7th-May-2026

خبرنامہ نمبر3806/2026
بیکڑ اپر ڈیرہ بگٹی، 7 مئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جمعرات کو ایک روزہ دورے پر بیکڑ اپر ڈیرہ بگٹی پہنچے جہاں انہوں نے عوامی مسائل، جاری ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر سابق وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور سابق صوبائی وزیر خالد لانگو بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ موجود تھے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے میر غلام قادر میموریل اسپتال کا تفصیلی دورہ کیا اور اسپتال کے مختلف شعبوں، وارڈز اور طبی سہولیات کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا، اسپتال انتظامیہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ادارے میں دستیاب طبی سہولیات، ادویات کی فراہمی، طبی آلات، افرادی قوت اور درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں صحت کے شعبے میں بہتری، جدید سہولیات کی فراہمی اور مریضوں کو بہتر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اور دیرپا اقدامات کر رہی ہے تاکہ شہریوں خصوصاً دور دراز علاقوں میں بسنے والے عوام کو ان کی دہلیز پر جدید طبی سہولیات میسر آسکیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور عوامی خدمت کے عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اسپتالوں میں ادویات کی دستیابی، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری اور طبی خدمات کے معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کر کے ان کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3807/2026
بیکڑ، اپر ڈیرہ بگٹی، 7 مئی ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک روزہ دورہ بیکڑ اپر ڈیرہ بگٹی کے موقع پر شہید عظمت خان بگٹی کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ، سابق صوبائی وزیر خالد لانگو اور دیگر عمائدین بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ موجود تھے شہید عظمت خان بگٹی، جو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے دیرینہ ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، گزشتہ دنوں دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہید کے بلند درجات اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید عظمت خان بگٹی کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید عظمت خان بگٹی نے وطن، امن اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بہادری، وفاداری اور قربانی کی عظیم مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بہادر اور مخلص لوگ قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں جن کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے غیور عوام نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر امن کے قیام کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں لیکن ان کے ناپاک عزائم کو عوام کی طاقت اور ریاستی اداروں کی قربانیوں سے ہر صورت ناکام بنایا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہدائ کی قربانیاں قوم کی تاریخ کا روشن باب ہیں اور حکومت بلوچستان شہدائ کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ کی عزت، دیکھ بھال اور فلاح حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنائے جائیں گے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن کے قیام، عوام کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی اور قیام امن کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3808/2026
استامحمد7مئی ۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے آج ایس ڈی او بی اینڈ آر عاشق علی بوہڑ کے ہمراہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت گوٹھ جانن جمالی میں شیلٹر لیس گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول خان محمد جمالی کی تعمیراتی اسکیم کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری ترقیاتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے موقع پر متعلقہ حکام کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی معیار، دستیاب سہولیات اور تکمیل کے مختلف مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے تعمیراتی کام کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ افسران اور ٹھیکیدار کو ہدایت جاری کی کہ منصوبے کی تکمیل میں معیار اور رفتار پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ یہ اہم تعلیمی منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو سکے۔ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور حکومت بلوچستان صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی اور صوبائی وزیر لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سردار فیصل خان جمالی کے وڑن کے مطابق ایسے علاقوں میں جدید اور معیاری تعلیمی اداروں کی تعمیر ناگزیر ہے جہاں بچوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے نہ صرف عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ تعلیمی نظام کی بہتری، بچوں کے بہتر مستقبل اور شرح خواندگی میں اضافے کے لیے بھی اہم کردار ادا کریں گے ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی جاری رکھے گی تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد میسر آ سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3809/2026
استامحمد7مئی۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے ایس ڈی او بی اینڈ آر عاشق علی بوہر کے ہمراہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو BSDI کے تحت بحال کیے جانے والے تحصیل آفس گنداخہ کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی و بحالی کے کاموں کا معائنہ کیا دورے کے دوران متعلقہ انجینئرز اور حکام نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کی مجموعی پیش رفت، تعمیراتی معیار، استعمال ہونے والے میٹریل اور درپیش تکنیکی و انتظامی امور کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے موقع پر موجود افسران اور متعلقہ ٹھیکیداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی کام کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام مراحل حکومتی معیار اور شفافیت کے مطابق انجام دیے جائیں انہوں نے کہا کہ عوامی دفاتر کی بحالی اور بہتری کا مقصد شہریوں کو باعزت، آسان اور موثر سرکاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے تاکہ عوام کو دفاتر میں بہتر ماحول اور سہولت میسر آ سکےانہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان اور صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ سردارزادہ فیصل خان جمالی کے وژن کے مطابق ضلع بھر میں سرکاری اداروں کی اپ گریڈیشن اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات جاری ہیں ان منصوبوں کے ذریعے نہ صرف سرکاری دفاتر کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے بھی مزید موثر ہوں گے ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو۔ BSDI ،کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے ضلع استامحمد میں ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3810/2026
کوہلو 07 مئی۔ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ نے گورنمنٹ بوائز مڈل سکول نیاز شاہیجہ کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے تدریسی سرگرمیوں، اساتذہ کی حاضری، صفائی ستھرائی اور بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے دورے کے موقع پر سکول میں 215 طلباء کی حاضری ریکارڈ کی گئی، جس پر ڈپٹی کمشنر نے اطمینان کا اظہار کیا۔ معائنہ کے دوران سکول میں تدریسی عملے کی کمی اور بعض بنیادی سہولیات کے فقدان کی نشاندہی ہوئی، جس پر ڈپٹی کمشنر نے فوری ایکشن لیتے ہوئے مزید 3 اساتذہ کی موقع پر تعیناتی کے احکامات جاری کیے، جس کے بعد سکول میں اساتذہ کی مجموعی تعداد 7 ہو گئی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نئے تعینات ہونے والے اساتذہ فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور تدریسی عمل کو مزید موثر بنایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے طلباء کے بیٹھنے کے لیے چٹائی، صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے تین واٹر کولرز اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کےلئے موقع پر ہدایت جاری کئے ہیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عظیم جان دومڑ نے سکول انتظامیہ اور مقامی کمیونٹی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود بہتر کارکردگی قابل تعریف ہے اور یہ سکول دیگر تعلیمی اداروں کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کوہلو تعلیم کے شعبے کی بہتری کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نہایت سنجیدگی سے ادا کریں اور طلباءکی کردار سازی کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک استاد صرف پڑھانے والا نہیں بلکہ ایک معمارِ قوم ہوتا ہے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ سکول میں طلباء کی بہتر حاضری اس بات کا ثبوت ہے کہ والدین اور کمیونٹی تعلیم کی اہمیت سے آگاہ ہیں، جسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کے اچانک دورے جاری رہیں گے اور جہاں بھی مسائل سامنے آئیں گے ان کا فوری اور موثر حل یقینی بنایا جائے گا تاکہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفر خان زرکون بھی ڈی سی کے ہمراہ موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3811/2026
قلات 7مئی ۔معرکہ حق کی شاندارکامیابی کی پہلی سالگرہ پر تاریخی شہر قلات میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات کے زیرنگرانی ریلی کا انعقادکیاگیا۔ڈپٹی کمشنر آفس سے ریلی شرکاء نے شاہی دربارروڈ ہسپتال روڈ ہربوئی روڈ روشہر خیل روڈپر نعرےبازی کیضلعی انتظامیہ کی زیرنگرانی منعقدہ ریلی میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی معرکہ حق” آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر افواجِ پاکستان کو شرکاءکی جانب سے خراجِ تحسین پیش کیاگیا تاریخی شہرقلات کے شہریوں نےپاک فوج کے حق میں نعرے لگائے ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمد درانی نےریلی سے خطاب کرتے یوئے کہا کہ فیلڈمارشل عاصم منیرکی قیادت میں شاندار کامیابی افواجِ پاکستان کی بے مثال جر ات اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہےآپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا جس سے ملکی وقار سربلندیواانہوں نے کہا کہ معرکہ حق” میں پاک فوج نے دشمن کوایسی شکست دی جواسے صدیوں یادرہیگا پاکستان نے ثابت کردیا دشمن کی ہرقسم کیجارحیت کا منہ توڑجواب دینے کیصلاحیت رکھتے ہیں ڈی سی قلات نے کہا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر اورقوم پاک فوج کیساتھ کھڑی ہے افواجِ پاکستان نے ہمیشہ ملکی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ریلی میں سول انتظامیہ اور شہریوں نےقومی یکجہتی، امن اور استحکام کے پیغام کو اجاگر کیاریلی کےشرکاء نے پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعائیں کیں اورریلی شرکاء نےاس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر مشکل وقت میں افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ریلی کا اختتام “پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3812/2026
لورالائی7مئی ۔: ضلعی انتظامیہ لورالائی اور یونیور سٹی آف لورالائی کے اشتراک سے معرکہ حق “آپریشن بنیانِ مرصوص” کی کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے کی۔ریلی کا آغاز یونیورسٹی آف لورالائی سے ہوا، جس میں طلبہ و طالبات، اساتذہ، سول سوسائٹی، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، شہریوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاءنے ہاتھوں میں قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر افواجِپاکستان کے حق میں نعرے درج تھے، جبکہ فضا “پاکستان زندہ باد” اور “پاک فوج پائندہ باد” کے نعروں سے گونجتی رہی۔ریلی کے اختتام پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ معرکہ حق “آپریشن بنیانِ مرصوص” قومی اتحاد، جرات، بہادری اور استقامت کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، بے مثال قربانیوں اور جذب حب الوطنی کے ذریعے ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا اور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔انہوں نے کہا کہ اس کامیابی نے پوری قوم کو متحد کیا اور دنیا پر واضح کیا کہ پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداءکی قربانیاں قوم کا عظیم سرمایہ ہیں اور آنے والی نسلیں ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کو قومی سلامتی، اتحاد اور حب الوطنی کے جذبے سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات صرف علمی مراکز نہیں بلکہ قومی شعور بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔تقریب سے پرو وائس چانسلر پروفیسر عادل خان بازئی، ایس ایس پی ڈاکٹر فہد احمد اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں، پیشہ ورانصلاحیتوں اور ملکی دفاع کے لیے خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پر شرکاءنے شہداءکے ایصالِ ثواب، ملکی سلامتی، ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔ ریلی کے اختتام پر قومی یکجہتی اور امن کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔تقریب کے دوران طلبہ کی جانب سے ملی نغمے اور تقاریر بھی پیش کی گئیں جنہیں شرکاءنے بے حد سراہا۔ یونیورسٹی کیمپس کو قومی پرچموں، بینرز اور سبز ہلالی جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا، جبکہ سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے تھے تاکہ تقریب پرامن ماحول میں منعقد ہو سکے۔ انتظامیہ کے مطابق اس نوعیت کی تقریبات کا مقصد نوجوان نسل میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور دفاعِ وطن کے جذبے کو مزید فروغ دینا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3813/2026
قلات 7مئی ۔ڈپٹی کمشنرقلات منیراحمددرانی نے ٹیچنگ ہسپتال قلات کاسرپرائزوزٹ کیا ڈپٹی کمشر نے د ورے کے موقع پرڈاکٹروں اور دیگر اسٹاف کی حاضریاں چیک کیں ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے دوردراز کے علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں سے ملاقات کی اور ہسپتال کی جانب سے فراہم کردہ علاج معا لجہ اور ادویات کی فراہمی سے متعلق دریافت کیا اور انکے ساتھ مالی معاونت بھی کی۔ڈپٹی کمشنرنے ہسپتال کے مختلف شعبوں ایمرجنسی آئی سی یو اوپی ڈی ادویات اسٹور لشمینیاسز سینٹر لیبارٹری ایکسرے روم میل فیمیل وارڈز ڈینٹل سیکشن لیبرروم حفاظتی ٹیکہ جات سینٹر ڈینٹل سیکشن آئی سیکشن اور دیگر شعبوں کا دورہ کیاایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر نصراللہ لانگو نےڈپٹی کمشنر کو ہسپتال میں دستیاب سہولیات اور مسائل سے آگاہ کیاڈپٹی کمشنر منیردرانی نے ایم ایس سے گفتگو کرتے ہوئے ۔ کہاکہ ایک صحت مندمعاشرے کی تشکیل کے لئے لوگوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف اپنی حاضریاں یقینی بنائیں لوگوں کو صحت سے متعلق بہتر سہولیات فراہم کریں ڈاکٹرز اپنے مقدس پیشے سے مخلص رہیں اور اپنے علاقے لوگوں کی خدمت کریں صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں صحت کے شعبے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3814/2026
کوئٹہ 07مئی۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشٹویو (بی ایس ڈی آئی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ اجلاس میں 12 کور، ایکسین بلڈنگز، پروگرام کواڈینیٹر، ڈی جی یونیورسٹی آف بلوچستان، بی ایس ڈی آئی، پی آئی یو اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران بی ایس ڈی آئی کے تحت ضلعے بھر میں جاری ترقیاتی اسکیمات، جاری منصوبوں کی پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے مختلف منصوبوں پر اب تک ہونے والی پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام محکموں اور اداروں کے درمیان باہمی رابطے اور موثر ہم آہنگی کے ذریعے منصوبوں کو کامیابی سے مکمل کیا جائے،اس کے علاوہ تمام اسکیمات کی مسلسل مانیٹرنگ بھی یقینی بنائی جائے تاکہ ناقص اور غیر معیاری کاموں کے بروقت نشاندہی ہوسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3815/2026
لورالائی 7مئی ۔ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن لورالائی و فوکل پرسن پرائیویٹ اسکولز رازق میاخیل کی زیرِ صدارت تعمیرِ نو پبلک ہائی اسکول لورالائی میں نجی اسکولوں کے پرنسپلز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسکول رجسٹریشن، تعلیمی معیار، انتظامی امور اور حکومتی ہدایات پر عملدرآمد سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل لورالائی نور علی کاکڑ، ڈسٹرکٹ کمپیوٹر پروگرامر ایجوکیشن سردار عبدالرشید جوگیزئی، فوکل پرسن EIMS صمد حمزازئی، محکمہ تعلیم کے نمائندے عبدالعزیز اور مختلف نجی اسکولوں کے پرنسپلز نے شرکت کی۔ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن رازق میاخیل نے کہا کہ تعلیم کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے نجی اسکولوں کو ہدایت دی کہ رجسٹریشن اور این او سی کے تمام قانونی مراحل جلد مکمل کیے جائیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نور علی کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کرے گی، تاہم حکومتی پالیسیوں اور نظم و ضبط پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔فوکل پرسن EIMS صمد حمزازئی نے اسکول پروفائل، داخلہ ڈیٹا اور مردم شماری سے متعلق بریفنگ دی اور کہا کہ تمام اسکول طلبہ کے داخلوں اور فیسوں کا مکمل ریکارڈ فراہم کریں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسکولوں میں تعلیمی سہولیات، لیبارٹریز، کھیل کے میدانوں اور عملے کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ بہتر تعلیمی ماحول اور ملازمین کے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔آخر میں رازق میاخیل نے تمام پرنسپلز پر زور دیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل یقینی بنائیں، بصورت دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3816/2026
ہرنائی 7مئی۔ ضلع ہرنائی میں تعلیمی اصلاحات اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر غلام حیدر ترین کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تعلیمی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے اور تدریسی عمل میں جدید آلات کے استعمال پر زور دیا گیا-ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ہرنائی غلام حیدر ترین کی زیر صدارت منعقدہ اس میٹنگ میں ڈی ڈی ای او مشتاق احمد ترین سمیت تمام کلسٹر ہیڈز نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ای او نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت تعلیم کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے وسائل فراہم کر رہی ہے، لہٰذا اسکولوں میں موجود تدریسی مواد کا بہترین استعمال کرتے ہوئے طلباءکو معیاری تعلیم فراہم کرنا اساتذہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ فرائض میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر حاضر عملے کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر غلام حیدر ترین نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں کیونکہ ضلع کے تمام تعلیمی ادارے مکمل طور پر فنکشنل ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اسکولوں میں حاضری کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ طلبائہی ملک و قوم کا مستقبل ہیں اور ان کی بہتر تربیت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اجلاس کے شرکاءنے تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کا یقین دلایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3817/2026
کوئٹہ: 7 مئی ۔بلوچستان ہائی کورٹ نے جوائنٹ روڈ سمیت اہم شاہراہوں پر نئی کمرشل سرگرمیوں اور تعمیرات کے خلاف دائر آئینی درخواست پر وفاقی و صوبائی حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریلوے حکام کے متنازع اشتہار کی کارروائی معطل کر دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک متعلقہ مقامات پر کسی قسم کی نئی تجارتی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ احکامات چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیے۔درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نمبر ایک ریلوے ایمپلائز کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی جوائنٹ روڈ کوئٹہ کے چیئرمین جبکہ درخواست گزار نمبر دو سوسائٹی کے کابینہ رکن ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ پہلے ہی 29 نومبر 2016 کو سی پی نمبر 824/2016 میں واضح احکامات جاری کر چکی ہے کہ انسکمب روڈ، زرغون روڈ، سمنگلی روڈ اور جوائنٹ روڈ سمیت نئی تعمیر شدہ سڑکوں پر مزید کمرشل سرگرمیوں اور دکانوں کی تعمیر پر مکمل پابندی ہوگی۔وکیل کے مطابق عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے میں ضلعی انتظامیہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور وفاقی و صوبائی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ ان شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے، تاہم پاکستان ریلوے کے بعض حکام نے مبینہ طور پر ان احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے جوائنٹ روڈ کے اطراف دکانیں، پارکنگ ایریاز اور دیگر تجارتی تعمیرات قائم کرنے کی اجازت دی، جس سے شدید ٹریفک جام اور عوامی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔عدالت کو مزید بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایت پر 28 اکتوبر 2024 کو ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں واضح فیصلہ کیا گیا کہ نئی تعمیر شدہ اور وسیع کی گئی شاہراہوں پر ہر قسم کی نئی کمرشل سرگرمی پر پابندی ہوگی۔ اس فیصلے کے باوجود ریلوے حکام نے ضلعی انتظامیہ کے خطوط کا جواب دینے کے بجائے دوبارہ ایک اشتہار جاری کر دیا، جس میں کوئٹہ جوائنٹ روڈ پر مکس یوز کمرشل منصوبوں، شاپنگ پلازہ، مارکیٹ، ہوٹل، ہسپتال، فوڈ آو¿ٹ لیٹس، کارپوریٹ دفاتر اور پیٹرولیم ڈیلرشپ سمیت مختلف تجارتی منصوبوں کے لیے بولیاں طلب کی گئیں۔درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اپنایا کہ مذکورہ اشتہار عدالت عالیہ کے سابقہ احکامات اور ضلعی انتظامیہ کے نوٹیفکیشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ریلوے حکام کو مزید تجارتی سرگرمیوں سے روکا جائے کیونکہ اس سے سڑکوں کی توسیع اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کا بنیادی مقصد متاثر ہوگا۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انسکمب روڈ، زرغون روڈ، جوائنٹ روڈ، سبزل روڈ، سریاب روڈ، یونیورسٹی چوک تا سمنگلی روڈ، ایئرپورٹ روڈ، ریڈیو اسٹیشن تا ویسٹرن بائی پاس اور بادینی روڈ لنک روڈ پر نئی تجارتی تعمیرات اور دکانوں کو سیل بھی کیا جا چکا ہے اور ان علاقوں میں مزید کمرشل سرگرمیوں پر پابندی برقرار ہے۔عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے جواب دہندگان کو نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے عبوری حکم کے طور پر 7 اپریل 2026 کے اشتہار میں شامل سیریل نمبر 17 اور 18، یعنی “کوئٹہ جوائنٹ روڈ (پلاٹ اے)” اور “کوئٹہ جوائنٹ روڈ” سے متعلق کارروائی معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک ان مقامات پر کسی نئی تجارتی سرگرمی یا تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے جبکہ ڈی ایس پاکستان ریلوے کو جامع جواب کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔ مزید برآں، کیس کو 2016 کے سی پی نمبر 824 کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 3818/2026
کوئٹہ7 مئی۔کوئٹہ ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان کی زیرِ صدارت سیکٹر دفاتر کا آن لائن اجلاس منعقد ہوا جس میں قلات، زیارت، چمن اور لورالائی کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعلقہ اضلاع کی کارکردگی، جاری حکومتی اقدامات کی تشہیر اور عوامی آگاہی مہمات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز نے تمام ضلعی افسران سے انفرادی طور پر کارکردگی رپورٹس طلب کیں اور مختلف اضلاع میں حکومتی منصوبوں، ترقیاتی اقدامات اور عوامی فلاحی سرگرمیوں کی میڈیا کوریج پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر افسران سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی پی آر عسکر خان نے کہا کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی اور انہیں بھرپور انداز میں سراہا جائے گا، جبکہ ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ تعلقات عامہ حکومت بلوچستان کی مثبت پالیسیوں اور عوامی فلاحی اقدامات کو موثر انداز میں اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، لہٰذا تمام افسران اپنی ذمہ داریوں کو مزید جانفشانی سے ادا کریں۔ڈی جی پی آر نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں حکومت بلوچستان کی جانب سے کیے جانے والے ترقیاتی اور عوامی مفاد کے اقدامات کی بھرپور میڈیا کوریج کو یقینی بنائیں، جدید تقاضوں کے مطابق ویڈیوز، پوسٹرز، سوشل میڈیا مواد اور موثر تشہیری مہمات تیار کریں تاکہ حکومتی اقدامات کی درست اور بروقت معلومات عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ضلعی سطح پر میڈیا کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے اور حکومتی کارکردگی کو اجاگر کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ عوام میں اعتماد کو مزید فروغ دیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف اضلاع کے افسران نے اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں اور آئندہ مزید موثر انداز میں فرائض انجام دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3819/2026
زیارت7 مئی۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت “معرکہ حق”، “پاک فوج زندہ باد” اور “پاکستان زندہ باد” ریلی کے سلسلے میں افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کل منعقد ہونے والی ریلی کی سیکیورٹی، ٹریفک پلان، عوامی شرکت، نظم و ضبط اور دیگر انتظامات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی اور ریلی کو پرامن، منظم اور کامیاب بنانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ “معرکہ حق”، “پاک فوج زندہ باد” اور “پاکستان زندہ باد” ریلی میں بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے اور تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں قومی جذبے کے ساتھ ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ ملک کے دفاع، امن و استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ریلی کے دوران پاک فوج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا جبکہ پاکستان دشمن عناصر کو یہ واضح پیغام دیا جائے گا کہ پاکستانی قوم متحد، باحوصلہ اور اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ڈپٹی کمشنرعبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ “معرکہ حق” صرف ایک ریلی نہیں بلکہ قومی یکجہتی، حب الوطنی اور افواجِ پاکستان سے والہانہ محبت کے اظہار کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے، اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3820/2026
کوئٹہ۔7مئی ۔ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوئٹہ نے میٹرک سالانہ امتحان 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق امتحان میں مجموعی طور پر 145767 طلبہ شریک ہوئے جن میں سے 119403 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ کامیابی کا مجموعی تناسب 81.91 فیصد رہا۔اعلامیے کے مطابق جماعت نہم میں 68517 طلبہ نے امتحان میں شرکت کی جن میں سے 50401 کامیاب ہوئے جبکہ کامیابی کا تناسب 73.55 فیصد رہا۔ اسی طرح جماعت دہم میں 77250 امیدوار شریک ہوئے جن میں سے 69002 طلبہ کامیاب قرار پائے اور کامیابی کا تناسب 89.32 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔بورڈ حکام کے مطابق امتحانات کے انعقاد کے لیے صوبے بھر میں 210 امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے جبکہ نگرانی کے لیے 434 انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ امتحانی عمل میں 1236 تدریسی و انتظامی عملے نے خدمات انجام دیں اور 130 امتحانی مراکز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔نتائج کے مطابق بی آر سی لورالائی کے طالبعلم امیر اللہ ولد شریف اللہ نے 1051 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن اپنے نام کی، جبکہ بی آر سی ڑوب کے طالبعلم مطیع اللہ ولد فتح علی نے 1050 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ تیسری پوزیشن بی آر سی لورالائی کے دو طلبہ، نبی خان ولد غفور اور محمد ارحم ولد رمضان نے مشترکہ طور پر حاصل کی جنہوں نے 1046 نمبر حاصل کیے۔چیئرمین بورڈ نے کامیاب طلبہ، والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے امتحانات کے شفاف انعقاد پر انتظامیہ، ضلعی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو بھی سراہا۔بورڈ انتظامیہ نے بتایا کہ طلبہ اپنے نتائج، ری چیکنگ اور دیگر معلومات کے لیے بورڈ کی ویب سائٹwww.bbise.edu.pk کا وزٹ کر سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3821/2026
زیارت7 مئی ۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے خرواری بابا زیارت کے معذور شخص محمد اسلم کو ڈی سی آفس میں وہیل چیئر فراہم کی اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر زیارت عبداللہ کاشانی بھی موجود تھے۔ اس موقع ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے نے کہا کہ معذور افراد ہماری معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت معذور افراد کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ بھی معاشرے میں باعزت اور خودمختار زندگی گزار سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی افراد کی مدد صرف حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔ ضلعی انتظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مستحق اور خصو افراد کو بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس موقع پر بچی کے اہل خانہ نے ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کیا اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3822/2026
کوئٹہ 7مئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور خصوصی ہدایات کے مطابق محکمہ ثقافت حکومتِ بلوچستان، اورایمان پاکستان کے اشتراک سے “ایمان پاکستان حق میلہ – بلوچستان ٹیلنٹ ہنٹ (میوزک کمپیٹیشن)” کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ اہم ایونٹ 19 مئی سے 24 مئی 2026 تک نوری نصیر خان کلچر کمپلیکس، اسپنی روڈ، کوئٹہ میں منعقد ہوگا۔رکن صوبائی اسمبلی محترمہ فرح عظیم شاہ نے ڈائریکٹوریٹ آف کلچر کا دورہ کیا اور ایونٹ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر کلچر ڈاکٹر داود ترین بھی موجود تھے۔ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ بلوچستان ٹیلنٹ ہنٹ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع فراہم کرے گا اور صوبے کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے وڑن کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لانے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری زرین خان مگسی نے کہا کہ ان کی خصوصی سفارش پر بلوچستان بھر کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے نوجوانوں کو اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔سیکرٹری ثقافت جناب حمید اللہ ناصر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایونٹ نوجوانوں کو ایک مثبت اور تخلیقی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ ثقافت تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ڈائریکٹر کلچر ڈاکٹر داود ترین نے بتایا کہ میوزک مقابلے کے ساتھ ساتھ 23 اور 24 مئی کو ثقافتی و فوڈ اسٹالز، فلم اسکریننگ اور فوٹوگرافی نمائش بھی منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقابلے میں شرکت کے خواہشمند افراد 17 مئی 2026 تک اپنی رجسٹریشن مکمل کر سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3823/2026
سبی 7مئی ۔ ڈپٹی کمشنر ضلع سبی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکریٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر ضلع سبی میں ڈپٹی کمشنرسبی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ نگرانی عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کے مسائل، شکایات اور تجاویز کو براہِ راست سن کر ان کے فوری اور موثر حل کو یقینی بنانا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور اسی سلسلے میں کھلی کچہریوں کا انعقاد عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو اپنی شکایات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔شیڈول کے مطابق پہلی کھلی کچہری 13 مئی 2026 کوبمقام سرکٹ ہاوس سبی میں صرف تحصیل سبی کے رہائشیوں کے لیے منعقد ہوگی، جبکہ دوسری کھلی کچہری 14 مئی 2026 کو گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول بختیار آباد میں صرف تحصیل لہڑی کے عوام کے لیے منعقد کی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نےمتعلقہ تحصیلوں کے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی درخواستیں اور مسائل لے کر کھلی کچہریوں میں شرکت کریں تاکہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جا سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3824/2026
کوئٹہ، 7 مئی۔ کوئٹہ : بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام “معرکہ حق” کے عنوان سے ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میر ظہور احمد بلیدی، معاونِ خصوصی برائے داخلہ بلوچستان بابر خان یوسفزئی، سول سوسائٹی کے نمائندگان، طلباء و طالبات اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نےتقریب سے خطاب کرتے کہا کہ “معرکہحق” قومی یکجہتی، شعور و آگاہی اور نوجوان نسل میں مثبت سوچ کو فروغ دینے کی ایک اہم کاوش ہے۔ اور جس طرح پاک افواج نے معرکہ حق میں ازلی دشمن ہندوستان کو عبرت ناک شکست دے کر پوری دنیا میں اسکی اصل حقیقت آشکارا کردی اور بلوچستان کے محب وطن عوام اپنے سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے جبکہ صوبہ بلوچستان کے نوجوان ملک و قوم کا روشن مستقبل ہیں، جنہیں تعلیم، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔معاون برائے داخلہ بابر خان یوسفزئی نے کہا کہ بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ نوجوانوں کو انتہا پسندی اور منفی رجحانات سے دور رکھ کر قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے حکومت تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔تقریب میں چیف کوآرڈینیشن آفیسر پروفیسر دوست محمد بڑیچ، ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر عصمت اللہ خان اور پروفیسر فائزہ میر ، سکالر سادیہ زارہ نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ فکری و تعلیمی سرگرمیاں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا موثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے طلبائ و طالبات پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ قومی و سماجی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں اور بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔تقریب کے اختتام پر شرکائنے بلوچستان میں امن، ترقی، تعلیم اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3825/2026
کوئٹہ، 7 مئی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علماء کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی اور دینی مدارس کی رجسٹریشن اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کے خلاف کارروائی اور تالہ بندی سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی گئیں حالانکہ حکومت کا نہ کبھی ایسا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ہے انہوں نے کہا کہ دینی مدارس معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور حکومت ان کی ترقی و بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون جاری کرے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پارلیمنٹ مدارس رجسٹریشن ایکٹ منظور کرچکی ہے اور اب اسے بلوچستان اسمبلی میں بھی پیش کیا جانا ہے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جمعیت علماءاسلام کی قیادت سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جبکہ مولانا عبدالواسع نے بھی اپنے مطالبات اور تجاویز پیش کی ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے اتحادی دوستوں نے مولانا عبدالواسع سے دس دن کی مہلت طلب کی ہے تاکہ اپنی پارٹی قیادت کو اعتماد میں لیا جاسکے کیونکہ بنیادی طور پر یہ فیڈریشن سے متعلق قانون سازی ہے جس کو اب صوبائی اسمبلی میں آنا ہے انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بلوچستان اسمبلی میں اتفاق رائے سے قانون سازی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور ان شاء اللہ یہ معاملہ باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم سے حل ہوجائے گا۔انہوں نے جمعیت علماء اسلام کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت کی قیادت نے ہمیشہ عزت، احترام اور شفقت دی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دینی مدارس ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ہم انہیں ہمیشہ دل کے قریب سمجھتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3826/2026
کوئٹہ 7مئی ۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سے ایشین ڈیویلپمنٹ بینک (ADB) کے کنٹری ڈائریکٹر Xiaoqin Emma fan نے ملاقات کی جس میں صوبے میں زراعت، ایری گیشن، آئی ٹی، سکولز، کچھی کینال سمیت ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات بلوچستان کی معاشی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ملاقات میں زرعی شعبے کی ترقی، ایریگیشن سسٹم کی جدید کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی پروموشن، کچھی کینال پروجیکٹ، واشک ڈیم اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بحث کی گئی، چیف سیکرٹری نے بتایا کہ بلوچستان جیسے خشک سالی زدہ علاقے میں زراعت اور پانی کے وسائل کی بہتری صوبے کی معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے ایشین ڈیویلپمنٹ بینک سے زرعی انفراسٹرکچر کی بحالی اور جدید ٹیکنالوجی کی متعارفہ کے لیے تکنیکی اور مالی تعاون کا مطالبہ کیا۔ ایریگیشن کے شعبے میں کچھی کینال پروجیکٹ کو خصوصی توجہ دی گئی جو صوبے کے کسانوں کے لیے زندگی بدلنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پروجیکٹ کے فیز 2 سے لاکھوں ایکڑ زمین کی آبپاشی ممکن ہو جائے گی جس سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح واشک ڈیم کے توسیعی منصوبوں پر بھی بات چیت ہوئی، جو سیلاب کے خطرات کو کم کرنے اور پانی کے ذخیرے میں اضافہ کرے گا جس سے متعلقہ اضلاع میں لوگوں کو پانی کی فراہمی ممکن ہو جائیگی۔ آئی ٹی کے شعبے میں دونوں اطراف نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے ہنر سکھانے والے پروگراموں پر زور دیا۔ کنٹری ڈائریکٹر ایشین ڈیویلپمنٹ بینک نے بلوچستان حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی۔اس موقع پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 2 لاکھ 80 ہزار بچوں کا سکولوں میں داخلہ کرایا جبکہ حکومت اڈلٹ لٹریسی پروگرام شروع کر رہی ہے اور صوبائی حکومت نے صوبے میں انٹر پرائز ڈیویلپمنٹ کے ذریعے لوگوں کو روزگار کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے جبکہ 27 ٹاونز کو سولر انرجی کی فراہمی فراہمی بھی یقینی بنا رہی ہے۔ کنٹری ڈائریکٹر نے اس موقع پر کہا کہ اس سلسلے میں بینک صوبے کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکام بالا سے بات کی جائے گی۔ یہ ملاقات بلوچستان کی ترقی کی راہ میں ایک مثبت قدم ہے جو بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3827/2026
کوئٹہ 7مئی ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت جمعرات کے روز صوبائی سلیکشن بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں 24 محکموں کے 96 ایجنڈے شامل تھے۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے ا?فیسرز کو مختلف گریڈ میں ترقی کی سفارش کی گئی۔ اجلاس میں محکمہ زراعت، ایکسائز، کالجز، کلچر، صحت، کالجز، لائیو اسٹاک، سوشل ویلفیئر، سکولز، پی ایچ ای، سی اینڈ ڈبلیو، انرجی، فشریز و دیگر محکموں کے 1357 ا?فیسران کو پی بی ایس 19گریڈ سے 20، 18 سے 19, 17 سے 18گریڈ اور 16 سے 17 میں ترقی کی سفارش کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3828/2026
خضدار 7 مئی ۔ میں جھالاوان سمر فیسٹیول کے سلسلے میں مختلف تعلیمی و تربیتی اور اسپورٹس ایونٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ فیسٹیول کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس، والی بال، حفظ و قرا ت، نعت خوانی اور تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خضدار عابد حسین اور ظاہر کریم نے فیسٹیول کی مختلف تقریبات کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ڈویژنل پبلک اسکول خضدار میں طالبات کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔ پروفیسر داود بلوچ نے طالبات کو جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال اور مستقبل میں اس کے کردار پر تفصیلی لیکچر دیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جھالاوان سمر فیسٹیول کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے دور میں ہماری بچیوں کا AI جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ضلعی انتظامیہ تعلیمی اداروں میں جدید علوم کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔گورنمنٹ گرلز اسکول خضدار میں حفظ و قراءت، نعت خوانی اور تقریری مقابلے منعقد ہوئے۔ طالبات نے تلاوت کلام پاک، نعت رسول مقبول اور موضوعاتی تقاریر میں بھرپور حصہ لیا۔ تقریب کے مہمان خاص اشرف بلوچ اور رئیس تنویر کرد تھے۔ اس موقع پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی و دینی تعلیمات ہماری بنیاد ہیں لیکن ان کے ساتھ دنیاوی علوم کا حصول بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھالاوان کی ثقافت میں علم و ادب کو ہمیشہ فوقیت حاصل رہی ہے اور ہمیں اپنی بچیوں کو دونوں علوم سے آراستہ کرنا ہے۔ کمشنر قلات ڈویڑن ڈاکٹر طفیل بلوچ اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی دلچسپی اور ان کی قیادت منعقدہ یہ ایونٹس حوصلہ افزا ہیں۔گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج خضدار میں طالبات کے مابین والی بال کے مقابلے کرائے گئے۔ کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور شرکاء نے بھرپور داد دی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھیل طالبات کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ جھالاوان سمر فیسٹیول کے ذریعے بچیوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیاں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ تعلیمی میدان کے ساتھ کھیلوں میں بھی آگے بڑھ سکیں۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ جھالاوان سمر فیسٹیول ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں مواقع فراہم کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خضدار میں دو روزہ فیسٹیول کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں کھیلوں کے مقابلے، تعلیمی نمائشیں اور دیگر سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ یہ فیسٹیول طلباء و طالبات کی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرے گا اور ان کے حوصلے بلند کرے گا۔ یہ سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3829/2026
خضدار 7 مئی ۔ : جھالاوان سمر فیسٹیول کے تحت فٹبال اور کرکٹ کے میچز، ایجوکیشن آفیسران عابد حسین بلوچ اور ظاہرکریم مہمان خاص تھے جھالاوان سمر فیسٹیول 2026 کے سلسلے میں خضدار میں کھیلوں کے مقابلے جاری ہیں۔ منگل کے روز فٹبال اور کرکٹ کے دو، دو میچز کھیلے گئے جن میں کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔میچز کے مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خضدار عابد حسین بلوچ اور ایجوکیشن آفیسر ظاہر کریم تھے۔ دونوں افسران نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور کامیاب ٹیموں میں انعامات تقسیم کیئے گروپ فوٹو کھنچوائے۔فٹبال میچ کے سلسلے میں گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول کھٹان اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کھنڈ کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ ہوا۔ گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول کھٹان نے ایک صفر گول سے کامیابی حاصل کی۔دوسرا میچ ڈی پی سی اور پاک اسلامک اسکول کی ٹیمیں مدِ مقابل تھا۔ ڈی پی سی نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے ایک صفر گول سے میچ اپنے نام کر لیا۔کرکٹ میچز کے سلسلے میں پہلے میچ میں گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول کھٹان نے پاک اسلامک اسکول کو 56 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دیکر کامیابی حاصل کرلی۔ گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول کھٹان کی ٹیم نے شاندار بیٹنگ اور باولنگ کا مظاہرہ کیا دوسرے میچ میں گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول خضدار نے ورکر اسکول کو 8 وکٹوں سے باآسانی ہرا دیا۔ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول خضدار کی ٹیم نے ہدف کا تعاقب نہایت ذمہ داری سے مکمل کیا۔اس موقع پر ڈی ای او عابد حسین بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “جھالاوان سمر فیسٹیول نوجوانوں کو مثبت سرگرمیاں فراہم کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔ کھیل نہ صرف جسمانی صحت کے لیئے ضروری ہے بلکہ طلبہ میں نظم و ضبط، ٹیم ورک اور برداشت کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اس طرح کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریگی جھالاوان سمر فیسٹول ایک شاندار ایونٹ ہے جو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہاہےایجوکیشن آفیسر ظاہر کریم نے کہا کہ “خضدار کے طلبہ میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مواقع فراہم کیے جائیں۔ جیتنے والی ٹیموں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ہارنے والی ٹیمیں محنت جاری رکھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3830/2026
ہرنائی7مئی۔ ہرنائی: وطنِ عزیز کی سلامتی اور پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کل ہرنائی کی تاریخ کی بڑی ریلی کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں سیاسی و سماجی رہنماوں سمیت عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے محافظوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور قومی یکجہتی کو اجاگر کرنے کے لیے کل 8 مئی بروز جمعہ کو ہرنائی میں ایک عظیم الشان “افواجِ پاکستان زندہ باد” ریلی نکالی جائے گی۔ اس ریلی کی قیادت صوبائی وزیر خوراک و فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دومڑ کے بھائی اور فوکل پرسن ہرنائی حاجی باز محمد خان دومڑ کریں گے۔ ریلی کا مقصد افواجِ پاکستان کے ساتھ عوامی محبت کا اظہار اور یہ باور کرانا ہے کہ پوری قوم اپنے بہادر سپاہیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ریلی کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہےپروگرام کے مطابق ریلی کا آغاز صبح 10 بجے گورنمنٹ ہائی اسکول گراو¿نڈ (نزد ایف سی قلعہ) سے ہوگا۔ ن لیگ کاروان کے رہنما عمیر سعید کھوکھر نے اس حوالے سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ افواجِ پاکستان ہماری بقا اور امن کی ضامن ہیں، اور یہ ریلی ہمارے قومی فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم متحد ہو کر دشمن قوتوں کو یہ پیغام دیں کہ عوام اور فوج ایک جان ہیں۔ ریلی میں ضلع بھر سے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان، مختلف قبائلی معززین، سول سوسائٹی کے نمائندے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی جو بینرز اور قومی پرچم اٹھا کر افواجِ پاکستان کے حق میں نعرے بلند کریں گے۔ منتظمین کی جانب سے تمام شرکاء کو وقت کی پابندی کی ہدایت کی گئی ہے۔ معززینِ علاقہ اور پارٹی عہدیداران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ یہ ریلی ہرنائی کی تاریخ میں حب الوطنی کے حوالے سے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔ عمیر سعید کھوکھر نے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ کل صبح ٹھیک 10 بجے ہائی اسکول گراو¿نڈ پہنچ کر اس قومی کاز کو کامیاب بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3831/2026
چمن 7مئی۔ ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے آج پاک فوج کی معرکہ حق آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر افواجِ پاکستان کوخراجِ تحسین پیش کیاگیا انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیلڈمارشل عاصم منیرکی قیادت میں شاندار کامیابی افواجِ پاکستان کی بے مثال جر?ت اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہےآپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا جس سے ملکی وقار سربلند ہونے کے ساتھ عوام کی دلوں میں پاک فوج سے والہانہ محبت اور دوستی و عقیدت بھی پیدا ہوا اور عوام کو اپنی فوج کی بہادری جرات اور ولولہ انگیز قیادت کیساتھ بے پناہ محبت اور ہمدردی پیدا ہو گئی انہوں نے کہا کہ معرکہ حق” میں پاک فوج نے دشمن کوایسی شکست دی جواسے صدیوں تک یادرہیگا انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ثابت کردیا کہ دشمن کی ہرقسم کی جارحیت کا منہ توڑجواب دینے کی بے پناہ صلاحیت پاک آرمی رکھتی ہیں ڈی سی چمن نے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر اورقوم پاک فوج کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے افواجِ پاکستان نے ہمیشہ ملکی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے قومی یکجہتی و استحکام کیلئے پاک فوج کی قربانیوں کو سلام کرتے ہوئےکہا کہ قوم پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے پاک فوج کے ساتھ ہیں اور پاکستانی عوام ہر مشکل وقت میں افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے انہوں نے پاک دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی ناقابل تسخیر پاک فوج اور قوم کے ہاتھوں میں ہے لہٰذا ہمارے بہادر افواج کی معرکہ حق آپریشن بنیان المرصوص کو ہماری طاقت کا صرف ایک چھوٹی سی ٹریلر سمجھا جائے ورنہ ہماری طاقت اس سے کہیں گناہ بڑھ کر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3832/2026
چمن 7مئی ۔ چمن شہر میں معرکہ حق آپریشن بنیانِ المرصوص” کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی، کیلئے ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا ۔آج ضلعی انتظامیہ چمن، غیور قبائلی عوام مختلف سرکاری محکموں کے افسران، شہریوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اساتذہ طلباءاور لائن ڈیپارٹمنٹس کے آفیسرز اور نمائندوں نے معرکہ حق “آپریشن بنیانِ المرصوص ” کی کامیابی کے ایک سال مکمل ہونے پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا ریلی کی قیادت ضلعی افسران اور ڈاکٹر رفیع اللہ نے کیا اور ریلی ریلوے روڈ سے شروع ہوئی اور شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی مال روڈ پر ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے اختتام پذیر ہوئی ریلی کے شرکاء نے پاک فوج کیساتھ کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے، جس سے پورا شہر گونج اٹھا۔ ریلی کے شرکاء نے ریلی کے اختتام پر کہا کہ پشتون قبائل ہمیشہ ملک کی سلامتی، امن اور استحکام کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی وطنِ عزیز کے دفاع اور قومی یکجہتی کے لیے اپنی جانوں پر کھیل کر جاری رکھیں گے مقررین نے قومی اتحاد، امن و امان اور ملکی سلامتی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام اقوام اور قبائل کو ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا مقررین نے کہا کہ معرکہ حق “آپریشن بنیانِ مرصوص” قومی اتحاد، جرات، بہادری اور استقامت کی روشن مثال ہے۔ مقررین نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، بے مثال قربانیوں اور جذب حب الوطنی کے ذریعے ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا اور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ور پاک فوج کی کامیابی نے پوری قوم کو متحد کیا اور دنیا پر واضح کیا کہ پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ مقررین نے کہا کہ شہدائکی قربانیاں قوم کا عظیم سرمایہ ہیں اور آنے والی نسلیں ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3833/2026
گوادر: 7مئی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ کی سربراہی میں جیوانی کے سب تحصیل سنٹ سر، کلدان میں ایک تاریخی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں پہلی مرتبہ علاقے کے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جبکہ خواتین کی غیر معمولی شرکت نے اس عوامی فورم کو مزید موثر اور تاریخی بنا دیا۔ خواتین نے تعلیم، صحت، پانی اور دیگر بنیادی مسائل سے متعلق اپنے تحفظات اور مطالبات بھی پیش کیے۔کھلی کچہری میں بی ایس ڈی آئی فیز ون اور فیز ٹو منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ بی ایس ڈی آئی/پی ایس ڈی ائی فیز تھری کے تحت علاقے میں عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات سے متعلق اہم ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، کلدان کے متعبر اور سماجی شخصیت سیٹھ چراغ کلمتی ،ڈی ایس پی پولیس جیوانی زاہد بلوچ، میجر ایف سی شوکت، تحصیلدار جیوانی اعظم خان گچکی، تحصیلدار گوادر منیر احمد بلوچ، نائب تحصیلدار حاجی جاوید، انجینیئر پبلک ہیلتھ سلمان بلوچ، ایس ڈی او بی اینڈ آر، ڈپٹی ڈی او ایجوکیشن سب ڈویڑن جیوانی عبدالرحیم، ایس ڈی او کیسکو نصیر احمد، سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر شریف میانداد، ایس ایچ او سنٹ سر سمیت مختلف سول و عسکری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے علاقے کو درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ شرکاء نے بتایا کہ سنٹ سر، جو ماضی میں سب تحصیل کا درجہ رکھتا تھا، 1998 کے تباہ کن سیلاب کے باعث شدید متاثر ہوا تھا اور اج بھی لوگوں کی بنیادی سہولیات ،زرعی زمینوں، بندات، اسکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر پوتان سی ڈی کی سول ڈسپنسری کی خستہ حال عمارت کو دوبارہ تعمیر اور اسے بی ایچ یو میں اپ گریڈ کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔اجلاس میں سنٹ سر کی اراضی کی سیٹلمنٹ، مختلف شاہراہوں کی مرمت، زیر التوائ سڑکوں کی تکمیل، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، بجلی اور تعلیمی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ دریائے دشت پر ایک حفاظتی بند تعمیر کیا جائے تاکہ سمندری پانی کی دراندازی روکی جا سکے اور علاقے کے میٹھے پانی کے ذخائر محفوظ رہیں۔ مقامی آبادی نے بارڈر ایریا میں راہداری کھولنے کی بھی درخواست کی تاکہ سرحدی علاقوں کے عوام کو سہولت میسر آ سکے۔تعلیم کے شعبے میں شہریوں نے نشاندہی کی کہ کلدان ہائی اسکول میں اساتذہ کی شدید کمی ہے اور اس وقت صرف تین اساتذہ تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ میتھ، سائنس، انگلش اور دیگر مضامین کے اساتذہ فوری طور پر تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح گبد مڈل اسکول میں بھی تدریسی عملے کی کمی کا مسئلہ اجاگر کیا گیا۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ نے سب تحصیل آفس سنٹ سر کی تعمیر کا اعلان کیا اور متعلقہ محکموں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور مو¿ثر اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ شہریوں نے ڈومبک روڈ منصوبے میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ دو سال قبل ٹینڈر ہونے کے باوجود تاحال کام شروع نہیں ہو سکا۔عوامی نمائندوں اور مقامی عمائدین نے سنڈی کے علاقے میں غیر مقامی افراد کی جانب سے غیر قانونی فیول کاروبار اور امن و امان کی صورتحال پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں گلدان کے نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کی خاطر پلے گراونڈ کے قیام کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔شرکاءنے پینے کے پانی کی فراہمی میں درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بوسیدہ پائپ لائنوں کے باعث پانی کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے، لہٰذا نئی پائپ لائنوں کی تنصیب ناگزیر ہو چکی ہے۔کھلی کچہری کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے کھلی کچہریوں کا سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر3834/2026
قلعہ سیف اللہ 7مئی:۔عوامی شکایات پر اسسٹنٹ کمشنر عمران مندوخیل نے قلعہ سیف اللہ بازار کا تفصیلی دورہ اور معائنہ کیا تاکہ زائد المعیاد اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کی فروخت کی جانچ پڑتال کی جا سکے اور صفائی و عوامی صحت کے اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔معائنے کے دوران بازار کے مختلف علاقوں میں ایک سو سے زائد دکانوں کی چیکنگ کی گئی۔ متعدد دکانوں سے بڑی مقدار میں زائد المعیاد اشیائے خوردونوش، مشروبات اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء برآمد ہوئیں۔ برآمد شدہ اشیاء عوامی صحت اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی تھیں۔موقع پر ہی خلاف ورزی کے مرتکب دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ زائد المعیاد اشیاء فروخت کرنے والی متعدد دکانوں کو سیل کر دیا گیا، جبکہ برآمد شدہ زائد المعیاد اشیاء کو قبضے میں لے کر تلف کر دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر عمران مندوخیل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور شہریوں کو مضر، غیر محفوظ اور غیر معیاری اشیاء سے محفوظ رکھنے کے لیے اس نوعیت کے معائنے اور اچانک دورے باقاعدگی سے جاری رہیں گے۔
خبر نامہ نمبر3835/2026
خضدار7مئی: جھالاوان سمر فیسٹیول کے سلسلے میں آج فٹ بال اور کرکٹ کے سیمی فائنل مقابلے منعقد ہوئے۔یہ ایونٹ کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی سربراہی میں منعقد ہورہے ہیں۔فٹ بال کے پہلے سیمی فائنل میں گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول خضدار اور گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کھٹان کی ٹیمیں مدمقابل آئیں۔ سنسنی خیز مقابلے کے بعد گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول خضدار نے دو گول سے کامیابی حاصل کر کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔فٹ بال کے دوسرے سیمی فائنل میں سن رائز اور ڈویژنل پبلک کالج کی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ ڈویژنل پبلک کالج نے ایک گول سے کامیابی حاصل کر کے فائنل میں جگہ بنا لی۔کرکٹ کے پہلے سیمی فائنل میں گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول خضدار اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کھنڈ کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوئیں۔ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کھنڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات وکٹوں سے میچ جیت لیا اور فائنل میں پہنچ گئی۔کرکٹ کے دوسرے سیمی فائنل میں گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کھٹان اور ڈویژنل پبلک کالج کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہوا۔ گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کھٹان نے ایک رن سے کامیابی حاصل کر کے فائنل کے لیئے کوالیفائی کر لیا۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اپنے پیغام میں کہاکہ جھالاوان سمر فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے ذریعے طلبہ میں نظم و ضبط، برداشت اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ فائنل میں پہنچنے والی تمام ٹیموں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خضدار عابد حسین نے کہا کہ جھالاوان سمر فیسٹیول کے تحت منعقدہ مقابلے طلبہ کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیئے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کامیاب ٹیموں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، اصل مقصد طلبہ کو مواقع فراہم کرنا ہے۔ محکمہ تعلیم ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے تعلیمی و کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے۔
خبر نامہ نمبر3836/2026
خضدار7مئی: معرکہ حق کو ایک ساتھ خضدار کے مختلف تحصیلوں میں ریلیاں عوام کی شرکت۔کمشنر قلات ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی ہدایت پرمعرکہ حق کے سلسلے میں خضدار کی تمام تحصیلوں نال، زہری، وڈھ اور کرخ میں یکجہتی ریلیاں نکالی گئیں۔ ریلیوں میں عام شہریوں، اسکول کے طلبہ، اساتذہ، سماجی کارکنوں، قبائلی عمائدین اور سرکاری ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اسسٹنٹ کمشنرز اور تحصیلداروں نے ریلیوں کی قیادت کی۔ تحصیل زہری میں اسسٹنٹ کمشنر عبدالحفیظ کاکڑ، نال میں اسسٹنٹ کمشنر سلیم کاکڑ اور وڈھ و کرخ میں تحصیلدار نے ریلی کی قیادت کی۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم اور پلے کارڈز و بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر پاک فوج سے اظہار یکجہتی اور معرکہ حق کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ شرکاء نے پاک آرمی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے جرأت مندانہ اقدامات کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔نال میں ریلی کے شرکاء نے کہا کہ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں ملک کے دفاع اور سالمیت کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ معرکہ حق میں پاک فوج کے افسران و جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ قوم اپنی بہادر افواج کی خدمات پر فخر کرتی ہے۔زہری میں اسکول کے بچوں نے ریلی میں خصوصی شرکت کی۔ بچوں نے پلے کارڈز پر ”پاک فوج زندہ باد” اور ”ہمیں اپنی فوج پر ناز ہے” جیسے نعرے درج کر رکھے تھے۔ اساتذہ اور والدین کا کہنا تھا کہ نئی نسل کو افواج پاکستان کی قربانیوں سے آگاہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ پاک فوج سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے اور قدرتی آفات میں بھی ہمیشہ عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔وڈھ اور کرخ میں نکالی گئی ریلیوں میں سرکاری ملازمین اور قبائلی عمائدین بھی شریک ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا بھرپور جواب دیا ہے۔ معرکہ حق میں دشمن کو جس طرح منہ توڑ جواب دیا گیا اس نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ریلیوں کے شرکاء نے کہا کہ پاک فوج نہ صرف بیرونی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہے بلکہ اندرونی استحکام، سیلاب، زلزلے اور دیگر ہنگامی حالات میں بھی ہمیشہ سب سے آگے رہی ہے۔ بلوچستان کے عوام اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر محاذ پر افواج پاکستان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ریلیوں کے اختتام پر معرکہ حق کے شہداء کے درجات کی بلندی، ملک کی سلامتی اور پاک فوج کی مزید کامیابیوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
خبر نامہ نمبر3837/2026
سبی07مئی:۔ کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض نے ضلع سبی کے مختلف تعلیمی اداروں کا اچانک دورہ کرکے تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران گورنمنٹ گرلز و بوائز ہائی اسکول ریلوے کالونی، گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول الہ آباد، گورنمنٹ گرلز اسکول غریب آباد کے ہائی اور پرائمری سیکشنز جبکہ ڈویژنل پبلک اسکول کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔کمشنر اسداللہ فیض نے مختلف اسکولوں میں طلبہ و طالبات سے براہ راست ملاقات کی اور ان سے نصابی حوالے سے مختلف سوالات پوچھے۔ انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ بچوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی جائے اور کلاس روم میں تدریس کا معیار مزید بہتر بنایا جائے۔اس موقع پر کمشنر سبی ڈویژن نے اسکول انتظامیہ سے درپیش مسائل بھی تفصیل سے سنے اور یقین دہانی کرائی کہ تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں ضروری ترقیاتی کاموں کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3838
کوئٹہ 7 مئی: ـ پارلیمانی سیکرٹری برائے بہبود آبادی پرنس آغا عمر احمد زئی نے جمعرات کے روز بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے آفس کا دورہ کیا انہوں نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا تعلیم دوست وژن صوبے کی پائیدار ترقی کا عکاس ہے صوبائی حکومت ذہین اور مستحق طلباء کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے گی انہوں نے کہا کہ (بیف) ایک ایسا فلاحی ادارہ ہے جہاں صوبے میں ٹاپ کرنے والے طلباء کے ساتھ ساتھ شہداء کے بچوں ، ٹرانس جینڈر ، اور اقلیتوں کو اسکالرشپس کے مساوی مواقع فراہم کئے جاتے ہیں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہمیشہ تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھا ہے اور طلباء کو بھی اس اسکالرشپ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے انہوں نے سی ای او بیف کی پیشہ ورانہ قیادت کو سراہا اور امید کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ آئندہ بھی موثر اور بہتر کارکردگی جاری رکھے گا اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے بہبود آبادی پرنس آغا عمر احمد زئی کو چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے یادگاری شیلڈ بھی پیش کی ۔

خبر نامہ نمبر 2026/3842
کوئٹہ 7 مئی:سینٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاؤنٹیبیلیٹی کے زیر اہتمام بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے تعاون سے کوئٹہ میں ایک روزہ اہم سیمینار منعقد ہوا، جس میں ”بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے حق (رائٹ ٹو انفارمیشن) ایکٹ 2021 کی عملدرآمدی صورتحال اور درپیش چیلنجز” کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔سیمینار میں ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان، بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے کمشنر عبدالشکور، سی جی پی اے کی کوآرڈینیٹر مس رباب مختلف سرکاری محکموں کے پبلک انفارمیشن افسران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اعلیٰ سرکاری حکام اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔شرکاء نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 پر عملدرآمد کی موجودہ صورتحال، ادارہ جاتی رکاوٹوں اور معلومات تک عوام کی بروقت رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان نے کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ میں سول سوسائٹی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنقید برائے تنقید کے بجائے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مثبت تعاون کے ذریعے اس قانون کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت اور احتساب کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ اجتماعی قومی فریضہ ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے کمشنر عبدالشکور نے اپنے خطاب میں کمیشن کی کارکردگی، حاصل شدہ پیش رفت اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مؤثر رابطہ کاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید نظام کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔سی جی پی اے کوآرڈینیٹر مس رباب اے آئی ڈی بلوچستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عدیل جہانگیر اور میجر بہرام لہڑی نے کہا کہ اگرچہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، تاہم محدود ادارہ جاتی استعداد، معلومات کی فراہمی میں تاخیر اور عوامی سطح پر آگاہی کی کمی جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کیے بغیر اس قانون کے مکمل ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی تعاون، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے اور مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے بلوچستان میں شفافیت، جوابدہی اور معلومات تک عوام کی رسائی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3843
کوئٹہ7 مئی: ـچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے سے پولیو کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبے بھر میں پولیو کے خاتمے کی مہم کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت مکمل طور پر پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ مہم کے دوران حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں اور والدین کو ویکسینیشن کے فوائد سے آگاہ کریں۔ اس موقع پر صوبائی کوآرڈینیٹر ای او سی انعام الحق نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس کو بتایا گیا کہ پچھلے مہینے 8 جگہوں پر ماحولیاتی نمونے مثبت پائے گئے جو کہ باعث تشویش ہے اور اس سے پولیو پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ 18 مئی سے انسدادِ پولیو مہم شروع ہوگی جس میں 25 اضلاع میں 19 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اور 7699 ٹیم مہم میں حصہ لے گی۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیو کی روک تھام کے لیے مہم کو مزید بہتر بنایا جائے۔ اجلاس میں گزشتہ مہم کا جائزہ لیا گیا چیف سیکرٹری نے بہترین کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اجلاس کو ای پی آئی (روٹین ایمیونائزشن) کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ای پی آئی کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور ویکسینیٹرز کی حاضری ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے لی جا سکے گی اور ویکسینیشن مہم کو بھی ایپ کے ذریعے ٹریس کی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *