خبر نامہ نمبر4184/2022
کوئٹہ 1 جولائی: قائمقام گورنر بلوچستان میر جان محمد خان جمالی نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان کئی دہائیوں سے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں دوست ممالک کے درمیان زراعت، ٹرانسپورٹ اور ہائیر ایجوکیشن کے شعبوں میں مزید تعاون اور تعلقات بڑھانے کے وسیع امکانات ہیں. انہوں نے کہا کہ قلیل آبادی رکھنے والا بلوچستان قیمتی وسائل و معدنیات سے مالا مال ہے اور یہاں امن و امان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے. لہٰذا ضروری ہے کہ جنوبی کوریا کے بڑے سرمایہ کار بلوچستان میں موجود سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقعوں استفادہ کریں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز گورنرہاوس کوئٹہ میں جنوبی کوریا کے (Mr. Mun yong Jo) کی قیادت میں کورین وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا. ملاقات کے دوران پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان دوستانہ تعلقات، بلوچستان میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع اور خطے میں رونما ہونے والی معاشی اور تجارتی تبدیلیوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا. اس موقع پر صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن حافظ عبدالماجد، وائس چانسلر یونیورسٹی بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان، وائس چانسلر بیوٹمز یونیورسٹی انجینئر فاروق بازئی، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ساجدہ نورین اور انسپکٹر جنرل بلوچستان پولیس عبدالخالق شیخ بھی موجود تھے. بعدازاں قائمقام گورنر بلوچستان اور مہمانانِ گرامی کے درمیان یادگاری شیلڈز کا تبادلہ ہوا. #
خبر نامہ نمبر4185/2022
کوئٹہ 1 جولائی:پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور و چئیرپرسن وویمن پارلیمنٹرین کاکس ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کو ترکہ میں متعین شرعی حصہ کی فراہمی کے لئے ایسی خصوصی قانون سازی کی تشکیل پر کام کررہے ہیں جس سے ترکہ میں خواتین کو ان کا جائز متعین حصہ مل سکے اور کوئی بھی رشتہ دار یا  بالا دست طبقہ ان کی حق تلفی نہ کرسکے،  گو کہ اس ضمن میں ایک عمومی قانون موجود ہے تاہم  اس میں خواتین کو ”خصوصی تحفظ ” حاصل نہیں، مجوزہ قانون کے تحت  جائیداد میں خواتین کے حقوق کا مکمل  تحفظ ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں عورت فاونڈیشن بلوچستان کے ڑیذیڈنٹ ڈائریکٹر علاوالدین خلجی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور سے ان کے دفتر میں ملاقات کی،  ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ وویمن ایکسس ٹو جسٹس پروگرام کے تحت مقامی سطح پر  جینڈر جسٹس کمیٹیوں کا قیام ایک خوش آئند  اقدام ہے جس سے علاقائی مسائل اور خواتین پر گھریلو تشدد  کے واقعات کے تصفیے فریقین کی رضا مندی سے مقامی سطح پر ہی  ثالثی فورم کے ذریعے حل  ہونگے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس فورس  میں خصوصی رعائیت کے ساتھ  خواتین افسران کی بھرتی کے لئے متعلقہ حکام کو سمری ارسال کردی گئی ہے وویمن پارلیمنٹرین کاکس بلوچستان نے سربراہ بلوچستان پولیس کو تجویز دی ہے کہ خصوصی خواتین پولیس اسٹیشنوں کے قیام کے علاوہ دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے صوبے  کے  ہر پولیس تھانے میں وویمن ڈیسک قائم کیا جائے پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور نے کہا کہ بلوچستان میں خاتون محتسب سیکرٹریٹ اور کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن کو مضبوط اور بااختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کے خلاف ہراسمنٹ کے واقعات کا تدارک کرکے ہر سطح پر ان کے حقوق کا دفاع کیا جاسکے ملاقات میں عورت فاونڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علاوالدین خلجی نے چئیرپرسن وویمن پارلیمنٹرین کاکس و  پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو بتایا کہ یو این ڈی پی کے تعاون سے کوئٹہ اور پشین کی 6 یونین کونسلز میں  وویمن ایکسس ٹو جسٹس پروگرام کے تحت وویمن ڈیسک قائم ہیں جس میں مقامی  متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں اس پروگرام کی کاکردگی کو بہتر بنانے اور مستقل  جائزہ کے لئے ایڈوائزری کمیٹی قائم کی جاررہی ہے جس میں وویمن پارلیمنٹرین کاکس، سیکرٹری سوشل ویلفئیر،  سیکرٹری وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ،  چئیرپرسن کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن، نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس سمیت سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندے شامل ہونگے، انہوں نے بتایا کہ خاتون محتسب سیکرٹریٹ کے 15 افسران و اہلکاروں کو تربیت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ بہتر طور پر اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے سکیں، پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے عورت فاونڈیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اس موقع پر عورت فاونڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علاوالدین خلجی نے پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو معروف تصنیف” سو کامیاب خواتین ” کے موضوع پر تحریر کردہ کتاب پیش کی ۔
خبر نامہ نمبر4186/2022
کوئٹہ یکم جولائی:۔پاکستان ڈائمنڈ جوبلی چیف منسٹر بلوچستان کراٹے، ٹینس،فٹبال، وومن فٹسال، کرکٹ اور اسکواش ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جائے گا، پوری دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ زندہ قومیں اپنی آزادی کے دن کس شایان شان طریقے سے مناتے ہیں ان خیالات کااظہار سیکرٹری کھیل اسحاق جمالی نے اپنی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا اس موقع پرڈائریکٹر جنرل اسپورٹس میر درا بلوچ بھی موجود تھے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ کھیل و یوتھ افیئرز کے زیر اہتمام پروجیکٹ پاکستان کے تحت پاکستان ڈائمنڈ جوبلی یوم آزادی کے سلسلے میں پورے سال کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں صوبائی دار الحکومت سمیت بلوچستان کے کونے کونے میں ڈائمنڈ جوبلی یوم آزادی کے سلسلے میں مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوں گے۔ یہ تمام ایونٹس پروجیکٹ پاکستان 75ویں سالگرہ(ڈائمنڈ جوبلی) کے طورپر منائے جائیں گے۔ ابتدائی طورپر5 جولائی سے 7 جولائی تک کراٹے اور ٹینس کے ٹورنامنٹس منعقد کیے جائیں گے جس میں بلوچستان بھر کے کھلاڑی اپنے کھیل کا جلوہ دکھائیں گے۔علاوہ ازیں کرکٹ، فٹبال، اسکواش، وومن فٹسال کے ٹورنامنٹ عید کے فوراً بعدمنعقد ہوں گے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو اور وزیر کھیل عبدالخالق ہزارہ کے ہدایات اور سرپرستی میں منعقد ہوں گے۔ڈائمنڈ جوبلی کے سلسلے میں بلوچستان بھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں 14اگست اور 23مارچ کو قومی اور علاقائی سطح کے کھیلوں کے مقابلے ہوں گے جس میں بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اچھے کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو انعامات کے ساتھ ساتھ انہیں قومی اوربین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر4187/2022
کوئٹہ یکم جولائی:۔صوبائی سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی دوستین خان جمالدینی کی زیر صدارت صوبے میں 15 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں انتخابات کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کاجائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد ہاشم غلزئی، صوبائی الیکشن کمشنر فیاض حسین مراد، کمشنرز و متعلقہ ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات صاف و شفاف ہوں گے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے کے حساس پولنگ اسٹیشنز میں سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پر امن بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پولنگ اسٹیشنز پر بلدیاتی انتخابات کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور آج ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پولنگ کا سامان عملے میں پہنچا دیا گیاہے۔
خبر نامہ نمبر4188/2022
کوئٹہ یکم جولائی:۔محکمہ ایس این جی اے ڈی میں تعیناتی کے منتظر سیدال خان لونی (بی سی ایس/ بی 20) کو سیکریٹری محکمہ اطلاعات حکومت بلوچستان تعینات کر دیا گیا ہے۔ سیدال خان اس سے پہلے صوبے کے کئی کلیدی پوسٹوں پر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں، جن میں کمیشنر مکران ڈویژن، ڈائریکٹر جنرل ماحولیات، ایڈ منسٹریٹر کوئٹہ اور دیگر شامل ہیں۔ سیدال لونی کو صوبائی سروسز کا ایک قابل اور آچھا آفیسر مانا جاتا ہے۔خبر نامہ نمبر4189/2022
پشین یکم جولائی:۔ڈپٹی کمشنر ظفر علی محمد شہی نے کہا ہے کہ ضلعی سطح پرمنتخب اور غیر منتخب مقامی حکومت کے ارکان کی صلاحیت سازی کرنے سمیت پائیدار ترقیاتی اہداف(ایس,ڈی,جیز)کی مانیٹرنگ نہایت ضروری ہے ضلع میں تمام ایس،ڈی،جیز اہداف کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے صلاحیت سازی کے تربیتی سرگرمیوں کا انعقاد ضروری ہے جو منتخب اور غیر منتخب مقامی حکومت کے ارکان کی صلاحیت سازی کر سکیں، تاکہ وہ بلوچستان میں پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کی لوکلائزیشن کی شرح کو بڑھانے کے لئے کام کر سکیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوکل کونسلز ایسوسی ایشن بلوچستان(LCAB) یورپی یونین(EU) سمیت شہروں اور مقامی حکومتوں کے اتحاد،ایشیاء پیسفک (UCLG-ASPAC) کی معاونت سے دو روزہ تربیتی سیشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا تربیتی ورکشاپ میں پروگرام کوارڈینیٹر(ایل،سی،اے)بلوچستان شہباز حسین،تربیتی ٹیم سمیت متعلقہ سرکاری محکموں کے ضلعی آفسران شریک تھے ڈپٹی کمشنر نے سہولت فراہم کرنے پر با اختیار عوام،پائیدار مقامی ترقی پاکستان پروگرام ”لیڈ فار ایس،ڈی،جیز” کے عملے کی کاوشوں کو سراہا اور تعریف کی۔تربیتی پروگرام کی ٹیم لیڈر مس زیب النساء نے ڈپٹی کمشنر ظفر علی کو تربیت سازی کے پروگرام سیمتعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے دن کا آغاز ایس ڈی جیز کے تفصیلی تعارف پر مشتمل کامیاب سیشنز سے ہوا اور شرکاء کو بین الاقوامی،قومی اور صوبائی سطح کے ایس ڈی جیز فریم ورک کی تفہیم سے آگاہ کیا گیا پروگرام کے تمام سیشن عالمی ایجنڈے 2030 کے بارے میں تفصیلی معلومات اور 2030 تک اس کی تکمیل کے بارے میں قومی عزم پیش کیا گیا جبکہ دوسرے دن شرکاء نے ضلعی سطح پر ایس ڈی جیز کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے ایکشن پلان کی ترقی کے لئے گروپ سرگرمی کے بعد ایس،ڈی،جی ڈیٹا اکٹھا کرنے،نگرانی اور رپورٹنگ کے حوالے سیمشقوں میں جوش و خروش سے شرکت کیا پروگرام لیڈر زیب النساء نے مزید بتایا کہ ایس،ڈی،جیز کی نگرانی اور رپورٹنگ کے چیلنجز مسلسل اور تشویش ناک ہیں،ضروری ہے کہ ہم اپنے موجودہ منصوبوں کے ساتھ ایس،ڈی،جیز کی فعال ترجیح اور مطابقت پر توجہ مرکوز کریں ضلعی سطح پر ٹاسک فورسز کی تشکیل کے حوالے سے تجاویز سامنے آئیں یہ ٹاسک فورسز تمام متعلقہ پالیسیوں،قانون سازیوں،ہم آہنگیوں،جاری پیش رفتوں اور منصوبوں کو ایس،ڈی،جیز کے ساتھ ہم آہنگ کریں گی اس سلسلے میں سی ایس اوز، اکادمیا اور تحقیقی مراکز کو ایجنڈا 2030 کے حصول کے لئے سرکاری محکمے کی معاونت کرنی چاہئے نچلی سطح پر ضلعی ٹاسک فورسز کی تشکیل ناگزیر ہے تاکہ وہ ایس،ڈی،جیز کی موثر لوکلائزیشن کے حصول کے لئے تمام دستیاب وسائل اور طریقوں سے فائدہ اٹھا سکیں وہ ان فورمز پر اکٹھے ہوں جہاں متنوع شعبوں کے ماہرین بلوچستان میں پائیدار ترقیاتی اہداف کی نگرانی اور مانیٹرینگ کے عمل کو تیز کرنے کے لئے اپنی تجاویز شیئر کریں گے، فلور نے رضاکارانہ ذیلی قومی جائزوں میں ایس ڈی جیز کی ترجیحی سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی عادت کو اپنانے کی تجویز دی شہروں اور مقامی حکومتوں کے اتحاد -ایشیا پیسفک (UCLG-ASPAC رضاکارانہ سب نیشنل ریویو 2022 کی تیاری میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے جسے پاکستان سے رضاکارانہ قومی جائزہ 2022 میں شامل کیا جائے گا تربیت میں مقامی حکومتوں کی ذمہ داریاں اور فرائض کو شامل کیا گیا شرکاء نے مقامی حکومتوں کے لئے مالیات کے ذرائع کے بارے میں نچلی سطح کے حقائق پر غور وخوض کیا اور مقامی حکومت کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے مزید فنڈنگ اوراختیارات کے لیے تجاویز پیش کیں۔ تربیتی شرکاء کا کہنا تھا کہ SDGs کی مانیٹرینگ ایک مسلسل عمل ہونا چاہئے تمام محکموں نے ڈیٹا اکٹھا کرنے،مانیٹرینگ اور رپورٹنگ کے عمل میں خود کو فعال طور پر شامل کرنے کا عہد کیا تمام اسٹیک ہولڈرز کی تکنیکی اور ترغیبی معاونت سے پورے پاکستان میں ایجنڈا 2030 کے حصول کے لئے نتیجہ خیز نتائج اور وسیع ترقی ہوگی پروگرام کے آخر میں ڈپٹی کمشنر ظفر علی نے تربیت حاصل کرنے والے شرکاء میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔
خبر نامہ نمبر4190/2022
کوئٹہ، لورالائی، تربت یکم جولائی:۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں غیر صحت بخش خوراک کی پروڈکشن و فروخت کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران 2 مراکز سیل جبکہ 20 سے زائد پر جرمانے عائد کر دئیے گئے۔بی ایف اے فوڈ سیفٹی ٹیم نے جان محمد روڈ اور فقیر محمد روڈ (کوئٹہ) کے علاقوں میں کھانے پینے کے مراکز کی چیکنگ کے دوران 1 آئسکریم ڈسٹریبیوشن یونٹ سربمہر کرتے ہوئے آئسکریم پروڈکشن پلانٹ معلوم کرنے سمیت مختلف امور کی چھان بین کیلئے مزید قانونی کارروائی شروع کردی، یونٹ سے کوئٹہ شہر کو ناقص اجزاء سے تیار کردہ آئسکریم سپلائی کی جارہی تھی۔مزید برآں زائد المعیاد اشیاء (مصالحے، کیچپ)، چائنیز نمک و مضر صحت نان فوڈ گریڈ کلرز کی فروخت اور فوڈ بزنس لائسنس نہ ہونے پر 6 جنرل اسٹورز کو جرمانہ کیا گیا۔ملاوٹی و غیر صحت بخش دودھ کی فروخت سے متعلق عوامی شکایات موصول ہونے پر فوری رسپانس دیتے ہوئے بی ایف اے ملک سیفٹی ٹیم نے پرانا سبزل روڈ میں قائم ملک شاپس اور ڈیری فارمز کی انسپیکشن کی، دودھ میں ملاوٹ کرنے پر 3 ملک شاپس پر جرمانے عائد کیے گئے۔ مزکورہ ملک شاپس کے خلاف بی ایف اے فوڈ بزنس لائسنس کی عدم دستیابی اور دودھ میں ملاوٹ سمیت صفائی کے ناقص انتظامات پر کارروائی کی گئی۔ مزید برآں غیرمعیاری اشیاء کی فروخت پر بی ایف اے زونل فوڈ سیفٹی ٹیم (لورالائی) نے 1 جنرل اسٹور سربمہر، 4 کو جرمانہ جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 1 نان شاپ، 1 میٹ شاپ اور 1 پکوڑا سموسہ شاپ پر جرمانے عائد کیے۔ تحصیل روڈ اور صدر بازار میں زونل ڈائریکٹر شراف الدین کی سربراہی میں بی ایف اے حکام کی جانب سے سیل کردہ جنرل اسٹور کے خلاف واش روم میں اشیاء کی اسٹوریج اور مضر صحت کیمیکل و خوردنی اشیاء ایک ساتھ رکھنے پر کارروائی کی گئی جبکہ دیگر 4 جنرل اسٹورز کو مختلف وجوہات بی ایف اے لائسنس کی عدم دستیابی، زائد المعیاد اشیاء برآمد ہونے، پابندی عائد ناقص کوکنگ آئل و چائنیز نمک کی فروخت اور اشیاء اسٹوریج کے غیر صحت بخش نظام پر جرمانہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں بلوچستان فوڈ اتھارٹی زونل ٹیم کی تربت کے مختلف علاقوں میں انسپیکشن کے دوران 2 جنرل اسٹورز پر جرمانے عائد کیے گئے, جنرل اسٹورز سے زائد المعیاد مشروبات، مایونیز، جیلی اور کارن فلیکس برآمد کرکے ضبط اور دونوں مراکز پر جرمانے عائد کر دئیے گئے۔اس دوران معمولی نقائص پر متعدد مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری و مالکان و ورکرز کو بی ایف اے ہدایت ناموں کی کاپیاں فراہم کی گئیں۔
انتقال پرملال
کوئٹہ 1جولائی:۔بلوچستان کے مشہور براڈ کاسٹر اور صحافی عبدالصمد درانی(مرحوم) کی اہلیہ عبدالستار درانی مرحوم حاجی عبدالرحمن درانی(مرحوم)اور عبدالرزاق درانی کی بھابھی بقضائے الہی انتقال کر گئی۔ مرحومہ پروفیسر عبدالرشید درانی ڈاکٹر انصار محمود درانی،حاجی ندیم درانی ڈپٹی سیکرٹری پراسیکیوشن،کرنل داود درانی, محسن درانی اور ظہور جان درانی کی والدہ تھی اور شیر علی کاسی کی ھمشیرہ تھی۔مرحومہ کی ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی جامع مسجد بلوچی سٹریٹ میں ہوگی۔
پریس ریلیز
مستونگ01 جولائی:۔ترجمان شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل اسپتال مستونگ نے ریٹائرڈ ڈاکٹرز کے کانٹریکٹ ختم ہونے پر اسپتال سروسز کی معطلی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال میں حسب معمول طبی خدمات کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے دو روز قبل ہسپتال کی اسپیشل سلیکشن کمیٹی نے انٹرویوز کیے اور نئے ڈاکٹرز و کنسلٹینٹس بھرتی کیئے گئے اور سروسز معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے مزید نوجوان فارغ التحصیل ڈاکٹرز کی بھرتی جلد عمل میں لائی جائیگی۔ جمعہ کو جاری اپنے ایک بیان میں شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل اسپتال کے  پبلک ریلیشن آفیسر نے کہا کہ آڈٹ پیرائے میں اعتراض کے بعد  سیکرٹری صحت کے احکامات کی روشنی میں ایسے  ضعیف العمر ڈاکٹرز جو بھرپور انداز میں طبی خدمات کی فراہمی سے قاصر ہیں ان کی  خدمات کو مزید جاری رکھنے کے بجائے فریش گریجویٹس کی بھرتی کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بلوچستان بھر سے علاج معالجے کی غرض سے آنے والے افراد کو ممکنہ ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ترجمان نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سعید احمد کی سربراہی میں شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل اسپتال میں بلا امتیاز تمام مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین اور معیاری سہولیات فراہم کی جاررہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment