خبرنامہ نمبر202/2025
کوئٹہ، 10 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خیبر پختونخوا کے اضلاع شمالی وزیرستان اور کرم میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کامیاب انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بروقت، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات ریاستی عزم، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح مظہر ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے غیر معمولی جرات، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خطرناک دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جو ملک کے امن و امان، قومی سلامتی اور معصوم شہریوں کی جانوں کے لیے مسلسل سنگین خطرہ بنے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور بلا تعطل کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن “عزمِ استحکام” کے مطابق ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کی مہم پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے، اور دہشت گردی کے تمام نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدائ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو ایک پرامن، محفوظ اور مستحکم ملک بنانے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی ادارے مکمل ہم آہنگی، سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ اپنا قومی فریضہ ادا کرتے رہیں گے.
خبرنامہ نمبر203/2025
کوئٹہ، 10 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاک بحریہ کی جانب سے جدید ایل وائی 80 (LY-80) دفاعی میزائل کے کامیاب تجربے پر پوری قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے قومی دفاع کے لیے ایک بڑی اور اہم کامیابی قرار دیا ہے اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایل وائی 80 میزائل کا کامیاب تجربہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی سائنسدان، انجینئرز اور افواجِ پاکستان جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں۔ انہوں نے اس تاریخی کامیابی میں حصہ لینے والے سائنسدانوں، پاک بحریہ کے افسران و جوانوں اور تمام متعلقہ ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاک بحریہ نے ہمیشہ ملکی سلامتی کے تحفظ میں کلیدی اور قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور حالیہ میزائل تجربہ بھی اسی پیشہ ورانہ مہارت اور قومی جذبے کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سائنسدانوں کی انتھک محنت اور لگن کے باعث دفاعی شعبے میں ملک کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا ہے، جس کا اعتراف دنیا کرتی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ افواجِ پاکستان، سائنسدانوں اور انجینئرز کی مشترکہ کاوشوں کی بدولت پاکستان کا دفاع مضبوط، مؤثر اور ناقابلِ تسخیر بن چکا ہے، اور پوری قوم اپنی مسلح افواج اور دفاعی اداروں پر فخر کرتی ہے۔
خبرنامہ نمبر204/2025
کوئٹہ، 10 جنوری :حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں قائم غیر لائسنس یافتہ اور غیر معیاری چائلڈ نرسریوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا ہے اس فیصلے کا مقصد بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور والدین کے اعتماد کا ہر صورت میں تحفظ کرنا ہے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کوئٹہ میں قائم ایک چائلڈ نرسری میں بچے کی تبدیلی کے سنگین اور افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے کیس بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے سپرد کر دیا گیا ہے صوبائی وزیر صحت کے مطابق بچے کی شناخت اور تمام حقائق سامنے لانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے جانچ کا بھی حکم دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے بخت محمد کاکڑ نے واضح کیا کہ غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری چائلڈ نرسریوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور والدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی صوبائی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ صوبے بھر میں قائم تمام چائلڈ نرسریوں کی جامع جانچ پڑتال کی جائے اور لائسنسنگ کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ صرف وہی ادارے کام کر سکیں جو مقررہ معیار اور قوانین پر پورا اترتے ہوں انہوں نے خبردار کیا کہ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب نرسری مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر205/2025
لسبیلہ یونیورسٹی اف ایگریکلچر ،واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے درمیان مفا ہمتی داشت پر دستخط کیے گئے۔ مفاہمتی یاداشت پر دستخط لسبیلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے پرنسپل پروفیسر عبدالرزاق ریکی نے کیے۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الہی بخش مرغزانی، رجسٹرار ڈاکٹر بالاچ رشید اور ایگری کلچر فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد راشد بھی موجود تھے۔ اس مفاہمت نامے کا مقصد BACQ اور LUAWMS کے درمیان زراعت، پانی اور سمندری علوم کے شعبوں میں تعاون اور باہمی تعاون کے لیے ایک فریم ورک قائم کرنا ہے۔ مباہمتی یادداشت کے مطابق دونوں فریق باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تحقیقی منصوبوں، وسائل کے اشتراک اور مہارت پر تعاون کرنے پر بھی متفقہ کام کریں گے ۔دونوں ادارے لیبارٹری تکنیکی ماہرین کو ان مہارتوں اور علم کو مزید وسعت دینے کے لیے تربیت کے مواقع فراہم کریں گے۔ یادداشت میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دونوں فریق پی ایچ ڈی ہولڈر کے تبادلے کے پروگراموں کے مواقع تلاش کریں گے تاکہ باہمی تحقیق اور علم کے تبادلے میں آسانی ہو۔ علاوہ ازیں فریقین تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ سرگرمیوں، جیسے ورکشاپس، سمینارز، اور کانفرنسز بھی منعقد کریں گے۔
خبرنامہ نمبر206/2025
کوئٹہ، 10 جنوری :بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نور محمد قاضی نے کہا ہے کہ بچوں کے تحفظ، عوامی صحت اور والدین کے اعتماد پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی ڈاکٹر نور قاضی کے مطابق بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 کے تحت کمیشن صوبے بھر میں قائم صحت سے متعلق اداروں اور سہولیات کی ریگولیٹری نگرانی کا ذمہ دار ہے تاکہ لائسنسنگ، معیار اور حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے اور عوامی صحت کا تحفظ ممکن ہو انہوں نے بتایا کہ 07 جنوری 2026 کو سوشل میڈیا پر کوئٹہ میں واقع الشفا نرسری سے متعلق بچوں کی مبینہ غلط شناخت اور آپس میں تبدیلی کا سنگین واقعہ رپورٹ ہوا، جس نے عوامی تشویش کو جنم دیا۔ واقعے کی نوعیت اور بچوں کے تحفظ سے جڑے حساس پہلوؤں کے پیشِ نظر فوری ریگولیٹری کارروائی ناگزیر ہو گئی چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن نے بتایا کہ واقعے کے بعد سرکاری کمپلائنس مہم کے تحت کمیشن کی خصوصی معائنہ ٹیم نے 08 جنوری 2026 کو الشفا نرسری کا موقع پر تفصیلی معائنہ کیا۔ یہ معائنہ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ہدایات پر بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت قانونی، ریگولیٹری اور حفاظتی تقاضوں کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ڈاکٹر نور قاضی کے مطابق معائنے کے دوران ریگولیٹری قوانین کی متعدد خلاف ورزیوں کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد الشفا نرسری کی انتظامیہ کو رجسٹریشن منسوخی سے متعلق باضابطہ نوٹس جاری کیا گیا اور انہیں عدالتی سماعت کے لیے بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی قانون کے مطابق نرسری کو سیل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ادارے کو باقاعدہ طور پر سیل کر دیا گیا انہوں نے واضح کیا کہ جاری کردہ نوٹس میں نفاذی کارروائی کی تمام وجوہات درج ہیں اور ان قانونی و ریگولیٹری تقاضوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی تکمیل بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 کے تحت لازم ہے انہوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے بعد مفصل اور جامع تحقیقاتی رپورٹ بھی جلد جاری کردی جائے گی چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن صوبے بھر میں غیر رجسٹرڈ، غیر معیاری اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تمام صحت سے متعلق اداروں اور نرسریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ بچوں کا تحفظ، عوامی صحت اور ادارہ جاتی نظم و ضبط یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر207/2025
کوئٹہ۔علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں آئندہ دو روز کے دوران سرد اور خشک موسم کا سلسلہ برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں شدید سردی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔جمعہ کے روز صوبے کے بیشتر حصوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا، تاہم شمال مغربی اضلاع میں شدید سردی متوقع ہے۔ کوئٹہ، چمن، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ، ژوب اور قلات میں کم سے کم درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے رہنے کا امکان ہے۔ہفتہ کے روز بھی صوبے کے بیشتر علاقوں میں سرد اور خشک موسم برقرار رہے گا۔ مذکورہ بالا اضلاع میں شام اور رات کے اوقات کے دوران کم سے کم درجہ حرارت بدستور نقطہ انجماد سے نیچے رہنے کی توقع ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور سرد رہا، جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں رات کے وقت شدید سردی ریکارڈ کی گئی۔قلات میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر208/2025
کمشنر ژوب ڈویژن سید زاہد شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ شجرکاری مہم کے دوران علاقے کے رقبے اور آبادی کے تناسب سے زیادہ سے زیادہ پودوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بات محکمہ جنگلات کی نرسری کے دورے کے موقع پر کہی۔کمشنر ژوب ڈویژن کو محکمہ جنگلات کے حکام کی جانب سے نرسری میں موجود پودوں کی مختلف اقسام، تعداد اور نگہداشت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر محکمہ جنگلات کے افسران اور عملہ بھی موجود تھا۔انہوں نے نرسری میں موجود انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ پودوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ آئندہ شجرکاری مہم کے دوران علاقے کے رقبے اور آبادی کے تناسب سے زیادہ سے زیادہ پودے فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم کو مؤثر بنانے کے لیے پیشگی تیاری ناگزیر ہے۔کمشنر ژوب ڈویژن نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درخت ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے، گلوبل وارمنگ سے نمٹنے، زمین کے درجہ حرارت میں توازن، بارشوں کے نظام میں بہتری اور قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے محکمہ جنگلات کے حکام کو ہدایت کی کہ عوام میں شجرکاری سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے اور تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں اور مقامی کمیونٹی کو شجرکاری مہم میں بھرپور انداز میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان ماحولیاتی تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس ضمن میں محکمہ جنگلات کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ دورے کے اختتام پر کمشنر ژوب ڈویژن نے نرسری میں جاری اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا۔
خبرنامہ نمبر209/2025
ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے گزشتہ روز لورالائی کا دورہ کیا، جہاں ان کی زیرِ صدارت ایس ایس پی آفس لورالائی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی لورالائی ملک محمد اصغر عثمان، ڈی ایس پی لیگل سردار نصراللہ خان حمزازئی، ایس ڈی پی او کریم مندوخیل، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر اقبال لانگو سمیت ایس ایچ اوز اور تمام تفتیشی افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈی آئی جی لورالائی رینج نے اشتہاری اور مفرور ملزمان کے خلاف جاری کارروائیوں، زیرِ تفتیش مقدمات اور پولیس کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زیرِ تفتیش مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے، اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں مزید تیز کی جائیں اور تفتیشی عمل کو جدید اور پیشہ ورانہ خطوط پر استوار کیا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جرائم کی مؤثر روک تھام اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ڈی آئی جی لورالائی رینج نے کہا کہ لیویز فورس کے انضمام کے بعد پولیس کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے اور سابقہ اے اور بی ایریاز مکمل طور پر پولیس ایریا میں شامل ہو چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ لیویز فورس کے انضمام کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ ڈی آئی جی نے ایس ایس پی لورالائی کو ہدایت کی کہ وہ ڈپٹی کمشنر لورالائی کے تعاون سے لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے تمام مراحل جلد مکمل کریں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد تمام اہلکار خود کو پولیس فورس کا حصہ سمجھیں گے، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور تمام امور میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر نمٹائے جائیں گے۔ ڈی آئی جی لورالائی رینج نے منشیات کے خلاف پولیس کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور اس ضمن میں اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے منشیات کو ایک سنگین سماجی ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس پُرعزم ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 210/2025
ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے تحت ایک شاندار میراتھن ریس کا انعقاد کیا گیا، جس میں نوجوانوں سمیت عوام الناس کی بڑی تعداد نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ اس میراتھن ریس کا مقصد کھیلوں کے فروغ، صحت مند سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اورنوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا۔میرا تھن ریس کی افتتاحی تقریب میں کمشنر مکران قادر بخش پرکانی، ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، اسسٹنٹ کمشنر تمپ شیہک حیات، میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی، کیچ کلچرل فیسٹیول کے سیکریٹری التاز سخی سمیت ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، سرکاری افسران، انجمن تاجران کے اراکین، کھیلوں سے وابستہ شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔میراتھن ریس کا باقاعدہ آغاز ڈپٹی کمشنر کیچ کی رہائش گاہ سے ٹھیک صبح 11 بجے کیا گیا۔ ریس کا قافلہ تربت پولیس تھانہ چوک اور تختی چوک سے ہوتا ہوا تعلیمی چوک سے گزرا اور آخرکار کیچ اسٹیڈیم تربت میں اختتام پذیر ہوا۔ ریس کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور کھلاڑیوں نے غیرمعمولی جذبے اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔انتظامیہ کی جانب سے ریس کے دوران سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ شرکاء کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ راستے میں شہریوں کی بڑی تعداد نے تالیاں بجا کر کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جس سے مقابلے کا جوش مزید بڑھ گیا۔سخت مقابلے کے بعد تقریباً پانچ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے تربت کے علاقے جوسک سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایاز بلوچ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ پنجگور سے تعلق رکھنے والے محمد جان نے دوسری اور تربت کے علاقے ملک آباد سے تعلق رکھنے والے ادیب احمد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
بعد ازاں کیچ اسٹیڈیم تربت میں منعقدہ ایک مختصر مگر پروقار تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے کمانڈنگ مکران اسکاؤٹس عمر طاہر اور میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی کے ہمراہ کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے ایاز بلوچ کو ایک لاکھ روپے، دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے محمد جان کو پچاس ہزار روپے جبکہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے ادیب احمد کو پچیس ہزار روپے کے چیکس دیے گئے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے فیسٹیول سیکریٹری التاز سخی اور ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر غفار بلوچ کے ہمراہ کامیاب کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہیں۔دریں اثناء کمانڈنگ مکران اسکاؤٹس عمر طاہر نے کامیاب میراتھن ریس کے انعقاد پر ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایف سی بلوچستان کی جانب سے کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے لیے دس لاکھ روپے کی مالی معاونت کا اعلان بھی کیا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کو منفی رجحانات سے دور رکھنے، صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی تربت میں اس نوعیت کے کھیلوں کے مقابلوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا تاکہ ایک صحت مند اور متحرک معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔
خبرنامہ نمبر 211/2025
آفیسر خضدار ڈاکٹر محمد نسیم لانگو نے تحصیل باغبانہ میں قائم مختلف سی ڈی (CDs) اور بیسک ہیلتھ یونٹس (BHUs) کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈرگ انسپکٹر خضدار ڈاکٹر رشید احمد اور اسٹاف آفیسر ڈی ایچ او آفس جمعہ خان زہری بھی موجود تھے۔دورے کے دوران ٹیم نے صحت مراکز میں ادویات کی دستیابی، صفائی کی مجموعی صورتحال اور طبی عملے کی حاضری کا تفصیلی جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران متعدد ملازمین کو ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا، جس پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار نے موقع پر ہی غیر حاضر ملازمین کو شوکاز نوٹسز جاری کیے۔ مزید برآں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر بعض ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر محمد نسیم لانگو نے کہا کہ محکمہ صحت میں کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا ڈیوٹی میں کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحصیل باغبانہ میں عوامی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا
خبرنامہ نمبر 212/2025
خضدار 10 جنوری:ضلع خضدار، جو صوبے کے لئے جغرافیائی اور معاشی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، اب ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے قریب ہے۔ نیشنل ہائی وے این 25 کو جدید دو شاہراہیں ایکسپریس وے میں تبدیل کرنے کا یہ عظیم الشان منصوبہ نہ صرف سفر کے وقت کو نصف سے بھی کم کر دے گا بلکہ پورے صوبے کی معیشت، تجارت اور روزگار کے منظر نامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔آج ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے وڈھ تحصیل کا ایک جامع اور اہم دورہ کیا۔ یہ دورہ محض رسمی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ اس میں انتظامیہ کی سنجیدگی، عوامی ضروریات کے معاملات اور میگا پراجیکٹ کی بروقت تکمیل کے عزم کی واضح جھلک نظر آئی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ ایکسیئن سی اینڈ بلیو انجینئر سلیم رزاق عمرانی ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر منیراحمد اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ منیجر ناصراحمد موسیانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کا آغاز ایف ڈبلیو او کے کیمپ کا دورہ اور آفیشلز کے ساتھ ملاقات سے ہوا ۔ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزارزئی کے دفتر کا وزٹ کیا جہاں ریونیو عملے نے زمینی معاملات، تنازعات کے حل اور پراجیکٹ سے متعلق دیگر اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس کے بعد ڈپٹی کمشنرخضدار نے N-25 کے مختلف مقامات خصوصاً وڈھ اور دراکھالہ کے علاقوں میں جاری تعمیراتی کاموں کا براہ راست معائنہ کیا۔یہاں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے افسران اور عملے سے سائٹ پر اور سمان تنگ کیمپ میں ملاقات ہوئی۔ کام کی رفتار، درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر کھل کر گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایات دیں کہ تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ یہ سیکشن مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہو سکے۔دورے کے دوران بنیادی صحت مراکز بی ایچ یو وہیر اور بی ایچ یو دراکھالہ کا بھی معائنہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنرخضدار عبدالرزاق ساسولی نے طبی عملے سے گفتگو کی اور ہدایت کی کہ مریضوں کو بہترین ممکنہ سہولیات میسر ہونی چاہئیں، خصوصاً اس وقت جب علاقے میں تعمیراتی کاموں کی وجہ سے آمدورفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔اسی طرح ایمرجنسی سروسز 1122 کے دراکھالہ میں قائم ہونے والے مرکز کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اس بات پر زور دیا کہ ایمرجنسی حالات میں فوری رسپانس یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ نئے ایکسپریس وے پر ٹریفک کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ایمرجنسی سروسز کا مضبوط نظام ناگزیر ہے۔دورے کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی نے کہاکہ N-25 پاکستان ایکسپریس وے ضلع خضدار اور پورے بلوچستان کے لیئے ایک انقلاب ہے۔ یہ محض ایک سڑک نہیں، بلکہ خوشحالی، ترقی اور مواصلات کا نیا دروازہ ہے۔ حکومت پاکستان اور صوبائی انتظامیہ اس منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیئے پوری طرح پرعزم ہیں ۔ ہم ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کریں گے تاکہ یہ خواب حقیقت کی شکل اختیار کر سکے اور ہمارے عوام کو اس کے ثمرات جلد سے جلد حاصل ہوں۔
خبرنامہ نمبر 213/2025
اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر نے دشت دورو کنڈگ کے مقام پر پہاڑی تودہ گرنے کے باعث بند ہونے والی مرکزی شاہراہ کا ہنگامی بنیادوں پر دورہ کیا۔ پہاڑی تودہ گرنے کے نتیجے میں شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہوچکی تھی، جس کے باعث گوادر اور دشت کے درمیان آمد و رفت معطل ہو گئی اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر گوادر نے موقع پر پہنچ کر فوری اقدامات کی براہِ راست نگرانی کی۔ ان کی ہدایات پر محکمہ بی اینڈ آر اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کی ہیوی مشینری اور ٹریکٹرز کو فوری طور پر متحرک کیا گیا، جس کے ذریعے پہاڑی تودہ ہٹا کر شاہراہ کو ہنگامی بنیادوں پر کلیئر کر دیا گیا۔
بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں مرکزی شاہراہ کو جلد از جلد ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا، جس سے گوادر اور دشت کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں افراد کو ریلیف ملا اور ٹریفک کی روانی بحال ہو گئی۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشینری اور عملے کو ہمہ وقت تیار رکھا جائے، تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی سہولت اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے متحرک رہے۔
خبرنامہ نمبر 214/2025
لورالائی 10 جنوری:لورالائی پولیس اور سی آئی اے نے منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں چرس برآمد کر لی۔یہ کارروائیاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس لورالائی رینج جنید احمد شیخ کے احکامات اور ایس ایس پی لورالائی ملک محمد اصغر عثمان کی ہدایات پر ایس ڈی پی او کریم مندوخیل کی نگرانی میں عمل میں لائی گئیں، جن میں لورالائی پولیس کے مختلف تھانوں اور سی آئی اے کی ٹیموں نے علیحدہ علیحدہ کارروائیاں کیں۔پہلی کارروائی میں ایس ایچ او تھانہ شہید محمد اشرف ترین سٹی لورالائی سب انسپکٹر محمد شریف موساخیل کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے دو مبینہ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان میں عبیداللہ ولد ولی محمد قوم علیزئی، ساکن کڈی محلہ لورالائی شامل ہے، جس کے قبضے سے مبینہ طور پر 520 گرام چرس برآمد ہوئی، جبکہ اللہ نور ولد نصراللہ قوم حمزازئی، ساکن بی اینڈ آر لورالائی کے قبضے سے مبینہ طور پر 530 گرام چرس برآمد کی گئی۔دوسری کارروائی میں سی آئی اے انچارج لورالائی سب انسپکٹر محمد انور جلالزئی کی قیادت میں سی آئی اے ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئےواحد شاہ ولد جلیل قوم بیٹنی، ساکن میختر کے قبضے سے مبینہ طور پر 1 کلو 50 گرام چرس برآمد کر لی۔
تیسری کارروائی میں ایس ایچ او تھانہ صادق علی شہید صدر سب انسپکٹر محمد اکرم حمزازئی کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئےمیرزا خان ولد محمد ہاشم قوم ناصر، ساکن کنوبی کے قبضے سے مبینہ طور پر 520 گرام چرس برآمد کی۔تمام گرفتار ملزمان کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت الگ الگ مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔







