خبرنامہ نمبر3311/2026
کوئٹہ، 23 اپریل ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں معاشرتی سطح پر بڑھتے ہوئے تشدد اور انتہا پسندانہ رجحانات کے موثر تدارک کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے بلوچستان کے پہلے ریسرچ سینٹر، بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس آن کاونٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کا باقاعدہ افتتاح کردیا افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر داخلہ میرضیاءلانگو ، اراکین اسمبلی اعلیٰ سرکاری حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی جہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات نے سینٹر کے اغراض و مقاصد، تحقیقی دائرہ کار اور آئندہ کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ سینٹر تحقیق کے ذریعے نوجوانوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرے گا اور ان کے حل کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرے گا انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ پرتشدد سوچ اور انتہا پسندانہ بیانیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس اہم اقدام کو عملی جامہ پہنانے پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات اور متعلقہ انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سینٹر کے افتتاح کے بعد نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوئٹہ کیمپس کے ایڈمن بلاک پہنچے جہاں انہوں نے پودا لگایا اور ایک اجلاس کی صدارت کی اس دورے کے موقع پر جامعہ کے طلبہ سے یوتھ ڈائیلاگ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ پاکستان کے ایک معیاری تعلیمی ادارے میں مستقبل کے معماروں سے مخاطب ہیں انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو تصور اور حقائق میں فرق سمجھنے کے لیے عملی تحقیق کو اپنانا ہوگا انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت پورا معاشرہ پروپیگنڈا بیانیوں کے چیلنجز سے دوچار ہے اور ریاست پاکستان کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈے میں وہ عناصر ملوث ہیں جنہوں نے ابتدا ہی سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حقائق کی نسبت تصورات زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں جس کے باعث بلوچستان سے متعلق حقیقت اور تاثر میں واضح فرق پیدا ہو جاتا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں بلوچستان کی ایک خوبصورت اور مثبت کہانی موجود ہے تاہم چند عناصر نے ان تاریخی حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بلوچستان سے متعلق حقائق اور ریاستی بیانیے پر ہر سطح پر مکالمے کے لیے تیار ہیں انہوں نے اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پر 17 مہلک حملے ہوچکے ہیں تاہم وہ ریاست کے دفاع کے لیے مزید سترہ سو حملوں کے لئے تیار ہیں انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلا جھجھک سوال کریں اور ہر سوال کا جواب دلیل اور حقائق کی بنیاد پر دیا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ میرٹوکریسی اور مسلسل مکالمے کے ذریعے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان موجود خلیج کو ختم کیا جا سکتا ہے اس موقع پر انہوں نے طلبہ و طالبات کے ساتھ چارھ گھنٹوں سے زائد طویل نشست میں بھرپور مکالمہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر بچے اور ہر بیٹی کے سوال کا جواب دیے بغیر نہیں جائیں گے مکالمے کے دوران کھل کر سوالات کی حوصلہ افزائی کے لیے کیمرے بند کروائے گئے جبکہ وزیر اعلیٰ نے اپنے ذاتی عملے کو بھی دیگر مصروفیات کی یاد دہانی سے روک دیا تاکہ وہ مکمل توجہ کے ساتھ نوجوانوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھ سکیں یوتھ ڈائیلاگ کے اس سیشن میں طلباءنے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے تاریخی، سماجی ، سیاسی ، انتظامی امور ، حکومتی اقدامات سمیت مختلف تلخ و شیریں سوالات کئے جن کا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صبر و تحمل اور دلیل سے مفصل جواب دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3312/2026
کوئٹہ 23 اپریل ۔صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے ڈائریکٹر جنرل نادرا بلوچستان نوید جان سے اہم ملاقات کی، جس میں ضلع زیارت کے علاقے سنجاوی کو درپیش عوامی مسائل، خصوصاً بلاک شدہ شناختی کارڈز کے دیرینہ مسئلے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے سنجاوی کے عوام کو نادرا سے متعلق درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈز کی بلاکنگ نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، جس کے فوری اور پائیدار حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ہر ماہ سنجاوی کا دورہ کرے اور موقع پر ہی عوامی شکایات کا ازالہ یقینی بنائے حاجی نور محمد دمڑ نے مزید بتایا کہ سنجاوی نادرا سینٹر میں سہولیات کی بہتری کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جن کے تحت نئے میل اور فی میل اسٹاف کی منظوری دے دی گئی ہے تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سینٹر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سولر سسٹم اور جنریٹر کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، جو علاقے کے عوام کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہوگا اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نادرا بلوچستان نوید جان نے سنجاوی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے ساتھ ون ونڈو سروس کی بھی باقاعدہ منظوری دی، تاکہ عوام کو ایک ہی جگہ پر تمام سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نادرا عوام کو جدید، موثر اور معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور دور دراز علاقوں میں خدمات کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سنجاوی سمیت پسماندہ علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا مستقل اور دیرپا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3313/2026
کوئٹہ24 اپریل۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا ہے کہ رکھنی تا بیکڑ روڈ کی تعمیر سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا انہوں نے یہ بات رکھنی بیکڑ روڈ منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی اجلاس میں چیف انجینئر سبی زون زبیر احمد کھوسہ چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ، ایس ای نصیر آباد سرکل محمد اکرم خواجہ خیل ایگزیکٹو انجینئر روڈز ڈیرہ بگٹی شمس الحق کنسلٹنٹس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران ایگزیکٹو انجینئر شمس الحق نے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور محکمہ اس منصوبے کو مقررہ مدت سے پہلے مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے مزید کہا کہ فنڈز سے متعلق بعض تکنیکی مسائل درپیش ہیں تاہم انہیں جلد حل کرکے کام کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منصوبے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ رکھنی کو ڈویڑنل ہیڈکوارٹر کا درجہ حاصل ہونے کے بعد بیکڑ اور اپر ڈیرہ بگٹی سے اس شاہراہ پر ٹریفک میں نمایاں اضافہ متوقع ہے لہٰذا سڑک کی بروقت اور معیاری تکمیل نہایت ضروری ہےانہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام تکنیکی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ منصوبے کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو ان کا کہنا تھا کہ یہ شاہراہ نہ صرف علاقائی رابطوں کو بہتر بنائے گی بلکہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی سہولت میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3314/2026
استامحمد23اپریل ۔ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی نے شعبہ تعلیم کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر سکولوں کی تعمیر و مرمت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے ضرار خان جمالی کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس میں اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن عبدالکریم مستوئی، سب انجینئر کنسٹرکشن اینڈ ورکس عبدالباسط بوھڑ، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نیک محمد اور دیگر متعلقہ افسران شامل ہیں مذکورہ ٹیم نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اللہ ڈنہ میں زیرِ تعمیر اضافی کمروں اور جاری مرمتی کاموں کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں تعمیراتی معیار اور رفتار کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اللہ ڈنہ، رند ظفر اللہ خان چھلگری نے سکول کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو طویل عرصے سے اضافی کمروں کی شدید کمی اور عمارت کی خستہ حالی جیسے مسائل کا سامنا تھا انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر کی ذاتی دلچسپی اور خصوصی کاوشوں کے باعث اب سکول میں تعمیر و مرمت کا کام شروع ہو چکا ہے، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہےانہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف تعلیمی ماحول بہتر ہوگا بلکہ طلبہ کو بھی سازگار اور محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گےافسران نے موقع پر موجود عملے کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کو معیار کے مطابق اور مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ طلبہ کو جلد از جلد بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3316/2026
کوئٹہ23اپریل ۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیے کے مطابق گورنمنٹ کنٹریکٹر MS الرحمان شاہوانی کنسٹرکشن کمپنی پر ایک سال کی پابندی لگاتے ہوئے انہیں کسی بھی سرکاری ٹھیکے یا خریداری میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ پابندی فرم پر بوائز ڈگری کالج کلی ورایا رودھ ملازئی ضلع پشین کے منصوبے میں غفلت اور منصوبے کی عدم تکمیل کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3315/2026
لورالائی23اپریل ۔ ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے سیول ہسپتال لورالائی کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے لونی کے علاقے تلاو میں فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے اے ٹی ایف (انسداد دہشتگردی فورس) کے اہلکار کی عیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے زخمی اہلکار کی خیریت دریافت کی اور ڈاکٹروں سے اس کے علاج معالجے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ایس ایس پی ڈاکٹر فہد احمد نے کہا کہ زخمی اہلکار کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس کے علاج میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس اپنے جوانوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیتی ہے اور زخمی اہلکار کی مکمل دیکھ بھال یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے زخمی اہلکار کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے بہادر جوان عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3317/2026
پشین23اپریل ۔ محکمہ ایکسائز اور ضلعی انتظامیہ پشین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ ایک موثر اور کامیاب کارروائی کے دوران غیر قانونی پوست کی کاشت کے خلاف بڑا آپریشن کیا، جس میں تقریباً 10 ایکڑ اراضی پر پھیلی فصل کو تلف کر دیا گیا۔یہ کارروائی تحصیل پشین کے علاقے کلی کمالزئی میں اسسٹنٹ کمشنر پشین کی نگرانی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔ آپریشن میں پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس اے این ایف ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اہلکاروں نے سر انجام دیا حکام کے مطابق کارروائی کے دوران تقریباً 10 ایکڑ پر کاشت کی گئی پوست کی فصل کو مکمل طور پر تلف کر دیا گیا، جس کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منشیات کے خاتمے اور غیر قانونی کاشت کی روک تھام کے لیے اس قسم کی کارروائیاں مستقبل میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی، جبکہ زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3318/2026
لورالائی: 3 2اپریل کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ اور ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نورعلی کاکڑ نے اسسٹنٹ کمشنر (یو، ٹی) محمد اسحاق ناصر کے ہمراہ بیوٹمز یونیورسٹی لورالائی میں فٹسال گراونڈ کے لیے موزوں جگہ کا معائنہ کیا۔اس موقع پر پرنسپل بیوٹمز یونیورسٹی لورالائی عزیز اللہ اور سٹاف بھی موجود تھے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نور علی کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا اور ضلع لورالائی میں کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور کھیلوں کے میدان میں سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3319/2026
نصیرآباد23اپریل ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار شریک ہوئے جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین، ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز کھتران اور ڈپٹی کمشنر جھل مگسی رحمت اللہ شاہ نے شرکت کی اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے اضلاع میں سرکاری واجبات کی وصولی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور اہداف کے حصول کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکام بالا کی جانب سے سرکاری وصولیوں کے جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں انہیں ہر صورت میں یقینی بنایا جائے اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں عملہ مال کو روزانہ کی بنیاد پر سخت احکامات جاری کریں اور وصولیوں کے عمل کی مسلسل نگرانی کریں انہوں نے کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی میں عملہ مال کی سست روی ناقابل قبول ہے اور جن اضلاع میں اس حوالے سے غفلت پائی جا رہی ہے وہاں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے مزید برآں نادہندہ زمینداروں کو فوری نوٹسز جاری کیے جائیں تاکہ سرکاری واجبات کی بروقت وصولی کو یقینی بنایا جا سکے کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی ٹی اور عشر و آبیانہ کی وصولی کو ہر صورت ممکن بنایا جائے اور اس ضمن میں بہتر کارکردگی دکھانے والے عملہ مال اور افسران کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے تاکہ ان کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے اجلاس کے اختتام پر کمشنر نے تمام اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں وصولیوں کے اہداف کے حصول سے متعلق نمایاں بہتری نظر آنی چاہیے اور اس سلسلے میں کسی نرمی ہرگز نہ رکھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3320/2026
نصیرآباد: 23اپریل ۔ سپرنٹنڈنگ انجینیئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویڑن مدثر ظفر کھوسہ نے سیاسی و قبائلی رہنماوں میر سرفراز خان کھوسہ اور میر صفی اللہ کھوسہ کے ہمراہ ایریگیشن ریسٹ ہاوس ڈیرہ مراد جمالی کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے جاری تزئین و آرائش کے کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ریسٹ ہاوس میں ہونے والی بہتری اور ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی کی خصوصی دلچسپی اور کاوشوں کے باعث ایک طویل عرصے سے ویرانی کا شکار رہنے والا یہ ریسٹ ہاوس دوبارہ فعال اور خوبصورت شکل اختیار کر رہا ہے جو محکمہ ایریگیشن کی کارکردگی میں بہتری کی علامت ہے۔ سپرنٹنڈنگ انجینیئر مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی کی قیادت میں محکمہ ایریگیشن میں نمایاں اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں جن کا مقصد نہ صرف ادارے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے بلکہ کاشتکاروں کو درپیش دیرینہ مسائل کا حل بھی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم، نہری نظام کی بہتری اور غیر قانونی پانی چوری کی روک تھام کے لیے بھی موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر موجود قبائلی و سیاسی رہنماوں نے بھی صوبائی وزیر ایریگیشن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات سے علاقے میں زرعی ترقی کو فروغ ملے گا اور کسانوں کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ دورے کے دوران ریسٹ ہاوس کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ تعمیر و مرمت کے کام کو مقررہ معیار اور وقت کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3321/2026
لورالائی23 اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت بلوچستان سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت ضلعی رابطہ کمیٹی (DCC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایکسین روڈز، بلڈنگز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے منصوبوں پر جاری کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بعض اسکیموں میں تاخیر اور فنی نقائص پر تشویش کا بھی اظہار کیا۔انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر معیاری سائن بورڈز کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے، جن پر منصوبے کی لاگت، آغاز اور متوقع تکمیل کی تاریخ نمایاں طور پر درج ہو تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔ مزید برآں، لیبر کی موثر تعیناتی اور کام کی رفتار تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ تمام جاری منصوبے 15 مئی سے قبل مکمل کیے جائیں۔اجلاس کے دوران مختلف شعبہ جات کی جانب سے جاری اہم منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ محکمہ روڈز کی جانب سے بتایا گیا کہ ضلع میں کئی اہم سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جن میں شہری و دیہی رابطہ سڑکیں شامل ہیں، جو مکمل ہونے کے بعد آمدورفت میں نمایاں بہتری لائیں گی۔محکمہ بلڈنگز نے سرکاری عمارات، بالخصوص تعلیمی اداروں اور صحت مراکز کی اپ گریڈیشن پر پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ پی ایچ ای حکام نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر جاری کام کی تفصیلات پیش کیں، جن کا مقصد پانی کی قلت پر قابو پانا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کو سختی سے آگاہ کیا کہ مقررہ پالیسی اور طے شدہ ٹائم لائن کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی ایگزیکیوٹنگ ایجنسی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں معیار اور رفتار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر ترقیاتی منصوبوں میں پائی جانے والی خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ ان کی تفصیلات علیحدہ منٹس کے ذریعے متعلقہ اداروں کو فراہم کی جائیں تاکہ فوری اصلاحی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3322/2026
بارکھان:23اپریل ۔ ضلعی انتظامیہ کی مدرسوں کے خلاف کارروائی، ایک ادارہ سیل بارکھان میں ضلعی انتظامیہ نے مدرسوں کی رجسٹریشن اور سکیورٹی امور کی جانچ کے سلسلے میں اچانک معائنہ کیا۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی، جس میں تحصیلدار بارکھان فاضل خان کھیتران اور تحصیلدار رکھنی غلام قادر قیصرانی نے ایس ایچ او پولیس اسٹیشن رکھنی کے ہمراہ حصہ لیا۔کارروائی کے دوران مختلف مدرسوں کے رجسٹریشن ریکارڈ، سکیورٹی انتظامات اور دیگر متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مجموعی طور پر چار مدرسوں کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے تین ادارے قواعد و ضوابط کے مطابق پائے گئے اور انہوں نے مکمل دستاویزات پیش کیں۔تاہم ایک مدرسہ مطلوبہ قانونی دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہا، جس پر ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ ادارے کو سیل کر دیا۔ ذمہ داران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد قانونی تقاضے پورے کریں، بصورت دیگر مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر تحصیلدار رکھنی غلام قادر قیصرانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق تمام تعلیمی و مذہبی اداروں کی رجسٹریشن اور کوائف کی چھان بین کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاکہ قانون کی بالادستی برقرار رہے اور کسی بھی بے ضابطگی کی روک تھام ممکن ہو۔ضلعی انتظامیہ بارکھان کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور کسی بھی ادارے کو بغیر مکمل دستاویزات کے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3323/2026
شیرانی: 23اپریل ۔ضلع شیرانی کے علاقے مانی خواہ میں ایف سی 67 ونگ کے قلعہ میں ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت بریگیڈیئر اظہر، ونگ کمانڈنٹ عرفان اور ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ نے مشترکہ طور پر کی۔کھلی کچہری میں ضلع کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے معتبرین، قبائلی عمائدین، عوامی نمائندوں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران نے بھرپور شرکت کی۔ ان محکموں میں ایجوکیشن، زراعت، واٹر مینجمنٹ، ایم ایم ڈی، سوشل ویلفیئر، پی پی ایچ آئی، لائیو اسٹاک اور پبلک ہیلتھ شامل تھے۔ اس موقع پر عوام کو اپنے مسائل براہِ راست اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔اجلاس کے دوران شرکاءنے کھل کر اپنے مسائل بیان کیے، جن میں بجلی اور تعلیم کے شعبے کو سرفہرست قرار دیا گیا۔ عوام نے بجلی کی عدم دستیابی، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کمزور انفراسٹرکچر پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسی طرح تعلیمی میدان میں اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی عدم تعیناتی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل بھی اجاگر کیے گئے۔صدرِ اجلاس نے عوامی مسائل کو بغور سنا اور موقع پر موجود متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ ان مسائل کے حل کے لیے فوری اور مو¿ثر اقدامات کیے جائیں۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔کھلی کچہری کے اختتام پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی رابطے کے ایسے پروگرامز کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کے مسائل بروقت حل ہوں اور حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3324/2026
لورالائی23اپریل ۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات بلوچستان کیپٹن (ر) عبدالسعید نوید نے ڈی آئی جی ایسٹ لورالائی عبداللہ خان کاکڑ اور دیگر اعلیٰ افسران کے ہمراہ سینٹرل جیل لورالائی اور ڈسٹرکٹ جیل لورالائی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیکیورٹی اور انتظامی امور کا جامع جائزہ لیا۔سینٹرل جیل لورالائی پہنچنے پر سپرنٹنڈنٹ سکندر خان شبوزئی نے آئی جی کا استقبال کیا اور جیل کے انتظامی و سیکیورٹی معاملات پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر آئی جی جیل خانہ جات نے جیل کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے سیکیورٹی انتظامات، صفائی ستھرائی، قیدیوں کی رہائش، خوراک اور طبی سہولیات کا بغور جائزہ لیا۔آئی جی نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جیل کے اندر منشیات اور موبائل فون کے استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری انکوائری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے قیدیوں کے حقوق اور فلاح و بہبود پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بہتر رہائش، معیاری خوراک، صفائی، تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ آئی جی نے قیدیوں سے ملاقات بھی کی، ان کے مسائل سنے اور متعلقہ حکام کو فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قیدیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی، عزت اور قانون کے مطابق سلوک کیا جائے اور ان کی اصلاح و بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے۔دورے کے دوران آئی جی نے جیل عملے سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کریں اور جیل کے نظم و ضبط کو برقرار رکھیں۔بعد ازاں آئی جی جیل خانہ جات نے ڈسٹرکٹ جیل لورالائی کا دورہ کیا، جہاں سپرنٹنڈنٹ سکندر خان کاکڑ نے انہیں بریفنگ دی۔ آئی جی نے جیل کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی، خصوصاً منشیات اور موبائل فون کے استعمال کی سختی سے روک تھام کی جائے اور قیدیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3326/2026
کوئٹہ23اپریل۔ :وزیرداخلہ بلوچستان و چیئرمین کمیٹی میر ضیائاللہ لانگو کی زیر صدارت کاریزات کو ضلع کا درجہ دینے سے متعلق حکومتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، رکن بلوچستان اسمبلی زمرک خان اچکزئی نے ویڈیو لنک کے ذریعے آن لائن شرکت کی جبکہ پارلیمانی سیکرٹری اسفند یار کاکڑ، چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اصغر ترین، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ اور ڈپٹی کمشنر پشین سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے اجلاس میں کاریزات کو ضلع بنانے کے حوالے سے حلقے کے منتخب نمائندوں سے حاصل کردہ تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اسکے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل شرکاء کمیٹی اراکین کی سفارشات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر وزیرداخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی تمام تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ایک جامع سفارشات مرتب کرےگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3327/2026
کوئٹہ23 اپریل ۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو کی زیر صدارت بلوچستان چیئرٹیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن اتھارٹی (بی سی آر اے) کا اہم اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا اجلاس میں ڈی جی بی سی آر اے قسیم کاکڑ اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بشیر بڑیچ نے اتھارٹی کی کارکردگی، رجسٹریشن کے عمل اور موجودہ چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر داخلہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بی سی آر اے کو محکمہ داخلہ کے تحت مزید فعال، موثر اور منظم بنایا جائے تاکہ فلاحی تنظیموں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے عمل کو شفاف اور بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3328/2026
زیارت 23اپریل ۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے یونین کونسل منہ کی معذور بچی کو ڈی سی آفس میں وہیل چیئر فراہم کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ معذور افراد ہماری معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت معذور افراد کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ بھی معاشرے میں باعزت اور خودمختار زندگی گزار سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی افراد کی مدد صرف حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔ ضلعی انتظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مستحق اور خصوصی افراد کو بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس موقع پر بچی کے اہل خانہ نے ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کیا اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3329/2026
تربت 23اپریل ۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اے ڈی سی تابش بلوچ اور فیسٹیول کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیچ اسپرنگ اسپورٹس فیسٹیول 2026 کے انعقاد کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیسٹیول 28 اپریل سے 2 مئی تک جاری رہے گا، جبکہ افتتاحی تقریب 28 اپریل کو میر عیسیٰ قومی پارک تربت میں منعقد ہوگی۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس میگا ایونٹ کا انعقاد ضلعی انتظامیہ کیچ، محکمہ تعلیم، انجمن تاجران، سول سوسائٹی، عوام اور سیاسی جماعتوں کے باہمی تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ فیسٹیول کا مقصد ضلع کیچ کی قدرتی خوبصورتی، ثقافت اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیسٹیول کے دوران مختلف انڈور اور آوٹ ڈور کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ روایتی ثقافتی کھیل بھی منعقد کیے جائیں گے، جن میں نوجوانوں اور طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف مثبت اور خوشگوار ماحول پیدا کرتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور مقامی کھیلوں کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یاسر اقبال دشتی نے مزید بتایا کہ افتتاحی تقریب میں شہر کی معروف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کے علاوہ آل پارٹیز کیچ، انجمن تاجران اور محکمہ تعلیم کے نمائندگان بھی شرکت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جشنِ بہاراں کا بنیادی مقصد عوام میں صحت، صفائی، ماحول دوستی اور مثبت طرزِ زندگی کے رجحان کو فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں شجرکاری مہم، کھیلوں کے مقابلے، واکس، بک اسٹالز، فوڈ اسٹالز اور دیگر تفریحی و فیملی سرگرمیوں کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو صحت مند تفریح کے مواقع میسر آ سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے شہریوں، نوجوانوں اور طلبہ و طالبات سے اپیل کی کہ وہ فیسٹیول میں بھرپور شرکت کریں اور شجرکاری مہم میں حصہ لے کر اپنے ماحول کو سرسبز بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ اس ایونٹ کے ذریعے کیچ کو ایک پرامن، صحت مند اور متحرک معاشرے کے طور پر اجاگر کرے گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت، ڈاکٹر اصغر، کنوینر کیچ سول سوسائٹی التاز سخی، ٹھیکیدار ظریف رند، اسپورٹس آفیسر کیچ غفار دشتی، اے ڈی ای او ممتاز لال، کیپٹن باسط، کیپٹن رحیم بخش، پی ایس شیرجان سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3330/2026
تربت 23اپریل ۔ جامعہ بلوچستان اور محکمہ لائیو اسٹاک حکومت بلوچستان کے درمیان مویشیوں کے لیے ویکسین کی پیداوار اور فراہمی میں اضافہ کرنے کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سنڈیکیٹ ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی تھے۔ صوبائی وزیر سردارزادہ فیصل خان جمالی نے جامعہ بلوچستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اشتراک صوبے میں لائیو اسٹاک کی بہتری، کسانوں کی معاشی حالت میں بہتری اور خوراک کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔.اجلاس کے دوران دونوں اداروں کے مابین مفاہمتی یادداشت MOU پرسیکریٹری لائیو اسٹاک ڈاکٹر محمد داود بازئی اور وائس چانسلر جامعہ بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے دستخط کیے، جبکہ باہمی تعاون کو فروغ دینے سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں جامعہ تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن سیکریٹری لائیو اسٹاک ڈاکٹر محمد داود بازئی، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک محمد فاروق ترین، ڈائریکٹر پلاننگ محمد بخش بگٹی، ڈویڑنل ڈائریکٹر کوئٹہ راشد احمد مگسی سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر کلیم مندوخیل نے ویکسین کی تیاری، معیار اور سپلائی میکانزم سے متعلق مفصل پریزنٹیشن پیش کی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ بلوچستان جدید سائنسی تحقیق اور عملی اقدامات کے ذریعے صوبے کی سماجی و معاشی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اشتراک کے تحت جامعہ بلوچستان سالانہ تقریباً 100 ملین ویکسینز تیار کر کے محکمہ لائیو اسٹاک کو فراہم کرے گی، جس سے مویشیوں کی بیماریوں پر قابو پانے اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غلام رزاق شاہوانی،ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب کاکڑ. ڈائریکٹر کیسواب ڈاکٹر زاہد مصطفیٰ، ڈاکٹر وحید نور، ڈاکٹر مزمل بخاری اور دیگر فیکلٹی اراکین بھی موجود تھے۔اجلاس کے اختتام پر وائس چانسلر نے مہمانِ خصوصی اور دیگر معزز شرکائ کا شکریہ ادا کیا اور یادگاری شیلڈز پیش کیں۔ اس موقع پر دونوں اداروں کے درمیان مستقبل میں تحقیق، تربیت اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3331/2026
ڈیرہ مراد جمالی 23اپریل ۔ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور فوجداری تفتیش کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این او ڈی سی (UNODC) کے زیر نگرانی تین روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد سرکٹ ہاوس ڈیرہ مراد جمالی میں کیا گیا۔ تربیتی سیشن میں نصیر آباد رینج سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران اور کانسٹیبلان نے بھرپور شرکت کی جہاں انہیں فرانزک شواہد کو محفوظ بنانے، اکٹھا کرنے اور موثر انداز میں استعمال کرنے کے جدید طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر ماہر ٹرینرز نے شرکاءکو عملی اور نظریاتی تربیت فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جدید تقاضوں کے مطابق تفتیشی عمل میں فرانزک شواہد کی اہمیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے جس کے ذریعے نہ صرف ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانا ممکن ہوتا ہے بلکہ بے گناہوں کو بھی انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد پولیس افسران کی تفتیشی مہارتوں کو نکھارنا، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور کیسز کو سائنسی بنیادوں پر حل کرنے کی استعداد پیدا کرنا تھا۔ تربیت کے دوران کرائم سین مینجمنٹ، شواہد کی درست ہینڈلنگ، چین آف کسٹڈی اور جدید فرانزک تکنیکوں پر خصوصی لیکچرز دیے گئے جس سے شرکائنے بھرپور استفادہ حاصل کیا۔ پروگرام کے اختتام پر ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر اور یو این او ڈی سی کے پروگرام منیجر محمد افضل شیخ نے تربیت میں شریک تمام افسران اور اہلکاروں میں تعریفی اسناد تقسیم کیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے تربیتی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ پولیس فورس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ تقریب کے اختتام پر تمام افسران و اہلکاروں نے مشترکہ گروپ فوٹو بھی بنوائی اور اس امید کا اظہار کیا کہ اس تربیت کے مثبت اثرات جرائم کی تفتیش میں واضح طور پر نظر آئیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3332/2026
بارکھان/رکھنی23اپریل ۔.کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن، مجیب الرحمٰن قمبرانی سے پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج بارکھان نور اللہ اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج کوہلو زین العابدین نے کمشنر آفس رکھنی میں ملاقات کی ملاقات کے دوران دونوں تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پرنسپلز نے کمشنر کو کالجز میں سٹاف کی کمی، اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کے مسائل، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، بنیادی سہولیات کی کمی اور دیگر انتظامی امور سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، طلبہ کی حاضری بڑھانے اور اداروں کی مجموعی کارکردگی میں بہتری لانے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔کمشنر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے پرنسپلز کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کو بغور سنا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں تعلیمی نظام کی بہتری اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کالجز کو درکار سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے اور طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 3333/2026
گوادر، 23 اپریل .بلوچستان میں امن، استحکام اور ہمہ جہت ترقی کے فروغ کے لیے منعقدہ گوادر گرینڈ جرگہ میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کور کمانڈر کوئٹہ اور جی او سی گوادر نے شرکت کی۔ جرگہ میں قبائلی عمائدین، منتخب نمائندگان، ضلعی انتظامیہ، سیکیورٹی اداروں، تاجر برادری، ماہی گیر نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جہاں بلوچستان کی مجموعی صورتحال، خصوصاً مکران ڈویژن اور گوادر کی ترقی سے متعلق اہم نکات زیر بحث آئے۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا دارومدار عوامی شمولیت، قبائلی ہم آہنگی اور حکومتی اقدامات کے تسلسل پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر جیسے علاقوں میں ترقی کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچانے کے لیے تمام ادارے متحرک ہیں جبکہ خواتین، نوجوانوں اور ماہی گیر برادری کو معاشی طور پر مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جرگہ کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے ہر ضلع میں ترقیاتی عمل کو تیز کر رہی ہے اور گوادر کو خصوصی حیثیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا، جس سے انہیں دور رکھنے کے لیے تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ نے گوادر پورٹ کی کامیابی کے لیے سیکیورٹی فورسز اور عوام کے باہمی تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبے، جن میں سڑکوں کی تعمیر، پانی کی فراہمی، تعلیم اور صحت کے منصوبے شامل ہیں، عوامی فلاح کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں امن کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر اور مکران ڈویژن کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ترجیحات میں شامل ہے تاکہ سی پیک اور دیگر منصوبے بلا رکاوٹ جاری رہ سکیں۔ انہوں نے عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو دیرپا امن کی بنیاد قرار دیا۔ جرگہ میں گوادر کے مختلف ترقیاتی پہلوؤں پر تفصیل سے گفتگو کی گئی اور اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ گوادر کو سیاحتی مرکز کے طور پر مزید فروغ دیا جائے۔ قبائلی تنازعات کے حل کے حوالے سے شرکاء نے جرگہ سسٹم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ مقامی سطح پر مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے تاکہ امن، بھائی چارے اور استحکام کو فروغ ملے۔ گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے جرگہ کے شرکاء کے تمام سوالات کو غور سے سنا، ان کے تسلی بخش جوابات دیے اور تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ آخر میں گوادر گرینڈ جرگہ کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومت، سیکیورٹی اداروں اور عوام کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور گوادر کو ایک پرامن، ترقی یافتہ اور عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان اور کور کمانڈر کوئٹہ نے گزشتہ سال 11 مئی 2025 کو گوادر میں دہشتگردی کے بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل محمد خماری بلوچ شہید کی یادگار کا افتتاح بھی کیا۔
…
خبرنامہ نمبر 3334/2026
کوئٹہ 23 اپریل۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پرائس کنٹرول قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 146 دکانوں اور مارکیٹوں کا معائنہ کیا۔ خلاف ورزیوں پر 34 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے17 افراد کو جیل منتقل کر دیا گیا، جبکہ15 دکانیں سیل کر دی گئیں۔ کارروائی کے دوران سب ڈویژن سٹی میں 58 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 12 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 5 دکانیں سیل کی گئیں۔ جبکہ سب ڈویژن صدر میں 46 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 10 افراد کو گرفتار جبکہ 4 دکانیں سیل کی گئیں۔ سب ڈویژن سریاب میں 42 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 12 افراد کو گرفتار جبکہ 6 دکانیں سیل کی گئیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق پرائس کنٹرول قوانین پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ گرانفروشی، ناجائز منافع خوری یا دیگر خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد کے تحفظ اور سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد تک مہم بلا تعطل جاری رہے گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3335/2026
زیارت، 23 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ واٹر بورڈ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ایس ڈی او ایریگیشن اعجازالدین، لائن سپرنٹنڈنٹ کیسکو اسرار احمد، سب انجینئر ایریگیشن غیاث محمد اور چیئرمین زمیندار ایکشن کمیٹی عبدالغفار نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعلقہ افسران نے ڈسٹرکٹ واٹر بورڈ کے امور پر بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے ہدایت کی کہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور تمام امور میرٹ پر نمٹائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیوب ویل/رِگ بور کی تنصیب کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (NOC) اس وقت تک جاری نہیں کیا جائے گا جب تک محکمہ ایریگیشن اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ٹیکنیکل رپورٹس موصول نہ ہوں۔
اجلاس میں زمینداران کے حق میں این او سی کے حوالے سے ریونیو اسٹاف کی رپورٹس منظور کر لی گئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی ایک قیمتی نعمت ہے اور زمینداروں کو باغات کی آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عوام کو پانی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3336/2026
کوئٹہ۔ 23 اپریل۔
عدالت عالیہ بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق
پروموشن کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں چیف جسٹس ہائی کورٹ بلوچستان نے درج ذیل پرائیویٹ سیکرٹریز (BPS-18) (ٹائم اسکیل BPS-19) کو ڈپٹی رجسٹرار (BPS-19) کے عہدوں پر ترقی دینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ترقیاں میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ 9 ترقی یافتہ ڈپٹی رجسٹرارز (BPS-19)
کے نام درج ذیل ہیں:
اسد اللہ خان — کی ترقی کا اطلاق 01.01.2025 سے ہو گا جبکہ محمد اسلم، عبدالناصر، زاہد حسین، گل شاہ خان بابر،
محمد زبیر، عصمت اللہ
محمد آصف،سید ذوالفقار علی شاہ کی ترقی کا اطلاق 30.08.2025 سے ہوگا۔ مزید برآں، مذکورہ بالا ترقی یافتہ ڈپٹی رجسٹرارز (BPS-19) ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ (اپائنٹمنٹ اینڈ کنڈیشنز آف سروس) رولز 2020 کے تحت ایک سال کی مدت کے لیے پروبیشن پر رہیں گے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر3337/2026
سبی 23 اپریل۔کمانڈنٹ سبی سکاؤٹس کرنل منیر احمد سلطان اور ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور ایک اہم منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر انہوں نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول سبی، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول غریب آباد، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول غریب آباد (پرائمری سیکشن) اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول عظیم خان گہرامزئی میں سولرائزیشن منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اسی طرح مڈوائفری کالج ہاسٹل کی مرمت و بحالی، پی پی ایچ آئی ریہیبلیٹیشن آفس بلڈنگ اور ادویات کے سٹور کے لیے ائیر کنڈیشنرز کی فراہمی، لونی روڈ پر دو گلیوں میں ٹف ٹائلز کی تنصیب کے منصوبوں کا بھی باقاعدہ افتتاح کیا گیا، جبکہ ٹھنڈی سڑک واٹر سپلائی لائن کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اسکولوں کی سولرائزیشن محکمہ یو پی اینڈ ڈی نے مکمل کروائی، جبکہ گلیوں میں ٹف ٹائلز کی تنصیب لوکل گورنمنٹ کے تحت عمل میں لائی گئی۔ اسی طرح مرمت و بحالی اور ائیر کنڈیشنرز کی تنصیب کے کام محکمہ بی اینڈ آر نے سرانجام دیے۔تقریب کے دوران ونگ کمانڈرز کرنل زبیر، کرنل شہریار، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، ایگزیکٹو انجینیئر یو پی اینڈ ڈی رازق مری سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر طلباء کے بینڈ دستے نے معزز مہمانوں کو سلامی پیش کی جبکہ پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ بچوں اور بچیوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے پھولوں کے گلدستے بھی پیش کیے۔دورے کے دوران کمانڈنٹ سبی سکاؤٹس اور ڈپٹی کمشنر سبی نے پی پی ایچ آئی میں ادویات کے سٹور کا بھی جائزہ لیا اور ادویات کی چیکنگ کی۔ اس موقع پر ڈی ایم پی پی ایچ آئی نے ادویات کی دستیابی اور معیار کے حوالے سے بریفنگ دی، جبکہ ضلع بھر کے بی ایچ یوز کی کارکردگی اور سہولیات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ کمانڈنٹ سبی سکاؤٹس اور ڈپٹی کمشنر سبی نے سکول کی طالبات سے ملاقات کی اور انہیں محنت، لگن اور وقت کی پابندی کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آج کا کام آج ہی مکمل کیا جائے اور کل کا سبق بھی پیشگی تیار کر کے سکول آیا جائے۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے عوام کو براہ راست ریلیف ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سبی بلوچستان کا پہلا ضلع بن چکا ہے جہاں بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت 28 اسکیمات مکمل کی جا چکی ہیں، جن میں سے سات منصوبوں کا آج باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ یہ کامیابی ضلعی ٹیم کی مشترکہ محنت، مربوط حکمت عملی اور موثر نگرانی کا نتیجہ ہے۔ تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ عوام کو تعلیم، صحت، پانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور ضلع سبی کو ایک مثالی ضلع بنانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
۔۔۔
خبر نامہ نمبر3342/2026
کوئٹہ23اپریل: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے وژن، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب احمد نوشیروانی کی رہنمائی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی ہدایات کی روشنی میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) نے صوبہ بھر میں مختلف سروس فراہم کرنے والے شعبوں کی مانیٹرنگ کیلئے ایک خصوصی ٹیم قائم کر دی ہے۔ترجمان بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے مطابق یہ ٹیم پیتھالوجیکل لیبارٹریز، ڈاکٹروں، کاسمیٹک سرجنز، ماہرینِ امراضِ جلد (ڈرماٹولوجسٹس)، ہیلتھ کیئر کلینکس اور بیوٹی پارلرز کی نگرانی کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔حکام کے مطابق تشکیل دی گئی ٹیم نہ صرف ان شعبوں کی رجسٹریشن اور ٹیکس تعمیل کا جائزہ لے گی بلکہ ڈیٹا اکٹھا کرنے، آگاہی فراہم کرنے اور غیر رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے بھی اقدامات کرے گی۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا کہنا ہے کہ صوبے میں محصولات کے نظام کو مستحکم بنانے، شفافیت کو فروغ دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے ایسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔






