الوطنی اور افواجِ پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار دیکھنے میں آیااس موقع پر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ اور قومی سلامتی کی مضبوط ضامن ہے جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کی امیدوں کا مرکز رہی ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، قدرتی آفات اور دیگر قومی چیلنجز کے دوران پاک فوج نے ہمیشہ پیش پیش رہ کر قوم کی خدمت کی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہےمقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کی سلامتی و استحکام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہے گی ریلی کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی کامیابی اور سربلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی.

خبرنامہ نمبر1947/2026
کچھی۔ زرعی انکم ٹیکس و دیگر گورنمنٹ کے بقایاجات کی وصولی کے حوالے سے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں اقدامات کو یقینی بنانے کے حوالے سے آج ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ایک اہم ریونیو اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ضلع بھر کے تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں، قانونگوؤں اور پٹواریوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے عمل کا جائزہ لینا، درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا اور وصولیوں کے عمل کو مزید مؤثر بنانا تھا اجلاس کے دوران تحصیل سطح پر زرعی انکم ٹیکس کی موجودہ صورتحال، اہداف اور اب تک کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر نے مختلف تحصیلوں کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیا اور جہاں وصولیوں کی رفتار سست پائی گئی وہاں فوری بہتری لانے کی ہدایت جاری کی شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل نے واضح کیا کہ زرعی انکم ٹیکس حکومتی آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس کی بروقت اور شفاف وصولی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیکس وصولی میں کسی قسم کی غفلت، سستی یا غیر ضروری رعایت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام ریونیو افسران اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کریں انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی محصولات کی بروقت وصولی سے ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اسکیموں اور سرکاری امور کی انجام دہی میں استحکام آتا ہے اس لیے ریونیو عملہ باہمی رابطے کو مضبوط بناتے ہوئے مربوط حکمت عملی اپنائے، فیلڈ میں متحرک کردار ادا کرے اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائےاجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام تحصیلدار اپنی اپنی حدود میں باقاعدہ مانیٹرنگ کا نظام فعال کریں، ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ پیش کریں اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کر کے محصولات کی وصولی کے عمل کو مزید تیز اور شفاف بنایا جائے۔

خبرنامہ نمبر1948/2026
نصیرآباد۔۔ پٹ فیڈرکینال کی سالانہ بندش کے دوران عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے احکامات جاری کئے ہیں اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے ایک اجلاس طلب کیا جس میں پٹ فیڈر کینال کی سالانہ بندش اور آبنوشی کے ذخائر کو بروقت بھرنے کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ، ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ظفر زہری، اسسٹنٹ کمشنر یو ٹیز محمد طحہٰ، نائرہ نور، انجینئر اظہار حسین، نائب تحصیلدار مہتاب مری، مزمل حسین کورار، غلام یاسین شاہ اور ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کے پی ایس منظور شیرازی سمیت دیگر متعلقہ آفیسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پٹ فیڈر کینال کی سالانہ بندش کے دوران شہریوں کو درپیش ممکنہ مسائل اور پانی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے پی ایچ ای کی جانب سے کیے جانے والے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ظفر زہری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پٹ فیڈر کینال کی سالانہ بندش کے پیش نظر ڈیرہ مراد جمالی کی تمام واٹر سپلائی اسکیموں کے تالابوں کو بھرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے تاکہ بندش کے دوران شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ٹیمیں مختلف مقامات پر متحرک ہیں اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پانی کے ذخائر کو زیادہ سے زیادہ بھرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ پٹ فیڈر کینال کی بندش کے دوران عوام کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام واٹر سپلائی اسکیموں کے تالابوں کو مشینری کے ذریعے جلد از جلد بھرنے کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ کٹھن حالات میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پانی کی بندش کے دوران ٹینکرز مالکان کو بھی مرحلہ وار پانی فراہم کیا جائے گا تاکہ شہری علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر نہ ہو اور پانی کے ضیاع کو بھی روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی جانب سے پٹ فیڈر کینال کی سالانہ بندش کے موقع پر بیدار پل کے مقام پر ہیڈ اپ کیا جائے گا جس کے باعث پانی کی ترسیل عارضی طور پر متاثر ہوگی، لہٰذا متعلقہ ادارے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے اور پانی جیسے اہم مسئلے پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائیں تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا.

خبرنامہ نمبر1949/2026
کوئٹہ 5 مارچ :سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیر صدارت پری فیب تھانوں، نوکنڈی ماسٹر پلان اور ایگرو مارکیٹس منصوبوں کا جائزہ اجلاس منعقدہوا جس میں پری فیب فورٹیفیکیشن آف تھانہ، نوکنڈی ماسٹر پلان اور پھل و سبزی منڈی (ایگرو مارکیٹ) منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں چھ زونز کے چیف انجینئرز، سپرنٹنڈنگ انجینئر خاران و واشک، سپرنٹنڈنگ انجینئر مکران، چیف آرکیٹکٹ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران متعلقہ حکام کی جانب سے تمام جاری منصوبوں کی پیش رفت، درپیش تکنیکی مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ تمام منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے خاص طور پر پری فیب فورٹیفیکیشن آف تھانہ منصوبے کے حوالے سے سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ جن اضلاع میں ابھی تک پری فیب تھانوں پر کام کا آغاز نہیں کیا گیا وہ عید تک اپنی کارکردگی واضح کریں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت تک تسلی بخش پیش رفت نہ ہوئی تو متعلقہ انجینئر آفیسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ پری فیب تھانوں کی تعمیر کا منصوبہ امن و امان کے حوالے سے نہایت اہم ہے اس لیے اس کی تکمیل میں مزید تیزی اور بہتری لانا ناگزیر ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اجلاس کے دوران ایگرو مارکیٹ (پھل و سبزی منڈی) منصوبے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے ہدایت دی کہ عید کے فوری بعد اس منصوبے کو ایوارڈ کیا جائے تاکہ تعمیراتی کام جلد شروع ہو سکے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ زرعی معیشت کے فروغ اور کسانوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم ہے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق ان اہم منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1950/2026
کوئٹہ، 5 مارچ :موجودہ صوبائی حکومت کی تعلیم دوستی و تعلیم سب کیلئے اور صوبہ بھر کے طلبائ و طالبات کیلئے معیاری درسی کتب حکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان نے تعلیمی سال 2026ئ کے لیے درسی کتب کی ترسیل اور اشاعت میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے درسی کتب کی 90 فیصد سے زائد کتب کامیابی کے ساتھ مکمل کرکہ لاہور سے کوئٹہ پہنچا دی گئی ہے، جو گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی مقررہ وقت سے پہلے مرحلے میں صوبے کے چھتیس (36) اضلاع کو مفت فراہم کی گئی ہیں ان خیالات کا اظہار کا صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے زیر اہتمام درسی کتب بڑے مفت تقسیم تعلیمی سال 2026 کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس موقع پر سیکٹرٹر ثانوی تعلیم لعل جان جعفر ،اسپشل سیکٹرٹری ثانوی تعلیم سلام خان اچگزئی ، چیرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر گلاب خان خلجی، ڈائریکٹر سکولز اختر کھتران ، سیکرٹری بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر نیاز ترین ، ڈائریکٹر بی ای ایم آئی ایس نعمت اللہ کاکڑ دیگر علی افسران نے شرکت کی صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے پرنٹنگ ٹینڈرز کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے صوبائی خزانے کو تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے کی خطیر بچت فراہم کی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے وژن اور سیکرٹری محکمہ تعلیم لعل جان جعفر کی واضح ہدایات کی روشنی میں عمل میں لائے گئے۔چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان خلجی نے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نہ صرف درسی کتب کی اشاعت کی لاگت میں نمایاں کمی کی بلکہ 1977ئ کی دہائی کے پرانے نصاب کو مکمل طور پر تبدیل کرتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نیا نصاب متعارف کروایا۔ یہ کامیابی بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے افسران اور عملے کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔محکمہ کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی سال 2023-24 میں 92 لاکھ 54 ہزار 625 درسی کتابیں 2 ارب 12 کروڑ 46 لاکھ روپے کی لاگت سے شائع کی گئیں، جبکہ 2024-25 میں 93 لاکھ 9 ہزار کتابوں کی اشاعت پر 1 ارب 8 کروڑ 66 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس کے برعکس 2025-26ئ میں ایک کروڑ 28 لاکھ درسی کتابیں محض 88 کروڑ 31 لاکھ روپے میں تیار کی گئیں، جو غیر معمولی بچت کی عکاس ہے۔اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کتابوں کی اشاعت 0.65 پیسہ فی صفحہ کے حساب سے ممکن بنائی گئی، جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ترین لاگت ہے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخوا میں یہی لاگت 0.79 پیسہ فی صفحہ رہی۔اسکول ڈائریکٹوریٹ کے مطابق رواں تعلیمی سال کے لیے ایک کروڑ 28 لاکھ کتابوں کی ڈیمانڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 35 لاکھ زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے تقریباً 4 ہزار سے زائد بند اسکولوں کی بحالی اور 10 ہزار سے زائد نئے اساتذہ کی بھرتی ہے۔نیشنل کریکلم آف پاکستان 2022-23 کے تحت پرائمری سے انٹرمیڈیٹ سطح تک نئے نصاب کے مطابق درسی کتب تیار کر لی گئی ہیں۔ نصاب میں ناظرہ و ترجمہ? قرآن، کمپیوٹر ایجوکیشن اور سپلیمنٹری لرننگ مٹیریل جیسے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، صحت و جسمانی تعلیم، شہریت اور اخلاقیات اور آرٹفیشل انٹیلیجنس کو شامل کیا گیا ہے۔تمام درسی کتب کو ایس او پیز کے مطابق انٹرنل اور پروونشل ریویو کمیٹیوں کے ذریعے جانچا گیا، جبکہ سیکرٹری تعلیم کی ہدایت پر اضافی دو سطحی جائزہ بھی لیا گیا۔محکمہ تعلیم کے مطابق آئندہ برس انگلش میڈیم کتب کو ترجیحی بنیادوں پر شائع کیا جائے گا، جبکہ معیار میں مزید بہتری کے لیے بکس بورڈ کے بجائے بلیچ کارڈ پیپر استعمال کیا جائے گا۔مزید بتایا گیا کہ غیر ضروری مواد کو کم کرکے نصاب کو اس انداز میں مرتب کیا گیا ہے کہ اساتذہ اور طلبہ سالانہ کورس بروقت مکمل کر سکیں اور طلبہ پر اضافی تعلیمی بوجھ نہ پڑے۔ شفاف ٹینڈرنگ، کم لاگت اور بہتر معیار پر مبنی اس ماڈل کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے.

خبرنامہ نمبر1951/2026
کوہلو 05 مارچ۔ ڈپٹی کمشنر عظیم جان دومڑ کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر آفس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنے مسائل پیش کئے۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے پانی، بجلی، آمدورفت، صحت اور تعلیم سے متعلق درپیش مسائل بیان کئے۔ ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد عوام کو براہ راست اپنے مسائل پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ ضلعی انتظامیہ عوامی مشکلات سے آگاہ ہو کر ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی، صحت، تعلیم اور آمدورفت جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لے کر فوری حل کو یقینی بنائیں۔کھلی کچہری میں مختلف محکموں کے ضلعی افسران نے بھی شرکت کی اور شہریوں کے مسائل سنے جبکہ کئی مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے گئے۔ شہریوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں اپنے مسائل براہ راست ضلعی انتظامیہ تک پہنچانے کا موقع ملا ہے۔

خبرنامہ نمبر 1952/2026
کوئٹہ/5 مارچ:ماہِ رمضان المبارک کے دوران عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں تابڑ توڑ کارروائیاں جاری ہیں۔ کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں اور پنجگور میں حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران مجموعی طور پر 3 یونٹس سیل جبکہ 25 سے زائد کھانے پینے کے مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق جان محمد روڈ کوئٹہ میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے معائنہ کے دوران سنگین خلاف ورزیوں پر 2 یونٹس کو سیل اور 2 جنرل اسٹورز مالکان کو جرمانہ کیا۔ بیکنگ یونٹ کو خراب و غیر معیاری انڈوں کے استعمال، انتہائی گندے بیکنگ ٹرے، دیگر بیکریوں کے پیکنگ لیبلز کے غیر قانونی استعمال (مِس برانڈنگ)، تیاری کے مقامات کی ناقص صفائی، پروسیسنگ ایریا میں باتھ روم کی موجودگی اور تیار مصنوعات پر تیاری و معیاد ختم ہونے کی تاریخ درج نہ کرنے جیسے سنگین نقائص پر سیل کیا گیا جبکہ ایک ڈسٹری بیوٹر یونٹ کو بچوں کیلئے ناقص اشیاء خوردونوش کی فروخت و ترسیل، غیر معیاری چاکلیٹس، جیلیز، بسکٹس اور کم معیار کے پاؤڈر چاکلیٹ و جوس کی بڑی مقدار مارکیٹ میں سپلائی کرنے پر بند کر دیا گیا۔ مزید برآں دو جنرل اسٹورز سے ممنوعہ آئٹم جے ایم گٹکا، نان فوڈ گریڈ کلر اور چائنیز نمک برآمد ہونے پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 4 فوڈ بزنس آپریٹرز کو ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ دریں اثناء نواں کلی میں انسپکشن کے دوران ایک یونٹ سیل اور ایک کو جرمانہ جبکہ 5 مراکز کو بہتری کے نوٹسز جاری کیے گئے۔ ایک تاجر کے ہاں کولڈ ڈرنکس میں گرد کے ذرات کی موجودگی، خریداری ریکارڈ کی عدم فراہمی اور معائنہ ٹیم سے نامناسب رویہ اختیار کرنے پر فوری طور پر یونٹ کو سیل کیا گیا۔ ایک بیکنگ یونٹ کو غیر صحت بخش ماحول، مصنوعات پر تیاری و میعاد ختم ہونے کی تاریخ درج نہ کرنے، ورکرز کے حفاظتی لباس کے بغیر کام، پیکنگ میں اخبار کے استعمال اور تیار اشیاء کو بغیر ڈھانپے رکھنے پر جرمانہ کیا گیا۔علاوہ ازیں دودھ سمیت ڈیری مصنوعات کی چیکنگ کیلئے بی ایف اے کی موبائل ملک سیفٹی ٹیموں کی خصوصی انسپکشن بھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں 5 دودھ فروشوں کو دودھ اور دہی میں ملاوٹ ثابت ہونے پر جرمانہ کیا گیا جبکہ موقع پر دودھ کے نمونے ٹیسٹ کر کے عوام کو ملاوٹ سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی گئی۔بی ایف اے حکام نے تمام مراکز مالکان کو فوڈ بزنس لائسنس کے حصول اور تمام ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ کارروائیوں کے دوران برآمد شدہ ایکسپائرڈ اور ممنوعہ اشیاء کو ضبط کرکے تلف بھی کر دیا گیا۔

خبرنامہ نمبر 1953/2026
نصیرآباد:ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا یہ اجلاس وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں منعقد کیا گیا جس کا مقصد ضلع کچھی میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینا اور جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی طے کرنا تھا.اجلاس میں ایس پی کچھی حافظ معاذالرحمان سمیت مختلف محکموں کے ضلعی و سول افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع کچھی میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، منشیات کی روک تھام، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں پائیدار امن و امان کا قیام ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون، مؤثر رابطہ کاری اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں تاکہ عوام کو محفوظ اور پُرامن ماحول فراہم کیا جا سکےڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ منشیات ایک سنگین سماجی ناسور ہے جو نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے اس لیے اس کے خاتمے کے لیے سخت اور بلاامتیاز اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ منشیات فروش عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی جائیں اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کیا جا سکےاجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ضلع کچھی میں امن و امان کے قیام، جرائم کی بیخ کنی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے اور اس حوالے سے باقاعدگی سے جائزہ اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 1954/2026
چمن 5 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی وژن کے مطابق رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے خوردونوش کی مقررہ نرخوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ کاکڑ نے آج شہر کے مختلف بازاروں اور مارکیٹوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران قصائیوں، نانبائیوں، درزیوں مشروبات مصالحہ جات اور جنرل اسٹورز کا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر حفظانِ صحت کے اصولوں، سرکاری نرخ ناموں کی نمایاں آویزاں کرنے، مقررہ قیمتوں پر فروخت، وزن اور معیار کی جانچ پڑتال اور دیگر متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن نے دکانداروں کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے دکانداروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایس او پیز سیفٹی پریکاشنز اور مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور عوام کو معیاری اور صاف ستھری اشیاء کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح اور ذمہداری ہے انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے اور بازاروں کی نگرانی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

خبرنامہ نمبر 1955/2026
قلات:اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد ڈاکٹرعلی گل عمرانی کے زیر صدارت خالق آباد میں ترقیاتی اسکیمات کے جائزے اور ریونیو مسائل سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں چیف آفیسر خالق آباد تحصیلدار خالق آباد ایس ڈی او PHE ایس ایچ او خالق آباد سمیت دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں خالق آباد میں آبنوشی اسکیمات پر یشرفت کا جائزہ اور خالق آباد شہر میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اراضیات سے متعلق درپیش مسائل کے حل کی جانب تبادلہ خیال کیاگیا اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹرعلی گل عمرانی نے کہا کہ محکموں کے سربراہان اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں اور جاری ترقیاتی اسکیمات جلدازجلد مکمل کریں تاکہ عوام ان اسکیمات سے مستفید ہوسکیں۔

خبرنامہ نمبر 1956/2026
تربت. وزیر اعلیٰ بلوچستان صوبہ بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح ضلع کیچ میں بھی سال 2026 کی اسکول داخلہ مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد اور دیگر تعلیمی افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہم کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلع بھر میں داخلہ مہم کے تحت 4 سے 6 سال عمر کے 18 ہزار بچوں اور بچیوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران ضلع کے 50 غیر فعال اسکولوں کو بھی فعال بنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی کوشش ہے کہ مقررہ ہدف سے بھی زیادہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضلع کیچ کے 718 سرکاری اسکولوں میں داخلوں کو یقینی بنانے کے لیے اسکولوں اور محلوں کی سطح پر واکس، آگاہی مہم اور مختلف تقریبات کا آغاز کیا جاچکا ہے تاکہ والدین کو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب دی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر بشیر احمد بڑیچ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ضرور اسکولوں میں داخل کرائیں کیونکہ تعلیم ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے قوم اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل اور فنی تعلیم پر بھی توجہ دینا ناگزیر ہے تاکہ نوجوان مستقبل کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کرسکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسکولوں سے باہر موجود بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے ڈسٹرکٹ، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر سیمینارز اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر امجد شہزاد اور محکمہ تعلیم کیچ کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد نے کہا کہ داخلہ مہم کے حوالے سے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ماتحت افسران کو واضح ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ کیچ، UNICEF، میڈیا اور سول سوسائٹی کے تعاون سے اس مہم کو کامیاب بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق تربت سمیت بلوچستان بھر میں تقریباً 20 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جنہیں تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم مختلف اقدامات کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 1957/2026
قلات۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی سے اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد ڈاکٹرعلی گل عمرانی تحصیلدار حاجی عبدالغفار لہڑی میرقادر بخش مینگل قبائلی رہنماء سردار عبدالفتاح عالیزئی ایم سی کونسلر احمدنواز بلوچ ٹینس بال کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر وحید مینگل اور دیگرنےملاقات کی ملاقات میں علاقے کو درپیش مسائل اور انکے حل سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ علاقے کے لوگوں کے مسائل سننا اور انکے حل کے لیئے مناسب اقدامات اٹھانا ضلعی انتظامیہ کی زمہ داری ہے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیئے تمام تروسائل بروے کار لائے جارہے ہیں علاقہ معززین مسائل کی مثبت نشاندہی کرکے انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ سے تعاون کریں ۔

خبرنامہ نمبر 1958/2026
قلات۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی سے جمعیت علماء اسلام کے رہنماء میرمبارک خان محمدحسنی مولانا عبدالسلام حافظ سرفراز عمرانی عبدالقدوس عمرانی سینیئر صحافی شادی خان مینگل عبداللہ لہڑی یوسف مینگل نے ملاقات کی ملاقات میں کپوتو شیشاری کے آبنوشی ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے خان میراحمدیار خان پریس کلب کی فعالی اور رجسٹریشن سمیت علاقے کو درپیش مسائل اور انکے حل سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے مسائل کے حل سے متعلق احکامات بھی جاری کردیئے۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہا کہ معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں صحافی برادری کا نمایاں کردارہے صحافی برادری مسائل کی نشاندہی کرکے انکے فوری حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں ۔

خبرنامہ نمبر 1959/2026
کوئٹہ۔ سیکرٹری اطلاعات بلوچستان عمران خان کی زیر صدارت محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان کے امور سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ تعلقاتِ عامہ بلوچستان (ڈی جی پی آر) کی مجموعی کارکردگی، کلیدی کارکردگی اشاریوں (KPIs)، ڈیجیٹل میڈیا پالیسی، حکومتی اقدامات کی مؤثر تشہیر، اور صوبہ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جامع میڈیا کوریج سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان، ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ (پریس) سید تنویر اختر اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ اطلاعات کی موجودہ کارکردگی، عوام تک حکومتی اقدامات کی بروقت اور مؤثر ترسیل، اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکومتی پالیسیوں کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز اور اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات عمران خان نے کہا کہ محکمہ اطلاعات وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق حکومت کی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مفاد کے اقدامات کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور یہ محکمہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک مؤثر رابطے کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں اور حکومتی اقدامات کی مؤثر کوریج کو یقینی بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ، ویڈیو ڈاکومنٹریز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام تک درست اور مستند معلومات بروقت پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا عوامی آگاہی اور حکومتی کارکردگی کو اجاگر کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے اس لیے ضروری ہے کہ محکمہ اطلاعات اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جدید تقاضوں کے مطابق میڈیا حکمت عملی کو مزید مؤثر بنائے اور حکومتی ترقیاتی اقدامات کو بہتر انداز میں نمایاں کرے۔ سیکرٹری اطلاعات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محکمہ اطلاعات صوبائی حکومت کے وژن کے مطابق شفافیت، عوامی اعتماد اور سماجی ترقی کے فروغ میں فرنٹ لائن ادارے کے طور پر اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس ذمہ داری کو مزید مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے اور میڈیا کے ساتھ مؤثر رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان نے اجلاس کو محکمہ تعلقاتِ عامہ کی مجموعی کارکردگی، جاری منصوبوں، ڈیجیٹل میڈیا حکمت عملی، حکومتی ترقیاتی اقدامات کی تشہیر اور عوامی آگاہی مہمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ اطلاعات حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں کو عوام تک پہنچانے کے لیے جدید اور مؤثر ذرائع ابلاغ کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے اور اس سلسلے میں مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ حکومتِ بلوچستان کے ترقیاتی ویژن اور عوامی فلاحی اقدامات کو وسیع پیمانے پر اجاگر کیا جا سکے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ محکمہ اطلاعات حکومتِ بلوچستان کی پالیسیوں اور عوامی فلاحی اقدامات کو بروقت اور مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مزید مؤثر انداز میں انجام دیتا رہے گا تاکہ عوام کو درست معلومات کی فراہمی اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 1960/2026
کوئٹہ/5 مارچ:ماہِ رمضان المبارک کے دوران عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں تابڑ توڑ کارروائیاں جاری ہیں۔ کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں اور پنجگور میں حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران مجموعی طور پر 3 یونٹس سیل جبکہ 25 سے زائد کھانے پینے کے مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق جان محمد روڈ کوئٹہ میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے معائنہ کے دوران سنگین خلاف ورزیوں پر 2 یونٹس کو سیل اور 2 جنرل اسٹورز مالکان کو جرمانہ کیا۔ بیکنگ یونٹ کو خراب و غیر معیاری انڈوں کے استعمال، انتہائی گندے بیکنگ ٹرے، دیگر بیکریوں کے پیکنگ لیبلز کے غیر قانونی استعمال (مِس برانڈنگ)، تیاری کے مقامات کی ناقص صفائی، پروسیسنگ ایریا میں باتھ روم کی موجودگی اور تیار مصنوعات پر تیاری و معیاد ختم ہونے کی تاریخ درج نہ کرنے جیسے سنگین نقائص پر سیل کیا گیا جبکہ ایک ڈسٹری بیوٹر یونٹ کو بچوں کیلئے ناقص اشیاء خوردونوش کی فروخت و ترسیل، غیر معیاری چاکلیٹس، جیلیز، بسکٹس اور کم معیار کے پاؤڈر چاکلیٹ و جوس کی بڑی مقدار مارکیٹ میں سپلائی کرنے پر بند کر دیا گیا۔ مزید برآں دو جنرل اسٹورز سے ممنوعہ آئٹم جے ایم گٹکا، نان فوڈ گریڈ کلر اور چائنیز نمک برآمد ہونے پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 4 فوڈ بزنس آپریٹرز کو ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ دریں اثناء نواں کلی میں انسپکشن کے دوران ایک یونٹ سیل اور ایک کو جرمانہ جبکہ 5 مراکز کو بہتری کے نوٹسز جاری کیے گئے۔ ایک تاجر کے ہاں کولڈ ڈرنکس میں گرد کے ذرات کی موجودگی، خریداری ریکارڈ کی عدم فراہمی اور معائنہ ٹیم سے نامناسب رویہ اختیار کرنے پر فوری طور پر یونٹ کو سیل کیا گیا۔ ایک بیکنگ یونٹ کو غیر صحت بخش ماحول، مصنوعات پر تیاری و میعاد ختم ہونے کی تاریخ درج نہ کرنے، ورکرز کے حفاظتی لباس کے بغیر کام، پیکنگ میں اخبار کے استعمال اور تیار اشیاء کو بغیر ڈھانپے رکھنے پر جرمانہ کیا گیا۔علاوہ ازیں دودھ سمیت ڈیری مصنوعات کی چیکنگ کیلئے بی ایف اے کی موبائل ملک سیفٹی ٹیموں کی خصوصی انسپکشن بھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں 5 دودھ فروشوں کو دودھ اور دہی میں ملاوٹ ثابت ہونے پر جرمانہ کیا گیا جبکہ موقع پر دودھ کے نمونے ٹیسٹ کر کے عوام کو ملاوٹ سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی گئی۔بی ایف اے حکام نے تمام مراکز مالکان کو فوڈ بزنس لائسنس کے حصول اور تمام ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ کارروائیوں کے دوران برآمد شدہ ایکسپائرڈ اور ممنوعہ اشیاء کو ضبط کرکے تلف بھی کر دیا گیا۔

خبرنامہ نمبر 1961/2026
سوئی، 05 مارچ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعرات کے روز سوئی ٹاؤن میں گیس فراہمی کے اہم منصوبوں کا افتتاح کر دیا ان منصوبوں کے تحت توتا، پھونگ اور سوئی ٹاؤن کی دیگر کالونیوں کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی جس سے مقامی آبادی کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل میں مدد ملے گی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا حکام کے مطابق چھ (6) انچ قطر پر مشتمل گیس پائپ لائن بچھانے کا یہ منصوبہ مجموعی طور پر 2.8 کلو میٹر پر محیط ہے جس کے ذریعے سوئی ٹاؤن کی مختلف آبادیوں تک گیس کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ سوئی ٹاؤن کی کالونیوں میں گیس کی فراہمی کے ان منصوبوں کی تکمیل سے مقامی آبادی کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی اور لوگوں کو روزمرہ زندگی میں بڑی سہولت میسر آئے گی انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر رہی ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک فراہم کی جا سکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری اور آئندہ منصوبوں کی تکمیل میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے حقیقی ثمرات بروقت حاصل ہو سکیں۔

خبرنامہ نمبر 1962/2026
سوئی، 05 مارچ : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعرات کو سوئی کے دورے کے دوران سوئی رنگ روڈ اور گیس فراہمی کے منصوبوں کا افتتاح کیا جبکہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کی جانب سے چیکس کی تقسیم کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت بھی کی تقریب میں قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی کے نمائندوں، گیس انتظامیہ اور علاقے کے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مختلف شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین میں اسناد بھی تقسیم کیں اور ان کی محنت، لگن اور خدمات کو سراہا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب بگٹی قوم کے نوجوان تعلیمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بگٹی طلبہ اپنی محنت اور قابلیت کے ذریعے نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پوری قوم اور صوبے کا نام روشن کریں گے انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلتی ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی آتی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں، گیس اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے ذریعے عوام کو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ان کے معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے تمام علاقوں کی متوازن ترقی کے لیے کوشاں ہے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ان کے حقیقی ثمرات میسر آ سکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے گا اور عوام کو بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر 1963/2026
کوئٹہ 5 مارچ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اس خطے میں بولی جانے والی مختلف قومی زبانیں محض اظہار کا ایک ذریعہ نہیں ہیں بلکہ یہ وہ دھاگے ہیں جو ہزاروں سال کے تہذیبی سفر پر مشتمل کسی قوم کے اجزائ ترکیبی اور ثقافتی ورثے کو اکٹھے رکھتے ہیں، ہماری شاندار اقدار و روایات کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتے ہیں۔ بلوچی، پشتو، براہوی اور ہزارگی کے وسیع لسانی تنوع کے فروغ اور تحفظ کیلئے وقف اکیڈمیوں کے ذریعے پرعزم ہے۔ ہم ان سے وابستہ لکھاریوں اور ماہرین لسانیات کی رضاکارانہ خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہماری تاریخی اور تہذیبی شناخت کو متحرک اور زندہ رکھتے ہوئے ہماری مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کیلئے بےلوث اقدامات اٹھاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گورنر ہاؤس کوئٹہ میں بلوچی ، پشتو ، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیز کے عہدیداروں پر مشتمل وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میرے چالیس سالہ سیاسی کیریئر میں ہمارے خاندان کا ادبی اکیڈمیز، لیٹریری سوسائٹیز اور علمی مراکز کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے ، وقتاً فوقتاً ان کی مالی معاونت کی ہے، ان کے منعقدہ پروگراموں باقاعدہ شرکت کرتےہیں اور جب بھی انہیں مسائل کا سامنا ہوا ہے تو ان کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک شراکت داری ہے جسکی جڑیں باہمی احترام اور علم و ثقافت کیلئے مشترکہ جذبہ ہے۔ قبل ازیں بلوچی، پشتو، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیز کے عہدیداروں پر مشتمل وفد نے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو صوبائی کابینہ کی جانب سے بلوچستان لینگویجز ، اکیڈمیز اینڈ سوسائٹیز ایکٹ 2025 کے حوالے سے اپنے تحفظات اور مطالبات سے آگاہ کیا۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے ان کے مسائل کو غور اور توجہ سے سنا اور ان کے دیرپا حل کیلئے اپنے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی

خبرنامہ نمبر1964/2026
زیارت :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے آج بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹیو کے تحت جاری سکیم ڈی ایچ کیو ہسپتال کی مرمت کا وزٹ کیا۔ دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر زیارت سجادالرحمان کوڑو، ایکسین سی اینڈ ڈبلیو بلڈنگ عرفان خان اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر زیارت ڈاکٹر رفیق احمد مستوئی بھی ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے کام کے پروگریس اور معیار کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام بی ایس ڈی آئی سکیمات کے دورے جاری رکھےجائیں گے ، غفلت اور ناقص کام کی صورت میں سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے ایکسین کو کام معیار کے مطابق کرنے اور مقررہ میعاد کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام مطمئن رہیں، بی ایس ڈی آئی سکیمات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جن کی تکمیل سے عوام مستفید ہوں گے۔

خبرنامہ نمبر1965/2026
زیارت :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے آج بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹیو کے تحت جاری سکیم کاریز کی تعمیر کلی نور محمد سیدال کوتل تھانہ کا وزٹ کیا۔ ، کیپٹن ناصر، اسسٹنٹ کمشنر زیارت سجادالرحمان کوڑو، ایس ڈی او ایریگیشن اعجاز الدین اور سب انجینئر ایرگیشن احسان اللہ خان بھی ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے کام کے پروگریس اور معیار کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام بی ایس ڈی آئی سکیمات کے دورے جاری رکھےجائیں گے ، غفلت اور ناقص کام کی صورت میں سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے ایس ڈی او کو کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی ۔ ڈپٹی کمشنر نے کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام مطمئن رہیں، بی ایس ڈی آئی سکیمات کی مسلسل نگرانی کی جاری ہے جن کی تکمیل سے عوام مستفید ہونگے۔

خبرنامہ نمبر1966/2026
کوئٹہ 05 مارچ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ماہِ رمضان المبارک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی اور سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر بھر میں 230 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، جس کے دوران خلاف ورزیوں پر 48 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 40 افراد کو جیل منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ 20 دکانوں کو سیل کیا گیا۔ اس حوالے سے سب ڈویژن (سٹی میں 52 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 08 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 4 دکانیں سیل کی گئیں۔سب ڈویژن (صدر) میں 65 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 12 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 3 دکانیں سیل کی گئیں۔ جبکہ سب ڈویژن (سریاب) میں 50 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 09 افراد کو گرفتار کیا گیا، 08 افراد کو جیل منتقل کیا گیا جبکہ 5 دکانیں سیل کی گئیں۔ اس کے علاوہ سب ڈویژن (کچلاک) میں 48 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 11 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 5 دکانیں سیل کی گئیں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوامی شکایات کے ازالے اور اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ کریک ڈاؤن بلا تفریق جاری رہے گا تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1967/2026
کوئٹہ، 05 مارچ: وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ضلعی انتظامیہ کا ایک ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداران اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق رمضان المبارک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ افسران نے رمضان سہولت بازاروں کے قیام، اشیائے خوردونوش کی دستیابی، مقررہ نرخوں پر عملدرآمد، پرائس کنٹرول میکانزم اور رمضان ریلیف پیکج کی شفاف تقسیم کے حوالے سے اب تک کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں قائم رمضان سہولت بازاروں میں معیاری اور سستی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس باقاعدگی سے مارکیٹوں کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کی جا سکے۔ خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر سختی سے کنٹرول رکھا جائے اور سرکاری نرخناموں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ رمضان ریلیف پیکج کی تقسیم مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائے تاکہ حقیقی مستحقین تک امداد بروقت پہنچ سکے۔اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور کل کے مجوزہ اقدامات کو بھی حتمی شکل دی گئی، جس کے تحت فیلڈ میں نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے، سہولت بازاروں کی باقاعدہ انسپکشن اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور عوامی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق رمضان المبارک میں عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *