30th-April-2026

خبرنامہ نمبر3510/2026
کوئٹہ، 30 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پیپلز ایئر ایمبولینس عوامی خدمت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور جلد اس کا باقاعدہ افتتاح چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کریں گے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بلوچستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا انقلابی اقدام ہے جو صحت کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ ایئر ایمبولینس سروس کے آغاز سے صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے مریضوں کو بروقت ہنگامی طبی امداد کی فراہمی ممکن ہو سکے گی یہ جدید سہولت شدید زخمی اور نازک حالت کے مریضوں کو فوری طور پر بڑے شہروں کے اسپتالوں تک منتقل کرنے میں معاون ثابت ہوگی جس سے قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ حادثات، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس سسٹم کو مزید موثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز ایئر ایمبولینس کا یہ منصوبہ حکومت بلوچستان کے فلاحی عزم کی عملی تصویر ہے جو عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 3511/2026
لورالائی:30اپریل ۔ ضلع لورالائی کے نواحی علاقے کوہار جنگل میں محکمہ جنگلات بلوچستان کے زیر اہتمام ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں جنگلات کے تحفظ اور مقامی سطح پر روزگار کے فروغ کے سلسلے میں 30 نوجوانوں میں تقرری کے آرڈرز تقسیم کیے گئے۔ یہ اقدام وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر عمل میں لایا گیا، جبکہ آرڈرز اسرارِ شہید کمیٹی کے چیئرمین فرہاد خان کاکڑ کے توسط سے فراہم کیے گئے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (رینیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے جنگلات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جنگلات کسی بھی خطے کے ماحولیاتی توازن، موسمی اعتدال اور قدرتی حسن کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور جنگلات کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے نئے تعینات ہونے والے نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور محنت سے نبھاتے ہوئے جنگلات کے تحفظ میں مو¿ثر کردار ادا کریں گے۔تقریب کے شرکاء، جن میں مقامی عمائدین، محکمہ جنگلات کے افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد شامل تھی، نے حکومت بلوچستان کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ مقامی نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے، جو علاقے کی معاشی بہتری میں معاون ثابت ہوں گے۔ محکمہ جنگلات کے ذرائع کے مطابق ضلع لورالائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے، جس کے تدارک کے لیے موثر حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں خصوصی گشت، مقامی کمیونٹی کی شمولیت، اور آگاہی مہمات کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور سرسبز ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3512/2026
نصیرآباد30اپریل ۔ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نصیرآباد ظفر اقبال زہری نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پٹ فیڈر کینال کی سالانہ بندش کے دورانیے کے موقع پر بھی عوام کو پینے کے صاف پانی کی مسلسل اور بہتر فراہمی کو ہر ممکن طور پر یقینی بنانے کے لیے شب و روز عملی اقدامات کر رہا ہے، اس سلسلے میں محکمہ کا تمام عملہ، افیسران اور انجینیئرز محدود وسائل کے باوجود فیلڈ میں متحرک ہیں اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آب نوشی کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ضلع انتظامیہ بھی اس تمام عمل کی موثر نگرانی کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ظفر اقبال زہری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی خدمات کو نظر انداز کرکے بے بنیاد الزام تراشی کرنا نہ صرف نامناسب بلکہ عوامی مفاد کے خلاف عمل ہے، جس کی ہم سخت الفاظ میں تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور پٹ فیڈر کینال کی بندش کے حساس دورانیے میں شہریوں کو پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران اور تکنیکی ٹیم عوام کے وسیع تر مفاد میں دن رات کوشاں ہیں اور خدمت کے اس مشن سے کسی صورت غافل نہیں۔انہوں نے کہا کہ انڈسٹریز ایریا واٹر سپلائی اسکیم کے عملے پر جو من گھڑت الزام تراشی کی گئی ہے اس کی سختی کے ساتھ تردید کی جاتی ہے اگر الزام تراشی کرنے والوں کے ساتھ شواہد ہیں تو وہ ثبوت پیش کریں بصورت دیگر محکمہ پر محکمے پر الزام تراشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے واضح کیا کہ محدود وسائل اور درپیش مسائل کے باوجود محکمہ اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے جبکہ بے جا تنقید اور منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ایگزیکٹو انجینیئر ظفر اقبال زہری نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری ذمہ داری بھی ہے اور عزم بھی، جسے ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3513/2026
کوئٹہ 30اپریل۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل اور مشکلات کے فوری حل کے سلسلے میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اپنے دفتر میں آنے والے سائلین کے مسائل براہ راست سنے اور انہوں نے شہریوں کے مسائل غور سے سن کر موقع پر متعدد احکامات جاری کیے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔حکومت بلوچستان شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد پر یقین رکھتی ہے۔ان کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے براہ راست ڈپٹی کمشنرز تک رسائی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ضلعی انتظامیہ عوام کے مسائل کے حل کے سلسلے میں ہرممکن اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3514/2026
قلات 30اپریل۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو مہم سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میںڈی ایس پی ، ماہیوال ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹرانجم بلوچ ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈبلیوایچ او ڈاکٹرمجتبی باجوئی سمیت محکمہ صحت قلات اوردیگر تمام محکموں کے سربراہان ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس میں آنے والے پولیو مہم سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا.ڈبلیوایچ او کے DPO ڈاکٹرمجتبی باجوئی نے پولیومہم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم 18مئی 2026 سے شروع ہوکر 21 مئی 2026 چار روز تک جاری رہیگا۔ پولیو کے اس مہم میں ضلع قلات کے دو تحصیل کے19 یونین کونسلز میں 40269بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اس مہم میں ضلع قلات میں تمام یونین کونسلز میں پولیو ٹیمیں پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کے عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے . ۔ڈپٹی کمشنر منیراحمد درانی نے کہا کہ پولیو ایک مہلک مرض ہے اس مرض سے بچوں کو بچانے کیلئے پولیو کے قطرے پلانا بہت ضروری ہے ایک صحت مندمعاشرے کی تشکیل کیلئے بچوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے پولیو سے پاک معاشرہ کی تشکیل کیلئے ہم سب کو مل کر پولیو جیسے مرض کے خلاف لڑنا ہوگاجسکے لیئے ہمیں لوگوں میں شعور اجاگر کرناہے علاقے کے خطیب علمائے کرام صحافی برادی شعراء ادباءکی زمہ داری ہے ۔کہ وہ پولیو سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کریں تاکہ ہمارا معاشرہ پولیو سے پاک معاشرہ بن سکے پولیو مہم کو سنجیدگی سے انجام دینے کیلئے مانیٹرنگ ٹیموں کی زمداری ہیکہ وہ بھرپور اپناکردار اداکریں تاکہ کوئی بھی بچہ اس مہم میں قطرہ پلائے بغیر رہ نہ جائے پولیو مہم کے دوران کوئی ضلعی انتظامی افسر نے واضح کیا کہ اس معاملے پر کسی بھی سطح ہر کوءبھی غفلت لاپروائی قابل قبول نہیں کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3515/2026
لورالائی30اپریل ۔ انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج لورالائی میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے تدارک کے حوالے سے ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار میں طالبات، اساتذہ اور مقامی انتظامیہ کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج لورالائی، گل بی بی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ تعلیمی ادارے محض نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ طالبات کی اخلاقی، سماجی اور فکری تربیت بھی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے آگاہی پروگرامز طالبات کو معاشرتی برائیوں سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے اور اگر یہی نسل منشیات جیسی مہلک لعنت کا شکار ہو جائے تو قومی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروش عناصر معاشرے کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبات نہ صرف خود کو اس ناسور سے دور رکھیں بلکہ اپنے گھروں اور معاشرے میں بھی اس کے خلاف شعور اجاگر کریں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کا خاتمہ صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ انہوں نے طالبات کو تلقین کی کہ وہ تعلیم، کھیلوں اور ہنر مندی جیسی مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور خود کو منفی رجحانات سے محفوظ رکھیں۔اے این ایف کے آفیسر جاوید اسلم نے طبی اور سائنسی نقطہ? نظر سے منشیات کے نقصانات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منشیات انسانی جسم اور ذہن کو تباہ کر دیتی ہیں، مختلف ذہنی و جسمانی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں اور کئی صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے طالبات کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے، متوازن غذا لینے اور مثبت سرگرمیوں میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔سیمینار کے دوران طالبات نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور سوال و جواب کے سیشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ طالبات کا کہنا تھا کہ اس قسم کے پروگرامز ان کے لیے نہایت معلوماتی اور مفید ہیں، جن سے انہیں نہ صرف منشیات کے نقصانات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے بلکہ ایک صحت مند اور محفوظ زندگی گزارنے کی ترغیب بھی ملتی ہے۔آخر میں کالج انتظامیہ کی جانب سے مہمانانِ گرامی میں شیلڈز تقسیم کی گئیں جبکہ اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مستقبل میں بھی طالبات کی فلاح و بہبود اور شعور اجاگر کرنے کے لیے اس طرح کی تقریبات کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔اور منشیات کے خلاف طالبات اساتذہ کے ہمراہ واک کا اہتمام بھی کیا ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3516/2026
ژوب 30اپریل ۔ بلوچستان کی کثیر آبادی دیہی علاقوں میں آباد ہے، اور رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بیشتر لوگوں کا دارومدار بھی مالداری اور زراعت کے شعبوں پر ہے۔ بلوچستان کی دیہی آبادی کے لیے زراعت کے بعد مویشی ہی روزگار، خوراک اور معاشی تحفظ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ حکومت بلوچستان اور محکمہ لائیواسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ مالدری کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔دوہزار بائیس کے تباہ کن سیلاب نے بلوچستان کے دیہی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ گھروں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے یا انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ہزاروں مویشی بھی سیلاب کی نذر ہوگئے، جس سے سینکڑوں خاندانوں کا واحد ذریعہ معاش بری طرح متاثر ہوگیا۔ خاص طور پر شمالی بلوچستان کے ان اضلاع میں، جہاں بیشتر آبادی مالداری، پولٹری اور ڈیری پیداوار پر انحصار کرتی ہے۔ژوب سمیت بلوچستان کے چھ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (بی آر ایس پی) نے یورپی یونین اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) کے مالی تعاون اور محکمہ لائیو اسٹاک بلوچستان کے اشتراک سے ایک اہم منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ یہ پراجیکٹ ڑوب، لورالائی، پشین، خضدار، لسبیلہ اور جعفرآباد کے ایک سو بیس یونین کونسلوں میں جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو وقتی امداد فراہم کرنا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ایک پائیدار، مضبوط اور خودکفیل دیہی معیشت کی بنیاد بھی رکھنا ہے۔ڈسٹرکٹ پروگرام مینیجر بی آر ایس پی قطب خان آفاقی کا کہنا ہے، کہ پراجیکٹ کا ایک اہم مقصد لائیو اسٹاک ویلیو چین کو مضبوط بنانا یعنی مالداری کے معاشی قدر میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ مالداروں کی عملی تربیت، ری اسٹاکنگ، اور معاشی خدمات تک رسائی منصوبے
کے اہم اہداف ہیں۔” پراجکیٹ کا مقصد سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی، مالداری پر منحصر دیہی معیشت کو مضبوط بنانا، ڈیری شعبے میں بہتری لانا، خواتین اور نوجوانوں کی شرکت میں اضافہ، مالیاتی سہولیات تک رسائی دینا اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ اور پائیدار مالداری نظام کا قیام شامل ہیں۔اس پراجیکیٹ کے تحت بارہ سو لائیو اسٹاک گروپس اور ایک ہزار سے زائد پروڈیوسر گروپس تشکیل دیے جا رہے ہیں تاکہ مالداروں کو پیداوار، مارکیٹ تک رسائی اور بہتر قیمتوں کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔ علاوہ ازین لائیو اسٹاک مارکیٹس یا مویشی منڈیاں بھی قائم کی جائیں گی، جبکہ چوبیس چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو میچنگ گرانٹس دی جارہی ہیں۔ پراجیکٹ کے تحت دس ہزار مستحق خاندانوں کو مویشی فراہم کیے جارہے ہیں، جبکہ چھ ہزار پانچ سو افراد کو کمیونٹی لائیولی ہڈ فنڈ کے توسط سے مالی معاونت دی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں تقریباً چھ سو ولیج آرگنائزیشنز اور پروڈیوسر گروپس بھی براہ راست اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ مختلف سلاٹر ہاوسز یا مذبح خانوں کی مرمت اور سہولیات کی فراہمی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ قطب خان آفاقی کے مطابق محکمہ جنگلات کے تعاون سے رینج لینڈ کی نشاندہی کی جارہی ہے، تاکہ شجرکاری کرکے مویشیوں کے لیے چراگاہوں کو بہتر بنایا جا سکے اور پائیدار مالداری کو فروغ دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3517/2026
لورالائی: 30 اپریل۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو مہم سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد مقبول احمد، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر فرحان انجم، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر (ڈبلیو ایچ او) فوکل پرسن مختیار احمد اور مختلف محکموں کے سربراہان سمیت عالمی ادارہ صحت کے نمائندے بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران آئندہ انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر فرحان انجم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیو مہم 18 مئی 2026 سے شروع ہو کر 21 مئی 2026 تک جاری رہے گی۔ اس چار روزہ مہم کے دوران ضلع لورالائی کی دو تحصیلوں کی 22 یونین کونسلز میں مجموعی طور پر 65,853 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مہم کی کامیابی کے لیے 49 ایریا انچارجز، 195 موبائل ٹیمیں، 13 فکسڈ ٹیمیں اور 8 ٹرانزٹ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ پولیو ٹیمیں پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کے تمام بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں گی۔ اجلاس میں اپریل 2026 کی قومی انسدادِ پولیو مہم (NID) کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل نے کہا کہ پولیو ایک مہلک مرض ہے اور اس سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی قطرے پلانا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد صحت مند بچوں پر ہوتی ہے، لہٰذا پولیو کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے علمائے کرام، خطباء ، صحافیوں، شعرائاور ادباء پر زور دیا کہ وہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ پولیو سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مانیٹرنگ ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی سے انجام دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہ جائے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ پولیو مہم کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپروائی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3518/2026
قلات 30اپریل۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کی ہدایت پر تعلیمی نظام کی بہتری اور کلسٹر بجٹ میں شفافیت کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثار احمد نورزئی نے ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (میل) ثناءاللہ ثناء کے ہمراہ گورنمنٹ بوائز مڈل سکول مائیکرو عزیز آباد قلات کا تفصیلی دورہ کیا دورے کے موقع پر ہیڈ ماسٹر محمد آصف نے اسکول کے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کروایا اور ادارے کو درپیش مسائل، بالخصوص کلاس رومز کی کمی اور دیگر بنیادی سہولیات کے فقدان سے آگاہ کیا آفیسران نے کلاسز کا جائزہ لیتے ہوئے طلباءسے سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد کا مشاہدہ کیا۔اس موقع پر طلباءکو تعلیم کی اہمیت، محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے اصولوں سے روشناس کرایا گیا۔ آفیسران نے اساتذہ اور طلباء کی حاضری رجسٹرز کا بغور معائنہ کیا اور اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ایمانداری، لگن اور احساس ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں تاکہ بچوں کا مستقبل بہتر بنایا جا سکے، انہوں نے تعلیمی ماحول کو سازگار بنانے اور طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا۔ آفیسران نے یقین دہانی کرائی کہ اسکول کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر تعلیمی سہولیات میں بہتری لانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3519/2026
گوادر30اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ گوادر کے زیرِ اہتمام منعقدہ کھلی کچہری میں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی امور کا جامع جائزہ لیا گیا۔ کھلی کچہری میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گوادر شے مختار، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ایکسین بی اینڈ آر مقصود بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر صابر بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل) عبدالوہاب مجید، جی ڈی اے کے انجینیئر اکبر بلوچ، پی ایچ ای کے انجینئر سلمان بلوچ، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی گوادر مکتوم موسیٰ، ایس ڈی او ایریگیشن وسیم بلوچ، ایس ڈی او کیسکو حسین بلوچ، ایس ایچ او پولیس گوادر شکیب ارسلان سمیت دیگر سول و عسکری افسران، بلدیاتی نمائندگان، میڈیا اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھرپور شرکت کی۔
کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے بجلی، پینے کے پانی، تعلیم، ماہی گیری، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اپنی عوامی شکایات پیش کیں۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے متعدد مسائل کے حل کے لیے موقع پر احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔اجلاس میں بلوچستان سوشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے جاری منصوبوں، ان کی بروقت تکمیل اور عوامی ضروریات کے مطابق نئے منصوبوں کی نشاندہی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاءنے اس امر پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبے پائیدار اور شفاف بنیادوں پر تشکیل دیے جائیں تاکہ عوام کو دیرپا اور موثر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔کھلی کچہری میں معذور افراد کے نمائندوں نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ پر عملدرآمد یقینی بنانے اور مزید مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے معذور افراد کے لیے ٹرانسپورٹ کرایوں میں 50 فیصد رعایت کے اقدام کو سراہا گیا اور اس کے موثر نفاذ پر زور دیا گیا۔شہریوں نے جی ڈی اے کے زیرِ التواءترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل، میرجت اور گبد میں سڑکوں کی مرمت، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی بہتری، اور سربندن میں زیرِ تعمیر لائبریری کو فوری فعال کرنے کے مطالبات پیش کیے۔ مزید برآں، کیا کلات میں پینے کے پانی کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا گیا، جس پر متعلقہ حکام نے اقدامات تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر سوشل ایکٹیوسٹس نے زور دیا کہ BSDI جیسے اہم ترقیاتی پروگرامز کو مکمل شفافیت، جامع منصوبہ بندی اور عوامی ضروریات کے مطابق آگے بڑھایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوامی فائدہ حاصل ہو سکے۔آخر میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی خدمت اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے فوری حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور ترقیاتی عمل کی موثر نگرانی کے لیے ہمہ وقت متحرک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے دروازے عوام کے لیے ہر وقت کھلے ہیں اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر گوادر اور بلوچستان کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3520/2026
تربت30اپریل۔ یونیورسٹی آف تربت کے شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے طلبہ نے تھیلیسیمیا کی روک تھام، دیکھ بھال اور سماجی خدمات سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیےکیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر (کے ٹی سی سی) کا مطالعاتی دورہ کیا۔ اس دورے کی نگرانی فیکلٹی آف سائنس، انجینئرنگ اینڈ آئی ٹی کے ڈین ڈاکٹر حنیف الرحمن نے کی، جبکہ شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر جہانگیرخان اور فیکلٹی ممبر جیئند ابراہیم بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سنٹر پہنچنے پر کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کے ڈائریکٹر ارشاد عارف نے طلبہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ بریفنگ کے دوران انہوں نے ادارے کے امور کی انجام دہی کے طریقہ کار، مریضوں کی نگہداشت، تشخیصی سہولیات اور تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی اورروک تھام کے لیے جاری اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔دورے کے دوران ڈاکٹر حنیف الرحمن اور ارشاد عارف نے تربت یونیورسٹی اور تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کے مابین تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر تھیلیسیمیا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے مشترکہ سائنسی اور پالیسی سطح کی تحقیقاتی سرگرمیوں کے آغاز پر بھی اتفاق کیاگیا۔ ملاقات میں یونیورسٹی میں داخلوں کے لیے تھیلیسیمیا اسکریننگ ٹیسٹ کو متعارف کرانے کی تجویز پربھی غورکیاگیا۔ اس تجویز کے تحت داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے تھیلیسیمیا مائنر کی اسکریننگ کو لازمی قرار دینے پرتبادلہ خیال کیاگیا۔ شرکائ نے اتفاق کیا کہ اس پالیسی کے نفاذ سے بیماری کی بروقت تشخیص، آگاہی میں اضافہ اور موثر روک تھام ممکن ہو سکے گی، جو بالآخر خطے میں تھیلیسیمیا پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق ملاقات میں رضاکارانہ سرگرمیوں میں طلبہ کی فعال شرکت، بلڈ ڈونیشن کیمپ کے انعقاد، فنڈ ریزنگ سرگرمیوں اور تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لئے طلبہ کو ترغیب دی گئی۔ترجمان کے مطابق یونیورسٹی آف تربت، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی قیادت میں، ادارے اور طلبہ کے مفاد میں تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لارہی ہے۔ تربت یونیورسٹی نہ صرف معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے بلکہ سماجی ذمہ داری اور کمیونٹی انگیجمنٹ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے موثر کردار ادا کر رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3521/2026
کوئٹہ 30اپریل۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر اسپیشل مجسٹریٹ سب ڈویژن (صدر) حسیب سردار نے بی ایچ یو کوتوال کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران ادویات کی دستیابی، اسٹاف کی حاضری، حاضری رجسٹر، ویکسی نیشن یونٹ اور دیگر سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر عملے کو ہدایت کی گئی کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اپنی حاضری و کارکردگی میں مزید بہتری لائی جائے۔ضلعی انتظامیہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3522/2026
کوئٹہ30 اپریل۔ صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملا خیل نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا تیسرے صنعتی انقلاب کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے ہمیں بھی مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے اثرات سے بچاوکے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ انسان کی پیدا کی ہوئی موسمیاتی تبدیلی زمین کے لیے بے حد بڑا بحران پیدا کر رہی ہے اج بھی بیشتر عوامی مسائل موسمیاتی اثرات کا شاخسانہ ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا بھی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے موقف بہت واضح ہے وہ بھی اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ جلد یا بدیر فوصل ا یندھن سے چلنے والا موجودہ صنعتی انقلاب ختم ہو جائے گا لہذا ہمیں توانائی کے دیگر ذرائع کے دریافت پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی انہوں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات بلوچستان ان تمام پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لارہا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے صوبے کا ماحول بہتر سے بہتر بنانا ہے اور موسمی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہونگے جس کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر اس حوالے سے بات کی جائے گی صوبائی مشیر نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں میں ہم شہریوں کی شراکت اور کیمونٹی کو اس حوالے سے متحرک کرنا بھی انتہائی ضروری ہے ان کے تعاون کے بغیر ہم اس اہم مسئلہ پر قابو نہیں پا سکتے صوبائی مشیر نے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انے والی پی ایس ڈی پی میں عوامی مفاد کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ عوام ان سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3523/2026
کوئٹہ : 30 اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں محنت کش طبقہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں ہماری خواتین محنت کشوں کا کردار ناقابل فراموش ہے، جو کھیتوں، کارخانوں، ہسپتالوں اور دفاتر میں مردوں کے شانہ بشانہ نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کر رہی ہیں بلکہ ریاست کے معاشی استحکام میں بھی اپنا بھرپور حصہ ڈال رہی ہیں، جو کہ ہم سب کے لیے باعث فخر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم مزدور کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں محنت کشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں محنت کشوں کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں سخت موسمی حالات اور چیلنجز کے باوجود کام کرنے والے مزدور ہمارا اصل اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی و پیداواری شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو صحت، تعلیم اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے خواتین محنت کشوں کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی میں یہاں کی محنت کش خواتین کا حصہ ناقابلِ فراموش ہے۔ حکومتِ بلوچستان خواتین محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ اور کام کی جگہوں پر ایک سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام تر قانونی اور انتظامی وسائل بروئے کار لا رہی ہے کیونکہ ایک خوشحال بلوچستان کا خواب تب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک یہاں کا محنت کش طبقہ خود کو محفوظ اور مستحکم محسوس نہ کرے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے آجروں (Employers) کو بھی پیغام دیا کہ وہ مزدور کو اپنا دستِ بازو سمجھیں اور اسے وہ تمام حقوق فراہم کریں جو اسلام اور بین الاقوامی قوانین نے اسے دیے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
QUETTA (April 30, 2026): Advisor to the Chief Minister of Balochistan for Women’s Development, Dr. Rubaba Khan Buledi, has stated that the working class serves as the backbone of any society’s progress. In a special message released in honor of International Labor Day, she paid a glowing tribute to the laborers of the province, emphasizing that the contributions of women workers are particularly unforgettable. Dr.Rubaba Khan Buledi noted that whether in fields, factories, hospitals, or offices, women are working side-by-side with men to not only support their families but also to play a vital role in the economic stability of the state—a feat that remains a point of pride for the entire region.Highlighting the pivotal role of laborers in the construction and development of Balochistan, Dr.Rubaba Khan Buledi described those working in remote areas under harsh weather conditions and significant challenges as the province’s “true assets.” She reaffirmed that the state’s priorities include providing industrial and production sector workers with essential amenities such as healthcare, education, and housing. These measures aim to ensure that the workforce can contribute to the national economy with peace of mind and focus.Dr.Rubaba Khan Buledi specifically saluted the resilience of female laborers, reiterating that the dream of a prosperous Balochistan cannot be realized unless the working class feels secure and empowered. She emphasized that the Government of Balochistan is utilizing all available legal and administrative resources to protect the rights of women workers and ensure a safe, conducive environment at the workplace. Concluding her message, she urged employers to view workers as their right hand, calling on them to guarantee all rights mandated by both Islamic principles and international labor laws.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3524/2026
بارکھان 30اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ کی زیرِ صدارت آئندہ انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی،ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ ?فیسر ڈاکٹر ماجد امین۔پی پی ایچ کے غلام رسول کھیتران۔ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افیسر ڈاکٹرناصر خان۔ پولیس، صحت، تعلیم، لائیو اسٹاک، پی ایچ ای، زراعت، بلدیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں 18 مئی سے 21 مئی 2026 تک جاری رہنے والی SNID پولیو مہم کے انتظامات، سیکیورٹی، ٹیموں کی تعیناتی، ٹرانسپورٹ، مائیکرو پلاننگ اور عوامی آگاہی مہم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے باہمی رابطہ موثر بنایا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کیلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر سعیدالرحمن کاکڑ نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کیلئے ہر فرد اور ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے۔اجلاس کے شرکاءنے پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3525/2026
خضدار 30 اپریل ۔ عید الاضحیٰ سے قبل مویشیوں کی اسمگلنگ پر پابندی عائد، اسسٹنٹ کمشنر کا حکم نامہ جاری اسسٹنٹ کمشنر سب ڈویژن خضدار نے عید الاضحیٰ 2026 کے پیش نظر مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حمل اور فروخت پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔انتظامیہ کے مطابق اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ متعدد بڑی کمپنیاں اور بیوپاری خضدار کے غریب مالداروں سے سستے داموں مویشی خرید کر ملک کی بڑی منڈیوں میں مہنگے داموں فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف خضدار میں مویشیوں کی قلت کا خدشہ ہے بلکہ مقامی خریداروں کے لیے قربانی کے جانور بھی مہنگے ہو جائیں گے۔ضلعی انتظامیہ خضدار نے درج ذیل احکامات جاری اور پابندیاں عائد کردی ہے۔خضدار سب ڈویژن کی حدود سے گائے، بیل، بکرے، دنبے سمیت کسی بھی مویشی کو کمرشل بنیادوں پر باہر لے جانے پر پابندی ہو گی۔ بڑی کمپنیوں یا ان کے کارندوں کی جانب سے تھوک میں خریداری پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اسمگلنگ کی کوشش کرنے والی گاڑیوں کو روک دیا جائے گا۔ مالداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اپنے جانور صرف مقامی سطح پر فروخت کریں تاکہ خضدار کے عوام کو سستے داموں قربانی کے جانور میسر آ سکیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور قید کی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر خضدار کے مطابق یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہے اور تاحکم ثانی برقرار رہے گا۔حکم نامے کی کاپیاں کمشنر قلات ڈویڑن، ڈپٹی کمشنر خضدار، ایس ایس پی خضدار، ڈی ایس پی سرکل، تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز اور پولیس چوکیوں کے انچارجز کو بھیج دی گئی ہیں تاکہ اس پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد اور مقامی مالداروں کے تحفظ کے لیئے اٹھایا گیا ہے تاکہ عید الاضحیٰ کے موقع پر خضدار کے شہریوں کو مناسب قیمت پر قربانی کے جانور دستیاب ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3526/2026
تربت30اپریل۔ جشنِ بہاران کیچ فیسٹیول 2026 کے تحت گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول چاہسر میں جاری بوائز سائیڈ کھیلوں کے مقابلے اختتام پذیر ہوگئے۔ اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد تھے جنہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور میڈلز تقسیم کیے۔ اس موقع پر اسپورٹس آفیسر غفار یوسف، حبیب دشتی، اے ڈی ای او تربت ممتاز لال، ڈاکٹر اصغر علی، ماسٹر محمد اقبال سمیت محکمہ تعلیم کے افسران اور اسکول اسٹاف موجود تھے۔اس موقع پر فٹبال کے فائنل میں گورنمنٹ ہائی اسکول کوشقلات اور گورنمنٹ ہائی اسکول آپسر کی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا جس میں کوشقلات نے پنالٹی ککس پر کامیابی حاصل کرلی۔ 100 میٹر دوڑ می ہائی اسکول ابسر نے پہلی، چاہسر نے دوسری جبکہ جوسک نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔میوزیکل چیئر مقابلے میں ہائی اسکول چاہسر پہلے،ہائی سکول کوشقلات دوسرے اور او پی ایف اسکول تربت تیسرے نمبر پر رہا جبکہ رسی کودنے (Rope Skipping) میں ہائی اسکول چاہسر نے پہلی او پی ایف اسکول تربت نے دوسری اور ہائی اسکول کوشقلات نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ای او کیچ امجد شہزاد نے کہا کہ جشنِ بہاران کیچ فیسٹیول ایک اہم اور تاریخی اقدام ہے جس کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی صحت پر بھی توجہ دیں۔ڈی ای او نے کہاکہ فیسٹیول میں اسکولوں کو شامل کرکے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور سامنے لانے کا موقع دے کر علم دوستی پیش کی ہے۔ تقریب کے اختتام پر ڈی ای او کیچ امجد شہزاد، ہیڈماسٹر عبدالواحد اور دیگر مہمانوں نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے جبکہ شرکاءنے فیسٹیول کے انعقاد کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3527/2026
بارکھان ، 30 اپریل . ڈپٹی کمشنر سعیدالرحمن کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تعلیمی نظام، بند اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نوید لطیف، محمد نسیم کھیتران سمیت دیگر متعلقہ افسران اور ممبران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر کے تمام بند اسکولوں کو فوری طور پر فعال کرکے مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری اسکول کی بندش، ناقص کارکردگی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ غیر حاضر، لاپرواہ اور کرونک اساتذہ کی تنخواہوں سے فوری کٹوتی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مسلسل غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اساتذہ کے تبادلے میرٹ اور ضرورت کے مطابق کیے جائیں تاکہ تدریسی نظام متاثر نہ ہو۔ڈپٹی کمشنر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ خود اچانک مختلف اسکولوں کے دورے کریں گے، حاضری رجسٹر، تدریسی عمل اور سہولیات کا جائزہ لیں گے، اور جہاں بھی غفلت یا غیر ذمہ داری پائی گئی وہاں فوری ایکشن لیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی، کیونکہ بچوں کے مستقبل پر سمجھوتہ کسی صورت قبول نہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3528/2026
بارکھان۔، 30 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ کی زیرِ صدارت آئندہ انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ماجد امین، پی پی ایچ آئی کے غلام رسول کھیتران، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر ڈاکٹر ناصر خان سمیت پولیس، صحت، تعلیم، لائیو اسٹاک، پی ایچ ای، زراعت، بلدیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں 18 مئی سے 21 مئی 2026 تک جاری رہنے والی قومی انسدادِ پولیو مہم (SNID) کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی پلان، ٹیموں کی تعیناتی، ٹرانسپورٹ کی فراہمی، مائیکرو پلاننگ اور عوامی آگاہی مہم کے مختلف پہلووں پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر سعیدالرحمن کاکڑ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کی کامیابی کیلئے باہمی رابطہ مزید موثر بنایا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کیلئے ہر فرد اور ادارے کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کے شرکاء نے انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3529/2026
چمن 30اپریل ۔ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا ماہانہ کارکردگی جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن و دیگر افسران شریک تھے۔اجلاس میں ضلع چمن کی تمام تعلیمی درسگاہوں اور افسران کی کارکردگی حالیہ انٹرمیڈیٹ امتحانات اور انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں ڈی سی چمن کو ڈی ای او میل اور فیمیل نے ضلع چمن محکمہ تعلیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اجلاس میں ضلع چمن کو محکمہ تعلیم کو درپیش ضروری سہولیات کی کمی اور فراہمی کے حوالےسے بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور مختلف تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل اور مشکلات پر بحث کی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی تمام آفیسران اور سٹاف کی حاضریوں اور وقت کی پابندی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر ہم سختی سے کار بند رہیں گے کیونکہ طلبائ و طالبات کی پڑھائی اور درس وتدریس کا دارومدار اساتذہ کی حاضریوں اور کلاسوں میں موجودگی پر منحصر ہے انہوں نے کہا کہ اس حوالےسے ہم کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کا مظاہرہ نہیں کریں گے ڈی سی چمن نے کہا کہ تمام مانیٹرنگ ٹیمیں مانیٹرنگ کی عمل کو تیز کریں اور سٹوڈنٹس کو تعلیم کی اہمیت اور افادیت پر ہر روز ایک لیکچر دیا کریں اور انھیں معیاری اور جدید تعلیم حاصل کرنے کے حوالےسے ہفتے میں ایک مقابلہ سپیچ پروگرام کی انعقاد کیا کریں تاکہ سٹوڈنٹس کی پڑھائی میں دلچسپی پیدا ہو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی حالت سدھارنے کیلئے کمیونٹی اور ڈیپارٹمنٹ کا ایک دوسرے کیساتھ روابط بڑھانے اور کوآپریشن کرنا بے حد ضروری ہے انہوں نے کہا کہ جدید تعلیم حاصل کیے بغیر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو سکتے لہذا ہم سب کو تعلیمی اہداف کو حاصل کرنے کیلئے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات دیانتداری اور ایمانداری سے انجام دینا ہوں گے انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک و قوم جدید سائنسی وٹیکنیکل تعلیم حاصل کیے بغیر ترقی حاصل نہیں کر سکتی لہٰذا بحیثیت ایک قوم ہماری پہلی ترجیح جدید تعلیم ہونا چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3530/2026
گوادر:30اپریل ۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی زیرِ صدارت مختلف اجلاس منعقد ہوئے، جن میں اولڈ ٹاون بحالی منصوبہ، ٹاون پلاننگ کے تحت نجی ہاوسنگ اسکیموں، اور لینڈ مینجمنٹ کے شعبے میں ایمنٹی پلاٹس کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، پروجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاون بحالی منصوبہ میردودا خان مری، ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ، شے منصور اور ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ عبدالرزاق سمیت متعلقہ افسران شریک تھے۔اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاون بحالی منصوبہ نے جاری اور مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ مختلف منصوبے تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جن کی باقاعدہ افتتاح کی تیاریاں مکمل کرلی گی ہیں۔ٹاون پلاننگ سے متعلق اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالرزاق نے گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت نجی ہاوسنگ اسکیموں کو جاری کیے گئے این او سیز، ان کے موجودہ اسٹیٹس اور سائٹس پر جاری ترقیاتی کاموں (فزیکل پروگریس) پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے مطابق جی ڈی اے کی جانب سے مجموعی طور پر 121 نجی اسکیموں کو این او سی جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں ہاوسنگ، انڈسٹریل، کمرشل، ریکرییشنل اور دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے اس موقع پر ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام نجی ہاوسنگ اسکیموں کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنی ترقیاتی سرگرمیاں بروقت مکمل کریں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور گوادر میں سرمایہ کاری کا ماحول مزید مستحکم ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جی ڈی اے سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ گوادر کو ایک جدید اور پرکشش سرمایہ کاری مرکز بنایا جا سکے۔ایک علیحدہ اجلاس میں لینڈ مینجمنٹ کے تحت نجی اسکیموں میں موجود ایمینٹی پلاٹس کے استعمال اور ان کے موجودہ اسٹیٹس کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ ایسے امینٹی پلاٹس جن پر تاحال کوئی ترقیاتی یا تعمیراتی سرگرمی شروع نہیں کی گئی، ان کو نوٹسز جاری کرکے الاٹمنٹس منسوخ کرنے کیلئے اقدامات شروع کی جائیں۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ شفافیت، قواعد و ضوابط کی پابندی اور بروقت ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے ذریعے گوادر میں ایک منظم اور پائیدار شہری ترقی کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3531/2026
اسلام/آباد۔کوئٹہ:30 اپریل۔ بے نظیر نشونما پروگرام کے مراکز کا معائنہ، سہولیات اور اسٹاک کا تفصیلی جائزہ کوئٹہ میں ڈائریکٹر جنرل بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈ کوارٹر، اسلام آباد رومانہ گل کاکڑ نے بے نظیر نشونما پروگرام کے کوئٹہ میں مختلف مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فراہم کی جانے والی سہولیات، غذائی سپلیمنٹس کے اسٹاک، انتظامی امور اور مستحق خواتین و بچوں کو دی جانے والی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔یہ پروگرام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ورلڈ فوڈ پروگرام اور حکومت بلوچستان کے تعاون سے جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا اور بچوں میں سٹنٹنگ یعنی قد کی کمی کی روک تھام ہے۔ پروگرام میں خاص طور پر حمل سے لے کر بچے کی دو سال عمر تک کے ابتدائی ایک ہزار دنوں پر توجہ دی جاتی ہے، جو بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔دورے کے دوران رومانہ گل کاکڑ نے مراکز میں موجود غذائی سپلیمنٹس کا معائنہ کیا، اسٹاک کی دستیابی کا جائزہ لیا اور ایکسپائری ڈیٹس چیک کیں۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مستحق خواتین اور بچوں کے لیے غذائی سپلیمنٹس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر انہوں نے نشونما مراکز میں انتظامی معاملات اور سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت میں بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ رومانہ گل کاکڑ نے بے نظیر نشونما پروگرام کے کوئٹہ میں مختلف مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فراہم کی جانے والی سہولیات، غذائی سپلیمنٹس کے اسٹاک، انتظامی امور اور مستحق خواتین و بچوں کو دی جانے والی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔یہ پروگرام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ورلڈ فوڈ پروگرام اور حکومت بلوچستان کے تعاون سے جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا اور بچوں میں سٹنٹنگ یعنی قد کی کمی کی روک تھام ہے۔ پروگرام میں خاص طور پر حمل سے لے کر بچے کی دو سال عمر تک کے ابتدائی ایک ہزار دنوں پر توجہ دی جاتی ہے، جو بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔دورے کے دوران رومانہ گل کاکڑ نے مراکز میں موجود غذائی سپلیمنٹس کا معائنہ کیا، اسٹاک کی دستیابی کا جائزہ لیا اور ایکسپائری ڈیٹس چیک کیں۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مستحق خواتین اور بچوں کے لیے غذائی سپلیمنٹس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر انہوں نے نشونما مراکز میں انتظامی معاملات اور سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت میں بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3532/2026
خضدار،30 اپریل: کمشنر قلات ڈویژن، ڈپٹی کمشنر خضدار کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر سب ڈویژن خضدار نے عوامی صحت کے تحفظ کے لیئے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے گٹکا، چھالیہ اور مضر صحت اجزاءسے تیار شدہ پان کی تیاری، اسٹاک اور فروخت پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔انتظامیہ کے مطابق خضدار کی حدود میں گٹکا، چھالیہ اور دیگر نشہ آور اشیاء کی سرِعام فروخت جاری تھی۔ ان کے استعمال سے عوام خصوصاً نوجوان نسل میں منہ، حلق اور کینسر جیسی مہلک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔درج ذیل لوازمات پر عملدرآمد کا حکمنامہ1. خضدار سب ڈویژن میں گٹکا، چھالیہ اور مضر صحت پان کی تیاری، اسٹاک اور فروخت پر مکمل پابندی ہو گی۔2: تمام دکانداروں اور سپلائرز کو اپنا موجودہ اسٹاک ختم کرنے کے لیئے صرف 7 دن دیے گئے ہیں۔ اس کے بعد انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں اچانک چھاپے ماریں گی۔3:مہلت کے بعد جس دکان یا گودام سے ممنوعہ اشیاءبرآمد ہوئیں، مال ضبط، ایف آئی آر درج، بھاری جرمانہ اور دکان سیل کر دی جائے گی۔ کوئی عذر قبول نہیں ہو گا۔اسسٹنٹ کمشنر خضدار نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے انتظامیہ کا ساتھ دیں اور اس مہم کو کامیاب بنائیں۔اس حکم نامے کی کاپیاں کمشنر قلات ڈویڑن، ڈی سی خضدار، ایس پی خضدار، ڈی ایس پی سرکل، تمام ایس ایچ اوز اور پولیس چوکیوں کو بھجوا دی گئی ہیں تاکہ عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3533/2026
:زیارت 30 اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر زیارت، عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت بی آر ایس پی، آئی ایف اے ڈی اور بی ایل سی پی پروجیکٹس کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں یو این کے افسران رب نواز، زاہد شکیل، فیاض احمد، تسکین منصور اور غلام نبی مری جبکہ بی آر ایس پی کے نمائندگان نعمت اللہ مری، محمد ہادی اور زاہد دوتانی نے شرکت کی۔اس کے علاوہ زراعت، لائیو اسٹاک، بی اینڈ آر، ایریگیشن، جنگلات، پی ایچ ای، پاپولیشن ویلفیئر اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران زراعت، لائیو اسٹاک اور جنگلات کے تحفظ، نوجوانوں کے بہتر مستقبل، علاقائی مسائل کے حل اور ترقیاتی اقدامات کے حوالے سے مفید اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے مل کر علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کاوشیں کریں گے، جبکہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے بھی موثر اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3534/2026
کوئٹہ، 30 اپریل۔ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان و چیرمین ریکروٹمنٹ کمیٹی عسکر خان کی صدارت میں محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان میں بھرتیوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بھرتی کے عمل اور مختلف انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکین ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ اطلاعات اسد مگسی، ڈپٹی سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی بابر ڈائریکٹر تعلقات عامہ سعید شاہوانی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن محکمہ تعلقات عامہ نجیب اللہ لانگو نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بھرتیوں کے عمل کو شفاف، منصفانہ اور میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنانے کے لیے مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکائ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام مراحل کو مکمل شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا تاکہ اہل اور قابل امیدواروں کو ان کا حق مل سکے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان و چیرمین ریکروٹمنٹ کمیٹی عسکر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلقات عامہ میں بھرتیوں کے عمل کے دوران میرٹ، شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق تمام تقرریاں خالصتاً اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان ایک اہم ادارہ ہے اور اس میں بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کی شمولیت سے ادارے کی کارکردگی مزید موثر اور مضبوط ہوگی۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بھرتیوں کے تمام مراحل کو غیر جانبدارانہ انداز میں مکمل کیا جائے گا تاکہ عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3535/2026
کوئٹہ 30اپریل۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وزیراعظم پاکستان یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے زیر اہتمام تقریب تقسیم لیپ ٹاپس کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کا بجٹ کو بڑھا کر 8 بلین کر دیا ہے۔ ابتدائی بحرانوں سے استحکام یقینی بنانے کے دوران یونیورسٹی کی سطح پر ہم نے تمام درپیش مسائل حل کیے۔ اب یہ ہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ نتائج فراہم کریں اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ خوشی یہ کہ ہماری نگرانی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں نے رینکنگ اور اسکورنگ دونوں میں اضافہ دیکھا ہے۔ قابل فخر بات یہ ہے کہ وویمن یونیورسٹی نے اب %80 فیصد کے اسکور کو عبور کر لیا ہے جو ایک انتہائی حوصلہ افزا سنگ میل ہے. وویمن یونیورسٹی کی طالبات کو لیپ ٹاپس کی فراہمی پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور چیرمین پرائم منسٹر پروگرام رانا مشہود احمد خان کے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں۔ لیپ ٹاپس تقسیم سے متعلق پروگرام میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، میر عاصم کرد گیلو ، پارلیمانی سیکرٹری زرین خان مگسی، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی ڈاکٹر روبینہ مشتاق، وزیراعظم پاکستان کے فوکل پرسن چوہدری نعیم کریم ، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ اور پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنربلوچستان عبدالناصر دوتانی سمیت فیکلٹی ممبران اور طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ شرکاء سے خطاب میں گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جدید اسکلز ڈیولپمنٹ پر بھرپور توجہ مرکوز رکھیں۔ اب وویمن یونیورسٹی کو اسٹوڈنٹس کو مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کیلئے ڈپلومہ اور آئی ٹی کورسز متعارف کرائے جن کی انہیں تیزی سے روزگار حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشی طور پر خودمختار بن جائیں۔ والدین نے وویمن یونیورسٹی پر اپنا اعتماد کیا ہے، وہ اپنی بیٹیوں کو بڑی امید کے ساتھ بھیج رہے ہیں۔ اب یہ یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے اعلیٰ معیاری تعلیم فراہم کرے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور روبوٹک ٹیکنالوجی کے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں تاریخ میں پہلی مرتبہ انسان کا رشتہ قلم اور کاغذ کے ساتھ ہمیشہ کیلئے ختم ہو رہا ہے۔ آج تعلیم یافتہ ہونے کی تعریف محض کسی کا نام پڑھنے اور لکھنے کی سادہ صلاحیت سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ آج ایک حقیقی تعلیم یافتہ شخص کو صرف ڈگری سے نہیں بلکہ ڈیجیٹل لیٹریسی سے ماپا جاتا ہے۔ گویا ڈیجیٹل لیٹریسی ہی جدید تعلیم کا اصل پیمانہ ہے اور یہ آپ کی ٹیکنالوجی کو مو¿ثر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس تیزرفتار دور میں آن لائن دستیاب تمام علمی اور تحقیقی مواد تک رسائی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اب آپ کو تحقیق کرنے، ان لائن کاروبار کرنے اور اپنے ذہن کو سائنس اور فلاسفی کی روشنی سے منور کرنے کے مواقع میسر ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر ان غریب مگر ذہین طالبات کیلئے جو پہلے اسطرح کے وسائل کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ لیپ ٹاپ نہ صرف ایک تحفہ ہے بلکہ یہ آپ کی صلاحیت پر اعتماد کا ثبوت بھی ہے۔ آپ ان لیپ ٹاپس سے پورا استفادہ کریں، اپنے علم کو بڑھانے، کلاس فیلوز کے ساتھ تعاون کرنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ان کا بھرپور استعمال کریں۔ یہاں موجود وویمن یونیورسٹی اسٹوڈنٹس سے میں کہتا ہوں کہ آپ پورے صوبے کے ایک روشن مستقبل کے معمار ہیں۔ اس لیپ ٹاپ کو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کا وسیلہ بننے دیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ لیپ ٹاپ دراصل اپنے لیے نئے تعلیمی امکانات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ایک چابی ہے۔ ہزاروں سنہرے مواقع اور سہولیات اب آپ سے صرف ایک بٹن کلک کی دوری پر ہے لہٰذا آپ آن لائن دستیاب لاکھوں کتابوں سے فائدہ اٹھائیں، اپنی ذہنی سطح بلند کریں اور اب ایسے فلسفیانہ خیالات کے ساتھ مشغول رہیں جو کبھی اسٹوڈنٹس کے پہنچ سے باہر تھے۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے طالبات میں لیپ تقسیم کیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3536/2026
کوئٹہ 30اپریل۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یورپی یونین کی معاونت سے یونیورسٹی آف بلوچستان کے زیراہتمام گریجویشن کے شرکاءسے خطاب کرتے کہ رقبہ کے لحاظ سب سے بڑا صوبہ بلوچستان میں آبی وسائل کے انتظام کو تقویت دینے کیلئے وفاقی حکومت سے اہم فنڈز کا مطالبہ ضروری ہے۔ نئے ڈیموں کی تعمیر اور آبی وسائل کا درست انتظام کر کے پورے صوبے میں کلائمنٹ چینچ کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انسان اور فطرت کے درمیان ایک اہم رشتہ ہے۔ اب معاشرے کے دیگر نوجوانوں میں ایکوسسٹم کی بحالی اور ماحولیات کی بہتری کیلئے اجتماعی احساس اجاگر کریں کیونکہ آپ نے فطرت کے محافظین کا کردار ادا کرنا ہیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، سینٹر سعید الحسن مندوخیل ، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، صوبائی سیکرٹری ہاشم خان غلزئی ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، ٹیم لیڈر بلوچستان واٹر ریسورس پروگرام مسٹر یلے(Mr. Yelle)، ڈاکٹر محمد عرفان خان، پروفیسر ڈاکٹر شازیہ اور ڈائریکٹر یونیورسٹی آف بلوچستان ٹریننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ سینٹر نور الامین کاکڑ سمیت آٹھ مختلف محکموں کے زیر تربیت افسران موجود تھے۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ گریجویشن سرمنی کے آفیسرز کو تین مہینے تربیت کے دوران متعلقہ ماہرین نے جو سائنٹفک سوچ و اپروچ دی ہیں جس کے بعد اب آپ کی قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپ فطرت کی حفاظت کیلئے اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ آپ نے ہمارے ماحولیاتی نظام کے نازک توازن، پائیدار طریقوں کی ضرورت، اور آنے والی نسلوں کیلئے ماحولیات کے تحفظ کی فوری ضرورت کے بارے میں جان لیا ہے۔ جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، یاد رکھیں کہ آپ کا ہر عمل تبدیلی کے سمندر میں ایک لہر ہے۔ آپ کی تعلیم نے آپ کو ایک سرسبز، زیادہ صحتمند معاشرے کی تعمیر کیلئے جدید آلات سے لیس کیا ہے۔ انہوں نے ترتیب پانے والے آفیسرز پر زور دیا کہ آپ ہمت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں، یہ جانتے ہوئے کہ دنیا کو آپ کے جذبے، آپ کے علم اور آپ کے عمل کی ضرورت ہے۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے منتظمین کو کامیاب ٹریننگ اور گریجویشن سرمنی کے انعقاد پر مبارکباد دی اور سرٹیفکیٹ اور یادگاری شیلڈز تقسیم کیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3537/2026
کوئٹہ، 30 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ معاشروں کی اصل طاقت وہ محنت کش طبقہ ہے جو خاموشی سے اپنی جدوجہد، پسینے اور عزم کے ذریعے ترقی کی بنیادیں مضبوط کرتا ہے عالمی یوم مزدور کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ مشکل حالات، محدود وسائل اور چیلنجز کے باوجود مزدور طبقہ جس ثابت قدمی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے وہ قابلِ تحسین ہے اور یہی جذبہ کسی بھی قوم کی حقیقی پیش رفت کی علامت ہوتا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے محنت کشوں نے ہر دور میں صوبے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کی قربانیاں فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کی عزت، وقار اور حقوق کا تحفظ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جس کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ایک منظم سوچ کے تحت مزدوروں کے بچوں کو ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ محرومیوں کے دائرے سے نکل کر باوقار اور روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔ یہ اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ “مزدور کا بچہ صرف مزدور نہیں بلکہ تعلیم اور محنت کے ذریعے اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت فنی تعلیم اور ہنر مندی کے پروگرامز کو وسعت دے رہی ہے تاکہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بہتر روزگار حاصل کر سکیں اور اپنے خاندانوں کا معیارِ زندگی بلند کر سکیں انہوں نے یومِ مزدور کے موقع پر تمام محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں ان کی جدوجہد ہی اصل طاقت ہے جو معاشرے کو آگے بڑھاتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3538/2026
کوئٹہ 30 اپریل ۔۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے سردار یار محمد رند کے حالیہ بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی ایم ہاوس کی جانب سے ضلع بولان کے ترقیاتی فنڈز کی بیکڑ یا کسی دوسرے علاقے منتقلی کی بات محض قیاس آرائی ہے، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ بولان و ملحقہ علاقوں میں قبائلی تنازعات کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے عارضی طور پر تعطل کا شکار ہیں لہذا اس حوالے سے خدشے کا اظہار کرتا کہ فنڈز کسی دوسرے علاقے میں منتقل کیے گئے ہیں حقیقت کے بر خلاف ہے، صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ سردار یار محمد رند علاقے کے بااثر شخصیت میں سے ہیں اگر وہ قبائلی تنازعات سمیت قیام امن کیلئے جاری کوششوں میں معاونت کریں تو جلد ہی ان ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ بولان کے ترقیاتی فنڈز کہیں منتقل نہیں کیے گئے ہیں اور نہ ہی کسی کو اجازت ہوگی گی کہ وہ ان فنڈز کو دوسری جگہ خرچ کرے لہذا اس ضمن میں حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ پورے صوبے کے تمام علاقوں کیلئے مختص فنڈز کو بلا کسی روک ٹوک اپنے اصل جگہ پر خرچ کیے جائیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں سے پورے صوبے کے عوام مستفید ہوسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3639/2026
کوئٹہ، 30 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ‘پیپلز ایئر ایمبولینس’ سروس کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صوبے میں ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی اقدام قرار دیا ہے جمعرات کو جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز حکومت بلوچستان کے اس عزم کا مظہر ہے جس کے تحت دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بسنے والے عوام، بالخصوص خواتین اور کمزور طبقات کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والی خواتین کو زچگی اور دیگر پیچیدہ طبی مسائل کے دوران بروقت اسپتالوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے انہوں نے کہا کہ ایئر ایمبولینس سروس کی دستیابی سے حاملہ خواتین اور دیگر نازک حالت کے مریضوں کو
فوری طور پر بڑے طبی مراکز منتقل کرنا ممکن ہوگا، جس سے ماں اور بچے کی اموات میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور صحت کے شعبے میں جدید سہولیات کی فراہمی اس کا واضح ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ یہ سروس حادثات، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری رسپانس کو مو¿ثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی اور صوبے میں صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہوگی مشیر ویمن ڈویلپمنٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ‘پیپلز ایئر ایمبولینس’ صوبے کے عوام کے لیے ایک حقیقی سہارا ثابت ہوگی اور بلوچستان میں بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3540/2026
گوادر/پسنی:30اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر آفس پسنی میں ایک اہم اور بامقصد کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے کی۔ کھلی کچہری کا مقصد عوامی شمولیت کو یقینی بناتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی مو¿ثر منصوبہ بندی اور مقامی ضروریات کے مطابق ترجیحات کا تعین کرنا تھا۔کھلی کچہری میں پاک آرمی پسنی یونٹ کے لیفٹیننٹ کرنل طارق علی، میجر تقی، پاکستان کوسٹ گارڈز بٹالین پسنی کے میجر اوساف، چیئرمین پسنی میر نور احمد کلمتی، آل پارٹیز نمائندگان، علاقائی معتبرین، مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان اور کنسٹرکشن کمپنیوں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر سول و عسکری قیادت اور عوامی نمائندگان کی مشترکہ شرکت کو موثر گورننس اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ایک اہم مثال قرار دیا گیا۔کھلی کچہری کا مرکزی محور بلوچستان سوشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری (2026-27) کے تحت شہر کی ترقی کے لیے عوامی تجاویز کا حصول تھا۔ اس موقع پر BSDI کے فیز I اور فیز II کی کامیاب تکمیل کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ مرحلے کے لیے جامع مشاورت کی گئی۔ شرکاءنے مالی سال 2026-27 کے لیے پسنی شہر کی بنیادی ضروریات، شہری انفراسٹرکچر کی بہتری، پبلک سروس ڈیلیوری، اور سماجی سہولیات کی فراہمی سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبے مقامی تقاضوں، شفافیت اور پائیداری کے اصولوں کے تحت تشکیل دیے جائیں تاکہ شہریوں کو دیرپا ریلیف فراہم کیا جا سکے اور وسائل کا موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مشاورت کو کلیدی اہمیت دیتی ہے، اور موصول ہونے والی تجاویز کو ترجیحی بنیادوں پر مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا وژن عوامی مسائل کا پائیدار حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے ترقیاتی عمل کی موثر نگرانی کو یقینی بنائے گی، تاکہ پسنی شہر کو ایک منظم، ترقی یافتہ اور سہولیات سے آراستہ شہری مرکز بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3541/2026
قلات 30 اپریل ۔قلات میں عالمی ہفتہ حفاظتی ٹیکہ جات 24 تا 30 اپریل ایمونائزیشن سے متعلق آگاہی سیمینارکاانعقادکیاگیاایمونائزیشن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کا مقصد بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچانے اور ویکسینیشن کے عمل کو نچلی سطح تک فعال بنانے کے عزم کا اعادہ کرنا تھا۔سیمینارکےمہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی تھےاعزازی مہمانوں میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ثناء اللہ ثناءبلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر قادر بخش مینگل چیئرمین نیچارہ میر منیر احمد نیچاری پی ایس میونسپل کمیٹی قاری مصطفیٰ نیچاری شامل تھے۔ تقریب میں علاقائی عمائدین، محکمہ صحت کے عملے اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ڈاکٹر انجم ضیاء ڈاکٹر مجتبی سکیپ بلوچستان کے صوبائی ڈائریکٹر حاجی حسن حسرت نے ایمونائزیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ 24 سے 30 اپریل تک منائے جانے والے اس ہفتے کا مقصد ہر بچے تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ انہیں بارہ مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے ضلع میں ویکسینیشن کی موجودہ صورتحال اور محکمہ صحت کی ٹیموں کی کارکردگی پر روشنی ڈالی سیمینار سے ڈپٹی کمشنر منیر احمد درانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کی صحت مند زندگی کا دارومداربروقت حفاظتی ٹیکہ جات پرہے۔ انہوں نے والدین اورمعاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ قلات کو بیماریوں سے پاک کیا جا سکے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور چیئرمین یونین کونسل نیچارہ نے سماجی اور تعلیمی سطح پر آگاہی پھیلانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس مہم میں محکمہ صحت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔سیمینار کے اختتام پر شرکائ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایمونائزیشن صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ ہے۔ تقریب کے آخر میں اس عزم کو دہرایا گیا کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی سہولت پہنچائی جائے گی اور آخر میں ایک اگائی واک کا انعقاد کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3542/2026
کویٹہ30اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر (کچلاک) کیپٹن (ر) کبیر مزاری نے سب ڈویژن کچلاک میں غیر قانونی ٹیوب ویلوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ان کارروائی کے دوران 5 غیر قانونی ٹیوب ویل سیل کر دیے گئے جبکہ 5 افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔اس کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر نے رجسٹرڈ پیٹرول پمپس کا بھی دورہ کیا اور وہاں گیج، قیمتوں اور معیار کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پرضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3543/2026
چمن 30اپریل ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت گزشتہ روز ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کی ماہانہ کارکردگی اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں گزشتہ ایک مہینے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی انتظامات اور پلاننگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوید بادینی ایم ایس نیو ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر محمد اویس اکاونٹ افسر اسماعیل اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے اجلاس میں ڈی سی چمن کو ڈی ایچ او چمن ڈاکٹر نوید بادینی ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر اویس اور پولیو افیسر نے چمن کی محکمہ صحت کی کارکردگی درپیش مسائل اور چیلنجز اور حالیہ انسداد پولیو مہم اچیومینٹس حفاظتی ٹیکہ جات اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ محکمہ ہیلتھ کے تمام افیسران ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اور سٹاف اپنی جائے تعیناتی پر اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں اور وقت کی پابندی کریں انہوں نے کہا کہ غیر حاضر ڈاکٹرز سٹاف اور آفیسران کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ چمن کویٹہ سے کافی دور ہونے کی وجہ سے مریضوں کی علاج و معالجہ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھا جائے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اور سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی محکمہ صحت چمن اور پورے صوبے میں صحت کی شعبے کو نہایت اہمیت دے رہےہیں جسکی حالیہ مثال چمن میں تین نئے بی ایچ یوز کی تعمیر اور ڈاکٹروں اور سٹاف کی تعیناتی اور باقاعدہ مریضوں کی علاج و معالجہ کی شروعات اسکی زندہ مثال ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نیو اور پرانے ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن کیلئے تین جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایمبولینسز کی فراہمی بھی شامل ہیں انہوں نے کہا موجود آلات مشینری اور ادویات کی صحیح استعمال اور مریضوں کی بروقت طبی امداد اور علاج و معالجہ کو یقینی بنایا جائے تو چمن کی تقریباً آدھے سے زیادہ مریضوں کی علاج و معالجہ ممکن ہے انہوں نے پولیو آفیسرز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسداد پولیو مہم کے دوران ہر بار 5 سال تک کی بچوں کو پولیو ویکسین ضرور پلائیں اور اس حوالےسے کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے انہوں نے کہا کہ وہ محکمہ صحت چمن کو درپیش ضروری سہولیات اور ادویات کے حوالےسے سیکرٹری صحت اور دیگر متعلقہ افسران سے بات کریں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت محکمہ صحت کو تمام ضروری سہولیات اور ایمرجنسی ادویات دینے کے لیے پرعزم ہیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محکمہ صحت کے تمام افسران ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اور سٹاف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات دیانتداری اور ایمانداری سے انجام دیں تاکہ ہم ایک خوشحال اور صحت مند ماحول میں پروان چڑھے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز مریضوں سے خوش اسلوبی اور خندا پیشانی سے پیش آئیں کیونکہ یہ بھی بہت سے بیماریوں کا علاج سمجھا اور مانا جاتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3544/2026
سبی 30 اپریل۔ اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کی زیر صدارت پی پی ایچ آئی ڈسٹرکٹ آفس میں ماہانہ جائزہ اجلاس (MRM) منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں او پی ڈی، ایم این سی ایچ، غذائیت، ای پی آئی، ٹی بی، ریفرل، لیبارٹری اور ٹیلی ہیلتھ سروسز سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے بی ایچ یوز کے ریکارڈ کی بہتری، مقررہ اہداف کے حصول اور عملے کی موثر رہنمائی پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ادویات کے ماہانہ کوٹے میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایچ یوز کو ترقیاتی منصوبوں میں ترجیح دی جا رہی ہے اور مزید مراکز صحت کو فیز ٹو BSDI میں شامل کیا گیا ہے تاکہ صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں بنیادی مراکز صحت کے انفراسٹرکچر، فرنیچر، ادویات اور طبی آلات کی فراہمی، DHIS-2 رپورٹنگ کے نظام اور سرکاری اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ افسران اور عملہ صحت کے شعبے میں عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں اور تمام مراکز صحت میں دستیاب وسائل کا موثر استعمال کیا جائے تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3545/2026
کوئٹہ 30اپریل۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیر صدارت محکمہ جنگلات اور بازئی قبائل کے درمیان ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ جنگلات کی اراضی اور بازئی قبائل کی زمینوں سے متعلق سیٹلمنٹ کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ متعلقہ حکام اور قبائلی نمائندوں نے اپنے اپنے ریکارڈ پیش کیے جن کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے تمام معاملات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ اراضی سے متعلق مسائل کو قانون کے مطابق اور باہمی مشاورت سے حل کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید تاکید کی کہ تمام ریکارڈ کی درستگی کو یقینی بنایا جائے اور آئندہ کے لیے ایک واضح اور متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر3546/2026
بارکھان 30 اپریل:ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج بارکھان میں قائم ایف اے اور ایف ایس سی کے امتحانی سنٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے امتحانی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا اور انتظامات کا معائنہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے امتحانی ہالز، سکیورٹی انتظامات، طلبہ و طالبات کے بیٹھنے کے انتظام،:صفائی ستھرائی اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ امتحانات کے انعقاد میں شفافیت، نظم و ضبط اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے امتحانی سنٹر میں موجود طلبہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں پرسکون ماحول میں امتحان دینے کی تلقین کی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ نقل جیسی منفی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ذہین اور محنتی طلبہ کی حق تلفی نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ معیاری اور منصفانہ امتحانی نظام کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لا رہی ہے تاکہ نوجوان نسل کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر3547/2026
ضلع چمن 30 اپریل:۔سیکرٹری جنگلات بلوچستان عمران گچکی نے ضلع چمن ٹنل کا دورہ کیا جہاں سیکرٹری جنگلات اور ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے درخت لگائے اور ضلع چمن سے گرین ٹنل سر سبز چمن کی شروعات کی سیکرٹری جنگلات بلوچستان عمران گچکی نے ضلع چمن ٹنل کے دورے کے دوران ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کے ہمراہ ٹنل کے دونوں اطراف مختلف قسم کے پودے اور جنگلی جڑی بوٹیوں کی بھیج بو دیا انہوں نے کہا کہ چمن کو سرسبز و شاداب بنانے کیلئے محکمہ جنگلات بلوچستان ضلعی انتظامیہ چمن کو مختلف قسم کے پودے اور جنگلی جڑی بوٹیاں کی تخم اور پودے دیں گے اور محکمہ جنگلات چمن اور ضلعی انتظامیہ چمن مل کر چمن کو سرسبز و شاداب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ہم آکسیجن سے بھرپور زندگی کو انجوائے کر سکیں اس موقع پر ڈی سی چمن نے سیکرٹری جنگلات عمران گچکی کو ضلع چمن کے مختلف سرکاری محکموں گراونڈ پہاڑی و میدانی علاقوں میں امسال مختلف قسم کے پودے اور درخت لگانے کے حوالیسے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اور سیکرٹری جنگلات کا چمن کا دورہ کرنے اور چمن کو سرسبز و شاداب بنانے میں ان کی دلچسپی اور کردار کو سراہا اور شکریہ ادا کیا۔
خبر نامہ نمبر3548/2026
بارکھان 30 اپریل:۔بارکھان میں محکمہ تعلیم کے زیرِ اہتمام کلسٹر ہیڈز اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے دو روزہ تربیتی ورکشاپ 29 اور 30 اپریل 2026 کو منعقد ہوئی۔ ورکشاپ کا مقصد تعلیمی افسران اور کلسٹر ہیڈز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا، تعلیمی نظم و نسق کو مؤثر بنانا اور سکولوں کی کارکردگی میں بہتری لانا تھا۔اس تربیتی ورکشاپ میں ماسٹر ٹرینرز ولی خان اور محمد اکرم نے شرکاء کو جدید تدریسی طریقہ کار، تعلیمی منصوبہ بندی، مانیٹرنگ سسٹم اور ادارہ جاتی بہتری کے حوالے سے تفصیلی تربیت فراہم کی۔ورکشاپ کے دوران ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن سکولز لورالائی ڈویژن، ڈاکٹر محمد سلیم زرکون نے خصوصی دورہ کیا۔ انہوں نے شرکاء سے مختصر خطاب کیا اور تربیتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ورکشاپس تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اختتامی تقریب کے موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر نے شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ شرکاء نے ورکشاپ کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تربیت سے انہیں اپنے فرائض مزید بہتر انداز میں انجام دینے میں مدد ملے گی۔
خبر نامہ نمبر3549/2026
بارکھان 30 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر بارکھان جناب سعید الرحمن کی خصوصی ہدایات پر اور اسسٹنٹ کمشنر بارکھان کی زیر نگرانی ریونیو ٹیم نے محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے ہمراہ محکمہ زراعت کی سرکاری اراضی کی حد بندی اور واگزاری کے سلسلے میں اہم کارروائی انجام دی۔اس موقع پر ریونیو عملے نے موقع پر پہنچ کر ریکارڈ کی روشنی میں 12.5 ایکڑ سرکاری اراضی کی باقاعدہ نشاندہی، پیمائش اور حد بندی کا عمل مکمل کیا۔ بعدازاں مذکورہ اراضی کا قبضہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ زراعت کے حوالے کر دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق سرکاری اراضی کا تحفظ، قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی اور سرکاری محکموں کو ان کی اراضی کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور اس حوالے سے بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کی اس مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی سرکاری املاک کے تحفظ اور شفاف انتظامی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3550
لورالائی 30 اپریل :_وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن اور کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی ہدایات کی روشنی میں چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کی زیر نگرانی شہر میں صفائی مہم بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی کا عملہ مختلف زونز میں متحرک ہے اور مین نالوں، نالیوں، گلی کوچوں اور محلوں کی صفائی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق عجب زون میں ہسپتال روڈ پر نالیوں کی صفائی کی گئی جبکہ سلیم داد زون میں صدر بازار، باگی بازار اور کاکڑی مسجد روڈ پر نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نالیوں کی صفائی عمل میں لائی گئی۔ اسی طرح عبد الخالق زون میں ڈاکٹر صالح کالونی سے کچرا اٹھایا گیا جبکہ باران زون کے پہاڑی محلہ اور سینما گلی میں بھی نالیوں کی صفائی مکمل کی گئی۔مزید برآں سلام زون میں صفائی عملے نے سوزوکی کے ذریعے کچرا اٹھانے کا کام جاری رکھا جبکہ شہر بھر میں ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے کچرے کی منتقلی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور صفائی کے اس عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ صفائی کے عمل میں تعاون کریں اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنے میں میونسپل کمیٹی کا ساتھ دیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/3551
استامحمد30اپریل:ـ ڈپٹی کمشنر آفس اُستامحمد میں آئندہ SNID مئی 2026 کی انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی DPEC کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر اُستامحمد نے کی جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر DHO اُستامحمد شریکِ صدارت رہے اجلاس کے دوران پولیو مہم کی تیاریوں کا تفصیلی اور جامع جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مائیکرو پلاننگ کو مزید مؤثر بنانے، ہر یونین کونسل اور ہائی رسک علاقوں کی نشاندہی، ٹیموں کی بروقت اور شفاف تعیناتی، ویکسین کی بلا تعطل فراہمی، کولڈ چین سسٹم کی بہتری، سکیورٹی کے فول پروف انتظامات اور کمیونٹی آگاہی مہم کو مزید وسعت دینے جیسے اہم نکات پر تفصیل سے غور کیا گیاڈپٹی کمشنر اُستامحمد نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہیں رہنا چاہیے انہوں نے متعلقہ تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ باہمی رابطہ مزید مضبوط بنائیں، فیلڈ ٹیموں کی مکمل نگرانی کریں اور اپنی ذمہ داریاں نہایت سنجیدگی اور بروقت مکمل کریں انہوں نے خاص طور پر والدین میں شعور بیدار کرنے، انکار کرنے والے کیسز کو مؤثر حکمت عملی سے کم کرنے اور دور دراز علاقوں تک رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیااجلاس میں ڈی ڈی ایچ او، ڈی ایس ایم PPHI ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان، نان اسٹاپ آفیسر، یونیسیف کے سی سی او (کمیونیکیشن نیٹ ورک)، ڈی ایس وی، اے ایس وی، ٹی پی او (WHO)، ڈی ای او سی فوکل پرسن، ٹی ایس اے (WHO)، ڈیٹا فوکل پرسن، سکیورٹی فوکل پرسن سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی شرکاء نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کیں اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مربوط حکمت عملی، بین الادارہ جاتی تعاون اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے SNID مئی 2026 پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے گا اور ضلع اُستامحمد کو پولیو فری بنانے کے قومی ہدف کے حصول میں بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3552
خاران30اپریل:۔ صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت خاران ٹاؤن ڈیویلپمنٹ انیشیٹو کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو سمیت متعلقہ حکام اور تاجر برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں دوران تاجروں کو جاری کردہ سروے کے مطابق منصوبے کی نوعیت اور متوقع پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر تاجر نمائندوں نے اپنی تجاویز پیش کیں جنہیں غور سے سنا گیا۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے اس موقع پر یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی عمل کے دوران اگر کسی تاجر یا شہری کی دکان، کو کے، جھونپڑی یا کسی بھی قسم کی ملکیت متاثر ہوتی ہے تو انہیں قانون اور ضابطے کے مطابق مکمل معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت عوام کے حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔دریں اثنا، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے خاران میں امن و امان کی صورتحال پر آل پارٹیز جرگہ بھی منعقد کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خاران کے امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف انتظامیہ بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عوامی تشویش سے بخوبی آگاہ ہیں اور بہت جلد عوام کو مثبت تبدیلی نظر آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان خاران میں امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تاجر برادری کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے گا اور باہمی مشاورت کے ذریعے تمام امور خوش اسلوبی سے حل کیے جائیں گے تاکہ ترقیاتی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

خبر نامہ نمبر 3553/2026
کوئٹہ 30اپریل۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور عوامی شکایات پر ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کی مشترکہ کارروائیاں تیز کر دی گئیں ہے اس سلسلے میں پرنس روڈ اور شاہو شاہ روڈ پر مختلف ہوٹلوں کے خلاف سخت ایکشن لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ، اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ اور فوڈ اتھارٹی کے اہلکاران و فوڈ سیفٹی آفیسران نے مشترکہ طور پر مختلف ہوٹلوں کا معائنہ کیا۔ اس کارروائی کے دوران صفائی کی ناقص صورتحال اور غیر معیاری اشیاء پر 3 بڑے ہوٹل سیل کر دیے گئے جبکہ متعدد ہوٹلوں کو جرمانے عائد کرتے ہوئے وارننگ جاری کی گئی۔انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی صحت کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہر بھر میں ایسے اقدامات بلا امتیاز جاری رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *