14th-January-2026

خبرنامہ نمبر286/2026
گوادر14جنوری ۔ تاریخی ورثے کی حامل میونسپل کمیٹی گوادر کی عمارت کو ازسرِنو مرمت، تزئین و آرائش اور جدید تقاضوں کے مطابق بحال کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اس موقع پر ایک پروقار افتتاحی تقریب منعقد کی گئی، جس میں سیاسی، انتظامی، سماجی اور ادبی شخصیات سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، سیاسی و سماجی شخصیت حسین واڈیلہ، چیئرمین میونسپل کمیٹی جیونی اکرم حیات شہزادہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوادر ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل افضل شہزادہ، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی مکتوم موسی، سابق ضلعی ناظم بابو گلاب، سابق چیئرمین عابد رحیم سہرابی، آر سی ڈی کونسل کے صدر عبدالغنی نوازش، صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جیہند ہوت، اشرف حسین، خدابخش ہاشم، ماسٹر عبدالعزیز، ناگمان عبدال سمیت سرکاری افسران، سیاسی رہنما اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔میونسپل کمیٹی گوادر کی بحال شدہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور حسین واڈیلہ نے مشترکہ طور پر کیا، جس کے بعد شاندار آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ تقریب کے دوران بلدیہ گوادر پر تیار کی گئی ایک معلوماتی دستاویزی فلم پیش کی گئی، جبکہ میونسپل کمیٹی کی جدید موبائل ایپلیکیشن کی باضابطہ رونمائی بھی عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر معروف بلوچی شاعر سید ظہور شاہ ہاشمی کی آواز میں نظم پیش کی گئی، جسے امیر علی نے ترنم کے ساتھ پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن، سیاسی و سماجی شخصیت حسین واڈیلہ، چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، سابق ضلعی ناظم بابو گلاب، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی مکتوم موسی اور سماجی رہنما ماسٹر عبدالعزیز نے کہا کہ میونسپل کمیٹی گوادر کی تاریخی عمارت کی بحالی اجتماعی کاوشوں، شفافیت اور عوامی خدمت کے جذبے کا عملی مظہر ہے۔مقررین نے کہا کہ ماضی میں بلدیہ کی خستہ حالی پر تنقید ضرور کی گئی، تاہم آج اس عمارت کی جدید خطوط پر بحالی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نیک نیتی، دیانت داری اور شفاف قیادت کے ذریعے اداروں کو مو¿ثر اور فعال بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ادارے عوامی مسائل کے حل کے لیے ہوتے ہیں، اسی لیے بلدیہ گوادر کو ایک عوام دوست ادارہ بنایا جائے گا جہاں شہریوں کو عزت و سہولت کے ساتھ سنا جائے گا اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ مقررین نے مزید کہا کہ گوادر اب سرمائی دارالحکومت بن چکا ہے اور آبادی میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر میونسپل کمیٹی کو اپ گریڈ کر کے میونسپل کارپوریشن کا درجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے صوبائی حکومت کو سفارشات ارسال کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں پانی، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات پر خطیر رقوم خرچ کی گئیں، تاہم بہتر منصوبہ بندی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور شفاف نظام کے ذریعے گوادر کو ایک صاف، سرسبز اور ترقی یافتہ شہر بنایا جا سکتا ہے۔تقریب سے خطاب کرنے والے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلدیہ گوادر کا آئندہ ہدف کلین اور گرین گوادر ہے، جس کے تحت فائر بریگیڈ سمیت بلدیاتی شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، نئی بھرتیاں عمل میں لائی جائیں گی اور ہر وارڈ میں ٹف ٹائل سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بلدیہ، ضلعی انتظامیہ، جی ڈی اے اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے گوادر کی صفائی، خوبصورتی اور مجموعی ترقی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نمائندوں کے عہدے کمیشن خوری یا ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ خالصتاً عوامی خدمت کے لیے ہوتے ہیں، اور گوادر کی ہمہ گیر ترقی کے لیے اتحاد، اتفاق اور اجتماعی ذمہ داری ناگزیر ہے۔ڈائریکٹوریٹ کے مطابق رواں تعلیمی سال کے لیے ایک کروڑ 15 لاکھ کتابوں کی ڈیمانڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کی نسبت 22 لاکھ زیادہ ہے۔ اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے تقریباً 4 ہزار بند اسکولوں کو فعال کیا جبکہ 10 ہزار سے زائد نئے اساتذہ کی بھرتیاں بھی عمل میں لائی گئیں۔نیشنل کریکلم آف پاکستان 2022-23 کے تحت پرائمری سے انٹرمیڈیٹ تک نئے نصاب کے مطابق کتب تیار کر لی گئی ہے۔ نصاب میں ناظرہ و ترجمہ قرآن، کمپیوٹر ایجوکیشن اور متعدد سپلیمنٹری لرننگ مٹیریل جیسے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، صحت و جسمانی تعلیم، شہریت و اخلاقیات شامل کیے گئے ہیں۔ تمام کتب کو ایس او پیز کے مطابق انٹرنل اور پروونشل ریویو کمیٹیوں کے ذریعے جانچا گیا، جبکہ سیکرٹری تعلیم کی ہدایت پر اضافی دو سطحی جائزے بھی لیے گئے۔محکمہ کے مطابق آئندہ سال انگلش میڈیم کتابوں کو ترجیحی بنیادوں پر شائع کیا جائے گا، جبکہ کتابوں کے معیار میں بہتری کے لیے بکس بورڈ کی جگہ بلیچ کارڈ پیپر استعمال کیا جائے گا۔ اسی طرح کتابوں میں غیر ضروری مواد کم کرکے نصاب کو ایسا بنایا گیا ہے کہ اساتذہ اور طلبہ سالانہ کورس بروقت مکمل کر سکیں اور طلبہ پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔مزید کہا گیا ہے کہ شفاف ٹینڈرنگ، کم لاگت اور بہتر معیار کے اس ماڈل کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر287/2026
کوئٹہ 14جنوری ۔صوبے میں کولڈ اسٹوریج اور ویلیو ایڈیشن/فروٹس پروسیسنگ پلانٹس کے لیے بزنس پلان کی تیاری و ترقی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سیکرٹری زراعت بلوچستان نور احمد پرکانی نے کی۔اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری زراعت محمد انیس گورگیج، ڈائریکٹر جنرل ایکسٹینشن مسعود بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر احتشام، پراجیکٹ ڈائریکٹر گرین پاکستان انیشی ایٹو محمد آصف اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے افسران احسان اللہ اور سمیع اللہ موسی نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کولڈ اسٹوریج اور فروٹ پروسیسنگ منصوبوں کی باقاعدہ فیزیبلٹی اسٹڈی کی جائے گی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کے لیے جامع ٹی او آرز (Terms of Reference) تیار کیے جائیں گے۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ کولڈ اسٹوریج سینٹرز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چلانے سے نہ صرف نظام میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔سیکرٹری زراعت نور احمد پرکانی نے کہا کہ محکمہ زراعت بلوچستان اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مابین قریبی تعاون کے ذریعے زرعی پیداوار کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور فروٹس کی ویلیو ایڈیشن سے صوبے کی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ PPP ماڈل کے تحت کولڈ اسٹوریجز کو چلانے سے محکمہ زراعت میں فصل کے نقصانات 40 فیصد کم ہونگے، جس سے براہِ راست کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ فیزیبلٹی اور ٹی او آرز کی تیاری کے بعد عملی اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر288/2026
بارکھان، 14جنوری۔لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد ایس ایچ اوز کی تعیناتی، نوٹیفکیشن جاری ضلع میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے بعد مختلف پولیس اسٹیشنوں میں ایس ایچ اوز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس ضمن میں باقاعدہ حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق نائب رسالدار لیویز کو پولیس اسٹیشنوں کا چارج سونپ دیا گیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق محمد حسن رسالدار کو پولیس اسٹیشن وٹاکڑی، عابد علی نائب رسالدار کو پولیس اسٹیشن ناہڑکوٹ، گل محمد نائب رسالدار کو پولیس اسٹیشن کھٹہ عیشانی، محمد یونس نائب رسالدار کو پولیس اسٹیشن چچہ، محمد علی نائب رسالدار کو پولیس اسٹیشن رڑکن اور محمد اسلم نائب رسالدار کو پولیس اسٹیشن بالا ڈھاکہ تعینات کیا گیا ہے۔اسی طرح شاہنواز نائب رسالدار کو پولیس اسٹیشن مہران ربانی بغاو اور پولیس اسٹیشن دامان بغاو، جبکہ نہلان خان نائب رسالدار کو پولیس اسٹیشن مہمک صمند خان کا ایس ایچ او مقرر کیا گیا ہے۔تمام نامزد افسران کو فوری طور پر اپنے اپنے پولیس اسٹیشنوں کا چارج سنبھالنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا اور پولیسنگ نظام کو موثر بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر289/2026
نصیرآباد14جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈیویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) فیز ون کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ون کے تمام منصوبوں کو معیار کے مطابق اور بروقت مکمل کرنا انتہائی ضروری ہے، کسی بھی اسکیم میں تاخیر یا ترقیاتی عمل میں سستی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وہ تمام منصوبے جو تاحال مکمل نہیں ہو سکے انہیں جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ عوام کو ان کے ثمرات میسر آ سکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کی اسکیمات کی منظوری کے لیے اقدامات جاری ہیں، اس لیے تمام محکمے باہمی تعاون سے عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور مربوط کوششیں کریں۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت عوامی مفاد پر مبنی متعدد اسکیمات منظور کی گئی ہیں جن پر حکامِ بالا کی منظوری کے بعد تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ وہ جاری اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی مزید موثر بنائیں تاکہ ضلع میں ترقیاتی عمل تیز رفتار اور شفاف انداز میں جاری رہ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر290/2026
جعفرآباد14جنوری ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ضلعی سطح کی اہم کمیٹیوں جن میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی DCC ڈسٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی DIC اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی DICC شامل ہیں کے اجلاس منعقد ہوئے اجلاسوں میں ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت امن و امان کی صورتحال اور مختلف محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیاڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت متعدد ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جو کھلی کچہریوں اور عوامی رابطہ مہمات کے دوران براہِ راست عوام کی جانب سے سامنے لائے گئے مسائل کے حل سے متعلق ہوں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا بنیادی مقصد عوامی مفاد کو مرکز میں رکھ کر ایسے اقدامات کرنا ہے جن کے نتائج فوری طور پر نظر آئیں اور دیرپا فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تعلیم صحت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل گورنمنٹ اور دیگر شعبوں میں اسکیمیں خالصتاً عوامی ضرورت سہولت اور فلاح کے اصولوں کی بنیاد پر تیار کی جائیں تاکہ شکایات و رکاوٹوں کے موثر تدارک کو ممکن بنایا جا سکے ۔بعدازاں ڈپٹی کمشنر خالد خان کی زیر صدارت DIC اور DICC کے اجلاس بھی منعقد ہوئے جن میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان اور انٹیلیجنس اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے اجلاس میں ضلع بھر کے امن و امان کی مجموعی صورتحال جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں پبلک سیفٹی اقدامات اور سیکورٹی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔مختلف اداروں نے حالیہ کیسز درپیش مسائل اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ضلعی سطح پر امن و امان کی بہتری غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور عوامی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائےانہوں نے کہا کہ تمام ادارے باہمی رابطہ کاری بہتر ہم آہنگی اور ذمہ دارانہ کردار کے ذریعے ایک ایسا ماحول تشکیل دیں جو پائیدار امن سماجی استحکام اور ترقی کا ضامن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر291/2026
کوئٹہ14جنوری ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق بدھ کو صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمالی اضلاع میں موسم انتہائی سرد رہنے کی توقع ہے۔جمعرات کو صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمالی اضلاع میں موسم انتہائی سرد رہے گا۔ تاہم صوبے کے مغربی اضلاع میں تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہا، جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں رات اور صبح کے اوقات میں موسم انتہائی سرد رہا۔زیارت میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر292/2026
کوئٹہ، (خبر نامہ)14 جنوری۔ محکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان نے تعلیمی سال 2026ءکے لیے درسی کتب کی ترسیل اور اشاعت میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے درسی کتب کی پچاس فیصد سے زائد کتب کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے لاہور سے کوئٹہ پہنچا دی گئی ہیں۔جو گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی مقررہ وقت سے پہلے صوبے بھر کے تمام اضلاع میں طلبہ کو مفت فراہم کی جائیں گی۔پرنٹنگ ٹینڈرز کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے صوبائی خزانے کو تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے کی خطیر بچت فراہم کی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے وژن اور سیکرٹری محکمہ تعلیم اسفندیار خان کی واضح ہدایات کی روشنی میں عمل میں لائے گئے۔چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان خلجی نے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نہ صرف درسی کتب کی اشاعت کی لاگت میں نمایاں کمی کی بلکہ 1977ئ کی دہائی کے پرانے نصاب کو مکمل طور پر تبدیل کرتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نیا نصاب متعارف کروایا۔ یہ کامیابی بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے افسران اور عملے کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔محکمہ کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی سال 2023-24 میں 92 لاکھ 54 ہزار 625 درسی کتابیں 2 ارب 12 کروڑ 46 لاکھ روپے کی لاگت سے شائع کی گئیں، جبکہ 2024-25 میں 93 لاکھ 9 ہزار کتابوں کی اشاعت پر 1 ارب 8 کروڑ 66 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس کے برعکس 2025-26ئمیں ایک کروڑ 15 لاکھ درسی کتابیں محض 88 کروڑ 31 لاکھ روپے میں تیار کی گئیں، جو غیر معمولی بچت کی عکاس ہے۔اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کتابوں کی اشاعت 0.65 پیسہ فی صفحہ کے حساب سے ممکن بنائی گئی، جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ترین لاگت ہے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخوا میں یہی لاگت 0.79 پیسہ فی صفحہ رہی۔اسکول ڈائریکٹوریٹ کے مطابق رواں تعلیمی سال کے لیے ایک کروڑ 15 لاکھ کتابوں کی ڈیمانڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 لاکھ زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے تقریباً 4 ہزار بند اسکولوں کی بحالی اور 10 ہزار سے زائد نئے اساتذہ کی بھرتی ہے۔نیشنل کریکلم آف پاکستان 2022-23 کے تحت پرائمری سے انٹرمیڈیٹ سطح تک نئے نصاب کے مطابق درسی کتب تیار کر لی گئی ہیں۔ نصاب میں ناظرہ و ترجمہ? قرآن، کمپیوٹر ایجوکیشن اور سپلیمنٹری لرننگ مٹیریل جیسے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، صحت و جسمانی تعلیم، شہریت اور اخلاقیات کو شامل کیا گیا ہے۔تمام درسی کتب کو ایس او پیز کے مطابق انٹرنل اور پروونشل ریویو کمیٹیوں کے ذریعے جانچا گیا، جبکہ سیکرٹری تعلیم کی ہدایت پر اضافی دو سطحی جائزہ بھی لیا گیا۔محکمہ تعلیم کے مطابق آئندہ برس انگلش میڈیم کتب کو ترجیحی بنیادوں پر شائع کیا جائے گا، جبکہ معیار میں مزید بہتری کے لیے بکس بورڈ کے بجائے بلیچ کارڈ پیپر استعمال کیا جائے گا۔مزید بتایا گیا کہ غیر ضروری مواد کو کم کرکے نصاب کو اس انداز میں مرتب کیا گیا ہے کہ اساتذہ اور طلبہ سالانہ کورس بروقت مکمل کر سکیں اور طلبہ پر اضافی تعلیمی بوجھ نہ پڑے۔ شفاف ٹینڈرنگ، کم لاگت اور بہتر معیار پر مبنی اس ماڈل کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر293/2026
کوئٹہ14جنوری ۔ حکومت بلوچستان نے صوبے بھر کے زمینداروں کی فلاح و بہبود کے لیے بینظیر کسان کارڈ کے اجرائ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت HBL Konnect کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت ایچ بی ایل کے ذریعے زمینداروں کے بینک اکاونٹس کھولے جائیں گے تاکہ مالی معاونت شفاف انداز میں فراہم کی جا سکے۔یہ فیصلہ سیکرٹری زراعت بلوچستان نور احمد پرکانی کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیعی مسعود بلوچ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان وقتاً فوقتاً زمینداروں کو سبسڈی کی مد میں مالی معاونت فراہم کرے گی، جس میں بیج، کھاد، زرعی ادویات اور زرعی مشینری کی خرید شامل ہوگی۔زمینداروں کی سہولت کے لیے “کسان بلوچستان” کے نام سے ایک ویب پیج تیار کیا گیا ہے، جہاں کسان خود آن لائن رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیعی کے دفاتر اور موبائل ایپ (بینظیر کسان کارڈ) کے ذریعے بھی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔حکام نے واضح کیا کہ جو زمیندار رجسٹریشن نہیں کروائیں گے، انہیں بینظیر کسان کارڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 80 ہزار کسانوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے، جبکہ جن اضلاع میں رجسٹریشن کا عمل سست روی کا شکار ہے وہاں کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کے خلاف سیکرٹری زراعت نے کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بینظیر کسان کارڈ منصوبہ صوبے میں زرعی شعبے کی ترقی اور زمینداروں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر294/2026
گوادر: سیکریٹری انفارمیشن حکومتِ بلوچستان عمران خان کی ہدایت پر سیکریٹری انفارمیشن کے کوآرڈینیٹر عاصر حسین نے ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن (پبلک ریلیشنز) گوادر کے دفتر کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن گوادر کو درپیش انتظامی و فنی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر متعلقہ افسر نے کوآرڈینیٹر کو دفتر کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور ایک جامع بریفنگ دی، جس میں جدید دور سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی سے منسلک آلات کی کمی، دفتر کی عمارت، سرکاری گاڑی (آفس وہیکل)، ڈرون کیمرہ، کیمرہ، لیپ ٹاپ، ٹی وی، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی شامل تھی۔ بریفنگ کا مقصد یہ تھا کہ سیکریٹری انفارمیشن کو ان مسائل سے آگاہ کیا جائے تاکہ محکمہ کی استعدادِ کار میں بہتری اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔دورے کے موقع پر سابق صدر پریس کلب گوادر اسماعیل عمر بھی موجود تھے۔ بعد ازاں کوآرڈینیٹر ٹو سیکریٹری انفارمیشن عاصر حسین نے پریس کلب گوادر کا بھی دورہ کیا اور صحافتی امور و مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر295/2026
نصیرآباد14 جنوری ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کے احکامات اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ کی سربراہی میں ڈرگ انسپیکٹر اعجاز علی ڈاکٹر عبدالقدیر ابڑو فارماسسٹ ڈاکٹر غلام نبی پندرانی سید سجاد شاہ، برکت علی شیخ اور دیگر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم نے شہر بھر میں میڈیکل اسٹورز کلینکس اور لیبارٹریز کے خلاف کریک ڈاون کیا کارروائی کے دوران صفائی کی ناقص صورتحال قواعد کی خلاف ورزی اور غیر معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنے پر متعدد میڈیکل اسٹورز پرجرمانے عائد کیے گئے جبکہ دو عطائی ڈاکٹروں کے کلینکس کو سیل کر دیا گیا۔ ٹیم نے مختلف لیبارٹریز کے لائسنس بھی چیک کیے اور واضح ہدایات جاری کیں کہ ممنوعہ ٹیسٹ کسی صورت نہ کیے جائیں بصورت دیگر متعلقہ لیبارٹریز کو غیر معینہ مدت تک سیل کر دیا جائے گااسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے کہا کہ عطائی افراد انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی انہوں نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے غیر قانونی علاج گاہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کر دی ہے اور سرپرائز وزٹس کا سلسلہ بھی جاری رہے گا انہوں نے مزید کہا کہ عطائی ڈاکٹری میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ شہریوں کو محفوظ اور معیاری طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر296/2026
بارکھان 14 جنوری۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک نہایت اہم اور جامع اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت عامہ کی صورتحال، سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر ماجد امین، ڈی ایس ایم غلام رسول کھیتران، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ناصر خان اور ڈسٹرکٹ اکاو¿نٹ آفیسر محمد کمال مری نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع کے مختلف ہسپتالوں، رورل ہیلتھ سینٹرز اور بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حاضری، صفائی کی صورتحال، ادویات کی فراہمی، ایمرجنسی سروسز اور مریضوں کے علاج معالجے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے اپنی کارکردگی اور درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت عامہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور بارکھان کے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام طبی مراکز میں نظم و ضبط، شفافیت اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ادویات کی بروقت فراہمی، اسٹاف کی حاضری کو یقینی بنانا اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا لازمی ہے تاکہ عوام کا سرکاری ہسپتالوں پر اعتماد بحال رہے۔ اجلاس کے اختتام پر مختلف تجاویز اور فیصلے بھی کیے گئے تاکہ ضلع بارکھان میں صحت کے نظام کو مزید موثر اور فعال بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر297/2026
قلات 14جنوری ۔ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیٹیو پروگرام فیز 1اور فیز 2 کے تحت جاری ترقیاتی اسکیمات سے متعلق جائزہ اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ کے زیر صدارت منعقد ہوااجلاس میں ایکسین بی اینڈ آر روڈز امیرالملک لانگو ایکسین بلڈنگ نیاز بنگلزئی ایکسین پی ایچ ای سہیل باروزئی اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمدابراہیم لانگو ایس ڈی او پی ایچ ای ہدایت اللہ بلوچ نے شرکت کی اجلاس می بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیٹیو پروگرام کے تحت ضلع بھر میں جاری ترقیاتی اسکیمات کام کے معیار پیشرفت درپیش مسائل اور دیگر امور سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے کہاکہ ضلع قلات میں جاری مختلف ترقیاتی اسکیموں کی مکمل نگرانی جاری رکھا جائے اور متعلقہ ٹھیکداروں کو پابند کیاجائے کہ وہ اسکیموں کو جلد از جلز مکمل کریں اور کام کے معیار کو مزید بہتر بنائیں ترقیاتی اسکیموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگا علاقے کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیئے ضلعی انتظامیہ قلات تمام تروسائل بروے کار لارہی ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرانمہ نمبر298/2026
:قلات ہینڈآِوٹ 14جنوری ۔ضلعی انتظامیہ قلات کے جاری کردہ ہینڈآﺅ?ٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی مسائل سننے اور انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے کل مورخہ 15 جنوری 2026بروز جمعرات بوقت 12:00بجے کھلی کچہری اسسٹنٹ کمشنر قلات کے دفتر میں منعقد ہوگا۔علاقہ معززین اور عوام الناس سے اپیل کک۔ گء ہیکہ کل 15 جنوری کو ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائزمسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر299/2026
خضدار 14 جنوری ۔ خضدار میں انسانی ہمدردی اور سماجی بہبود کی ایک خوبصورت مثال ، ڈپٹی کمشنر خضدار اور میئر و ڈپٹی میئر خضدار کی معذور خاندان کی داد رسی کے لئے ان کے گھر آمد، نقدی رقم پہنچائی ، اور مستقل بہبود کے لئے کوششیں جاری رکھنے کا عزم۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی اور ڈپٹی میئر خضدار جمیل قادر زہری حافظ حمیداللہ مینگل نے خضدار کے نواحی علاقہ کھنڈ میں ایک گھر کا دورہ کیا۔ یہ گھر ایک ایسے خاندان کا ہے جہاں ایک ہی خاندان کے چار افراد عبدالظاہر غوث بخش بی بی زینب بی بی سعدیہ معذور ہیں اور ان کی زندگی انتہائی مشکلات سے دوچار ہے انتظامی سربراہان نے گھر پہنچ کر معذور افراد سے ملاقات کی، ان کی حالت زار کو قریب سے دیکھا اور ان کے مسائل سنے۔ یہ دورہ محض رسمی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ حقیقی ہمدردی اور ذمہ داری کا مظہر تھا۔دورے کے دوران میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی نے فوری طور پر ایک لاکھ روپے نقد رقم اس معذور گھرانے کے حوالے کی تاکہ ان کی فوری ضروریات پوری کی جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ مذکورہ خاندان کا کیس بناکر صوبائی حکومت کو ارسال کیاجائے گا تاکہ حکومتی فنڈز سے ان معذور افراد کے لیئے اعزازی رقم جاری کی جاسکے اور ان کی مستقل بہبود اور سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اظہارِ ہمدردی ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی سربراہان خضدار کی جانب سے عوام کے ساتھ گہرے تعلق اور سماجی مسائل کے حل کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کی مدد کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو یہ امیددلاتے ہیں کہ یقیناً ان کے درمیان دست شفقت رکھنے والے انتظامی سربراہان موجود اور انہیں اپنائیت کا احساس دلاتے ہیں۔ ضلع خضدار کی انتظامیہ اور بلدیاتی نمائندوں کے اس انسانی ہمدردی بھرے اقدام کو خضدار کے شہریونے بے حد سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے یہ جذبہ خیر سگالی آئندہ بھی جاری رہیگا۔ اس موقع پر کونسلر نصیر بزنجو بھی ان کے ہمراہ تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر300/2026
بارکھان، 14 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسو (چیئرمین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی) کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت کی سہولیات اور محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ماجد امین، اسسٹنٹ کمشنر بارکھان خادم حسین بھنگر، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی غلام رسول کھیتران، ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان کے ڈاکٹر ناصر خان، ڈسٹرکٹ سرویلنس آفیسر ڈاکٹر وزیر حسنی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر بی آر ایس پی ڈاکٹر سیف الملوک، خزانہ آفیسر کمال خان اور اے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی سعید احمد نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران غیر حاضر اور غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی پر غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر حاضر، ناقص کارکردگی اور غفلت کے مرتکب ملازمین کے کنٹریکٹس میں کسی صورت توسیع نہیں کی جائے گی۔ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان میں خواتین مریضوں کی سہولت کے پیش نظر ایک اضافی لیڈی میڈیکل آفیسر کو ڈیوٹی پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہسپتال کی لیبارٹری کو مزید بہتر بنانے اور آپریشن تھیٹر کی فعالی کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، جس کے لیے ضروری اقدامات جاری ہیں۔اجلاس میں روٹین ویکسینیشن کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ہدایات بھی دی گئیں۔ بی ایچ یو رکنی میں ایم ایل سی کے مستقل مسئلے کے حل کے لیے مستقل بنیادوں پر ڈاکٹر کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر بارکھان نے سرکاری ڈیوٹی کے دوران نجی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ کسی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر301/2026
لورالائی 14 جنوری۔ڈپٹی کمشنر لورالائی سے سپرنٹنڈنٹ پولیس ملک محمد اصغر عثمان نے اہم ملاقات کی، جس میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کے عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران ضلع لورالائی میں امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور لیویز فورس کی پولیس میں شمولیت سے متعلق انتظامی و قانونی امور کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں افسران نے اس عمل کو شفاف، منظم اور عوامی مفاد کے مطابق مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے کہا کہ لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کل سے لیویز فورس کے تمام ملازمین پولیس کی وردی میں ڈیوٹی سرانجام دیں گے اس حوالے سےتمام ضروری اقدامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں اور بہت جلد یہ عمل پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی تاکہ ضلع میں قانون کی عملداری، عوامی تحفظ اور امن و امان کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ایس پی ملک محمد عثمان نے بھی اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ لیویز فورس کی پولیس میں شمولیت سے ضلع میں سیکیورٹی نظام مزید موثر اور مضبوط ہوگا، جس کا براہِ راست فائدہ عوام کو پہنچے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر302/2026
کوئٹہ 14جنوری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ضلع میں نان فنکشنل اسکولوں کو دوبارہ فعال بنانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر، ای ایم آئی ایس اور محکمہ تعلیم کے افسران نے شرکت کی۔اس کے علاوہ اجلاس میں نان فنکشنل اسکولوں کو فنکشنل بنانے کے لیے تمام نان فنکشنل اسکولوں کے پرنسپلز، ڈی ڈی اوز اور کلسٹر ہیڈز کو طلب کیاگیا اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ تمام ڈی ڈی اوز اپنے متعلقہ کلسٹر ہیڈز کے ہمراہ ضلع کوئٹہ کے تمام 149 نان فنکشنل اسکولوں کا دورہ کریں گے اور تفصیلی رپورٹ پیش کریں گے، تاکہ اسکولوں کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے اس حوالے سے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ وقت کے اندر اپنی رپورٹس جمع کروائیں اور تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔انہوں نے کہا کہ نان فنکشن اسکولوں کو فنکشنل کر کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اس حوالے سے انتظامیہ اپنی بھرپور ذمہ داری ادا کر کرے گی۔انہوں نے کہا کہ تمام اسکولوں کو فنکشنل کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمزوری برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 304/2026
کوئٹہ، 14 جنوری .۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کی پیش رفت سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا جس میں پروگرام پر عملدرآمد، رفتار اور مستقبل کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں مشیر برائے محکمہ محنت و افرادی قوت سردار غلام رسول عمرانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور نیاز محمد نیچاری ، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون، منیجنگ ڈائریکٹر بی ٹیوٹا حمود الرحمٰن سمیت متعلقہ محکموں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شر کت کی اجلاس کو بتایا گیا کہ چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام پر عملدرآمد کی ذمہ دار بعض فرمز کی جانب سے سست روی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ فرمز کے خلاف کارروائی اور اب تک ادا کی گئی رقوم کی مکمل جانچ پڑتال کی ہدایت کی وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اجلاس میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ جی ٹو جی (گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ) ماڈل کے تحت بی ٹیوٹا نے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے باضابطہ طور پر رجوع کر لیا ہے جس کے بعد بی ٹیوٹا براہ راست متعلقہ ممالک کی ایمبیسیز سے رابطہ کر کے صوبے کے نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کرے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ بیرون ملک روزگار کے مواقع نوجوانوں کو نہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے معاشی حالات بہتر بنانے میں مدد دیں گے بلکہ ملک میں قیمتی زرِ مبادلہ لانے کا ذریعہ بھی بنیں گے وزیر اعلیٰ نے پروگرام کے تربیتی ماڈیولز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، عملدرآمد کے عمل کو تیز کرنے اور نتائج کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کو محض ایک منصوبے کے بجائے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی بنیاد بنایا جائے وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے کو مزید موثر بنائیں اور پروگرام کے اہداف کے بروقت حصول کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر305/2026
کوئٹہ، 14 جنوری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بدھ کے روز یہاں وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ چوہدری سالک حسین نے ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، بالخصوص افرادی قوت کی ترقی، نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ اور بیرون ملک روزگار کے مواقع سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر کو چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے اغراض و مقاصد، پیش رفت اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنے کے لیے مربوط اور عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ انہیں باعزت روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جا رہی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو خود کفیل بنانا اور بیرون ملک روزگار کے مواقع سے بھرپور استفادہ ممکن بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند نوجوان نہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے معاشی حالات بہتر بنائیں گے بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کا ذریعہ بھی بنیں گے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ چوہدری سالک حسین نے بلوچستان حکومت کی جانب سے نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور اسکل ڈویلپمنٹ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان باہمی اشتراک سے افرادی قوت کی ترقی کے اہداف کو موثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہےملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر نوجوانوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے مواقع بڑھانے، تربیتی پروگراموں کو مزید موثر بنانے اور ادارہ جاتی روابط کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر306/2026
کوئٹہ، 14 جنوری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بدھ کو یہاں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایف پی اے (United Nations Population Fund) کے کنٹری ریپریزنٹیٹو لوائے شبانیہ (Luay Shabaneh) نے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان میں آبادی سے متعلق درپیش چیلنجز، ماں اور بچے کی صحت، نوجوانوں اور خواتین کی فلاح و بہبود، اور ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا ملاقات میں پارلیمانی سیکرٹری پاپولیشن آغا عمر خان احمدزئی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری پاپولیشن ظفر خان بلیدی، پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلیٰ بابر خان اور یو این ایف پی اے کوئٹہ کی سربراہ سعدیہ عطاء بھی شریک تھیں ملاقات کے دوران اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان میں آبادی سے متعلق امور کے لیے ایک مربوط اور موثر صوبائی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی، جو مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بناتے ہوئے آبادی، صحت اور تعلیم سے متعلق پالیسیوں پر موثر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایڈوکیسی اور ایک مضبوط ڈیٹا گورننس فریم ورک کے ذریعے پالیسی سازی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ آبادی سے متعلق تمام فیصلے مستند ڈیٹا اور شواہد کی بنیاد پر کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم اور صحت صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور ان شعبوں میں بہتری کے بغیر پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ ماں اور بچے کی صحت کے اشاریوں میں بہتری کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں جبکہ نوجوانوں اور خواتین کی فلاح و بہبود کو صوبے کی سماجی و معاشی ترقی کی بنیاد قرار دیا انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی میں سرمایہ کاری ہی بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے اس موقع پر لوائے شبانیہ (Luay Shabaneh) نے بلوچستان حکومت کی پالیسی ترجیحات اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ یو این ایف پی اے بلوچستان میں آبادی، صحت اور انسانی ترقی سے متعلق منصوبوں میں اپنا تعاون مزید مضبوط بنائے گا اور صوبائی حکومت کے ساتھ قریبی اشتراک سے کام جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر307/2026
کوئٹہ، 14 جنوری۔سیکرٹری اطلاعات بلوچستان عمران خان کی زیر صدارت محکمہ تعلقاتِ عامہ (پبلک ریلیشنز) کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز محمد نور کھیتران، محکمہ اطلاعات کے سینئر افسران اور متعلقہ شعبہ جات کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز محمد نور کھیتران نے محکمہ تعلقاتِ عامہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی، جس میں گزشتہ ایک سال کے دوران صوبائی حکومت کی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اسکیموں اور گورننس سے متعلق اقدامات کی تشہیر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔رپورٹ میں پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام تک معلومات کی فراہمی، میڈیا کوریج، سرکاری تشہیری مہمات اور محکمانہ اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات بلوچستان عمران خان نے محکمہ تعلقاتِ عامہ کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دوسالوں سے محکمے کی مجموعی کارکدگی بہتر ہوئی ہے بالخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حکومتی تشہیر میں نمایاں اضافہ دیلھنے میں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام اور حکومت کے درمیان موثر رابطہ قائم رکھنا محکمہ اطلاعات کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت کی پالیسیوں، ترقیاتی اسکیموں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت، درست اور موثر تشہیر کو مزید بہتر اور مربوط بنایا جائے تاکہ عوام کو حکومتی اقدامات سے آگاہی حاصل ہو اور شفافیت کو فروغ ملے۔سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات اور جدید دور کے تقاضوں کے پیش نظر روایتی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ محکمہ تعلقاتِ عامہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید ابلاغی ذرائع کو بھرپور انداز میں استعمال کرے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی اقدامات کی مثبت اور موثر تشہیر کو مزید وسعت دی جائے تاکہ نوجوان نسل سمیت تمام طبقات تک رسائی ممکن ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے ویژن کے مطابق صوبے کے مختلف محکموں میں ری اسٹرکچرنگ کا جامع عمل جاری ہے، جس کا مقصد ادارہ جاتی اصلاحات، کارکردگی میں بہتری اور عوامی خدمات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس ضمن میں سروس رولز میں بہتری، سروس ڈیلیوری کو موثر بنانا، غیر ضروری اور غیر فعال اسامیوں کا خاتمہ، نئے تقاضوں سے ہم آہنگ آسامیوں کا قیام، ری ڈیزگنیشن اور افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔سیکرٹری اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ تعلقاتِ عامہ کے افسران اور عملہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کریں، جدید میڈیا ٹولز سے استفادہ کریں اور حکومتی ترجیحات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ موثر تشہیر نہ صرف حکومتی اقدامات کو اجاگر کرتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط بناتی ہے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف تجاویز اور سفارشات پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ تعلقاتِ عامہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی، جبکہ آئندہ بھی باقاعدگی سے ایسے جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ حکومتی پالیسیوں اور عوامی فلاحی منصوبوں کی تشہیر کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر308/2026
کوئٹہ، 14جنوری ۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ لیویز کو پولیس میں ضم ہونے کے بعد پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لئے جدید تربیت فراہم کی جارہی ہے تاکہ دہشت گردی اور سنگین جرائم کے چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹ کر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ اہلکاروں کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں جدت لانے کے لئے بہترین انسٹرکٹر ان کی مہارت میں بہتری لانے کے لئے کوشاں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پولیس ٹریننگ کالج میں زیر تربیت لیویز اہلکاروں سے خطاب اور مختلف تربیتی سہولیات مراکز کے اہلکاروں و دیگر حکام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ شہزاد اکبر، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ بلوچستان طاہر علاﺅ الدین، ڈپٹی کمانڈنٹ پی ٹی سی فہد کھوسہ، چیف لاء انسٹرکٹر نظربادینی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر آئی جی پولیس نے تربیتی سہولیات، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تیاری اور تربیت کا جائزہ لیا اس موقع پر ڈی آئی جی اسپیشل برانچ طاہر علاوالدین سمیت سینئر پولیس آفیسران نے آئی جی پولیس بلوچستان کو پولیس ٹریننگ کالج میں جاری تربیتی پروگراموں میں جدید سہولیات ، بم ڈسپوزل آلات کے حوالے سے بریفنگ دی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں نے آئی جی پولیس کو دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کی عملی مشق پیش کی۔ جس پر آئی جی پولیس نے اسے سراہتے ہوئے اہلکاروں کی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایک اہم اور حساس صوبہ ہے جہاں امن کا قیام نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے استحکام کیلئے ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس مجرموں ، دہشت گردوں ، ملک دشمن عناصر کے خلاف فرائض کی منصبی اور جنگ میں اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کررہی ہے بلوچستان میں پائیدار اور دیر پا امن کا قیام ترجیحات میں سر فہرست ہے انہوں نے کہا کہ زیر تربیت اہلکاروں کو انسداد دہشت گردی ، بم ڈسپوزل ، انٹیلی جنس اور جدید طریقہ کار سے متعلق خصوصی اور جدید تربیت فراہم کی جارہی ہے تاکہ بدلتے ہوئے سیکورٹی حالات سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت مکمل طور پر تیار رہے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی تربیت یافتہ افرادی قوت اور مضبوط ادارہ جاتی نظام کے ذریعے پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جارہی ہے تاکہ صوبے کو پر امن بنانے کے لئے بلوچستان پولیس ہمہ وقت مستعد ہے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس کے افسران اور جوانوں نے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے اپنی جانیں قربان کرکے شہادت کا رتبہ پایا ہے اور شہدائ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر309/2026
لورالائی۔14, جنوری ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہیں زیر تعمیر لورالائی میڈیکل کالج و ہسپتال ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے جس کی تکمیل سے پورے ریجن میں صحت کی سہولیات میسر آ ئیں گی ۔ اور لوگوں کو دور دراز جانے کی بجائے لورالائی ہی میں علاج معالجہ کی سہولت دستیاب ہو ں گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیکل کالج لورا لائی کے زیر تعمیر بلڈنگ کے دورے کے موقع پر کیا اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر محمد مقبول و دیگر آ فسران بھی تھے پروجیکٹ ڈائریکٹر راز محمد ناصر نے کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لورالائی میڈیکل کالج ، ہسپتال سمیت دیگر شعبوں کا کام 2022 میں شروع ہوا یہ کل 5 ارب روپے کا پروجیکٹ ہے جس میں ایڈمن کے 7 بلاک ، 8 ہاسٹلز ، میل فیمیل ایمپلائز ، ہیں ، 12 بنگلوز ، 16 فلیٹ ، دو کفیٹریا ، واٹر ٹنک، ٹیوب ویل و دیگر شامل ہیں۔ 5 پیکیجز پر مشتمل ہیں اس میں بنگلوز ہاسٹلز ، کیفیٹریا چار دیواری تقریبآ تکمیل کے قریب ہیں اب تک 3 ،ارب روپ مل چکے ہیں بقیہ بجٹ رہتا ہے رواں سال کا بجٹ بھی نہیں ابھی تک ملا ہے اس کا کل ایریا 150 ایکڑ ہیں، مزید 160 ایکڑ زیر پرسس ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 60 فیصد کام مکمل ہیں۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے مزید کہا کہ میڈیکل کالج و ٹیچنگ ہسپتال کی نئی بلڈنگ کی تکمیل کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے جس سے پورے علاقے کو فائدہ ہوگا اور علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی اور ایک چار دیواری کے اندر مختلف امراض کے لئے ایک معیاری ہسپتال اور مستقبل کا ڈاکٹر بن جائے گا انہوں نے کام معیار اور پی ڈی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور مزید بجٹ کے لئے حکام بالا سے رابطہ کرنے یقین دھانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر310/2026
تربت: سیکریٹری کالجز اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن صالح محمد بلوچ نے بدھ کے روز گورنمنٹ گرلز کالج تربت کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری کالجز اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن عبدالمالک اچکزئی ,ڈائریکٹر اکیڈمک مینجمنٹ کالجز اینڈ ہائیر ایجوکیشن حکومت بلوچستان ڈاکٹر منصور احمد، ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران برکت اسماعیل، اسسٹنٹ مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران شریف شمبے زئی، پرنسپل گورنمنٹ عطاء شاد ڈگری کالج تربت پروفیسر ظہیر بلوچ سمیت محکمہ بی اینڈ آر اور اربن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس دوران کالج پہنچنے پر پرنسپل گورنمنٹ گرلز کالج تربت گل جان خالد اور ان کی ٹیم نے سیکریٹری کالجز اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں سیکریٹری کالجز اینڈ ٹیکنیکل نے پرنسپل کے ساتھ کالج کو درپیش مسائل اور طالبات کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔دورے کے دوران انہوں نے کالج کے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور زیرِ تعلیم طالبات سے ملاقات کرکے تدریسی عمل، تعلیمی ماحول اور سہولیات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔اس کے بعد سیکریٹری کالجز اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن نے بی ایس پروگرام کی طالبات کے لیے دس کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے نئے بلاک کا بھی دورہ کیا اور وہاں جاری کلاسز کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے بی ایس پروگرام کے سلیبس، تدریسی طریقہ کار اور لیبارٹریز کے لیے درکار آلات کی فراہمی کے امور پر کالج اساتذہ سے گفتگو کی۔انہوں نے ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز برکت اسماعیل بلوچ اور پرنسپل گل جان خالد کے ساتھ طالبات کو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسائل ، کالج کو سولر ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی کی فراہمی اور ہاسٹل سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ کالج کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی پروگرام کے انعقاد پر بھی غور کیا گیا۔بعد ازاں سیکریٹری کالجز اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن نے گورنمنٹ عطائ شاد ڈگری کالج تربت کا بھی دورہ کیا، جہاں پرنسپل پروفیسر ظہیر بلوچ نے انہیں کالج کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر فیکلٹی ممبران کے ساتھ ملاقات میں بی ایس پروگرام سمیت دیگر تعلیمی و انتظامی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس دوران انہوں نے گورنمنٹ عطائ شاد ڈگری کالج تربت میں بیچلر لاج کے منصوبے کا بھی معائنہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبرRecast.307/2026
کوئٹہ، 14 جنوری۔ سیکرٹری اطلاعات بلوچستان عمران خان کی زیر صدارت محکمہ تعلقاتِ عامہ (پبلک ریلیشنز) کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز محمد نور کھیتران، محکمہ اطلاعات کے سینئر افسران اور متعلقہ شعبہ جات کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز محمد نور کھیتران نے محکمہ تعلقاتِ عامہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی، جس میں گزشتہ ایک سال کے دوران صوبائی حکومت کی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اسکیموں اور گورننس سے متعلق اقدامات کی تشہیر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔رپورٹ میں پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام تک معلومات کی فراہمی، میڈیا کوریج، سرکاری تشہیری مہمات اور محکمانہ اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات بلوچستان عمران خان نے محکمہ تعلقاتِ عامہ کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دوسالوں سے محکمے کی مجموعی کارکدگی بہتر ہوئی ہے بالخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حکومتی تشہیر میں نمایاں اضافہ دیلھنے میں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام اور حکومت کے درمیان موثر رابطہ قائم رکھنا محکمہ اطلاعات کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت کی پالیسیوں، ترقیاتی اسکیموں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت، درست اور موثر تشہیر کو مزید بہتر اور مربوط بنایا جائے تاکہ عوام کو حکومتی اقدامات سے آگاہی حاصل ہو اور شفافیت کو فروغ ملے۔سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات اور جدید دور کے تقاضوں کے پیش نظر روایتی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ محکمہ تعلقاتِ عامہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید ابلاغی ذرائع کو بھرپور انداز میں استعمال کرے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی اقدامات کی مثبت اور موثر تشہیر کو مزید وسعت دی جائے تاکہ نوجوان نسل سمیت تمام طبقات تک رسائی ممکن ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق صوبے کے مختلف محکموں میں ری اسٹرکچرنگ کا جامع عمل جاری ہے، جس کا مقصد ادارہ جاتی اصلاحات، کارکردگی میں بہتری اور عوامی خدمات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس ضمن میں سروس رولز میں بہتری، سروس ڈیلیوری کو موثر بنانا، غیر ضروری اور غیر فعال اسامیوں کا خاتمہ، نئے تقاضوں سے ہم آہنگ آسامیوں کا قیام، ری ڈیزگنیشن اور افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔سیکرٹری اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ تعلقاتِ عامہ کے افسران اور عملہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کریں، جدید میڈیا ٹولز سے استفادہ کریں اور حکومتی ترجیحات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ موثر تشہیر نہ صرف حکومتی اقدامات کو اجاگر کرتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط بناتی ہے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف تجاویز اور سفارشات پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ تعلقاتِ عامہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی، جبکہ آئندہ بھی باقاعدگی سے ایسے جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ حکومتی پالیسیوں اور عوامی فلاحی منصوبوں کی تشہیر کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر311/2026
چمن14 جنوری ۔ ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کا اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں بی ایس ڈی آئی کی سکیمات فیزI اور فیزII کے حوالےسے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااجلاس میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے افسران نمائندے اور دیگر افسران شریک تھے اجلاس میں تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان نے ترقیاتی اسکیمات کی اب تک کی پیش رفت کے حوالےسے آگاہی فراہم کی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ یہ سکیمات کمیونٹی بیسڈ ہیں جو کہ حکومت بلوچستان اور 12کور کی کوششوں سے شروع کیے گئے ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سکیمات میں استعمال ہونے والا میٹریل معیاری اور بہترین کوالٹی اور پی سی ون کے مطابق ہونا چاہیے چمن جو کہ ایک سرحدی ضلع ہے جس کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ اور عوام کے درمیان باہمی کوآرڈینیشن اور مسائل اور مشکلات کے حل پر تمام متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی کوآرڈینیشن ضروری ہے تاکہ عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کو بروقت حل کیا جا سکے اور چیلنجز پر قابو پایا جائے اس حوالے سے سول و فوجی قیادت اور تمام ادارے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات ایمانداری اور مستقل مزاجی سے سرانجام دیں انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور کوآرڈینیشن ناگزیر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر312/2026
تربت14جنوری ۔ تربت۔ کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹول 2026 کرکٹ کا فائنل میچ ڈی سی اے کرکٹ کلب تربت اور کے ایم سی کرکٹ کلب پنجگور کے درمیان کھیلا گیا۔ اس موقع پر ٹاس جیت کر ڈی سی اے کرکٹ کلب تربت کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔اس موقع پر ڈی سی اے کرکٹ کلب تربت کی پوری ٹیم اپنے مقررہ اوورز میں صرف 90 رن بناکر آوٹ ہوگئی۔جس کے بعد ہدف کے تعاقب میں کے ایم سی پنجگور کی ٹیم نے 6 اوور اور 3 بال میں بغیر کسی نقصان کے 91 رنز بناکر میچ جیت کر ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم بن گئی۔اس دوران میچ میں کے ایم سی پنجگور کے کھلاڑی شوکت سکندر نے 22 گیندوں پر 69 بنانے جبکہ کے ایم سی پنجگور کے نظام الدین نے 3 وکٹیں اپنے نام کر دیں۔اس موقع پر فیسٹیول کے کرکٹ ایونٹ کے فائنل میچ کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی تھے۔ اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔اس موقع پر فیسٹیول سیکریٹری التاز سخی نے کامیاب ٹیم کو مبارکباد دیں اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی ستائش کی کہ انہوں نے کھیل میں بہترین نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔دریں اثناء فٹبال کے ایونٹ میں ڈی سی الیون کیچ اور وش ٹیلی کام پنجگور کے درمیان کھیلا جانے والا پہلا سیمی فائنل میچ ڈی سی الیون کیچ نے 2 کے مقابلے 3 گول سے جیت لیا۔ اس دوران میچ کا مہمان خاص بلوچی زبان کے معروف گلوکار عارف بلوچ اور شاہجہان داودی تھے۔دیگر مہمان گرامی میں التیاز سخی صاحب عومر ہوت معروف بلوچی زبان کے شاعر ارشاد پرواز صاحب بھی گراونڈ پر موجود تھی اس دوران دلچسپ اور سنسنی خیز میچ دیکھنے کیلئے شائقین فٹبال کی بڑی تعداد موجود تھی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video