خبرنامہ نمبر3774/2026
کوئٹہ، 6 مئی ۔بلوچستان میں پائیدار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے جاری اسٹریٹجک منصوبے تیزی سے تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور مختلف شعبہ جات میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس امر کا اظہار چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پیپلز ٹرین سروس کے منصوبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اس کی بوگیاں مکمل طور پر تیار کر لی گئی ہیں جبکہ 14 اگست کو ٹرین آپریشن کے باقاعدہ آغاز کی توقع ہے، جو عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں بلوچستان بھر میں 2100 نئے کمیونٹی اسکول قائم کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 1 لاکھ 36 ہزار سے زائد آوٹ آف اسکول بچوں کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کیا گیا ہے۔صحت کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ روٹین ایمونائزیشن پروگرام میں بلوچستان نے دیگر صوبوں پر سبقت حاصل کر لی ہے اور 94 فیصد اہداف کامیابی سے حاصل کیے جا چکے ہیں، جو ایک اہم اعزاز ہے اجلاس میں توانائی کے شعبے میں بھی اہم اقدامات زیر غور آئے، خاص طور پر دور دراز اضلاع میں سستی بجلی کی فراہمی کے لیے آف گرڈ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں نجی شعبے کو شراکت داری کے لیے مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے ذریعے 50 فیصد تک کم لاگت بجلی کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے مختلف تجاویز بھی طلب کر لی گئی ہیں امن و امان اور شہری سہولیات کی بہتری کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے 8 اہم شہروں کو 30 جون تک سیف سٹی قرار دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے شہری سکیورٹی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے کی 900 یونین کونسلز میں 1255 فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کا منصوبہ جاری ہے، جس کی رفتار کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔نوجوانوں کی ترقی کے حوالے سے چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مزید 620 امیدواروں کا انتخاب مکمل کر لیا گیا ہے اور انہیں ورک ویزوں کا اجرا بھی کیا جا چکا ہے، جو نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم قدم ہے آبپاشی کے شعبے میں بھی مثبت پیش رفت جاری ہے، جہاں پانچ ڈیمز پر کام تیزی سے جاری ہے اور ان منصوبوں کی تکمیل سے 42 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی سیراب ہونے کی توقع ہے، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ توانائی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جبکہ بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے ترقیاتی عمل کو مزید موثر اور تیز بنایا جا رہا ہے۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقررہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3775/2026
کوئٹہ، 6 مئی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے حکومت ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت عملی اقدامات کر رہی ہے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے موثر فروغ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، معیار اور پائیداری کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس کے مثبت اثرات معیشت اور عوامی خدمات دونوں پر مرتب ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں صوبے میں پائیدار ترقی، توانائی کے موثر استعمال، ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور نجی شعبے کی شراکت داری کے فروغ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی اور مفادِ عامہ و ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جاری گرین اور پنک بس سروسز کو مرحلہ وار الیکٹرک بسوں میں تبدیل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا اس اقدام کا مقصد شہری ماحول کو آلودگی سے پاک بنانا اور عوام کو جدید، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرنا ہے توانائی کے شعبے میں کفایت شعاری اور متبادل ذرائع کے فروغ کے تحت چیف منسٹر سیکرٹریٹ کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کی منظوری بھی دی گئی جس سے نہ صرف اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ماحول دوست پالیسیوں کو بھی فروغ ملے گا۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان میں نجی شراکت داری کے تحت انشورنس کمپنی لمیٹڈ قائم کی جائے گی جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مالیاتی نظام کو مزید مستحکم کیا جا سکے گا اس سلسلے میں نجی شعبے سے باضابطہ طور پر پیشکشیں طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو تیز، موثر اور پائیدار بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے میں جدید انفراسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی کے لیے نجی شعبے کی مہارت اور سرمایہ کاری سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے کہا کہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ سے شہری آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی اور عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادکیا کہ توانائی کے متبادل ذرائع کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نجی شعبے کی موثر شمولیت سے نہ صرف معیشت کو استحکام ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے جو صوبے کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منظور شدہ منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور ان کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ عوام تک ان کے ثمرات جلد از جلد پہنچ سکیں۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے سی ای او ڈاکٹر فیصل سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3776/2026
بارکھان 6 مئی ۔ بارکھان میں پی پی ایچ آئی کا ماہوار جائزہ اجلاس دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی منعقد ہوا۔ ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی غلام رسول کھیتران نے بریفنگ دی۔اس موقع پر ضلع بھر کے بی ایچ یوز کے میڈیکل ڈاکٹرز نے شرکت کی۔اجلاس میں بنیادی مراکز صحت کی مجموعی کارکردگی، ادویات کی فراہمی، عملے کی حاضری اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران مختلف مراکز کو درپیش مسائل پر بھی غور کیا گیا اور ان کے حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ڈسٹرکٹ منیجر غلام رسول کھیتران نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی حاضری یقینی بنائیں اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بہتری پی پی ایچ آئی کی اولین ترجیح ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مراکز صحت میں صفائی ستھرائی، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کے ساتھ بہتر رویہ یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف بی ایچ یوز کی کارکردگی کا جائزہ لے کر آئندہ کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3777/2026
بارکھان :6مئی ۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بارکھان کے صدر شبیر احمد کھیتران کی سربراہی میں وکلاء کے ایک وفد نے کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وکلاء برادری کو درپیش مسائل بالخصوص ایڈووکیٹس کالونی کے لیے اراضی کی الاٹمنٹ کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وفد نے موقف اختیار کیا کہ وکلاء برادری کے لیے رہائشی کالونی کا قیام ایک دیرینہ مطالبہ ہے، جس سے نہ صرف وکلائکو سہولت میسر آئے گی بلکہ بار کے ادارہ جاتی استحکام میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ وفد نے بعض بنیادی شہری سہولیات، شاہراہوں کی حالت اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بھی کمشنر کے سامنے رکھے۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے وفد کے مسائل کو غور سے سنتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ایڈووکیٹس کالونی کے معاملے سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور وڑن کے مطابق وکلائ برادری کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور انصاف سے وابستہ طبقے کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کمشنر نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان رکھنی اور کوہِ سلیمان ڈویژن کی ترقی کے لیے ایک جامع وژن کے تحت کام کر رہی ہے، جس کا مقصد رکھنی کو ایک ماڈل شہر میں تبدیل کرنا، شہری سہولیات کی بہتری، بنیادی انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی فراہم کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3778/2026
قلات 6مئی ۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیر صدارت سبزی منڈی کے تاجران کو درپیش مسائل سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ سمیت سبزی فروشوں کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس میں سبزی منڈی میں سہولیات کی فراہمی درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی نے کہاکہ تمام سبزی فروش ہمارے بھائی ہیں انکے مسائل کا حل ہماری ذمہ داری ہے مگر سبزی فروش سبزی منڈی کے اصولوں کے مطابق کاروبار کریں تاجربرادری اور سبزی فروشوں کو ناجائز تنگ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائیگی سرکاری امور میں مداخلت کرنے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے جس نے جہاں دکان لی ہے وہ وہیں پر کاروبار کریگا منڈی کے گیٹ سے باہر اور اپنے جگہ کے علاوہ دوسری جگہ پر ریڑیاں کھڑے کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3779/2026
لورالائی6مئی۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے آج سول ہسپتال لورالائی کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ایمرجنسی وارڈ، او پی ڈی، لیبارٹری، میڈیکل اسٹور اور دیگر اہم شعبوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی کی صورتحال اور ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری کو بھی چیک کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت جاری کی کہ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ہسپتال میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے، ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور مریضوں کے ساتھ حسن سلوک کو ترجیح دی جائے۔ اس موقع پر سپروائزر ٹیچنگ ہسپتال ناصر اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور انہیں درپیش مسائل کے بارے میں دریافت کیا۔ مریضوں نے بعض شعبوں میں سہولیات کے فقدان کی نشاندہی کی، جس پر انہوں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ عملے کو مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری کیےاسسٹنٹ کمشنر نے اعلان کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جبکہ جلد ہی ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اعلیٰ حکام کو سفارشات ارسال کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3780/2026
نصیرآباد6 مئی ۔ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر انڈر ٹریننگ استامحمد عبدالقیوم اور ڈی ایس پی استامحمد داود خان کھوسہ نے چوکّی جمالی کا دورہ کیا، جہاں مقامی قبائل کی جانب سے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت زیرِ تعمیر پولیس چیک پوسٹ کے کام کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا دورے کے موقع پر انتظامیہ اور پولیس افسران نے مقامی عمائدین اور قبائلی نمائندگان سے تفصیلی ملاقات کی فریقین کے درمیان کھلی اور مثبت گفتگو ہوئی، جس میں مقامی تحفظات کو بغور سنا گیا اور موقع پر ہی باہمی مشاورت سے مسائل کا خوش اسلوبی سے حل نکال لیا گیا۔ اس موثر رابطہ کاری کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی تعمیر سے متعلق خدشات دور ہو گئے اور کام کی بحالی پر اتفاق کر لیا گیا واضح رہے کہ یہ چیک پوسٹ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر قائم کی جا رہی ہے، جو دونوں صوبوں کے درمیان نقل و حرکت کی موثر نگرانی کے ساتھ ساتھ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی مقامی افراد نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئےانتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوامی مشاورت کو ترجیح دیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے گی، تاکہ علاقے میں پائیدار امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3781/2026
استامحمد6مئی ۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا دورے کے دوران زیرِ تعمیر سرکٹ ہاوس استامحمد اور ڈی سی کمپلیکس کے تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگز استامحمد محمد یاسین چانڈیو نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ سردارزادہ فیصل خان جمالی کے پرائیویٹ سیکریٹری محمد بچل سومرو بھی ہمراہ تھےڈپٹی کمشنر نے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبوں کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ انہیں رواں مالی سال کے اندر مکمل کیا جا سکے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام کام مقررہ ٹائم لائن کے مطابق پائیہ تکمیل تک پہنچائے جائیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان کے وڑن کے تحت ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے ضلع میں انتظامی نظام مزید موثر ہوگا اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی آخر میں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنائیں تاکہ شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3782/2026
کوئٹہ 6مئی ۔صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ بلوچستان کے جاری کردہ ایک اطلاع کے مطابق پبلک اکاونٹس کمیٹی کے محکمہ صحت سے متعلق اجلاس، جو مورخہ 6 مئی 2026 کو منعقد ہونا تھا، جبکہ محکمہ جنگلات حکومتِ بلوچستان سے متعلق اجلاس، جو مورخہ 7 مئی 2026 کو طے شدہ تھا، ناگزیر وجوہات کی بنا پر موخر کر دیے گئے ہیں۔اطلاع میں مزید بتایا گیا ہے کہ مذکورہ اجلاسوں کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد ازاں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3783/2026
کوئٹہ 6 مئی ۔سینٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاو نٹیبیلیٹی کے زیر اہتمام بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے تعاون سے کوئٹہ میں ایک روزہ اہم سیمینار منعقد ہوا، جس میں “بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے حق (رائٹ ٹو انفارمیشن) ایکٹ 2021 کی عملدرآمدی صورتحال اور درپیش چیلنجز” کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔سیمینار میں ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان، بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے کمشنر عبدالشکور، سی جی پی اے کی کوآرڈینیٹر مس رباب مختلف سرکاری محکموں کے پبلک انفارمیشن افسران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اعلیٰ سرکاری حکام اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔شرکاءنے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 پر عملدرآمد کی موجودہ صورتحال، ادارہ جاتی رکاوٹوں اور معلومات تک عوام کی بروقت رسائی کو یقینی بنانے کے لیے موثر حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان نے کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ میں سول سوسائٹی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنقید برائے تنقید کے بجائے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مثبت تعاون کے ذریعے اس قانون کو مزید فعال اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت اور احتساب کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ اجتماعی قومی فریضہ ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے کمشنر عبدالشکور نے اپنے خطاب میں کمیشن کی کارکردگی، حاصل شدہ پیش رفت اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے موثر رابطہ کاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید نظام کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔سی جی پی اے کوآرڈینیٹر مس رباب اے آئی ڈی بلوچستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عدیل جہانگیر اور میجر بہرام لہڑی نے کہا کہ اگرچہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، تاہم محدود ادارہ جاتی استعداد، معلومات کی فراہمی میں تاخیر اور عوامی سطح پر آگاہی کی کمی جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کیے بغیر اس قانون کے مکمل ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی تعاون، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے اور موثر پالیسی اقدامات کے ذریعے بلوچستان میں شفافیت، جوابدہی اور معلومات تک عوام کی رسائی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3784/2026
گوادر۔ 6 مئی.۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمان خان نے آج مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا، جن میں گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت زیرِ تعمیر آئی سی ٹی (ICT) بلڈنگ، میرین ڈرائیو پدی زر بیچ پر شجرکاری مہم اور جی ڈی اے اسکول میں کرکٹ گراونڈ کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت جاری آئی سی ٹی بلڈنگ کا معائنہ کیا اور جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر قاضی کاشف نے منصوبے کی پیش رفت، تکنیکی پہلوو¿ں اور ڈیزائن سے متعلق بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ یہ منصوبہ گوادر کو ایک جدید اسمارٹ سٹی میں تبدیل کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اسمارٹ کنٹرول سینٹر، ڈیٹا مینجمنٹ اور ای گورننس جیسے جدید نظام قائم کیے جائیں گے۔ڈائریکٹر جنرل معین الرحمٰن خان نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم اور اسٹریٹیجک منصوبہ ہے، جس کی تکمیل اعلیٰ معیار اور مقررہ مدت کے اندر یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے شہری سہولیات، سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر بلدیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے گا، جبکہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل نے پدی زر بیچ کا دورہ کیا جہاں جی ڈی اے کے شعبہ ماحولیات کی جانب سے جاری شجرکاری مہم کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر انوائرمنٹ رسول بخش بلوچ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ساحلی علاقوں میں ریت کا جمع ہونا اور تیز ہواوں کے باعث اس کا سڑکوں پر پھیلاو ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے تدارک کے لیے شجرکاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا بلکہ ماحولیاتی بہتری اور سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ڈائریکٹر جنرل نے اس موقع پر کہا کہ درخت قدرتی رکاوٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے ریت کے پھیلاو کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گے، جس سے آلودگی اور ٹریفک مسائل میں کمی آئے گی۔ انہوں نے شجرکاری مہم کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس عمل کو مزید وسعت دی جائے اور عوامی شمولیت کے ذریعے درختوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ گوادر کو سرسبز اور ماحولیاتی طور پر مستحکم شہر بنایا جا سکے۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل نے جی ڈی اے پبلک ہائر سیکنڈری اسکول میں زیرِ تعمیر کرکٹ گراونڈ کا بھی معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ اسے جدید تقاضوں کے مطابق فٹبال گراونڈ کی طرز پر شاندار انداز میں تعمیر کیا جائے، تاکہ طلبہ و طالبات کو معیاری اور ہمہ جہت اسپورٹس سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3785/2026
دکی 6مئی ۔ دکی : ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان کا بلیک ٹاپ منصوبوں کا دورہ، عوام سے تعاون کی اپیل محمد نعیم خان نے شہر میں جاری بی ایس ڈی آئی کے تحت ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور مختلف سڑکوں پر جاری کاموں کا معائنہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے خصوصاً عدالت روڈ پر جاری بلیک ٹاپ کے کام کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو کام کے معیار کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اسد خان ترین اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے کہا کہ ترقیاتی کام عوام کی سہولت کے لیے کیے جا رہے ہیں، اس لیے شہری انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بلیک ٹاپ کا کام جاری ہو وہاں کم از کم تین دن تک ٹریفک کی آمدورفت بند رکھی جائے تاکہ کام بہتر اور پائیدار طریقے سے مکمل ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور بہتری کے لیے تمام سڑکوں پر دکانوں کو رنگ و روغن دینے کا پروگرام بھی ترتیب دے دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلیک ٹاپ ہونے والی سڑکوں پر اپنی دکانوں کے سامنے کم از کم چونا ضرور لگائیں، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے مزید رنگ و روغن کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ عوام ترقیاتی کاموں کی نگرانی کریں اور اگر کہیں بھی کام کے معیار میں کمی نظر آئے تو فوری طور پر آگاہ کریں، کیونکہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دکی شہر کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ عوام کو بہتر انفراسٹرکچر میسر آ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3786/2026
گوادر۔ 6 مئی ۔جی ڈی اے پبلک ہائر سیکنڈری اسکول میں یوم مزدور کے مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے، معین الرحمٰن خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ پرنسپل ڈاکٹر محمد مظفر نور، جی ڈی اے کے افسران، اساتذہ کرام اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے یومِ مزدور کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور معاشرے میں مزدوروں کے کردار کو اجاگر کیا۔ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یومِ مزدور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ آج ہم جس پرسکون ماحول اور خوبصورت عمارت میں بیٹھےہیں اور آپ تعلیم حاصل کررہے ہیں، یہ سب مزدوروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری روزمرہ زندگی کی ہر سہولت میں مزدوروں کی محنت شامل ہے، جو سخت گرمی اور سردی میں کھلے آسمان تلے کام کرتے ہیں، اس لیے ان کی عزت، حقوق اور احترام ہم سب پر لازم ہے۔انہوں نے طلبہ و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں، اس لیے تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور زندگی کے ہر شعبے میں مزدوروں کے احترام کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی ڈی اے اسکول گوادر کا ایک نمایاں اور معیاری تعلیمی ادارہ ہے، جہاں بہترین تعلیمی ماحول، نظم و ضبط اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اور ملک بھر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس موقع پر پرنسپل ڈاکٹر مظفر نور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکول میں اس وقت 50 سے زائد مزدوروں کے بچے فری اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کررہے ہیں اور مستقبل میں اس تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق اور ان کا احترام نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ قومی و بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھی ہماری ذمہ داری ہے۔تقریب میں طلبہ و طالبات نے یومِ مزدور کی مناسبت سے مختلف ٹیبلو اور تقاریر پیش کیں، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3787/2026
سبی 6 مئی ۔کمشنر سبی ڈویژ ن اسد اللہ فیض نے سبی کے مختلف بوائز اور گرلز اسکولوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو سمیت متعلقہ افسران بھی ہمراہ تھے۔کمشنر نے سب سے پہلے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول دہپال خورد کا دورہ کیا جہاں پرنسپل سے درپیش مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اسکول انتظامیہ نے اضافی کمروں کی تعمیر، ہائی سیکشن کی سولرائزیشن اور فلٹر پلانٹ کے مطالبات پیش کیے۔ اسی علاقے میں بوائز ہائی اسکول دہپال خورد کا بھی دورہ کیا گیا جہاں اسکول کی عمارت خستہ حالی کا شکار پائی گئی۔ اس کے بعد گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول عظیم خان گہرامزئی کا تفصیلی دورہ کیا گیا جہاں کمروں کی کمی کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں۔ اسکول انتظامیہ نے اضافی کمروں، ہال اور لیب کے مطالبات پیش کیے۔ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول غریب آباد میں چھتوں کی مرمت اور کمزور ڈھانچے کا مسئلہ سامنے آیا جہاں نئی عمارت کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر کمشنر اسد اللہ فیض نے کہا کہ تعلیم ہماری اولین ترجیح ہے اور طلبہ کو بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ڈی ای او عبدالستار لانگو کو ہدایت کی کہ تمام اسکولوں کے مسائل کی مکمل میپنگ کرکے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ان مطالبات کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جا سکے اور جلد از جلد حل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3788/2026
جعفرآباد6مئی ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے ضلع میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے جاری بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تحت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فیز ون واٹر کورس لائننگ منصوبے کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری ترقیاتی عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد کاظم لونی نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے پر پیش رفت، واٹر کورس کو پختہ بنانے کی افادیت، عوامی فوائد، درپیش تکنیکی و انتظامی چیلنجز اور واٹر چینل سے غیر قانونی طریقے سے پانی چوری کرنے والے عناصر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد پانی کے ضیاع کو روکنا، فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا اور شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے عوامی فلاحی وژن اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں بی ایس ڈی آئی اسکیم متعارف کروائی گئی ہے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں آب نوشی کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی شفاف تکمیل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ واٹر کورس اور واٹر چینل پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی سرکاری ملکیت ہیں، لہٰذا ان سے غیر قانونی طریقے سے پانی چوری کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ معیار اور رفتار کے مطابق مکمل کیا جائے جبکہ درپیش مسائل، تکنیکی رکاوٹوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے حکومتی مشن کو کامیاب بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا بدعنوانی ناقابل برداشت ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی تاکہ سرکاری وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3789/2026
استامحمد6مئی ۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا دورے کے دوران زیرِ تعمیر سرکٹ ہاوس استامحمد اور ڈی سی کمپلیکس کے تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگز استامحمد محمد یاسین چانڈیو نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ سردارزادہ فیصل خان جمالی کے پرائیویٹ سیکریٹری محمد بچل سومرو بھی ہمراہ تھےڈپٹی کمشنر نے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبوں کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ انہیں رواں مالی سال کے اندر مکمل کیا جا سکے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام کام مقررہ ٹائم لائن کے مطابق پائیہ تکمیل تک پہنچائے جائیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان کے وژن کے تحت ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے ضلع میں انتظامی نظام مزید موثر ہوگا اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی آخر میں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنائیں تاکہ شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3790/2026
استامحمد 6مئی ۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر انڈر ٹریننگ استامحمد عبدالقیوم اور ڈی ایس پی استامحمد داود خان کھوسہ نے چوکّی جمالی کا دورہ کیا، جہاں مقامی قبائل کی جانب سے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت زیرِ تعمیر پولیس چیک پوسٹ کے کام کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا دورے کے موقع پر انتظامیہ اور پولیس افسران نے مقامی عمائدین اور قبائلی نمائندگان سے تفصیلی ملاقات کی فریقین کے درمیان کھلی اور مثبت گفتگو ہوئی، جس میں مقامی تحفظات کو بغور سنا گیا اور موقع پر ہی باہمی مشاورت سے مسائل کا خوش اسلوبی سے حل نکال لیا گیا اس موثر رابطہ کاری کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی تعمیر سے متعلق خدشات دور ہو گئے اور کام کی بحالی پر اتفاق کر لیا گیا واضح رہے کہ یہ چیک پوسٹ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر قائم کی جا رہی ہے، جو دونوں صوبوں کے درمیان نقل و حرکت کی موثر نگرانی کے ساتھ ساتھ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی مقامی افراد نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئےانتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوامی مشاورت کو ترجیح دیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے گی، تاکہ علاقے میں پائیدار امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3791/2026
کوئٹہ 6مئی ۔اسپیکر صوبائی اسمبلی بلوچستان کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی سے ان کے دفتر میں Benazir Income Support Programme کے وفد نے ملاقات کی، جس میں صوبے میں جاری اقدامات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ڈائریکٹر جنرل ریجنل بی آئی ایس پی ڈاکٹر جلال فیض اور ڈائریکٹر جنرل انٹرنل آڈٹ رومانہ گل کاکڑ نے اسپیکر کو مستحق اور کمزور طبقات کے لیے جاری پروگرامز سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بے نظیر کفالت پروگرام، نشونما پروگرام، تعلیمی وظائف، رجسٹریشن و تصدیق، شکایات کے ازالے اور دور دراز علاقوں میں سروس ڈیلیوری سے متعلق اقدامات شامل تھے۔اس موقع پر اسپیکر نے پروگرام کی کوریج، مستحق خاندانوں کی سہولت، شفاف رجسٹریشن، خواتین کی رسائی اور شکایات کے نظام سے متعلق سوالات کیے، جن کے وفد نے جوابات دیے۔اسپیکر عبدالخالق خان اچکزئی نے بی آئی ایس پی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام کم آمدنی والے گھرانوں اور کمزور طبقات کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے سروس ڈیلیوری اور شفافیت مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈائریکٹر جنرلز نے اسپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی صوبے میں سروس ڈیلیوری اور عوامی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3792/2026
کوئٹہ6 مئی ۔ ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان کی زیرِ صدارت محکمہ تعلقاتِ عامہ کے ڈویژنل اور ضلعی افسران کا ایک اہم آن لائن اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبہ بھر کے ضلعی افسران کی کارکردگی اور محکمانہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ضلعی افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں محکمانہ سرگرمیوں، حکومتی منصوبوں کی تشہیر اور میڈیا کوریج سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر مختلف اضلاع میں جاری حکومتی ترقیاتی منصوبوں کی تشہیر کے حوالے سے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان نے کہا کہ محکمہ تعلقاتِ عامہ کا بنیادی مقصد حکومت بلوچستان کی عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات، ترقیاتی منصوبوں اور حکومتی سرگرمیوں کو موثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام افسران پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فرائض احسن انداز میں سرانجام دیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ حکومتی اقدامات کی موثر تشہیر کے لیے جدید ذرائع ابلاغ سے بھرپور استفادہ کیا جائے اور ویڈیوز، پوسٹرز، فیچر اسٹوریز اور اخباری مضامین کے ذریعے عوام تک درست اور بروقت معلومات پہنچائی جائیں تاکہ حکومتی کارکردگی بہتر انداز میں عوام کے سامنے پیش کی جا سکے۔ڈی جی پی آر نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے ماتحت عملے کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں اور محکمانہ فرائض میں غفلت یا کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظم و ضبط، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور بہتر کارکردگی ہی محکمہ کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔اجلاس کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائیں اور حکومتی ترقیاتی وژن کو موثر انداز میں اجاگر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3793/2026
کوئٹہ 6مئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیر صدارت ڈی ایچ اے کی زمین کی پیمائش میں درپیش تکنیکی مسائل کے حوالے سے ایک تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تحصیلدار کچلاک، متعلقہ پٹواریوں، ڈائریکٹر ڈی ایچ اے اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران زمین کی پیمائش، ریکارڈ کی درستگی، حدود کے تعین اور فیلڈ میں پیش آنے والی تکنیکی رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام ریکارڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے اور پیمائش کے عمل کو شفاف اور درست بنانے کے لیے باہمی رابطے کو مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور آئندہ کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3794/2026
تربت 6 مئی ۔یونیورسٹی آف تربت کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کے زیر اہتمام یونیورسٹی کے نو تعمیر شدہ اسمارٹ کلاس روم میں ریسرچ گرانٹ پروپوزل رائٹنگ کے موضوع پر ایک اہم لیکچر سیشن منگل کو منعقد کیا گیا۔اس سیشن میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامی عملے کے ساتھ ساتھ ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز نے بھی شرکت کی۔ سیشن کے ریسورس پرسن پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد شاہانی تھے، جو سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں بطور پروفیسر اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے ڈائریکٹر کام کررہے ہیں۔ وہ یورپ کے جامعات سے دو پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کر چکے ہیں، جن میں یورپی کمیشن کے تعاون سے ایراسمس منڈس اسکالرشپ کے تحت پی ایچ ڈی اور ناروے کی این ٹی این یو سے پوسٹ ڈاکٹریٹ شامل ہیں۔سیشن کے دوران ڈاکٹر جاوید احمدشاہانی نے تحقیقاتی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور معیاری ریسرچ گرانٹ پروپوزلز کی تیاری کے لیے ضروری مہارتوں کے بارے میں شرکائ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے پروپوزل لکھنے کے عملی پہلوجیسے آئیڈیا ڈیولپمنٹ، پروپوزل کی معیاری ساخت اور پروپوزل کو فنڈنگ اداروں کے معیار کے مطابق ڈھالنے کے لئے مفید اور عملی رہنمائی فراہم کی۔اپنے استقبالیہ کلمات میں تربت یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اورک، ڈاکٹر محمد یاسین نے کہا کہ یہ سیشن وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی سربراہی میں یونیورسٹی میں معیاری تحقیقی کلچر کے فروغ دینے اور اساتذہ و اسکالرز کو قومی و بین الاقوامی سطح پر تحقیقی منصوبوں کے حصول میں معاونت فراہم کرانے کی اورک کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اپنے پیغام میں اورک کی جانب سے اس اہم سیشن کے انعقاد کو سراہتے ہوئے سیشن میں بطور ریسورس پرسن شرکت کرنے پر پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد شاہانی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں اساتذہ اور محققین کو بین الاقوامی سطح پر فنڈڈ ریسرچ کے مواقع حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔سیشن کے اختتام پر نو قائم شدہ جدید اسمارٹ کلاس روم کا بھی باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ جدیدسمارٹ کلاس روم یورپی کمیشن کے مالی تعاون سے جاری ایراسمس پلس سی بی ایچ ای RAPID منصوبے کے تحت قائم کی گئی ہے، جس کی قیادت سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کر رہی ہے جبکہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد شاہانی اس منصوبے کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3795/2026
کوئٹہ 6مئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی واضح ہدایات کی روشنی میں شہر بھر میں دودھ فروشوں کے خلاف سخت کریک ڈاون جاری ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 56 افراد کو گرفتار جبکہ 12 دکانوں کو سیل کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) کوئٹہ محمد امیر حمزہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بتایا کہ شہر میں متعدد دودھ فروشوں نے ازخود دودھ اور دہی کی قیمتوں میں فی کلو 10 روپے تک اضافہ کر دیا تھا، جس کے باعث شہریوں کی جانب سے انتظامیہ کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے سخت احکامات جاری کیے کہ دودھ اور دہی کی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ نے مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول ٹیموں کے ہمراہ دودھ کی دکانوں، دہی فروشوں اور ڈیری شاپس کا معائنہ کیا۔ کارروائیوں کے دوران سرکاری نرخنامے آویزاں نہ کرنے، زائد قیمت وصول کرنے اور صفائی کے ناقص انتظامات پر متعدد دکانداروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے اور سرکاری نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے دودھ فروشوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری نرخناموں کی پابندی کریں، بصورت دیگر مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ اگر کوئی دکاندار سرکاری نرخ سے زائد قیمت وصول کرے تو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3796/2026
تربت6مئی ۔اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی کی زیرِ صدارت پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کیچ اور ڈیلٹا اسکول کے سربراہ کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں حال ہی میں عوامی شکایات پر اسکولوں کی تین مہینہ یکمشت فیسوں اور سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈیلٹا اسکول کے سربراہ مراد اسماعیل اور پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی کریم بخش سمیت دیگر نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں گرمیوں کی تعطیلات کے دوران اسکول فیسوں اور دیگر معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے ہدایت کی کہ اسکول انتظامیہ والدین کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے سہولت فراہم کرے جبکہ والدین کو بھی کہا گیا کہ وہ اپنے بچوں کے فیسوں کی مد میں واجبات اور بقایاجات بروقت ادا کریں تاکہ اسکولز متاثر نہ ہوں۔اسسٹنٹ کمشنر تربت نے واضح کیا کہ کسی بھی بچے کو فیس کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر امتحان میں بیٹھنے سے محروم نہ کیا جائے، تاکہ طلبہ کی تعلیم کا تسلسل برقرار رہے۔ مزید برآں، اجلاس میں نجی اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے پارکنگ، بجلی اور دیگر ضروری انتظامات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اسکول انتظامیہ اور والدین باہمی تعاون کے ذریعے تعلیمی نظام کو بہتر بنائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/3797
اسلام آباد 6 مئی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں فنی اور تکنیکی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار اور مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ گورنر نے ٹینگ انٹرنیشنل ایجوکیشن پاکستان کے سربراہ مسٹر سونگ جنگیونگ پر زور دیا کہ وہ سکل ڈویلپمنٹ کے حوالے سے پاکستان سے چین بھیجنے کیلئے جاری جدید مہارتیں سکھانے کے پروگراموں میں بلوچستان کا حصہ ضرور بڑھائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی معاشی و معاشرتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں سرمایہ کاری کرنے اور نوجوانوں کے استعداد کار بڑھانے سے عام شہریوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ملاقات میں اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا کہ تکنیکی تعلیم ملک اور صوبے کی اقتصادی ترقی کیلئے ایک نئی تبدیلی کی قوت بنے۔ گورنر نے چائنیز گلوبل پروفیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن اور نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اسلام آباد کے حکام کو کوئٹہ دورے کی باضابطہ دعوت دی اور صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے TANG انٹرنیشنل ایجوکیشن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر مسٹر منصور صدیقی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (Mr. Song Jingyong) کے ساتھ ٹینگ انٹرنیشنل ایجوکیشن پاکستان ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چائنا گلوبل پروفیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن گروپ کے نمائندے بھی موجود تھے۔
بعد ازاں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (NUTECH) کا دورہ کیا جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ واضح رہے کہ نیوٹیک (NAVTTC) کی چیئرپرسن گل مينه بلال اور پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ گورنر مندوخیل کو ادارے کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور مختلف شعبوں ، کلاسوں اور لیبارٹریز کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ آپ مستقبل کو اپنی گہری بصیرت کے ساتھ نئی نسل کو موجودہ مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق جدید مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے نئی راہیں متعین کرنے میں مدد اور رہنمائی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لے کر بلوچستان کے دور دراز اضلاع تک ہر جگہ امید کی کرن اور معاشی طور پر بااختیار ہونے کا حوصلہ پیدا ہو چکا ہے۔ ہماری معزز چیئرپرسن گل مینہ بلال ایک بصیرت والی خاتون کی متحرک قیادت کے بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ جب تعلیم جدید مہارتوں کے ساتھ مل جائے تو کامیابی کی بنیادیں مضبوط ہو جائیں گیں۔ آج کی تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں مہارت صرف ایک ذاتی فائدہ نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت ہے۔ ہم نوجوانوں کو پروفیشنل اور انڈسٹری سے متعلقہ مہارتوں سے لیس کر کے روزگار کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ ہمارا ہر نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ مہارت یافتہ بھی ہو۔
خبر نامہ نمبر 3798/2026
دکی 6 مئی: ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ضلع بھر کے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس پی دکی منصور احمد بزدار، 87 ونگ لورالائی اسکاؤٹس کے میجر علی رضا، اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی، مختلف مدارس کے ناظمین اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں مدارس کی رجسٹریشن کے جاری عمل، درپیش امور اور انتظامی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر دکی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس دینی و تعلیمی حوالے سے معاشرے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے ان کی BCRA سے رجسٹریشن کا عمل بروقت اور منظم انداز میں مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مدارس وفاق المدارس سے رجسٹریشن کرائیں یا نہ کرائیں، تاہم BCRA سے رجسٹریشن لازمی ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام مدارس کا مکمل اور مستند ڈیٹا جلد از جلد مرتب کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی قانونی، انتظامی یا دستاویزی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رجسٹریشن کے عمل میں شفافیت، باہمی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مدارس انتظامیہ بھی حکومتی اقدامات میں مکمل تعاون فراہم کرے تاکہ یہ عمل خوش اسلوبی سے پایۂ تکمیل تک پہنچ سکے۔
خبر نامہ نمبر 3799/2026
موسیٰ خیل06 مئ :ـڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول جلیل آباد کا دورہ کیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ڈپٹی کمشنر نے اسکول میں بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز II کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، اساتذہ کی حاضری اور دیگر انتظامی امور کا معائنہ کیا۔ انہوں نے جاری کام کی رفتار اور معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام منصوبے وقت پر مکمل کیے جائیں ڈپٹی کمشنر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “بچیوں کی تعلیم اور اسکولوں میں بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، اساتذہ اپنی حاضری اور تعلیمی معیار کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر 3800/2026
موسیٰ خیل06 مئ:ـڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز I کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے “حفاظتی بند جلیل آباد” کا تفصیلی دورہ کیا اور تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے جاری کام کی رفتار اور معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیدار کو ہدایات دیں کہ منصوبے کی تکمیل میں مٹیریل کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور اسے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ مقامی آبادی کو سیلابی ریلوں سے تحفظ مل سکے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا عوامی مفاد کے منصوبوں میں شفافیت اور اعلیٰ معیار ہماری اولین ترجیح ہے۔ جلیل آباد حفاظتی بند کا قیام علاقے کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے لہٰذا اس کی تعمیر میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انتظامیہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کر رہی ہے تاکہ سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3801
گوادر/جیوانی 6 مئی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ گوادر کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گنز میں ایک اہم کھلی کچہری (اوپن کورٹ) کا انعقاد کیا گیا، جس کی سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ نے کی۔
کھلی کچہری کا بنیادی مقصد بی ایس ڈی آئی کے تحت عوامی مطالبات اور تجاویز کی روشنی میں کمیونٹی ترقیاتی منصوبوں پر غور، عوامی شکایات کا براہِ راست جائزہ، مسائل کا فوری حل تلاش کرنا اور جاری ترقیاتی اسکیموں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ اس موقع پر بی ایس ڈی آئی فیز ون اور ٹو کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا، جبکہ عوامی رائے اور مقامی منتخب نمائندوں کی سفارشات کی بنیاد پر آئندہ بی ایس ڈی آئی فیز تھری میں شامل کیے جانے والے منصوبوں پر بھی مشاورت کی گئی۔
کھلی کچہری میں چیئرمین یونین کونسل گنز حاجی فیض محمد، وائس چیئرمین زاہد صالح، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالرحیم، محکمہ پی ایچ ای کے نمائندہ ساجد، ایڈووکیٹ جمیل احمد، انجینئر محمد سمیع، بی اینڈ آر کے نمائندہ خلیل احمد، تحصیلدار اعظم گچکی، ایس ایچ او یاسر علی اور کونسلر طارق وحید سمیت مختلف محکموں کے افسران اور مقامی عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر شہریوں نے اپنی عوامی شکایات کھل کر پیش کیں، جن میں پانی کی فراہمی میں قلت، توانائی بحران، تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، تعلیمی ہالز اور لیبارٹری آلات کی عدم دستیابی، پبلک لائبریری سے متعلق مسائل، حفاظتی دیوار کی تعمیر، منی ڈیم کی ضرورت، گنز تا کوسٹل ہائی وے سڑک کی تعمیر، صحت کی سہولیات میں بہتری، اور وائر نیٹ کے استعمال کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری جیسے اہم مسائل شامل تھے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ نے تمام مسائل کو بغور سنا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو موقع پر ہی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی شکایات کا بروقت ازالہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی، جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کھلی کچہریوں کا انعقاد حکومت اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جس سے نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مسائل کے حل میں بھی تیزی آتی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پیش کیے گئے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی۔کھلی کچہری میں شہریوں اور مقامی معتبرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔کھلی کچہری کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے گنز سمیت ضلع گوادر میں پائیدار ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔
خبر نامہ نمبر 3802/2026
دکی 6 مئی: ڈپٹی کمشنر دکی کی زیر صدارت ضلع میں غیر قانونی مائننگ کی روک تھام اور معدنی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 87 ونگ کے میجر علی رضا، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منصور احمد بزدار، اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی، انسپکٹر مائنز یار جان اور دیگرنے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی کان کنی کی صورتحال، اس کے تدارک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون سے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران غیر قانونی مائننگ سے قومی وسائل کو پہنچنے والے نقصان، ماحولیاتی اثرات اور حکومتی ریونیو میں کمی جیسے اہم امور پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر دکی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور ایسے مقامات کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق معدنی وسائل کے تحفظ اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کی مختلف ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں مزید مؤثر بنائیں گے جبکہ ضلع بھر میں چیکنگ اور نگرانی کے نظام کو بھی سخت کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی مائننگ کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 3803/2026
لورالائی06مئی:ـکمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایات پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محیب اللہ خان بلوچ نے سلاٹر ہاؤس لورالائی کا تفصیلی دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران صفائی ستھرائی، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں تاکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
چیف آفیسر میونسپل کمیٹی نے موقع پر موجود عملے کو ہدایت کی کہ سلاٹر ہاؤس میں صفائی ستھرائی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور تمام انتظامات کو بروقت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عیدالاضحیٰ کے ایام میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید برآں، بکرا منڈی (بکرا پیری) کے اطراف زمین کو ہموار کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی تاکہ قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے عمل کو سہل، منظم اور محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سہولیات کی فراہمی اور صحتِ عامہ کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3804
کوئٹہ 6 مئی :ـچیف سیکرٹری، بلوچستان شکیل قادر خان سے پاکستان ادار ہ شماریات اسلام آبا د کے وفد نے یہاں بدھ کے روز ملاقات کی۔ ملاقات میں آنے والے قومی سرویز، یعنی مینوفیکچرنگ کی صنعت شماری (CMI) 2025-24 20، چھوٹی اور گھریلو مینوفیکچرنگ انڈسٹریز (SHMI)سروے 2026 اور ڈویلپمنٹ آف پروڈیوسر پرائس انڈیکس(PPI) برائے مینوفیکچرنگ اور زرعی صنعت سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ اقدامات قومی اکاؤنٹس (2016-2015)سے (2026-2025) کی تبدیلی کے لیے اہم ہیں جواقتصادیات کے اعداد و شمار کو مضبوط کرنے، قومی اور بین الاقوامی ڈیٹا کی ضروریات کوپورا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گےشامل۔چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس(PBS) اسلام آبا د سے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ انہوں نے ان سرویز کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اہم تقاضوں، متوقع نتائج اور ڈیٹا اکٹھا کرنے اور نفاذ کے دوران پیش آنے والے ممکنہ چیلنجز پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں سیکرٹریز پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (P&D)، انڈسٹریز، زراعت، لیبر بشمول
زراعت، P&D، BOS، صنعتوں کے سینئر حکام اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران شامل تھے جبکہ بلوچستان کے تمام ڈویژنز کے کمشنرز نے بھی زوم کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت کے اس عزم کو اجاگر کیا کہ ڈیٹا کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے، بین الاداراتی رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے اور ان اہم معاشی سرویز کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔حکومتِ بلوچستان نے ان قومی اہمیت کے حامل سرویز کے کامیاب انعقاد کے لیے ہر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان نے متعلقہ سیکرٹریز کو صوبائی اور اضلاع کی سطح پر اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ ماہانہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ چیف شماریات، پی بی ایس نے بیورو آف سٹیٹسٹکس نے بلوچستان کے ملازمین کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مختلف قومی شماریاتی مشقوں میں تربیت کی پیشکش بھی کی۔
خبرنامہ نمبر2026/3805
خضدار 6 مئی :ـ یوم معرکہ حق “بنیان مرصوص” کی کامیابی پر ریلیوں کا انعقاد۔ ضلعی انتظامیہ خضدار کی جانب سے خضدار، وڈھ، زہری، نال اور کرخ تحصیلوں میں درج ذیل شیڈول کے مطابق یوم معرکہ حق “بنیان مرصوص” کی کامیابی پر ریلیوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر خضدار اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے علاقوں میں ریلیوں کی قیادت کریں گے۔ تمام سرکاری ملازمین کی شرکت لازمی ہے۔ عوام الناس سے بھی ان ریلیوں میں بھرپور شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔ وڈھ، نال، کرخ اور زہری میں مورخہ 7 مئی 2026 بروز بدھ، بوقت صبح 10:00 بجے جبکہ خضدار میں مورخہ 10 مئی 2026 بروز ہفتہ، بوقت صبح 11:00 بجے ڈپٹی کمشنر خضدار کی سربراہی میں ریلی ڈپٹی کمشنر خضدار کمپلیکس سے پریس کلب خضدار تک نکالی جائے گی۔








