خبرنامہ نمبر3554/2026
کوئٹہ یکم مئی:گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ملکوں کی زندگی میں محنت کش وہ قابل فخر افرادی قوّت ہے جو قوموں کی تعمیر کرتی ہے، آبادیوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور قوموں کو ذلت سے عظمت کی جانب گامزن کرتی ہے۔ آج ہم اپنے تمام مزدوروں اور کسانوں کی محنت اور عظمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی محنت اور قربانیاں ہماری معیشت اور معاشرت کو مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ مزدور اور کسان ہمارے شہروں، دیہاتوں، کھیتوں اور صنعتوں کی تعمیر کیلئے دن رات محنت کرتے ہیں۔ وہ پائیدار معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے بغیر تعمیر و ترقی ایک خواب ہی رہیگی۔ آج انٹرنیشنل لیبر ڈے کے موقع پر ہمیں تمام زیاکش طبقہ کے وقار کو ہمیشہ برقرار رکھنے کا عہد کرتا ہوگا۔ ہماری قومی اقدار و روایات جو اسلامی تعلیمات میں گہری جڑی ہوئی ہیں اس معاملے میں ہماری واضح رہنمائی کرتی ہیں۔ اسلام ہمیں محنت کا احترام کرنے، مزدوروں کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آنے اور اجرت کی فوری اور منصفانہ ادائیگی کو یقینی بنانے کا درس دیتا ہے۔ سردست ہم روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے حکومت اور عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ روزگار پیدا کرنے، بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے اور افراد کو معاشی طور خودمختار بنانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ معاشی اور سماجی زندگی میں فعال طور پر اپنا حصہ ڈال سکیں۔ لیکن حقیقی تبدیلی کیلئے مزید اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں، قومی تعمیر و ترقی تیزی سے تجارت، صنعت اور اختراعات کے ذریعے تشکیل پا رہی ہے۔ آج ہم اس بات کو یقینی بنانے کا عہد کرتے ہیں کہ محنت کشوں کے تعاون کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کا عزم کرتے ہیں جہاں ہر مزدور اور ہر کسان فخر، تحفظ اور امید کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
خبرنامہ نمبر3555/2026
کوئٹہ 01 مئی:صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے یوم مزدور کے دن کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یومِ مزدور ہمیں اُن عظیم محنت کشوں کی قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے تاریخ رقم کی صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ آج کا دن اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ ہم اپنے مزدور بھائیوں اور بہنوں کو باعزت روزگار، محفوظ کام کے حالات اور ان کے حقوق کی مکمل فراہمی کو یقینی بنائیں گے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مزید کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات بشمول پورے صوبے میں کام کرنے والے تمام محنت کش ہماری ترقی کا اہم ستون ہیں ان کی انتھک محنت ہی صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو ممکن بناتی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت ان کے مسائل کے حل بہتر سہولیات کی فراہمی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے تمام مزدوروں کو یومِ مزدور پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ان کے حقوق کے تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے ہماری کوششیں جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر3556/2026
کچھییکم مئی۔انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ IFAD کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے، ڈاکٹر محمد افضل کی قیادت میں، اپنے ٹیم ممبران کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک تعارفی نشست کے طور پر منعقد ہوئی، جس کا بنیادی مقصد ضلع کچھی میں دیہی اور کمیونٹی بیسڈ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا تھا ملاقات کے دوران آئی ایف اے ڈی مشن نے مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان کے ساتھ جامع تبادلہ خیال کیا، جن میں زراعت، آبپاشی، لائیوسٹاک، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ PHE، کمیونیکیشن اینڈ ورکس C&W صحت اور تعلیم کے شعبے شامل تھے۔ اجلاس میں ہر محکمے کی کارکردگی، درپیش چیلنجز، ترقیاتی ترجیحات اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل پر تفصیل سے غور کیا گیا آئی ایف اے ڈی وفد نے گفتگو کے دوران ضلع کچھی میں ترقی کے مختلف ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کی ان میں زرعی پیداوار میں اضافہ، معیاری بیجوں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی فراہمی، صاف پینے کے پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا، غذائیت کی صورتحال میں بہتری، پانی ذخیرہ کرنے کے لیے تالابوں کی تعمیر، دیہی سڑکوں خصوصاً فارم ٹو مارکیٹ روڈز کی بہتری، لائیوسٹاک کے شعبے کی ترقی اور صحت و تعلیم کی سہولیات میں بہتری شامل ہیں وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان شعبوں میں تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کر کے ضلع کی مجموعی ترقی میں کردار ادا کیا جائے گا۔ اس موقع پر کمیونٹی بیسڈ ترقیاتی ماڈلز کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، جن کے تحت مقامی آبادی کو منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے عمل میں شامل کر کے پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہیڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران نے آئی ایف اے ڈی کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ ایسے ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں عملی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس اشتراک سے نہ صرف دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
خبرنامہ نمبر3557/2026
بارکھان یکم مئی:عالمی یومِ مزدور کی مناسبت سے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول بارکھان میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں محنت کش طبقے کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر بارکھان حسام الدین کاکڑ تھے۔تقریب میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف، پرنسپل میر ہزار خان، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر بوائز اسکولز طارق محمود کھیتران،ڈی ایس پی بارکھان۔ ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر پائند خان، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر عید محمد کھیتران سمیت دیگر ضلعی افسران، اساتذہ کرام، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ مزدور ہمیں محنت، دیانت اور جدوجہد کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں مزدور طبقہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جن کی شبانہ روز محنت سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔اس موقع پر طلبہ نے تقاریر اور ملی نغمے بھی پیش کیے جبکہ مزدوروں کے حقوق، ان کی فلاح و بہبود اور معاشرتی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔تقریب کے اختتام پر ایک آگاہی ریلی بھی نکالی گئی، جو گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول سے شروع ہو کر پریس کلب بارکھان پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکاء نے مزدوروں کے حقوق کے حق میں نعرے لگائے اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
خبرنامہ نمبر3558/2026
کیپٹن وقار احمد شہید ریزیڈنشل کالج لورالائی میں Farewell 32nd Entry Ceremony یعنی 32ویں بیچ / انٹری کی الوداعی تقریب منعقد ہوئی اس الوداعی تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل سیکرٹری عبدالمالک اچکزئی تھے، جبکہ دیگر معزز مہمانوں میں نوجوان تعلیم یافتہ سیاسی رہنما افضل خان اُتمانخیل،وائس چانسلر لورالائی یونیورسٹی ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ، ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع، ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر محمود الحسن گورنمنٹ ڈگری کالج کے پرنسپل سردار خان، ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر عبدالمجید ناصر اور حاجی عبد الغفار کدیزئی شامل تھے اس پروگرام میں لیپ ٹاپ ڈسٹریبیوشن کے ساتھ PEEF Scholarship یعنی Punjab Educational Endowment Fund (PEEF) کی جانب سے 57طلبہ میں چیکس اور 71 طلبہ میں لیپ ٹاپ بھی تقسیم کیے گئے افضل خان اُتمانخیل نے اس موقع پر سٹوڈنٹس سے study,زندگی میں آنے والے چیلنجز سے مقابلہ کرنے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ ایک فٹسال گراؤنڈ دینے کا بھی اعلان کیاجس پر چند روز میں کام کا آغاز ہوگا اس کیعلاوہ انہوں نے اپنی جانب سے تین لاکھ روپے نقد بھی دیے۔اس موقع پر بی آر سی کالج لورالائی کے پرنسپل ڈاکٹر عبدال صمد اچکزئی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ممبر صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اُتمانخیل کا شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ اس پروقار تقریب میں ایم پی اے حاجی محمد خان طور اُتمانخیل صاحب کا نام نہ لینا بہت بڑی ناانصافی ہوگی انہوں نے مزید کہا کہ جب وزیراعلیٰ بلوچستان سال 2024 میں ادارہ ہذا آئے تھے تو حاجی محمد خان طور اُتمانخیل کی درخواست پر ہی وزیراعلیٰ صاحب نے ان طلبہ کے لیے لیپ ٹاپس کا اعلان کیا تھا اسی لیے آج ہم نے یہاں ایک بینر کے ذریعے ممبر صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اُتمانخیل کو خراجِ تحسین پیش کیا ہم ان کے انتہائی مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ ادارے کی سپورٹ کی اس پروقار تقریب کا اختتام انتہائی خوبصورت انداز میں ہوا آخر میں بی آر سی کالج کے پرنسپل نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر3559/2026
لورالائی یکم مئی:تحصیل میختر میں کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کے احکامات، ترقیاتی ترجیحات کے تعین کے لیے وسیع مشاورت ضلعی انتظامیہ لورالائی کے زیرِ اہتمام تحصیل مخیتر میں ایک جامع کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے شہریوں کے مسائل براہ راست سنے اور موقع پر ہی متعدد احکامات جاری کیے۔ کھلی کچہری کا مقصد عوام کو حکومتی نمائندوں تک براہ راست رسائی فراہم کرنا اور ان کے مسائل کا فوری اور مؤثر حل یقینی بنانا تھا۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر واضح کیا کہ عوامی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی کہ وہ موصول ہونے والی درخواستوں پر فوری کارروائی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔کھلی کچہری میں ایف سی کے کرنل حسنین، ایس ایس پی ڈاکٹر فہد احمد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نور علی کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر یحییٰ خان، آل پارٹیز نمائندگان، قبائلی عمائدین، مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور کنسٹرکشن کمپنیوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر سول و عسکری قیادت اور عوامی نمائندگان کی مشترکہ موجودگی کو مؤثر طرز حکمرانی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ایک اہم مثال قرار دیا گیا۔کھلی کچہری کا مرکزی محور بلوچستان سوشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری (2026-27) کے تحت شہری ترقی کے لیے عوامی تجاویز کا حصول تھا۔ اس دوران BSDI کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ مرحلے کے لیے جامع منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے مالی سال 2026-27 کے لیے شہری انفراسٹرکچر، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، تعلیم و صحت کی سہولیات میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق اہم تجاویز پیش کیں۔عوامی مسائل کے حوالے سے شہریوں نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، پینے کے پانی کی قلت، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی عدم دستیابی اور بے روزگاری جیسے اہم مسائل اجاگر کیے۔ متعدد شہریوں نے سرکاری دفاتر میں سست روی اور عوامی شکایات کے حل میں تاخیر کی بھی نشاندہی کی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ پانی، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں فوری بنیادوں پر بہتری لائی جائے جبکہ بلدیاتی اداروں کو صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو فعال بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ناقص کارکردگی کے حامل اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبے مقامی ضروریات، شفافیت اور پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیے جائیں تاکہ عوام کو دیرپا ریلیف مل سکے اور وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مشاورت کو بنیادی اہمیت دیتی ہے اور موصول ہونے والی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا وژن عوامی مسائل کا پائیدار حل، بہتر طرز حکمرانی اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے اور مؤثر نگرانی کے ذریعے ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ تحصیل مخیتر کو ایک منظم، ترقی یافتہ اور سہولیات سے آراستہ شہری مرکز بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3560/2026
صحبت پور۔۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر ضلع صحبت پور، فریدہ ترین نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) اسکیمز کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول صحبت پور کا ایک تفصیلی دورہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اسکول میں جاری ترقیاتی و تعمیراتی کاموں، زیرِ تکمیل تعلیمی و بنیادی سہولیات اور مختلف ترقیاتی منصوبہ جات کا نہایت باریک بینی، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ انداز میں تفصیلی معائنہ کیا انہوں نے موقع پر موجود متعلقہ افسران اور انجینئرنگ اسٹاف سے بریفنگ بھی حاصل کی اور جاری پیش رفت کا جامع اور تفصیلی جائزہ لیاانہوں نے مجموعی طور پر منصوبے کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکموں اورٹھیکیداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ ٹائم لائن کے اندر اعلیٰ معیار، مکمل شفافیت، مؤثر نگرانی اور بہترین انجینئرنگ اصولوں کے مطابق ہر صورت مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی کوتاہی، غفلت یا غیر معیاری کام کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق تعلیمی اداروں میں معیاری بنیادی سہولیات کی فراہمی، موجودہ تعلیمی ڈھانچے کی بہتری اور تعلیمی ماحول کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا حکومتِ بلوچستان کی اولین اور ترجیحی ذمہ داریوں میں شامل ہے اس وژن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ طلبہ کو ایک محفوظ، معیاری، سازگار اور مثبت تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے، جو نہ صرف ان کی تعلیمی ترقی بلکہ ان کی اخلاقی، ذہنی اور شخصی نشوونما میں بھی مؤثر اور دیرپا کردار ادا کرے انہوں نیمزید کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیار، رفتار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ سرکاری وسائل کے منصفانہ، مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو ناگزیر قرار دیا جائے انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے تمام منصوبوں کے ثمرات بروقت، شفاف اور مؤثر انداز میں عوام تک پہنچنے چاہئیں، تاکہ ان منصوبوں کے حقیقی مقاصد حاصل ہوں اور عوام کا اعتماد مزید مضبوط اور مستحکم ہو۔
خبرنامہ نمبر3561/2026
صحبت پور۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ویژن کے مطابق اشیاء ضروریہ خصوصاً پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے تحصیلدار صحبت پور نے صحبت پور بازار کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پرانہوں نے 43 دکانوں میں چیزوں کے معیار کا جائزہ لیا اور دکانداروں سے ملاقاتیں بھی کی جبکہ سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخوں پر عملدرآمد، اشیاء کی میعادِ استعمال ایکسپائری ڈیٹس اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر 3,500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور معمولی بے ضابطگیوں پر 13 دکانداروں کو وارننگ جاری کی گئی دکانداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ نرخ نامے نمایاں جگہ پر آویزاں کریں، سرکاری نرخوں کی مکمل پابندی کریں اور معیاد ختم ہونے والی اشیاء کی فروخت سے گریز کریں تاکہ عوام کو معیاری اور محفوظ اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے تحصیلدار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ناجائز منافع خوری، گراں فروشی اور ایکسپائر اشیاء کی فروخت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ضلعی انتظامیہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق قیمتوں میں استحکام اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے
خبرنامہ نمبر3562/2026
صحبت پور۔ یومِ مزدور کے عالمی دن کے موقع پر ڈپٹی کمشنر صحبت پور میڈم فریدہ ترین کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سیف الدین کھوسہ کی زیرِ قیادت ایک باوقار، منظم اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں مختلف مزدور یونینز کے نمائندگان، سرکاری افسران، سماجی شخصیات اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی تقریب کا آغاز باقاعدہ انداز میں کیا گیا، جس میں مقررین نے یومِ مزدور کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے محنت کشوں کی بے مثال قربانیوں اور ملکی ترقی میں ان کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا مقررین نے کہا کہ مزدور کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور ان کی محنت کے بغیر ترقی کا عمل ممکن نہیں اس موقع پر محنت کش طبقے کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ، فلاح و بہبود، بہتر اجرتوں، محفوظ کام کے ماحول اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ مزید برآں، مزدوروں کو درپیش مسائل، جن میں اجرتوں کی کمی، سوشل سیکیورٹی کی سہولیات اور کام کے بہتر حالات شامل ہیں، پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور ان کے پائیدار حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں تقریب کے اختتام پر یومِ مزدور کی مناسبت سے ایک پرامن ریلی نکالی گئی، جس میں شرکاء نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی ریلی کے دوران مزدوروں کے حقوق کے حق میں اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کے لیے نعرے بلند کیے گئے ریلی مقررہ راستوں سے گزرتی ہوئی نظم و ضبط کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی اس تقریب کا مقصد نہ صرف محنت کش طبقے کی خدمات کو سراہنا تھا بلکہ معاشرے میں ان کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور انہیں درپیش مسائل کے حل کے لیے اجتماعی شعور کو فروغ دینا بھی تھا.
خبرنامہ نمبر3563/2026
لورالائی یکم مئی: پولیس تھانہ طورہ نے منشیات کے خلاف ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لیں۔ کارروائی محمد عارف باتوزئی (ایس ایچ او) کی سربراہی میں عمل میں لائی گئی، جس کے دوران پولیس ٹیم نے خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کر 17 کلوگرام چرس اور 123 کلوگرام بھنگ قبضے میں لے لی۔پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ایک ملزم، دادان ولد گل باران قوم حمزازئی، سکنہ طورتھانہ لورالائی کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم منشیات کی ترسیل کے ایک منظم نیٹ ورک سے منسلک ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ معاشرے سے اس ناسور کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔لورالائی پولیس نے ایک اور کارروائی کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ اس دوران اسلحہ اور دیگر مشکوک اشیاء بھی برآمد کی گئیں۔ پولیس کے مطابق سرچ آپریشن کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی ہے۔ مزید کارروائیاں متوقع ہیں جبکہ زیر حراست افراد سے تفتیش جاری ہے۔
خبرنامہ نمبر3564/2026
ضلع برشور01 مئی صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اربن پلاننگ و چیئرمین کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسفند یار خان کاکڑ نے کہا ہے کہ برشور کا ضلع بننا ایک خواب کی تعبیر ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے عوام دوست اقدامات سے صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے،جبکہ تحصیل برشور کو ضلع کا درجہ دینا صوبائی حکومت کی انتظامی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے،تاہم ضلع پشین سے الگ کرکے اسے ایک آزاد انتظامی اکائی بنانا اس پسماندہ خطے کی تقدیر بدلنے کا ایک سنجیدہ حکومتی عہد ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے برشور اور توبہ کاکڑی میں جاری عوامی فلاح و بہبود کیلئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کرنے کے محال پر وہاں موجود آفسران اور قبائلی عمائدین اور عوام الناس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس اور لائن ڈپارٹمنٹ کے آفسران بھی ان کے ہمراہ تھے،اسفند یار خان کاکڑ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار کو برقرار رکھنے کیلئے معائنہ کے رفتار کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں،جس کا بنیادی مقصد برشور کے عوامی مشکلات و مسائل کو کم کرنا،تعلیم و صحت سمیت انفراسٹرکچر کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کو معیار کے مطابق بروقت مکمل کرکے عوام کو مستفید کرنا ہے،ضلع برشور بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہاں کے عوام کو ”قریبی گورننس” کی صورت میں ملا ہے،کیونکہ ضلع برشور کے باسیوں کو ماضی میں چھوٹے چھوٹے انتظامی کاموں کے لیے پشین یا کوئٹہ کے طویل سفر کرنے پڑتے تھے،لیکن اب ڈپٹی کمشنر،ضلعیانتظامیہ اور دیگر محکمہ جات سمیت پی،ڈی،ایم،اے اور میونسپل کمیٹی کے دفاتر کی یہاں موجودگی سے عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوتے رہیں گے،انہوں نے کہا کہ انتظامی عمارتوں کی تعمیر سے نہ صرف برشور کا نقشہ بدلے جائے گا،بلکہ یہاں کے عوام کو روزگار کے بھرپور مواقع بھی ملیں گے،اس موقع ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ(ر) خالد شمس نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار تعلیم،صحت اور بنیادی سہولیات پر منحصر ہوتا ہے،ضلع بھر میں اسکولوں کو فعال کرنا اور نئے کالجز کا قیام نسلِ نو کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو گا،تاہم تحصیل ہسپتال کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال کا درجہ ملنے سے اب یہاں کے عوام کو سرجری،گائنی اور ایمرجنسی کی جدید سہولیات میسر ہوں گے،جبکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان منصوبہ جات کی تکمیل اور سڑکوں کا انفراسٹرکچر بہتر بنانے سے روزگار اور تجارت کو بھی خاطر خواہ فروغ ملے گا،جس سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے،مگر اصل چیلنج ان منصوبوں کی بروقت تکمیل اور فنڈز کا صحیح استعمال ہے،اگر انتظامیہ اور مقامی عمائدین مل کر اخلاص کے ساتھ کام کریں،تو وہ دن دور نہیں جب برشورتعلیم،صحت،زراعت،سیاحت اور بہترین گورننس کی بدولت بلوچستان کا ماڈل ضلع بن کر ابھرے گا۔
خبرنامہ نمبر3565/2026
لورالائی یکم مئی:عوامی شکایات پر ضلعی انتظامیہ نے منی پٹرول پمپس کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم نے ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر مختلف علاقوں میں قائم منی پٹرول پمپس پر اچانک چھاپے مارے۔کارروائی کے دوران پٹرول کی پیمائش کو جدید آلات کی مدد سے چیک کیا گیا، جس میں متعدد پمپس پر پیمانے میں کمی اور بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ خلاف ورزی کے مرتکب پمپ مالکان پر موقع پر جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ ایک پٹرول پمپ کو سنگین خلاف ورزی پر سیل کر دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو کم مقدار میں پٹرول فراہم کرنا کھلی دھوکہ دہی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری نرخ اور پیمانے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔انہوں نے پمپ مالکان کو ہدایت کی کہ وہ حکومتی مقررہ ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق عوامی مفاد کے تحفظ اور شفاف کاروباری ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اس نوعیت کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف رجسٹریشن مہم شروع لورالائی میں ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف رجسٹریشن مہم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق تمام پمپ مالکان کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی رجسٹریشن مکمل کروائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف غیر معیاری پٹرول کی فروخت کو روکنا ہے بلکہ صارفین کو مکمل مقدار اور معیاری ایندھن کی فراہمی یقینی بنانا بھی ہے۔ شہریوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے تاکہ بدعنوان عناصر کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
خبرنامہ نمبر3566/2026
گوادریکم مئی: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے یومِ مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یکم مئی ہمیں محنت کشوں کی عظیم خدمات، عزم اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقہ نہ صرف معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے بلکہ قومی ترقی کے سفر کا حقیقی محرک بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط، خود کفیل اور خوشحال ریاست کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب محنت کشوں کو بااختیار بنایا جائے اور انہیں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ ضلعی انتظامیہ گوادر حکومتِ بلوچستان کی پالیسیوں کے مطابق مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، ان کی فلاح و بہبود اور بہتر طرزِ زندگی کی فراہمی کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کر رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مزدوروں کو درپیش مسائل کے حل، عوامی شکایات کے بروقت ازالے اور لیبر قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محفوظ، صحت مند اور باعزت کام کے ماحول کی فراہمی ترجیحات میں سرفہرست ہے تاکہ محنت کش اطمینان اور وقار کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے سکیں۔نقیب اللہ کاکڑ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے میں مساوات، انصاف اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ مزدوروں کی خدمات کو تسلیم کیا جائے اور انہیں ان کا جائز مقام دیا جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محنت کشوں کے ساتھ مثبت، ہمدردانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کی لگن، محنت اور استقلال ہی ملک کی پائیدار ترقی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے، اور اسی عزم کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔
خبرنامہ نمبر3567/2026
برشور01 مئی:ڈپٹی کمشنر فلائٹ لیفٹیننٹ(ر) خالد شمس کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ برشور کے تمام ہائی اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیض اللہ خان کاکڑ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر محکمہ تعلیم کے دیگر آفسران بھی موجود تھے اجلاس میں کلسٹر بجٹ اور ڈی،ڈی،او کوڈز زیر بحث آئے،اس دوران ہدایات جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع کے تمام تعلیمی اداروں کے اساتذہ و نان ٹیچنگ اسٹاپ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے مخلصانہ طور پر کوشش کریں اور مکمل حاضری کو یقینی بناتے ہوئے درس و تدریس سمیت دیگر امور کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کریں جبکہ مقدس فریضہ سمجھ کر اپنے فرائض منصبی کی آدائیگی خندہ پیشانی سے کریں،تاہم انہوں نے مستقل بنیادوں پر غیر حاضری کے مرتکب اساتذہ کی تنخواہوں سے کٹھوتی کے احکامات جاری کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور دیگر متعلقہ اسٹاپ پر زور دیا کہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے،تاکہ ضلع کے طلباء و طالبات حکومت کے ان موثر اقدامات سے بھرپور انداز میں مستفید ہو سکیں گے،ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس بابت ضروری ہے کہ اساتذہ اور تعلیم سے منسلک عملہ اپنے فرائض منصبی کی آدائیگی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی و غفلت کا مظاہرہ کرنے سے گریز کریں اور حکومت کی جانب سے جو ذمہ داریاں سونپی گئیں ہیں ان پر پورا اترنے کے لئے تمام تر توانائیاں صرف کریں،انکا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں سستی،کاہلی و غفلت کا مظاہرہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا،انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ کے اجلاس میں تمام طے شدہ معاملات سے متعلق موثر اقدامات کرنیکی رپورٹ پیش کی جائے۔
خبرنامہ نمبر3568/2026
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں محکمہ صحت میں انقلابی اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں،ہیلتھ کارڈ کے ذریعے صوبے کے 3 لاکھ 45 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے جبکہ 7 ہزار 784 مریضوں نے دل کے آپریشن کی سہولت حاصل کی۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ محکمہ صحت ماضی کے برعکس موجودہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ حکومت نے سب سے پہلے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس، نرسنگ اسٹاف اور دیگر طبی عملے کی حاضری کو سو فیصد یقینی بنایا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ ہسپتال کے جس شعبے میں کوئی ڈاکٹر غیر حاضر پایا گیا وہ خود کو معطل سمجھے۔انہوں نے کہا کہ آج صوبے کے تمام سرکاری ہسپتال 100 فیصد فعال ہیں اور عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ ان مریضوں میں 575 ایسے مریض بھی شامل ہیں جن کی ہارٹ بائی پاس سرجری مکمل طور پر مفت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے پیپلز ایئر ایمبولینس سروس کے فوری آغاز کا فیصلہ عوام کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت صحت مند بلوچستان کے وژن پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر3569/2026
صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب جان نوشیروانی کے وژن کے تحت خاران ٹاؤن میں ان کے زیر صدارت ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو, کمانڈنٹ خاران رائفل کرنل بلال شوکت اور تمام متعلقہ محکموں کے افیسران، ضلعی انتظامیہ کے سربراہان، علاقائی معتبرین، بلدیاتی نمائندگان اور آل پارٹیز کے قائدین نے بھرپور شرکت کی اس موقع پر شرکاء نے خاران میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب جان نوشیروانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خاران کی ترقی میری اولین ترجیح روز اول سے رہا ہے علاقے میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے سے روزگار معاشی خوشحالی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جرائم پیشہ عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ایسے عناصر جو امن و امان کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہا ہے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے سخت احکامات جاری کیے۔ اس کے علاوہ کھلی کچہری میں خاران کے جاری ترقیاتی منصوبوں، ڈویلپمنٹ اسکیموں اور BSDI کے فیز ٹو کے حوالے سے بھی لوگوں نے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ شہر کی صفائی پر بھی گفتگو ہوئی اس موقع پر صوبائی وزیر نے اعلان کیا کہ خاران ٹاؤن کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا جائے گا جبکہ تحصیل مسکان قلات کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا جائے گایہ اقدامات مستقبل میں خاران کی شہری ترقی، بہتر بلدیاتی نظام اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر3570/2026
ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی یکم مئی یوم مزدور کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ یوم مزدور ہمیں محنت کش اور جفا کش افراد کی وہ عظیم قربانیاں یاد دلاتی ہیں جنہوں نے اقوام عالم کی تعمیر اور آبادکاری کو پروان چڑھایا گیا ہے اور انسانیت کیلئے عظیم خدمات سرانجام دے رہے ہیں انہوں نے کہاہے کہ یوم مزدور ہمیں محنت کش طبقے کی قربانیوں اور محنت و مشقت کو قدر عزت اور احترام کے ساتھ پیش آنے کی یاد دلاتی ہیں اور کہا کہ زوال سے عروج کی طرف گامزن کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مزدوروں کی محنت اور قربانیوں سے ہماری بنیادی انفراسٹرکچر سے لیکر بڑی بڑی تعمیراتی منصوبوں اور معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ مزدور ہمارے کھیتوں زراعت، گھروں اور صنعتوں غرضیکہ ہر چیز کی تعمیر تعمیر میں دن رات ایک کرتے ہیں اور ہم انکی بنائی ہوئی اور بوئی ہوئی چیزوں سے استفادہ حاصل کرتے ہیں اور مزدور ہماری پائیدار معاشی اور صنعتی ترقی کیلئے کردار ادا کرتے ہیں اور ہماری زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور مزدوروں کے بغیر دنیا کی تعمیر اور ترقی ادھوری ہی رہیگی انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل لیبر ڈے کے موقع پر آج ہم اپنے تمام مزدوروں اور کسانوں کی محنت اور عظمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور بحیثیت ایک قوم ہمیں تمام زیارکش طبقہ کے وقار اہمیت کو اولیت دینا ہوگا اور ہمیں مزدوروں کی مجبوریوں سے استفادہ حاصل نہیں کرنا چاہیے بلکہ مزدوروں کو اچھی اور تنخواہیں اور ڈیلی ویجز دینا چاہیے تاکہ انکی بچوں کی اچھی پرورش تعلیم اور دیگر ضروری سامان مکمل ہوں انہوں نے کہا کہ بحیثیت ایک مسلمان قوم اسلام ہمیں مزدوروں کے سات صلہ رحمی اور نرمی سے پیش آنے اور انکی اجرتوں کو انکی پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کی تلقین اور درس دیتی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ چمن چمن کے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے مختلف قسم کے ملک کے اندر اور بیرون ممالک بھیجنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ہم محنت کش افراد کو معاشی طور خودمختار اور برسر روزگار بنانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں تاکہ مزدور معاشی اور سماجی زندگی میں فعال طور پر اپنا حصہ ڈال سکیں۔
خبرنامہ نمبر3571/2026
ملک بھر کی طرح سرحدی شہر چمن میں بھی یومِ مزدور نہایت جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر چمن میونسپل کارپوریشن سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ریلی کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر امتیاز علی بلوچ اور چمن میئر حاجی حبیب اللہ اچکزئی نے کی۔ شرکاء نے مزدوروں کے حقوق کے حق میں نعرے لگائے اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ریلی میں انجمن تاجران کے چیئرمین حبیب اللہ اچکزئی تاجر رہنماء ملک عین الدین خان اچکزئی نائب صدر حیات اللہ کلیوال سرپرست اعلیٰ حاجی لالئی نورزئی شیر محمد نقیب خان سرور خان حاجی عبد الہادی اچکزئی چیف سنٹری انسپکٹر محمد اصغر اچکزئی۔ فائربریگیڈ انچارج عبدالسلام خان اچکزئی اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ریلی کے اختتام پر مقررین نے مزدوروں کی فلاح و بہبود، بہتر اجرت اور محفوظ کام کے ماحولکی اہمیت پر زور دیا.
خبرنامہ نمبر3572/2026
لورالائی:یکم مئی:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی، ندیم اکرم نے آج شہر کے مختلف بیکریوں اور قصاب کی دکانوں کا اچانک دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے صفائی ستھرائی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور اشیائے خوردونوش کی ایکسپائری ڈیٹس بھی چیک کیں۔ اس دوران متعدد دکانوں پر صفائی کی ناقص صورتحال اور زائد المعیاد اشیاء رکھی پائی گئیں، جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو سخت تنبیہ کی اور بعض کو جرمانے عائد کیے۔ خاص طور پر، دو قصابوں کو صفائی کے ناقص انتظامات پر جرمانے عائد کیے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”عوام کی صحت کا تحفظ اور انہیں معیاری خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں کسی بھی غفلت یا غیر معیاری اشیاء کی فروخت کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ دورے مسلسل جاری رہیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مزید اقدامات اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں صرف خوراک تک محدود نہیں رہیں گی، بلکہ آئندہ میں صفائی ستھرائی اور معیار کی جانچ کے لیے مختلف شعبوں میں بھی انسپکشنز کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو صحت بخش اور معیار کی خوراک مل سکے۔شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات ایڈمنسٹریشن کی جانب سے مزید اعلان کیا گیا ہے کہ خوراک کی معیار کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو مارکیٹ میں موجود مختلف اشیاء کی جانچ پڑتال کرے گی۔ اس کے علاوہ، عوامی آگاہی کے لیے بھی مہم چلائی جائے گی تاکہ شہریوں کو معیاری خوراک کے انتخاب میں مدد مل سکے۔ایڈمنسٹریشن کے اقدامات پر شہریوں کا ردعمل شہریوں نے اس اقدام کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے دورے ان کے لیے ایک تحفظ کا ذریعہ ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف خوراک کا معیار بہتر ہوگا، بلکہ شہر میں صفائی کی صورتحال بھی بہتر ہو گی۔یاد رہے کہ اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صفائی کا خاص خیال رکھیں اور صرف معیاری و تازہ اشیاء فروخت کریں، تاکہ شہریوں کی صحت اور زندگی کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہو۔اس کے علاوہ، انتظامیہ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی دکاندار اس سلسلے میں مزید غفلت برتتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر3573/2026
استامحمد۔ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اُستامحمد میں جاری بحالی و مرمت کے کام کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسر سی ڈبلیو پی پی اینڈ ایچ اُستامحمد، عاشق علی بوہڑ بھی ہمراہ تھے بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ منصوبے کا تقریباً بیس فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہیڈپٹی کمشنر نے جاری تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور اسے مقررہ معیار کے مطابق بروقت مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں یہ منصوبہ حکومتِ بلوچستان کے وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صحت کے شعبے کی بہتری کو یقینی بنانا ہے مذکورہ منصوبہ صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ فیصل خان جمالی کی نشاندہی پر شامل کیا گیا، جو ضلع میں صحت کی سہولیات کی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے.
خبرنامہ نمبر3574/2026
استامحمد۔۔ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت خزانہ آفس اُستامحمد میں جاری بحالی و مرمت کے کام کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسر سی اینڈ ڈبلیو اُستامحمد، عاشق علی بوہڑ بھی ہمراہ تھے متعلقہ حکام نے منصوبے کی پیش رفت پر بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے جاری تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ کام کو منظور شدہ ڈیزائن اور معیار کے مطابق تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے تاکہ دفتر کو جلد فعال کیا جا سکے اور عوام کو بہتر سرکاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے خزانہ آفس کسی بھی ضلع میں مالیاتی نظم و نسق کا بنیادی ادارہ ہوتا ہے، جہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشنز، بلوں کی ادائیگی، ترقیاتی فنڈز کے اجراء اور مالی معاملات کی نگرانی کی جاتی ہے اس کی مؤثر فعالیت سرکاری نظام کی شفافیت اور کارکردگی کے لیے ناگزیر ہے مزید برآں، ضلع کے قیام (2022) سے تاحال خزانہ آفس عارضی طور پر جھٹ پٹ سے کام کر رہا ہے اور ابھی تک اُستامحمد منتقل نہیں ہو سکا۔ موجودہ بحالی کے کام کی تکمیل کے بعد خزانہ آفس کی اُستامحمد منتقلی ممکن ہو جائے گی، جس سے انتظامی امور میں بہتری اور عوام کو سہولیات کی فراہمی مزید مؤثر انداز میں ممکن ہوگی یہ منصوبہ حکومتِ بلوچستان کی ترجیحات کے مطابق ادارہ جاتی بہتری اور عوامی سہولیات کے فروغ کے لیے جاری ہے۔ منصوبہ صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سردارزادہ فیصل خان جمالی کی نشاندہی پر شامل کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے تحت سرکاری دفاتر کی بحالی اور بہتری کے اقدامات جاری ہیں .
خبرنامہ نمبر3575/2026
استامحمد۔ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اُستامحمد کے لیے سابق سیشن کورٹ کی عمارت میں جاری بحالی و مرمت کے کام کا تفصیلی معائنہ کیا اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسر سی اینڈ ڈبلیو اُستامحمد، عاشق علی بوہڑ بھی ان کے ہمراہ تھے متعلقہ حکام نے منصوبے کی پیش رفت پر بریفنگ دی واضح رہے کہ مذکورہ سیشن کورٹ کی عمارت، جہاں اس وقت گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اُستامحمد عارضی طور پر قائم ہے، خستہ حالی کا شکار تھی اسی تناظر میں BSDI کے تحت اس عمارت کی بحالی کا کام جاری ہے تاکہ طالبات کو اپنی مستقل عمارت کی تعمیر تک بہتر اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر نے جاری تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ کام کو منظور شدہ ڈیزائن اور معیار کے مطابق تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے تاکہ عمارت کو جلد فعال بنا کر تعلیمی سرگرمیاں مزید بہتر بنائی جا سکیں مزید برآں، فوڈ گودام میں نئی عمارت کی تعمیر کے لیے ترمیم شدہ پی سی ون (PC-1) پی ایس ڈی پی کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں 2018 کے ریٹس کے مطابق تیار کردہ پی سی ون کے باعث ٹھیکیدار کے لیے پرانی لاگت پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، جس کی وجہ سے گزشتہ آٹھ سال سے منظور شدہ اسکیم پر پیش رفت ممکن نہ ہو سکی اب سائٹ کو خالی کرا کے باقاعدہ طور پر کنٹریکٹر کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے 2026 کے نئے ریٹس کے مطابق پی سی ون کی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ منظوری کے بعد نئی عمارت پر بھی جلد کام شروع کیا جا سکے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ضلع میں طالبات کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کا ایک اہم ادارہ ہے، اور نئی و بہتر سہولیات کی فراہمی سے تعلیمی معیار میں نمایاں بہتری متوقع ہے یہ منصوبہ حکومتِ بلوچستان کی تعلیم دوست پالیسیوں کے مطابق جاری ہے منصوبہ صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ فیصل خان جمالی کی نشاندہی پر شامل کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے تحت صوبے میں تعلیمی اداروں کی بہتری اور سہولیات کی فراہمی کے اقدامات جاری ہیں۔
خبرنامہ نمبر 3576/2026
کوئٹہ، 01 مئی:چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بیف) خالد ماندائی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے کے ہونہار طلبہ کو ملک کے بہترین تعلیمی اداروں تک رسائی دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی سلسلے میں “آؤٹ آف پروونس اسکالرشپ اسکیم 2025-26” متعارف کرائی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت بی ایس/پروفیشنل (4 اور 5 سالہ)، ماسٹرز (2 سالہ) اور ایم ایس/ایم فل پروگرامز میں زیر تعلیم طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔ بی ایس پروگرام کے پہلے سال کے لیے ایف اے/ایف ایس سی کے سالانہ نتائج (2023 تا 2025) جبکہ بالائی سمسٹرز کے لیے متعلقہ سمسٹرز کے سی جی پی اے کو بنیاد بنایا جائے گا خالد ماندائی کے مطابق ماسٹرز پروگرام میں پارٹ ون کے طلبہ کے لیے پہلے سمسٹر جبکہ پارٹ ٹو کے لیے پہلے دو سمسٹرز کے نتائج لازمی ہوں گے، اسی طرح ایم ایس/ایم فل پروگرام میں کورس ورک اور ریسرچ ورک کے طلبہ کے لیے بھی متعلقہ سمسٹرز کے نتائج درکار ہوں گے انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے لیے اہل ہونے کے لیے امیدوار کا بلوچستان کا ڈومیسائل ہونا، کسی پبلک سیکٹر یا بی ای ای ایف کے منظور شدہ نجی ادارے میں زیر تعلیم ہونا (جو بلوچستان سے باہر واقع ہو) اور کم از کم 60 فیصد نمبر یا 3.0 جی پی اے/سی جی پی اے حاصل کرنا ضروری ہے درخواست دہندہ کا نام متعلقہ ادارے کی میرٹ لسٹ میں شامل ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے سی ای او بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ نے واضح کیا کہ دیگر اسکالرشپس سے مستفید ہونے والے طلبہ اس اسکیم کے لیے اہل نہیں ہوں گے جبکہ بی ایس 2 سالہ، بریجنگ یا لیٹرل انٹری پروگرامز کے طلبہ بھی اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے انہوں نے کہا کہ امیدواروں کو تعلیمی اسناد، ڈومیسائل، شناختی دستاویزات اور حالیہ تصاویر سمیت تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کروانا ہوں گی اور درخواستیں براہ راست “بیف” کو بھیجنے کے بجائے متعلقہ اداروں کے ذریعے جمع کروائی جائیں گی خالد ماندائی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات جاری ہیں تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور روشن مستقبل کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر 3577/2026
کوئٹہ:وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں جنہوں نے ہمیشہ امت کو مضبوطی سے جوڑے رکھا حکومت چاہتی ہے کہ دینی مدراس کے معاملے پر جمعیت کے تحفظات کا خاتمہ کرے تاہم اس پورے معاملے میں جمعیت علماءاسلام حکومتی موقف سمجھنے کی ضرورت ہے وزیراعلی بلوچستان کی قیادت میں اپوزیشن سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کا اعتماد حاصل کرنا ہماری ترجیحات ہیں گزشتہ روز صوبائی وزیر داخلہ میرضیاءاللہ لانگو کی قیادت میں حکومتی وفد بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعت جمعیت علماءاسلام سے مزاکرات کے لئے پہنچا وفد میں صوبائی وزیر حاجی میرعلی مددجتک ،پارلیمانی سیکرٹری حاجی میر برکت رند شامل تھے جبکہ جمعیت علماءاسلام کی جانب سے صوبائی امیر سینیٹر مولاناعبدالواسع، بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری ،پبلک آکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین اصغرترین ،رکن صوبائی اسمبلی سید ظفر آغا،رکن قومی اسمبلی میر عثمان بادینی ،سینیٹر کامران مرتضی ،سینیٹر عبدالشکور ،صوبائی جنرل سیکرٹری سید محمود شاہ آغا سمیت دیگرمرکزی اور صوبائی رہنماءبھی موجود تھے ملاقات کے دوران مدراس رجسٹریشن سمیت سیاسی امور پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن کا آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے اور باہمی مشارورت معاملات حل کرنے پر اتفاق ہوا اس موقع پر صوبائی وزراءکا کہناتھا کہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں،جہاں سے علماءاور حفاظ فارغ التحصیل ہوتے ہیں تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو دینی مدارس نے ہمیشہ مسلم امہ کو جوڑے رکھاہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان تمام اقوام اورمذاہب کا گلدستہ ہے حکومت چاہتی ہے مدراس رجسٹریشن کے معاملے کو باہمی اتفاق اور خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچاے انہوں نے کہا کہ سینیٹر مولانا عبدالواسع ایک زیرک اور قابل احترام سیاستدان ہیںجنہوں نے ہمیشہ صوبے اور یہاں کے عوام کی مفاد کے لئے مثبت طرز سیاست کو فروغ دیا ہماری خواہش ہے کہ جمعیت علماءاسلام مدارس کے معاملے پر حکومتی موقف کو سمجھیں انہوں نے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی قیادت میں حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کو ترجیح دی ہے،آج بھی اپوزیشن کے پاس حکومتی نمائندوں کا آنا حکومتی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خبرنامہ نمبر 3578/2026
تربت . 01 مئی 2026 :بجشنِ بہاراں کیچ اسپورٹس فیسٹیول 2026 اختتام پزیر، فٹبال ایونٹ کے فائنل میں بلدیہ تربت کی ٹیم فاتح ، ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی مہمان خصوصی تھے۔تقریب کے آخری روز جشنِ بہاراں کیچ فیسٹیول 2026 کے تحت کھیلے گئے فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں بلدیہ تربت نے پسنی کی ٹیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-2 سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔فائنل میچ کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی تھے جب کہ اس موقع پر میئر تربت بلخ شیر قاضی، ڈی پی او ذوہیب محسن، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز تابش بلوچ اور اسد اللہ بلوچ، اسپورٹس آفیسر غفار یوسف، کیپٹن چاکر علی، باسط علی، ادیب مراد، حاجی رستم، ٹھیکیدار ظریف رند اور وارث دشتی بھی موجود تھے۔میچ میں دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا تاہم بلدیہ تربت کی ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دو گول اسکور کر کے کامیابی حاصل کی۔اختتامی تقریب میں مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ، میئر تربت، ڈی پی او اور اسپورٹس آفیسر نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے جب کہ ونر اور رنر اپ ٹیموں کے کپتانوں کو ٹرافیاں بھی پیش کی گئیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ جشنِ بہاراں کیچ فیسٹیول 2026 کا مقصد شہریوں کو تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فیسٹیول کو ڈینگی وائرس کے خلاف عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا، جس میں انتظامیہ کافی حد تک کامیاب رہی۔میئر تربت بلخ شیر قاضی نے کہا کہ جشنِ بہاراں کیچ فیسٹیول ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کے وژن کا نتیجہ ہے جبکہ اس کی کامیابی میں انتظامیہ کی کوششوں کے ساتھ عوام کی بھرپور شرکت نے کلیدی کردار ادا کیا جس کے باعث یہ ایک یادگار اور کامیاب ایونٹ ثابت ہوا۔ انہوں نے فائنل جیتنے پر بلدیہ تربت کی ٹیم کو مبارکباد بھی پیش کی۔





