خبرنامہ نمبر494/2026
کوئٹہ، 23 جنوری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کی عوام کی اجتماعی ملکیت ہیں اور ان وسائل پر کسی بھی قسم کی غیرقانونی سرگرمی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیرقانونی مائننگ نہ صرف قومی و صوبائی خزانے کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ یہ قانون کی عملداری کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ ضلع پشین میں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران کرومائٹ کی 47 غیرقانونی مائنز کو بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ حکومت بلوچستان معدنی وسائل کے تحفظ اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی میر سرفراز بگٹی نے نشاندہی کی کہ غیرقانونی مائننگ کے باعث مائنز اینڈ منرل کے شعبے سے صوبے کو سالانہ آمدن محض 10 ارب روپے سے بھی کم حاصل ہو رہی ہے، جو بلوچستان جیسے وسائل سے مالا مال صوبے کے لیے لمح فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیرقانونی سرگرمیوں کے باعث صوبہ اپنی حقیقی آمدن اور عوام اپنے جائز حقوق سے محروم رہے ہیں وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ حکومت بلوچستان غیرقانونی مائننگ کے مکمل خاتمے اور معدنی شعبے کی اصلاح و بہتری کے لیے جامع اور مو¿ثر پالیسی متعارف کرا رہی ہے، جس کا مقصد شفافیت، قانونی تقاضوں کی تکمیل، سرمایہ کاری کے فروغ اور صوبے کی آمدن میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت نہ صرف غیرقانونی عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی بلکہ مقامی آبادی کو بھی معدنی وسائل سے براہِ راست فائدہ پہنچایا جائے گا وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے اور حکومت ہر سطح پر ان وسائل کے تحفظ، بہتر استعمال اور عوامی مفاد کو یقینی بنائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر495/2026
کوئٹہ23 جنوری.۔ : وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی روح اس کے تعلیمی نظام میں پنہاں ہوتی ہے۔ اگر قلم خاموش ہو جائے اور کتاب سے رشتہ ٹوٹ جائے، تو قومیں فکری بانجھ پن کا شکار ہو کر ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے تعلیم کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری کردہ اپنےخصوصی پیغام میں کیا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم محض ڈگری کے حصول کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ واحد راستہ ہے جو معاشرے میں امن، پائیدار ترقی اور حقیقی خوشحالی کی ضمانت دیتا ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دنیا کے نقشے پر صرف وہی اقوام سربلند ہوئیں جنہوں نے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا اور علم و تحقیق کو اپنی قومی ترجیحات میں سرِفہرست رکھا۔صوبائی مشیر نے خواتین کی تعلیم کو معاشرتی انقلاب کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم ایک مرد کو پڑھاتے ہیں تو ایک فرد کو علم دیتے ہیں، لیکن جب ہم ایک عورت کو پڑھاتے ہیں تو ہم ایک پورے خاندان اور آنے والی نسل کی فکری آبیاری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا خواب تعلیم کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔تعلیم ہی وہ قوت ہے جو معاشرے سے دقیانوسی تصورات اور صنفی امتیاز کی دیواروں کو گرا سکتی ہے۔ موجودہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ آج ہمیں جن بڑے مسائل کا سامنا ہے، چاہے وہ غربت ہو، انتہا پسندی ہو یا سماجی ناانصافی، ان سب کا واحد علاج فعال تعلیمی ادارے اور کتب بینی کا فروغ ہے۔ ایک پڑھا لکھا فرد ہی ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔ کتاب اور قلم سے دوری ہی دراصل کسی بھی قوم کے زوال کا نقطہ آغاز ہوتی ہے۔تعلیم کے شعبے میں موجودہ صوبائی حکومت کے وژن کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیمی بجٹ کو محض اخراجات کے بجائے انسانی وسائل میں ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتی ہے، جس کا مقصد پالیسی سازی اور زمینی حقائق کے درمیان موجود خلیج کو ختم کر کے تعلیمی نیٹ ورک کو بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں تک عام کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta ; January 23: Adviser to the Chief Minister of Balochistan on the Women Development Department, Dr. Rubaba Khan Buledi has stated that the soul of any society resides in its education system. When the pen falls silent and the bond with books is severed, nations fall victim to intellectual stagnation and gradually become part of history.Dr. Rubaba Khan Buledi expressed these views in her special message issued on the occasion of World Education Day. Dr. Rubaba Khan Buledi emphasized that education is not merely the attainment of degrees; rather, it is the only path that guarantees peace, sustainable development, and true prosperity in society. History bears witness to the fact that only those nations have risen with dignity on the world map that adopted the pen as their weapon and placed knowledge and research at the top of their national priorities.Highlighting the critical importance of women’s education for social transformation, she said that when we educate a man, we educate an individual, but when we educate a woman, we nurture an entire family and intellectually cultivate future generations. She added that the dream of women’s economic empowerment cannot be realized without education. Education alone is the force capable of dismantling entrenched stereotypes and the walls of gender discrimination within society.Referring to contemporary challenges, Dr. Rubaba Khan Buledi noted that the major issues facing society today—whether poverty, extremism, or social injustice—can only be addressed through active educational institutions and the promotion of a culture of reading. An educated individual lays the foundation for a strong, stable, and dignified nation. Distance from books and the pen, she warned, marks the very beginning of a nation’s decline.While discussing the vision of the current provincial government for the education sector, Dr. Rubaba Khan Buledi stated that the provincial government views the education budget not merely as an expenditure, but as a long-term investment in human resources. The objective, she said, is to bridge the gap between policymaking and ground realities and to extend the educational network to the remote and underserved areas of Balochistan.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر496/2026
جعفرآباد23جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف محکموں کے ڈسٹرکٹ ہیڈز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو (بی ایس ڈی آئی) فیز ون اور فیز ٹو کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام ڈسٹرکٹ ہیڈز نے فرداً فرداً منصوبوں کی اب تک کی پیشرفت، درپیش مسائل اور تکمیل کے مراحل کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے ہدایت کی کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری تمام اسکیمات پر خصوصی توجہ دی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس ضمن میں دستیاب تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے تاکہ عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ہیڈز کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے کو مزید مو¿ثر بنایا جائے، فیلڈ میں نگرانی کے عمل کو تیز کیا جائے اور پیشرفت سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے پیش کی جائیں تاکہ ترقیاتی اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 497/2026
سبی 23 جنوری .۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں سرکاری ملازمین کی SAP سسٹم میں تاریخِ پیدائش کی درستگی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران سینئر اکاونٹس آفیسر میر گہرام لاشاری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو، انچارج لوکل و ڈومیسائل برانچ علی بزدار سمیت متاثرہ سرکاری ملازمین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر سبی نے تمام کیسز کا خود تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ گزشتہ اجلاس میں جمع کرائے گئے ان کیسز پر غور کیا گیا جن میں ملازمین کی تاریخِ پیدائش SAP سسٹم میں غلط درج تھی۔ مکمل دستاویزات پر مشتمل کیسز کی منظوری دے دی گئی جبکہ نامکمل دستاویزات کی بنا پر بعض کیسز مسترد کر دیے گئے۔ اس موقع پر چند نئے کیسز بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے جن کی باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد آئندہ اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے ہدایت کی کہ تمام کیسز کو قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف طریقے سے نمٹایا جائے تاکہ جائز سرکاری ملازمین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر498/2026
پشین23 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر منصور احمد قاضی نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بروقت موثر اقدامات اور بہتر کارکردگی سے عوامی حفاظت کو یقینی بنایا گیا ہے اور برف باری سے بند ہونے والے راستے اب ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں،جس سے مقامی باشندوں کو سفر میں آسانی اور سہولت میسر ہوئی ہے،جبکہ امدادی کاروائیاں بھی مزید بہتر ہو چکی ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیلڈ پر مقامی افراد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمہ جات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے،تاہم تمام متعلقہ محکمے فیلڈ میں موجود ہیں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق برفباری شروع ہوتے ہی اہم شاہراہوں پر نمک کا چھڑکاو کر دیا گیا ہے جبکہ دور دراز کے بالائی علاقوں میں تمام مرکزی اور رابطہ سڑکوں پر ہیوی مشینری اور اہلکار برف ہٹانے کے لیے تعینات ہیں،انہوں نے سیاحوں اور مقامی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں،اور ہدایات کے مطابق رات کے دوران ہیٹر کے مسلسل استعمال سے اجتناب کیا جائے،بند گاڑی میں ہیٹر چلانے سے دم گھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے،شدید سردی میں ہیٹر وقفے وقفے سے استعمال کریں،اور تیز رفتاری سے گریز کریں کیونکہ سڑکوں پر پھسلن کا خدشہ موجود ہے،قاضی منصور نے بتایا کہ متعلقہ اہلکاران رات کے دوران بھی فیلڈ میں الرٹ اور دستیاب ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے رہائشیوں اور سیاحوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسم کی صورتحال سے باخبر رہیں۔کیونکہ تحصیل برشور اور توبہ کاکڑی سمیت دیگر بالائی علاقوں میں 6 انچ سے زائد برف پڑچکی،انہوں نے مزید بتایا ہے کہ برف باری کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے اور فیلڈ پر موجود جوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور ٹریفک کی روانی کا جائزہ لینے کے لیے وہ خود فیلڈ میں موجود ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر499/2026
کوئٹہ ، 23جنوری ۔انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ بلوچستان پولیس میں کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کو تمام تر سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، کیونکہ کھیلوں کے میدانآباد ہونے سے معاشرہ منفی سرگرمیوں سے پاک رہتا ہے اور نوجوان نسل ذہنی و جسمانی طور پر مضبوط اور توانا رہتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس ٹریننگ کالج میں کمانڈنٹ پی ٹی سی اور زیر تربیت اہلکاروں کے مابین کھیلے جانے والے کرکٹ میچ کے موقع پر کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر آئی جی پولیس نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پولیس کے نوجوان کھلاڑی قومی سطح پر صوبے اور ادارے کا نام روشن کر رہے ہیں جو قابلِ فخر ہے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوان فورس میں نظم و ضبط، برداشت، ٹیم ورک اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو تعمیری اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے تاکہ وہ سماجی برائیوں سے دور رہیں۔دورے کے دوران آئی جی پولیس بلوچستان نے کرکٹ، فٹ بال اور والی بال کھیلنے والے لیویز کے زیر تربیت جوانوں سے مصافحہ کیا اور ان کے جذبے، محنت اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر زیر تربیت جوانوں کے لیے فٹسال نائٹ ٹورنامنٹ، فٹ بال اور والی بال کے باقاعدہ ٹورنامنٹس بھی منعقد کیے گئے۔، جس کا مقصد نوجوانوں میں جسمانی فٹنس، مثبت سرگرمیوں اور ٹیم ورک کو فروغ دینا تھا۔ اس کے علاوہ کرکٹ،ٹورنامنٹس کے فائنل مقابلے میں پی ٹی سی کمانڈنٹ اسٹاف ٹیم اور زیر تربیت جوانوں کے درمیان کھیلے گئے، جن میں سخت اور دلچسپ مقابلوں کے بعد کرکٹ، فٹ بال اور والی بال تینوں فارمیٹس میں کمانڈنٹ اسٹاف ٹیم نے کامیابی اپنے نام کی۔اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان بطور مہمانِ خصوصی خود بھی کرکٹ میچ میں شریک ہوئے، جس سے زیر تربیت جوانوں میں جوش و خروش اور ولولہ مزید بڑھ گیا۔ تقریب میں ایڈیشنل آئی جی و کمانڈنٹ بی سی اشفاق احمد، کمانڈنٹ پی ٹی سی شہراد اکبر، پی ایس او اعتزاز احمد سمیت دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔تقریب کے اختتام پر آئی جی پولیس بلوچستان نے کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے زیر تربیت نوجوانوں میں انعامات تقسیم کیے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان پولیس میں کھیلوں کے فروغ کے لیے آئندہ بھی ایسے مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کا تسلسل جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 500/2026
کوئٹہ، 23 جنوری ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی، معاشی خودمختاری اور سماجی استحکام کی اساس ہے حکومت بلوچستان صوبے میں ایک موثر، معیاری اور یکساں تعلیمی نظام کے قیام کے لیے عملی اور دیرپا اصلاحات متعارف کروا رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں طویل عرصے سے بند پڑے تعلیمی ادارے صوبے کے تعلیمی ڈھانچے پر ایک بڑا سوالیہ نشان تھے، تاہم موجودہ حکومت نے سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے 3200 سے زائد بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کر کے ہزاروں بچوں کو تعلیم کے دائرہ کار میں واپس لایا ہے، جو تعلیمی بحالی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں اصلاحات محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ نظام کی جڑوں تک پھیلائی جا رہی ہیں، جن میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا، اسکولوں کی موثر مانیٹرنگ، شفافیت پر مبنی تقرریاں، وسائل کا درست استعمال اور تعلیمی اداروں میں جوابدہی کا موثر نظام شامل ہے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان کا ہدف صرف اسکول کھولنا نہیں بلکہ بچوں کو معیاری تعلیم، محفوظ تعلیمی ماحول اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب فراہم کرنا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں علم، ہنر اور کردار کے ساتھ قومی دھارے میں موثر کردار ادا کر سکیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے عالمی دن کا تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر یہ عہد کریں کہ تعلیم کو محض ایک شعبہ نہیں بلکہ صوبے کے مستقبل کی ضمانت سمجھیں۔ حکومت بلوچستان تعلیم میں سرمایہ کاری کو اپنی اولین ترجیح بنائے رکھے گی اور اس ضمن میں کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر501/2026
کوئٹہ، 23 جنوری ۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان کے برف باری سے شدید متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے بلوچستان نے موثر، بروقت اور پیشہ ورانہ انداز میں ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں گاڑیوں میں پھنسے مسافروں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا شاہد رند نے کہا کہ شدید سردی اور نامساعد موسمی حالات کے باوجود پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں نے جانفشانی سے فرائض انجام دیے، جس کے باعث سینکڑوں قیمتی انسانی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریسکیو آپریشن حکومت بلوچستان کی پیشگی تیاری، موثر حکمت عملی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا واضح ثبوت ہے معاون وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پی ڈی ایم اے بلوچستان کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ادارے اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والی تمام ٹیموں کو شاباش دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہنگامی حالات میں عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے والے افسران اور فیلڈ میں خدمات انجام دینے والی ٹیموں کے لیے حسنِ کارکردگی سرٹیفکیٹس دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، تاکہ ان کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پی ڈی ایم اے کی استعداد کار میں مزید اضافہ کر رہی ہے، تاکہ آئندہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر502/2026
خضدار23جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر خضدار کے جاری کردہ ایک اطلاع کے مطابق بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کے تحت ضلع خضدار کے ان امیدواروں کو مطلع کیا جاتا ہے جنہوں نے فرسٹ ایئر (MBBS/BDS) برائے تعلیمی سال 2025-26 میں بولان میڈیکل کالج، خضدار کا انتخاب کیا ہے کہ ان کی میرٹ لسٹ تیار کر لی گئی ہے۔مکران میڈیکل کالج تربت، جھالاوان میڈیکل کالج خضدار، لورالائی میڈیکل کالج اور دیگر کالجوں میں بلوچستان کے منتخب کردہ امیدواروں کو مزید کارروائی کے لیے آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ دستاویزات کی تصدیق اور اندراج کے لیے 26 جنوری 2026 بروز پیر صبح 11 بجے دفتر ہذا میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔تمام امیدواروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اصل تعلیمی اسناد، متعلقہ دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات ہمراہ لائیں۔ مقررہ وقت اور تاریخ پر حاضری نہ دینے کی صورت میں امیدوار کی نشست منسوخ تصور کی جائے گی اور تمام کاغذات کی ایک عدد تصدیق شدہ فوٹو کاپی بھی ساتھ لانا لازمی ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر503/2026
خبرنامہ خضدار 21 جنوری ۔ سب ڈویژن وڈھ خضدار کی تحصیل ,,ڈراکلا میں کارروائی2 میڈیکل اسٹورز کو بند کر دیا گیاڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی صاحب کی خصوصی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر محمد نسیم لانگو اسسٹنٹ کمشنر اکبرعلی مزار زئی صاحب کی نگرانی میں، ڈرگ انسپکٹر عبیداللہ شاہ خضدار سب ڈویژن وڈھ میں مضافاتی علاقوں میں جعلی ڈاکٹروں، بغیر لائسنس میڈیکل اسٹورز اور غیر معیاری ادویات کے خلاف موثر کارروائی کر رہے ۔ سب ڈویژن وڈھ کے ملحقہ علاقوں میں ڈرگ انسپیکٹر عبید اللہ شاہ اچانک چھاپے مارے۔میڈیکل سٹورز اور غیر معیاری ادوایات کے خلاف سخت کاروائی کیا میڈیکل اسٹورز بغیر لائسنس پائے گئے جنہیں موقع پر لاک / سیل کر دیا گیا۔ غیر قانونی میڈیکل کلینک موقع پر سیل, میڈیکل اسٹور مالکان نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا کہ ہم اپنے لائسنس جلد سے جلد ریونیو کرا لیں گے اور دیگر متعلقہ قواعد و ضوابط پر بھی عمل کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر504/2026
کوئٹہ23جنوری ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق جمعہ کو صوبہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید سرد اور خشک موسم متوقع ہے۔ کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، مستونگ اور قلات میں رات کے درجہ حرارت منفی 4 سے منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے جبکہ صبح کے اوقات میں سردی کی شدت (چِل ایفیکٹ) زیادہ محسوس کی جائے گی۔کیچ، پنجگور، واشک، خاران، نوشکی، پشین، کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ہرنائی اور مستونگ میں تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔واشک، خاران، پنجگور اور کیچ میں گرد آلود ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔ہفتہ کوصوبے کے بیشتر علاقوں میں سرد سے بہت سرد اور خشک موسم متوقع ہے جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں شدید سردی رہے گی۔ کیچ اور شمال مغربی علاقوں میں موسم جزوی طور پر ابر آلود سے ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئٹہ، ژوب، بارکھان، اوتھل، لورالائی، چمن اور قلات میں بارش اور برفباری ہوئی جبکہ کئی علاقوں میں تیز ہوائیں بھی چلتی رہیں۔ قلات میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو صوبے میں سب سے کم رہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر505/2026
گوادر23جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) زراتون بی بی، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (میل) عبدالوہاب مجید، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج نصیر بلوچ، پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سبین بلوچ، ڈسٹرکٹ اکاونٹ آفیسر، سوشل ویلفیئر آفیسر عبیداللہ، ڈسٹرکٹ منیجر این آر ایس پی پیر جان بلوچ، ایس ڈی او بی اینڈ آر، تمام تحصیلوں کے ڈپٹی ڈی ای اوز کے علاوہ یونیسیف اور آر ٹی ایس ایم کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں حال ہی میں کنٹریکٹ ٹیچرز (فیز IV) کی تعیناتی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ضلع میں مزید 12 اسکولوں کی فعالی کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی اور انہیں جلد از جلد فعال بنانے کے واضح احکامات جاری کیے۔اجلاس کے دوران ضلع گوادر میں تعلیمی اداروں میں بی ایس ڈی آئی اور پی ایس ڈی پی کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں اور منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی گئی جبکہ مزید ترقیاتی کاموں اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے ضلع بھر میں اسکولوں سے بچوں کے ڈراپ آوٹ (Dropout) کی وجوہات، ان کی شرح اور اس مسئلے کے موثر تدارک پر بھی تفصیلی بحث کی۔ اس کے علاوہ معیاری تعلیم کی فراہمی، مدارس کی موجودہ صورتحال اور ان کی رجسٹریشن سے متعلق امور پر بھی اجلاس میں غور کیا گیا۔ تمام اسٹیک ہولڈرز نے اپنے فیلڈ وزٹس اور کارکردگی سے متعلق رپورٹس پیش کیں۔ اجلاس میں اساتذہ کی غیر حاضری پر تنخواہوں میں کٹوتی اور کرونک غیر حاضر اساتذہ کو ملازمت سے برطرف کرنے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے سخت احکامات جاری کیے۔مزید برآں، بعض اسکولوں کے مسائل ڈپٹی کمشنر نے ریکارڈ شدہ ویڈیوز کے ذریعے بھی ملاحظہ کیے، جبکہ یونیسیف اور آر ٹی ایس ایم کی جانب سے اپنی تفصیلی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر506/2026
پشین 23جنوری ۔ ڈسٹرکٹ میئر سردار اکبر خان ترین نے کہا کہ پشین شہر کی صفائی و ستھرائی اور اسے ماڈل سٹی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔جو ٹھیکیدار ناقص مٹیریل کا استعمال اور وقت پر کام مکمل نہیں کرئیگا ، انہیں مستقل طور پر “بلیک لسٹ” کر دیا جائیگا تاکہ وہ دوبارہ کسی ٹینڈر میں حصہ نہ لے سکیں۔انہوں نے کہا کہ ٹھیکیداروں کا ایک ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ نیا ٹھیکہ دینے سے پہلے ان کے پچھلے کاموں کی کوالٹی اور رفتار کو چیک کیا جاتا ہے۔ تعمیراتی کاموں میں غفلت کرنیوالے ٹھیکداروں کیلئے میونسپل کارپوریشن میں کوئی جگہ نہیں ہے۔۔انہوں نے کہا کہ شہر کی صفائی و ستھرائی صرف انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان اور ہم سب کا مشترکہ قومی فریضہ ہے۔ ایک مثالی شہر وہ ہے جہاں کی فضا آلودگی سے پاک ہو اور ہر گلی کوچہ صفائی کا نمونہ پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے شہر کے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے سائنسی طریقہ کار اپنایا جارہا ہے۔ ‘ڈور ٹو ڈور’ کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کے نظام کو مزید فعال بنانا کر کوڑے کی درجہ بندی (گیلا اور خشک کچرا الگ کرنا) کو یقینی بنایا جارہا ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ صفائی کے ساتھ ساتھ شہر کے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور ایک صاف ستھرا شہر ہی ایک خوشحال ریاست کی بنیاد ہوتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر507/2026
گوادر23جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، سی ای او جی ڈی اے ہسپتال ڈاکٹر عفان فائق زادہ، سی ای او عمانی گرانٹ ہسپتال ڈاکٹر چاکر بلوچ، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال کے نمائندے ڈاکٹر جنید بلوچ، ایکسین کیسکو حسین بخش پیچو، ایس ڈی او بی اینڈ آر، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر شاہنواز بلوچ اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے سات نئے بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کی بحالی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس کے دوران ضلع بھر کے رورل ہیلتھ سینٹرز (آر ایچ سیز) اور ایمبولینسز کی مرمت، ہسپتالوں میں فرنیچر کی کمی اور اس مسئلے کے مستقل حل پر بھی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے ضلع میں ادویات کی دستیابی، موجودہ صورتحال اور ادویات کی ممکنہ کمی کے حوالے سے متعلقہ افسران سے تفصیلی بریفنگ طلب کی۔مزید برآں اجلاس میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ غیر حاضر ڈاکٹروں اور اسٹاف کے خلاف تنخواہوں میں کٹوتی کے لیے ڈپٹی کمشنر نے سخت احکامات جاری کیے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے جی ڈی اے ہسپتال اور عمانی گرانٹ ہسپتال کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک علیحدہ اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ ان معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر508/2026
گوادر/پسنی23جنوری ۔ اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے آج پسنی شہر کے مختلف علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے صفائی ستھرائی کی مجموعی صورتحال اور کچرے کے ڈمپنگ پوائنٹس کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر کچرے کے ڈھیروں پر اسسٹنٹ کمشنر نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی پسنی کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے تمام ڈمپنگ پوائنٹس سے کچرا فوری طور پر اٹھایا جائے اور صفائی کے نظام کو مزید موثر اور فعال بنایا جائے، تاکہ شہریوں کو تعفن اور ممکنہ بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے پسنی کے شہریوں سے خصوصی اپیل کی کہ وہ شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہری اپنا گھریلو کچرا گلی محلوں یا سڑکوں پر پھینکنے کے بجائے صرف مقررہ ڈمپنگ پوائنٹس پر ہی جمع کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ گھروں کے استعمال شدہ (واش) پانی اور گٹر کے ناکارہ پانی کے لیے باقاعدہ نکاسی آب کا نظام قائم کیا جائے، تاکہ گندا پانی سڑکوں پر نہ بہے اور راہگیروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ شہر کی خوبصورتی اور صحتِ عامہ کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر509/2026
تربت 23 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی کی سربراہی میں تربت کے مختلف مقامات پر تجاوزات کے خلاف بھرپور کارروائی عمل میں لائی گئی۔اس موقع پر کارروائی کے دوران چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر، ایس ایچ او تربت ظہور احمد، پرائس کنٹرول کمیٹی کے رکن نیاز احمد اور میونسپل کارپوریشن تربت کے حبیب جالب بھی موجود تھے۔کارروائی کے دوران تربت شہر کے شمال میں سی پیک روڈ پر قائم غیر قانونی تعمیرات، پیٹرول پمپس اور سروس اسٹیشنز کو مسمار کر دیا گیا۔ اسی دوران قواعد کی خلاف ورزی پر ایک ہوٹل کو سیل جبکہ ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا۔بعد ازاں تربت کے علاقے جوسک میں عوامی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے پرانے قبرستان کے ساتھ قائم غیر قانونی تعمیرات کو بھی گرادیا گیا۔ دریں اثناء ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی بلا تفریق جاری رہیں گی اور کسی کو بھی سرکاری اراضی یا عوامی مقامات پر غیر قانونی قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر510/2026
تربت23جنوری ۔ صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند نے جمعے کے روز تربت پریس کلب کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی، سینئر صحافیوں اور دیگر عہدیداران سے ملاقات کی۔دورے کے دوران صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے بلیدہ میں ایوب بلیدی روڈ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام کی موثر اور بھرپور کوریج پر تربت پریس کلب سے وابستہ صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر دونوں رہنماوں نے ضلع کیچ کے صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے آزادی صحافت کے فروغ میں ان کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صحافی برادری کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر511/2026
جعفرآباد23جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے ضلع بھر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے تعلیمی اداروں اور دیگر محکموں کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر انہوں نے مختلف اسکولوں کا معائنہ کیا اور وہاں بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کی پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ ڈپٹی کمشنر کو اسکولوں میں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت جاری منصوبوں کے بارے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے بریفنگ دی جبکہ دیگر ترقیاتی منصوبوں سے متعلق متعلقہ محکموں کے سب ڈویژنل آفیسران نے انہیں تفصیل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام منصوبوں کو جلد از جلد مقررہ معیار اور ٹائم لائن کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو بروقت سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ترقیاتی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، تمام متعلقہ افسران فیلڈ میں موثر نگرانی کو یقینی بنائیں اور پیشرفت سے متعلق باقاعدہ رپورٹس پیش کریں تاکہ ترقیاتی اہداف کے بروقت حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 512/2026
تربت، 23 جنوری ۔صوبائی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے جمعے کے روز یونیورسٹی آف تربت کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
دورے کے دوران صوبائی مشیر نے طالبات کے لیے اپنے خصوصی فنڈ سے تعمیر کیے گئے نو تعمیر شدہ گرلز کامن روم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی انتظامیہ، فیکلٹی ممبران، متعلقہ محکموں کے انجینئرز اور طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ انہیں منصوبے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گرلز کامن روم کو اعلیٰ معیار کے ساتھ مقررہ مدت سے قبل مکمل کیا گیا ہے۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے صوبائی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے جاری اور مکمل ہونے والے فیز ٹو کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا بھی معائنہ کیا، جن میں ڈے کیئر سینٹر، کھیلوں کے مختلف گراؤنڈز، سمارٹ کلاس رومز، انوویشن لیب اور جدید جمنازیم شامل ہیں، اور کام کے معیار و رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی مشیر نے یونیورسٹی آف تربت کی تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں اور طالبات کی نمایاں تعداد کو سراہا۔ انہوں نے آئندہ ماہ منعقد ہونے والے یونیورسٹی اسپورٹس ویک کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا اور ڈے کیئر سینٹر، یونیورسٹی ماڈل اسکول کے لیے فرنیچر و دیگر سہولیات کی فراہمی اور فٹ بال گراؤنڈ کی اپ گریڈیشن کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان سے رابطے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ مکران سمیت پورے صوبے میں معیاری تعلیم کا فروغ، خواتین کو بااختیار بنانا اور ترقیاتی منصوبوں کی شفاف و بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف تربت پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے صوبائی مشیر کی جانب سے یونیورسٹی کی ترقی میں خصوصی دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کیا اور طلبہ و طالبات کی سفری سہولت کے لیے گرین بس سروس شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس پر صوبائی مشیر نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 513/2026
کوئٹہ 23 جنوری۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے سپنی روڈ پر زیرِ تعمیر ٹراما سینٹر کا دورہ کیا اور جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ، چیف انجینئر کوئٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹراما سینٹر ارباب کامران سمیت محکمہ مواصلات و تعمیرات کے دیگر متعلقہ آفیسران بھی موجود تھے ایگزیکٹو انجینئر محکمہ مواصلات و تعمیرات آغا میرو خان نے جاری ترقیاتی منصوبے کی پیش رفت تعمیراتی میعار اور تکمیل کے مختلف مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ ٹراما سینٹر کی جلد از جلد تکمیل صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں روز اول سے صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں کوشاں ہے اور یہ ٹراما سینٹر اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہدایات دیتے ہوئے کہ منصوبے کی بروقت تکمیل اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ ٹراما سینٹر ایک اہم عوامی نوعیت کا منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے شہریوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے میں شفافیت، معیار اور رفتار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے اور صحت کے شعبے میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے متعلقہ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ منصوبے پر جاری کام تیزی سے جاری ہے اور اسے مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ٹراما سینٹر کی تکمیل سے نہ صرف کوئٹہ بلکہ گرد و نواح کے علاقوں کے عوام کو بھی بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔
۔۔۔





