8th-January-2026

خبرنامہ نمبر151/2026
کوئٹہ، 8 جنوری. وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے صوبے میں ترقی کے فروغ، امن و امان کے قیام، سیاسی ہم آہنگی کے استحکام اور وزیر اعظم کمپلینٹ سیل پر درج عوامی شکایات کے موثر ازالے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا ہے جمعرات کے روز منعقدہ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے وزیر اعظم کو صوبے میں مختلف شعبہ جات میں کی جانے والی اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت، اور بالخصوص تعلیم، صحت، گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے محدود وسائل کے باوجود اصلاحاتی ایجنڈے پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے وزیر اعظم پاکستان نے بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور مختلف سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران 784 دہشت گردوں کی ہلاکت سمیت امن و امان کی بحالی کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیوں پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کوششوں کے باعث بلوچستان میں امن کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، استحکام اور عوامی فلاح کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر152/2026
کوئٹہ 8جنوری ۔ وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو قبیلہ بگٹی کے چیف منتخب ہونے اور دستار بندی کی رسم ادا ہونے پر دلی مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے جمعرات کے روز دورہ کوئٹہ کے موقع پر اراکین صوبائی و قومی اسمبلی اور صوبائی وزراءسے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو قبائلی منصب کی زمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میر سرفراز بگٹی کی قیادت نہ صرف بلوچستان کی سیاست بلکہ قبائلی روایات اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنی ذمہ داریوں کو بصیرت، تدبر اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ نبھاتے رہیں گے محمد شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، امن و استحکام اور خوشحالی کے سفر میں صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر153/2026
کوئٹہ8جنوری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ترقیاتی بجٹ کے لیے مختص وسائل کا سو فیصد شفاف اور موثر استعمال یقینی بنایا گیا ہے، جو صوبائی حکومت کی بہتر منصوبہ بندی، مالی نظم و ضبط اور موثر گورننس کا واضح ثبوت ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے بلوچستان سے خصوصی تعاون پر وہ ان کے شکر گزار ہیں جن کی ہدایات توجہ اور دلچسپی سے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کی منظوری بلوچستان میں دانش اسکولز کے قیام اور دیگر اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی جو صوبے کی سماجی و معاشی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوں گے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال دیگر صوبوں سے قطعی مختلف ہے، جہاں جغرافیائی وسعت، آبادی کی منتشر نوعیت اور سیکیورٹی چیلنجز ترقی کے عمل کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت نے بحالیِ امن، عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کو یقینی بنا کر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، صوبائی وزراء، اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن لیڈر و اراکین سے ملاقات کے موقع پر گفتگو اور وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کو اپنی مخصوص معاشی، سماجی اور جغرافیائی صورتحال کے باعث وفاق کی خصوصی اور مسلسل توجہ کی ضرورت ہے انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مل کر بلوچستان کو پسماندگی سے نکالنے اور ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے سنجیدہ، مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ الحمدللہ اعلیٰ ترین عسکری فورم پر بھی بلوچستان حکومت کی کارکردگی، امن و امان کی بہتری اور ترقیاتی اقدامات کا اعتراف کیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور وفاقی و عسکری اداروں کے باہمی تعاون سے صوبے میں استحکام اور ترقی کے مثبت ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر154/2026
قلعہ سیف اللہ 8جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار نے ایس پی قلعہ سیف اللہ شاہ رخ خان کے ہمراہ تحصیل کے دور افتادہ علاقوں توئی ور، باتوزئی اور ان سے ملحقہ دیہات کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینا، امن و امان کی مجموعی صورتحال کا معائنہ کرنا اور عوام کو درپیش مسائل سے براہِ راست آگاہی حاصل کرنا تھا۔ڈپٹی کمشنر نے دورے کے دوران مختلف مقامات پر معززینِ علاقہ سے ملاقاتیں کیں، جہاں شہریوں نے انہیں پینے کے صاف پانی، سڑکوں کی حالت، بجلی، صحت، تعلیم، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل اور ضروریات سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام کے مسائل نہایت توجہ سے سنے اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت، منظور شدہ لاگت اور معیار کے مطابق مکمل کیا جائے اور منصوبوں میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں، عوام سے مسلسل رابطے میں رہیں اور مسائل کے فوری اور پائیدار حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ایس پی قلعہ سیف اللہ شاہ رخ خان نے دورے کے دوران علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا اور پولیس افسران و اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں کہ گشت کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے، جرائم کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے اور عوام کے ساتھ قریبی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے زمینی حقائق جاننا انتہائی ضروری ہے، اسی مقصد کے تحت دور دراز علاقوں کے دورے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دورے آئندہ بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری رہیں گے تاکہ عوام کے مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل متعلقہ اعلیٰ حکام تک پہنچا کر فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں گے اور ضلعی انتظامیہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔آخر میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس باہمی تعاون سے ضلع قلعہ سیف اللہ میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہیں اور عوام کے تعاون سے ضلع کو ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ ضلع بنانے کے لیے تمام تر کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر155/2026
بارکھان.جنوری۔ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ ?فیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی۔ڈپٹی ڈی۔ایچ۔او ڈاکٹرماجدامین۔ڈی۔ایس۔ایم۔غلام رسول کھیتران۔ڈاکٹرناصر کھیتران ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر۔ڈی۔ایس۔پی مولاداد اور ضلع بھر کے تمام یونین کونسل میڈیکل افسران (یو سی ایم اوز) نے شرکت کی۔ اجلاس میں قومی انسداد پولیو مہم (NID) کے انتظامات، تیاریوں اور اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پولیو مہم کے دوران ضلع بارکھان میں 51,856 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 160 پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ مہم کے دوران 9 فکسڈ سائٹس، 9 ٹرانزٹ پوائنٹس قائم کیے جائیں گے جبکہ 37 ایریا انچارجز تعینات ہوں گے جو فیلڈ سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور ٹیم ورک ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام یو سی ایم اوز کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں، ٹیموں کی موثر نگرانی کریں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات، کولڈ چین کی دستیابی، آگاہی مہم اور روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی کی رپورٹنگ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ متعلقہ افسران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع میں پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر156/2026
قلعہ سیف اللہ8جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار نے کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور پائیدار مستقبل کی ضامن ہوتی ہے، اور ضلعی انتظامیہ قلعہ سیف اللہ تعلیم کے فروغ اور معیار میں بہتری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قلعہ سیف اللہ میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کے اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں محکمہ تعلیم سے وابستہ تمام متعلقہ اداروں، اسٹیک ہولڈرز اور ضلعی افسران نے شرکت کی۔اجلاس کا بنیادی مقصد ضلع میں تعلیمی نظام کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا، جاری تعلیمی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کی پیش رفت کا تفصیلی تجزیہ کرنا، اور درپیش مسائل کے پائیدار حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنا تھا۔ اجلاس کے دوران تمام شرکاء نے اپنے اپنے تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی، اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں، جاری سرگرمیوں اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، نئے داخلوں کی صورتحال، ڈراپ آوٹ ریٹ میں کمی، تعلیمی معیار کی بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اسکولوں کی مرمت و بحالی، فرنیچر، پینے کے صاف پانی، بیت الخلاء اور بجلی جیسی سہولیات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی نگرانی کے نظام کو موثر بنانے اور دور دراز و پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی بہتری پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔اجلاس میں بچیوں کی تعلیم کے فروغ، والدین اور کمیونٹی کے کردار کو فعال بنانے، اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں (SMCs) کی فعالیت، اور بین المحکماتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تعلیم کے اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور موثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ڈپٹی قلعہ سیف اللہ ساگر کمار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام محکموں اور شراکت دار اداروں کی کاوشوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ تعلیم ضلع کی سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ادارے باہمی تعاون، ذمہ داری اور جوابدہی کے جذبے کے تحت کام کریں تاکہ تعلیمی اہداف بروقت اور بہتر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ فیلڈ سطح پر عملی اقدامات، اسکولوں کے باقاعدہ دوروں اور موثر نگرانی کے ذریعے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے اساتذہ کی حاضری، تدریسی معیار، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر آئندہ کے لائحہ عمل، مشترکہ حکمتِ عملی اور قابلِ عمل سفارشات پر تفصیلی غور کے بعد اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا۔ اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع قلعہ سیف اللہ میں تعلیمی نظام کو مزید موثر، مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اور شراکت دار باہمی اشتراک سے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے اور ضلع تعلیمی ترقی کی نئی منازل طے کر سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر157/2026
کچھی 8جنوری۔ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، تمام ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسران، کلسٹر ہیڈز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری اسکولوں کی انتظامی، تدریسی اور کارکردگی سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اساتذہ کی باقاعدہ حاضری یقینی بنانے، غیر حاضر اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے والے عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل نے کہا کہ ملک کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی قومیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑی ہوتی ہیں، لہٰذا اساتذہ اور متعلقہ عملے کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی سے گریز کرنا چاہیے ۔ڈپٹی کمشنر نے اساتذہ کی حاضری اور اسکولوں کی کارکردگی کے لیے مانیٹرنگ سسٹم مزید مضبوط بنانے کی ہدایت بھی دی اجلاس میں بند اسکولوں کی نشاندہی کر کے انہیں فعال کرنے، طلبہ کی حاضری یقینی بنانے اور تدریسی عمل بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ اسکولوں کو ملنے والے کلسٹر بجٹ کے شفاف اور منظم استعمال کو یقینی بنایا جائے اس سلسلے میں تمام اخراجات کی مکمل دستاویزات محفوظ رکھنے اور قواعد کے مطابق عملدرآمد کی لازمی ہدایات جاری کی گئیں اجلاس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور معیار کی کڑی نگرانی پر بھی زور دیا گیا، تاکہ تعمیراتی کام معیار کے مطابق مقررہ مدت میں مکمل ہو سکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے باقاعدہ رپورٹ دیتے رہیں تاکہ مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر158/2026
قلات8جنوری۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو مہم سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹرانجم بلوچ ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹرنصراللہ لانگو ڈیزیزسرولنس آفیسر ڈبلوایچ او ڈاکٹرنوروز بلوچ ڈی ایس پی منظور مینگل سمیت محکمہ صحت قلات اوردیگر تمام محکموں کے سربراہان ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس میں آنے والے پولیو مہم سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیاڈبلیوایچ او کے ڈیزیز سرویلنس آفیسرڈاکٹرنوروز بلوچ نے پولیومہم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوے کہا کہ پولیو مہم 02فروری 2026سے شروع ہوکر 05 فروری 2026 چار روز تک جاری رہیگا پولیو کے اس مہم میں ضلع قلات کے دو تحصیل کے19 یونین کونسلز میں 39636بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گےاس مہم میںطضلع قلات میں تمام یونین کونسلز میں پولیو ٹیمیں پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کے عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گےڈپٹی کمشنر منیر درانی نے کہا کہ پولیو ایک موذی مرض ہےاس مرض سے بچوں کو بچانے کیلئےپولیو کے قطرے پلانا بہت ضروری ہےایک صحت مندمعاشرے کی تشکیل کیلئے بچوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے پولیو سے پاک معاشرہ کی تشکیل کیلئے ہم سب کو مل کر پولیو جیسے مرض کے خلاف لڑنا ہوگاجسکے لیئے ہمیں لوگوں میں شعور اجاگر کرناہے علاقے کے خطیب علمائے کرام صحافی برادری شعراء ادباء کی زمہ داری ہیکہ وہ پولیو سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کریں تاکہ ہمارا معاشرہ پولیو سے پاک معاشرہ بن سکے پولیو مہم کوسنجیدگی سے انجام دینے کیلئے مانیٹرنگ ٹیموں کی زمہ داری ہیکہ وہ بھرپور اپناکردار اداکریں تاکہ کوئی بھی بچہ اس مہم میں قطرہ پلائے بغیر رہ نہ جائے پولیو مہم کے دوران کوئی غفلت برداشت نہیں کیجائیگی پولیو مہم میں بہترین کارکردگی پیش کرنے والے ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر159/2026
سکندر آباد سوراب 8 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت آر ایچ سی ہتھیاری گدر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر مختلف سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جن میں ایس پی شہید سکندر آباد سوراب اختر محمد اچکزئی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سلمان علی بلیدی، ڈی ایس پی عبدالغفور اورکزئی، تحصیلدار سوراب محمود احمد کرد سمیت دیگر ضلعی افسران شامل تھے۔ معززین علاقہ، سول سوسائٹی نمائندگان، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ کھلی کچہری کے دوران ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے متعدد درخواستوں پر موقع پر ہی احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کو بروقت اور مو¿ثر کارروائی کی ہدایات دیں۔کھلی کچہری میں شہریوں نے پانی، بجلی، گیس، صحت، تعلیم، نادرا، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، کالج بلڈنگ کی مرمت، بازار میں ٹریفک مسائل، صفائی ستھرائی اور امن و امان سمیت متعدد مسائل کھل کر پیش کیے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوامی خدمت حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے، اور شہری مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ BSDI اسکیم کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت، معیاری اور شفاف تکمیل یقینی بنائی جائے گی تاکہ عوام حقیقی اور دیرپا فائدہ حاصل کر سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ شہر کے ساتھ دور افتادہ علاقوں کو بھی BSDI اسکیم میں شامل کیا جا رہا ہے، جہاں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر جیسے منصوبے مکمل کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ آبادی مستفید ہو۔ڈپٹی کمشنر نے مزید عزم ظاہر کیا کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے کھلی کچہریوں کا سلسلہ آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر160/2026
لورالائی 8 جنوری ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی ہدایت پر ایک اہم پروگریس ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ضلع موسیٰ خیل میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو (روڈز اینڈ بلڈنگز) کے تحت جاری ترقیاتی اسکیمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایس ڈی او بی اینڈ آر سعید احمد جعفر نے جاری منصوبوں سے متعلق جامع بریفنگ دی۔میٹنگ کے دوران متعلقہ محکمے کی گزشتہ تین ماہ کی مجموعی کارکردگی، افسران و عملے کی حاضری، درپیش مسائل، ان کے ممکنہ حل اور صوبائی حکومت کی ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکمے کے افسران نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، تکمیل کی صورتحال اور آئندہ اہداف سے آگاہ کیا۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی اسکیمات میں معیار، شفافیت اور مقررہ مدت کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی فلاح و بہبود سے وابستہ منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر بروقت مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے، اور اس قومی مشن کی کامیابی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ محکموں کو بھرپور ذمہ داری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر161/2026
قلات 8جنوری ۔ ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی ڈپٹی کمشنر نے قلات میں پی ایس ڈی پی کے تحت جاری اور مکمل ہونےوالے ترقیاتی کاموں میں استعمال ہونے والے مٹیریل معائنہ معائنے کیلئے دورہ کیادورے کے موقع پر ایکسین نیاز بنگلزئی کواحکامات جاری کرتے ہوے کہاکہ وہ متعلقہ ٹھیکداروَں کو پابند کریں کہ ترقیاتی کاموں کو جلداز جلد مکمل کریں اور ناقص مٹیریل کے استعمال سے گریزکریں ترقیاتی منصوبوں میں ناقص کارکردگی دکھانےوالےکنٹریکٹرز کو بلیک لسٹ کردیاجائیگاڈی سی نے PSDP کے تحت جاری دیگر ترقیاتی اسکیموں GOR کمپلیکس ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر اور رہائش گاہ گورنمنٹ بوائز مڈل ٹو ہائی سکول میں جاری ترقیاتی کاموں کی بھی انسپکشن کی ایس ڈی اونویدموسیانی نےانہیں منصوبے پرپیشرفت سے متعلق آگاہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر162/2026
سبی 8 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں پولیو مہم کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر اکبر سولنگی، ڈبلیو ایچ او سے ڈاکٹر احسان اللہ، ڈی ایم پی پی ایچ آئی ممتاز علی رند، ایم ایس ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر جہانزیب سمیت علمائے کرام اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پولیو مہم 2 فروری سے 6 فروری تک جاری رہے گی۔ ضلع سبی کی 2 تحصیلوں اور 25 یونین کونسلز میں مجموعی طور پر 25 یو سی سپروائزرز، 62 ایریا انچارجز اور 285 ٹیمیں تعینات کی جائیں گی جو 37,991 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔ اس دوران 40 فکسڈ سائٹس اور 19 ٹرانزٹ ٹیمیں بھی فعال رہیں گی۔ ڈپٹی کمشنر کو گزشتہ پولیو مہم کے انڈیکیٹرز کے حوالے سے تفصیلی آگاہی دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر میجر(ر) الیاس کبزئی نے ہدایت کی کہ مائیکرو پلان کے مطابق مو¿ثر اور مربوط انداز میں کام کیا جائے تاکہ کوئی بچہ قطرے پلانے سے رہ نہ جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیموں کی ٹریننگ کے دوران وہ خود بھی موجود رہیں گے تاکہ مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر163/2026
زیارت 8جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر محمد ریاض خان داوڑکی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں ڈی پیک کا اجلاس منعقد ہوااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سجاد الرحمان،ڈائریکٹر لائیوسٹاک ڈاکٹر محمد الدین ڈی ایچ او ڈاکٹر رفیق مستوئی،ڈی پی اوڈبلیو ایچ او ڈاکٹر شہباز پانیزئی،ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین،ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی نثاراحمد ترین، اکاونٹس افسر عبدالغنی پانیزئی،ڈی ڈی او نقیب اللہ کاکڑنے شرکت کی زیارت اور سنجاوی میں چار روزہ انسداد پولیو مہم 02فروری کو شروع ہوگی ڈسٹرکٹ زیارت میں انسداف پولیو مہم کے دوران ستائیس ہزار بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائیں جائیں گےاجلاس سے ڈپٹی کمشنر زیارت محمد ریاض خان داوڑنے خطاب کرتے ہوئے کہ انسداد پولیو مہم ایک قومی مہم ہے اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا اس سلسلے میں میڈیا اور سول سوسائٹی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی دنیا میں ہماری بدنامی کا باعث بن رہا ہے پولیوفری پاکستان ہمارا ویڑن ہے اگر ایک بچہ بھی قطروں سے رہ گیا تو یہ مہم کامیاب نہیں ہوگا، والدین کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ پانچ سال تک کے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے ضرور پلائیں اور اپنے پھول جیسے بچوں کو معذور ہونے سے بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک بچہ بھی قطروں سے محروم رہ گیا تو یہ مہم کامیاب نہیں ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر164/2026
نصیرآباد8جنوری ۔سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ کی زیر صدارت اریگیشن سرکل میں جاری ترقیاتی عمل کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن ڈرینیج گل حسن کھوسہ، ایگزیکٹو انجینئر کیر تھر کینال غلام مصطفیٰ چانڈیو، ایگزیکٹو انجینئر جھل مگسی ڈویژن محمد یار مگسی، ایگزیکٹو انجینئر کچھی کینال غلام محمد بادینی، سب ڈویژنل افسران امان اللہ گاجانی، فرخ شہزاد، سپرنٹنڈنٹ بابو غلام قادر کھوکھر ریاض میمن سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام افسران نے کینال سسٹم میں جاری ترقیاتی منصوبوں، پیش رفت، درپیش مسائل اور حل کے حوالے سے فرداً فرداً تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپرننٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن کے کاشتکاروں کا دارومدار مکمل طور پر زراعت پر ہے اور آبپاشی کے موثر نظام کے بغیر زرعی ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دیے گئے ترقیاتی فنڈز ایک قومی امانت ہیں جن کے درست اور شفاف استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ سپرنٹنڈنگ انجینیئر نے واضح کیا کہ تمام ترقیاتی منصوبے پی سی ون، منظور شدہ ڈیزائن اور محکمے کے مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں، کسی بھی قسم کی کوتاہی، سستی یا ناقص میٹریل کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ دفاتر تک محدود رہنے کے بجائے فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں، جاری کاموں کا خود معائنہ کریں اور ٹھیکیداروں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں۔ مدثر ظفر کھوسہ نے مزید کہا کہ کینالز کی بروقت صفائی، شگافوں کی مرمت، پشتوں کی مضبوطی اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ کاشتکاروں کو ان کی فصلوں کے لیے بروقت پانی میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر یا غفلت براہ راست کسانوں کے مفادات کو متاثر کرتی ہے، اس لیے تمام افسران اپنی ذمہ داریوں کو دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ انجام دیں۔ اجلاس کے اختتام پر سپرنٹنڈنگ انجینئر نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ہر منصوبے کی عملی پیش رفت کے ساتھ مکمل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ترقیاتی عمل کو مزید تیز اور موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر165/2026
کوئٹہ8جنوری ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق جمعرات کو صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمال مغربی اضلاع میں موسم شدید سرد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ کوئٹہ، چمن، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ، ژوب اور قلات میں کم سے کم درجہ حرارت نقط انجماد سے نیچے رہنے کا امکان ہے۔جمعہ کو صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔ کوئٹہ، چمن، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ، ژوب اور قلات کے اضلاع میں شام اور رات کے اوقات میں کم سے کم درجہ حرارت نقطانجماد سے نیچے رہنے کی توقع ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور سرد رہا، جبکہ شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں رات کے اوقات کے دوران موسم شدید سرد رہا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے کم درجہ حرارت منفی 8.0 ڈگری سینٹی گریڈ قلات میں ریکارڈ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر166/2026
کوئٹہ8 جنوری: وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک اور صوبہ کی تازہ ترین صورتحال اور جاری ترقیاتی منصوبوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی پرائم منسٹر اسحٰق ڈار ،،وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ،وفاقی وزراء عبد العلیم خان، احسن اقبال، رانا ثناءاللہ، سینیٹر عبدالقادر، رکن بلوچستان صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل اور عبدالولی خان مندوخیل بھی موجود تھے۔ گورنر بلوچستان نے N25 کراچی تا چمن قومی شاہراہ کا افتتاح کرنے پر وزیراعظم پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے جس سے خطے کو اہم اقتصادی اور زرعی فوائد حاصل ہوں گے۔ یہ اسٹریٹجک ہائی وے ملک کے سب سے بڑے بندرگاہی شہر کراچی کو سرحدی شہر چمن سے جوڑتی ہے جو سینٹرل ایشیا تک راستہ فراہم کر سکتی ہے اور توقع ہے کہ اس سے تجارت، زراعت اور علاقائی رابطوں کو بھی فروغ ملے گا۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ ٹو جدہ براہ راست فلائٹ دوبارہ شروع کیا جائے اور انہوں نے کوئٹہ، ژوب اور اسلام آباد ایکسپریس وے کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ یہ مجوزہ ایکسپریس وے نہ صرف مسافروں کیلئے ایک محفوظ اور موثر راستہ فراہم کریگا بلکہ اقتصادی مواقعوں میں بھی اضافہ کریگا اور قومی یکجہتی کو فروغ دیگا۔ گورنر بلوچستان جعفرخان نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی توجہ ایک اور اہم مسئلے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور وغیرہ کیلئے پی آئی اے کے کرایے ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہیں جو بلوچستان کے مسافروں پر بہت بڑا مالی بوجھ ہے لہٰذا ضروری ہے کہ کرایوں میں کمی اور پی آئی اے کی روزانہ پروازوں کی تعداد بڑھائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر167/2026
کوئٹہ 8 جنوری۔ایگری کلچر انکم ٹیکس سے متعلق ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک روزہ تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد زرعی آمدن پر عائد ٹیکس کی وصولی کے طریقہ کار اور متعلقہ امور پر افسران و اہلکاران کی استعداد کار میں اضافہ کرنا تھا۔ٹریننگ سیشن کی صدارت/انعقاد سیکرٹری بورڈ آف ریونیو رویندر لعل نے کی، جبکہ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق نے بھی شرکت کی۔ تربیتی سیشن میں تمام تحصیلداران، نائب تحصیلداران اور ضلع کے تمام سب ڈویڑنز کے پٹواریوں نے شرکت کی۔ٹریننگ کے دوران ایگری کلچر انکم ٹیکس سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں زرعی پیداوار اور اس پر عائد ٹیکس، ٹیکس کے تخمینے کا طریقہ کار، اور فارم اے، فارم بی، فارم سی، فارم ڈی اور فارم ای کے بارے میں جامع آگاہی فراہم کی گئی۔سیکرٹری بورڈ آف ریونیو رویندر لعل نے اس موقع پر کہا کہ صوبے بھر میں تمام زرعی زمینوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جاری ہے، جس سے نہ صرف زمینوں کا ریکارڈ محفوظ ہوگا بلکہ فصلوں اور زمینوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق نے کہا کہ ٹیکس کی بروقت اور شفاف وصولی تمام انتظامی افسران کی اولین ذمہ داری ہے، جسے پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا جائے گا۔ٹریننگ سیشن کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) اور دیگر ریونیو افسران و اہلکاران کی جانب سے سیکرٹری بورڈ آف ریونیو رویندر لعل کو یادگاری سووینئر پیش کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر168/2026
کوئٹہ 8 جنوری۔۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل و فیمیل، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں تعلیمی نظام کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل، اسکولوں کی کارکردگی اور تعلیمی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر مختلف امور پر فیصلے کیے گئے اور ان پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر169/2026
موسیٰ خیل8 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک نے آج ضلع میں صحت کی سہولیات اور فلاحی پروگراموں کا جائزہ لینے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے دفتر، ایم سی ایچ سینٹر، نیوٹریشن سینٹر، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور تعمیر خلق فاونڈیشن کے زیر اہتمام جاری بینظیر نشو و نما پروگرام کا تفصیلی دورہ کیا.اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ایم ایس ڈی ایچ کیو، انچارج نیوٹریشن سینٹر اور انچارج بینظیر نشو و نما پروگرام بھی موجود تھے .دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور طبی عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی .انہوں نے خاص طور پر بینظیر نشو و نما پروگرام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت و خوراک پر توجہ دینا معاشرے کی بنیاد ہے، لہٰذا تمام افسران اور عملہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور مریضوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں.انہوں نے مزید تاکید کی کہ ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی اور صفائی کے معیار پر خصوصی نظر رکھی جائے تاکہ دور دراز سے آنے والے سائلین کو کوئی دشواری پیش نہ آئے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر170/2026
موسیٰ خیل 8 جنوری ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک نے آج ڈسٹرکٹ پراسکیوشن اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) کے نئے زیرِ تعمیر دفاتر کا معائنہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیامعائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تعمیراتی کام کی رفتار اور معیار کا مشاہدہ کیا اور ٹھیکیداروں کو ہدایات جاری کیں کہ کام کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل میں سرکاری دفاتر کی تعمیر کا مقصد انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ان دفاتر کی تکمیل سے سرکاری امور کی انجام دہی میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی ۔انہوں نے مزید تاکید کی کہ تعمیراتی کام میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام مراحل کی شفافیت کو برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی منصوبوں کی بروقت تکمیل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر171/2026
تربت 8جنوری ۔ کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کی افتتاحی تقریبات کے سلسلے میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ضلع کیچ کے مختلف تعلیمی اداروں کی طالبات کی ٹیموں کے درمیان کھیلوں کے مقابلوں کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔تقریب میں سابق صوبائی وزیر میر عبدالغفور بزنجو، ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، ڈویڑنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران برکت اسماعیل، کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے سیکرٹری التاز سخی، پرنسپل گورنمنٹ بوائز کالج ہوشاب، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر غفار دشتی، یونیورسٹی آف تربت کے اسپورٹس مینیجر مزار گچکی، فیسٹیول کے رکن عمر ہوت، سوشل ویلفیئر کے عبدالرحیم بلوچ سمیت مختلف سرکاری محکموں کے افسران ، سماجی شخصیات اور کھیلوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔تقریب میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت کی پرنسپل گل جان خالد اور ان کے اسٹاف نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت اور ضلع کے دیگر خواتین تعلیمی اداروں کی طالبات نے شاندار مارچ پاسٹ پیش کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا حکومتی پالیسی کا اہم جز ہے اور ہمیں معاشرے میں برابری کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین جب صحت مند اور بااعتماد ہوں گی تو وہ فیصلہ سازی میں بھی موثر کردار ادا کر سکیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو تعلیم کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام شعبوں میں آگے آنا چاہیے تاکہ وہ ملک و قوم کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔سابق صوبائی وزیر میر عبدالغفور بزنجو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ کی پہچان ہمیشہ تعلیم کے حوالے سے رہی ہے۔ ماضی میں مردوں نے اس میدان میں اہم کردار ادا کیا، تاہم آج خواتین بھی اس مشن کو کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بلوچستان ضلع کیچ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے فروغ کے لیے بھی بھرپور اقدامات کرے گی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلع میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں ان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ کی کاوشوں سے ضلع میں تعلیم کے ساتھ کھیلوں کو بھی فروغ مل رہا ہے، جو خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں کامیابی کے ساتھ ناکامی کو بھی خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے کیونکہ انسان غلطیوں سے سیکھ کر ہی آگے بڑھتا ہے۔کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے سیکرٹری التاز سخی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ نے خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں یکساں مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ معاشرے کے ہر شعبے میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیسٹیولز کا مقصد خواتین کو خودمختار بنانا اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔اس سے قبل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت کی پرنسپل گل جان خالد نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ کھیل بھی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ ایسے بڑے ایونٹس سے طالبات کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے بہتر مواقع ملتے ہیں۔فیسٹیول کی فوکل پرسن شہناز صمد نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ تربت میں منعقد ہونے والے اسپورٹس فیسٹیول میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی بھرپور شرکت کر رہی ہیں، جس سے خواتین کو مثبت سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔اس موقع پر تقریب میں کمپیئرنگ کے فرائض گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت کی اساتذہ شازیہ اختر نے سنبھالے۔تقریب کے دوران تربت یونیورسٹی اور گورنمنٹ گرلز کالج ہوشاب کے درمیان ایک سنسنی خیز فٹسال میچ کھیلا گیا، جس میں تربت یونیورسٹی کی ٹیم نے پنالٹی شوٹ آوٹ پر گورنمنٹ گرلز کالج ہوشاب کو 2-3 سے شکست دی۔اس موقع پر گورنمنٹ گرلز کالج ہوشاب اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت کے درمیان رسہ کشی کا مقابلہ بھی ہوا، جس میں گورنمنٹ گرلز کالج ہوشاب نے کامیابی حاصل کی۔ فیسٹیول کے دوران مختلف تعلیمی اداروں کی طالبات کی ٹیموں کے درمیان کرکٹ، بیڈمنٹن، لڈو اور ٹیبل ٹینس کے مقابلے بھی منعقد ہوئے۔ اس کے علاوہ 100 میٹر دوڑ، میوزیکل چیئر اور اسکیپنگ روپ کے مقابلے بھی کرائے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر172/2026
نصیرآباد 7جنوری ۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نصیرآباد ڈاکٹر ایاز حسین جمالی کی سربراہی میں پیپلز ہیلتھ اینڈ سرویلنس پروگرام (PHWP) کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ سمیت متعلقہ افسران اور نمائندہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو فاونڈیشن اور پاورٹی ریڈکشن انیشیٹو اس پروگرام کے بڑے ڈونرز ہیں جو اسلام آباد سے تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ اس نئے پروگرام کے تحت بلوچستان کے 9 اضلاع کے 10 بڑے ہسپتالوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال اور بے نظیر ہسپتال بھی شامل ہیں۔ پروگرام کے تحت ہسپتال سسٹم کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، 24/7 ہیلتھ ڈیسک قائم کیے جائیں گے، جدید طبی آلات، سرجیکل و میڈیکل سپلائیز فراہم کی جائیں گی جبکہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو جدید خطوط پر تربیت دی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پروگرام کا دوسرا اہم جزو مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ پروگرام ہے جس کے تحت ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے کمیونٹی مڈوائفز، لیڈی ہیلتھ ورکرز، لیڈی ہیلتھ سپروائزرز اور لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کو ٹیبز اور خصوصی سافٹ ویئر فراہم کیا جائے گا تاکہ ماوں اور بچوں کی بروقت نشاندہی، نگرانی اور ریفرل ممکن بنایا جا سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بلوچستان میں ماو¿ں اور بچوں کی اموات کی شرح میں نمایاں کمی لانا اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے مطابق صحت کے اشاریوں کو بہتر بنانا ہے، جبکہ بے نظیر ایمبولینس سروس کے ذریعے مریضوں کو بروقت ڈی ایچ کیو ہسپتالوں تک منتقل کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ اس منصوبے میں حکومت بلوچستان کا 20 فیصد جبکہ 80 فیصد مالی معاونت دیگر ڈونرز فراہم کر رہے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی نے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور محکمہ صحت اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بنیادی و ثانوی ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بلا تعطل علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔ ڈاکٹر ایاز حسین جمالی نے مزید کہا کہ پیپلز ہیلتھ اینڈ سرویلنس پروگرام جیسے اقدامات سے نہ صرف ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ کمیونٹی لیول پر بھی صحت کی سہولیات کا دائرہ وسیع ہوگا، جس سے عام آدمی کو اس کی دہلیز پر بہتر علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غفلت یا لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی صحت سے جڑے تمام امور کو شفافیت، پیشہ ورانہ دیانتداری اور ذمہ داری کے ساتھ یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر173/2026
نصیرآباد 8جنوری ۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی سے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر جعفرآباد حبیب اللہ جوگیزئی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ضلع جعفرآباد میں پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مفادِ عامہ میں جاری اقدامات، خدمات کی نوعیت اور درپیش مسائل کے حوالے سے کمشنر کو تفصیلی آگاہی دی گئی۔ اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ ضلع جعفرآباد میں پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ عوامی فلاح و بہبود کے لیے جو اقدامات کر رہا ہے وہ قابلِ تحسین اور خوش آئند ہیں، تاہم ضروری ہے کہ ان اقدامات میں مزید بہتری اور وسعت لائی جائے تاکہ حکومت کی جانب سے عوام کے مفاد میں کیے جانے والے پروگرامز اور سہولیات سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت، آگاہی مہمات اور دیگر سماجی فلاحی پروگرامز کو موثر انداز میں نچلی سطح تک پہنچایا جائے تاکہ ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔ کمشنر صلاح الدین نورزئی نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کو ضلع جعفرآباد میں جن مسائل اور رکاوٹوں کا سامنا ہے ان کے حل کے لیے متعلقہ حکامِ بالا کو آگاہ کیا جائے گا تاکہ مزید بہتر انداز میں عوامی فلاح کے اقدامات کو جاری رکھا جا سکے اور ضلع میں پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو موثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر174/2026
کوئٹہ8 جنوری۔نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (NJPMC) کے 56ویں اجلاس مورخہ 13 دسمبر 2025 کے فیصلوں اور معزز ججز کی میٹنگ مورخہ 17 دسمبر 2025 میں طے پانے والے امور کی تعمیل میں ایک اہم عدالتی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت معزز چیف جسٹس، ہائی کورٹ آف بلوچستان کی جانب سے صوبے بھر کی ضلعی عدلیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔جاری کردہ احکامات کے مطابق بلوچستان کی ضلعی عدلیہ میں کام کرنے والی تمام عدالتیں، جن میں جوڈیشل مجسٹریٹس/سول ججز، سینئر سول ججز، اسسٹنٹ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز شامل ہیں، اپنے اپنے دائرہ اختیار میں “ماڈل کورٹس” کے طور پر کام کریں گی۔اس اقدام کا بنیادی مقصد مقدمات کی تیزی سے سماعت کو یقینی بنانا، ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عدالتی نظام میں غیر جانبداری، دیانت داری اور اعلیٰ معیار کی کارکردگی کو فروغ دینا ہے۔ ماڈل کورٹس کے قیام سے فریقین کو بروقت انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور زیر التواء مقدمات کے بوجھ میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔احکامات کے مطابق یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہدایت کی گئی ہے کہ تمام متعلقہ عدالتیں اپنی کارکردگی سے متعلق “ماہانہ یونٹ رپورٹس” باقاعدگی سے اس عدالت کے ممبر انسپکشن ٹیم کے دفتر میں جمع کرائیں گی، تاکہ نگرانی اور جائزہ کے عمل کو موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر175/2026
گوادر8جنوری ۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت لوکل/ڈومیسائل ڈیجیٹلائزیشن بلوچستان کے حوالے سے ایک اہم آن لائن اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ اور نادرا کے نمائندے شہزاد نے آن لائن شرکت کی، جبکہ لوکل سرٹیفکیٹ برانچ کے انچارج خداداد اور متعلقہ اسٹاف بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں کوئٹہ اور گوادر میں لوکل/ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے ایک تیز رفتار اور موثر آن لائن پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا جائے گا، جس کے تحت شہری گھر بیٹھے موبائل ایپ کے ذریعے لوکل/ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لیے آن لائن درخواست دے سکیں گے۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ اس نظام کے نفاذ سے لوکل اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجرا میں مزید آسانی، شفافیت اور بہتری آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سسٹم کو شروع کرتے وقت تمام قواعد و ضوابط اور ویریفکیشن کے عمل کو مکمل میکانزم کے تحت یقینی بنایا جائے گا تاکہ کسی قسم کے اعتراضات پیدا نہ ہوں اور جعلی سرٹیفکیٹس کے اجرا کا امکان ختم کیا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ضلع گوادر میں لوکل سرٹیفکیٹ پہلے ہی آن لائن ہے، تاہم اب نادرا کے ساتھ موثر کنیکٹیویٹی کے ذریعے اس نظام کو مزید بہتر اور عوام دوست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ شہریوں کو جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر176/2026
گوادر:8جنوری ۔اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر نے شہر کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے شہر کی مجموعی صفائی ستھرائی، مختلف مارکیٹوں، دکانوں، فارمیسی اسٹورز، ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباری مراکز کا معائنہ کیا۔معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد، اشیائے خوردونوش کے معیار اور قواعد و ضوابط کی پابندی کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس موقع پر زائد المیعاد، مضرِ صحت اور غیر معیاری اشیاء کی جانچ پڑتال کی گئی اور خلاف ورزیوں پر متعلقہ دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر سعد کلیم ظفر نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی صحت اور زندگی کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو دکاندار یا کاروباری افراد عوامی صحت اور سہولیات کو نظر انداز کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو معیاری اور محفوظ اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے معائنے کا عمل جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر177/2026
کوئٹہ:8جنوری ۔سیکرٹری زراعت بلوچستان نور احمد پرکانی کی زیرِ صدارت محکمہ زراعت کے آن فارم واٹر مینجمنٹ کے تحت تمام اضلاع کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آن فارم واٹر مینجمنٹ سید قسیم آغا، ڈپٹی ڈائریکٹر احتشام , و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری زراعت نور احمد پرکانی نے واضح ہدایات جاری کیں کہ آن فارم واٹر مینجمنٹ کے تمام منصوبوں کے فوائد براہِ راست عام کسان اور عوام تک پہنچنے چاہییں۔ انہوں نے تمام اضلاع کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع کے سوشل میڈیا اکاونٹس کے ذریعے جاری منصوبوں سے متعلق معلومات عام کریں تاکہ کسان ان منصوبوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔سیکرٹری زراعت نے کہا کہ جہاں جہاں آن فارم واٹر مینجمنٹ کے تحت ٹیوب ویل نصب کیے جائیں گے، وہاں کم از کم 10 درخت لگانا لازمی ہوگا تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کارکردگی پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا، جہاں کہیں بھی کوتاہی پائی گئی اس کا ذمہ دار متعلقہ افسر ہوگا اور اس کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 178/2026
گوادر 8جنوری۔ بنیادی صحت کی سہولیات کو مؤثر اور فعال بنانے کے لیے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یو مونڈی اور بی ایچ یو شِنیکانی در کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔
دورے کے دوران انہوں نے دونوں مراکز میں عملے کی حاضری کا جائزہ لیا، او پی ڈی رجسٹرز چیک کیے اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا معائنہ کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یوز کو ادویات بھی فراہم کیں تاکہ مریضوں کو بروقت اور بہتر علاج کی سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی، مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور ڈیوٹی میں باقاعدگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے کہا کہ پی پی ایچ آئی گوادر ضلع بھر میں بنیادی صحت کے مراکز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مسلسل مانیٹرنگ کر رہا ہے، تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر179/2026
کوئٹہ 8جنوری.وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ این۔25 پر تعمیر ہونے والی شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے پاکستان کے ہر فرد کی بلوچستان سے دلی وابستگی کی واضح علامت ہے۔ یہ وسائل پورے پاکستان سے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم کہیں سے یہ آواز نہیں اٹھی کہ یہ فنڈزبلوچستان کو کیوں دیے جا رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان بھر کے عوام بلوچستان سے خصوصی محبت رکھتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز یہاں وزیر اعظم کی جانب سے کوئٹہ کراچی شاہراہ اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ، آپ کی جماعت، اسی طرح صدر پاکستان اور ہماری جماعت کا پاکستان کے ساتھ جو لگاؤ ہمیشہ سے رہا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے انہوں نے کہا کہ آج این۔25 پر پاکستان ایکسپریس وے کا افتتاح ہو رہا ہے اور آپ نے ایف ڈبلیو او کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس منصوبے کو دو سال کے اندر مکمل کرے۔ اس موقع پر میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جناب وزیر اعظم، وفاقی وزیر مواصلات، این ایچ اے اور پوری ٹیم کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو جس قسم کی بھی مدد درکار ہوگی، حکومت بلوچستان سب سے آگے ہوگی اور اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر ترقی کے اس سفر کو جاری رکھے گی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں امن و امان سے متعلق ایک تصور پایا جاتا ہے، تاہم میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ ہماری کیپسٹی اور کیپبلٹی ہے کہ ہم ان منصوبوں کو مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال جنوبی بلوچستان میں تعمیر ہونے والی شاہراہیں ہیں، جن میں ایم۔8 شامل ہے، جہاں بہت سے لوگوں اور سیکیورٹی فورسز نے قربانیاں دیں، تاہم وہ منصوبہ مکمل ہوا، جو میاں محمد نواز شریف کا منصوبہ تھا آج آپ کا یہاں تشریف لانا اس منصوبے کے لیے یقیناً ہمارے لیے باعثِ اعزاز اور باعثِ افتخار ہے انہوں نے کہا کہ جناب وزیر اعظم، میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے بلوچستان میں دانش اسکولز کا نیٹ ورک شروع کیا۔ جب آپ وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو آپ نے اس منصوبے کا آغاز کیا، میرا علاقہ پنجاب سے بہت نزدیک واقع ہے جہاں ہمارے علاقے کے بچے فاضل پور اور دیگر علاقوں کے دانش اسکولز میں زیر تعلیم ہیں۔ میری یہ دلی خواہش تھی کہ اسی طرز کا کوئی ادارہ بلوچستان میں بھی قائم ہو۔ آج الحمدللہ بلوچستان میں پانچ سے زائد دانش اسکولز کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے، جو ہمارے لیے باعثِ فخر اور مسرت ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان دانش اسکولز میں بلوچستان کے عام اور غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کریں گے اور پاکستان کے مفید شہری بنیں گے میں بلوچستان کے عوام کی جانب سے آپ کا انتہائی مشکور ہوں کہ آپ نے یہ منصوبے بلوچستان کو دیے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میں بلوچستان کے عوام کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ایک ہزار ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں سے بلوچستان کے منصوبوں کے لیے تین سو ارب روپے کے علاوہ اس مرتبہ دو سو پچاس ارب روپے بلوچستان کا وہ حصہ ہے جو ہمارے قانونی حق سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس پر ہم آپ کے دل سے مشکور ہیں۔ میں آپ اور آپ کی ٹیم کا بلوچستان کے عوام کی طرف سے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ آج یہاں تشریف لائے اور ان اہم منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا.

خبرنامہ نمبر180/2026
شہید سکندر آباد/ سوراب 8 جنوری. حکومت بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے ایف سی 61 ونگ کے کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایس پی اختر محمد اچکزئی، ڈی ایس پی عبدالغفور اورکزئی اور دیگر ضلعی افسران کے ہمراہ ریسکیو 1122 سینٹر گدر اور نادرا آفس گدر کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ریسکیو 1122 کے مختلف شعبہ جات، ایمرجنسی رسپانس، ایمبولینس سروس، دستیاب آلات، طبی سہولیات اور عملے کی حاضری کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ریسکیو 1122 کے عملے نے ایمرجنسی سروسز اور دستیاب وسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے نادرا آفس گدر کا بھی معائنہ کیا، جہاں شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات، بائیومیٹرک سسٹم، عملے کی کارکردگی اور زیر التواء درخواستوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران نے وہاں موجود عوام سے براہ راست ملاقات کی اور ان کے مسائل اور شکایات توجہ سے سنیں۔ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے مجموعی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ عوام کو سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جائے اور سروسز کو تیز، شفاف اور ذمہ دارانہ بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات اور زیر التواء مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع میں صحت، ایمرجنسی اور شہری سہولیات کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور عوامی فلاح کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 181/2026
شہید سکندر آباد/ سوراب 8 جنوری . حکومت بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت آر ایچ سی ہتھیاری گدر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر مختلف سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جن میں ایف سی 61 ونگ کے کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایس پی شہید سکندر آباد سوراب اختر محمد اچکزئی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سلمان علی بلیدی، ڈی ایس پی عبدالغفور اورکزئی، تحصیلدار سوراب محمود احمد کرد سمیت دیگر ضلعی افسران شامل تھے۔ معززین علاقہ، سول سوسائٹی نمائندگان، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ کھلی کچہری کے دوران ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے متعدد درخواستوں پر موقع پر ہی احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کو بروقت اور مؤثر کارروائی کی ہدایات دیں۔کھلی کچہری میں شہریوں نے پانی، بجلی، گیس، صحت، تعلیم، نادرا، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، کالج بلڈنگ کی مرمت، بازار میں ٹریفک مسائل، صفائی ستھرائی اور امن و امان سمیت متعدد مسائل کھل کر پیش کیے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوامی خدمت حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے، اور شہری مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ BSDI اسکیم کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت، معیاری اور شفاف تکمیل یقینی بنائی جائے گی تاکہ عوام حقیقی اور دیرپا فائدہ حاصل کر سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ شہر کے ساتھ دور افتادہ علاقوں کو بھی BSDI اسکیم میں شامل کیا جا رہا ہے، جہاں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر جیسے منصوبے مکمل کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ آبادی مستفید ہو۔ڈپٹی کمشنر نے مزید عزم ظاہر کیا کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے کھلی کچہریوں کا سلسلہ آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔

خبرنامہ نمبر 182/2026
کوئٹہ8 جنوری.وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی کابینہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ بلوچستان، صوبائی کابینہ اور صوبے کی سیاسی قیادت کو اس بات پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ تمام تر چیلنجز اور مشکلات کے باوجود ایک طویل عرصے بعد بلوچستان میں ایسی حکومت اور ایسی کابینہ وجود میں آئی ہے جس کا سربراہ اور اراکین بھرپور کاوش، محنت، لگن اور خلوصِ نیت کے ساتھ بلوچستان کے عوام کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں، جو ایک خوش آئند امر ہے یہ بات وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی کابینہ کے اراکین، اراکینِ اسمبلی اور سیاسی زعماء سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور صوبائی حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں، ان کی کابینہ اور بلوچستان کی سیاسی قیادت کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت اسی جذبے اور عزم کے ساتھ بلوچستان کے عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھے گی.

خبرنامہ نمبر 183/2026
کوئٹہ۔8جنوری ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں قومی شاہراہ N-25 اور پانچ دانش سکولوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے،بلوچستان کو دوسری صوبوں کے ہم پلہ دیکھنا چاہتے ہیں، صوبے کی ترقی کے لیے ہرممکن وسائل فراہم کریں گے، دہشت گردی کے پیچھے فتنہ الہند ستان کا ہاتھ ہے، پاک فوج نے مئی میں دشمن کو شکست فاش دی، ہماری فوج اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کا سر کچل کے رہیں گے،دشمن کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے،کوئی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی،بلوچستان کے بچوں کو بہتر تعلیم کی فراہمی کے لیے پانچ دانش سکولوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے،جنوبی بلوچستان میں بھی دانش سکول بنائے جائیں گے، ملک کے ہونہار طلباء میں لیپ ٹاپ میرٹ پر تقسیم کیے جا رہے ہیں، نوجوانوں کے لیے سکیموں میں بلوچستان کا 10 فیصد اضافی کوٹہ رکھا گیا ہے،رواں سال سیلاب متاثرین کے لیے 57 ہزار گھر مکمل کیے جائیں گے، سیلاب متاثرین کے لیے عالمی بینک نے 112 ارب روپے کی گرانٹ دی ہے،کچھی کینال منصوبے کی تکمیل بلوچستان کی زرعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے،منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے چار ہفتوں میں ٹھوس فیصلہ کر کےبلوچستان کے عوام کو تحفہ دیں گے، ترقی کی دوڑ میں مل کر آگے بڑھیں گے تو پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں قومی شاہراہ N-25، آواران جھلجھائو روڈ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکولوں کے سنگ بنیاد و افتتاح اور بلوچستان میں 2022ء کے سیلاب متاثرین میں تعمیر شدہ گھروں کے سرٹیفکیٹس اور چیکس کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل ، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء،کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم،ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی زعماء بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ہمارے لیے خوشی کا دن ہے کہ ہم بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں موجود ہیں اور ایسے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا ہے جن کا بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی سے براہ راست تعلق ہے،انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، بلوچستان ملک کا وہ صوبہ ہے جہاں غیور بلوچ، پشتون اور دیگر اقوام مقیم ہیں، اس صوبے نے پاکستان کے ساتھ رضاکارانہ طور پر الحاق کا اعلان کیا تھا اور اس میں بلوچستان کے عوام اور بلوچستان کی سیاسی قیادت کی رضامندی شامل تھی،بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے چھوٹا صوبہ ہے، سڑکیں، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات بلوچستان کے عوام کا حق ہیں، صوبے کی ترقی کے لیے ہرممکن وسائل مہیا کیے جائیں گے،2010ء کے این ایف سی ایوارڈ کے وقت وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے لاہور میں اضافی وسائل کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا، چاروں صوبوں نے مل کر ان کا مطالبہ پورا کیا جبکہ پنجاب نے خلا اپنے وسائل سے پورا کرنے کا وعدہ کیا، میں اس وقت پنجاب کا وزیراعلیٰ تھا،جب یہ معاملہ پنجاب اسمبلی میں اٹھایا تو پوری صوبائی اسمبلی نے اس کو سراہا کہ آپ نے ملک کے بہترین مفاد میں فیصلہ کیا ہے، پنجاب 11 ارب روپے سالانہ اپنے حصے سےبلوچستان کو دے رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں مساوی شامل نہیں ہوں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ایک کنبے اور ایک گھر کی مانند ہیں،بلوچستان کی ترقی کی دوڑ میں پورا پاکستان شامل ہے،آج ہم نے پاکستان ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد رکھا ہے،ایف ڈبلیو او اور این ایچ اے کو ہدایت کی ہے کہ کہ دو سال میں نہیں یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل کیا جائے، چاروں صوبوں کو ترقی کا مساوی حق حاصل ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی نےدوبارہ سر اٹھایا ہے، دشمن کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے،دہشت گردی کے پیچھے خارجی ہاتھ ہے جو دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے پیسہ اور اسلحہ دیتے ہیں، مئی میں معرکہ حق میں ہماری بہادر افواج نے ملک کے کے خلاف ناپاک عزائم رکھنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا اور شکست فاش دی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں انہیں ایسا تھپڑ مارا ہے جسے وہ عمر بھر یاد رکھیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمارے افسران، جوان اور عام شہری قربانیاں دے رہے ہیں لیکن یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور یہ خون رنگ لائے گا، ہماری فوج اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کا سر کچل کے رہیں گےاور دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگا، دہشت گردی خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کے لیے روشن چراغ ہے،جدید تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی،پنجاب میں جو دانش
۔۔۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video