15th-February-2026

خبرنامہ نمبر 1367/2026
بارکھان 15 فروری:ضلع بارکھان سے تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کو علاج کی غرض سے منتقل کرنے کے عمل کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ اقدام صوبائی وزیر سردار عبدالرحمٰن کھیتران کی خصوصی ہدایات اور نگرانی میں پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کے تحت سر انجام دیا گیا۔اس مرحلے کے دوران بچوں کی محفوظ منتقلی، طبی سہولیات کی فراہمی اور متعلقہ اداروں کے مابین مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا گیا۔ صوبائی وزیر کا سے ضمن میں کہنا ہے کہ وہ اس امر کے لیے پُرعزم ہیں کہ علاج کے باقی مراحل بھی اسی نظم و ضبط اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل کیے جائیں گے۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اور یہ مشن مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گاانہوں نے متعلقہ انتظامیہ اور طبی عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انسانی خدمت کے اس سفر میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ معصوم جانوں کی صحت، تحفظ اور بہتر مستقبل کو ہر ممکن ترجیح دی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر 1368/2026
کوئٹہ 15 فروری : اراکین صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان اور میر زابد ریکی نے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی، جس میں متعلقہ علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ملاقات کے دوران دونوں معزز ممبران اسمبلی نے اپنے اپنے حلقوں میں جاری سڑکوں، عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی رفتار اور معیار پر تبادلہ خیال کیاانہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مسائل کا جلد از جلد ازالہ ممکن ہو سکےاس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے معزز اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے بھر میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے اور بیشتر منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہونے والے ہیں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی منصوبے میں تکنیکی مسائل یا دیگر رکاوٹیں درپیش ہیں تو انہیں فوری طور پر حل کیا جا رہا ہے تاکہ کام کی رفتار متاثر نہ ہو سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ محکمہ روزِ اول سے ہی صوبے کی ترقی اور انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں ہے ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت، سرکاری عمارات کی بہتری اور مواصلاتی نظام کی اپ گریڈیشن حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے موثر مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے ملاقات کے اختتام پر معزز ممبران اسمبلی نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باہمی تعاون اور مسلسل رابطے کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے گا جس سے نہ صرف عوام کو سہولیات میسر آئیں گی بلکہ صوبے کی مجموعی ترقی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

خبرنامہ نمبر 1369/2026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی نےوزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی ہدایات اور چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی رہنمائی میں صوبہ بھر میں شادی ہالز، منڈپس، پنڈال، شامیانہ، فلورل اور ڈیکوریشن سمیت تقریبات سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے تمام سروس پرووائیڈرز/رینڈررز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر ادارے کے ساتھ اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں اور قانون کے مطابق بروقت سیلز ٹیکس گوشوارے (BSTS) جمع کروائیں۔اتھارٹی کے مطابق مذکورہ خدمات پر سیلز ٹیکس برائے خدمات (BSTS) کی شرح فی تقریب 10,000 روپے یا سروس فیس کا 2 فیصد (جو بھی زیادہ ہو) مقرر ہے۔ تمام متعلقہ کاروباری افراد پر لازم ہے کہ وہ مقررہ شرح کے مطابق اپنے ٹیکس واجبات کا درست حساب رکھیں اور بروقت ادائیگی و فائلنگ کو یقینی بنائیں۔ترجمان کے مطابق ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی، رجسٹریشن نہ کروانے، یا بروقت گوشوارے جمع نہ کروانے کی صورت میں متعلقہ سروس فراہم کنندگان کو جرمانوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بھی پیدا ہو سکتی ہے۔اتھارٹی نے مزید کہا کہ ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری نہ صرف قانونی مسائل سے بچاتی ہے بلکہ صوبہ بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور بہتر کاروباری ماحول کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔تمام متعلقہ سروس فراہم کنندگان سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ٹیکس چوری سے اجتناب کریں، اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور مقررہ وقت پر BSTS گوشوارے جمع کرائیں ۔

خبرنامہ نمبر 1370/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم (این آئی ڈی فروری) کے دوسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ایس ڈی پی او پولیس چاکر بلوچ، ڈی ایس او ڈاکٹر فاروق بلوچ، ٹی پی ایچ آئی کے نمائندہ صابر حیاتان، مانیٹرنگ افسران اور مختلف ٹیم انچارجز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور متعلقہ افسران نے مہم کے دوسرے روز کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ آج کا ہدف 11 ہزار 888 بچوں کو قطرے پلانے کا تھا، جن میں سے 11 ہزار 125 بچوں کو کور کیا گیا، جبکہ مجموعی کوریج 93 فیصد رہی۔اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ 15 بچے ابتدا میں “ناٹ اویلیبل” تھے، جن میں سے 313 بچوں کو بعد ازاں کور کر لیا گیا۔ تمام ریفیوزل کیسز، ناٹ اویلیبل اور زیرو ڈوز بچوں کو ٹریس کرکے کور کرنے کا عمل جاری ہے۔ کلمتی کے علاقے میں بعض آپریشنل مسائل درپیش رہے، تاہم پولیو ٹیموں نے بروقت حکمت عملی کے تحت کام جاری رکھا۔ اسی طرح لال بشکواڑ میں دو زیرو ڈوز بچے رپورٹ ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر کوریج میں لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔سب ڈویژن پسنی، اورماڑہ اور جیوانی سمیت دیگر علاقوں میں تحصیل افسران کی رپورٹ کے مطابق دوسرے روز کی انسدادِ پولیو مہم مجموعی طور پر تسلی بخش رہی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ریفیوزل اور زیرو ڈوز بچوں تک ہر صورت رسائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ورکرز کو سیکیورٹی، لاجسٹک یا کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت ہو تو ضلعی انتظامیہ کی خدمات 24 گھنٹے دستیاب ہیں، تاکہ مہم کو سو فیصد کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 1371/2026
خضدار: بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو فیز 2 کے تحت ضلع خضدار میں ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر میں متعدد اہم ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ یہ اسکیمات خواتین کی سماجی، معاشی اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینے کے لیئے شروع کی گئی ہیں، جن میں سولر سسٹم کی فراہمی، ورکنگ ویمن ہاسٹل کی بائونڈری وال کی تعمیر و اپ گریڈیشن، ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر کی اپ گریڈیشن اور رینوویشن، واکنگ ٹریک کے ساتھ لینڈ سکیپنگ اور لیولنگ شامل ہیں۔بی ایس ڈی آئی کے انجینئر فیاض جمعہ نے گزشتہ روز ان منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران انہوں نے کام کی پیشرفت، کوالٹی اور شفافیت کا جائزہ لیا۔ انجینئر فیاض نے موقع پر موجود ٹیم کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی امور کو صاف و شفاف طریقے سے اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ یہ منصوبے بروقت پائے تکمیل تک پہنچیں اور خواتین کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے زور دیا کہ بی ایس ڈی آئی کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہے۔ ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر خضدار میں یہ اسکیمات فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری ہیں، جن سے مقامی خواتین کو سولر انرجی، محفوظ رہائش، تربیتی مراکز اور صحت مند ماحول میں ورزش کی سہولت میسر آئے گی۔ یہ منصوبے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کے زیر انتظام چل رہے ہیں، جو خواتین کی بااختیاری، ہنر مندی اور سماجی تحفظ کے لیئے کام کر رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، یہ اقدامات ضلع خضدار کی خواتین کے لیئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے اور صوبائی حکومت کی جانب سے صنفی مساوات اور پائیدار ترقی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے سینکڑوں منصوبے زیر عمل ہیں، جن کا مقصد بلوچستان کے عوام کو بہتر زندگی کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video