خبرنامہ نمبر3402/2026
حب ۔27اپریل ۔ حکومت بلوچستان کے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت ضلع حب میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس جامع پروگرام کا مقصد صوبے میں سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے، جس پر مختلف سرکاری محکمے بشمول مواصلات و تعمیرات (C&W)، ایریگیشن، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، لوکل گورنمنٹ اور میونسپل کمیٹیز عملدرآمد کر رہے ہیں۔ منصوبوں کی نگرانی ڈپٹی کمشنر حب اور ونگ کمانڈر فرنٹیئر کور (FC) کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ پروگرام کی نمایاں خصوصیت عوامی شمولیت ہے، جس کے تحت ترقیاتی اسکیمیں عوام اور متعلقہ اداروں کی تجاویز کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہیں۔ یہ تجاویز کھلی کچہریوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں تاکہ مقامی ضروریات کو مو¿ثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ بی ایس ڈی آئی کا آغاز 2025 میں کیا گیا، جس کے فیز I میں ضلع حب میں زیادہ تر منصوبے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر مرکوز رہے۔ اس دوران 30 پرائمری اور 20 مڈل اسکولوں کی سولرائزیشن، 20 اسکولوں کی مرمت و بحالی اور مزید 20 اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر شامل ہے۔ محکمہ صحت کے تحت 10 ہیلتھ یونٹس کی مرمت و تزئین و آرائش جبکہ ایک صحت مرکز کی سولرائزیشن مکمل کی جا چکی ہے۔ ایریگیشن کے شعبے میں دو پروٹیکشن والز کی تعمیر پر کام جاری ہے۔ شہری ترقی کے منصوبوں میں حب شہر کے مختلف علاقوں، جن میں رند محلہ اور بلوچ کالونی شامل ہیں، گلیوں میں ٹف ٹائلز کی تنصیب اور عوامی سہولت کے لیے پبلک ٹوائلٹس کی تعمیر شامل ہے۔ فیز I کے بیشتر منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ فیز II کے تحت مزید ترقیاتی اسکیموں پر پیش رفت جاری ہے، جن میں اسکولوں کی تعمیر و مرمت، پروٹیکشن والز کی تعمیر، ہیلتھ سینٹرز کی بحالی، بھوانی قبرستان تک سڑک کی تعمیر، بلدیہ پارک کی بحالی و خوبصورتی اور پبلک لائبریری کی تزئین و آرائش شامل ہیں۔ مزید برآں بوائز ڈگری کالج حب کے آئی ٹی لیب کے لیے 15 کمپیوٹر سیٹس کی فراہمی اور جام غلام قادر سول ہسپتال حب میں تین اینستھیزیا مشینوں کی مرمت کا عمل بھی مکمل کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی ایس ڈی آئی کے فیز III کا آغاز بھی جلد متوقع ہے، جس کے تحت مزید ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ عوامی حلقوں نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے حکومت بلوچستان کا شکریہ ادا کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان منصوبوں سے ضلع حب میں معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3403/2026
قلعہ سیف للہ ۔27اپریل ۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ،پولیس ،اینٹی نارکوٹکس فورسس ،اور فرنٹیئر کور کی مشترکہ نگرانی میں غیر قانونی پوست پوپی کی غیر قانونی کاشت کے خلاف ایک کامیاب آپریشن کیا گیا۔اس کارروائی کے دوران تویوار با توزئی قلعہ سیف اللہ کے دو مقامات کو ہدف بنایا گیاسائٹ نمبر 1 پر 18 ایکڑ غیر آباد (غیر سیٹلڈ) زمین پر کاشت کی گئی پوست کی فصل کو مکمل طور پر تلف کر دی گئی جبکہ سائٹ نمبر 2 پر 110 ایکڑ غیر آباد زمین پر کاشت کی گئی پوست کی فصل نامعلوم تھے اور خود کاشتکار بھی تھے، کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔محکمہ کے افسران نے کہا کہ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 128 ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی پوست کی فصل کو ختم کیا گیا۔ جس کو فصل کورڈیم کے پانی سے سیراب کیا جا رہا تھا۔محمکہ ایکسائز کے حکام نے کاروائی کے دوران اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقے میں منشیات کی غیر قانونی کاشت کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3404/2026
قلات 27اپریل ۔ پاک چین دوستی کے 75 ویں سالگرہ کے موقع پرضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے شاندار تقریبات اورریلی کا انعقاد کیاگیاریلی کی قیادت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نےکی ریلی میں سرکاری محکموں کے سربراہان انجمن تاجران قبائلی عمائدین عوام الناس شریک ہوئے ریلی کے شرکاء نے ڈی سی کمپلیکس سے شاہی دربار روڈ ہربوئی روڈدیگر مقامات پر پاک چین دوستی کے حق میں نعرے بازی کی پولیس فورس کی جانب سے ریلی کے موقع پر سیکیورٹی کےموثرانتظامات کاانعقادکیا گیا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرقلات شاہنواز بلوچ نے پاک چائنا دوستی زندہ بادریلی شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات باہمی اعتماداور لازوال دوستی کی روشن مثال ہیں دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی اعتماد کامضبوط رشتہ وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے پاک چین دوستی محض سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ عوامی سطح پر بھی گہری جڑیں رکھتی ہے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے وقتوں دونوں ممالک ترقی و خوشحالی کی نئی منازل طے کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3405/2026
موسیٰ خیل 27اپریل ۔حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وژن کے تحت N-70 لورالاءشبوزءٹو N-55 تونسہ شریف سڑک کے پراجیکٹ ڈائریکٹر فقیر محمد کاکڑ نے پورشن 5 کا اچانک معائنہ کیا موقع پہ موجود ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر احمد سعید جعفر نے سڑک کی تعمیر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی زیر تعمیر چھوٹے بڑے پل کٹنگ اور لیولنگ کے معائنہ کیا گیا پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کام کے معیار اور جلد از جلد تکمیل پہ زور دیتے ہوئے کہا کہ مواصلات کا اچھا نظام ملک علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اہمیت کا حامل ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی کوشش ہے کہ پورے صوبے میں سڑکوں کا جال بچھا کر عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ صوبہ بلوچستان دوسرے صوبوں کی طرح ترقی و خوشحالی میں برابر ہو پراجیکٹ ڈائریکٹر نے واضح احکامات دیتے ہوئے کہا کہ کام کے معیار پہ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اگر کہیں بھی کوءکوتاہی ہوئی تو ٹھیکیدار اور پراجیکٹ ملازمین کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3406/2026
نصیرآباد27اپریل ۔:موجودہ حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کے وسیع تر مفاد میں اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے مین پٹ فیڈر کینال سمیت دیگر ذیلی شاخوں میں زرعی پانی کی سالانہ بندش کے موقع پر جاری ترقیاتی کاموں کا
تفصیلی جائزہ لیا۔ ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی نے بیدار کے مقام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری شکیل قادر خان، صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کی ہدایات کی روشنی میں پٹ فیڈر کینال اور اس کی مختلف ذیلی شاخوں بالان شاخ، قیدی شاخ، مگسی شاخ اور عمرانی شاخ سمیت دیگر نہروں پر تعمیر و مرمت اور بھل صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے جس کی مسلسل اور کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ نظام آبپاشی کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ تمام جاری حکومتی اقدامات کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جائے اور کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ آئندہ خریف سیزن میں بوائی کے دوران کاشتکاروں کو بروقت اور منصفانہ بنیادوں پر زرعی پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور کسانوں کو درپیش مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس سلسلے میں آبپاشی نظام کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ علاقے میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور کاشتکار خوشحال ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3407/2026
کوئٹہ 27 اپریل۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے ڈبل روڈ پر تجاوزات کے خلاف مشترکہ آپریشن کیا گیا۔اس آپریشن کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ، اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ اور انکروچمنٹ آفیسر محمد قاسم نے کی۔کارروائی کے دوران ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا جبکہ مزاحمت ،کار سرکار میں مداخلت اور خلاف ورزی پر 6 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے آپریشن کے بعد سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر کوئٹہ شہر میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 3408/2026
کوئٹہ27 اپریل ۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ الحمدللہ ہم نے ہائیر ایجوکیشن سیکٹر کو بحران سے بحالی کی جانب گامزن کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ وژن اور ٹیم ورک کی توسط سے بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں معنی خیز اصلاحات لائے۔ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کا بجٹ 2.5 ارب روپے سے بڑھا کر 8 ارب روپے کر دیا جس سے ادارہ جاتی ترقی اور ہر یونیورسثی میں تجدید ہو رہی ہے۔ ان دانشمندانہ فیصلوں نے صوبے کی تمام یونیورسٹیز کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ کو بلند کیا جس سے کوالٹی ایجوکیشن کی بنیاد پڑی۔ اس رفتار کو جاری رکھتے ہوئے آج ہم نے بیوٹمز یونیورسٹی میں ہائی وولٹیج انجینئرنگ لیبارٹری اور سہولیات کی مظبوطی کے مرکز کا افتتاح کیا جو پائیدار ترقی اور آگے بڑھنے کی بصیرت کی غمازی کرتا ہے۔ یہ بات انہوں نے بیوٹمز یونیورسٹی میں ہائی ولٹیج انجینئرنگ لیبارٹری اور سہولیات کی مضبوطی سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر بیوٹمز یونیورسٹی ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میرویس کاسی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی اور ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی بیوٹمز ڈاکٹر سعید اللہ جان مندوخیل سمیت تمام متعلقہ شعبوں کے سربراہان موجود تھے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو دونوں منصوبوں سے متعلق بریفننگ دی گئی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں ضروری سہولیات تک رسائی کو یقینی بنا کر ہم نے ایک ایسا تعلیمی ماحول پیدا کیا جہاں سیکھنے اور جدت کاری کو حقیقی معنوں میں فروغ ملا۔ اب وقت پر تنخواہوں کی وصولی کے ساتھ تمام فیکلٹی ممبران یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کے ذہنوں کو جدید علمی جہاں بینی سے روشن کرنے کیلئے پوری دلجمی کے ساتھ اپنے فرائص انجام دے رہے ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں سولر سسٹم کی تنصیبات اور اضافی اراضی کو زیر کاشت لانے کے اقدامات بنیادی ڈھانچہ کو مضبوط کیا ہے۔ ہمارے صوبے میں ہائیر ایجوکیشن کا شعبہ اب نئی توانائی اور مقصد کے ساتھ ابھر رہا ہے، ایک روشن اور زیادہ امید افزا مستقبل کی طرف مسلسل بڑھ رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3409/2026
کوئٹہ 27اپریل ۔ کوئٹہ میں پولیس کی ایگل اسکواڈ کی مبینہ فائرنگ سے نوجوان خالد ساسولی کی ہلاکت کے واقعے سے متعلق صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ کی ہدایت پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے مقتول خالد ساسولی کے والد سے ملاقات کی جس میں انہیں واقعے کی پیش رفت اور جاری تحقیقات سے متعلق تفصیلی آگاہ کیا حکومت نے واضح کیا واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو تمام پہلووں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے مقتول کے اہلخانہ کو انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی متاثرہ خاندان کے ساتھ بلوچستان حکومت کی نہ صرف ہمدردیاں ہیں بلکہ ان کے ساتھ مکمل تعاون بھی کیا جائے گا مشکل کی اس گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3410/2026
کوئٹہ: 27اپریل 2026وزیر توانائی بلوچستان میر اصغر رند، وزیر ماہی گیری بلوچستان برکت رند اور سابق صوبائی وزیر سکندر عمرانی نے اپنے وفد کے ہمراہ حکومتِ بلوچستان کے محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری سہیل الرحمان بلوچ سے اہم ملاقات کی۔ملاقات کے دوران صوبے میں جاری اور مجوزہ آبپاشی منصوبوں، زرعی ترقی اور پانی کے موثر استعمال سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیکریٹری آبپاشی نے وفد کو جاری ترقیاتی اسکیموں، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر، نہری نظام کی بہتری اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات پر بریفنگ دی۔وزیر توانائی میر اصغر رند نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان میں توانائی کے شعبے کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں اور دیہی علاقوں کی بجلی تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی اور آبپاشی کے منصوبوں کو باہم مربوط کر کے زرعی شعبے کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔وزیر ماہی گیری برکت رند نے آبی ذخائر میں اضافے کو ماہی گیری کے فروغ کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف زراعت بلکہ فشریز سیکٹر کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا، جس سے مقامی معیشت کو تقویت ملے گی۔اس موقع پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صوبے میں پانی کی کمی پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے گا، جبکہ جاری ڈیم منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ مزید برآں، توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دے کر زرعی ٹیوب ویلز کو سستی اور پائیدار بجلی فراہم کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر باہمی تعاون کو فروغ دینے اور متعلقہ محکموں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3411/2026
کوئٹہ، 27 اپریل ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان نے کہا کہ جدید پولیسنگ اور پبلک سروس کو یقینی بنانے کیلئے ہمیں اپنے تفتیش کے نظام کو مستحکم بنانا ہوگا خود احتسابی اور انفرادی کردار سے بھی معاشرے میں جرائم کا خاتمہ ممکن ہے۔شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اوران کے مسائل کا بلا تاخیر ازالہ پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقدس فریضے کی ادائیگی میں سپروائزری افسران کا کردار کلیدی نوعیت کا حامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل پولیس آفس بلوچستان کے مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے ڈپٹی کمانڈنٹ سرفراز احمد فلکی کی سربراہی میں صوبہ سند ھ کے زیر تربیت ڈپٹی سپرینٹنڈنٹ آف پولیس سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشنز آغا محمد یوسف ، ڈی آئی جی فنانس سہیل احمد شیخ ،اے آئی جی آپریشنز نوید عالم ، کورس کمانڈر محمدجواد اسحاق،اے آئی جی آئی ٹی فاضل شاہ ،اے آئی جی جنرل عابد خان ، اے آئی جی لیگل شفیق الرحمن شاہوانی ، اے آئی جی سیکورٹی ڈویڑن ڈاکٹر سمیع ملک سمیت دیگرافسران بھی شریک تھے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ نوجوان افسران جدید پولیسنگ، پیشہ وارانہ اور خدمت خلق کے جذبے کو اپنا شعار بنا تے ہوئے پولیس اور عوام کے درمیان روابط کو بہتر سے بہتر بنائیں اورخود کو افسر سمجھنے کی بجائے اچھا سننے اور سیکھنے والے بنیں، فیلڈ ڈیوٹی میں حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں کام آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دوران تربیت لگن اور محنت سے کام کریں مستقبل آئی ٹی بیسڈ پولیسنگ کا ہے، نئے رحجانات اور مہارتوں کو سیکھنے پر خصوصی توجہ دیں محنتی، دیانتدار اور خدمت خلق کے جذبے سے سر شار ہی پولیس سروس میں کامیاب ہیں چنانچہ سپر وائزری افسران عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہوئے ایک عام شہری کے مدد گار بنیں۔ اس موقع پر آئی جی پولیس نے لیڈی افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی افسران اپنے کام سے دوسری خواتین کے لیے رول ماڈل ثابت ہوسکتی ہیں اور خواتین شہریوں کو درپیش مسائل کے ازالے کیلئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان پولیس میں اصلاحات کا کام جاری ہے۔ بلوچستان میں بی ایریا سے اے ایریا میں ضم ہونے والے سابق لیویز اہلکاروں کو بہترین سطح پرجدید تربیت کا کام یکم جنوری 2026سے شروع ہو چکاہے تین ماہ پر مشتمل ٹریننگ کے دوران ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر کر نے کے لئے کا م جاری ہے۔اشتہاری مجرموں کی گرفتاری کیلئے خصوصی مہم شروع کے دوران ا شتہاری گرفتار کرنے پر تمام رینجز کو مبارکباد دیتے ہوئے ا ن امر پر اطمینا ن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تما م رینجز ڈی آئی جیز اور ضلعی ایس ایس پیز موثر نظم و ضبط کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ عزم اور مربوط اور بہتر کارکردگی دکھائی جو کہ قابل سائش ہیں انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی کار کردگی دکھانے والے اضلاع کچھی ڈھائی لاکھ روپے ، حب کو دو لاکھ روپے ، کوئٹہ کو ڈیڑ ھ لاکھ روپے ، سبی کو ایک لاکھ روپے جبکہ کوہلو اور زیارت کو بتدریج سو فیصد کا رکردگی کے حوالے سے کوہلو کو 75ہزار اور زیارت کو 75ہزا ر دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کوہلو اور زیارت اضلاع کی اشتہاری مجرمان کی سو فیصد گرفتاری پر ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے اور دیگر اضلاع کو ان تقلید کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ آئی جی پولیس ، ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشن کی کاوشوں کو سہراتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی میں صوبے کے تمام پولیس افسران نے مہم کے دوران انتھک محنت کر کے نظم و ضبط اور دیانت اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ عوام اور پولیس کے مابین اعتماد کے رشتے کو مضبوط رکھنے کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد ڈی آئی جیز اور ایس ایس پی کی صدارت میں جاری ہے جس میں عوام کی براہ راست شنوائی اور داد رسی کی جاتی ہیں انہوں نے بتایا کہ جدید اور بہترین پولیسنگ کے لیے عام ادمی کی ایریا پولیس آفیسر تک رسائی آسان اور ممکن ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ پولیس کے نظام اور عوام کے تحفظ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق رکھنے کے لئے انقلابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہیں جن میں کریکٹر سرٹیفکیٹ ، ای لائسنس کے لیے موبائل یونٹ کا نظام موجود ہے جس سے شہریوں کو مختلف دفتروں کے چکر لگانے کی بجائے ان کی مشکلات کم ہونی چائیں اور سیف سٹی کے تحت تنصیب جدید کیمروں سے ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کے علاوہ جرم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جا سکتی ہے سیریئس کرائم انوسٹیگیشن ونگ کے شعبے کے قیام سے پیچیدہ کیسوں کے حل میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں انہوں نے کہا کہ خود احتسابی نظام کے تحت کالی بھیڑوں کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے جبکہ اچھی کارکر دگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کو نقدمات اورتعریفی اسناد سے نوازا جا رہا ہے پولیس کی تعداد دیگر صوبوں سے سب سے زیادہ بلوچستان پولیس کی ہے۔شہدائکے خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داری باقاعدہ پولیس ویلفیئر کے شعبے کے ذریعے کی جا رہی ہے جبکہ شہداء اور پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولت پولیس گرائمر اسکول کے ذریعے دی جارہی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3412/2026
سبی 27 اپریل۔ کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض نے گزشتہ دنوں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول عظیم خان گہرام زئی کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سکول کی ہیڈ مسٹریس نے کمشنر کو سکول کی مختلف کلاسز اور درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی آگاہی دی۔ دورے کے دوران کمشنر سبی نے مشاہدہ کیا کہ جگہ کی کمی کے باعث طالبات کھلے آسمان تلے شدید دھوپ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جس پر انہوں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے قریبی بوائز سکول کے سٹور کو خالی کروا کر عارضی طور پر طالبات کے لیے دستیاب کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اس موقع پر کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچیوں کی تعلیم پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبات کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سکول کو درپیش مسائل کے مستقل حل کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ طالبات کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3413/2026
کوئٹہ، 27 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے ذریعے صوبے کے عوام کو مفت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے شعبے میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ہر شہری کے شناختی کارڈ کو ہی اس کا ہیلتھ کارڈ قرار دیا ہے، جس سے عوام کو علاج کے حصول میں غیر معمولی آسانی میسر آئی ہے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت نہ صرف صوبے کے اندر بلکہ ملک بھر کے بڑے سرکاری و نجی اسپتالوں کے وسیع نیٹ ورک کو شامل کیا گیا ہے، تاکہ مریضوں کو بہترین علاج کی سہولت ان کی ضرورت کے مطابق فراہم کی جا سکے انہوں نے کہا کہ اب تک اس پروگرام کے تحت 3 لاکھ 45 ہزار سے زائد مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں، جو اس اقدام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 69 ہزار ڈائیلاسز، 44 ہزار سے زائد کیموتھراپی اور 1200 سے زائد ریڈیوتھراپی سیشنز مکمل کیے گئے ہیں، جس سے مہنگے اور پیچیدہ علاج تک عوام کی رسائی ممکن ہوئی ہے وزیر اعلیٰ بنے بتایا کہ دل کے مریضوں کے لیے 7 ہزار 784 اینجیوپلاسٹی اور 575 بائی پاس سرجریز کامیابی سے انجام دی گئی ہیں، جبکہ بچوں کے دل کے 304 کیسز کا مفت علاج بھی اسی پروگرام کے تحت ممکن بنایا گیا ہے انہوں نےبتایا کہ ہیلتھ کارڈ کے تحت 3 ہزار 412 نیورو سرجریز اور 12 ہزار 300 آرتھوپیڈک سرجریز کی گئی ہیں، جبکہ برنز اینڈ پلاسٹک سرجری کے 183 کیسز بھی کامیابی سے مکمل کیے گئے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں 55 ہزار سے زائد کیسز ہینڈل کیے گئے، جن میں 24 ہزار 688 نارمل ڈیلیوریز اور 20 ہزار 344 سی سیکشنز شامل ہیں، جس سے ہزاروں خواتین مستفید ہوئیں میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں مزید بہتری، جدید سہولیات کے فروغ اور عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3414/2026
کوئٹہ 27 اپریل کوئٹہ: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو انجینئر یوسف شاہ خان سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ضلع زیارت، ہرنائی اور سنجاوی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، وولٹیج کے مسائل اور نئی بجلی لائنوں کی تنصیب سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ نے کہا کہ مذکورہ علاقوں کے عوام کو بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن کے فوری حل کیلئے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے نئی گریڈ فیڈرز کی منظوری اور بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو انجینئر یوسف شاہ خان نے صوبائی وزیر کو یقین دہانی کرائی کہ ہرنائی میں نئے گریڈ اسٹیشن کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ سروے مکمل ہو چکا ہے۔ مزید برآں 11 کے وی شاہرگ-ہرنائی فیڈر اور 33 کے وی زرغون غر فیڈر کیلئے ورک آرڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس سے متعلقہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی صوبائی وزیر نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور بجلی کے نظام میں بہتری سے علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں بھی مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3415/2026
کوئٹہ 27 اپریل۔وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت اور عوامی شکایات پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈبل روڈ پر پرائس کنٹرول کے حوالے سے کاروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اور اسپیشل مجسٹریٹ نے ڈبل روڈ پر تندوروں کے خلاف کارروائی کی۔ دورانِ کارروائی سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی پر 8 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 4 دکانیں سیل کر دی گئیں۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گرانفروشی اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3416/2026
جعفرآباد27اپریل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت زرعی واجبات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم ریونیو اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ ریونیو کے افسران اور عملہ مال نے شرکت کی۔ اجلاس میں زرعی واجبات کی وصولی کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور موجودہ پیش رفت پر غور کرتے ہوئے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر افسران نے ڈپٹی کمشنر کو سرکاری وصولیوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واجبات کی بروقت وصولی کے لیے فیلڈ میں اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں جبکہ نادہندگان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زرعی واجبات کی وصولی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو نظام کی بہتری اور سرکاری وسائل میں اضافے کے لیے واجبات کی بروقت وصولی انتہائی اہم ہے لہٰذا تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ فیلڈ اسٹاف اپنی کارکردگی بہتر بنائے اور نادہندگان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وصولیوں کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3417/2026
نصیرآباد27اپریل ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے نیو بس اڈہ اور گردونواح میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کیا۔ اس کارروائی میں اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی طحہٰ جمالی اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سلیم خان ڈومکی کی زیر نگرانی میونسپل عملے اور ریونیو اسٹاف نے حصہ لیا۔ آپریشن بکرا مال پڑی، پٹ فیڈر پل اور نیشنل ہائی وے کے قریب مختلف مقامات پر کیا گیا جہاں عرصہ دراز سے قائم غیر قانونی تجاوزات شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی تھیں۔ کارروائی کے دوران درجنوں غیرقانونی چھپرے، تھڑے اور عارضی ڈھانچے مسمار کر دیے گئے جبکہ موقع پر موجود سامان بھی ضبط کر لیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، عوامی گزرگاہوں کو بحال کرنے اور شہر کے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے واضح کیا کہ تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی اور شہر کو مکمل طور پر تجاوزات سے پاک بنانے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے دکانداروں اور شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ ازخود غیر قانونی تجاوزات ختم کریں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کارروائی کے دوران ریونیو عملہ بھی موجود رہا جن میں پٹواری ذوالفقار علی رند، سید سجاد حسین شاہ اور دیگر اہلکار شامل تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3418/2026
کوئٹہ 27 اپریل۔کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان کے صاف کوئٹہ وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ٹریفک پولیس نے شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف مشترکہ آپریشن کیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے نواں کلی، نواں کلی بائپاس، جوائنٹ روڈ، ڈبل روڈ، سرکی روڈ اور سریاب روڈ پر سڑکوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں کیں۔آپریشن کے دوران مشینری کے ذریعے تجاوزات کو مسمار کیا گیا جبکہ سڑکوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیا گیا۔ بار بار نوٹسز کے باوجود خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے 25 افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا، جبکہ متعدد تھڑے بھی مسمار کر دیے گئے۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں اور دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سڑکوں اور سرکاری املاک پر تجاوزات قائم کرنے سے گریز کریں، بصورت دیگر بلا امتیاز قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3419/2026
استامحمد27اپریل ۔گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول نور پور جمالی کے ہیڈ ماسٹر ساجد علی رند نے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کا دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کی عمارت طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھی، جبکہ چھت کی کمزوری کے باعث طلبہ شدید خوف و ہراس میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھےانہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر کی جانب سے اسکول کی تعمیر و بحالی کے احکامات ایک نہایت خوش آئند اور قابلِ تحسین اقدام ہے، جس سے نہ صرف تعلیمی ماحول بہتر ہوگا بلکہ طلبہ کو محفوظ اور سازگار ماحول میسر آئے گا ہیڈ ماسٹر کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس سہولت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے اور انہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3420/2026
کوئٹہ 27 اپریل۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت اورعوامی شکایات کی بنیاد پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے احکامات کے تحت شہر بھر میں گرانفروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ ان کارروائیوں کے دوران گوشت کی دکانوں اور تندوروں کے خلاف کریک ڈاون کیا گیا، جس کے نتیجے میں 31 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کیا گیا جبکہ 18 دکانیں سیل کر دی گئیں۔ اس کے علاوہ متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ بھی جاری کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے ڈبل روڈ، سرکی روڈ اور گوالمنڈی چوک میں کارروائیاں کیں۔ اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اچکزی اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے سریاب روڈ کے مختلف علاقوں میں آپریشن کیا۔اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی اور اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے نواں کلی، عالمو چوک اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خصوصی طور پر چکن ڈیلرز کے خلاف بھی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، جہاں ناجائز منافع خوری پر دکانیں سیل کی گئیں اور مالکان کو گرفتار کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ گرانفروشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3421/2026
کوئٹہ 27 اپریل۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے صاف کوئٹہ وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ٹریفک پولیس نے شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف مشترکہ آپریشن کیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے نواں کلی، نواں کلی بائپاس، جوائنٹ روڈ، ڈبل روڈ، سرکی روڈ اور سریاب روڈ پر سڑکوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں کیں۔آپریشن کے دوران مشینری کے ذریعے تجاوزات کو مسمار کیا گیا جبکہ سڑکوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیا گیا۔ بار بار نوٹسز کے باوجود خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے 25 افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا،۔جبکہ متعدد تھڑے بھی مسمار کر دیے گئے۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں اور دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سڑکوں اور سرکاری املاک پر تجاوزات قائم کرنے سے گریز کریں، بصورت دیگر بلا امتیاز قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3422/2026
زیارت، 27 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر زیارت، عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ایگریکلچر انکم ٹیکس کولیکشن کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی شیر شاہ غلزئی، نور احمد تحصیلدار زیارت نوراحمد، عبدالوکیل تحصیلدار سنجاوی، پٹواری سنجاوی نجم الدین پٹواری زیارت مطیع اللہ شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 26-2025 کے دوران ایگریکلچر انکم ٹیکس کولیکشن کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ایگریکلچر انکم ٹیکس وصولی کی انتہائی کم شرح جمع کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ریونیو عملے کو سخت وارننگ جاری کی اور ہدایت کی کہ مقررہ اہداف ہر صورت میں حاصل کیے جائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ریونیو سٹاف اپنی کارکردگی میں بہتری لاتے ہوئے فیلڈ میں متحرک کردار ادا کرے، نادہندگان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے واجب الادا ریونیو ٹیکسز بروقت ادا کریں۔ ریونیو کی ادائیگی نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ یہ علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور حکومتی منصوبوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بروقت ادائیگی سے نہ صرف قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ ضلع کی مجموعی ترقی میں بھی معاونت حاصل ہوتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3423/2026
زیارت، 27 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے ڈی سی آفس میں اسسٹنٹ کمشنر شیرشاہ غلزئی کو تحصیل سنجاوی میں پوست افیون کی کاشت کے خلاف موثر کارروائی کرنے اور سنجاوی کو پوست افیون کی کاشت سے زیرو ڈیکلئر کرنے پر تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ منشیات خصوصاً پوست افیون کی کاشت معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ایف سی مشترکہ طور پر بھرپور اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر شیرشاہ غلزئی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سنجاوی کو پوست افیون سے پاک قرار دینا ایک بڑی کامیابی ہے، جو دیگر علاقوں کے لیے بھی ایک مثال ہے۔تقریب میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید طلال شاہ، ایف سی کیپٹن حارث اور ایف سی کیپٹن شعبان انجنیئر صنم ،تحصیل وکیل پانیزئی بھی موجود تھے، جنہوں نے انسدادِ منشیات کے لیے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3424/2026
دکی 27اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت پوسٹ پولیو کمپین ریویو (NID- اپریل) کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی، ڈسٹرکٹ پولیو کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عبد اللہ جان، این اسٹاپ ڈاکٹر عبد الحمید، سی سی او سعید احمد ناصر، ایم اینڈ پی آفیسر ای پی آئی پیر محمد، آئی ایس ڈی کوآرڈینیٹر صدام حسین سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ پولیو مہم کے دوران پیش آنے والے مسائل اور چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ آئندہ مہم کو مزید موثر اور کامیاب بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور ایک جامع حکمت عملی مرتب کی گئی۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ٹیم ورک، مسلسل مانیٹرنگ اور فیلڈ میں موجود عملے کی کارکردگی کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے واضح کیا کہ آئندہ مہم میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کی گنجائش نہیں ہوگی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ سو فیصد کوریج کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور ہر یونین کونسل کی سطح پر موثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ پولیو کے خاتمے کی قومی کوششوں کو مزید تقویت مل سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3425/2026
تربت 27اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ، یاسر اقبال دشتی نے میونسپل کارپوریشن تربت کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں چیف آفیسر شعیب ناصر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ نے میئر تربت، بلخ شیر قاضی کی عدم موجودگی میں، چیف آفیسر شعیب ناصر کے توسط سے انہیں جشنِ بہاران کیچ فیسٹیول 2026 کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی۔ یہ تقریب بروز منگل، 28 اپریل کو منعقد ہوگی۔اس موقع پر میونسپل کارپوریشن تربت کے کونسلر ابابگر مری، سینیٹری انسپکٹر حبیب جالب اور معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر طارق بلوچ بھی موجود تھے۔بعد ازاں چیف آفیسر شعیب ناصر نے ڈپٹی کمشنر کو میونسپل کارپوریشن کے انتظامی امور اور جاری منصوبہ جات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3426/2026
ہرنائی27اپریل ۔ : ڈپٹی کمشنر ہرنائی میر ارشد حسین جمالی کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ نے عوامی شراکت داری کے ذریعے پائیدار ترقی کے نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔ بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے حوالے سے منعقدہ ایک پروقار کھلی کچہری میں عسکری و سول حکام نے براہِ راست عوام کے مسائل سنے، جس کا مقصد دستیاب وسائل کو ضائع کیے بغیر خالصتاً عوامی ترجیحات اور مقامی ضروریات کی بنیاد پر نئے ترقیاتی منصوبوں کی جامع تشکیل اور پائیدار عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔اس اہم بیٹھک میں ایف سی 81 ونگ کے کرنل ارباب خان، ایس پی پولیس انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین، سمیت تعلیمی، طبی اور فنی محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ کچہری کے دوران ہرنائی کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے شہریوں نے اپنے درپیش مسائل اور ترقیاتی ضروریات کے بارے میں کھل کر اظہارِ خیال کیا۔شہریوں نے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے سڑکوں کی مرمت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سیوریج کے ناقص نظام کی درستگی اور دور افتادہ علاقوں میں صحت و تعلیم کی سہولیات کو فعال بنانے کے حوالے سے ٹھوس تجاویز پیش کیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ترقی کا یہ عمل اب دفاتر کے بجائے زمین پر نظر آئے گا۔ انہوں نے پیغام دیا کہاجتماعی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے شہری اگلے دس روز کے اندر اپنی درخواستیں جمع کروائیں۔منصوبہ بندی کے عمل میں شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔صرف وہی منصوبے منظور ہوں گے جن کی نشاندہی خود عوام نے کی ہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مشاورت سے نہ صرف منصوبہ بندی موثر ہوتی ہے بلکہ حکومتی وسائل کا ضیاع بھی روکا جا سکتا ہے۔ہرنائی کے عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی مشاورت سے شروع ہونے والے یہ منصوبے علاقے میں خوشحالی کا سبب بنیں گے۔ کچہری کے اختتام پر متعلقہ افسران نے کئی شکایات پر فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے، جو اس بات کی عکاسی ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے فوری اور مستقل حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہ عزم بھی دہرایا گیا کہ مستقبل میں بھی عوامی فلاح و بہبود کے لیے اس طرح کی مشاورتی نشستیں باقاعدگی سے منعقد کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 3427/2026
کوئٹہ27اپریل:۔صوبائی وزیر کموڈیٹی منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن، کالجز و ٹیکنیکل ایجوکیشن صالح محمد بلوچ سے ملاقات کی، جس میں زیارت اور سنجاوی کے تعلیمی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے زیر تعمیر قائداعظم کیڈٹ کالج کے نئے بلاک کی تعمیر کے اعلان پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور اس منصوبے پر جلد از جلد کام شروع کیا جائے انہوں نے بتایا کہ طلبہ و طالبات کی سہولت کیلئے چار بسوں کی منظوری بھی دی جاچکی ہے اور آئندہ چند دنوں میں ان کی خریداری کا عمل مکمل ہونے کا امکان ہے انہوں نے زیارت اور سنجاوی کے بوائز و گرلز کالجز کے جاری تعمیراتی منصوبوں کیلئے نئی پی ایس ڈی پی میں فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے اور اس کی کابینہ سے باقاعدہ منظوری لیا جائے گا صوبائی وزیر نے زیر تعمیر پولی ٹیکنک کالج کے کام کی رفتار تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا صوبائی وزیر نے کالجز میں اسٹاف کی کمی فوری طور پر پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی عمل میں تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ طلبہ و طالبات کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
خبر نامہ نمبر 3428/2026
ضلع چمن 27اپریل:۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ر عبدالخالق اچکزئی کی چمن کے دور افتادہ علاقوں میں نئے تین تعمیر شدہ بی ایچ یوز کا افتتاح کیا اور نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن کا تفصیلی دورہ کیا آج سپیکر بلوچستان اسمبلی اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن اور دیگر اعلیٰ افسران نے چمن میں نئے تین تعمیر اور تکمیل شدہ بی ایچ یو کلی حاجی فتح محمد، بی ایچ یو، کلی حاجی اغاجان، بی ایچ یو کلی حاجی زین الدین کا باقاعدہ افتتاح کیا اس موقع پر ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی ڈی ایچ او چمن ڈاکٹر نوید بادینی ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر نوید بادینی اے سی چمن امتیاز علی بلوچ، پی پی ایچ آئی ضلعی سربراہ اکرم خان اچکزئی اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے اس موقع پر ڈی ایچ او چمن نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کو نئے تعمیر شدہ بی ایچ یوز کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ر عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت پورے بلوچستان اور خاص کر کویٹہ شہر سے زیادہ دور علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے پُرعزم اور سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہیں جسکی زندہ مثال ضلع چمن کے دور افتادہ علاقوں میں ایک ساتھ تین بی ایچ یوز کی قیام اور ڈاکٹروں اور پوری سٹاف کی تعیناتی اور ادویات اور ایمرجنسی آلات اور مشینری کی دستیابی ہے انہوں نے کہا کہ مریضوں کی علاج و معالجہ اور انھیں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی اور محکمہ صحت کی تمام ڈاکٹرز اور سٹاف کی حاضریاں اور وقت کی پابندی ہماری پہلی اور آخری ترجیحات میں سر فہرست ہیں اور عوام کو تمام بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ذمہداری بھی ہے جس کے حوالیسے ہم کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کا مظاہرہ نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ تینوں بی ایچ یوز میں 24 گھنٹے ایمرجنسی سہولیات اور سروسز فراہم کی جائیں گی اور ڈاکٹرز موجود ہوں گے بعد ازاں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انھوں نے ہسپتال کی مختلف شعبہ جات جس میں لیبارٹری آپریشن تھیٹر میڈیسن وارڈز شعبہ حادثات اور دیگر ضروری سہولیات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور مریضوں سے حال احوال پوچھا انہوں نے ڈاکٹروں اور سٹاف کی حاضریاں چیک کیں اور ہسپتال کی مجموعی صورتحال صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا جائزہ لیا اس موقع پر ڈی ایچ او چمن ڈاکٹر نوید بادینی اور ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر اویس نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن کو ہسپتال کے حوالیسے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی اور سیکرٹری صحت نے کہا کہ مریضوں کی علاج و معالجہ اور انھیں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور مریضوں کی جسمانی اور نفسیاتی سکون و اطمینان کیلئے ڈاکٹرز مریضوں سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں انہوں نے کہا کہ طب کے شعبے میں ڈاکٹروں اور سٹاف کی غفلت لاپرواہی غیر حاضری اور سستی سے مریضوں کی جان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں لہٰذا ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اور تمام سٹاف اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں اور وقت کی پابندی کریں تاکہ مریضوں کی بروقت علاج و معالجہ کو یقینی بنایا جائے بی ایچ یوز کے افتتاحی موقع پر علاقہ مکینوں نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انھیں سپیکر بلوچستان اسمبلی کی عوام دوستی قرار دیا عوام نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں یہ پیش رفت علاقے کی بہتری اور عوامی فلاح کیلئے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی عوامی حلقوں نے کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کے اس اقدام پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ضلع چمن کی ترقیاتی کاموں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
خبر نامہ نمبر 3429/2026
خضدار27اپریل:۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیر صدارت ضلعی صحت کمیٹی کا اہم اجلاس ڈی سی میٹنگ روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر میں صحت کی سہولیات، ہیلتھ کارڈ کے مسائل اور طبی عملے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پرنسپل جے ایم سی خضدار ڈاکٹر منیر احمد سمالانی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ex عبدالحمید، ضلعی مینیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر منیر احمد، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ مینیجر پی پی ایچ آئی ناصر احمد، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال خضدار ڈاکٹر سرمد خان، ایم ایس وڈھ ہسپتال اور ایم ایس سول ہسپتال زہری نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ صحت میں اصلاحات اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف ایجنڈوں پر تفصیلی بحث کی گئی۔ ہیلتھ کارڈ کے مسائل اور ضلع بھر کے ہسپتالوں و بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی غیر حاضری اجلاس کا مرکزی نکتہ رہا۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی غیر حاضری پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح ہدایت کی کہ صحت کی خدمات کی فراہمی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر خضدار نے متعلقہ افسران کو تاکید کی کہ ضلع کے تمام ہسپتالوں اور مراکز صحت میں حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف اپنے ڈیوٹی سٹیشن سے غیر حاضر پائے جائیں گے، ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے ڈی ایچ او اور ایم ایس صاحبان کو ہدایت کی کہ حاضری رپورٹ مرتب کر کے دفتر بھجوائی جائے اور ہیلتھ کارڈ سے متعلق عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور مفت طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور غفلت برتنے والے اہلکاروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔اجلاس کے آخر میں تمام شرکاء نے محکمہ صحت میں بہتری اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھرپور عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبر نامہ نمبر 3430/2026
موسیٰ خیل27اپریل:۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کا سردار عصمت اللہ پبلک لائبریری میں جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے (بی ایس ڈی آئی فیز II) کے زیرِ اہتمام پبلک لائبریری سردار عصمت اللہ میں جاری تعمیراتی و ترقیاتی کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ایس ڈی او سی اینڈ ڈبلیو (C&W) احمد سعید جعفر نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے پر ہونے والی پیشرفت اور کام کی تفصیلات کے حوالے سے بریفنگ دی معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور منصوبے کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ طلباء اور عوام جلد از جلد اس علمی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ کام کے معیار اور مٹیریل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ علاقے میں تعلیمی ڈھانچے کی بہتری اور نوجوانوں کو مطالعہ کے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر 3431/2026
گوادر27اپریل: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، جی ڈی اے ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر عفان فائق زادہ، پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ منیجر ڈاکٹر مرشد دشتی، عمانی گرانٹ ہسپتال کے ڈپٹی سی ای او ڈاکٹر حمید بلوچ، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر سوبان بلوچ، ایکسین کیسکو حسین بخش پیچو، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع بھر میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل، طبی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مؤثر حل کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ عوام کو بنیادی و معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے دوران غیر حاضر ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف سخت کارروائی پر اتفاق کیا گیا، جبکہ مسلسل غیر حاضری کے مرتکب اسٹاف کی تنخواہوں میں کٹوتی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پسنی میں تعینات فارماسسٹ کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اس میں فوری بہتری لانے کی ہدایت کی گئی۔ مزید برآں، ڈسٹرکٹ پاپولیشن آفیسر اور ڈرگ انسپکٹر کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ پابندی سے شرکت یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ضلع گوادر میں پولیو وائرس کے حالیہ سیمپلنگ ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ سی ای او جی ڈی اے ہسپتال نے بتایا کہ شعبہ اطفال (پیڈز) کی توسیع کا منصوبہ زیر غور ہے، جس کے لیے انکیوبیٹرز اور بیبی وارمرز سمیت اضافی طبی آلات درکار ہیں۔ اس ضمن میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں دستیاب اضافی آلات کو باہمی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت جی ڈی اے ہسپتال کو فراہم کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ عمانی گرانٹ ہسپتال میں ادویات اور ماہر ڈاکٹروں کی کمی کو کافی حد تک پورا کر دیا گیا ہے۔ پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ منیجر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع کے تمام بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) فعال ہیں اور وہاں ڈاکٹروں و ادویات کی دستیابی یقینی ہے، جبکہ تمام ورٹیکل ہیلتھ پروگرامز بھی کامیابی سے جاری ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطہ مضبوط بنائیں اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3432
موسیٰ خیل27اپریل:ـانڈس ہسپتال نے گاوی (Gavi) اور فیڈرل ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کے اشتراک سے ڈپٹی کمشنر کانفرنس ہال موسیٰ خیل میں ایک روزہ ایڈوکیسی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک تھے تقریب کے دوران انڈس ہسپتال کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر مجیب الرحمٰن نے شرکاء کو صحت کے منصوبوں اور عوامی آگاہی کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ عوامی صحت کی سہولیات میں بہتری اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انڈس ہسپتال اور گاوی (Gavi) جیسے اداروں کا تعاون ضلع میں صحت کے معیار کو بلند کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انتظامیہ ایسے تمام فلاحی منصوبوں کی مکمل سرپرستی کرے گی جو براہِ راست عوام کو فائدہ پہنچائیں انہوں نے مزید کہا کہ دور دراز علاقوں تک صحت کی بنیادی سہولیات اور حفاظتی ٹیکہ جات کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا تقریب میں اسسٹنٹ منیجر انڈس ہسپتال اسلام آباد ، محکمہ صحت کے افسران، معززین علاقہ ، میڈیا نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔








