خبرنامہ نمبر4790/2022
کوئٹہ 4اگست:۔بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے 8اور9 اگست 2022 بروز(پیر و منگل) عاشورہ 1444ہجری کے موقع پر ہائی کورٹ بلوچستان کوئٹہ کے لئے عام تعطیل کا اعلان کردیا ہے جبکہ اس اعلامیہ کے مطابق یہ تعطیلات صوبہ بلوچستان میں ہائی کورٹ برانچیز بمقام سبی، مکران بمقام تربت اور ماتحت عدالتوں، سپیشل کورٹس،وفاقی /صوبائی ٹربیونلز کے لیے بھی ہونگیں۔
خبرنامہ نمبر4791/2022
کوئٹہ 4اگست:۔بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے مفاد عامہ اور سروس کے تقاضوں کے پیش نظر جوڈیشل افسران کے تبادلے کیے ہیں اعلامیہ کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی عبد الواحد بازئی کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج1 کوئٹہ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جھل مگسی بمقام گنداواہ برکت علی مرغزانی کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج III کوئٹہ,ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر جان کا تبادلہ ایکٹنگ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج آ واران سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج I سبی کردیا گیا ہے جبکہ نئے پروموٹڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالباسط کا تبادلہ سیشن جج I کوئٹہ سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج X کوئٹہ،نئے پروموٹڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیر احمد رند کا تبادلہ سیشن جج IIسریاب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جھل مگسی بمقام گنداوا ہ اور سیشن جج محمد عمرکھوکھر کو ایکٹنگ ایڈیشنل سیشن جج X کوئٹہ سے ایکٹنگ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج دکی تعینات کر دیا گیا ہے اعلامیہ کے مطابق ان تبادلوں پر فوری و تا حکم ثانی عمل درآمد کیا جائے گا مزید یہ کہ ایکٹنگ چارج باقاعدہ پرموشن کا حق نہیں ہے اور ایکٹنگ چارج ختم ہونے پر عہدیدار اپنی اوریجنل عہدے یعنی نچلے سکیل پر خدمات انجام دے گا۔
خبرنامہ نمبر4792/2022
لسبیلہ4 اگست:۔ڈًپٹی کمشنر لسبیلہ مراد خان کاسی نے کہا ہیکہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امدادی سرگرمیاں ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں متعلقہ محکموں کے حکام اور اہلکار دن رات امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں انکی انتھک محنت کے نتیجے میں امدادی کاروائیاں مؤثر اور نتیجہ خیز بناء گء ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں سے ڈپٹی کمشنر آفس میں آِئے ہوئے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے کہا کہ چیف سیکرٹری کے احکامات کی روشنی میں فراہمی آب کی سیلاب متاثرہ 200 لائنیں / اسکیمات مکمل۔طور پر بحال کردی گء ہیں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی زیرنگرانی 3277 خیمے سیلاب متاثرین کو فراہم کردی گء ہیں جبکہ آر سی ڈی شاہراہ اور کوسٹل ہائیوے سے ملحقہ سیلاب متاثرہ لاکھڑا لیاری دریجی شاہ نورانی روڈ سمیت مواصلاتی رابطوں کو مکمل طور پر ٹریفک کیلئے بحال کردیا گیا ہے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کی ہدایت کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور تمام حکومتی مشینری دن رات ریلیف آپریشن اور ریلیف کیمپوں کے متاثرین کی بحالی میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے ڈسٹرکٹ ایڈمسٹریشن کی زیر نگرانی سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانچ میڈیکل کینپوں میں جمعرات کے روز 700 سے زائد سییلاب متاثرہ خاندانوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں سیلاب متاثرہ علاقے لاکھڑا لیاری ٹیارو بیلہ میں پی پی ایچ آء اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی موبائل میڈیکل ٹیمیں قدرتی آفت میں نتاثرین کو جنگی بنیادوں پر طبی سہولیات فراہم کررہی ہیں
خبرنامہ نمبر4793/2022
لسبیلہ 4اگست:۔محکمہ موسمیات کی جانب سے 6 اگست سے لیکر 10 اگست تک لسبیلہ کے مختلف مقامات پر بارش کی پیشگوئی کے پیش نظر لسبیلہ انتظامیہ نے الرٹ جاری کردیا ہیتمام متعلقہ محکموں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر عملے اور مشینری کو تیار رکھنے اور تمام سیلاب متاثرین و دیگر شہریوں سے اپیل کی گء ہے کہ وہ ندی نالوں سے دور محفوظ مقام پر رہیں اور اپنے پاس کھانے پینے کی اشیاء اسٹاک کرکے رکھیں اور جن سیلاب ذدگان کو دوبارہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے وہ محفوظ مقام پر نکل آئیں اور مکمل طور پر احتیاطی تدابیر استعمال کریں۔
خبرنامہ نمبر4794/2022
کوئٹہ 4 اگست: قائمقام گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کامیابی میرٹ کی پاسداری کو یقینی بنانے اور شفافیت کو برقرار رکھنے سے وابستہ ہے. ہم آنے والی نسلوں کو اس وقت تحفظ دے سکتے ہیں جب ہم اپنے موجودہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے. قائمقام گورنر بلوچستان نے صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم ہونے والے یونیورسٹی کیمپسز کی حالت اور کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی. ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز گورنرہاوس کوئٹہ میں صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن حافظ عبدالماجد، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی اور یونیورسٹی آف بلوچستان کے جیئند جمالدینی بھی موجود تھے. اس موقع پر قائمقام گورنر بلوچستان نے کہا کہ تعلیم ہر قسم کی ترقی کی بنیاد ہے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز بھی کوالٹی ایجوکیشن میں ہی پنہاں ہے. انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹیز کی کارکردگی کی مزید بہتری کیلئے اقدامات اٹھائیں اور بالخصوص اساتذہ اکرام کی تعیناتی اور پروموشن میں میرٹ کا خصوصی خیال رکھا جائے. واضح رہے کہ اپوائنٹمنٹ کنوینئر فار سرچ کمیٹی کے اجلاس 18 آگست بروز جمعرات کو ہوگا۔
خبرنامہ نمبر4795/2022
پشین 4اگست:۔ڈپٹی کمشنر ظفر علی محمد شہی نے کہا ہے کہ ضلع میں حالیہ مون سون بارشوں کے پیش نظر سیلابی صورتحال سے متاثرہ عوام کے امداد و بحالی کے لیے آپریشن جاری ہے تمام متعلقہ محکمہ جات،عوامی فلاحی ادارے،این، جی، اوز،سماجی شخصیات سمیت نوجوان طبقہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بروقت تیار رہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے حالیہ مون سون بارشوں کے پیش نظر سیلابی صورتحال کیجائزہ اور کارکردگی سمیت اس بابت آئندہ کے لئے عمل کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں تمام تحصیلوں کیاسسٹنٹ کمشنران،محکمہ صحت،آب پاشی، مواصلات و تعمیرات،ریونیو،میونسپل،لوکل گورنمنٹ،زراعت،اطلاعات و نشریات ودیگر متعلقہ محکموں کے ضلعی آفسران شریک تھے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے جبکہ بارشوں کی نئی لہر اور عوامی تحفظ کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں تاہم متاثرین کی امدادوبحالی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے انہوں نے محکمہ صحت کو دور دراز کے علاقوں میں میڈیکل کیمپوں کے انعقاد اور موبائل ٹیموں کی تشکیل کے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیلابی صورت حال میں پینے کے پانی کے تمام ذرائع آلودہ ہو چکے ہیں جس سے اسہال،ہیضہ اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ قائم رہتا ہے تاہم سیلابی صورتحال میں پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات کے سدباب محکمہ صحت اور پی،پی،ایچ، آئی کو دور دراز کے علاقوں میں میڈیکل کیمپس کا انعقاد اور اس ضمن میں مشترکہ جدوجہد کی اشد ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ متاثرہ اور بیماری میں مبتلا افراد کا چیک اپ، بیماری کی تشخیص کے بعد علاج معالجہ اور مفت ادویات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ظفر علی محمد شہی نیضلع میں موجود عوامی فلاحی ادارے،سماجی تنظیموں کے نمائندگان و ممبران سمیت تمام ذالشعور افراد سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال میں وبائی امراض کی روک تھام اور علاقے کے متاثرہ عوام کی امداد و بحالی کے لیے اپنی بساط کے مطابق خدمات سرانجام دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں کیونکہ قدرتی آفات میں انتظامیہ کے ساتھ فلاحی اداروں اور عوام کی مشترکہ جدوجہد کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاہم اس ضمن میں محکمہ ریونیو کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مکمل اور جامع رپورٹ تیار کرکے پیش کریں تاکہ ضلع میں جہاں بھی طوفانی بارشوں کے باعث نقصانات ہوئے ہیں ان متاثرین کینقصانات کا بروقت ازالہ کیا جاسکے۔
خبرنامہ نمبر4796/2022
خضدار4 اگست:۔خضداررتوڈیر و قومی شاہراہ پر چھوٹی گاڑیوں کے لئے ٹریفک جاری ہے بھلونک پہاڑی کی کٹائی جاری ہے اور جلد ہیوی ٹریفک کے لئے روڈ کھول دیا جائیگا۔ آج ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ محمدا لیاس کبزئی نے اپنے دیگر اسٹاف کے ہمراہ خضدار رتوڈیرو ایم 8بھلونک ایریا کا معائنہ کیا اور وہاں چلنے والی ٹریفک کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایم 8سندھ و بلوچستان کی شاہراہ بھلونک پہاڑی کی خطرناک کھائی سے سیلاب میں بہہ گئی تھی جس کو جنگی بنیادوں پر مختصر مدت میں ٹریفک کے لئے بحال کردیا۔۔بھلونک کٹائی اور کھائی کے ایریا میں پہاڑی کی کٹائی جاری ہے چونکہ نیچے کھائی اور سیلاب کا پانی کھڑا ہے اور مذید روڈ کی ڈمپنگ ممکن نہیں ہے جب کہ مون سون کی بارشیں تاحال ختم بھی نہیں ہوئی ہیں اس لیئے ہماری کوشش ہے کہ پہاڑ کو کٹائی کرکے وہاں سے چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کے لئے راستے کو ہموار کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں میرا این ایچ اے حکام سے رابطہ ہوا ہے اور روڈ کو ہیوی ٹریفک کے لئے بھی جلد کھول دیا جائیگا اس وقت بھی مشینری یہاں موجود اور وہ مسلسل کام کررہی ہے ہمارا یہ عزم ہے کہ مسافر شہری اور تاجر برادری کو کسی بھی پریشانی اور نقصان سے بچانے کے لئے جتنے بھی بین الصوبائی روڈز ہیں ان پر ٹریفک تعطل کا شکار نہ ہو اور آمد ورفت جاری رہے۔ دریں اثناء شہریوں نے خضدار کے ضلعی انتظامیہ کے سربراہ و ان کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے ہنگامی حالات کا نفاذ کرکے ایم 8شاہراہ کو ٹریفک کے لئے بحال کروایا اورلوگوں کی آمد روفت ممکن ہوا چونکہ ایم 8شاہراہ سے خضدا رکے بھی کئی علاقے منسلک ہیں اور ان کا راشن و رسد اسی روڈ سے وابستہ ہے تاہم روڈ کی بروقت بحالی سے عوام کی پریشانی کم ہوئی اوران کے لئے ضروری خوراک راشن رسد ممکن ہوا۔اس موقع پر سینئر اسٹاف آفیسر ٹو ڈپٹی کمشنر خضدار محمد مراد گزوزئی بھی ڈپٹی کمشنر خضدار کے ہمراہ تھے۔خبرنامہ نمبر4797/2022
خضدار4 اگست:۔ محکمہ لائیو اسٹاک بلوچستان کی جانب سے خضدار میں جانوروں کو بیماریوں سے بچاؤکے لئے ویکسئین لگانے کا آغاز کردیا گیا، پہلے مرحلے میں 7ہزار سے زائد بھیڑو بکریوں کو(انٹرویو ٹا،کسیماپولورو، نمونیا)اور دیگر موسمی بیماروں سے بچاؤ کے ویکسئین کیا جائیگا ڈرینچ لگائے جائیں گے۔اس سلسلے میں خضدار کے مختلف علاقوں وڈھ کراڑو سونارو کرخ مولہ بھلونک نال زہری باغبانہ میں کیمپس لگائے گئے ہیں۔ بھلونک میں لگائے گئے کیمپ کا ڈپٹی کمشنر خضدار میجرریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی نے بھی دورہ کیا اور وہاں پر لائیو اسٹاک کی جانب سے جانوروں کو ویکسئین کے انتظامات اور ڈرینچ لگانے کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر محمد انور زہری و دیگر بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی کا کہنا تھاکہ رواں سال مون سون کی بارشوں کے جو اسپیل آئے ہیں اور کافی بارشیں ہوئی ہیں اس کے بعد جانوروں کی افزائش نسل اور انہیں بیماریوں سے بچانے کے لئے ویکسئین کرنا بے حد ضروری ہے چونکہ خضدار کی آبادی کا ایک بڑاحصہ گلہ بانی سے وابستہ ہے اور وہ اسی سے اپنا روزگار کماتے ہیں اورزندگی بسرکرتے ہیں۔اس لیئے بھلونک سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں جانوروں کو ویکسئین دینے کے لئے کیمپس لگائے گئے ہیں تاکہ جانوروں کو ممکنہ بیماریوں سے بچایا جاسکے اور جن لوگوں کے روزگار کا انحصار مال مویشی پالنے پر ہے ان کو ریلیف مہیا کیا جاسکے اس سلسلے میں محکمہ لائیو اسٹاک نے یہ خدمت پیش کررہی ہے جس سے جانور بیماری لگنے سے بچ جائیں گے ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی کا کہنا تھاکہ خضدار مال مویشی پالنے کے حوالے سے صوبے کا سب سے بڑا ڈسٹرکٹ ہے اور یہاں سے پورے ملک میں بھیڑ بکریاں فروخت کی جاتی ہیں اور یہ روز گار کا بڑا ذریعہ ہے حکومت بلوچستان نے ویکسئین لگانے کا جو پروگرام دیا ہے اس کے بہتر نتائج برآمد ہونگے۔ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر محمد انور زہری کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان سیکریٹری محکمہ لائیو اسٹاک بلوچستان کمشنر قلات ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر خضدار کی ہدایت پر خضدار کے مختلف علاقوں میں جانوروں کو ویکسئین لگانے کا کیمپ لگایاگیا ہے خضدار کے مختلف علاقوں وڈھ کراڑو سونارو کرخ مولہ بھلونک نال زہری باغبانہ میں کیمپس لگائے گئے ہیں جس میں بڑی تعداد میں جانوروں کو ویکسئین دیا جارہاہے انہوں نے کہاکہ پہلے مرحلے میں 7ہزار سے زائد بھیڑو بکریوں کوانٹرویو ٹاکسیماپولورو نمونیا اور دیگر موسمی بیماروں سے بچاؤ کے ویکسئین اور ڈرینچ لگایا جارہاہے محکمہ لائیو اسٹاک متحرک ہیں اور جانووں کو بیماری سے بچاؤں کے لئے ہر ممکن اقدامات کیئے جائیں گے جہاں سیلاب کی وجہ سے سڑکیں پانی میں بہہ گئی ہیں وہاں موٹرسائیکل یا اونٹ کے ذریعے محکمہ لائیو اسٹاک کی ٹیمیں پہنچ کر جانوروں کو ویکسئین کررہے ہیں۔محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے بھلونک کیمپ میں ڈاکٹر عبدالغفور مینگل ڈاکٹر سکند ر علی محمد کریم عطاء اللہ و دیگر بھی شریک تھے اور انہوں نے اپنی خدمات پیش کیئے۔
خبر نامہ نمبر4798/2022
لورالائی4اگست:۔کمشنر لورالائی ڈویژن شاہد اللہ خان نے حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مون سون کی شدید بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور بارشوں سے جانبحق افراد کے ورثا فوری طور پر معاوضے کی فراہمی کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لورالائی ڈویژن میں موجود تمام متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز بارشوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا مکمل جائزہ لیکر رپورٹ کریں تاکہ متاثرہ خاندانوں کی جلد بحالی کا کام ہو سکیں۔انہوں نے کہا حالیہ بارشوں سے لورالائی ڈویژن کے تمام اضلاع متاثر ہوئے جن سے لورالائی میں سات،موسی خیل میں ایک اور دکی میں تین قیمیتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ اس کے حوالے چار افراد زخمی ہوئے۔زیادہ نقصانات نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہمارے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی بہترین منصوبہ بندی اور بروقت حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ لورالائی کی بنسبت موسیٰ خیل بارکھان اور دکی میں مون سون کی کم ببارشیں ہوئی۔ وزیراعلی بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے مون سون بارشوں میں ہونے والے جانی و مالی اور املاک کے نقصانات کی سروے کے لیے تمام اضلاع کی کمیٹیاں بنائی گئی۔جن کی سربراہی ڈپٹی کمشنرز کریں گے۔ ان کمیٹیوں میں پی ڈی ایم اے کے نمائندگاں اور سپارکو کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ جو مون سون بارشوں میں املاک اور دیگر نقصانات کا مکمل سروے کر کے رپورٹ پیش کریں گے۔شکر الحمد اللہ کہ لورالائی ڈویژن کے تمام اضلاع کی رابطہ سڑکیں کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا اور تمام قسم کے ٹریفک روان دواں ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دئیے گئے ہیں کہ وہ خود جا کر متاثرہ خاندان میں راشن، ٹینٹ اور دیگر گھریلو امدادی سامان تقسیم کریں۔حکومت بلوچستان کی جانب امدادی سامان بجھوائی ہیں جنکی تقسیم کا عمل کو صاف شفاف بنانے کے لیے کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں جو متاثرہ علاقوں کے عوام میں منصفانہ طور پر تقسیم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی بارشوں کے سپیل کے لیے تیاری مکمل کر لی ہیں۔جہاں پر نقصانات کے خدشات پائے گئے وہاں کے لوگوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے گا۔ ان کے مال مویشیوں کو بھی محفوظ کرنے کا بندوبست کیا جائے گا۔بارشوں کے نتائج میں پیدا ہونے والی بیماریوں اور امراض کے روک تھام کے لیے ان علاقوں میں محکمہ صحت اور محکمہ لائیو اسٹاک کے لیے میڈیکل کیمپس لائے گئے ہیں تاکہ عوام اور مال مویشیوں کا علاج معالجہ ان کے دہلیز پر پہنچایا جا سکیں۔کمشنر لورالائی ڈویژن شاہد اللہ خان نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ان بارشوں کی وجہ سے تمام ڈیمز بھر چکے ہیں جسکی وجہ سے لورالائی میں پانی کے مسلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ لورالائی کے تمام سیلابی نالوں میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن کرکے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
خبر نامہ نمبر4799/2022
پشین 4اگست:۔ڈپٹی کمشنر ظفر علی محمد شہی نے کہا ہے کہ مون سون کے حالیہ طوفانی بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال پر قابو پانے کیلئے ہم سب کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہو گا جبکہ ضلعی انتظامیہ موجودہ ہنگامی و سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت پرعزم و بیدار ہے جبکہ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے پی،ڈی،ایم،اے،محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ ادارے پر عزم اور برسرپیکار ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ جات کے آفسران اور وہاں موجود عوام الناس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ تمام اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں تاکہ عوام کی بھر پور مدد کرکے ضلع کو موجودہ سیلابی صورتحال سے نکالا جاسکے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام حکومتی مشینری سلابی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور اس بابت تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاہم قدرتی آفات سیعلاقے کے عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے فلاحی کردار ادا کرنا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی وضلعی حکومت ایک مربوط حکمت عملی کے تحت بارش متاثرین کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور دیگر ممکنہ سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں جبکہ محکمہ آبپاشی کا عملہ ڈیموں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے ظفر علی محمد شہی نے کہا کہ عوام کے املاک،زمینداروں کی زرعی آراضی اور زرعی مشینری، شمسی پلیٹس اور ٹیوب ویلز و دیگر نقصانات سمیت مالداروں کے مال مویشی کے نقصانات کی سروے رپورٹ مکمل کیا جا رہا ہے جس کو حتمی شکل دینے کے بعد حکام بالا کو ارسال کیا جائے گا تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جاسکے ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کے وہ موسمی حالات سے باخبر رہیں اور بلاوجہ گھر سے نہ نکلیں،برسات میں ندی نالوں کو پار کرنے اور بوسیدہ دیواروں اور برقی حالات سے دور رہتے ہوئے گھروں سے نکاسی آب کو یقینی بنا ئیں اور اس دوران مختلف مہلک بیماریوں سے حفاظت کیلئے حفاظتی ٹیکے لگوائیں جبکہ کسی حادثے یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کو فورا اطلاع دیں تاکہ ممکنہ نقصانات پر بر وقت قابو پایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر4800/2022
تربت 4اگست:۔ بولان کرکٹ اسٹیڈیم کوئٹہ میں جاری آل بلوچستان انٹریونیورسٹیزٹی-10 کرکٹ لیگ 2022میں یونیورسٹی آف تربت کی مسلسل تیسری کامیابی، اپنے تیسرے میچ میں کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز[قمز] کی ٹیم کو،دوسرے میچ میں بیوٹمزژوب کیمپس کی ٹیم کو جبکہ پہلے میچ میں بلوچستان یونیورسٹی پشین کیمپس کی ٹیم کو شکست دینے میں کامیاب۔ تفصیلات کے مطابق بولان کرکٹ اسٹیڈیم کوئٹہ میں جاری آل بلوچستان انٹریونیورسٹیزٹی- 10لیگ 2022میں یونیورسٹی آف تربت کی ٹیم نے چاراگست کو کھیلے گئے ایک میچ میں قمزکوئٹہ کی ٹیم کو تیس رنز سے شکست دے کر کرکٹ لیگ میں تیسری کامیابی اپنے نام کرلی۔پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ دس اوور میں تربت یونیورسٹی کی ٹیم نے پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر 110 رنزبنائے۔ شعیب صہیب نے 39 اور سلمان نائیک نے 31 رنزسکورکئے۔قمزکوئٹہ کی ٹیم کی جانب سے شمس اللہ نے پندرہ رنز دے کر دوجبکہ خرم نے دس رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔ تربت یونیورسٹی کے جلال،بیزن اور شعیب صہیب کی بہترین باولنگ کی بدولت قمزکی ٹیم111 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 8اعشاریہ5اوورمیں 80رنزبناکرپویلیئن لوٹ گئی۔ جلال نے تیرہ رنزدیکردو،بیزن نے چودہ رنزدیکردوجبکہ شعیب صہیب نے انیس رنزدیکردووکٹ حاصل کئے۔اس طرح ایونٹ میں تربت یونیورسٹی اپنی مسلسل تیسری کامیابی سے ہمکنارہوا۔تربت یونیورسٹی کے شعیب صہیب دووکٹ اورصرف اینس گیندوں پرانتالیس رنزکیساتھ میچ کے بہترین کھلاڑی قرارپائے۔اس سے پہلے تین اگست کوکھیلے گئے ایونٹ کے ایک اورمیچ میں تربت یونیورسٹی کی ٹیم نے بیوٹمزژوب کیمپس کی ٹیم کو60رنز سے شکست دیکراپنی مسلسل دوسری کامیابی حاصل کیاتھا۔ اس میچ میں ٹاس جیت کرپہلے بیٹنگ کرتے ہوئے تربت یونیورسٹی کی ٹیم نے مقررہ دس اوور میں چاروکٹوں کے نقصان پر 118رنزاسکورکئے۔عبدالواسع کے بیس گیندوں پر جارحانہ پینتالیس رنز[ناٹ آوٹ]،سہیل صہیب کے چوبیس اور اے فراز کے پندرہ رنز کی بدولت تربت یونیورسٹی قابل دفاع ہدف بنانے میں کامیاب رہا۔بیوٹمزژوب کیمپس کی ٹیم کے جنید خان نے سترہ رنزکے عوض دوجبکہ صابرخان نے گیارہ رنز دیکر ایک وکٹ حاصل کیا۔اپنے بالرزکی بہترین گیند بازی کی بدولت تربت یونیورسٹی کی ٹیم نے ژوب کیمپس کی ٹیم کو مقررہ دس اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 58رنزتک محدودرکھا۔ مین آف دی میچ عاطف امان نے آٹھ رنز دیکرتین کھلاڑیوں جبکہ طلحہ گچکی نے نو رنز دیکر دوکھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ارسلان کے بائیس رنز کے علاوہ بیوٹمز ژوب کیمپس کی ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی تربت یونیورسٹی ٹیم کے بالروں کو اعتماد کے ساتھ نہ کھیل سکا۔ یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرجان محمد، یونیورسٹی کے عہدیداران اور طالب علموں نے آل بلوچستان انٹریونیورسٹیزٹی-10 کرکٹ لیگ 2022میں بیٹنگ،بالنگ اورفیلڈنگ سمیت تمام شعبوں میں شاندارکاردگی کامظاہرہ کرنے اور ایونٹ میں مسلسل تیسری کامیابی حاصل کرنے پر اپنی ٹیم کومبارکباد دیکر آئندہ میچزمیں نیک خواہشات کا اظہارکیاہے۔خبرنامہ نمبر4801/2022
تربت4اگست:۔ڈی سی کیچ میجر ر بشیر احمد بڑیچ نے جمعرات کے روز کیچ کور ندی کے حفاظتی بند کے مقام پر سیلاب ایکشن کمیٹی کوشکلات ملکی باغ اور تنزگ کے اہلکاروں سے ملاقات کی۔اس موقع پر محکمہ ایریگیشن کے ایکسیئن عدیل فیض اور ایم ایم ڈی کے ایکسیئن شفقت بلوچ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے۔اس دوران ڈپٹی کمشنر کیچ نے ایکشن کمیٹی کے اراکین سے حفاظتی بند کی تعمیر ومرمت کے بارے میں مشورہ کیا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ حفاظتی بند کی تعمیرات کے دوران انہیں اعتماد میں لیا جائے گا اور حفاظتی بند کی تعمیر ومرمت کے متعلق ان کے مشوروں پر عمل درآمد کیا جائے گا اور انکے اعتراضات اور تحفظات کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ندی کا پانی کا بہاؤ ختم ہونے کے بعد فوراً حفاظتی بند کی تعمیر نو شروع کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حفاظتی بند کے پانی کے رخ کی تبدیلی کا سب سے بڑا وجہ ندی کے اندر کی جھاڑیاں اور غیر ضروری درختیں ہیں جنکی کٹائی کے لیے پرائیویٹ ٹیکہ داروں سے ٹینڈر طلب کیے جائیں گے تاکہ ندی کے اندر ان غیر ضروری جنگلات کا صفایا کیا جاسکے۔ اس دوران انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے سمت کو تبدیل کرنے کے لیے ندی کے اندر زمین کی لیولنگ اور کدائی کرکے ایک نئی الائنمنٹ کے ذریعے پانی کا ایک 800 فٹ چینل بنایا جائے گا تاکہ بارش کے پانی کو دوسری جانب موڈا جاسکے۔قبل ازیں سیلاب ایکشن کمیٹی کی جانب سے مطالبات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اقبال بلوچ نے کہا کہ کیچ ندی کی ازسرنو مکمل سروے کی جائے اور حفاظتی بند کی جانچ کے علاوہ کیچ ندی کے باقی دو پلوں کی بھی صفائی کی جائے اور ندی کے اضافی پانی کو میونسپل کارپوریشن تربت کے عملے کو بروئیکار لاکر پمپنگ کے ذریعے نکالا جائے تاکہ جلد از جلد بند کا شروع کیا جاسکے۔ ڈی سی کیچ نے انکے تمام مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہ اس حوالے سے محکمہ ایریگیشن،ایم ایم ڈی اور میونسپل کارپوریشن تربت سے ملکر ایک پلان تشکیل دینگے تاکہ ضروری کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جاسکے۔عد ازاں ڈی سی کیچ نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہ حالیہ بارشوں کے بعد ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھاتے ہوئے نقصان پہنچے ہوئے حفاظتی بند کے پچھلے حصے میں اضافی پروٹیکشن تعمیر کی ہے تاکہ علاقے کو فوری سیلابی پانی سے محفوظ بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جونہی ندی کا پانی ختم ہوگا بند کی اگلے حصے کی مرمت کا کام بھی مکمل کیا جائے گا تاکہ آس پاس کی آبادی کو سیلابی پانی سے مستقل بنیادوں پر محفوظ بنایا جاسکے۔آخر میں ڈی سی کیچ نے سائٹ پر حفاظتی بند کے کام کا معائنہ بھی کیا۔اس موقع پر وہاں پر ایکشن کمیٹی کے دیگر ارکان نصرت بزنجو، سہراب عزیز، سردار دودا، محمداسلام،مراد بخش،فرید بلوچ اور دیگر اہلکار بھی موجود تھے۔
خبرنامہ نمبر4802/2022
کوئٹہ 04اگست۔ترجمان حکومت بلوچستان محترمہ فرح عظیم شاہ نے یوم شہدائے پولیس کے موقع عوام کیمحافطوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پولیس کے بہادر آفیسران اور جوان صوبے میں امن و امان کے قیام اورسماج دشمن عناصر کے خاتمے کے لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں نبھاتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے آرہے ہیں۔ان بہادروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت اور ان بہادر سپوتوں کی شجاعت کو سلام پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ذندہ قومیں اپنے شہداء کو کبھی بھلاتی نہیں۔دیگر فورسز کی طرح بلوچستان پولیس بھی ملک و قوم کے لیے اپنی جانیں نچھاور کرتے ہوئے ملک کے اندورنی دشمنوں سے نبردآزما ہے۔ وطن عزیز کے اندر عوام کی جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ کیلئے بلوچستان پولیس اپنی زمہ داریاں باخوبی سرانجام دے رہی ہے۔جو کہ ملک بھر میں دہشت گردی، چوری، ڈکیتی، اغوائبرائے تاوان اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کے خلاف برسرپیکارہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان سرحدوں پر ملک کی حفاظت کر تے ہیں تو پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز ملک کے اندر موجود دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں مصروف عمل رہتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی بالادستی ہو یا امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ ہو یا سماج دشمن عناصر سے مقابلہ ہر محاذ پر پولیس فورس کے بہادر جوان اپنی ذمہ داریوں سیاحسن طور پر عہدہ براہ ہوتے ہوئے جام شہادت نوش کر تے آئے ہیں۔ شہدائے پولیس ب منانے کا مقصد قوم کے ان بہادر سپوتوں کی شجاعت کو سلام اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی یادیں اور خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں محکمہ پولیس کو مزید مضبوط اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سہولیات فراہم کررہے ہیں تاکہ وہ مادر وطن کے چھپے دشمنوں اور سماج دشمن عناصر کو ڈھونڈ کر ان کو انکے انجام تک پہنچائیں۔اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
خبرنامہ نمبر4803/2022
کوئٹہ04 اگست:۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات علی اکبر بلوچ کا بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ ضلع لسبیلہ اور ضلع آواران کے دورے کے دوران مختلف شاہراہوں اور پلوں کی بحالی میں مصروف رہے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے لاکھڑا تا حب شہر اور بیلہ تا اسماعیلیانی میں متاثر ہونے والے شاہراہوں اور پلوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور لاکھڑا میں جاری پل کے بحالی کے کام کی خود نگرانی بھی کی بعد ازاں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے آواران میں متاثر ہونے والے شاہراہوں اور پلوں کا تفصیلی معائنہ کیا اس موقع پر چیف انجینئر روڈز خضدار غلام نبی بنگلزئی سپریٹنڈٹ انجینئر روڈز میر احمد مینگل اور ایکسیئن لسبیلہ ارشد مسعود زہری بھی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات کے ہمراہ تھے اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے شاہراہوں کی بحالی کے حوالے سے جاری آپریشن اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا محکمہ مواصلات و تعمیرات کے آفیسران اور اہلکاران اپنے بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر صوبے کو درپیش اس قدرتی آفت کا مقابلہ کریں کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ضلع لسبیلہ اور آواران کو کافی حد تک نقصان پہنچا ہے ان نقصانات میں ضلع کے اہم شاہراہ اور پل بھی شامل ہیں اور لاکھڑا سے حب شہر آنے کے لیے لاکھڑا پل کی بہت بڑی اہمیت ہے اسی طرح بیلہ تا اسماعیلیانی شاہراہ اور آواران میں بھی رابطہ سڑکیں انتہائی اہمیت کا حامل رکھتے ہیں لہٰذا ان شاہراہوں اور پلوں کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ ضلع لسبیلہ اور ضلع آواران میں بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے لہذا بحالی کے کام میں کوئی دشواری یا خلل پیدا نا ہونے پائے اس کے لیے محکمہ مواصلات و تعمیرات کا نہایت ہی اہم رول ہے اگر بروقت متاثرہ شاہراہوں اور پلوں کو بحال نہیں کیا جائے گا تو سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے مشقلات میں اور اضافہ ہوگا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے محکمہ کے تمام آفیسران اور عملے کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر محکمہ کے تمام عملے اور مشینری کے ساتھ ہمہ وقت تیار رہتے ہوئے صوبے کی خدمت میں پیش پیش رہیں انہوں نے کہا صوبے میں جاری اس ہنگامی صورتحال میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کلیدی کردار ہے اگر محکمہ صوبے کے شاہراہوں کو کو بحال رکھ پائے گا تو امدادی سرگرمیوں میں خلل پیدا نہیں ہوگا اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو وزیر مواصلات و تعمیرات سردار عبدالرحمٰن کھیتران اور چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کے یہ واضح ہدایات ہیں کہ صوبے میں جاری ہنگامی صورتحال میں محکمہ مواصلات و تعمیرات شاہراہوں اور پلوں کو ہر ممکن بحال رکھیں۔
خبرنامہ نمبر4804/2022
کوئٹہ 04 اگست:۔سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو روشن علی شیخ نے کہا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی انتقالات اور قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ساہل کے حق پر غیر قانونی طریقے سے سے کوئی بھی قبضہ مافیہ قابض نہ ہو ان خیالات کا اظہار سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو روشن علی شیخ نے مقامی قبائل کمیٹی کے ایک نماہندہ وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا وفد میں یوسف خان کاکڑ حاجی عبدالرحمن بازی پروفیسر محمد حنیف اور قیوم شاہوانی کے علاوہ مقامی قبائل کے کے ممبران کی ایک بڑی تعداد شامل تھی مقامی قبائل کمیٹی کے وفد نے نے صوبے میں غیر قانونی انتقالات اور قبضہ مافیا کے خلاف اپنے مسائل سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو تفصیل سے آگاہ کیا اس موقع پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اولین ترجیح محکمہ ریونیو میں شفافیت لانی ہے اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات لیے جارہے ہیں حال ہی میں محکمہ ریونیو نے ایک نوٹیفکیشن جاری کی ہے جس میں تحصیلداروں سے انتقالات کے اختیارات لیے گئے ہیں اور شہری علاقوں میں رجسٹری ہوگی اسی طرح محکمہ ریونیو ایک موبائل ایپ لاونچ کر رہی ہے جس سے عوام کو اپنے موبائل میں ایک کلک پر اپنی زمین جائیداد کی حوالے سے تفصیلات ملیں گی اس کے علاوہ محکمہ میں جو بھی آرڈرز ہونگے وہ اس موبائل ایپ میں آئیں گے انہوں نے وفد سیکہا کہ محکمہ ریونیو کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں لہذا سسٹم کو ٹھیک ہونے میں میں کچھ وقت لگے گا اس حوالے سے صوبائی وزیر ریونیو میر سکندر علی عمرانی اپنی ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں اور انکے طرف سے یہ واضح ہدایات ہیں کہ محکمہ ریونیو کو جلد از جلد جدید خطوط پر استوار کیا جائے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے وفد سے ملاقات کے دوران کچھ شکایات پر فوری عمل درآمد کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment