خبرنامہ نمبر379/2026
کوئٹہ: 19 جنوری :عدالتِ عالیہ بلوچستان کے جج جسٹس نجم الدین مینگل کی بطور مستقل جج حلف برداری کی تقریب عدالت عالیہ بلوچستان کے آڈیٹوریم ہال میں منعقد ہوئی۔تقریب میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے جسٹس نجم الدین مینگل سے بطور مستقل جج حلف لیا۔ حلف برداری کی اس پروقار تقریب میں عدالت عالیہ بلوچستان کے معزز ججز، اعلیٰ عدالتی افسران، سینئر وکلائ اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر380/2026
کوئٹہ 19جنوری :صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ صوبے میں سب اکاؤنٹنٹ کی آسامیوں پر مکمل میرٹ اور جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت شفاف بھرتیوں کا عمل خوش آئند اور قابلِ تحسین فعل ہے۔ انہوں نے اس احسن اور مثالی اقدام پر وزیراعلیٰ بلوچستان کو مبارک باد دی اور ان کے قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا، ان کی میرٹ پر مبنی وژن کی بدولت یہ شفاف عمل ممکن ہوا۔انہوں نے کہا کہ سےکرٹری خزانہ عمران زرکون کی میرٹ پر مبنی پالیسی لائقِ تحسین ہیں جنہوں نے اس پورے بھرتی کے عمل کو پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کامیابی سے سر انجام دیا۔ اس شفاف بھرتی کے عمل کا مکمل کریڈٹ عمران زرکون اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بھرتی کے عمل میں شامل تمام کمیٹی ممبران کی کاوشیں وخدمات بھی قابلِ ستائش ہیں جنہوں نے میرٹ کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا اور کسی بھی قسم کی سفارش یا دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ انہوں نے کامیاب ہونے والے تمام محنتی اور اہل نوجوانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے شفاف اور میرٹ پر مبنی اقدامات سے نہ صرف مستحق افراد کو ان کا حق ملتا ہےاور بلکہ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن ہو نےمیں معاون ثابت ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ حکومت پر عوامی حلقوں کا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبائی حکومت آئندہ بھی میرٹ، شفافیت اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار کرنے اور اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں گی ۔
خبرنامہ نمبر381/2026
کوئٹہ، 19 جنوری ::صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے کراچی کے علاقے گل پلازہ میں واقع شاپنگ سینٹر میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم اور دلی افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر ہونے والے مالی نقصان نے دل کو بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک المناک سانحہ ہے جس نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پوری قوم کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے حاجی نور محمد خان دمڑ نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی خصوصی دعا کی صوبائی وزیر خوراک نے مزید کہا کہ وہ اس افسوسناک واقعے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر متاثرہ خاندانوں، تاجروں اور تمام متعلقہ افراد کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس مشکل گھڑی میں ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
خبرنامہ نمبر382/2026
کوئٹہ19 جنوری: صوبائی وزیرِ خوراک و چیئرمین فوڈ اتھارٹی بلوچستان حاجی نور محمد خان دمڑ نے ضلع زیارت کے تمام ایگزیکٹو افسران سے سرینا ہوٹل کوئٹہ میں اہم اجلاس منعقد کیا ۔اجلاس میں اُن کے پرسنل سیکرٹری موسیٰ کاکڑ بھی موجود تھے اجلاس کے دوران ضلع زیارت میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا صوبائی وزیرِ خوراک نے تمام ایگزیکٹو افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں کا خود موقع پر جا کر معائنہ کریں اور کام کے معیار و رفتار کا باقاعدہ جائزہ لیتے رہیں انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی حاجی نور محمد خان دمڑ نے کہا کہ ضلع زیارت میں جاری ترقیاتی منصوبے علاقے کے عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف بنیادی سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کے معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر جاری کام کی رفتار اطمینان بخش ہے اور امید ہے کہ تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں گے اجلاس کے دوران صوبائی وزیرِ خوراک نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے ہسپتالوں کے ماحول کو بہتر بنایا جائے، مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور تمام مریضوں کا بروقت معائنہ اور مؤثر علاج یقینی بنایا جائے اس موقع پر تمام متعلقہ افسران نے صوبائی وزیرِ خوراک کو یقین دہانی کرائی کہ عوامی مفاد سے وابستہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو بروقت، شفاف اور معیاری انداز میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت اور علاقے کی ترقی کے لیے بھرپور محنت کی جا رہی ہے، جسے مقامی عوام کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔
خبرنامہ نمبر383/2026
کوئٹہ 19 جنوری ۔ صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا کہ بلوچستان موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کی زد میں ہے، جہاں بارشوں کی غیر معمولی کمی، درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی قلت اور زرعی زمینوں کی بربادی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق :”بلوچستان ماحولیاتی لحاظ سے ایک حساس صوبہ ہے، ہمیں مستقبل کے خطرات کو روکنے کے لیے آج اقدامات کرنے ہوں گے۔ صوبائی مشیر نے کہا کہ شجرکاری، پانی کے ذخائر کی حفاظت اورصاف توانائی کو فروغ دیناحکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صوبائی مشیر ماحولیات نسیم الرحمن ملاخیل نے اپنے ایک بیان میں اس بارے میں کہا کہ:”بلوچستان میں کلائمیٹ چینج کے اثرات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے صوبے بھر میں ‘گرین بلوچستان’ مہم کے تحت بڑے پیمانے پر شجرکاری، آلودگی کنٹرول اور ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔”انہوں نے مزید بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے عوام، سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اعتماد میں لیاجارہاہے۔”ماحول کو بہتر بنانا صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم ضلعی سطح پرماحولیاتی کمیٹیاں قائم کر رہے ہیں تاکہ مقامی سطح پر مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ممکن ہو سکے۔” اور عوام میں اس حوالے سے بہتر شعور پیدا ہو سکےحکومت بلوچستان کا مؤقف ہے کہ وفاقی سطح پر کلائمیٹ فنانسنگ میں بلوچستان کو جائز حصہ دیا جائے تاکہ صوبہ اس چیلنج کا مؤثر طور پر مقابلہ کر سکے۔
خبرنامہ نمبر384/2026
کوئٹہ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق پیر کومحکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمالی اضلاع میں موسم شدید سرد اور جزوی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے۔ شام کے وقت ضلع چاغی (نوکنڈی، دالبندین)، نوشکی، خاران، کیچ (تربت)، پنجگور اور واشک میں تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ ان ہواؤں کے باعث درجہ حرارت کی شدت میں نمایاں کمی محسوس کی جائے گی اور سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔منگل کے روز بھی صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمالی اور مغربی اضلاع میں موسم شدید سرد اور جزوی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے۔ شام کے وقت ضلع چاغی (نوکنڈی، دالبندین)، نوشکی، خاران، کیچ (تربت)، پنجگور اور واشک میں تیز اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ اس دوران ضلع گوادر (جیوانی، گوادر اور پسنی) اور ضلع کیچ (تربت) میں شام یا رات کے وقت ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی بھی توقع ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہا، جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں رات اور صبح کے اوقات میں موسم شدید سرد رہا۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں سب سے کم درجہ حرارت منفی 6.0 ڈگری سینٹی گریڈ قلات میں ریکارڈ کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر385/2026
کوئٹہ:19جنوری،:صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو جدید خطوط اور دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی ہیڈکوارٹر میں لائیو آپریشن مانیٹرنگ سسٹم اور ڈیجیٹل فائل ٹریکنگ سسٹم کے افتتاح کے موقع پر کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق صوبے بھر میں خوراک کے معیار کی بہتری، شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ جدید ڈیجیٹل سسٹمز کے نفاذ سے نہ صرف انتظامی امور میں شفافیت آئے گی بلکہ عوام کو تیز اور بہتر سروس ڈیلیوری بھی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان فوڈ اتھارٹی میں اصلاحاتی عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔حاجی نور محمد دمڑ کا کہنا تھا کہ لائیو آپریشن مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے فیلڈ سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی ممکن ہو گی جبکہ ڈیجیٹل فائل ٹریکنگ سسٹم سے دفتری امور میں تاخیر کا خاتمہ اور جوابدہی کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی وقار خورشید عالم نے چیئرمین بی ایف اے کو لائیو آپریشن مانیٹرنگ سسٹم اور ڈیجیٹل فائل ٹریکنگ سسٹم کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ یہ اقدامات اتھارٹی کی کارکردگی کو مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ مزیدبرآں صوبائی وزیر خوراک نے ڈیجیٹل اصلاحات کے بروقت نفاذ پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے افسران اور اہلکاران کی کارکردگی کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے فوڈ سیفٹی کے نظام کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا، تاکہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی شفافیت، کارکردگی اور عوامی خدمت کے اصولوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی اور خوراک کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر386/2026
گوادر:ڈپٹی کمشنر گوادر نے تعلیمی سیشن 2025-2026 کے لیے فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلے کے خواہشمند تمام امیدواروں کو مطلع کیا ہے کہ انٹرویوز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔جاری کردہ اعلامیے کے مطابق امیدواروں کے انٹرویوز اور لوکل و ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کی جانچ پڑتال کے لیے 26 جنوری 2026 (بروز پیر) صبح 10:30 بجے دفتر ڈپٹی کمشنر گوادر میں ہوں گے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام متعلقہ امیدوار مقررہ تاریخ اور وقت پر اپنی حاضری یقینی بنائیں، مقررہ وقت گزرنے کے بعد کسی امیدوار کو انٹرویو کے لیے شامل نہیں کیا جائے گا۔
امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انٹرویو کے موقع پر درج ذیل اصل دستاویزات ہمراہ لائیں:
اصل قومی شناختی کارڈ / لوکل سرٹیفکیٹ
والد کا اصل قومی شناختی کارڈ
اصل تعلیمی اسناد اور دیگر تمام متعلقہ دستاویزات
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد ان کی تصدیق متعلقہ حکام کو ارسال کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر387/2026
نصیرآباد19جنوری:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت زرعی انکم ٹیکس، عشر اور آبیانہ کی وصولی کے حوالے سے محکمہ ریونیو نصیرآباد کے افسران کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی، تحصیل داران، نائب تحصیل داران، پٹواری قانون گو اور دیگر عملہ مال نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران افسران نے اپنے اپنے علاقوں میں سرکاری واجبات کی وصولی سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ تمام عملہ مال سرکاری واجبات کی وصولی پر خصوصی توجہ دیں اور جن کے ذمہ بقایاجات ہیں انہیں ہر صورت وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ اجلاس سے قبل مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور پیش رفت سے متعلق اسسٹنٹ کمشنر کو بروقت آگاہی فراہم کی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے عملہ مال پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی، دیانت داری اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ سرانجام دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکامِ بالا کی جانب سے بھی سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں جن پر مکمل عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر388/2026
زیارت 19جنوری : ڈپٹی کمشنر زیارت محمد عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت تمام محکموں کے افسران کا تعارفی جلاس منعقد ہوا ۔اس موقع پر تمام محکموں کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو محکمانہ امور کے بارے میں بریفنگ دی اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر زیارت سجاد الرحمٰن،اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی شیرشاہ غلزئی بھی موجود تھےڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے افسران کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ افسران اپنے جائے تعیناتی پر موجودگی کو یقینی بنائیں اپنے اسپورٹنگ اسٹاف کو حاضر کریں،تمام افسران ایک ٹیم ورک کے طور پر کام کریں اور سرکاری ذمہ داریوں کو ایمانداری سے ادا کریں اور عوام کے مسائل حل کریں، سرکاری کام میں غفلت پر کاروائی ہوگی۔انہوں نے کہا تعلیم،صحت، امن وامان پر مکمل فوکس کریں گے ،زیارت کی خوبصورتی صنوبر کے جنگلات کی وجہ سے ہے صنوبر کے جنگلات کی کٹائی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی۔ جنگلات کی کٹائی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ زیارت کے عوام کا گزر بسر زراعت سے ہے، کسانوں کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں زراعت کے افسران کسانوں کو مکمل ریلیف دیں،محکمہ لائیو سٹاک زیارت مالداروں کے مسائل ترجیی بنیادوں پر حل کریں۔ انہوں نے کہاکہ افسران خادم بن کر کام کریں اور آپس میں رابطہ رکھ کر عوام کے مسائل حل کریں انہوں نے کہا کہ عوام کو کسی بھی شکایت کا موقع نہ دیں بلکہ عوام کی دادرسی کریں گے انہوں نے کہاتعلیم اور صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زیارت کی رونقیں انشائ اللہ دوبارہ بحال کریں گے اور زیارت کو امن کا گہوارہ بنائیں گے، زیارت ایک جنت النظیر وادی سیاحتی مقام ہے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کریں گے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ آنے والے ممکنہ برف باری کے دوران اپنے جائے تعیناتی پر موجود رہے اور اپنے اسٹاف کو حاضر اور مشینری کو سٹینڈ بائی رکھیں۔
خبرنامہ نمبر389/2026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت کوئٹہ شہر میں بڑے نالوں کی صفائی، نکاسی? آب کے نظام کی بہتری اور شہر کی خوبصورتی کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم منعقد ہوا۔ اجلاس میں نالوں کی جامع صفائی، تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ ریڑھی بانی اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کے روزگار کے تحفظ، اور کوئٹہ شہر کی مجموعی خوبصورتی کو مزید نکھارنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ شہر میں نالوں کی مرحلہ وار اور جامع صفائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ان نالوں کو پائیدار اور مضبوط سلیب کے ذریعے ڈھانپا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ ریڑھی بانوں اور چھوٹے تاجروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بغیر کسی خطرے کے اپنا روزگار جاری رکھ سکیں۔ اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ مجیب الرحمٰن قمبرانی نے منصوبے کے عملی نفاذ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جس میں نالوں کی صفائی، ملبے کی بروقت نکاسی، سلیب کی تنصیب، ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کے تحفظ، اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر کام مکمل کرنے کے عملی مراحل پر روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر سیکرٹری ایریگیشن سہیل الرحمٰن بلوچ نے کوئٹہ شہر کے آٹھ بڑے نالوں کی صفائی اور نکاسی آب سے متعلق جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ ان نالوں کی باقاعدہ صفائی سے نہ صرف شہر میں سیلابی صورتحال سے بچاؤ ممکن ہوگا بلکہ بارش کے پانی کی روانی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ نالوں کی صفائی اور انہیں ڈھانپنے کا یہ منصوبہ شہر کے مرکزی بازاروں، گلی محلوں اور اہم شاہراہوں پر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، اور سلیب اس معیار کے ہوں کہ وہ ٹریفک اور پیدل چلنے والوں دونوں کے لیے محفوظ ہوں۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ محکموں کو سختی سے ہدایت کی کہ صفائی مہم اور نالوں کی بحالی کا عمل ہر صورت مارچ کے اختتام تک مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو فوری اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ہر پندرہ دن بعد پیش رفت کا جائزہ لے گی۔ اجلاس کے اختتام پر چیف سیکرٹری نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ شہر کی صفائی اور خوبصورتی کے لیے حکومت کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ذاہد سلیم، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عبدالرؤف بلوچ، کمشنر کوئٹہ شاہ زیب کاکڑ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی-
خبرنامہ نمبر390/2026
کوئٹہ 19جنوری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سید نصیر علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر سریاب، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) اور تمام متعلقہ ڈی ڈی اوز نے شرکت کی۔اجلاس میں فیز تھری کی تعیناتیوں، نان فنکشنل اسکولوں، بی ای ایم آئی ایس، ایس بی کے کے ذریعے تعینات ہونے والے اساتذہ کی تنخواہوں، جائے تعیناتی اور مسلسل غیر حاضر رہنے والے اسٹاف کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے تمام ڈی ڈی اوز سے نان فنکشنل اسکولوں کا مکمل ڈیٹا طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جہاں اسکولوں کی عمارت موجود نہیں وہاں کا ڈیٹا پیش کیا جائے تاکہ فوری طور پر عمارت کا بندوبست کیا جا سکے اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں میں آبادی نہ ہونے کی وجہ سے اسکول نان فنکشنل ہیں، انہیں قریبی فعال اسکولوں میں ضم کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے واضح کیا کہ نان فنکشنل اسکولوں کو ہر صورت میں فنکشنل کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے ہفتہ وار ایک اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔
خبرنامہ نمبر391/2026
کوئٹہ 19جنوری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت *ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوئٹہ ڈاکٹر ایمل مندوخیل، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر فرید پانیزی، ایم ایس مفتی محمود ہسپتال ڈاکٹر وکیل شیرانی، ڈی ایم ایس بی ایم سی، پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ، ڈرگ انسپکٹر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈی ایچ او کوئٹہ نے ضلع کوئٹہ کے تمام آر ایچ سیز میں حاضر سٹاف اور ادویات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی نے کوئٹہ کے 49 بی ایچ یوز کی مجموعی کارکردگی، سہولیات اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈرگ کنٹرولر نے ادویات کی دستیابی اور نگرانی سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ایم ایس مفتی محمود ہسپتال ڈاکٹر وکیل شیرانی نے ہسپتال میں موجود سٹاف، او پی ڈیز کی تعداد اور ہسپتال کو درپیش مسائل سے متعلق بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت صحت کی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ بنیادی صحت مراکز میں سٹاف کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر392/2026
کوئٹہ 19جنوری۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت ضلع قلعہ عبداللہ اور چمن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈائریکٹر ڈوپلیمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد، اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن سید محمد کلیم، ڈی آئی جی ژوب جبکہ ڈپٹی کمشنر چمن، ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ، ایس پی چمن اور ایس پی قلعہ عبداللہ نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں ضلع قلعہ عبداللہ اور چمن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں، قومی شاہراہوں پر پٹرولنگ، منشیات کے خلاف اقدامات اور پوست کی کاشت کے تدارک کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی شاہراہوں پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایف سی اور موٹروے پولیس مشترکہ طور پر اسنیپ چیکنگ اور جوائنٹ پٹرولنگ کریں گی تاکہ قومی شاہراہوں پر گاڑیوں اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر فورتھ شیڈول کو اپ ڈیٹ کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پوست کی کاشت کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ پوست کی کاشت کے خلاف ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایف سی اور اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) مشترکہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کریں۔ این ایف کے پلان کے مطابق ٹیوب ویلز اور سولر پلیٹس ضبط کی جائیں جبکہ پوست کی کاشت میں ملوث ذمہ دار افراد اور کسانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز اور پولیس حکام نے اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان کی صورتحال اور پوست کی کاشت کے خلاف جاری کارروائیوں پر کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ قومی شاہراہوں پر جوائنٹ پٹرولنگ اور اسنیپ چیکنگ کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر393/2026
کوئٹہ 19جنوری۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت کوئٹہ واٹر سیکیورٹی اینڈ ریسورسز ایکشن پلان کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ظہور احمد، پروجیکٹ ڈائریکٹر کیو ڈی پی رفیق بلوچ، محکمہ واسا، محکمہ ایریگیشن، بیوٹمز، یونیورسٹی آف بلوچستان کے ماہرین، متعلقہ ایکسپرٹس اور انجینیئرز نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ شہر میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے، پانی کے غیر ضروری اور غیر قانونی استعمال کی روک تھام اور مستقبل میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکائ کو بتایا گیا کہ کوئٹہ میں پانی کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند سالوں میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واٹر ایمرجنسی ایکشن پلان پر مؤثر اور فوری عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ٹیوب ویلز، زرعی اور کمرشل مقاصد کے لیے بے دریغ پانی کے استعمال کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، جو مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے سخت اور عملی فیصلے ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں ایک جامع ایمرجنسی ایکشن پلان مرتب کرنے، نئے پانی کے ذخائر کی تلاش، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب، کار واشز اور دیگر کمرشل یونٹس کو متبادل پانی فراہم کرنے کی پالیسی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں زرعی شعبے میں پانی کے زیادہ استعمال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ چونکہ سب سے زیادہ پانی زراعت اور باغات میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے زرعی زمینوں کے لیے اسپرنکلر اور ڈرپ ایریگیشن سسٹم متعارف کروانا ناگزیر ہے تاکہ کم سے کم پانی کے استعمال سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ زیرِ زمین پانی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ استمعال اور ریچارج کے عمل میں توازن پیدا ہو سکے۔ اس حوالے سے قلیل اور طویل المدتی پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں سروس اسٹیشنز، زرعی استعمال اور دیگر متبادل مقاصد کے لیے پانی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی۔ شرکائ کو آگاہ کیا گیا کہ اگر پانی کے ضیاع کو نہ روکا گیا اور ریچارج پوائنٹس نہ بنایا گیا تو آئندہ پانچ سے دس سال کے دوران کوئٹہ کو پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گھروں اور سرکاری عمارتوں میں چھوٹے ریچارج پوائنٹس قائم کیے جائیں تاکہ بارش کے پانی کو محفوظ بنا کر زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے واضح اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کریں۔آخر میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون سے جلد از جلد واٹر سیکیورٹی اینڈ ریسورسز ایکشن پلان کو مرتب کریں تاکہ کوئٹہ شہر کو مستقبل کے پانی کے سنگین بحران سے بچایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر394/2026
سینٹرل پولیس آفس بلوچستان کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ایس پی خاران منظور احمد بلیدی کو سینٹر ل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ ایس پی انوسٹی گیشن سٹی اینڈ صدر ڈویژن کوئٹہ عبدالسلام کاکڑ کو ایس پی خاران تعینات کیا ، ڈی ایس پی لیگل بلوچستان کانسٹیبلری کوئٹہ سلمان احمد خان کو سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ، ایس ڈی پی او کینٹ سرکل کوئٹہ عبدالرب کو ایس ڈی پی او ایئر پورٹ سرکل کوئٹہ ، ڈی ایس پی سیکورٹی سول سیکرٹریٹ کوئٹہ سید نصیر الحسن شاہ کو ایس ڈی پی او کینٹ سرکل کوئٹہ تعینات کیا ، تعیناتی کے منتظر سی پی او کوئٹہ سلیم جاوید شاہوانی کو ڈی ایس پی سیکورٹی سول سیکرٹریٹ کوئٹہ تعینات کیا ، ڈی ایس پی (پی ٹی سی) کوئٹہ نبی بخش کو سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ، تعیناتی کے منتظر سی پی او کوئٹہ ارشد خان جدون کو ڈی ایس پی (پی ٹی سی ) کوئٹہ جبکہ ڈی ایس پی محمود محمد کو پی ٹی سی کوئٹہ سے ایس ڈی انوسٹیگیشن آفیسر کینٹ سرکل کوئٹہ تعینات کر دیا گیا ۔
خبرنامہ نمبر395/2026
جعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت بی ایس ڈی آئی فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد کاظم لونی، ایگزیکٹو انجینیئر ایریگیشن و ڈرینیج گل حسن کھوسہ چیف افیسر میونسپل کارپوریشن احمد نواز جتک سمیت مختلف محکموں کے ضلعی سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بی ایس ڈی آئی فیز ون کی تکمیل کی موجودہ صورتحال، بلوں کی بروقت جمع آوری اور کلیئرنس کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ فیز ٹو کے تحت منظور شدہ اسکیموں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی منصوبہ بندی پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں فیز ون اور فیز ٹو کے تحت شامل تمام ترقیاتی منصوبوں کے سائٹ دوروں، کام کے معیار، رفتار اور شفافیت سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی اسکیمیں عوامی فلاح و بہبود سے براہ راست منسلک ہیں، اس لیے ان کی بروقت تکمیل، اعلیٰ معیار اور شفاف عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیز ون کے مکمل شدہ منصوبوں کے بلوں کی کلیئرنس میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے اور فیز ٹو کے منصوبوں پر کام مقررہ ٹائم لائن کے مطابق شروع اور مکمل کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام محکمے باہمی رابطہ اور مؤثر کوآرڈینیشن کے ساتھ کام کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ تمام پروجیکٹس کے باقاعدہ سائٹ وزٹس کیے جائیں گے اور کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد نے مزید کہا کہ ترقیاتی اسکیموں میں شفافیت، رفتار اور معیار حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے۔
خبرنامہ نمبر396/2026
زیارت 19جنوری : ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر رفیق مستوئی ،ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین،ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی نثاراحمد ترین،پی پی ایچ آئی افسر ریحان کاکڑ،اجلاس میں محکمہ صحت کو فعال کرنے کے لیے مختلف فیصلے کئے گئے ۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ تمام ہسپتالوں میں ادویات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ادویات کے سلسلے میں کوئی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ تمام ڈاکٹرزاورمددگار سٹاف ہسپتالوں میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور دکھی انسانیت کی خاطر مریضوں کا بروقت علاج کریں، عوام کو کسی بھی شکایت کا موقع نہ دیں عوامی شکایات پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔انہوں نے صحت جیسے اہم شعبے کی فعالیت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں اس سلسلے جو حکومتی وسائل ہے ان کو بروئے کار لایا جائے گا۔انہوں نے کہاغیرحاضر ڈاکٹرز کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر397/2026
سبی 19 جنوری:ضلعی انتظامیہ سبی کی جانب سے اقلیتی برادری کے مسائل سننے اور ان کے فوری تدارک کے لیے سرکٹ ہاؤس سبی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کے مہمانِ خصوصی صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی تھے، جبکہ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کھلی کچہری میں ہندو، عیسائی اور والمیک برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکائ نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی اور ضلعی انتظامیہ سبی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقلیتی برادری کے مسائل ان کی دہلیز پر سننے اور ان کے بہتر حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ مختلف اقلیتی کمیونٹیز کے نمائندوں اور رہنماؤں نے اپنے مسائل سے آگاہ کیا، جن میں میرج ہال کی تعمیر، آب نوشی و نکاسی آب کے مسائل، شمشان گھاٹ سے متعلق امور اور دیگر بنیادی مسائل شامل تھے۔ کھلی کچہری میں مختلف ضلعی محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی نے کہا کہ موجودہ حکومت اقلیتی برادری کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس موقع پر کھلی کچہری میں پیش کیے گئے مسائل پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے متعدد امور کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لیے خود ان کی دہلیز پر موجود ہے تاکہ مسائل کا فوری ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقلیتی برادری کو کسی صورت مسائل تلے نہیں چھوڑا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو پروگرام کے تحت اقلیتی برادری کے لیے متعدد ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں، جن کی تکمیل سے اقلیتی برادری کے مسائل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ فیز ون میں متعدد منصوبے فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ آئندہ مرحلے میں بھی ضروری نوعیت کے کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر398/2026
سبی 19 جنوری:صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی نے سرکٹ ہاؤس سبی میں اقلیتی برادری کے مستحق افراد میں مالی معاونت کے چیک تقسیم کیے۔ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی سمیت ہندو، عیسائی اور والمیک برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران 200 سے زائد مستحق اقلیتی افراد میں چیک تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر اقلیتی برادری کے نمائندوں نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سبی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مستحق افراد کی مالی معاونت کو یقینی بنایا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی نے کہا کہ عبادت گاہوں، گرجا گھروں اور مندروں کی تعمیر اپنی جگہ اہم ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ اقلیتی نوجوان روزگار کے حصول پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنا حکومت کا مینڈیٹ ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اقلیتی برادری کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کرا رہی ہے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اقلیتی برادری کے مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات مستحق افراد تک شفاف انداز میں پہنچائی جائیں گی۔
Handout no 399/2026
Kalat:
Important progress has been made in the activation of the vegetable market of Kalat, which has been inactive for many years. According to official sources, with the decisions of the District Coordination Committee, Deputy Commissioner Kalat Munir Ahmad Durrani, Brigadier Nasir329brigad, Chairman Municipal Committee Nawabzada Shoaib Jan Zehri, the allotment of shops in the vegetable market has been started through open bidding at market rates in a transparent manner. On this occasion, Additional Deputy Commissioner Shahnawaz Baloch, Assistant Commissioner Tahir Sanjrani, Major Abdal, Chief Officer Municipal Committee Qazi Siraj Ahmad Dawar were present. Today, on January 19, vegetable vendors from shop number 01 to shop number 50 participated in the bidding. Deputy Commissioner Kalat Munir Ahmad Durrani said that all means are being used to activate the vegetable market. The allotment of shops is being done on complete transparency and merit. No injustice will be allowed to be done to anyone. Apart from vegetable vendors, meat vendors and fruit vendors of Kalat No shop will be allotted to any person from outside the district.
خبرنامہ نمبر 400/2026
کوئٹہ، 19 جنوری:چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی موجودگی میں حکومتِ بلوچستان اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان عوام، ورکنگ ویمن اور طلبہ کے لیے الیکٹرک اسکوٹیز کی سبسڈائزڈ اقساط پر فراہمی سے متعلق مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے اس موقع پر صوبائی وزیر میر صادق عمرانی، اعلیٰ صوبائی حکام جبکہ نیشنل بینک آف پاکستان کے سینئر عہدیداران بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حکومت بلوچستان اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام، طلبہ اور بالخصوص ورکنگ ویمن کو بہتر، باوقار اور سستی سفری سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ الیکٹرک اسکوٹیز کی یہ اسکیم معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے نہ صرف سفری مشکلات میں کمی کا باعث بنے گی بلکہ ایندھن کے متبادل، کم لاگت اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسی تمام اسکیموں اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے گی جن کے براہِ راست فوائد عوام تک پہنچیں اور جن سے روزمرہ زندگی میں سہولت اور بہتری آئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود پر مبنی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں، خواتین اور عام شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر 401/2026
قلعہ سیف اللہ: ڈپٹی کمشنر ساگر کمار سے ہیلتھ کیئر کمیشن کے وفد کی ملاقات
قلعہ سیف اللہ میں ڈپٹی کمشنر ساگر کمار سے ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران کے ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں ضلع میں محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی، جاری پیش رفت اور درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران نے ضلع میں صحت کے مراکز، ہسپتالوں اور نجی و سرکاری طبی اداروں کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر محکمہ صحت میں ہونے والی پیش رفت، طبی سہولیات کی بہتری، مریضوں کو معیاری علاج کی فراہمی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط پر تفصیلی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے صحت کے شعبے میں شفافیت (ٹرانسپرنسی) کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ ملاقات میں ملازمین کی حاضری، ڈیوٹی کی پابندی، طبی عملے کی کارکردگی اور شکایات کے بروقت ازالے کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ہیلتھ کیئر کمیشن کے وفد نے محکمہ صحت کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں، جن میں نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا، ہسپتالوں اور صحت مراکز کے معائنے، ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا شامل تھا۔ اس کے علاوہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صحت کے تمام اداروں میں نظم و ضبط، شفافیت اور ملازمین کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور عوامی شکایات کا فوری اور مؤثر حل نکالا جائے۔ ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور ہیلتھ کیئر کمیشن باہمی تعاون سے محکمہ صحت کو مزید فعال اور بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔
خبرنامہ نمبر 402/2026
نصیرآباد19جنوری:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ نے تحصیلدار معظم علی جتوئی کے ہمراہ شہر میں تجاوزات اور خلافِ ضابطہ سرگرمیوں کے خلاف بھرپور آپریشن کیا۔ اس دوران سندھ بلوچستان قومی شاہراہ پر قائم غیرقانونی تجاوزات کو ہٹا دیا گیا جبکہ متعدد ریڑھیاں بھی ضبط کرلی گئیں۔ آپریشن کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے اشیاءخوردونوش کی قیمتوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور گراں فروشی میں ملوث کئی دکانداروں اور سبزی فروشوں پر موقع پر ہی جرمانے عائد کیے۔ کارروائی کے موقع پر نائب تحصیلدار مہتاب مری اور سید سجاد شاہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے جبکہ میونسپل کمیٹی کے چیف آفیسر سلیم خان ڈومکی کے احکامات پر میونسپلٹی عملہ بھی اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دیتا رہا۔ اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے دکانداروں، ریڑی بانوں اور دیگر تجاوزات قائم کرنے والوں کو سختی سے تنبیہ کی کہ وہ فوری طور پر تجاوزات سے باز رہیں بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے جس کا خمیازہ شہریوں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اور اس صورتحال کو ضلع انتظامیہ کسی صورت برداشت نہیں کرے گی، شہریوں کے مسائل کے حل، ٹریفک کی بہتری اور قانون کی عملداری کے لیے ایسے آپریشنز آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر 403/2026
کوئٹہ19جنوری: قائمقام گورنر بلوچستان غزالہ گولا نے سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں آتشزدگی سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصانات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک واقعہ سے ہم سب غمزدہ ہیں۔ توقع ہے کہ موجودہ حکومت کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں آگ لگنے سے ہونے والے نقصانات کو ٹھیک کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریگی۔ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کیلئے ہمیں ہر ڈسٹرکٹ کی سطح پر سنجیدہ اقدامات کرنے ہونگے۔
خبرنامہ نمبر 404/2026
کوئٹہ 19جنوری: قائمقام گورنر بلوچستان غزالہ گولہ سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی ۔ملاقات کے دوران صوبے کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور جاری ترقیاتی منصوبوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ ان جاری ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے لوگوں کی زندگیوں میں ٹھوس مثبت تبدیلی لانے کیلئے ان منصوبوں کے موثر نفاذ اور بروقت تکمیل کی اہمیت پر زور دیا۔ قائمقام گورنر اور وزیراعلیٰ نے صوبے کو درپیش چیلنجز بشمول غربت، بیروزگاری اور انفراسٹرکچر کی کمی سے نمٹنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء اور پارلیمنٹرینز میں سے صادق عمرانی، بخت محمد کاکڑ، سردار فیصل جمالی ، زرک خان مندوخیل ، سردار غلام رسول عمرانی اور سردار کوہیار خان ڈومکی بھی موجود تھے۔
خبرنامہ نمبر 405/2026
نصیرآباد ۔19 جنوری :تحصیل مچھ میں عوامی مسائل کے حل کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت تحصیل مچھ میں ایک اہم کھلی کچہری منعقد کی گئی جس میں بڑی تعداد میں مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں قبائلی عمائدین سماجی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں نے شرکت کی
کھلی کچہری کے دوران شرکاء نے علاقے کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کی اور متعدد شکایات پیش کیں جن میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت صحت اور تعلیم کی سہولیات کی کمی بجلی اور سوئی گیس کے مسائل سڑکوں کی خراب حالت صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال امن وامان سمیت دیگر سماجی و شہری مسائل شامل تھے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل نے تمام شکایات نہایت غور اور سنجیدگی سے سنیں اور موقع پر موجود تمام محکمہ جاتی افسران کو ہدایات جاری کیں کہ عوامی مسائل کو فوری اور ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی محکمے کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کھلی کچہری جیسے فورمز عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کا موثر ذریعہ ہیں جن کا مقصد مسائل کو عوام کی دہلیز پر سن کر بروقت حل کرنا ھوتا ھے انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں رہ کر عوامی شکایات کے مستقل ازالے کیلئے فعال کردار ادا کریں اور طے شدہ مدت کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرائیں آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ضلعی انتظامیہ کچھی عوام کی خدمت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور علاقے کی ترقی و خوشحالی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے آخر میں کہاکہ کھلی کچہری میں شہریوں کی جانب سے جو مسائل پیش کیے گئے ان کے حل کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے ضلع کی سطح پر بھی اور اعلی حکام تک بھی تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 406/2026
چمن 19 جنوری:اے ڈی سی چمن فدا بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن آفیسر و دیگر افسران شریک تھے۔
اجلاس میں ضلع چمن کی تمام تعلیمی درسگاہوں اور افسران کی کارکردگی اور انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں ڈی سی چمن کو ڈی ای او میل اور فیمیل نے ضلع چمن محکمہ تعلیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اجلاس میں ضلع چمن کو محکمہ تعلیم کو درپیش ضروری سہولیات کی کمی اور فراہمی کے حوالےسے بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور مختلف تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل اور مشکلات پر بحث کی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اے ڈی سی چمن نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی تمام آفیسران اور سٹاف کی حاضریوں اور وقت کی پابندی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر ہم سختی سے کار بند رہیں گے کیونکہ طلباء و طالبات کی پڑھائی اور درس وتدریس کا دارومدار اساتذہ کی حاضریوں اور کلاسوں میں موجودگی پر منحصر ہے انہوں نے کہا کہ اس حوالےسے ہم کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کا مظاہرہ نہیں کریں گے اے ڈی سی چمن نے کہا کہ تمام مانیٹرنگ ٹیمیں مانیٹرنگ کی عمل کو تیز کریں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی حالت سدھارنے کیلئے کمیونٹی اور ڈیپارٹمنٹ کا ایک دوسرے کیساتھ روابط بڑھانے اور کوآپریشن کرنا بے حد ضروری ہے انہوں نے کہا کہ جدید تعلیم حاصل کیے بغیر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو سکتے لہذا ہم سب کو تعلیمی اہداف کو حاصل کرنے کیلئے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات دیانتداری اور ایمانداری سے انجام دینا ہوں گے انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک و قوم جدید سائنسی وٹیکنیکل تعلیم حاصل کیے بغیر ترقی حاصل نہیں کر سکتی
خبرنامہ نمبر 407/2026
چمن 19 جنوری :اے ڈی سی چمن فدا بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر نوید بادینی، ڈپٹی ڈی ایچ او چمن، ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر اویس اور دیگر افسران شریک تھے اجلاس میں ڈی سی چمن کو محکمہ صحت چمن کی مجموعی صورتحال جس میں نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈسپنسریز، بی ایچ یوز محکمہ صحت کی تمام یونٹس میں ادویات کی سٹاک طبی آلات مشینری اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی ادویات اور دیگر ضروری سامان و سہولیات انفراسٹرکچر ڈاکٹرز پیرا میڈیکس سٹاف کی حاضریوں پرفارمینس کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں اجلاس سے اپنے خطاب میں اے ڈی سی چمن نے تمام ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹروں پیرامیڈیکس اور سٹاف کی حاضریوں اور وقت کی پابندی کو ازحد ضروری قرار دیا انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اور تمام سٹاف عوام کی علاج و معالجہ کو ایک مقدس فریضہ سمجھ کر اپنی ڈیوٹیاں استقامت کیساتھ ایمانداری اور دیانتداری سے انجام دیں کیونکہ حکومت ہمیں تنخواہیں اور دیگر مراعات اسی مد میں ادا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹروں اور سٹاف کی حاضریوں پر ہم کسی قسم کی مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہیں کریں گے کیونکہ ڈاکٹرز اور سٹاف کی تھوڑی سی غفلت لاپروائی سے مریضوں کی جان کو شدید نقصان پہنچنے اور خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے لہذا ہم سب کو بحیثیت مجموعی ذمہداری کا مظاہرہ کر کے بہترین کارکردگی دکھانی ہوگی تاکہ ہم ممکن حد تک مریضوں کی علاج و معالجہ میں کامیابی سے ہمکنار ہوں.
خبرنامہ نمبر 408/2026
خضدار 19 جنوری : ایف سی قلات اسکائوٹس کے زیر اہتمام جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال خضدار میں دو روزہ فری آئی میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہ کیمپ آج پورا دن جاری رہا اور کل بھی جاری رہے گا۔ کیمپ میں کراچی سے آئے ہوئے ماہر چشم ڈاکٹر ابرار اور ڈاکٹر زاہد حسین اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ کیمپ کے دوران معذور افراد کا علاج، سرجری اور آپریشن کیا جا رہا ہے جبکہ مریضوں کو موتیا مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ جب ضلع بھر سے شہریوں نے کثیر تعداد میں فرئی آئی کیمپ میں شرکت کی۔فری آئی میڈیکل کیمپ کو دی سوسائٹی فار دی پریوینشن اینڈ کیور آف بلائنڈنیس (SPCB) اور اپوا شیریں بانو آئی ہسپتال کراچی کی معاونت حاصل تھی۔ کیمپ کے پہلے دن کمانڈنٹ ایف سی قلات اسکائوٹس کرنل عرفان نے کیمپ کا تفصیلی دورہ کیا، اوپی ڈی کا معائنہ کیا اور ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ شہریوں سے بھی باتچیت کی۔ اس سے قبل کیمپ کا افتتاح ایک ضعیف العمر خاتون سے کروایا گیا جنہوں نے فیتہ کاٹ کر کیمپ کا باضابطہ آغاز کیا۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر ایف سی کمانڈنٹ کرنل عرفان، ڈائریکٹر ڈاکٹر افیاض علی، میجر حارث اور ایم ایس جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال سرمد سعید ڈاکٹر ابرار بھی موجود تھے۔
خبرنامہ نمبر 409/2026
کمانڈنٹ ایف سی قلات اسکائوٹس کرنل عرفان نے کیمپ کے دورے کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فری آئی میڈیکل کیمپ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیئے ایک اہم اقدام ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ صحت کی سہولیات کو غریب اور مستحق افراد تک پہنچایا جائے۔ ایف سی ہمیشہ سے عوامی خدمت میں پیش پیش رہی ہے اور اس طرح کے کیمپوں سے آنکھوں کی بیماریوں کا بروقت علاج ممکن ہو سکتا ہے جو بالآخر معاشرے کی مجموعی ترقی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ہم مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھیں گے۔ کیمپ کے منتظم اور ڈائریکٹر ڈاکٹر افیاض علی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کیمپ ایف سی کی طرف سے عوامی خدمت کا ایک حصہ ہے۔ ہم نے کراچی سے ماہر ڈاکٹروں کو مدعو کیا ہے تاکہ لوگوں کو اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات مفت فراہم کی جا سکیں۔ پہلے دن ہی سینکڑوں مریضوں کا معائنہ کیا گیا اور کئی سرجریاں مکمل کی گئیں۔ کل بھی کیمپ جاری رہے گا اور ہم امید کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوں گے۔ یہ کیمپ خاص طور پر معذور اور غریب افراد کے لیے ہے جو مہنگے علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ایف سی نے ہمیشہ یہاں کے عوام کی خدمت کی ہے اور یہاں آئی کیمپ لگاتے آئی ہےماہر چشم ڈاکٹر ابرار، جو کیمپ میں خدمات پیش کر رہے ہیں، نے کہا کہ ہم کراچی سے آئے ہیں اور یہاں کے لوگوں کی خدمت کر کے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ آنکھوں کی بیماریاں جیسے موتیا اور دیگر مسائل بلوچستان جیسے علاقوں میں عام ہیں اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کیمپ میں ہم نہ صرف معائنہ کر رہے ہیں بلکہ سرجریاں اور موتیا لگا رہے ہیں۔ پہلے دن سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا گیا اور ہم امید کرتے ہیں کہ کل مزید لوگ آئیں گے۔ یہ ایک بہت اچھا موقع ہے لوگوں کے لیئے کہ وہ اپنی آنکھوں کی صحت کو بہتر بنائیں۔یہ کیمپ خضدار اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کے لیئے ایک بڑی راحت ثابت ہو رہا ہے جہاں طبی سہولیات کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مقامی لوگوں نے ایف سی قلات اسکائوٹس اور ہسپتال انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس موقع پر ایف سی کی جانب سے شہریوں میں گفٹ بھی تقسیم کیئے گئے ۔
خبرنامہ نمبر 410/2026
قلات ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیر صدارت پی پی ایچ آئی کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ڈسٹرکٹ سپورٹ مینیجر پی پی ایچ آئی مجیب بلوچ سمیت قلات کے تمام بیسک ہیلتھ یونٹس کے انچارج شریک ہوئےڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی مجیب بلوچ نےڈپٹی کمشنر کو پی پی ایچ آئی قلات کی کارکردگی بی ایچ یوز کی تعداد لیبررومز بی ایچ یوز میں اسٹاف کی تعداد انکی حاضریوں اور غیرحاضر اسٹاف کے خلاف کاروائی موبائل ایپلیکیشن کے زریعے حاضریوں کو یقینی بنانے ایمبولینسزکی تعداد بی ایچ یوز میں دستیاب ادویات اور دیگر سہولیات بی ایچ یوز میں مرمت کےکام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی نےاجلاس کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بی ایچ یوز کے صفائی ستھرائی دیکھ بال کرنا اور لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا آپ لوگوں کی زمہ داری ہے ہمارا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی خدمت کریں اور لوگوں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کریں لوگوں کو مشکلات سے نکالنا ہی اصل کام ہےڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف اپنی حاضریاں یقینی بنائیں اپنے پیشے سے مخلص رہیں اور اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں اپنے تمام تر رپورٹس بروقت اپنے دفتر میں جمع کرائیں لوگوں کی امیدیں آپ لوگوں سے وابسطہ ہیں بلاتفریق لوگوں کی خدمت کریں صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ضلعی انتظامیہ قلات پی پی ایچ آئی سے ہرممکن تعاون جاری رکھے گا۔
خبرنامہ نمبر 411/2026
کوئٹہ، 19 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑے دہشت گردانہ منصوبے کو ناکام بنا کر صوبے کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مستونگ کے علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے نتیجے میں کالعدم دہشت گرد تنظیم کے عناصر کے ناپاک عزائم ناکام بنائے گئے جو اہم شاہراہ پر بدامنی پھیلانے اور سیکیورٹی فورسز و عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتے تھے انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی یہ کارروائی پیشہ ورانہ مہارت، مستعدی اور مؤثر انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کی واضح مثال ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سی ٹی ڈی بلوچستان اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات، قربانیوں اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان دشمن عناصر کے لیے تنگ ہوتا جا رہا ہے اور ریاست پوری قوت کے ساتھ امن و امان کے قیام کو یقینی بنائے گی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر 412/2026
گوادر:ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) نے ضلع گوادر کے علاقوں پلیری، جیوانی، گنز اور پیشکان میں قائم مختلف سرکاری گرلز تعلیمی اداروں کا دورہ کیا اور تعلیمی سرگرمیوں، سہولیات اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول پلیری میں اساتذہ اور طالبات نے شدید پانی کی قلت سے آگاہ کیا، جس پر فوری حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول جیوانی میں تدریسی عمل تسلی بخش پایا گیا۔ اساتذہ طلبہ کو نہایت خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں تعلیم دیتے نظر آئے، جسے ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن نے سراہا۔اسی طرح گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کوہ سر، جیوانی میں زیرِ تعمیر چار کمروں کے کام کا معائنہ کیا گیا، جہاں ٹھیکیدار کی کارکردگی غیر تسلی بخش پائی گئی۔ طالبات نے اسکول بس کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول تل سر میں اسکول عمارت نہ ہونے اور طلبہ کی تعداد کم (15) ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ حال ہی میں اس اسکول کو گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کوہی کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔
گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول پانوان میں تعلیمی ماحول تسلی بخش پایا گیا تاہم یہاں بھی پانی کے مسئلے کے حل کا مطالبہ سامنے آیا۔گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول گنز میں سولر سسٹم، اضافی کمروں اور فوری طور پر شیلٹر کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اسی طرح گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کنرکی وارڈ، پیشکان میں اساتذہ کی تدریسی کاوشیں قابلِ تعریف پائی گئیں، تاہم سولر سسٹم اور مزید کلاس رومز کی ضرورت ہے۔دورے کے اختتام پر گورنمنٹ گرلز اسکول کرگانی چیب، پیشکان میں ہیڈ ٹیچر نے اسکول گراؤنڈ کی ہمواری سے متعلق مسئلہ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کے سامنے رکھا۔ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) نے تمام مسائل کو نوٹ کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ درپیش تعلیمی و بنیادی سہولیات کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 413/2026
لورالائی 19 جنوری:ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو) محمد اسماعیل مینگل نے آج بروز پیر بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیو (BSDI) پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی اسکیمات کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر متعلقہ اسکیموں کے ٹھیکیدار، انجینئرز اور متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لورالائی نے بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت زیرِ تکمیل منصوبوں میں ٹیچنگ ہسپتال لورالائی میں واٹر فلٹریشن پلانٹ اور کلی باور ناصران واٹر فلٹریشن پلانٹ اسکیم کا معائنہ کیا۔ انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار، رفتار اور اب تک کی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور موقع پر موجود انجینئرز سے تفصیلی بریفنگ بھی حاصل کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد اسماعیل مینگل نے اس موقع پر ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور تعمیراتی کام کی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی ہے، جس کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچنے چاہئیں۔انہوں نے ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ کام میں تیزی لائی جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔
دورے کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ لورالائی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی نگرانی خود کر رہی ہے تاکہ سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے اور ضلع لورالائی میں ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔




