خبرنامہ نمبر9056/2025
نصیرآباد03دسمبر2025:
نصیرآباد—ڈائریکٹر جنرل سپورٹس ڈاکٹر یاسر خان بازئی کے خصوصی احکامات پر ڈویژنل سپورٹس فیسٹیول کے سلسلے میں ڈیرہ مراد جمالی میں شاندار محفلِ موسیقی کا اہتمام کیا گیا۔ ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس فیروز علی ابڑو کی نگرانی میں محفلِ موسیقی کے بہترین انتظامات کیے گئے جہاں مقامی فنکاروں نے اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ بعد ازاں ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس فیروز علی ابڑو کی سربراہی میں ڈویژنل سپورٹس فیسٹیول کی مناسبت سے پرشکوہ آتشبازی کا انعقاد کیا گیا۔کافی دیر تک جاری رہنے والی دلکش آتشبازی نے آسمان کو رنگوں سے جگمگا دیا اور شہریوں کو تاریخی مناظر دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ نصیرآباد کی تاریخ میں پہلی بار اتنی طویل اور شاندار آتشبازی نے عوام میں خوشی کی نئی لہر دوڑا دی جبکہ سپورٹس بورڈ کی جانب سے شہریوں کو تفریحی اور مسرت بھرے لمحات فراہم کرنے کی کوششوں کو ہر سطح پر سراہا گیا۔
خبرنامہ نمبر9057/2025
لورالائی 4 دسمبر 2025:
میونسپل کمیٹی لورالائی نے شہر کی مجموعی صفائی اور نکاسیٔ آب کی بہتری کے لیے آج ایک اور بڑا اور قابلِ تعریف عملی قدم اٹھایا ہے۔ باچا خان چوک عقب پولیس لائن نالہ کی کامیاب صفائی کے بعد اب بخمہ محلہ، اڈا مارکیٹ اور سبزی منڈی کے مرکزی نالے کی مکمل مشینی صفائی کا وسیع آپریشن باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا۔
یہ کارروائی کمشنر لورالائی ولی محمد بڑیچ کے واضح احکامات اور چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر خان ناصر کی خصوصی ہدایات پر کی جا رہی ہے۔ آپریشن کی براہِ راست نگرانی چیف آفیسر محب اللہ خان بلوچ کر رہے ہیں، جنہوں نے صفائی مہم میں مزید تیزی اور مؤثر نتائج کے لیے تمام متعلقہ شعبوں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا ہے۔میدانِ عمل میں چیف سنیٹری انسپیکٹر نقیب اللہ موسی خیل، سپروائزر سلیم داد، منتخب کونسلرز ولی محمد، عمران بشیر اور میونسپل عملہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ہیوی مشینری کی مدد سے نالوں سے برسوں کا جمع شدہ ملبہ، پتھر، سیوریج ویسٹ اور کچرا نکالا جا رہا ہے۔ عملہ کے مطابق صفائی کا عمل رات دیر تک جاری رہے گا تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی زحمت نہ ہو اور سڑکوں کے اطراف ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔
شہریوں اور دکانداروں نے بلدیہ کی اس بروقت کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ تسلسل کے ساتھ جاری صفائی مہم نے شہر میں واضح تبدیلی پیدا کی ہے۔ عوامی رائے ہے کہ موجودہ انتظامیہ کی فیلڈ میں موجودگی، ذمہ دارانہ رویہ اور عملی اقدامات نے شہری خدمات کے معیار کو بہتر بنایا ہے۔ماہرینِ صفائی کے مطابق موجودہ آپریشن سے نہ صرف نکاسیٔ آب کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ monsoon اور بارشوں کے دنوں میں سیلابی صورتحال کے امکانات بھی کم ہوں گے۔ شہریوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ یہ مہم مستقل بنیادوں پر جاری رہی تو لورالائی جلد ایک صاف، منظم اور خوبصورت شہر کی شکل اختیار کر لے گا۔
خبرنامہ نمبر9058/2025
کوئٹہ: علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں جمعرات کو موسم خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ کوئٹہ، قلات، پشین، مستونگ، نوشکی، قلعہ عبداللہ، ژوب اور قلعہ سیف اللہ میں موسم نہایت سرد اور جزوی طور پر ابرآلود سے مکمل ابرآلود رہنے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ کے روز بھی صوبے کے زیادہ تر اضلاع میں موسم خشک یا جزوی طور پر ابرآلود رہے گا جبکہ کوئٹہ، قلات، پشین، مستونگ، نوشکی، چاغی، خاران، واشک، پنجگور، کیچ، قلعہ عبداللہ، ژوب اور قلعہ سیف اللہ میں شدید سردی اور ابرآلود موسم کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ژوب، قلعہ عبداللہ، مسلم باغ اور کان مہترزئی میں ہلکی بوندا باندی یا برف باری کے معمولی امکانات موجود ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور سرد جبکہ شمالی و شمال مغربی اضلاع میں رات کے وقت شدید سردی ریکارڈ کی گئی۔ زیارت میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ صوبے کے کسی بھی مقام پر بارش ریکارڈ نہیں ہوئی۔
خبرنامہ نمبر9059/2025
اُستامحمد: ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کا رورل ہیلتھ سینٹر گنداخہ کا تفصیلی دورہ اور طبی سہولیات کا جائزہ لیا واضح رہے کہ گزشتہ روز
ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی کے ہمراہ رورل ہیلتھ سینٹر گنداخہ کا دورہ کیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی نے تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور مجموعی انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں آنے والے مریضوں سے مختصر گفتگو کرکے انتظامات کے بارے میں ان کے تاثرات بھی معلوم کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری علاج، صاف ستھرا ماحول اور فوری طبی امداد کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے
ڈپٹی کمشنر نے میڈیکل اور انتظامی عملے کو ہدایت کی کہ وہ ڈیوٹی ٹائم کی سختی سے پاسداری کو یقینی بنائیں، جبکہ روزمرہ سروس ڈلیوری میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ مزید برآں، انہوں نے متعلقہ محکمے کو سینٹر میں موجود سہولیات، ضروری آلات، عملے اور ادویات کی کمی سے متعلق تفصیلی رپورٹ مرتب کر کے دفتر میں پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی
خبرنامہ نمبر9060/2025
کوئٹہ — صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ آنے والے تین برسوں میں پورے موسیٰ خیل میں سڑکوں کا ایسا جال بچھایا جائے گا جو علاقے کی ترقی اور عوامی آسانی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف فیتے کاٹنے سے ترقی نہیں ہوتی، اصل ترقی تب ہوتی ہے جب عوام کے مسائل کو سمجھ کر عملی اقدامات کیے جائے۔ ںسردارعبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ موسیٰ خیل کی عوام اب باشعور ہو چکی ہے اور وہ بخوبی جانتی ہے کہ ماضی میں یہ سڑکیں کیوں نہیں بنائی گئیں، اور اب اچانک تعمیرات کی رفتار کیوں بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “باتوں سے کچھ نہیں ہوگا، اب عملی کام دکھانا ہوگا۔“انہوں نے مزید کہا کہ جعفر قوم ان کے قریبی رشتہ دار ہیں، لیکن اس کے باوجود گزشتہ ادوار میں موسیٰ خیل میں صرف ’’دس کلومیٹر سڑک‘‘ دکھائی گئی، جس پر عوام نے حقیقتاً سفر کیا بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مفاد کے ہر منصوبے کو شفافیت اور رفتار کے ساتھ مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
خبرنامہ نمبر9062/2025
گوادر 04 دسمبر2025
یونیورسٹی آف گوادر کی سنڈیکیٹ کا پانچواں اجلاس پاک چائنہ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کے کانفرنس ہال میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان نے ایجنڈا آئٹمز پیش کیے، جن پر فورم نے تفصیلی غور و خوض کیا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے اہم تعلیمی، انتظامی اور مالی معاملات پر جامع بحث کی گئی۔ اس موقع پر سنڈیکیٹ نے گزشتہ اجلاس (منعقدہ 19 دسمبر 2024) کی کارروائی اور اس پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ کی منظوری دی۔ علاوہ ازیں، اکیڈمک کونسل اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے متعدد اجلاسوں کی کارروائی بھی منظوری کے لیے پیش کی گئی، جسے فورم نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔ سنڈیکیٹ نے یونیورسٹی کی ادارہ جاتی کارکردگی اور انتظامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری نئے اقدامات کی منظوری بھی دی۔ اس کے ساتھ متعدد اہم پالیسی دستاویزات پر غور کیا گیا، جن میں ایچ ای سی بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ (BUTA) کے نظرثانی شدہ فریم ورک اور اساتذہ کی تقرری کے لیے نئے تیار کردہ معیار کی منظوری، نیز اکیڈمک کونسل، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور دیگر کمیٹیوں کے فیصلوں کی توثیق شامل تھی۔ معمول کی کارروائی کے علاوہ اجلاس میں تعلیمی امور، انتظامی پیش رفت اور مالی معاملات سے متعلق فوری نوعیت کے مسائل پر بھی غور کیا گیا اور ضروری فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے تمام معزز اراکین کا شکریہ ادا کیا، خصوصاً حکومت بلوچستان کے سیکریٹری کالجز و ہائر ایجوکیشن کے نمائندے ڈاکٹر منصور احمد، جہانزیب مندوخیل، اور محکمہ خزانہ کے نمائندے بشیر احمد (جو آن لائن شریک ہوئے) کی قیمتی آراء اور مسلسل تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سنڈیکیٹ کے فیصلے یونیورسٹی آف گوادر کی ترقی، بہتری اور مستقبل کے لائحۂ عمل میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ اجلاس میں شریک اراکین میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد، رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر رحیم مہر، ڈائریکٹر فنانس رحمت اللہ، ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز، کامرس اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جان محمد، ڈین فیکلٹی آف سائنس، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر محب اللہ خان، اور ڈائریکٹر کیو ای سی ڈاکٹر رابعہ اسلم شامل تھے۔
خبرنامہ نمبر9063/2025
نصیرآباد04دسمبر2025:
نصیرآباد۔۔۔محکمہ ایریگیشن پٹ فیڈر کینال کے ایگزیکٹو انجینیئر فرید احمد پندرانی کی ہدایت پر ربیع کینال ٹو کے ٹیل کے کاشتکاروں کو زرعی پانی فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ چھتر ربیع پل آر ڈی 44 کے قریب پرانے سپر پیسج کو محکمے کی بھاری مشینری کے ذریعے توڑنے کا کام تیزی سے جاری ہے، جس کی وجہ سے زرعی پانی کی ترسیل میں درپیش رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں۔ محکمہ ایریگیشن کے مطابق سپر پیسج سے پانی کی روانی متاثر ہو رہی تھی، تاہم اس کی مکمل بحالی کے بعد ایک سے ڈیڑھ فٹ پانی کی ترسیل میں اضافے کی قوی امید ہے، جس سے ٹیل کے علاقوں میں پانی کی کمی پوری ہو سکے گی۔ فرید احمد پندرانی نے چھتر ربیع پل سے پتافی پل تک ربیع کینال ٹو میں پانی کی فراہمی کا خود جائزہ لیا، اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسر امان اللہ گاجانی بھی موجود تھے جنہوں نے انہیں محکمے کے جاری امور سے آگاہ کیا۔ ایگزیکٹو انجینیئر نے بتایا کہ چھتر ربیع پل سے پرکانی پل تک ان تمام زمینداروں کی پانی کی سپلائی بند کر دی گئی ہے جنہوں نے اپنی فصلوں کے لیے درکار پانی حاصل کر لیا ہے، تاکہ ربیع ٹو کے ٹیل کے کاشتکاروں کو ان کا جائز حصہ باقاعدگی سے فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ربیع کینال کے ہزاروں ایکڑ رقبے پر فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے محکمہ ایریگیشن اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ کاشتکاروں میں خوشحالی اور زرعی ترقی کو فروغ مل سکے۔ اس موقع پر ایس ڈی او سلیم بہرانی اور چیف داروغہ خدا بخش بہرانی بھی موجود تھے
خبرنامہ نمبر9064/2025
کوئٹہ، 04 دسمبر2025:
حکومت بلوچستان نے بیرونِ ملک بیٹھے کالعدم تنظیموں کے سربراہان، اہم کمانڈرز اور 300 سے زائد دہشت گرد عناصر کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ریڈ نوٹسز کے اجراء اور عالمی عدالتوں میں مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک غیر معمولی اور اہم نوعیت کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بیرونِ ملک موجود دہشت گرد رہنماؤں کے مقامی سہولت کاروں سے روابط، کال ریکارڈنگز، مالی معاونت اور دیگر شواہد مکمل طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم بی ایل اے، بی آر اے، بی ایل ایف، یو بی اے، بی آر جی اور لشکر بلوچستان کے سربراہان اور کمانڈرز کے خلاف درج مقدمات کی پراسیکیوشن کو تیز کرتے ہوئے تمام شواہد عالمی معیار کے مطابق ریکارڈ کا حصہ بنائے جائیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومت وفاقی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے تعاون سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹسز کی کارروائی میں تیزی لائے تاکہ دہشت گرد دنیا کے کسی بھی ملک میں قانون کی گرفت سے فرار نہ ہوسکیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی اب پروانشل ایکشن پلان کی گائیڈ لائنز کے تحت مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک بیٹھے سربراہان تک بھرپور اور فیصلہ کن انداز میں کی جائے گی انہوں نے محکمہ داخلہ بلوچستان کو ہدایت کی کہ ایکشن پلان کے تحت قائم خصوصی سیل کو مزید متحرک کیا جائے اور تمام حساس کیسز کی تحقیقات کے عمل کو تیز جائے اجلاس میں بیرونِ ملک دہشت گرد کمانڈرز اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف فوری، سخت اور بھرپور کریک ڈاؤن کی منظوری دی گئی حکام کی جانب سے پیش کردہ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی فنڈنگ، روابط، تنظیمی ڈھانچے اور عالمی سطح پر سرگرمیوں کے مستند شواہد حکومت کے پاس موجود ہیں جنہیں اب باضابطہ طور پر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی پیش کیا جائے گاوزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین پر خون بہانے والے کسی بھی دہشت گرد کو دنیا کے کسی کونے میں چھپنے نہیں دیں گے۔ دہشت گردی میں ملوث اندرون و بیرون ملک ہر عنصر کے خلاف مؤثر، سخت اور غیر معمولی کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ سیاسی لبادہ اوڑھے دہشت گرد تنظیموں کے بیرونِ ملک سربراہان اور کمانڈرز کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لانا ہماری ریاستی ذمہ داری ہے انہوں نے ہدایت کی کہ انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین کے تحت کارروائیاں تیز کی جائیں اور تمام شواہد کو بین الاقوامی قانونی تقاضوں کے مطابق پیش کیا جائے وزیر اعلیٰ نے تمام حساس مواد اور مرتب کردہ ریکارڈ کو وفاقی حکومت کے ذریعے عالمی اداروں، عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر بھی دہشت گرد قیادت کا محاسبہ کیا جائے گاانہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کا مکمل صفایا اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ دہشت گردی کے پیچھے غیر ملکی آقاؤں کے مقاصد بے نقاب ہو چکے ہیں بلوچستان مزید کسی بیرونی ایجنڈے کا شکار نہیں ہوگا ریاست پاکستان اور بلوچستان دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور آخری سہولت کار تک پیچھا جاری رہے گا بلوچستان کے امن، عوام کی حفاظت اور ریاستی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے شرکت کی
خبرنامہ نمبر 9065/2025
کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان کے محکمہ سیاحت ، کلچر آثار قدیمہ و آرکائیوز نے ملکی سطح پر ایک اور اہم اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ محکمہ نے دوسرے نیشنل ٹورازم ایوارڈز 2025 میں ایوارڈ آف ایکسی لینس حاصل کر کے صوبے کا نام مزید روشن کر دیا۔ یہ ایوارڈ ڈسکور پاکستان کی جانب سے پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PTDC) کے اشتراک سے منعقدہ تقریب میں دیا گیا۔
اس اعزاز کا مقصد بلوچستان میں سیاحت کے فروغ، ثقافتی اثاثوں کے تحفظ، اور مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لیے محکمہ کی انتھک کوششوں اور مؤثر پالیسی اقدامات کا اعتراف ہے۔سیکریٹری سیاحت ، کلچر ، آثار قدیمہ و آرکائیوز بلوچستان نے کہا کہ یہ کامیابی محکمہ سیاحت و آرکائیوز کی قیادت، افسران اور پوری ٹیم کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ، تاریخی مقامات کے تحفظ، اور کلچر کی ترقی اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایوارڈ صوبے کی سیاحتی صلاحیت اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا عکاس ہے۔
تقریب میں ملک بھر کے سرکاری و نجی اداروں، سیاحتی ماہرین اور بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی، جہاں بلوچستان کی سیاحتی استعداد، ثقافتی ورثہ اور امن و امان کی بہتری کو خاص طور پر سراہا گیا۔حکومتِ بلوچستان اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ صوبے میں پائیدار سیاحت، تاریخی ورثے کے تحفظ اور بین الاقوامی سطح پر بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے جائیں گے
خبرنامہ نمبر 9066/2025
کوہلو 04 دسمبر 2025:
ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر کبیر مزاری نے ڈیری فارم کوہلو کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے جانوروں کی صحت، خوراک کی فراہمی اور فارم میں موجود مجموعی انتظامی معاملات کا جائزہ لیا ہے اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف باڑوں کا معائنہ کرتے ہوئے جانوروں کی جسمانی حالت، دودھ کی پیداوار اور خوراک کے معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم ڈیری فارم انچارج اور عملے کو ہدایت کی کہ جانوروں کی نگہداشت اور خوراک کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں، جبکہ پانی کی بلا تعطل فراہمی اور صفائی پر خصوصی توجہ دی جائے اس موقع پر اے سی کبیر مزاری کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ ڈیری فارم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے معائنے کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ انتظامی اور پیداواری معیار میں مسلسل بہتری لائی جا سکے شہریوں کو صحت مند اور معیاری دودھ کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر 9067/2025
پشین۔04 دسمبر 2025۔ڈپٹی کمشنر منصور احمد قاضی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تحصیل برشور نوید احمد بلوچ کی سربراہی میں تحصیل پشین کلی ملکیار میں گزشتہ دو روز سے جاری منشیات کی ناسور کے خلاف گرینڈ آپریشن کے دوران 35 ایکڑ سے زائد آراضی پر غیر قانونی طور پر کاشت شدہ (بھنگ) کے تیار فصل کو تلف کر دیا گیا ہے جبکہ غیر قانونی کاشت کے خلاف آپریشن میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ایف،سی اور محکمہ ایکسائز نے مشترکہ طور پر حصہ لیا،بھنگ کی کاشت کے خلاف کارروائی کے دوران 30 افراد کو 4 شیڈول میں ڈالا جا چکا ہے،اور مزید کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی،منشیات کے ناسور کے خلاف کارروائی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر منصور قاضی کا کہنا تھا کہ عوام کے صحت اور جان کو خطرات لاحق کرنے والے تمام اقسام کے معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کرنا ہماری اولین ترجیحات کا حصہ ہے،جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،ڈپٹی کمشنر قاضی منصور نے مزید بتایا ہے کہ غیر قانونی فصل کے کاشت کاروں کے خلاف صوبائی سطح پر سخت پالیسی کے تحت کاشت کاروں کو شیڈول 4 میں اندراج کیا جائے گا،جبکہ ان غیر قانونی فصل کے کاشتکاروں کے خلاف ایف،آئی،آر درج کر کے کاشت شدہ زمینوں کو بحق سرکار ضبط کیا جائے گا،انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع پشین میں منشیات کی کاشت کے خلاف گرینڈ آپریشن اس ناسور کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر9061/2025
بارکھان 04 دسمبر 2025:
ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسو اور اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر نے لیویز تھانہ چچّہ کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا بنیادی مقصد علاقے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا اور لیویز فورس کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا تھا۔ڈپٹی کمشنر نے تھانے میں تعینات لیویز اہلکاروں سے گفتگو کی اور انہیں ہدایت جاری کی کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے فرائض انتہائی ذمہ داری، مستعدی اور بہترین نظم و ضبط کے ساتھ سرانجام دیں۔ انہوں نے اہلکاروں پر زور دیا کہ عوام کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے غفلت نہ برتی جائے۔ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسو نے مزید تاکید کی کہ لیویز فورس کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ناگہانی یا ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی واقعات کی فوری اطلاع متعلقہ حکام تک پہنچانا ضروری ہے تاکہ مناسب اور فوری حکومتی اقدامات ممکن ہو سکیں۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تھانے کے ریکارڈ، ڈیوٹی روسٹر، اسلحہ خانہ اور دیگر انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا اور سکیورٹی کے حوالے سے ضروری ہدایات دیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ امن و امان کے قیام اور لیویز فورس کی کارکردگی میں بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔دورے کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے لیویز اہلکاروں کی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ فورس آئندہ بھی اپنے فرائض بہتر طریقے سے ادا کرتی رہے گی۔
خبرنامہ نممبر9068/2025
بارکھان : پی پی ایچ آئی کی ایم آر ایم میٹنگ ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسو کی زیر صدارت منعقد ہوئی، جس میں ضلع بھر کے بی ایچ یوز/صحت مراکز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈی ایس ایم غلام رسول کھیتران نے پی پی ایچ آئی کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی، جسے ڈپٹی کمشنر نے سراہتے ہوئے کہا کہ غلام رسول کھیتران کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔جنہوں نے دن رات محنت کرکے تمام بی ایچ یوز کو فعال بناکر عوام کو بروقت صحت کی سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسو نے بی ایچ یو پیر بخش مہیانی کی کارکردگی کو بھی مثبت قرار دیتے ہوئے عملے کی محنت اور خدمات کو سراہا۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے اسٹاف کو اُن کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات بھی دیے گئے۔اجلاس کے شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر9069/2025
بارکھان 4دسمبر 2025): ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسو اور اسسٹنٹ کمشنر بارکھان نے ریونیو عملے کے ہمراہ مویشی منڈی رکھنی سے متصل سرکاری اراضی، واقع موضع بستی رحمتان نظر، تپہ رکھنی، تحصیل و ضلع بارکھان کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر عبد اللہ کھوسو نے موقع کا بغور جائزہ لیا اور ریونیو عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کا ناجائز قبضہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ سرکاری زمین کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے گی، اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے تحت فوری اور سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ تمام سرکاری زمینوں کی نشاندہی اور حد بندی کا عمل فوری مکمل کیا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ سرکاری وسائل اور زمینات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔
خبرنامہ نمبر9070/2025
کوئٹہ، 04 دسمبر 2025:
بلوچستان کے کھلاڑیوں کی عالمی مقابلے میں تاریخ رقم، سری لنکا میں ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں دو گولڈ میڈلز بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف پاور لفٹرز رشید خان جدون اور کاشف ریحان نے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منعقدہ ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈلز اپنے نام کر لیے۔ دونوں کھلاڑیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ خصوصاً بلوچستان کی پاور لفٹنگ کی تاریخ میں پہلا گولڈ میڈل جیت کر صوبے کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کردیا ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں دنیا بھر سے کھلاڑیوں نے شرکت کی، جن میں آسٹریلیا، کینیڈا، روس، نیپال، بھارت، سری لنکا سمیت مجموعی طور پر 58 ممالک کے ایتھلیٹس شامل تھے۔ سخت مقابلے کے ماحول میں بلوچستان کے دونوں نوجوانوں نے بہترین مہارت، غیر معمولی طاقت اور جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کو متاثر کیا اور سونے کے تمغوں پر قبضہ جمانے میں کامیاب رہے مسابقے کے اختتام پر کولمبو کے آئی جی پولیس نے تقریب تقسیمِ انعامات میں کاشف ریحان اور رشید خان جدون کو گولڈ میڈلز پیش کیے اور ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا واضح رہے کہ رشید خان جدون نے حال ہی میں قطر میں منعقدہ ایشن ماسٹر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کیا ہے رشید خان جدون اور کاشف ریحان فروری 2026 میں اسلام آباد میں ہونے والی ورلڈ اینڈ ماسٹر ایشین ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ماہرینِ کھیل کے مطابق بلوچستان کے کھلاڑیوں کی یہ کامیابی صوبے میں پاور لفٹنگ کے فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی اور مقامی نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھلیں گی
خبرنامہ نمبر9071/2025
کوئٹہ۔ محکمہ کمیونیکیشن ورکس، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ حکومتِ بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق ایم/ایس افلاح ایسوسی ایٹ پرائیویٹ لمیٹڈ جے وی این پی آئی کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ‘‘ کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے سرکاری ٹھیکوں کے حصول کے عمل سے 36 ماہ کے لیے ڈیبار کر دیا گیاہے۔حکم نامے کے مطابق کمپنی نے ’’سوی سے کشمور تک 53 کلومیٹر طویل بلیک ٹاپنگ روڈ‘‘ کے تعمیراتی کام کی بحالی میں دانستہ تاخیر کی، جس کے باعث بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیشن رولز 2017 کے تحت یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
خبرنامہ نمبر9072/2026
کوئٹہ۔محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان کے جاری کردہ ایک اعلامیہ کے مطابق صوبہ بھر میں کرسمس کی تقریبات کی مناسبت سے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ملازم اور پنشنرز کو دسمبر کی تنخواہیں 22 دسمبر کو پیشگی ادا کیے جائیں گے۔
خبرنامہ ننمبر9073/2025
کراچی، 04دسمبر:بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے ریجنل آفس کراچی میں بدر ایکسپو کے سی ای او زوہیر نصیر سے ملاقات کی، جس میں گوادر بزنس کانفرنس کی تیاریوں اور ان کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلال خان کاکڑنے کہا کہ گوادر بزنس کانفرنس پاکستان خصوصاً بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔ اس اہم تقریب کا مقصد ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور صنعتی ماہرین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے گوادر کی معاشی اہمیت، مواقع اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان بالخصوص گوادر خطے کی معاشی ترقی میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، اور بزنس کانفرنس کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ایسے مواقع سے روشناس کرایا جائے گا جو نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ BBoIT سرمایہ کاری کے فروغ، سہولت کاری اور جامع تعاون کی فراہمی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گا۔
خبرنامہ نمبر9074/2025
کوئٹہ 04 دسمبر2025:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈائریکٹر BEMIS، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ کے فنکشنل اور نان فنکشنل اسکولوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور موجودہ صورتحال کا بھرپور جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کنٹریکٹ اساتذہ کی پوسٹنگ اور تنخواہوں سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے تمام نان فنکشنل اسکولوں کا مکمل تجزیہ کرکے انہیں جلد از جلد فنکشنل کرنے کی واضح ہدایات جاری کیں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ان اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ ضلع میں تعلیمی نظام کو بہتر اور مؤثر بنایا جاسکے۔
خبرنامہ نمبر9075/2025
کوئٹہ،04دسمںبر2025:۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت چمن ماسٹر پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایم ڈی پی پی پی پی ڈاکٹر محمد فیصل، ڈپٹی کمشنر چمن، متعلقہ کنسلٹنٹ فرم کے نمائندوں اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں چمن ماسٹر پلان سے متعلق بزنس پلان، معاہدوں پر عملدرآمد، سہولیات کی فراہمی، کے پی از کی تکمیل اور آڈٹ رپورٹ کے حوالے سے پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ماسٹر پلان کا مقصد چمن شہر میں منظم شہری ترقی، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ، ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ فرم تین ہفتوں کے اندر تفصیلی بزنس پلان مرتب کرکے کمیٹی میں جمع کرائے گی، جبکہ ماسٹر پلان کے معاہدوں کی کاپیاں اور مکمل آڈٹ رپورٹ بھی جمع کروائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ منصوبے کے لیے لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم بزنس پلان مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔کمشنر کوئٹہ نے کہا کہ چمن ماسٹر پلان ایک انتہائی اہم ترقیاتی منصوبہ ہے، جس پر سنجیدگی کے ساتھ عملدرآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے کاروبار اور روزگار کے درجنوں نئے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ چمن شہر میں ٹریفک کا رش اور دباؤ مؤثر طور پر کم ہوگا۔کمشنر نے متعلقہ فرم کو ہدایت کی کہ وہ تین ہفتوں کے اندر مکمل بزنس پلان کے ساتھ کے پی از اور تجاویز سے متعلق سفارشات بھی پیش کرے،جس کے بعد پی پی پی موڈ کے تحت عملدرآمد کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔اس کے علاؤہ کمشنر کوئٹہ نے ڈپٹی کمشنر چمن کو ہدایت کی کہ وہ چمن شہر کے بس ٹرمینل اور سبزی منڈی کو ماسٹر پلان کے مطابق نئے مقام پر منتقل کرنے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے اجلاس منعقد کریں اور ان کو اعتماد میں لیتے ہوئے آئندہ لائحہ عمل تشکیل دیں۔اجلاس میں کمشنر نے تمام متعلقہ فرم کو منصوبے کی فنگشنل کرنے کے لیے مربوط اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھنے کی تاکید کی۔
خبرنامہ نمبر9076/2025
کوئٹہ 04 دستمبر2025۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت تاجران کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مرکزی انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ، جنرل سیکرٹری یاسین مینگل سمیت دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔ تاجران کی جانب سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو اپنے مسائل اور کاروباری علاقوں میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کے نظام کی بہتری اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت ٹریفک سسٹم کی بہتری کے لیے مختلف منصوبوں پر فعال انداز میں کام کر رہی ہے، جن میں الیکٹرک وہیکلز اور گرین بس سروس کے حوالے سے جامع حکمت عملی بھی شامل ہے۔کمشنر نے کہا کہ زرغون روڈ اور پرنس روڈ کی توسیعی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ متعلقہ منصوبوں کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کا اجراء کر دیا گیا ہے اور کوشش ہے کہ دسمبر کے آخر تک ان منصوبوں کو مکمل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نو پارکنگ زونز میں ریڑھیوں اور تجاوزات کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ شہر کی مرکزی کاروباری علاقے میں ٹریفک دباؤ کم کرنے کے لیے رکشوں کے داخلے پر پابندی اور انہیں زون وائز منظم کرنے کی پالیسی پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔کمشنر نے مزید کہا کہ لیاقت بازار کی صفائی کی بہتری کے لیے کوڑا دان نصب کیے جائیں گے جبکہ انجمن تاجران اور صفاء کوئٹہ کے درمیان بہتر کوارڈینیشن کے ذریعے کچرا اٹھانے کے اوقات کار اور نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لیاقت بازار میں ریڑھیوں اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنا کچرا سڑکوں پر پھینکنے کے بجائے کوڑا دان یا مقررہ جگہ پر رکھیں تاکہ صفائی کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں صفائی کی مجموعی صورتحال، تاجران کو درپیش مسائل، ٹریفک کے نظام کی بہتری اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے حوالے سے متعدد فیصلے کیے گئے اور متعلقہ محکموں کو ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
خبرنامہ نمبر9077/2025
کوئٹہ: پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اکیڈمی بلوچستان میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کامیاب ہونے والے زیرِ تربیت اسسٹنٹ کمشنرز اور سیکشن آفیسرز کے لیے اکاؤنٹنٹ جنرل (اے جی) آفس کی مجموعی کارکردگی اور مالیاتی امور کو سمجھنے کے متعلق ایک خصوصی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔اس سیشن کا مقصد نئے تعینات ہونے والے بی سی ایس (B.C.S) اور بی ایس ایس (B.S.S) افسران کو ان کے فرائض سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ اس تربیتی پروگرام میں ڈپٹی اکاؤنٹنٹ جنرل طارق عزیز لاسی نے زیرِ تربیت افسران کو اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کی ذمہ داریوں، صوبے بھر کے ملازمین کی پینشن، جی پی فنڈ کے ریکارڈ، دیگر اُمور اور اے جی آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان نصراللہ جان نے زیرِ تربیت بی سی ایس و بی ایس ایس افسران کو بلوچستان کی انتظامی و مالیاتی خدمات کے شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی، ایمانداری اور عوامی خدمت کے جذبے سے کام کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ زیرِ تربیت انتظامی افسران ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد فیلڈ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے تو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں اور موجود وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگی کے ہر موڑ پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ان چیلنجز سے کامیابی سے نمٹنا ایک کامیاب افسر کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔زیرِ تربیت افسران کے اس تربیتی سیشن کے کامیاب انعقاد پر بلوچستان سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر نذر محمد کاکڑ نے اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان نصراللہ جان، ڈپٹی اے جی طارق عزیز لاسی اور پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اکیڈمی بلوچستان کے ڈائریکٹر سید نصیب اللہ اغا کا شکریہ ادا کیا۔بی سی ایس و بی ایس ایس کے تربیتی پروگرام کے اختتام پر اکاؤنٹنٹ جنرل نصراللہ جان، بی سی ایس اے کے ڈائریکٹر نذر محمد کاکڑ اور پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اکیڈمی بلوچستان کے ڈائریکٹر سید نصیب اللہ اغا کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کیے گئے۔
خبرنامہ نمبر9078/2025
گوادر: نیب بلوچستان کے زیرِ اہتمام انٹرنیشنل اینٹی کرپشن ڈے کے موقع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا جس کا موضوع “Unite with Youth Against Corruption & Shaping Tomorrow’s Integrity” تھا۔ سیمینار میں طلبہ، اساتذہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر گوادر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس مکران رینج ڈاکٹر پرویز عمرانی اور ڈائریکٹر نیب ہارون الرشید تھے۔ مقررین نے بدعنوانی کے معاشرتی، معاشی اور اخلاقی اثرات پر روشنی ڈالی اور اس کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات کو اجاگر کیا۔
اپنے خطابات میں مقررین نے کہا کہ بدعنوانی ایک کینسر کی مانند ہے جو معاشرے کے ہر طبقے اور ہر ادارے میں سرایت کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پاکستان کرپشن کی وجہ سے ترقی میں پیچھے رہ گیا ہے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان دوسرے ممالک کو قرض دیتا تھا، لیکن آج عالمی مالیاتی اداروں کا محتاج ہے۔مقررین نے نشاندہی کی کہ اقربا پروری، مفاد پرستی، ملاوٹ اور میرٹ کی خلاف ورزی نے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ قرض کے بوجھ تلے آتا ہے، مگر قوم کو اس حقیقت کا مکمل شعور نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رزق اللہ نے پہلے ہی طے کر رکھا ہے، حلال یا حرام طریقے سے حاصل کرنے سے مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا—فرق صرف عزت اور ذلت کا ہوتا ہے۔
سیمینار میں بدعنوانی کے موضوع پر تیار کی گئی دو ڈاکیومنٹری فلمیں بھی دکھائی گئیں، جنہیں شرکاء نے دلچسپی سے دیکھا۔ تقریب کے اختتام پر گوادر کے تین نمایاں پوزیشن ہولڈر طلبہ میں نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔
اس موقع پر آفیشل مہمانوں نے پی سی ٹی وی آئی کے احاطے میں اینٹی کرپشن آگاہی واک میں بھی شرکت کی، جس کا مقصد نوجوانوں میں بدعنوانی کے خلاف شعور پیدا کرنا اور ایک شفاف، ایماندار اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کے لیے اجتماعی عزم کو فروغ دینا تھا۔
خبرنامہ نمبر9079/2025
تربت: سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کمشنر مکران اور دیگر حکام کے ہمراہ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ تعلیم عبدالغفور دشتی، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر تربت سٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ بہرام گچکی، پروجیکٹ انجینئر تربت ڈویلپمنٹ پروجیکٹ قاسم گچکی سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اسکول پہنچنے پر پرنسپل اکبر اسماعیل، اساتذہ اور طلبہ نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ پرنسپل اکبر اسماعیل نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت ضلع کیچ کا سب سے قدیم تعلیمی ادارہ ہے، جس کی بنیاد 1945 کے قریب رکھی گئی جبکہ موجودہ عمارت 1954 سے قائم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسکول میں تقریباً 1507 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جبکہ تدریسی عملے کی تعداد 54 ہے۔پرنسپل نے اسکول میں پارکنگ شیڈ کی تعمیر، بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے ٹرانسفارمر کی فراہمی اور طلبہ کے لیے واٹر ڈسپنسر کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اسکول کی لیبارٹری، امتحان ہال، کمپیوٹر لیب اور زیرِ تعمیر فٹ سال گراؤنڈ کا بھی معائنہ کیا۔بعد ازاں انہوں نے ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر تربت سٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ بہرام گچکی سے اسکول کے کلاس رومز اور واش رومز کی مرمت اور پانی کی فراہمی کے لیے انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک کی تعمیر پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسکول میں قائم ڈسپنسری کا بھی دورہ کیا اور وہاں موجود عملے سے ملاقات کر کے ان کے مسائل دریافت کیے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت نے ضلع کیچ میں تعلیم کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ آئندہ بھی تعلیمی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے پرنسپل اور اسکول انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ اسکول کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وہ ذاتی طور پر کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ ضلع کیچ سمیت پورے بلوچستان میں تعلیمی شعبہ مزید ترقی کر سکے۔
خبرنامہ نمبر 9080/2025
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت معیاری تعلیم کی فراہمی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے سکولوں میں مسنگ سہولیات کو پورا کرنے اور شیلٹر لیس سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے اور فلیگ شپ پروجیکٹس کے تحت 200 شیلٹر لیس سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے یہ کاوشیں صوبے بھر میں تعلیمی بحران کو کم کرنے، عوام کا اعتماد بحال کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم سکولز کی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور بچوں کے تعلیمی ماحول کو عصر حاضر کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ وہ جدید دور کی تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سکولوں میں ٹرانسپورٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں طلباء کے لیے 142 بسیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومت آئی ٹی اور سائنس لیبز ، ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں جدید سائنس اور آئی ٹی لیبز قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اس کے لیے اس سال 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کو عملی اور جدید تعلیم دی جا سکے، جس میں کمپیوٹر سائنس کے جدید آلات اور تحقیق کے مواقع شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں واش سہولیات کی فراہمی کے لیے 500 ملین روپے کے بجٹ سے پینے کے صاف پانی، ٹوائلٹس اور ہینڈ واش سٹیشنز کی تعمیر اور بحالی کی جارہی ہے، جس سے بچوں کے صحت و صفائی کے مسائل حل ہوں گے اور تعلیمی ماحول مزید محفوظ بنایا جائے گا۔ یہ اقدامات بلوچستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے کئے جا رہے ہیں، تاکہ صوبے میں شرح خواندگی اور معیار تعلیم دونوں میں نمایاں بہتری آئے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر انتظام 664 نئے سکولز قائم کئے گئے ہیں جس سے 43000 سے زائد بچوں کا داخلہ ممکن ہوا ہے۔
خبرنامہ نمبر 9081/2025
نصیرآباد۔جناح ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں وزیرِ اعظم یوتھ اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت رجسٹریشن کا عمل جاری ہے تفصیلات کے مطابق آج ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں نیویٹک (NAVTTC) کے تحت مفت ٹیکنیکل کورسز اور ان کی رجسٹریشن کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وزیرِ اعظم یوتھ اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور معاشی خودمختاری کی جانب اہم قدم ہے انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بروقت رجسٹریشن مکمل کریں کیونکہ نیویٹک کی جانب سے رجسٹریشن جاری ہے۔
تمام اہل امیدوار درج ذیل لنک کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کریں
Nsis.navttc.gov.pk
مزید وضاحت کی گئی ہے کہ تمام تربیتی کورسز مفت میں کرائے جائیں گے نشستیں محدود ہیں، اس لیے بروقت رجسٹریشن ضروری ہے اور
عمر کی حد 18 سے 40 سال تک آئی ٹی کورسز کے لیے کم از کم انٹرمیڈیٹ دیگر ٹیکنیکل کورسز کے لیے کم از کم میٹرک ضروری ہے ڈپٹی کمشنر نے والدین عمائدینِ علاقہ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کی رہنمائی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ افراد کو اس پروگرام میں شامل ہونے کی ترغیب دیں، تاکہ علاقے کے نوجوان بہتر مستقبل کی طرف بڑھ سکیں مزید معلومات یا رہنمائی کے لیے رابطہ کریں
03323257452 آصف علی
خبرنامہ نمبر 9082/2025
گوادر: ڈسٹرکٹ سپورٹ مینیجر (PPHI) ڈاکٹر مرشد دشتی نے یونین کونسل گھٹی ڈور اور شادو بند کے بنیادی صحت مراکز (BHUs) کا مانیٹرنگ اور فسیلیٹیشن دورہ کیا۔ دورے کا مقصد مراکز صحت میں فراہم کی جانے والی سہولیات، سروس ڈیلیوری اور عملے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یوز میں اسٹاف کی حاضری، او پی ڈی کے ریکارڈ، ای پی آئی سروسز، ٹیلی ہیلتھ کلینک، لیبر رومز اور دیگر ضروری شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے بہتری کے لیے ہدایات بھی دیں۔
دورے کے دوران پی پی ایچ آئی کی جانب سے دونوں بی ایچ یوز میں ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی تاکہ مریضوں کو بنیادی علاج معالجے کی سہولیات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
ڈاکٹر مرشد دشتی نے میڈیکل و نان میڈیکل اسٹاف کو ہدایت کی کہ مریضوں کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کریں اور تمام ریکارڈ کو باقاعدگی کے ساتھ اپڈیٹ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی صحت مراکز میں بہتری عوام کی فلاح کے لیے انتہائی ضروری ہے اور پی پی ایچ آئی کا مقصد لوگوں تک معیاری صحت سہولیات پہنچانا ہے۔
خبرنامہ نمبر 9083/2025
: کوئٹہ۔ جامعہ بلوچستان میں “ماحولیاتی مالی معاونت کے حصول کے لیے منصوبہ سازی: بلوچستان میں آبی سلامتی کے تناظر میں مربوط آبی وسائل کا انتظام ماڈیول III” کے عنوان سے تین روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ کا انعقاد فیکلٹی ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر نے یورپی یونین کے تعاون سے کیا۔
اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی تھے، جنہوں نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں اور ورکشاپ کے انعقاد کو سراہا۔ورکشاپ میں ، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر محمد شریف حسنی. ڈاکٹر محمد عرفان اور محمد اختر نورالامین کاکڑ موجودتھے۔ اس پروگرام میں جامعہ کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ کے ساتھ حکومت بلوچستان کے محکموں کے افسران نے بھی شرکت کی۔اختتامی خطاب میں وائس چانسلر نے کہا کہ بلوچستان کو موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے جدید تحقیق اور عملی تربیت ضروری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جامعہ بلوچستان مستقبل میں بھی ماحولیاتی استحکام اور آبی سلامتی سے متعلق تربیتی پروگرام جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر 9084/2025
نصیرآباد04دسمبر۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ کی قیادت میں شہر کی مین بازار میں تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران متعدد ریڑھیاں اور سندل ہٹاکر سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو تجاوزات سے پاک کیا گیا جبکہ شہر کے وسط میں واقع بس اڈے پر ریڑھی بانوں کے لیے مخصوص جگہ بھی مختص کی گئی۔ انتظامیہ نے ریڑھی بانوں کو سختی سے تنبیہ کی کہ مقررہ حدود سے تجاوز کی صورت میں نہ صرف ان کی ریڑھیاں ضبط کی جائیں گی بلکہ سامان بھی تحویل میں لیا جائے گا۔ تجاوزات کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا تھا جبکہ قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی میں بھی خلل پڑ رہا تھا جس سے مسافر سخت پریشانی سے دوچار تھے۔ آپریشن کے دوران چیف افیسر میونسپل کمیٹی سلیم خان ڈومکی کی ہدایت پر میونسپلٹی عملہ ٹریفک پولیس کے اہلکار۔بابو سید سجاد حسین شاہ پٹواری فاروق احمد سیال بھی موجود تھے۔اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے ریڑھی بانوں اور سڑک کنارے کاروبار کرنے والوں کو واضح ہدایت جاری کی کہ وہ ہر صورت ضلع انتظامیہ کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کریں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 9085/2025
تربت.ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کی نگرانی میں کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول جنوری سے شروع ہوگا کیچ میں اسپورٹس سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ فیسٹیول 5 جنوری 2026 کو بروز پیر شروع ہو گا اور 16 جنوری بروز جمعہ تک جاری رہے گا۔ اسپورٹس گالہ میں فٹبال، والی بال، کرکٹ، ایتھلیٹکس، ٹیبل ٹینس، میراتھن، وومن اسپورٹس اور باڈی بلڈنگ کے مقابلے شامل ہوں گے۔فیسٹیول کے پیٹرن ان چیف ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ ہوں گے۔ انتظامی امور کی نگرانی اے ڈی سی کیچ تابش علی کریں گے جبکہ فیسٹیول سیکریٹری کے فرائض التاز سخی کے سپرد کیے گئے ہیں۔ہر اسپورٹس کے لیے منیجر مقرر کیے گئے ہیں جن میں فٹبال کے سراج احمد، کیپٹن چاکر اور تاج بلوچ، کرکٹ کے عبدالرحیم اور شاہ دوست دشتی، والی بال کے ٹھیکدار ظریف، ایتھلیٹکس کے شعیب شیران، انڈور گیمز کے ڈاکٹر مظہر اور خواتین کے لیے فہمیدہ شامل ہیں۔ تمام منیجرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور 7 جنوری کے اجلاس میں تیاریوں اور ٹیموں کی تعداد سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فیسٹیول میں گوادر، چمن،کوئٹہ، لیاری اور چاہ بہار سے بھی ٹیموں کو مدعو کیا جائے گا۔ باہر سے آنے والی ٹیموں کو انتظامیہ کی جانب سے مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی جب کہ لوکل ٹیمیں اپنے انتظامات خود کریں گی۔ تمام کھیلوں میں کم از کم چار پول بنائے جائیں گے اور میچز لیگ سسٹم کے تحت کھیلے جائیں گے۔فیصلہ ہوا کہ 8 جنوری کو فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے ان کی منیجمنٹ کا اہم اجلاس ہوگا جس میں تمام ذمہ داران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ فٹبال لیجنڈز کی تصاویر بھی لائیں۔اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ اولمپکس کی طرز پر فیسٹیول کا کپ روزانہ ایک ٹیم یا گروپ کے پاس ہوگا۔ ایوارڈز میں صرف ونر اور رنر اپ کو گولڈ اور سلور میڈل جب کہ کامیاب ٹیموں کو ٹرافی اور کھلاڑیوں کو شیلڈ دی جائے گی۔باڈی بلڈنگ مقابلوں میں ویٹ لفٹنگ اور پوزنگ شامل ہوں گے جن میں تربت کے ساتھ ساتھ باہر سے بھی باڈی بلڈرز شریک ہوں گے۔ ان مقابلوں کا مقصد علاقے میں جم کلچر اور فٹنس ٹرینڈ کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گرلز سائیڈ کے تمام میچز گرلز ڈگری کالج میں منعقد کیے جائیں گے۔ ان میچوں کی نگرانی وومن کمیٹی اور فیسٹیول منیجمنٹ مشترکہ طور پر کرے گی۔ مزید یہ کہ گرلز مقابلوں کی ونر اور رنر اپ ٹیموں اور کھلاڑیوں کو علیحدہ ٹرافیاں اور میڈلز دیے جائیں گے تاکہ خواتین کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بھرپور انداز میں سراہا جا سکے۔می??راتھن ریس مینیجمنٹ کمیٹی، میڈیا اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے منعقد کی جائے گی جس میں ہر طبقے کے افراد کو شامل کیا جائے گا۔ میراتھن کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔فیسٹیول منتظمین کا کہنا ہے کہ کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول اس بار پہلے سے زیادہ منظم اور وسیع ہو گا، جس سے ضلع بھر کے نوجوان کھلاڑیوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ میں اسپورٹس سرگرمیوں کی فراوانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کا فروغ معاشرتی استحکام اور صحت مند ماحول کی جانب اہم قدم ہے۔ ڈی سی کیچ نے باڈی بلڈنگ اور جم کلچر کو علاقے میں تیزی سے مقبول ہوتا ہوا ایک مثبت رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ایونٹس نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کھیل کے ہر شعبے کی بھرپور سرپرستی کرے گی تاکہ کیچ میں مثبت سرگرمیوں کا سلسلہ مزید مضبوط ہو۔
خبرنامہ نمبر 9086/2025
کوئٹہ: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی زابد علی ریکی، فضل قادر مندوخیل، غلام دستگیر بادینی، صفیہ بی بی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری پی ایچ ای ہاشم غلزئی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل نورالحق، سیکرٹری ٹرانسپورٹ حیات کاکڑ، ایڈیشنل سیکرٹری اسمبلی سراج لہڑی، چیف اکاؤنٹس آفیسر PAC سید ادریس آغا اور ایڈیشنل سیکرٹری لاء سعید اقبال نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں، جاری اسکیموں، مالی بے ضابطگیوں اور آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔Mangi Dam پروجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ منگی ڈیم، جون 2022 میں مکمل ہونا تھا، جو کہ تاحال نامکمل ہے۔ اسکیم کے مطابق ڈیم کی منصوبہ ذیل ہے۔
منگی ڈیم روزانہ 8 ملین گیلن پانی فراہم کرے گا جبکہ، کوئٹہ شہر کی یومیہ ضرورت 60 ملین گیلن ہے شہر میں زیادہ تر پانی زیرِ زمین وسائل سے حاصل کیا جارہا ہے کمیٹی نے منصوبے کی تاخیر اور لاگت میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق:
منصوبے کی اصل لاگت: 9,334.078 ملین روپے
نظرثانی شدہ لاگت: 13,247.893 ملین روپے
اضافہ: 3,913.815 ملین روپے (42٪ اضافہ) اور 2025 میں مزید بڑھ کر تقریباً 19800 ملین تک پہنچ گیا۔ اور مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ اضافی کام، ناقص منصوبہ بندی اور غلط ڈیزائننگ کی وجہ سے ہوا ہے۔جس کی وجہ سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔
کمیٹی کو محکمہ کے سیکرٹری نے یقین دہانی کرائی کہ 31 مارچ 2026 تک منصوبہ مکمل کیا جائیگا۔ کمیٹی نے مذکورہ مدت میں منصوبہ مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔
اضافی مقدار کی ادائیگی سے 64.131 ملین روپے کا مالی نقصان
آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ پی ایچ ای کی مختلف ڈویژنز نے 2019–20 تا 2021–22 کے دوران مختلف ٹھیکیداروں کو ضرورت سے زیادہ مقدار کی ادائیگی کی، جس کے باعث 64.131 ملین روپے کا نقصان ہوا۔
آڈٹ نے بتایا کہ:
انجینئرنگ معیار اور قواعد کی خلاف ورزی کی گئی
سولر سسٹمز کے ڈیزائن میں ضرورت سے زیادہ واٹیج رکھا گیا
متعلقہ ڈویژنل افسران DAC اجلاسوں میں پیش نہیں ہوئے
کمیٹی نے محکمہ کو ہدایت کی کہ:
اضافی ادائیگیوں کی ریکوری یقینی بنائی جائے۔
سرکاری سولر سسٹم یا انورٹر چوری ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
کمیٹی نے اس پیرا کو مشروط طور پر سیٹل کر دیا تاہم محکمہ کو سخت ذمہ داری کا پابند بنایا گیا۔
واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی پر 975.816 ملین روپے کا بے ضابطہ خرچ
آڈٹ رپورٹ کے مطابق:
پی ایچ ای ڈویژن گوادر اور لسبیلہ نے 2018-19 میں 975.816 ملین روپے کی ادائیگیاں واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی کی سپلائی پر کی گئی جس میں سے، صرف ایک سال میں 956.989 ملین کی گوادر کے عوام کو ٹینکروں کے ذریعے پانی مہیا کی گئی۔ اس بارے میں، ریکارڈ، ڈلیوری شیڈول، تصدیقی تفصیلات اور MB کی درستگی دستیاب نہیں تھی۔ اگلے اجلاس میں تمام ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں یہ معاملہ نیب کو بھیج دیا جائے گا
ذمہ دار افسران DAC اجلاس میں پیش نہیں ہوئے
کمیٹی نے کہا کہ:اگر ہنگامی صورتحال تھی تو بی پیپرا یا کابینہ سے باقاعدہ منظوری لی جانی چاہیے تھی اگر خشک سالی تھی تو متعلقہ مراسلے کمیٹی کے سامنے پیش کیے جاتے
کمیٹی کی ہدایات
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے واضح کیا کہ:
محکمہ پی ایچ ای تمام منصوبوں کی تفصیلات، مالی ریکارڈ، ادائیگیوں اور آڈٹ اعتراضات پر 10 دن کے اندر مکمل ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو فراہم کرے
ریکوریاں جلد از جلد یقینی بنائی جائیں
ترقیاتی منصوبوں خصوصاً منگی ڈیم کو جون 2022 کو مکمل ہونا تھا اب مقررہ مدت مارچ 2026 میں مکمل کیا جائے
مالی بے ضابطگیوں پر مؤثر کارروائی کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت اقدامات اٹھائینگے۔
آئندہ اجلاس میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو مدعو کیا جائے۔ اجلاس کے آخر میں کمپلائنس رپورٹ پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی اور دوسری نشست میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 9087/2025
گوادر: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زراتون بی بی نے تحصیل پسنی اور اورماڑہ کے مختلف اسکولوں کا دورہ کیا اور طلبہ و اساتذہ سے ملاقات کے دوران اسکولوں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران معلوم ہوا کہ مڈل اسکول پنجگ اورماڑہ میں تقریباً 300 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لیکن اسکول میں صرف دو کلاس رومز موجود ہیں جبکہ دو کلاس رومز زیر تعمیر ہیں۔ طلبہ کلاس رومز کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جنہیں فوری طور پر مکمل اور فرنش کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کوہ بن اورماڑہ میں بھی تقریباً 300 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول کو جلد ہائی سکول میں اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ اسٹیشنری، پانی کی سہولت اور دیگر بنیادی ضروریات کی فوری فراہمی ضروری ہے۔دورے کے دوران گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اورماڑہ بھی دیکھا گیا، جہاں تقریباً 1000 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اسکول میں کتابوں کی کمی، خستہ حال عمارت اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث طلبہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بھی اسکول پہنچے اور اسکول کے مسائل کے حل کے لیے بجٹ میں فوری اقدامات کی ہدایت دی۔ گزشتہ سال کے مطابق اسکول کا بجٹ غیر فعال رہا تھا۔چھوٹے اسکولوں میں بھی طلبہ اور اساتذہ کافی فعال اور پرجوش ہیں۔ گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کلمت میں صرف 61 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ چار کلاس رومز زیر تعمیر ہیں۔ اسکول میں کتابوں، پانی اور واش روم کی سہولیات کی فوری ضرورت ہے اور انتظامیہ نے طلبہ کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔اسی طرح گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول حیدری گوٹھ میں 270 طلبہ صرف چار کلاس رومز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول کو فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فوری ضرورت ہے تاکہ طلبہ کے لیے تعلیمی ماحول بہتر بنایا جا سکے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زراتون بی بی نے دورے کے دوران اسکولوں کی ضروریات کو نوٹ کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور اسکول ہیڈز کو ہدایت دی کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کو بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9288/2025
گوادر/پسنی: اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر کے ہمراہ رورل ہیلتھ سنٹر (آر ایچ سی) پسنی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مرکز کی موجودہ سہولیات، طلبہ اور عملے کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا اور صحت کے شعبے میں جاری اور تکمیل شدہ تعمیراتی منصوبوں کا بھی معائنہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے مریضوں کی سہولیات، ادویات کی دستیابی، لیبارٹری اور دیگر صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ہیلتھ سنٹر کے عملے نے درپیش چیلنجز اور سہولیات کی کمی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے یقین دہانی کرائی کہ صحت کے شعبے میں بہتری اور مریضوں کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت دی جائے گی۔ انہوں نے زیر تعمیر منصوبوں کی رفتار بڑھانے اور مکمل ہونے والے پروجیکٹس کی بروقت فعال خدمات فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی۔
خبرنامہ نمبر9289/2025
کوئٹہ، 04 دسمبر۔ ضلعی انتظامیہ کا گیس کمپریسر مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 114 کمپریسر ضبط، 13 گرفتار، 6 دکانیں سیل، 5 افراد جیل منتقل۔ضلعی انتظامیہ کی خصوصی ٹیموں نے شہر میں گیس پریشر میں کمی کی بڑی وجہ بننے والے گیس کمپریسرز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔سب ڈویژن سریاب: اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ کی کارروائی، 24 کمپریسر ضبط، 5 دکاندار گرفتار کیا۔سب ڈویژن سٹی میں اسپیشل مجسٹریٹ عمران زیب کی کارروائی کرکے 65 کمپریسر ضبط، 5 افراد گرفتار، 4 دکانیں سیل، ملزمان جیل منتقل کردیا شہر کے دیگر علاقوں میں اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ کی کارروائی، 25 کمپریسر ضبط، 4 دکاندار گرفتار کرلیا۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گیس کمپریسر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر9290/2025
ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں ڈی پی او عبداللہ چیمہ اے سی چمن امتیاز علی بلوچ حساس اداروں کے آفیسرز، ایم ایس ڈاکٹر اویس، سیکیورٹی اداروں اور آل لائن ڈیپارٹمنٹس کے آفیسرز شریک تھے اجلاس میں تمام ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان نے ڈی سی چمن کو اپنی اپنی کارکردگی اور جاری ترقیاتی کاموں اور دیئے گئے اہداف کے حوالیسے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اجلاس میں ضلع چمن کی امن و امان، مجموعی سیکیورٹی کی صورتحال چمن شہر میں ٹریفک جام اور تمام اداروں میں جاری ترقیاتی کاموں پروگریس اور ایمپرومنٹ، تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضریوں اور ہیلتھ یونٹس میں ادویات اور حاضریوں کے حوالیسے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے انہوں نے کہا کہ افغان باشندوں کی احترام عزت و وقار کیساتھ اور اور الکے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داریوں میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم صحت عامہ روڈز غرضیکہ تمام اداروں اور ضلعی انتظامیہ اور عوام کے درمیان باہمی کوآرڈینیشن ضروری ہے اور مسائل اور مشکلات کے حل پر تمام متعلقہ محکموں کو غیر ضروری کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کا بروقت حل نکالا جائے انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور کوآرڈینیشن ناگزیر ہے لہٰذا تمام آفیسران علاقے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ملکر بھرپور کردار ادا کریں 3
خبرنامہ نمبر9291/2025
لورالائی (04 نومبر 2025) کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ اور ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی قیادت میں کمشنر کالونی میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کیا گیا۔کارروائی کے دوران سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات میں سے کئی کو مسمار کر دیا گیا، جبکہ دیگر مکینوں کو سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے ایک دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ کل تک اپنی تجاوزات ازخود ختم کریں۔ بصورتِ دیگر ضلعی انتظامیہ ازخود ان تمام ناجائز تعمیرات کو گرائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے موقع پر موجود میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے اور غیر قانونی تعمیرات شہر کے نظم و نسق اور ترقی میں رکاوٹ ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ کی اس مؤثر کارروائی کو عوامی حلقوں نے سراہا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے اقدامات تسلسل سے جاری رہیں گے تاکہ لورالائی شہر کو صاف، منظم اور قانون کے مطابق بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 9292/2025
کوئٹہ، 04 دسمبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تقرری پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے ملکی دفاع، قومی سلامتی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مدبّر، پروفیشنل اور اصولی قیادت نے پاکستان کو ایک مضبوط، باوقار اور عالمی سطح پر بااثر اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر ابھارنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز، بیرونی سازشوں اور پاکستان کے خلاف ہونے والی ہائبرڈ جنگ کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے میں پاک افواج نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی رہنمائی میں پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی دور اندیشی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور غیر متزلزل عزم نے ملک کے دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں کا دفاع کرنے والے ہر جوان کا اپنے سپہ سالار پر مکمل اعتماد، اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاک افواج کی قیادت ملک کو محفوظ اور مستحکم بنانے کے لیے پوری طرح یکسو ہے انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا وژن نہ صرف عسکری اصلاحات بلکہ قومی وحدت، داخلی استحکام اور یکجہتی کے فروغ میں بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے ان کی شخصیت پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام، سول حکومت اور ریاستی ادارے مکمل اتحاد کے ساتھ دفاعِ وطن کے لیے ایک صف میں کھڑے ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی عوام اور صوبائی حکومت پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن، ترقی اور مضبوط پاکستان کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا میر سرفراز بگٹی نے امید ظاہر کی کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا مستقبل مزید روشن، محفوظ اور مستحکم ہوگا اور قوم آنے والے برسوں میں دفاعی و قومی ترقی کے نئے باب رقم ہوتے دیکھے گی۔
خبرنامہ نمبر 9093/2025
کوئٹہ ، 04 دسمبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع شیرانی کے پہاڑی جنگلات میں لگی آگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری اور مؤثر کارروائی کی ہدایات جاری کی ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جنگلات قومی اثاثہ ہیں اور قیمتی قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے حکومت بلوچستان ہر ممکن اقدام اُٹھائے گی وزیر اعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ بشمول لیویز، پولیس فورس کے جوانوں، فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے تمام دستیاب وسائل، مشینری، ریسکیو عملہ اور ممکنہ معاونت فوری طور پر بروئے کار لائی جائے تاکہ نقصان کے پھیلاؤ کو ابتدائی مرحلے میں روک کر مؤثر اطفائی کارروائی کی جاسکے انہوں نے پی ڈی ایم اے بلوچستان کو خصوصی طور پر ہدایت کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ سے قریبی رابطہ رکھے اور ریسکیو آپریشن کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے مطلوبہ معاونت بلا تاخیر فراہم کرے







