31st-December-2025

خبرنامہ نمبر9813/2025
کراچی31دسمبر۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے نئے سال 2026 کے موقع پر پوری قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیا سال 2026 ہمارے لیے محض ایک نئے سفر کا آغاز نہیں بلکہ اپنے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے ایک نئی امید اور اپنے آپ کو سنوارنے کا بہترین موقع بھی ہے۔ جب میں اپنے تقریباً 40 سالہ طویل سیاسی کیریئر پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ذاتی طور پر زندگی کے متعدد نشیب و فراز یاد آتے ہیں جن کا میں نے مختلف ادوار میں کئی محاذوں پر سامنا کیا ہے۔ یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میڈیا کوریج اور تشہیر کے نقطہ نظر سے، سال 2025 میرے پورے سیاسی کیریئر میں سب سے زیادہ موثر اور اثر انگیز سال رہا ہے۔ بحیثیت گورنربلوچستان مخلتف ممالک کے سفیروں اور انترنیشنل وفود کے ساتھ ملک اور خطے کی ترقی و خوشحالی کیلئے ملاقاتوں کے علاوہ میرے مختلف سرکاری دورے بالخصوص روس اور چین کیلئے ہمیشہ میری زندگی کی سنہری یادیں رہیں گے۔ میں اسلیے بھی خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے حکومت اور عوام دونوں کی جانب سے میرے توقعات سے بھی زیادہ بہت عزت اور حوصلہ ملا۔ حکومتی حلقوں اور عوام کی جانب سے یہ حوصلہ افزائی اور عزت افزائی میرے لیے طاقت اور تحریک کے باعث ہیں اور میں اس اعتماد کیلئے سب کا شکر گزار ہوں جو میرے کندھوں پر رکھا گیا ہے۔ یہ ہم سب کیلئے فخر اور مسرت کی بات ہے کہ گزشتہ ایک سال میں ہمیں درپیش بےشمار چیلنجز کے باوجود ہم موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم پر ثابت قدم رہے۔ سال 2025 میں میری قابل فخر کامیابیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بحران کی حالت سے نکال کر ایک عروج پر پہنچانا ہے۔ ہماری انتھک کاوشوں، سخت نگرانی اور دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے تقریباً صوبے کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی رینکنگ اور اسکورنگ دوگنا ہو چکی ہے۔ یہ عزم مصمم کی طاقت، مدبرانہ قیادت اور بہتر مستقبل کیلئے مشترکہ وڑن کا ثبوت ہے۔ سردست ہم نے معاشی ترقی کو فروغ دینے، امن و سلامتی کو یقینی بنانے اور تمام شہریوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کیلئے مزید کوششیں کرنی ہیں۔ ہم بلاامتیاز تمام لوگوں کے روشن مستقبل کیلئے کام جاری رکھیں گے جہاں ہر فرد کو معیاری تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور اقتصادی مواقع تک رسائی حاصل ہو۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سب ملکر ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کے خواب کی تعبیر کیلئے نئی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ پروردگار ہمیں اپنے عوام کی مزید خدمت اور ملک و قوم کی حقیقی تعمیر و ترقی کیلئے خصوصی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Karachi, Dec 31: Governor Balochistan Jaffar Khan Mandokhel extended his heartfelt greetings to the entire nation on the occasion of New Year 2026. The New Year 2026 is not just the beginning of a new journey for us but also a new hope to ensure our bright future and a great opportunity to improve ourselves. When I look back on my nearly 40 years long political career, I personally remember the numerous ups and downs of my life that I have faced on many fronts in different periods. I consider it important to mention that from the media coverage and publicity aspect, the year 2025 has been the most effective & influential year in my entire political career. As Governor Balochistan, apart from meetings with ambassadors and international delegations of various countries for the development and prosperity of the country and the region, my various official visits, especially to Russia and China, will always remain golden memories of my life. I also consider myself fortunate enough that I received much respect and encouragement from both the government and the people beyond my expectations. This encouragement and respect from the government and the people are a source of strength and inspiration for me and I am grateful to everyone for the trust that has been placed on my shoulders. It is a matter of pride and joy for all of us that despite the innumerable challenges we faced in the past one year, we have remained steadfast in our commitment to building a better future for the present and future generations. One of my proudest achievements in the year 2025 is to bring all the public sector universities of Balochistan out of the state of crisis and to a peak. Due to our untiring efforts, strict monitoring and wise decisions, the ranking and scoring of almost all the government universities in the province have been doubled. This is a testament to the power of determination, thoughtful leadership and a shared vision for a better future. We must continue to make more efforts to promote economic development, ensure peace and security and provide equal opportunities to all citizens. We will continue to work for a bright future for all people without discrimination where every individual has access to quality education, healthcare and economic opportunities. I am confident that together we can achieve new success in fulfilling the dream of an educated and developed Balochistan. May Allah Almighty grant us special success for further service to our people and the true construction and development of the country and nation!
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9814/2025
کوئٹہ31 دسمبر ۔ : وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے نئے سال کی آمد کے موقع پر صوبے کے عوام اور پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سالِ نو محض کیلنڈر کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ یہ اپنی سوچ، کردار اور اپنے خوابوں کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا ایک قیمتی موقع ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ہم کس طرح ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزرے ہوئے ایام کی تلخیوں کو مستقبل کی رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے بلکہ ہمیں ماضی سے سبق اور مستقبل کو امید کی روشنی سے منور کرتے ہوئے، شکووں اور مایوسیوں کو پیچھے چھوڑ کر نئے عزم اور نئی ہمت کے ساتھ اپنی منزل کی جانب قدم بڑھانا چاہیے۔ منفی سوچ اور مایوسی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہوتی ہے، جسے صرف بلند حوصلے اور مسلسل محنت سے ہی گرایا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ نیا سال ہمیں ایک نئے عزم کے ساتھ وطنِ عزیز کی خدمت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بلوچستان کے عوام میں ہمت اور صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی تمام تر توانائیاں صوبے کی ترقی، تعلیمی شعور کی بیداری اور سماجی انصاف کے قیام پر صرف کریں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سال 2026ء میں صوبائی حکومت عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید تیزی سے مکمل کرے گی تاکہ عام آدمی کی زندگی میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آنے والے سال کوپاکستان خصوصاً بلوچستان کے لیے امن، سلامتی اور خوشحالی کا سال بنائے اور ہمیں اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانیت اور ملک کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta (December 31, 2025):The Advisor to the Chief Minister of Balochistan on the Department of Women Development, Dr. Rubaba Khan Buledi, while extending New Year greetings to the people of the province and the entire nation, stated that the New Year is not merely a change of the calendar but a valuable opportunity to reassess and reorganize our thinking, conduct, and dreams. She emphasized that, at both individual and collective levels, we must evaluate how we can play a positive role in building a better society.Dr. Rubaba Khan Buledi said that the bitterness of past days should not be allowed to become an obstacle to the future; rather, we should learn lessons from the past and illuminate the future with hope, leaving behind grievances and despair, and move toward our goals with renewed determination and courage. Negative thinking and hopelessness, she added, are the greatest barriers to the progress of any society, which can only be dismantled through high morale and consistent hard work.In her message, Dr. Rubaba Khan Buledi further stated that the New Year provides an opportunity to serve the beloved homeland with renewed commitment. The people of Balochistan possess immense courage and capabilities; what is needed is to channel all our energies toward provincial development, the promotion of educational awareness, and the establishment of social justice.She expressed the hope that in the year 2026, the provincial government will accelerate the completion of public welfare projects so that tangible improvements can be brought about in the lives of ordinary citizens. Dr. Rubaba Khan Buledi prayed that Almighty Allah may make the coming year a year of peace, security, and prosperity for Pakistan, particularly Balochistan, and grant us the ability to rise above personal interests and serve humanity and the country.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9815/2025
کوئٹہ 31 دسمبر۔محکمہ اطلاعات بلوچستان کے زیر اہتمام آج ضلع کوئٹہ کے ہاکرز کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کرنے کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب کا مقصد ہاکرز کی معاشی مشکلات میں کمی لانا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سیکریٹری اطلاعات بلوچستان عمران خان تھے۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان نور محمد کھیتران، ڈائریکٹر سعید احمد شاہوانی، ہاکر ایسوسی ایشن کے صدر، جنرل سیکریٹری میر احمد بلوچ اور دیگر عہدیداران کے علاوہ ڈی جی پی آر کے افسران اور عملے نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات عمران خان نے کہا کہ حکومت بلوچستان معاشرے کے کم آمدنی والے طبقے، بالخصوص ہاکرز کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاکرز شہر کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں اور روزمرہ ضروریات کی فراہمی میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ حکومت ہاکرز کو درپیش مسائل، بشمول روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ڈی جی پی آر نور محمد کھیتران نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ اطلاعات ہاکرز کے مسائل کے حل کے لیے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مستقبل میں بھی ایسے فلاحی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی معاونت سے ہاکرز کو نہ صرف فوری سہارا ملے گا بلکہ ان کے کاروبار میں بھی بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہاکرز انتہائی نامساعد حالات میں بھی محنت،ایمانداری اور نیک نیتی سے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں، جو معاشرے کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مرحلے میں ہاکرز میں موٹر سائیکلوں کی تقسیم کا پروگرام بھی تجویز کیا گیا ہے تاکہ ان کی نقل و حمل اور روزگار کے مواقع میں مزید آسانی پیدا ہو۔ اس کے علاوہ ہاکرز کے سالانہ فنڈز میں اضافے کے لیے بھی اعلیٰ حکام کو باقاعدہ سفارشات ارسال کی جائیں گی۔اس موقع پر ہاکر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری میر احمد بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان، سیکریٹری اطلاعات اور ڈی جی پی آر کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے ہاکرز کا حکومت پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور وہ پہلے سے زیادہ دلجمعی کے ساتھ اپنا کام انجام دے سکیں گے۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی سیکریٹری اطلاعات عمران خان اور ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز نور محمد کھیتران نے ضلع کوئٹہ کے ہاکرز میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کیے، جس پر شرکاءنے حکومت بلوچستان کے اس اقدام کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9816/2025
قلات 31دسمبر۔ڈپٹی کمشنرقلات منیراحمددرانی نے قلات اور خالق آباد کے نادرا دفاتر کا دورہ کیا۔دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے نادرا دفاتر میں دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کاجائزہ لیا اور قومی شناختی کارڈ کے اجراء کے طریقہ کار سے نادراحکام سے بریفنگ لی۔نادرا دفاتر کے انچارج نے ڈپٹی کمشنر کو شناختی کارڈ اجراء سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پرڈپٹی کمشنرنے نادراحکام سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور قلات کو نادرا حکام کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ عام لوگوں کو ان کی دہلیز پر سہولت میسر آسکیں۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ قلات اور خالق آباد کے نادرا دفاتر کے اسٹاف اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں اور عوام کے لیئے شناختی کارڈ کے حصول میں آسانیاں پیداکریں دوردراز کے علاقوں سے آئے ہوئے مردخواتین اورنوجوانوں کو شناختی کارڈ کے اجراء کا عمل ترجیحی بنیادوں پر بروقت مکمل کیا جائے تاکہ کسی بھی شہری کو مشکلات کاسامنانہ کرناپڑے۔نادرا دفاتر کے انچارج نے ڈپٹی کمشنر کو شناختی کارڈ اجراء سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر ڈپٹی کمشنرنے نادرا حکام سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اورتاریخی شہرقلات کو نادرا حکام کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ عام لوگوں کو ان کی دہلیز پر سہولت میسر آسکیں۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ قلات اور خالق آباد کے نادرادفاتر کے اسٹاف اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں اور لوگوں کے لیئے شناختی کارڈ کے حصول میں آسانیاں پیداکریں دوردراز کے علاقوں سے آئے ہوئے مردخواتین اورنوجوانوں کوشناختی کارڈاجراء کا عمل ترجیحی بنیادوں پر بروقت مکمل کیاجائے تاکہ کسی بھی شہری کو مشکلات کاسامنانہ کرناپڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Kalat Handout December 31Deputy Commissioner Kalat Munir Ahmad Durrani visited NADRA offices in the historical city of Kalat and Khaliqabad of Balochistan. During the visit, the Deputy Commissioner reviewed the facilities available in NADRA offices and the problems faced and took a briefing from NADRA officials about the procedure for issuing national identity cards.The in-charge of the NADRA office gave a detailed briefing to the Deputy Commissioner regarding the issuance of identity cards. On this occasion, the Deputy Commissioner, while talking to NADRA officials, said that Balochistan is the largest province in terms of area and the historical city of Kalat needs special attention from NADRA officials so that the common people can get facilities at their doorsteps.Deputy Commissioner Munir Ahmad Durrani said that the staff of NADRA offices in Kalat and Khaliqabad should further improve their performance and facilitate the people in obtaining identity cards. The process of issuing identity cards to men, women and youth coming from far-flung areas should be completed on time on priority basis. So that no citizen has to face difficulties.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9817/2025
نصیرآباد31دسمبر۔چیف انجینئر ایریگیشن کینالز ناصر مجید نے سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن نصیرآباد ڈویژن سرکل مدثر ظفر کھوسہ کے ہمراہ کچھی کینال کے جاری ترقیاتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر چیف انجینئر کو کچھی کینال کی آر ڈی 1183 سے آر ڈی 1322 تک جاری ترقیاتی امور کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینیئر غلام محمد بادینی بھی ہمراہ تھے جبکہ واپڈا کے حکام نے منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور درپیش امور پر تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ چیف انجینئر ایریگیشن کینالز ناصر مجید نے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری ایریگیشن سہیل الرحمن بلوچ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کچھی کینال سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واپڈا حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ منصوبہ مقررہ مدت میں اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل ہو سکے۔ چیف انجینیئر نے واضح کیا کہ کچھی کینال منصوبہ خطے کے کاشتکاروں اور کسانوں کے وسیع تر مفاد سے وابستہ ہے، اس لیے تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی اچانک دوروں کے ذریعے منصوبے کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا جاتا رہے گا تاکہ شفافیت، معیار اور رفتار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9818/2025
گوادر: پسنی 31دسمبر ۔ پسنی کے نواحی علاقے چر بندن کے مکینوں کے لیے خوشخبریگزشتہ پندرہ برسوں سے جاری پینے کے پانی کا سنگین مسئلہ بالآخر حل کر لیا گیا۔ علاقے میں واٹر سپلائی اسکیم کی بحالی کے بعد صاف پینے کے پانی کی فراہمی ممکن ہو گئی ہے۔پانی کی فراہمی کے اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (PHED) کے افسران اور عملے کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات ہی اصل خدمت ہیں۔یہ کامیابی رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی خصوصی توجہ، ایکسین پی ایچ ای مومن بلوچ اور پی ایچ ای پسنی کی پوری ٹیم کی مسلسل کاوشوں اور ذاتی دلچسپی کا نتیجہ ہے، جنہوں نے دن رات محنت کرکے اس اہم منصوبے کو پایہتکمیل تک پہنچایا۔منصوبے کے تحت پسنی ٹاو¿ن سے چ±ر بندان تک تقریباً 15 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی گئی، جس کے ذریعے علاقے کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ یہ منصوبہ صرف ڈھائی ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا۔پروجیکٹ کی تکمیل پر علاقے کے مکینوں نے گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، پی ایچ ای ڈی پسنی کی ٹیم اور متعلقہ افسران کا شکریہ ادا کیا۔ عوام نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی عوامی فلاح و بہبود کے ایسے منصوبے اسی جذبے اور خلوص کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9819/2025
لورالائی 31دسمبر ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل نے آج بروز منگل بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیو (BSDI) پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی اسکیمات کا تفصیلی دورہ کیااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم بلوچ اور متعلقہ اسکیموں کے ٹھیکیدار، انجینئرز اور متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لورالائی نے بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت زیرِ تکمیل منصوبوں میں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج واٹر سپلائی اسکیم، کلی باور ناصران میں واٹر فلٹریشن پلانٹ اور کٹوئی موڑ پر فٹ پاتھ کا معائنہ کیا۔انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار، رفتار اور اب تک کی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور موقع پر موجود انجینئرز سے تفصیلی بریفنگ بھی حاصل کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد اسماعیل مینگل نے اس موقع پر ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور تعمیراتی کام کی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی ہے، جس کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچنے چاہئیں۔انہوں نے ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ کام میں تیزی لائی جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ دورے کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ لورالائی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی نگرانی خود کر رہی ہے تاکہ سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے اور ضلع لورالائی میں ترقیاتی عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9820/2025
نصیرآباد31دسمبر۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت محکمہ ایریگیشن کے افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی، سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ، ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال غلام مصطفیٰ چانڈیو، سب ڈویژنل آفیسر پٹ فیڈر کینال امان اللہ گاجانی، سب ڈویژنل آفیسر ایریگیشن ڈرینیج ذیشان علی جمالی شریک ہوئے جبکہ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد، صحبت پور اور استامحمد نے آن لائن اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن مدثر ظفر کھوسہ نے پٹ فیڈر کینال، کیرتھر کینال، ایریگیشن ڈرینیج اور دیگر ذیلی شاخوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پٹ فیڈر کینال 206 کلومیٹر پر محیط ہے، پٹ فیڈر کینال کی 11 جبکہ کیرتھر کینال کی 13 شاخیں ہیں، اس کے علاوہ شاہی واہ سے اوچ شاخ، مانجھوٹھی شاخ اور اوچ لنک کے ذریعے بھی زرعی اراضی سیراب کی جاتی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ محکمہ ایریگیشن کی بدولت نصیرآباد ڈویژن بلوچستان کا گرین بیلٹ کہلاتا ہے تاہم غیر قانونی طریقوں سے پانی چوری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے، ربیع کینال، پٹ فیڈر کینال اور کیرتھر کینال کی جدید خطوط پر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے گا اور گوگل میپ کے ذریعے پانی چوری کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے گی، یہ اقدام کمانڈ ایریا کے حقدار زمینداروں کے وسیع تر مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی نے بھی نصیرآباد میں منعقدہ جرگے کے دوران کاشتکاروں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ کینال سسٹم کی مکمل بحالی اور حقدار زمینداروں کو زرعی پانی کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی، ڈویژنل انتظامیہ محکمہ ایریگیشن کے ساتھ مل کر تمام امور کو عملی شکل دے گی۔ کمشنر نصیرآباد نے مزید کہا کہ انتظامیہ کو بخوبی علم ہے کہ کن کن کینالوں اور ذیلی شاخوں سے غیر کمانڈ ایریا آباد کیا جا رہا ہے، اس کے تدارک کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، افسران پر لازم ہے کہ وہ کینالوں کی رکھوالی، نگرانی اور بحالی کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9821/2025
زیارت 31دسمبر ۔ ڈپٹی کمشنر محمد ریاض خان داوڑ کی زیرصدارت زیارت میں برف باری ونٹر کنٹینجینسی پلان کے سلسلے میں افسران کا اجلاس منعقد ہوااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سجادالرحمان، ڈپٹی کنزرویٹر حسیب کاکڑ،ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت منیر احمد ترین ایس ڈی قادر دمڑ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد صدیق دمڑ، ایس ڈی او شمیم الرحمن، ڈاکٹر عجب خان، تحصیلدار نوراحمد کاکڑ، سب انجینئر احسان اللہ نے شرکت کی اجلاس میں ڈپٹی کمشنر محمد ریاض خان داوڑ نے بی اینڈ آر کے افسران کو ہدایت کی کہ مین روڈ زیارت کی لنک روڈوں کو برف باری کے دوران کھلا رکھیں، ہسپتالوں کے انچارج کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں اپنے ڈاکٹر اور مددگار سٹاف کو الرٹ رکھیں، تمام افسران اپنے جائے تعیناتی پر موجود رہے اپنے مشینری کو مکمل الرٹ رکھیں عوام اور باہر سے آنے والوں سیاحوں کا خاص خیال رکھیں تمام افسران کو جو ذمہ داری سونپی گئی ہے ان کو ایمانداری سے ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9822/2025
کوئٹہ، 31 دسمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نئے سال کے آغاز پر صوبے کے عوام اور پوری قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سالِ نو بلوچستان میں امن، ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے نئے سفر کا آغاز ثابت ہوگا وزیر اعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا کہ نیا سال ہمیں خود احتسابی، قومی یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کا موقع فراہم کرتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت عوام کی فلاح و بہبود، نوجوانوں کے روشن مستقبل، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گزشتہ سال صوبے کو درپیش چیلنجز کے باوجود بلوچستان نے ترقی کے کئی اہم سنگ میل عبور کیے، نئے سال میں حکومت امن و امان کے استحکام، گڈ گورننس اور شفافیت کے فروغ کے لیے مزید مو¿ثر اقدامات کرے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور صوبے کے وسائل اور نوجوان صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھی جا رہی ہے انہوں نے دعا کی کہ نیا سال ملک و قوم کے لیے سلامتی، معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کا پیامبر ثابت ہو اور اللہ تعالیٰ پاکستان اور بلوچستان کو ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن رکھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9823/2025
لاہور31دسمبر۔صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) بلوچستان سردار عبدالرحمن خان کھیتران نے نئے سال 2026 کے موقع پر پوری قوم، بالخصوص بلوچستان کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ نیا سال نئی امیدوں، مثبت سوچ اور اجتماعی ذمہ داریوں کے ساتھ آغاز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے امن، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، معیاری تعلیم اور عوامی فلاح حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، جبکہ نوجوانوں کو تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے عوام سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نئے سال کی خوشیوں کے موقع پر ہوائی فائرنگ سے مکمل طور پر گریز کیا جائے، کیونکہ یہ ایک خطرناک اور قابلِ سزا عمل ہے جو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔ خوشی کا اظہار قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے تاکہ کسی گھر کا چراغ بجھنے نہ پائے۔صوبائی وزیر نے قدرتی آفات کے حوالے سے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نئے سال میں بلوچستان اور پورے ملک کو زلزلوں، سیلابوں، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات سے محفوظ رکھےانہوں نے دہشت گردی اور مختلف واقعات میں شہید ہونے والے جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدائ کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آخر میں سردار عبدالرحمن کھیتران نے دعا کی کہ نیا سال پاکستان اور بلوچستان کے لیے امن، خوشحالی، ترقی اور استحکام کا سال ثابت ہو اور وطنِ عزیز ترقی کی نئی منازل طے کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9824/2025
گوادر31دسمبر۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی صدارت میں ڈسٹرکٹ کمیٹی انسداد منشیات کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس افیسر ایس ایس پی عطا خان، ڈسٹرکٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افیسر مقبول بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عیسی بلوچ، سوشل ویلفیئر افیسر عبید اللہ بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر زائد حسین، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر شاہنواز بلوچ، پریس کلب کے صدر اسماعیل عمر، سول سوسائٹی، پرائیویٹ اسکولوں کے نمائندے جمیل قاسم اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ اس کمیٹی کا مقصد معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کے تمام شعبے—ایجوکیشن، ہیلتھ، سوشل ویلفیئر، سول سوسائٹی، صحافی برادری اور دیگر ذمہ دار افراد—مل کر منشیات کے خطرات کو معاشرے سے جڑ سے ختم کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ اس سے نہ صرف نوجوان بلکہ مستقبل کے معمار اور ملک کے سرمایہ بھی اس لعنت سے محفوظ رہ سکیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ڈرگ سنٹرز اور ریہبلیٹیشن سینٹرز کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ یہ انسداد منشیات کی مہم میں بھرپور تعاون کر سکیں۔ انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سے ڈرگ سنٹرز کی موجودہ حالت اور فعال ہونے والے مراکز کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور کہا کہ غیرفعال مراکز کو جلد فعال بنایا جائے گا۔ایس ایس پی پولیس عطا خان نے بتایا کہ محکمہ پولیس نے 11 دسمبر سے انسداد منشیات مہم کا آغاز کر دیا ہے جو 11 جنوری تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو تمام ضروری ڈیٹا فراہم کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے ڈرگ سنٹرز کے بجٹ، خالی پوسٹوں اور فعال مراکز کے حوالے سے حکام بالا کو بھی خط لکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے انسداد منشیات کے حوالے سے بھرپور کارروائی کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9825/2025
جعفرآباد31دسمبر۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد کاظم لونی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جعفرآباد ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی، ایس ڈی او ایریگیشن سید امجد شاہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بخشا خان رخشانی، ایس ڈی او لوکل گورنمنٹ رحمت اللہ جھکرانی سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران اور ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد نے ضلع بھر میں مختلف محکموں کی زیر نگرانی جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی پروگریس رپورٹس کا جائزہ لیا اور منصوبوں کی رفتار، معیار اور درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، کسی بھی منصوبے میں غیر ضروری تاخیر، غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں مو¿ثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور عوامی مفاد سے وابستہ منصوبوں میں شفافیت اور معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو گی اور ضلعی سطح پر جاری منصوبوں کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9826/2025
کوئٹہ31 دسمبر ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے نئے سال 2026 کے آغاز پر تمام اہل وطن کو مبارکباد پیش کی ہے، اپنے ایک پیغام میں میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ سال 2025 میں مجموعی طور پر بلوچستان اور پورے ملک کے حالات میں بہتری دیکھنے کو ملی جبکہ انہیں سال 2025 میں کچھ مثبت اور کچھ تلخ تجربات کا بھی سامنا کرنا پڑا، صوبائی وزیر نے کہا کہ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے حالات و واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی بہتری اور خوشحالی کیلئے سنجیدہ کوششیں کرے، انہوں نے کہا کہ نئے سال کی آمد پر ہمیں اپنے اس عزم کی تجدید کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی ذات اور اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر ملک و قوم اور صوبے کی تعمیر و ترقی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، میر محمد صادق عمرانی نے دعاءکی اللہ پاک سال نو 2026 کو امت مسلمہ اور خصوصاً بلوچستان و پاکستان کیلئے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال بنائے تاکہ ہمارا ملک پورے خطے میں افق کے چاند کی طرح روشن ہوکر پیام امن و سلامتی کا مرکز بن سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبرRecast.9815/2025
کوئٹہ31 دسمبر۔محکمہ اطلاعات حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام ہاکرز کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کرنے کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب کا مقصد ہاکرز کی معاشی مشکلات میں کمی لانا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سیکریٹری اطلاعات حکومت بلوچستان عمران خان تھے۔ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان نور محمد کھیتران، ڈائریکٹر سعید احمد شاہوانی، ہاکر ایسوسی ایشن کے صدر، جنرل سیکریٹری میر احمد بلوچ اور دیگر عہدیداران کے علاوہ ڈی جی پی آر کے افسران اور عملے نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری اطلاعات عمران خان نے کہا کہ حکومت بلوچستان معاشرے کے کم آمدنی والے طبقے، بالخصوص ہاکرز کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ حکومت ہاکرز کو درپیش مسائل، بشمول روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ڈی جی پی آر بلوچستان نور محمد کھیتران نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ اطلاعات ہاکرز کے مسائل کے حل کے لیے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مستقبل میں بھی ایسے فلاحی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی معاونت سے ہاکرز کو نہ صرف فوری سہارا ملے گا بلکہ ان کے کاروبار میں بھی بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہاکرز انتہائی نامساعد حالات میں بھی محنت،ایمانداری اور نیک نیتی سے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں، جو معاشرے کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مرحلے میں ہاکرز میں موٹر سائیکلوں کی تقسیم کا پروگرام بھی تجویز کیا گیا ہے تاکہ ان کی نقل و حمل اور روزگار کے مواقع میں مزید آسانی پیدا ہو۔ اس کے علاوہ ہاکرز کے سالانہ فنڈز میں اضافے کے لیے بھی اعلیٰ حکام کو باقاعدہ سفارشات ارسال کی جائیں گی۔اس موقع پر ہاکر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری میر احمد بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان، سیکریٹری اطلاعات اور ڈی جی پی آر کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے ہاکرز کا حکومت پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور وہ پہلے سے زیادہ دلجوئی کے ساتھ اپنا کام انجام دے سکیں گے۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی سیکریٹری اطلاعات عمران خان اور ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز نور محمد کھیتران نے ہاکرز میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کیے، جس پر شرکاء نے حکومت بلوچستان کے اس اقدام کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9827/2025
گوادر31دسمبر۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیومن رائٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایس ایس پی عطا خان، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عیسیٰ بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر شاہنواز بلوچ، آر سی ڈی سی کے صدر، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیومن رائٹس کمیٹی کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنا اور متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ذریعے ان مقامات کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے گا جہاں انسانی حقوق پامال ہونے کا خدشہ ہو، جن میں جیلیں، پولیس اسٹیشنز، کاروباری مراکز، زرعی زمینوں پر کام کرنے والے مزدور اور تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے محنت کش شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ مختصراً جہاں بھی لوگوں کو ان کے بنیادی اور آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہو، کمیٹی وہاں مانیٹرنگ کرے گی، حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی اور متعلقہ اداروں کو بروقت آگاہ کرے گی۔اجلاس کے شرکاءنے اس بات کی نشاندہی کی کہ ضلع گوادر میں یتیم خانہ اور دارالامان موجود نہیں، جن کے قیام اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جہاں کہیں بھی انسانی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی اطلاع یا احساس ہوگا، کمیٹی وہاں دورہ کرے گی اور متاثرہ افراد کی آواز بنے گی۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایس ایس پی عطا خان نے کمیٹی کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کمیٹی کی جانب سے باقاعدگی سے پیریڈک رپورٹس بھی تیار کی جائیں گی تاکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے اقدامات کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9828/2025
خضدار 31 دسمبر: ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے گورنمنٹ عہدیدار تاجران اور سیاسی رہنماوں کی ملاقات، عوامی مسائل پر تبادلہ خیال ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے اے ڈی سی خضدار رحمت اللہ بلوچ چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ، انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل، نیشنل پارٹی کے رہنمائ ایڈووکیٹ عبدالحمید بلوچ، ٹکری محمد بخش محمد زئی مینگل اور دیگر شخصیات نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران علاقائی مسائل، عوامی مشکلات اور دیگر حل طلب امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکائ نے ضلع خضدار میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، تجارت کے فروغ، عوام کو درپیش روزمرہ مسائل پر توجہ دلائی۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے شرکائ کی تجاویز اور شکایات کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ عوامی مسائل کے حل کے لیئے فوری اقدامات کیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیئے پرعزم ہے۔ملاقات میں موجود تمام رہنماوں نے ڈپٹی کمشنرخضدار کے تعاون کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کی ملاقاتوں سے علاقائی مسائل کا حل ممکن ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9829/2025
کوئٹہ 31 دسمبر۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی شہر کے مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول کے تحت قصابوں، دودھ فروشوں، جنرل اسٹوروں، ممنوعہ پلاسٹک تھیلوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اس سلسلے میں 110دکانوں کا معائنہ کیا گیا اورخلاف ورزی پر 23 افراد گرفتار جبکہ 15 افراد کو ایک مہینے کے لیے جیل بھجوادیا گیا اس کے علاوہ 08 دکانیں سیل ،30 غیر قانونی گیس کمپریسرزاور50 کلو گرام ممنوعہ پلاسٹک تھیلے ضبط کیے گئے تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے دوران سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی، ممنوعہ پلاسٹک تھیلوں کے استعمال اور غیر قانونی گیس کمپریسرز اور تجاوزات کا معائنہ کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر(سریاب) مصور احمد نے جتک سٹاپ، چالو باوڑی اور مشرقی بائپاس پر قصابوں اور جنرل اسٹوروں کے خلاف کاروائیاں کیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنر(کچلاک) احسام الدین کاکڑ نے کچلاک بازار میں بیف اور مٹن کے دکانوں اور جنرل اسٹوروں کے خلاف کاروائیاں کیں اس کے علاو¿ہ اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے سب ڈویڑن صدر میں پرائس کنٹرول اور تجاوزات جبکہ اسپیشل مجسٹریٹ ڈاکٹر عمران زیب نے نیو سبزل روڈ تجاوزات اورپرائس کنٹرول کاروائیاں کیں۔ضلعی انتظامیہ کو ئٹہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد کے لیے روزانہ کے بنیاد پر ضلعی انتظامیہ کاروائیاں کررہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ شہر میں کسی کو ناجائز منافع خوری کرنے نہیں دیگی۔ قصابوں، تندوروں، دودھ فرشوں، اور اسکے ساتھ ممنوعہ پلاسٹک تھیلے بیچنے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف بلا تعطل کاروائیاں کریگی۔ تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9830/2025
کوئٹہ :۔ 31دسمبر ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد طاہر نے کہا ہے کہ سالِ نو میں صوبے کے تمام اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر بالخصوص خطرناک گینگز ، عادی مجرمان اور منظم گروہوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن کو مزید سخت کیا جائے گا۔ صوبہ بھر میں منظم جرائم کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جائیںگے اور زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت سماج دشمن عناصر کو پابند سلاسل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پٹرولنگ ٹیمیں اپنے گشت کو مزید موثر بنائیںگی اور سٹریٹ کرائم سمیت ڈکیتی ، رابری ، قتل اور اغواءجیسے سنگین جرائم میں ملوث عادی و پیشہ ور مجرمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل پولیس آفس میںسال2025 کی کار کردگی کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیئے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر ز بلوچستان حسن اسد علوی اور اے آئی جی آپریشنز نوید عالم بھی موجود تھے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ تمام اضلاع کے سپروائزری افسران کو منشیات فروشی، ناجائز اسلحے اور صنفی جرائم کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کریں اور بڑے شہروں میں گاڑی و موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث منظم گروہوں کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے بعد مقدمات کے تفتیشی مراحل کو جلد از جلد مکمل کرتے ہوئے قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیںگے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سال نو کے آغاز کے حوالے سے اقلیتی برادری کے تقریبات کی سیکورٹی کے علاوہ ہوائی فائرنگ کی روک تھا م کے لئے تمام ایس ایس پیز ، ایس پیز اور تھانوں کی سطح پر واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ ہوائی فائرنگ پر پابندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہوائی فائرنگ کی زد میں کوئی قیمتی جان ضائع نہ ہو۔آئی جی پولیس بلوچستان نے بتایا کہ رواں سال کے دوران مختلف واقعات میںجن میں اسلحہ کے 1438کیسز رجسٹرڈ ہوئے 1447ملزمان گرفتار ہوئے جس میں 1483 پسٹل118,کلاشنکوف ،رائفل شارٹ گن 187،را?نڈز 39786 ،دھماکہ خیز مواد21.98کلوگرام اورمختلف اقسام کے1175 میگزینس پکڑے گئے ہیں۔منشیات کے حوالے سے 1507کیسز رجسٹر ڈ ہوئے اور 1589ملزمان گرفتار ہوئے ہیں منشیات میں چرس 3903.991کلو گرام ,آفیوم میں 1781.088کلوگرام ، ہیرون 20.55کلو گرام ,آئس شیشہ 252.448کلوگرام ، کرسٹال 2.391کلوگرام ,شیشہ570کلوگرام ، 4564شراب کے مختلف اقسام کی بوتلیںاور 3904بیر کین پکڑی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں سال رواں میں پولیس نے بلوچستان کے مختلف اضلاع سے 111 سے زائد چوری اور چھینی گئی گاڑیاں اور 880موٹر سائیکل برآمد کیے۔۔725مطلوب ملزمان ، 4799اشتہاری ملزمان ، 10عدالت سے سزا یافتہ ، اغواءبرائے تاوان 255ملزمان اور 14344جرائم پیشہ افراداور جرائم کی مختلف وارداتوں میں ملوث 103خطرناک گینگز گرفتار کیے گئیں۔ جبکہ پولیس مقابلے میں 74ملزمان مارے گئے اور پیش آور ملزمان سے چوری اور چینی گئی اشیائ جس میں ،69,722,555نقد رقم ، 286عدد موبائل، 35تولہ سونا برآمد کیا گیا ہیں اسی طرح121477لیٹر پیٹرول اور 234766لیٹر ڈیزل برآمد کر لے گئے جبکہ 1110پیٹرول پمپ سیل کر دیے گئے اور35438گاڑیوں سے کالے شیشوں کے خلا ف کاروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے یکم جنوری سے دسمبر تک 249206 گاڑیوں کو چالان کرکے ان سے 16 کروڑ 86 لاکھ 45ہزار 176روپے جرمانہ وصول کیا۔موٹر وہیکل ایکٹ 550 کے تحت 1868 گاڑیاں اور 21462موٹر سائیکلیںقبضے میں لے لیے گئے۔ دہشت گردی کے 863مختلف علاقوں میں واقعات ہوئے ہیں جس میں 325سنگین واقعات اور 538معمولی واقعات ہوئے ہیں ان واقعات میں 403افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ 796زخمی ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں پولیس نے 81دہشت گرد وں کو ماردیے گئے ہیں۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ محکمہ پولیس میں بھرتیوں کا سلسلہ میرٹ اور کسی دبا? کے بغیر جاری ہے۔ملک میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق رپورٹنگ مدت کے دوران دہشت گردی کے 1052 واقعات پیش آئے، جو گزشتہ مدت کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ان واقعات میں 396 بڑے اور 656 چھوٹے حملے شامل ہیں، جن کے نتیجے میں 537 افراد شہید اور 1056 زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران 89 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الحرام کے خلاف 2702 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ حکومت بلوچستان کے مطابق پولیس اور اے ٹی ایف کی استعداد کار بڑھانے، تربیت، انفراسٹرکچر، فلاحی اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔پولیس نے مقامی آبادی سے روابط مضبوط کرتے ہوئے علاقوں کی مضبوط دفاعی پوزیشننگ اور سیکیورٹی انتظامات بہتر کیے ہیں۔ حساس علاقوں میں پولیس کی موجودگی میں اضافہ کیا گیا ہے۔حکومتِ بلوچستان نے امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس اور اینٹی ٹیررازم فورس (اے ٹی ایف) کی استعداد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ سیکیورٹی کو موثر بنانے کے لیے اے ٹی ایف، بلٹ پروف گاڑیاں، آرمڈ پرسنل کیریئرز اور بھاری ہتھیار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ اہلکاروں کی تربیت، فلاح و بہبود اور احتساب پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اے ٹی ایف کی نفری 1,453 سے بڑھا کر 3,000 کی جا رہی ہے اور اہلکاروں کے الاونسز میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ بلوچستان بھر میں 81 پولیس تنصیبات کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اے ٹی ایف ہیڈکوارٹر کی تعمیر مارچ 2025 تک مکمل کی جائے گی۔پولیس نے حالیہ عرصے میں مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کو ناکام بنایا، جبکہ سال 2025 کے دوران ہائی پروفائل حملوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے بتایا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔بلوچستان حکومت نے پولیس اور اینٹی ٹیررازم فورس (ATF) کی استعداد کار میں نمایاں اضافہ کیا ہے تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم کی جا سکے۔ حکام کے مطابق، اہلکاروں کی فلاح و بہبود، جدید تربیت، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔پولیس اور ATF کے اہلکاروں کی بہادری اور موثر جوابی کارروائی کو انعامات اور اعزازات سے سراہا جا رہا ہے، جبکہ غفلت یا لاپرواہی کی صورت میں سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں پولیس نے بھگ، کوٹرا، تاسپ، ناگ اور مشکے اسٹیشنز پر دہشت گردوں کے حملے ناکام بنا کر عوام کو محفوظ بنایا۔سال 2025 کے دوران روڈ بلاکس میں کمی کے باعث نقل و حرکت میں بہتری آئی اور ہائی پروفائل حملوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ پولیس کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے نئے انتظامی اور تفتیشی شعبے قائم کیے گئے ہیں، جن میں ڈی آئی جی آئی اے بی برانچ، اضافی آپریشنز برانچ، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیکشن اور سی بی ریجنل دفاتر شامل ہیں۔اور ATF کی نفری 1,453 سے بڑھا کر 3,000 کرنے کا عمل جاری ہے، اور فورس کے الانس میں اضافہ کے بعد اہلکاروں کے مورال اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔بلوچستان پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے بڑے اقدامات، 2 ارب روپے سے انفراسٹرکچر کی بہتری و بلوچستان بھر میں پولیس کی سیکیورٹی اور آپریشنل صلاحیت کو بڑھانے کے لیے حکومت نے اہم اقدامات کیے ہیں۔ صوبے کی 81 پولیس تنصیبات کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے دو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ATF ہیڈکوارٹر کی تعمیر مارچ 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی طرح، 30 D3C عمارتوں کی تعمیر پر 1.1 ارب روپے لاگت آ رہی ہے۔پولیس کی ڈیجیٹل استعداد بڑھانے کے لیے PITB کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں اور پولیس میں آئی ٹی کیڈر کے قیام پر کام جاری ہے۔ موجودہ سیف سٹی سسٹمز پولیس کے حوالے کیے جا رہے ہیں جبکہ 8 نئے سیف سٹی منصوبے بھی زیر عمل ہیں۔انتظامی اصلاحات کے تحت پولیس کے امور کو بہتر بنانے کے لیے 12 ایس او پیز نافذ کیے گئے ہیں، جن میں بھرتی، سیکیورٹی، چھاپے اور اشتہاری ملزمان سے متعلقہ امور شامل ہیں۔ بی ایریاز کو اے ایریاز میں تبدیل کرنے کے لیے بھی جامع منصوبہ اور ایس او پیز جاری کیے گئے، اور عملے کی تعیناتی میں 95 فیصد تک عملدرآمد مکمل ہو چکا ہے۔پولیس اہلکاروں کی تربیت کے لیے دو ہفتے کے ریفریشر کورسز اور تین ماہ کے تربیتی پروگرامز شروع کیے گئے ہیں، جس میں ابتدائی طور پر 1,000 اہلکار شامل ہیں، جو بعد میں 3,000 تک بڑھائے جائیں گے۔ خضدار میں ریجنل ٹریننگ سینٹر قائم کیا گیا ہے، جبکہ فوج کے ذریعے 420 نئے اہلکاروں کی بھرتی فروری 2026 تک مکمل کی جائے گی۔اسی طرح پولیس ٹریننگ کالج میں لیویز کے 700اورخضدار ٹریننگ سینٹر میں 300اہلکارو ں کو تربیت دی جاری ہیں۔فلاحی اقدامات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ شہداءکے ورثا کے لیے امداد 2 لاکھ روپے مقرر، شدید زخمی اہلکاروں کے لیے 1 لاکھ روپے اور شہدائ و مرحوم اہلکاروں کی بیٹیوں کے لیے شادی گرانٹ 2 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی تعلیمی وظائف، صحت سہولیات اور کیڈٹ کالجز میں 150 طلبہ کی تعلیم کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا اور امن و امان قائم رکھتے ہوئے سماج دشمن عناصر کے قلع قمع کا عمل تیز کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تما م اضلاع اور ریجنل آفیسران کی سطح پر کھلی کچری کا انعقاد کا سلسلہ جاری ہے تاکہ پولیس کا اعتماد بھی عام لوگوں میں بڑھیا جاسکے اور پولیس اہلکاروں کی فلاح وبہبود کے لیے بڑے پیمانے پر کا م جاری ہے تاکہ محکمے میں موجود کالی بھیڑیوں کا بھی خاتمہ ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta: December 31, 2025: Inspector General of Police Muhammad Tahir has said that in the new year, the crackdown against criminal elements, especially dangerous gangs, habitual criminals and organized groups, will be further tightened in all districts of the province. Steps will be taken under an effective strategy to eliminate organized crime across the province and anti-social elements will be arrested under a zero-tolerance policy. He said that patrol teams will make their patrols more effective and habitual and professional criminals involved in serious crimes like dacoity, robbery, murder and kidnapping, including street crime, will be brought to justice. He expressed these views while briefing media representatives regarding the performance of the year 2025 at the Central Police Office. DIG Headquarters Balochistan Hassan Asad Alvi and AIG Operations Naveed Alam were also present on the occasion. IG Police Balochistan said that the supervisory officers of all districts should take vigorous steps to eliminate drug trafficking, illegal weapons and gender crimes and organized groups involved in car and motorcycle thefts in big cities should be eliminated. He said that after bringing the accused to justice, the investigation stages of the cases will be completed as soon as possible and the sentences will be imposed.In response to a question, the IG Police Balochistan said that in addition to the security of the minority community celebrations regarding the beginning of the New Year, clear instructions have been given at the level of all SSPs, SPs and police stations to ensure a ban on aerial firing so that no precious life is lost due to aerial firing. The IG Police Balochistan said that during the current year, 1438 cases of weapons were registered and 1447 accused were arrested in various incidents, of which 1483 pistols, 118 Kalashnikovs, 187 rifles, 39786 rounds, 21.98 kilograms of explosives and 1175 magazines of different types have been seized. 1507 cases were registered regarding drugs and 1589 accused were arrested. Among the drugs, 3903.991 kilograms of hashish, 1781.088 kilograms of opium, 131.088 kilograms of heroin, 111.0 20.55 kg of crack cocaine, 252.448 kg of ice shisha, 2.391 kg of crystal, 570 kg of shisha, 4564 bottles of different types of liquor and 3904 beer cans have been seized. He said that in the current year, the police recovered more than 111 stolen and snatched vehicles and 880 motorcycles from different districts of Balochistan across the province. 725 wanted suspects, 4799 advertised suspects, 10 convicted by the court, 255 kidnapping for ransom suspects and 14344 criminals and 103 dangerous gangs involved in various criminal activities were arrested. While 74 accused were killed in the police encounter and stolen and confiscated items including Rs 69,722,555 in cash, 286 mobile phones, 35 tolas of gold were recovered from the accused. Similarly, 121,477 litters of petrol and 234,766 litters of diesel were recovered while 1,110 petrol pumps were sealed and action was taken against tinted windows from 35,438 vehicles. He said that the traffic police, while taking action, issued challan of 249,206 vehicles from January 1 to December and collected a fine of Rs 168.645,176 from them. Under the Motor Vehicle Act 550, 1,868 vehicles and 21,462 motorcycles were seized.Terrorism incidents have taken place in 863 different areas, including 325 serious incidents and 538 minor incidents. In these incidents, 403 people have been martyred while 796 have been injured. In these incidents, the police have killed 81 terrorists. IG Police Balochistan said that the recruitment process in the police department is ongoing on merit and without any pressure. The latest report on the security situation in the country has been released, according to which 1052 incidents of terrorism occurred during the reporting period, which is a significant increase compared to the previous period. These incidents include 396 major and 656 minor attacks, as a result of which 537 people were martyred and 1056 were injured. Security forces killed 89 terrorists during operations, while 2702 intelligence-based operations were conducted against Fitna al-Kharij and Fitna al-Haram. According to the Balochistan government, steps are being taken to improve the law-and-order situation by increasing the capacity of the police and ATF, training, infrastructure, welfare measures and promotion of modern technology. The police have strengthened their ties with the local population and improved the strong defensive positioning and security arrangements of the areas. The police presence has been increased in sensitive areas. The Balochistan government has significantly increased the capacity of the police and the Anti-Terrorism Force (ATF) to further improve the law-and-order situation. ATF, bulletproof vehicles, armoured personnel carriers and heavy weapons have been deployed to make security effective, while special attention is being paid to the training, welfare and accountability of the personnel. The strength of the ATF is being increased from 1,453 to 3,000 and the allowances of the personnel have also been increased. Rs2 billion is being spent to strengthen the security of 81 police installations across Balochistan, while the construction of the ATF headquarters will be completed by March 2025. The police have failed terrorist attacks in various areas in recent times, while a significant decrease in high-profile attacks has been recorded during the year 2025.The IG Police Balochistan said that the protection of lives and property of citizens is the top priority and actions against anti-social elements will be further intensified. The Balochistan government has significantly increased the capacity of the police and the Anti-Terrorism Force (ATF) to further strengthen the law-and-order situation in the province. According to officials, several steps are being taken for the welfare of the personnel, modern training, promotion of infrastructure and technology. The bravery and effective response of the police and ATF personnel are being appreciated with awards and honours, while strict action is being taken in case of negligence or carelessness. In recent terrorist attacks, the police made the public safe by foiling terrorist attacks at Bhag, Kotra, Tasp, Nag and Mishke stations. During the year 2025, movement improved due to a decrease in road blocks and a decrease in high-profile attacks was observed. To further improve the performance of the police, new administrative and investigative departments have been established, including the DIGIAB Branch, Additional Operations Branch, Monitoring and Evaluation Section and CB Regional Offices. And the process of increasing the strength of the ATF from 1,453 to 3,000 is underway, and after increasing the allowance of the force, there has been a significant improvement in the morale and performance of the personnel. Major steps to increase the capacity of the Balochistan Police, improvement of infrastructure with Rs 2 billion and increasing the security and operational capacity of the police across Balochistan The government has taken important steps. Two billion rupees have been allocated to strengthen the security of 81 police installations in the province, while the construction of the ATF headquarters is targeted to be completed by March 2025. Similarly, the construction of 30 D3C buildings is costing Rs 1.1 billion. A memorandum of understanding has been signed with PITB to increase the digital capacity of the police and work is underway to establish an IT cadre in the police. The existing Safe City systems are being handed over to the police while 8 new Safe City projects are also under implementation. Under the administrative reforms, 12 SOPs have been implemented to improve police affairs, including matters related to recruitment, security, raids and declared suspects. A comprehensive plan and SOPs have also been issued to convert B areas into A areas, and 95% of the implementation in the deployment of personnel has been completed. Two-week refresher courses and three-month training programs have been started for the training of police personnel, which initially includes 1,000 personnel, which will later be increased to 3,000. A regional training centre has been established in Khuzdar, while the recruitment of 420 new personnel through the army will be completed by February 2026. Similarly, 700 Levies personnel are being trained at the Police Training College and 300 personnel at the Khuzdar Training Center. Welfare measures have also been increased. Assistance for the heirs of the martyrs has been fixed at Rs 2 lakh, for seriously injured personnel at Rs 1 lakh and marriage grant for the daughters of martyrs and deceased personnel at Rs 2 lakh. Along with this, arrangements have been made for educational scholarships, health facilities and education of 150 students in cadet colleges. IG Police Balochistan has said that the process of protecting the lives and property of citizens will be made more effective and the process of eliminating anti-social elements will be accelerated while maintaining law and order. He said that open house is being held at the level of all districts and regional officers so that the trust of the police can also be increased among the common people and large-scale work is being done for the welfare of police personnel so that the black wolves present in the department can also be eliminated.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9831/2025
کوہلو .31 دسمبر۔ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دمڑ، اسسٹنٹ کمشنر کبیر مزاری، رسالدار میجر شیر محمد مری کی ہدایات پر کوہلو لیویز نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور جرائم کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے گئے مجموعی طور پر 85 مقدمات درج کیے گئے،جن میں قتل کے 3 ، اقدام قتل کے 2 ، لڑائی جھگڑوں کے 27 ، چوری و ڈکیتی کے 38 ، اغواءکے 3 ، اسلحہ و ایمونیشن کے 3 ، منشیات کے 2 ، فارنر ایکٹ کے 3 اور متفرق 4 مقدمات درج ہوئے۔ان مقدمات میں 249 ملزمان نامزد کیے گئے۔ جس کے لئے سال بھر میں 73 چھاپے مارے گئے، جن کے نتیجے میں 206 ملزمان گرفتار کیے گئے، 15 اشتہاری ملزمان کو بھی گرفتار کر کے پابندِ سلاسل کیا گیاان مقدمات میں عدالتی فیصلے اور سزائیں بھی ہوئی ہیں ، 5 مقدمات میں ملزمان کو سزا اور بھاری جرمانے عائد کئے گئے ، 8 مقدمات میں ملزمان بری ، 33 مقدمات تاحال زیر سماعت ہیں جبکہ 14 مقدمات سرد خانے میں اور 25 مقدمات میں راضی نامہ ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2 ملزمان کو 5 ، 5 سال قید اور 20،20 ہزار روپے جرمانہ جبکہ 1 ملزم کو 3 سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ، 47 غیر ملکی ملزمان کو گرفتار کر کے ڈی پورٹ (ملک بدر) کیا گیا کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں مسروقہ و ممنوعہ اشیاء برآمد ہوئیں، جن میں شامل ہیں 17 موٹر سائیکل، 95 سولر پلیٹس، 7 انوریٹر ،13 جنریٹر مشینیں ، 5 سمر سیبل ،840 فٹ پائپ و کیبل تار ، 1 پسٹل ، 1 کلاشنکوف، 263 عدد زندہ کارتوس ودیگر اسلحہ و چوری شدہ سامان برآمد کرلیا ہے۔ منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 224 ایکڑ پر پوست کی فصل تلف ، 3 ایکڑ پر بھنگ کی فصل تلف کی گئی کوہلو لیویز کی سالانہ رپورٹ پر عوامی و سماجی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر عظیم جان دمڑ، اسسٹنٹ کمشنر کبیر مزاری، رسالدار میجر شیر محمد مری اور رسالدار میجر مولا داد کی قیادت میں لیویز فورس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کارروائیاں کیں اور امن و امان کو یقینی بنایا۔ عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی کہ لیویز فورس آئندہ بھی جرائم کے خاتمے اور کوہلو میں امن کے قیام کے لیے اسی عزم کے ساتھ اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی، جبکہ کوہلو کے عوام کا مکمل تعاون لیویز فورس کو حاصل رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9832/2025
تربت. 31 دسمبر ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے تربت کے میڈیکل اسٹور مالکان کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں کیچ کیمسٹ ایسوسی ایشن کے صدر وحید اختر، نائب صدر منظور انور، جنرل سیکریٹری دلاور خان, چاکر علی سمیت دیگر میڈیکل اسٹور مالکان شریک تھے۔وفد نے ڈپٹی کمشنر کیچ کو کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی اور فیسٹیول کو نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کے فروغ کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا۔ اس موقع پر کیچ کیمسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے لیے چار لاکھ روپے (400000) کا تعاون پیش کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے میڈیکل اسٹور مالکان اور کیچ کیمسٹ ایسوسی ایشن کے اس جذبہ تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کی شمولیت سے کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، جو نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے انہوں نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی کیچ کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے اسی طرح تعاون جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9833/2025
گوادر31دسمبر۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس ایس پی پولیس عطا خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عیسیٰ بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، بی ای ایس ایس آئی، لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے، پریس کلب گوادر کے صدر اسماعیل عمر، آر سی ڈی سی، سول سوسائٹی کے نمائندے اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی سے متعلق مختلف اہم مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کنٹانی، ماہی گیری، گیراجز، فِش فیکٹریز اور دیگر شعبہ جات میں کام کرنے والے تمام مزدوروں کی فوری اور لازمی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات جاری کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پورے ضلع میں جہاں کہیں بھی لیبر کام کر رہی ہے، ان کی رجسٹریشن قانوناً لازمی ہے تاکہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ اجلاس میں مزدوروں کے بنیادی حقوق، مسائل اور فلاح و بہبود سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے تعاون سے اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مرتب کردہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی اپنی کارروائیاں عمل میں لائے گی، جبکہ ملکی قوانین کو بھی مدِنظر رکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئل ڈپو اور ٹرانسپورٹ ایریاز میں کام کرنے والے مزدوروں کی رجسٹریشن کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے محکمہ لیبر ویلفیئر کے سینئر افسران کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس غفلت کا نوٹس لیا جائے گا اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9834/2025
خضدار 31 دسمبر ۔ ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کے موضع گڈیال، خیسن کھڈ اور موضع لوھینڈو، نیز تحصیل آڑنجی کے علاقوں میں مال مویشی، بھیڑ، بکریوں اور ان کی نو مولود نسل میں امراض کی تشخیص ہوئی ہے۔اس صورتحال پر ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک خضدار ڈاکٹر محمد انور زہری نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات عمل میں لائے ہیں اطلاع ملتے ہی ڈاکٹر انور زہری نے متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹروں کی ٹیم، طبی عملہ روانہ کردیا گیا ہے اور ادویات سمیت ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔ ان کی بروقت اقدامات سے متاثرین کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔ ڈاکٹر محمد انور زہری کا کہنا ہے کہ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ اس مرض پر قابو پانے کے لیئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے اور مال مویشی جانوروں کو ہر ممکن علاج فراہم کیا جائے گا۔اس سے قبل جھالاوان ایکشن کمیٹی خضدار کے جنرل سیکرٹری مفتی جاوید احمد مینگل نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں متعلقہ اعلیٰ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم، ڈاکٹر انور زہری کی قیادت میں لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی تیز رفتار اقدامات سے صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر مرض کی روک تھام کے لیئے اقدامات جاری رکھیں گے۔یہ اقدام متاثرین کے لیئے امید کی کرن ثابت ہوئے ہیں اور لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی ان سنجیدہ و ذمہ دارانہ کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9835/2025
چمن 31دسمبر۔ چمن میں حالیہ بارش اور برفباری کے دوران کوڑک ٹاپ کے دونوں اطراف کوئٹہ چمن شاہراہ کو ضلعی انتظامیہ این ایچ اے اور محکمہ پی ڈی ایم نے ہیوی مشینری سے آمد رفت کیلئے بحال کر دیا ہے اس دوران نیشنل ہائی وے پر ٹریفک بغیر کسی قسم کی رکاوٹ کے جاری رہا اور تمام لائٹ و ہیوی مشینری اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں کیونکہ سخت سردی کی وجہ سے کوڑک ٹاپ پر برف جمنے کی وجہ سے روڈ پر گاڑیوں کی پھسلنے کی خطرات کا اندیشہ پایا جاتا ہے اور خدا نخواستہ کسی ناخوشگوار واقعے اور صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ضلعی انتظامیہ نے چمن کے عوام کو بارشی ندی نالوں کو بغیر پلوں اور سیف سائیڈ کے پاس نہ کرنے تلقین کی ہے انہوں نے موسمی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کیلئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ برف باری آندھی اور بارش کے دوران اپنے گھروں میں اپنے بال بچوں کیساتھ وقت گزاریں . اس وقت ضلعی انتظامیہ این ایچ اے اور محکمہ پی ڈی ایم اے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9836/2025
گوادر۔ 31 دسمبر۔ نو منتخب چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گوادر واجہ شے مختار نے آج ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے واجہ شے مختار کو بلا مقابلہ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی اور بطور ڈسٹرکٹ چیئرمین، جی ڈی اے کی گورننگ باڈی کے رکن کی حیثیت سے خوش آمدید کہا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے اس امید کا اظہار کیا کہ واجہ شے مختار گوادر کی مجموعی ترقی اور جی ڈی اے کے ویژن کے مطابق موثر اور بھرپور کردار ادا کریں گے۔ ملاقات کے دوران انہیں گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، اولڈ ٹاون بحالی منصوبے، دیگر جاری اسکیموں، پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات، اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر میں جاری بحالی و نکاسی آب کے کاموں سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کو بتایا گیا کہ جی ڈی اے کی ڈرینیج اور سیوریج سسٹم سمیت اولڈ ٹاو¿ن میں سڑکوں اور گلیوں بازاروں اور مارکیٹس کی تعمیر و توسیع اور بحالی کے منصوبوں کی بدولت حالیہ بارشوں میں کہیں پانی جمع ہونے کی شکایت نہیں ملی تاہم چند ایک علاقوں جہاں ابھی تک ترقیاتی کام کسی بھی وجہ سے شروع نہ ہوسکے میں پانی جمع ہونے کی شکایت ملی لیکن جی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیموں نے بروقت رسپانس کرکے ڈی واٹرنگ شروع کردی ہے۔ اس موقع پر نو منتخب نو منتخب چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل نے جی ڈی اے کی جاری ترقیاتی سرگرمیوں، پانی کے بحران کے دوران ادارے کے فعال کردار، اور حالیہ برساتی موسم میں جی ڈی اے کی مختلف ٹیموں کی شہر بھر میں جاری محنت و کاوشوں کو سراہا۔ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل واجہ شے مختار نے ماسٹر پلان کے تحت بی ایریا میں بھی ترقیاتی کاموں کے آغاز کی استعداد کا اظہار کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر جی ڈی اے کے ابتدائی سالوں میں تعمیر کی گئی شاہراوں کی مزید تعمیر، توسیع اور باقاعدہ مینٹیننس پر توجہ دینے کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ترقیاتی کاموں کے دائرہ کار کو مزید علاقوں تک، خصوصاً بی ایریا میں وسعت دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ اس پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے تمام تجاویز کا جائزہ لینے کی یقین دہائی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video