16th-April-2026

خبرنامہ نمبر3082/2026
کوئٹہ16 اپریل ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کے و ژن کے مطابق محکمہ صحت حکومت بلوچستان نے آغا خان یونیورسٹی کے تعاون سے انڈپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (IMU) کے مانیٹرز کے لیے دو روزہ اختتامی تربیتی سیشن منعقد کیا، زیرِ صدارت سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی منعقد ہو تقریب سے سپیشل سیکرٹری صحت شیک بلوچ ، ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت آمین مندو خیل ،چیف ایگزیکٹو بلوچستان ایلتھ کارڈ ڈاکٹر احمد ولی، ڈائریکٹر ٹیکنیکل محکمہ صحت ڈاکٹر داود اچگزئی ، بلوچستان ایلتھ کارڈ کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہکو منگل، ایم اینڈ ای اسپشلسٹ ڈاکٹر عظمیٰ مجید ، آغا خان یونیورسٹی کے ڈاکٹر ثناءجمیل کے علاو پریو نیٹو پروگرامز کے صوبائی کوآرڈینیٹر اور محکمہ کے علی افسران اور تمام اضلاع سے نامزد مانیٹرز نے شرکت کی۔ اس سیشن کا مقصد صحت کے نظام میں موثر نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا اور خدمات کی فراہمی میں شفافیت و بہتری کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے ۔سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی نے کہا کہ مانیٹرز کو فیلڈ میں موثر مانیٹرنگ، ڈیٹا کلیکشن، رپورٹنگ کے معیارات، اور صحت کے مختلف پروگرامز میں موجود خلا کی نشاندہی کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی جاے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ذمہ داری صرف نگرانی تک محدود نہیں بلکہ وہ زمینی حقائق کی درست عکاسی کرتے ہوئے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔چیف ایگزیکٹو بلوچستان ایلتھ کارڈ ڈاکٹر احمد ولی نے کہا کہ انڈپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موثر نگرانی ہی وہ بنیاد ہے جس کے ذریعے صحت کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے۔ انہوں نے مانیٹرز پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض انتہائی دیانتداری، غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں تاکہ مستند ڈیٹا کی بنیاد پر بروقت اور درست فیصلے کیے جا سکیں اور عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔تربیتی سیشن کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انڈپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے ذریعے صوبے میں صحت کی سہولیات کی نگرانی کو موثر بنا کر نظام میں بہتری لائی جائے گی اور عوام کو معیاری صحت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3083/2026
لورالائی16اپریل ۔: رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طوراوتمانخیل نے ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع سے ملاقات کی، جس میں ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، معیار اور بروقت تکمیل کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر یقین دہانی کرائی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں گے اور ان میں معیاری میٹریل کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ناقص کام یا غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ملاقات کے دوران قبائلی رہنما سردار ثاقب خان کدیزئی نے اپنے علاقے میں قائم سرکاری اسکول کی خستہ حالی کا مسئلہ اٹھایا، جس پر رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طوراوتمانخیل نے فوری طور پر چار کمروں پر مشتمل نئی اسکول عمارت کی تعمیر کا اعلان کیا۔ اس اعلان پر سردار ثاقب خان کدیزئی نے ایم پی اے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی عوام دوست پالیسیوں اور ترقیاتی اقدامات کو سراہا۔حاجی محمد خان طوراوتمانخیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام سے کیے گئے تمام وعدے ہر صورت پورے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لورالائی میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، جن میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات کی بہتری، تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، بجلی کی فراہمی میں بہتری اور صفائی کے نظام کی بہتری شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی ضلع میں مزید ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے، جن میں دیہی علاقوں کو مرکزی شاہراہوں سے ملانے کے لیے نئی رابطہ سڑکیں، بنیادی مراکز صحت (BHU) کی اپ گریڈیشن، واٹر سپلائی اسکیموں کی توسیع، سولر انرجی منصوبے، اور نوجوانوں کے لیے فنی تربیتی مراکز کا قیام شامل ہیں۔ایم پی اے نے کہا کہ بعض سیاسی مخالفین ترقیاتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم عوام کی خدمت کا یہ سفر کسی صورت نہیں رکے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں لورالائی کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے ایک ماڈل ضلع بنایا جائے گا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3084/2026
صحبت پور16اپریل ۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور، میڈم فریدہ ترین نے BSDI کے تحت جاری زیرِ تعمیر اور مکمل ہونے والے اسکولوں سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیادورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے حال ہی میں مکمل ہونے والے اسکول کی عمارت کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور تعمیراتی معیار پر اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی میں رکھا جائے فریدہ ترین نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں، خصوصاً تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کی بروقت تکمیل اور فعال بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو معیاری تعلیم کی سہولت میسر آ سکےانہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مکمل ہونے والے اسکولوں میں بچیوں کی تعلیمی سرگرمیاں باقاعدہ جاری ہیں، جو علاقے میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہےدورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے دہہ گھاڑی میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کام کے معیار اور رفتار پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ منصوبے جلد از جلد عوام کے لیے کارآمد ثابت ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3085/2026
استامحمد16اپریل ۔تحصیل گنداخہ میں میونسپل کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب کے سلسلے میں پولنگ کا عمل ریٹرننگ آفیسر و ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد اسماعیل لاشاری کی نگرانی میں بخوبی انجام پایا۔ الیکشن کا تمام عمل مکمل طور پر پرامن، شفاف اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا، جس پر شرکاءنے اطمینان کا اظہار کیا چیئرمین میونسپل کمیٹی گنداخہ کے عہدے کے لیے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردار زادہ فیصل خان جمالی کے پینل سے نامزد امیدوار ڈاکٹر جاوید جمالی بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے۔ ان کے مقابلے میں کسی بھی دوسرے امیدوار کی جانب سے نامزدگی فارم جمع نہیں کروایا گیا، جس کے باعث ریٹرننگ آفیسر محمد اسماعیل لاشاری نے ضابطے کے مطابق ڈاکٹر جاوید جمالی کو بلامقابلہ منتخب قرار دیتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا اس موقع پر میر ضرار ناصر خان جمالی بھی موجود تھے، جبکہ نومنتخب چیئرمین ڈاکٹر جاوید جمالی کے حامی کونسلران، اتحادیوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور معززینِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی شرکاءنے نومنتخب چیئرمین کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ علاقے کی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور بلدیاتی نظام کی بہتری کے لیے موثر کردار ادا کریں گےالیکشن کے پرامن انعقاد کو ضلعی انتظامیہ کی بہترین حکمت عملی اور موثر انتظامات کا نتیجہ قرار دیا گیا، جس سے علاقے میں جمہوری عمل پر اعتماد مزید مضبوط ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3086/2026
کوئٹہ ، 16 اپریل ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا کہ پولیس صوبے میں امن و امان عملدرآمدی کی بہتری کے ساتھ ان کے خاندانوں کی فلا ح و بہبو دکے علاوہ ان کے مستقبل معماروں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی کوشاں ہیں یہ بات انہوں نے آج یہاں پولیس گرائمر اسکول بدر لائن دورے کے موقع پر کہا۔ان کے ہمراہ ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر حسن اسد علی ، ایس ایس پی ایڈمن دوستین دشتی اور پرنسپل پولیس گرائمر اسکول لبنہ اشفاق بھی موجو د تھی۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ محکمہ پولیس کے تمام شعبوں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے بچوں کے قائم اسکول میں تدریسی عمل کو جدید تقاضوں سے ہمکنار کرنے کے لئے اصلاحات لائے جارہے ہیں تاکہ پولیس اہلکاروں کے زیر تعلیم بچے تعلیمی میدان میں کسی سطح پر پیچھے نہ رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کو ماڈل اسکول بنانے کیلئے موجودہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر ممکن اقدامات کئے جائے تاکہ یہاں زیر تعلیم طلبا و طالبات جدید تعلیم سے بہرہ ور ہو کر صوبے اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں میں خود اعتمادی کی کوئی کمی نہیں انہیں سہولیات فراہم کی جائیں تو ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرنے میں کسی سے بھی پیچھے نہیں رہتے ہیں۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے اسکول میں قائم لائبریری ، کمپیوٹر لیب کا معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے کلاس رومز میں درس و تدریس کے عمل کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے طلبا و طالبات سے ان کی نصابی ، غیرنصابی سرگرمیوں اور موجودہ سہولیات کی حوالے سے پوچھا اور ان کی تعلیمی میدان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے پر آئی جی پولیس بلوچستان نے اسکول کے لئے پلے گرا?نڈ کی فراہمی اور اسکول کے عمارت کی تزئین و آرائش کرنے کے احکامات دیئے۔پرنسپل پولیس گرائمر اسکول نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ 1995میں قائم ہونے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کو تعلیمی زیور سے آراستہ کرنے کے لئے سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول میں قائم لائبریر ی کے لئے ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر حسن اسدعلوی ا ور ایس ایس پی ایڈمن دوستین دشتی نے کتب فراہم کی ہیں جبکہ اے آئی جی ویلفیئر فریال فرید نے طلبا و طالبات کے غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے کھیلوں کا سامان فراہم کیا جس سے وہ اپنے ذہنی و جسمانی نشونماکے فروغ کےلئے سہولیات سے استفادہ حاصل کر ینگے۔ پرنسپل پولیس گرائمر اسکول نے بتایا کہ طلبا و طالبات کی تعلیمی میدان میں مطلوبہ نتائج بہت ہی حوصلہ افزائ ہیں جس کا تمام تر سہر ا یہاں کے قابل اساتذہ اور والدین کو جاتا ہیں انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں زیر تعلیم طلبا و طالبات اسکول سے متصل کھیل کے لئے گرانڈ بھی مہیا کیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, April 16, 2026: Inspector General of Police Balochistan Muhammad Tahir said that the police are working for the welfare of their families and the education and training of their future builders, in addition to improving the law and order situation in the province. He said this while visiting Police Grammar School Badr Line here today. He was accompanied by DIG Headquarters Hassan Asad Ali, SSP Admin Dosteen Dashti, and Principal Police Grammar School Lubna Ashfaq. IG Police Balochistan said that reforms are being brought to bring the teaching process in the school established for the children of police personnel to modern requirements along with all departments of the police department so that the children of police personnel do not lag behind in the field of education at any level. He said that all possible steps should be taken to make the school a model school by utilizing the existing resources so that the students studying here can benefit from modern education and bring glory to the province and the country. He said that there is no lack of self-confidence among our youth, and if they are provided with facilities, they will not lag behind anyone in playing their important role in the development and progress of the country. IG Police Balochistan Muhammad Tahir also inspected the library and computer lab established in the school. He also reviewed the teaching and learning process in the classrooms. He asked the students about their curricular and extracurricular activities and the existing facilities and on their achieving a prominent position in the field of education, IG Police Balochistan gave orders to provide a playground for the school and renovate the school building. The Principal of Police Grammar School said during the briefing that facilities have been provided to equip the children of police personnel established in 1995 with educational ornaments. He said that DIG Headquarters Hassan Asad Alvi and SSP Admin Dosteen Dashti have provided books for the library established in the school, while AIG Welfare Faryal Farid provided sports equipment for the extracurricular activities of the students, from which they will benefit from the facilities for promoting their mental and physical development. The Principal of the Police Grammar School said that the desired results of the students in the field of education are very encouraging, for which all the credit goes to the capable teachers and parents here. He said that recently, a ground has also been provided for the students to play adjacent to the school.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 3087/2026
قلعہ سیف اللہ 16اپریل ۔ میں ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی صورتحال، اداروں کی کارکردگی اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ساجد حسین شاہ ترمذی سمیت محکمہ تعلیم کے افسران، اسکول سربراہان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع کے سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے داخلوں، اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے، لہٰذا اس شعبے میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اساتذہ کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنانے، اسکولوں میں تدریسی عمل کو فعال رکھنے، اور بچوں کے داخلوں میں اضافے کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ڈی ای او ساجد حسین شاہ ترمزی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں انرولمنٹ بڑھانے کے لیے خصوصی مہم جاری ہے جبکہ غیر فعال اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے درپیش مسائل، اساتذہ کی کمی، اور انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق امور سے بھی آگاہ کیا۔اجلاس میں اسکولوں کی بنیادی سہولیات جیسے پینے کے صاف پانی، بیت الخلائ، اور فرنیچر کی فراہمی پر بھی زور دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ اسکولوں کے دورے کریں اور زمینی حقائق کے مطابق رپورٹ پیش کریں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع قلعہ سیف اللہ میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، طلبہ کی شرح داخلہ میں اضافہ کرنے، اور اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3088/2026
بارکھان 16اپریل ۔ نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر سعید الرحمن کاکڑ نے اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال کر فرائض منصبی ادا کرنا شروع کر دیے۔ڈپٹی کمشنر نے چارج سنبھالنے کے بعد اپنے دفتر کے تمام عملے کے ساتھ ایک تعارفی اجلاس منعقد کیا، جس میں باہمی تعاون، نظم و ضبط اور عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے ماتحت عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں اور عوام کے مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں عوامی مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنا شامل ہے، لہٰذا تمام افسران اور عملہ اپنی تمام تر توانائیاں عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے وقف کریں۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمن کاکڑ نے مزید کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل اور شفاف طرزِ حکمرانی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، جبکہ تمام افسران دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجامدیں۔انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ضلع بارکھان میں تعلیم، صحت اور دیگر عوامی شعبوں کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3089/2026
خضدار 16 اپریل ۔ ڈی آئی جی قلات رینج وزیر خان ناصر سے انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمید اللہ مینگل اپنے وفد کے ہمراہ ان کے افس میں خضدار شہر میں امن و امان چوری ڈکیتی شہری مسائل اور بازار کے معاملات کے حوالے سے اہم ملاقات کی۔مختلف مسائل کی نشاندہی پر ڈی آئی جی قلات رینج وزیر خان ناصر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت احکامات جاری کی علاوہ ازیں انجمن تاجران خضدار بازار کے صدر حافظ حمید اللہ مینگل نے شہر میں آئے روز چوری،خاص کر سنی،نوا،بازگیر اور شہر کے آس پاس علاقوں میں ڈکیتی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری تحفظات سے ڈی آئی جی قلات رینج وزیر خان ناصر صاحب کو آگاہ کیا۔اس موقع پر ڈی ائی جی قلات رینج وزیر خان ناصر نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔چوروں اور ڈکیتوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔عوامی سہولت اور انصاف کی عدم فراہمی پر کسی بھی آفیسر یا ایس ایچ او کی غفلت اور کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔میرا آفس عوام کے لئے کھلا ہے جب بھی پولیس کے متعلق کوئی قسم کے بھی شکایت ہوں تو ایسی شکایتوں کا از خود نوٹس لیکر کاروائی کروں گا انجمن تاجران خضدار بازار کے صدر حافظ حمیداللہ نے ڈی آئی جی صاحب کے شہر کے متعلق کیے گئے اقدامات،ٹریفک مسائل کو حل کرنے،اور انتظامی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شہری مسائل کے حل کیلئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وفد میں انجمن تاجران بازار خضدار کے سینئر رہنماءسید آغا سمیع اللّٰہ شاہ،سابق تحصیلدار غلام مصطفیٰ نوتانی،عبدالحکیم خدرانی،حافظ جمیل احمد ابرار شامل تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3090/2026
نصیرآباد:16اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان، سی ٹی ڈی اور انٹیلیجنس اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں امن و امان، سرکاری امور اور ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف اہم معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کو دیگر صوبوں میں لے جانے پر سختی سے پابندی عائد ہوگی، جبکہ مستونگ میں ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے نام پر کسی قسم کی گراں فروشی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے جن پر ضلعی انتظامیہ مکمل عملدرآمد یقینی بنا رہی ہے۔ اس سلسلے میں رات آٹھ بجے دکانیں اور کاروباری مراکز بند رکھنے کے احکامات پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں پر سیکیورٹی کو یقینی بنانا متعلقہ کنٹریکٹر کی ذمہ داری ہے، اس مقصد کے لیے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومتی سطح پر باقاعدہ ایکٹ بھی منظور کیا جا چکا ہے، جبکہ بڑے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے کر ضرورت کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلع نصیرآباد میں تمام مدارس کی رجسٹریشن کے عمل پر خصوصی توجہ دی جائے، اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو سورس آف انکم سمیت دیگر تمام امور کا جائزہ لے۔ اس حوالے سے حکام بالا کی جانب سے بارہا ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جن پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق بروقت مکمل کرنے کے لیے متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تاکہ عوام ان منصوبوں سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں، خصوصاً تعلیم اور صحت کے شعبوں میں جاری منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں تعلیمی اور طبی سہولیات کی فراہمی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ڈیرہ مراد جمالی شہر کی لنک سٹرکوں پر جھاڑیوں کی صفائی کروائی جائے اس حوالے سے میونسپل کمیٹی اور جنگلات کے آفیسران کو مزید بہتری کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3091/2026
استامحمد16اپریل ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں۔ انہی اقدامات کے تسلسل میں ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ایس پی استامحمد حافظ معاذ الرحمٰن، اسسٹنٹ کمشنر استامحمد محمد رمضان اشتیاق، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی، ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ سمیت تعلیم، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، آبپاشی، خزانہ، بی اینڈ آر، زراعت، بلدیاتی اداروں کے نمائندگان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ سردار ہارون خان جمالی بھی خصوصی طور پر اجلاس میں شریک ہوئے اجلاس کے دوران متعدد اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں امن و امان کی صورتحال، ناجائز تجاوزات کا خاتمہ، مدارس کی رجسٹریشن، افغان باشندوں کی صورتحال، پیشہ ور بھکاریوں کی روک تھام، محکمہ لائیو اسٹاک کے جاری منصوبے، بی اینڈ آر کے تحت عمارتوں کی تعمیر، تعلیم کے شعبے اور بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں کا جائزہ شامل تھا اس کے علاوہ فیز تھری میں شامل کیے جانے والے عوامی فلاحی منصوبوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے شعبوں کے حوالے سے جامع بریفنگ دی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی ایک اہم فورم ہے، جہاں عوامی ضروریات اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی، ترجیحات کا تعین اور باہمی مشاورت سے منظوری دی جاتی ہے انہوں نے ہدایت کی کہ ایسے منصوبے تجویز کیے جائیں جو براہِ راست عوام کو ریلیف فراہم کریں اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری لائیں انہوں نے مزید کہا کہ کھلی کچہریوں میں عوام کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسائل، تجاویز اور آراءکو خصوصی اہمیت دی جائے تاکہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں عوامی مشاورت کو موثر انداز میں شامل کیا جا سکے۔ اس عمل سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ منصوبے زمینی حقائق کے مطابق زیادہ موثر ثابت ہوں گےڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بروقت اور معیاری انداز میں مکمل کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان سے مستفید ہو سکیں انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر صوبائی حکومت نے بلوچستان بھر میں ایرانی پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پابندی ختم کر دی ہے، تاہم دیگر صوبوں میں ان کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔ قیمتوں کا تعین ہفتہ وار بنیادوں پر پسنی اور دیگر ملحقہ علاقوں سے معلومات حاصل کر کے کیا جائے گا تاکہ ناجائز منافع خوری کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3092/2026
قلعہ سیف اللہ16اپریل ۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کی بہتری، جاری پروگرامز کا جائزہ اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر وحید الرحمان، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر منظور احمد، پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ سہیل الرحمان سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مختلف ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری، اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ تمام صحت مراکز میں عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ہدایت دی کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ اجلاس میں حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق اقدامات، اور جاری انسداد پولیو مہم پر بھی بریفنگ دی گئی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے اجلاس کو بتایا کہ ضلع میں مختلف بیماریوں کی روک تھام کے لیے اقدامات جاری ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں صحت سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کریں اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ عوام کو بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع قلعہ سیف اللہ میں صحت کے نظام کو مزید مضبوط اور موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3093/2026
کوئٹہ، 16 اپریل ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس جمعرات کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبے کی ترقی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی کابینہ اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ اجلاس میں بلوچستان کلائمیٹ چینج فنڈ کے موثر استعمال سے متعلق ایک جامع پالیسی کی منظوری دی گئی انہوں نے کہا کہ بلوچستان ملک کا پہلا صوبہ ہے جس نے کلائمیٹ چینج فنڈ قائم کیا حالانکہ ماحولیاتی آلودگی میں صوبے کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں، سیلابوں اور قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں بلوچستان سرفہرست ہے اس پالیسی کے تحت موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط اور موثر حکمت عملی اختیار کی جائے گی صوبائی کابینہ نے صوبے کی پہلی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2026 کی بھی منظوری دی اس پالیسی کے تحت ڈمی اخبارات کے خاتمے، مستند اور فعال میڈیا اداروں کی حوصلہ افزائی اور سوشل میڈیا کو باقاعدہ ضابطہ کار کے تحت شامل کیا جائے گا واضح کیا گیا کہ اس پالیسی سے کسی بھی حقیقی میڈیا ہاوس یا صحافی کے مفادات متاثر نہیں ہوں گے بلکہ شفافیت اور میرٹ کو فروغ ملے گا اجلاس میں بلوچستان سسٹین ایبل فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل کی منظوری بھی دی گئی جس کے تحت ماہی گیری کے شعبے میں پائیدار ترقی، وسائل کے تحفظ اور جدید طریقوں کے فروغ کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ بلوچستان کرسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پسنی فش ہاربر کو محکمہ فشریز میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ کابینہ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے گریڈ 4 سے لے کر گریڈ 16 سے کم آسامیوں پر بھرتیوں کے عمل کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے انجام دینے کی منظوری دی اس اقدام کا اطلاق آئندہ مالی سال جون کے بعد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ زیر التواءبھرتی کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جائے تاکہ روزگار کے مواقع بروقت فراہم کیے جا سکیں یہ اقدامات بھرتیوں میں شفافیت، میرٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں گندم کے حوالے سے ایک اہم فیصلے میں کابینہ نے وفاقی حکومت کی اس پالیسی سے اتفاق کیا جس کے تحت اسٹریٹجک ریزروز کے لیے گندم نجی شعبے سے خریدی جائے گی اگر مقامی سطح پر نجی سرمایہ کار آگے نہ آئے تو وفاقی حکومت سے ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی درخواست کی جائے گی تاکہ صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اجلاس میں بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے بطور سیڈ منی اور ایک ارب روپے بقایا جات کی مد میں فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ اس فنڈ کے ذریعے تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں فلاحی منصوبوں کو مزید تقویت دی جائے گی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت صوبے میں شفافیت، میرٹ اور گڈ گورننس کے اصولوں کو ہر سطح پر یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، روزگار کے مواقع اور ادارہ جاتی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، موثر پالیسی سازی اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اصلاحاتی اقدامات اور گڈ گورننس کے اہداف پر عملدرآمد کے حوالے سے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی کارکردگی کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی اسی جذبے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ صوبے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3094/2026
کوئٹہ 16 اپریل ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس کانسٹیبل فرحان بشیر کی فائرنگ کے نتیجے میں شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، میر محمد صادق عمرانی نے اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر ہمارے معصوم بچوں کی صحت و تندرستی کیلئے کی جانے والی اقدامات میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں اور پولیو جیسی خطرناک بیماری سے بچاو پر معمور ٹیموں پر حملہ نا قابل برداشت عمل ہے اور جس کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور کانسٹیبل فرحان بشیر کی شہادت پر انہیں دلی صدمہ پہنچا ہے، انہوں نے کہا صوبائی حکومت پولیو ٹیموں سمیت تمام لوگوں کی جان و مال کی حفاظت اپنا اولین فریضہ سمجھتی ہے اور جلد ان دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، میر محمد صادق عمرانی نے واقع میں جانبحق سپاہی کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعائ کی کہ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاءکرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3095/2026
کوئٹہ، 16 اپریل۔: سیکرٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان میر عمران گچکی نے وائلڈ لائف ہیڈ آفس کوئٹہ کا دورہ کیا اور ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے دوران چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف شریف الدین بلوچ نے صوبے بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ، بقاءاور موثر انتظام سے متعلق جاری اقدامات پر جامع بریفنگ دی۔دورے کے موقع پر سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات نے جنگلی حیات کے تحفظ اور انتظامی امور پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کو مزید تیز اور موثر بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر جنگلات و جنگلی حیات سردار مسعود خان لونی کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ میں اصلاحات کو یقینی بنایا جائے اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے غیر قانونی شکار، قدرتی مسکن کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔بعد ازاں سیکرٹری نے وائلڈ لائف ہیڈ آفس کی جاری تزئین و آرائش کے کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر کنزرویٹر وائلڈ لائف شریف الدین بلوچ نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور دفاتر و فیلڈ سے متعلق درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات نے محکمہ کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مزید سخت اور موثر اقدامات کیے جائیں، کیونکہ بلوچستان نایاب اور خطرے سے دوچار انواع (Endangered Species) کا اہم مسکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگلی حیات محض قدرتی حسن کا حصہ نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن (Ecological Balance) کی بنیادی اکائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ درحقیقت انسانی بقاءسے جڑا ہوا ہے، کیونکہ مختلف جانور اور پرندے ماحولیاتی نظام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جیسے خوراکی زنجیر (Food Chain) کو برقرار رکھنا، جنگلات کی افزائش میں معاونت اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا۔ اگر ان انواع کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہوگا جس کے براہِ راست اثرات انسانی زندگی پر بھی مرتب ہوں گے۔سیکرٹری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان صوبے میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے گا۔ بعد ازاں انہوں نے دفتر کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاس میں ضلعی وائلڈ لائف افسران، ڈسٹرکٹ فارسٹ افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3096/2026
کوئٹہ 16اپریل ۔ ناقص و غیر محفوظ بوتل بند پانی کی فراہمی کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جاری کارروائیوں کے دوران قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر 4 واٹر پلانٹس کو سیل کر دیا گیا۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ڈائریکٹر آپریشنز محمد ریاض کی سربراہی میں میکانگی روڈ، شاوکشاہ روڈ، موتی رام روڈ، ہزارہ ٹاون اور اسپنی روڈ میں واٹر پیوریفیکیشن پلانٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غیر معیاری اور مضر صحت پانی کی فراہمی پر سخت ایکشن لیا۔ گرمیوں کی آمد سے قبل شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے جاری اس مہم کے تحت متعددواٹر پراسیسنگ یونٹس کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 4 واٹر پلانٹس کو سیل جبکہ 2 یونٹس کو جرمانہ کیا گیا، مزید برآں 3 پانی کے نمونے لیبارٹری تجزیے کیلئے حاصل کیے گئے۔معائنے کے دوران سامنے آنے والی سنگین خلاف ورزیوں میں پروڈکٹ رجسٹریشن کی عدم دستیابی، ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کا فقدان، صفائی کے ناقص انتظامات اور فوڈ سیفٹی اصولوں کی خلاف ورزی شامل تھیں۔ بعض یونٹس میں پراسیسنگ ایریا کے اندر پالتو پرندوں کی موجودگی پائی گئی، جبکہ کیمیکلز، پیکنگ میٹریل اور کچرے کی علیحدگی نہیں کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ کھلی نکاسی آب، حشرات کی روک تھام کے ناقص انتظامات، کلیننگ اِن پلیس (CIP) سسٹم کی عدم دستیابی، فوڈ سیفٹی پروٹوکولز اور کریٹیکل کنٹرول پوائنٹس (CCPs) پر عملدرآمد نہ ہونا بھی نوٹ کیا گیا۔ مزید برآں پانی کے ٹینکس میں پھپھوندی کی موجودگی جیسے خطرناک عوامل بھی سامنے آئے، جس پر 4 واٹر پلانٹس کو بلوچستان فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت سیل کر دیا گیا۔علاوہ ازیں ایک واٹر پلانٹ کو بغیر BFA لائسنس کے کام کرنے پر جرمانہ کیا گیا۔ مزید برآں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف مقامات سے منرل واٹر اور پینے کے پانی کے نمونے حاصل کیے، جن میں 500 ملی لیٹر اور 1.5 لیٹر بوتلوں کے سیمپلز شامل ہیں، جو لیبارٹری تجزیے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ٹیکنیکل ونگ کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو محفوظ اور معیاری پینے کے پانی کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3097/2026
ہرنائی 16اپریل ۔ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی تھی جس میں ہرنائی کے مقامی “مبارک ہوٹل” میں فروخت کیے جانے والے مرغی کے گوشت (پیس) میں کیڑے مکوڑوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ویڈیو وائرل ہوتے ہی شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا، جس پر اعلیٰ حکام نے فوری ایکشن لینے کے احکامات جاری کیے۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی خصوصی احکامات کی روشنی میں ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ آپریشن سبی ڈویژ ن نجیب اللہ ترین نے اپنی فنی ٹیم اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین کے ہمراہ مذکورہ ہوٹل پر چھاپہ مارا اور صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران ہوٹل کے کچن میں صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات پائے گئے اور ویڈیو میں دکھائی گئی شکایت کی موقع پر تصدیق ہو گئی۔انتظامیہ نے عوامی صحت کو خطرے میں ڈالنے اور فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر مبارک ہوٹل کو فوری طور پر سیل کر دیا اور مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین اور ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ کا کہنا تھا کہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی خصوصی ہدایت پر تمام ہوٹلوں اور کھانے پینے کے مراکز کی مانیٹرنگ سخت کر دی گئی ہے۔ شہریوں کو معیاری اور صاف ستھری غذا کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی بااثر شخص یا ادارے کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3098/2026
موسیٰ خیل16 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے آج ضلع میں “ایگرو منڈی” (زرعی منڈی) کے قیام کے حوالے سے مجوزہ مقام اور زمین کا معائنہ کیا۔معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے زمین کی قانونی حیثیت اور رقبے کے امور کا جائزہ لیا انہوں نے متعلقہ ریونیو اہلکاروں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ ایگرو منڈی کے لیے منتخب کردہ زمین کے حصول کے حوالے سے تمام قانونی کارروائی اور دفتری عمل کو فی الفور تیز کیا جائے تاکہ اراضی کی منتقلی کا عمل جلد از جلد مکمل ہو سکے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ زرعی منڈی کا قیام مقامی کسانوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس لیے اراضی کے قانونی مراحل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3099/2026
کوئٹہ: 16اپریل ۔صوبائی کابینہ بلوچستان نے موثر قانون سازی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ کابینہ نے “پرزنز اینڈ کریکشن سروس ایکٹ 2026” کی منظوری دے دی ہے، جو صوبے میں جیلوں اور اصلاحی نظام کی جدید خطوط پر تنظیمِ نو کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس قانون کے ذریعے قیدیوں کی اصلاح، بحالی اور معاشرے میں مثبت کردار کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران وزیرِ اعلیٰ کی واضح ہدایات، مسلسل نگرانی اور گڈ گورننس کے وڑن کے تحت مجموعی طور پر نو اہم قوانین کی منظوری مکمل کی جا چکی ہے۔ یہ غیر معمولی قانون سازی نہ صرف صوبائی سطح پر ایک ریکارڈ پیش رفت ہے بلکہ قومی سطح پر بھی ایک موثر اور متحرک حکمرانی کی مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس عرصے میں محکمہ داخلہ کی کارکردگی دیگر صوبوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی ہے۔ منظور کیے گئے قوانین کا دائرہ کار امن و امان کے قیام، عدالتی اصلاحات، قیدیوں کی بحالی، گواہوں کے تحفظ، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے شہری سیکیورٹی کو بہتر بنانے جیسے اہم شعبوں پر محیط ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ متوقع ہے بلکہ انصاف کی فراہمی کے نظام کو بھی زیادہ شفاف، تیز رفتار اور مو¿ثر بنانے میں مدد ملے گی۔گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران منظور کیے گئے نمایاں قوانین میں پرزنز اینڈ کریکشن سروس ایکٹ 2026 اور لیویز ایکٹ 2025، حراستی مراکز (انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیم) 2025 اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی عدالت ایکٹ 2025، فیس لیس کورٹس ترمیمی ایکٹ 2025، بی ایف ایس اے ترمیمی ایکٹ 2025 اور پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ 2026 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گواہان کے تحفظ کا ترمیمی ایکٹ 2026 اور سیف سٹی اتھارٹیز آرڈیننس بھی شامل ہیں۔ خصوصی طور پر “پرزنز اینڈ کریکشن سروس ایکٹ 2026” کو اصلاحاتی نظام میں بنیادی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت جیلوں کو صرف قید کی جگہ کے بجائے اصلاح و تربیت کے مراکز میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اسی طرح “پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ 2026” کے ذریعے متبادل سزاوں کے نظام کو فروغ دے کر جیلوں پر بوجھ کم کرنے اور سماجی بحالی کے عمل کو تقویت دی جائے گی۔مزید برآں، “گواہان کے تحفظ کا ترمیمی ایکٹ 2026” اور “سیف سٹی اتھارٹیز آرڈیننس” جیسے اقدامات سیکیورٹی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ “فیس لیس کورٹس ترمیمی ایکٹ 2025” کے ذریعے عدالتی نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دے کر شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے نفاذ سے نہ صرف امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی بلکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی سازگار بنانے میں مدد ملے گی، جس سے صوبے کی معاشی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان حکومت کی یہ مسلسل اور مربوط قانون سازی مستقبل میں گورننس کے نظام کو مزید مستحکم بنانے، عوامی اعتماد بحال کرنے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4000/2026
نصیرآباد: 16اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے عملہ مال کے افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی طحہٰ جمالی، نائرہ نور، ڈپٹی کمشنر کے پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی، بابو محمد قاسم ڈومکی سمیت دیگر تحصیلداران، نائب تحصیلداران، قانون گو اور پٹواری شریک تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں ایگریکلچر انکم ٹیکس کی وصولی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، عملہ فوری طور پر وصولی کو یقینی بنائے اور ایک ماہ کے اندر اندر اے آئی ٹی کی مکمل وصولی ہر صورت ممکن بنائی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں ہفتہ وار رپورٹ مرتب کرکے پیش کی جائے جبکہ سست روی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لاپرواہی کے مرتکب عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نصیر آباد نے مزید کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، جن پٹواریوں کو ٹارگٹ دیا گیا ہے اگر وہ مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکے تو تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور متعلقہ پٹواری سب کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے حکام بالا کی جانب سے بھی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں جن پر ہر صورت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4001/2026
موسیٰ خیل 16 اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام ڈپٹی کمشنر کانفرنس ہال میں منعقدہ ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا دورہ کیا اور EMIS اسکول مردم شماری 2025-26 کی تربیتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا اس ورکشاپ میں ضلع بھر کے تمام ڈی او ایز (DOEs)، ڈی ڈی اوز (DDOs)، اے ڈی ای اوز (ADEOs) اور کلسٹر ہیڈز (میل و فیمیل) نے شرکت کی۔ اس موقع پر فوکل پرسن EMIS سید یونس شاہ نے شرکاء کو اسکول مردم شماری کے طریقہ کار اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی تربیتی ورکشاپ کے معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درست ڈیٹا اور اعداد و شمار کی فراہمی محکمہ تعلیم کی ترقی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسکول مردم شماری (EMIS) کے ذریعے ہی ہم ضلع کے تعلیمی مسائل، اساتذہ کی ضرورت اور اسکولوں کی حالتِ زار کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام افسران اور کلسٹر ہیڈز نہایت ایمانداری اور باریک بینی سے ڈیٹا جمع کریں تاکہ کوئی بھی اسکول یا تعلیمی پہلو نظر انداز نہ ہو۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع موسیٰ خیل میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4002/2026
ہرنائی : ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت پانچ روزہ قومی انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مہم کے دوران اب تک حاصل کردہ اہداف اور فیلڈ میں پیش آنے والے چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر آفس ہرنائی میں منعقدہ اس ایوننگ ریویو میٹنگ میں ضلع بھر کے یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز (UCMOs) اور متعلقہ محکمہ جات کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد مہم کے ابتدائی تین دنوں کی پیشرفت کا جائزہ لینا اور باقی ماندہ دنوں کے لیے حکمت عملی کو مزید موثر بنانا تھا۔اجلاس کے دوران تمام یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز نے اپنے اپنے علاقوں سے متعلق تین روزہ کارکردگی کے اعداد و شمار (Data) پیش کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلا رہی ہیں، تاہم کچھ علاقوں میں ہدف کے حصول میں درپیش رکاوٹوں اور ٹیموں کو پیش آنے والے انتظامی و فنی مسائل پر بھی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے ان مسائل کو بغور سنا اور موقع پر ہی ان کے حل کے لیے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے مقامی معتبرین اور علمائے کرام کی خدمات لی جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ عمر بھر کی معذوری سے بچنے والے ان قطروں سے محروم نہ رہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے ٹیموں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پولیو کا خاتمہ ایک قومی فریضہ ہے جس میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مانیٹرنگ افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں ٹیموں کی سخت نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ضلع کے دور دراز علاقوں میں موجود ہر آخری بچے تک رسائی حاصل کی جائے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مشترکہ کوششوں سے ہرنائی کو پولیو سے پاک ضلع بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4003/2026
*کوئٹہ، 16 اپریل۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کی زیر صدارت شہر میں ٹریفک کے نظام کی بہتری کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں شہر میں غلط پارکنگ، تجاوزات اور ریڑھیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے ٹریفک مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا اور ان کے حل کے لیے موثر اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی،ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن زاہد خان، ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ بلال احمد، ڈائریکٹر ٹریفک انجینئرنگ بیورو، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد، سی ای او پی پی پی ڈاکٹر فیصل، ڈپٹی پی ڈی کیو ڈی پی عابد علی، اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ، صدر انجمن تاجران رحیم کاکڑ سمیت محکمہ جنگلات، ٹرانسپورٹ، ریلوے کے افسران اور سرینا ہوٹل کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سرینا چوک ٹریفک مسائل کے حل کے لیے ہوٹل کے مین گیٹ کو اندرونی چار دیواری میں منتقل کرنے اور متبادل راستہ بنانے کے لئے ڈیزائن تیار ہے اور منظوری کے بعد کام جلد شروع ہوگاجبکہ جوائنٹ روڈ پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے اسے ‘نو پارکنگ’ اور ‘نو کارٹ زون’ قرار دیا جائے گا۔ ریڑھیوں کے لیے متبادل جگہ مختص کر کے باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے گی۔جس کے بعد خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جولائی کے آخر تک مرکزی کاروباری ایریا میں الیکٹرک وہیکلز چلنا شروع ہو جائیں گے۔ اس ایریا میں گاڑیوں کی پارکنگ پر مکمل پابندی ہوگی۔ گرین بس کے لیے 18 فیڈر لائنوں پر سروے جاری ہے جن کی رپورٹ دو ہفتوں میں متوقع ہے۔ عبدالستار روڈ کے مسئلے پر کمشنر کوئٹہ نے ڈی سی کوئٹہ، ایڈمنسٹریٹر اور ایس ایس پی ٹریفک کو عبدالستار روڈ اور ملحقہ سڑکوں کا اسٹڈی کر کے ٹریفک کی روانی کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ شجر کاری مہم کے حوالے سے بتایا گیا کہ اب تک کوئٹہ میں 1 لاکھ 35 ہزار سے زائد درخت عوام، فارمرز، این جی اوز، اسکول و کالجز کی مدد سے لگائے گئے ہیں۔نئی سڑکوں پر کیو ڈی پی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن شجرکاری کر رہی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان نے کہا کہ کوئٹہ کی خوبصورتی اور ٹریفک کے نظام کی بہتری کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شہر میں پارکنگ پلازوں کی تعداد بڑھانا ناگزیر ہے اور ‘نو پارکنگ زون’ میں گاڑیاں کھڑی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان نے ایک ماہ کے لیے گرین بس سروس مفت کر دی ہے جس سے روزانہ 30 ہزار سے زیادہ لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ اس مد میں حکومت تین کروڑ روپے سے زیادہ سبسڈی دے رہی ہے۔ کمشنر نے زور دیا کہ ٹریفک کے نظام کو درست کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے،تاہم شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگااور ٹریفک کی بہتری کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4004/2026
لورالائی16اپریل ۔: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل کی زیر صدارت محکمہ ریونیو کے افسران اور عملہ مال کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری واجبات کی وصولی اور ربیع سیزن کی گرداوری کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم سمیت تحصیلداران، نائب تحصیلداران، قانون گوز اور پٹواریوں نے شرکت کی۔ مختلف تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے افسران نے اپنے اپنے علاقوں میں سرکاری واجبات کی وصولی اور گرداوری کی پیش رفت پر بریفنگ دی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل نے ربیع سیزن کی بروقت اور درست گرداوری نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ غیر کاشت شدہ رقبہ غیر ضروری طور پر زیادہ ظاہر کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ گرداوری کے عمل میں شفافیت اور درستگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ حکومتی ریکارڈ میں درست اعداد و شمار شامل ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی عملہ مال کی بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا اس میں کسی قسم کی سستی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اور ریکوری کے عمل کو تیز کیا جائے۔اجلاس کے دوران ریونیو سے متعلق دیگر امور پر بھی غور کیا گیا، جن میں اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، زیر التواء ریونیو کیسز کے فوری فیصلے، اور سرکاری زمینوں پرتجاوزات کے خلاف کارروائی شامل ہیں۔ اس موقع پر ہدایت کی گئی کہ ریونیو ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور شفاف خدمات فراہم کی جا سکیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ ناجائز قابضین کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور سرکاری اراضی کو واگزار کرا کے ریاستی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو نظام کی بہتری سے نہ صرف حکومتی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ عوامی مسائل کے حل میں بھی مدد ملے گی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ریونیو کے تمام معاملات میں بہتری، شفافیت اور تیز رفتاری کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Loralai, April 16, 2026:An important meeting of Revenue Department officers and field staff was held under the chairmanship of Additional Deputy Commissioner (Revenue), Muhammad Ismail Mengal, in which a detailed review of the recovery of government dues and the Girdawari process for the Rabi season was conducted.The meeting was attended by Assistant Commissioner Nadeem Akram, along with Tehsildars, Naib Tehsildars, Qanoongos, and Patwaris. Officers from various tehsils briefed the chair on the progress of government dues recovery and Girdawari in their respective areas.Expressing serious concern over delays and inaccuracies in the Girdawari process for the Rabi season, the Additional Deputy Commissioner (Revenue) issued strict directives, stating that legal action would be taken against officials who unnecessarily report higher areas as uncultivated. He emphasized that transparency and accuracy in the Girdawari process must be ensured at all costs so that correct data is reflected in government records.He further stated that the recovery of government dues is a primary responsibility of the revenue staff, and any negligence or laxity in this regard will not be tolerated. All concerned officers were directed to improve their performance to meet assigned targets and to expedite the recovery process.Other revenue-related matters were also discussed during the meeting, including the digitalization of land records, prompt disposal of pending revenue cases, and action against encroachments on state land. It was directed that the computerization of revenue records be completed at the earliest to ensure better and more transparent public service delivery.The Additional Deputy Commissioner stressed that indiscriminate action should be taken against illegal occupants, and state land must be retrieved to safeguard public interest. He noted that improving the revenue system would not only enhance government revenue but also help address public issues more effectively.At the conclusion of the meeting, a commitment was reaffirmed to utilize all available resources to ensure improvement, transparency, and efficiency in all revenue-related matters.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4005/2026
سبی 16 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، دینی مدارس کے سربراہان اور علمائے کرام نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق تمام دینی مدارس کا بلوچستان چیریٹی رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) سے رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر رجسٹرڈ مدارس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، لہٰذا تمام مدارس مقررہ مدت میں اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس معاشرے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ان کی قانونی رجسٹریشن سے انتظامی امور میں بہتری آئے گی اور حکومتی سطح پر سہولیات و معاونت کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ رجسٹریشن کے عمل میں مدارس کے منتظمین سے مکمل تعاون کیا جائے اور درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے رجسٹریشن کے طریقہ کار پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مدارس اپنی رجسٹریشن جلد از جلد مکمل کریں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ رجسٹریشن کے لیے مدرسے کا نام، لیٹر پیڈ، مہر، فرد یا ملکیت نامہ، یوٹیلٹی بلز، کابینہ کی تفصیلات اور دیگر ضروری دستاویزات جمع کرانا لازمی ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4006/2026
کوئٹہ، 16 اپریل۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے “صاف کوئٹہ وژن” کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں ناجائز تجاوزات کے خلاف بھرپور کارروائیاں کیں۔ ان آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 41 افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا جبکہ درجنوں ریڑھیاں اور تھڑے ختم کر دیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ، اسپیشل مجسٹریٹ، اے سی یو ٹیز، انچارج اینٹی انکروچمنٹ سیل اور ٹریفک پولیس نے لیاقت بازار میں مشترکہ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران 70 ریڑھیاں اور تھڑے مکمل طور پر ختم کر دیے گئے جبکہ جزوی تجاوزات کو بھی ہٹا دیا گیا۔اس دوران 27 افراد گرفتار ہوئے جن میں سے 25 کو جیل بھیج دیا گیا۔دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی اور اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے نواں کلی، پشتونستان چوک اور نواں کلی مین روڈ پر ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ اس آپریشن میں 14 افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوام کی آمدورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن بلا امتیاز اور باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔ انتظامیہ کے مطابق شہریوں کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4007/2026
کوئٹہ16اپریل ۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ایک صحتمند معاشرہ دراصل جسمانی اور ذہنی طور پر صحتمند لوگوں پر استوار ہوتا ہے جو مختلف کھیلوں کے فروغ سے مشروط ہے۔ ایک جانب آگر سہولیات اور مواقعوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہمارے بہت سارے باصلاحیت کھلاڑی پیچھے رہ چکے ہیں لیکن دوسری طرف یہ بات بھی حوصلہ افزائ ہے کہ قومی اور صوبائی سطح پر مختلف کھیلوں میں وہ کھیلاڑی جو اپنی غیرمعمولی کارکردگی کی بنیاد پر قوم کے سفیر، نوجوانوں کیلئے امید کی کرن اور ملک و قوم کیلئے فخر کی علامت بنے ان کے پیچھے ایک اہم عنصر حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات اور مواقع ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم نے صوبائی سطح پر اسپورٹس اینڈ گیمز کے میدان میں پیش رفت دیکھی ہے، گراونڈز بہتر ہو رہے ہیں اور ضلعی سطح پر فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں جسکی وجہ سے مجھے بلوچستان میں کھیلوں کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جاپان کرانے ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر حسین علی چنگیزی کی قیادت میں وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کھیل صرف کھیل نہیں ہیں بلکہ وہ زندگی کا لازمی جز ہیں۔ کھیل ہمیں جسمانی اور ذہنی تندرستی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین ڈسپلن سکھاتے ہیں جو ہمیں کامیاب افراد میں ڈھالتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی مرد ہو یا خواتین وہ جہاں بھی جاتے ہیں ہمارے ملک اور صوبے کا نام روشن کرتے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے حالیہ کراچی میں نیشنل کراٹے کیمپ اور چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور حسین علی چنگیزی اور ان کی ٹیم کو چھ ڈان کا اعلیٰ امتحان پاس کرنے پر مبارکباد دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4008/2026
جعفرآباد: 16اپریل ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ضلع کے تمام محکموں کے افسران، انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مختلف انتظامی، سیکیورٹی اور ترقیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ضلع بھر میں حکومتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام محکمے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی بین الصوبائی سطح پر سمگلنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ مقامی سطح پر عوام کو ایرانی پیٹرولیم سے استفادہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کا عمل بھی سختی سے جاری ہے اور کسی کو ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع میں امن و امان کے قیام کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ مدارس کی رجسٹریشن کے عمل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ حکومتی پالیسی کے مطابق تمام ادارے قانونی دائرہ کار میں کام کریں اور بہتر نظم و ضبط قائم ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ اسکیموں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ یہ منصوبے بروقت اور معیاری انداز میں مکمل ہو سکیں اور عوام کو حقیقی معنوں میں ان کے ثمرات میسر آئیں۔اجلاس کے دوران تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری لانے، اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور طلبہ کی حاضری بڑھانے کے حوالے سے بھی غور کیا گیا جبکہ صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو موثر اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ جہالت کے خاتمے اور ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری ناگزیر ہے اور یہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کو ہدایت جاری کی کہ وہ باہمی رابطے کو مزید موثر بنائیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کریں تاکہ ضلع میں گورننس کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4009/2026
سبی 16 اپریل۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں انسداد پولیو مہم کے آخری روز ایوننگ رویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر میں جاری پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی، ٹیموں کی حاضری، بچوں کو قطرے پلانے کے اہداف اور رہ جانے والے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اجلاس کے دوران ہدایت جاری کی کہ رہ جانے والے بچوں کو آج ہی ہر صورت کور کیا جائے، اس سلسلے میں خصوصی ٹیمیں فوری طور پر متحرک کی جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور والدین کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرمنصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی محکمہ صحت کے افسران اور پولیو مہم سے وابستہ نمائندگان نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4010/2026
لورالائی16, اپریل .ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز لورالائی ڈاکٹر محمد سلیم زرکون اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالحمید ابڑو نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول لورالائی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر پرنسپل جمال الدین اتمانخیل نے معزز آفیسران کو سکول کے مختلف شعبہ جات، خصوصاً سیکنڈری کلاسز کا تفصیلی معائنہ کروایا۔ بریفنگ کے دوران بی آر سی کلاسز کی تیاری، اساتذہ کی حاضری، طلباء کو فراہم کی گئی درسی کتب، کرکٹ گراونڈ کی بحالی، سکول کے احاطے میں زیتون کے درختوں کی شجرکاری مہم، اور نئے طلباء کے بڑی تعداد میں داخلوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔آخر میں آفیسران بالا نے سکول کی- مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پرنسپل اور اساتذہ کی کاوشوں کو سراہا، اور سکول کو حقیقی معنوں میں ایک مثالی ادارہ بنانے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4011/2026
پشین 16اپریل ۔, تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے، داخلہ مہم کا مقصد معاشرے کے ہر طبقے تک علم کی روشنی پہنچانا اور اسکول سے باہر موجود بچوں کا تعلیمی سفر شروع کروانا ہے۔ ان خیلات کا اظہار انہوں داخلہ مہم کے اختتام پر کارکردگی رپورٹ کی پیشگی سے متعلق منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیض اللہ کاکڑ ، ڈی پی ایم محمد اسماعیل جلالزئی ، خزانہ آفیسر اور دیگر شریک تھے ، ڈی ای او فیض اللہ کاکڑ نے بتایا رواں سال ڈسٹرکٹ پشین کو داخلہ مہم کے دوران 24000 بچے اور بچیوں کو داخل کرنیکا ہدف دیا گیا تھا جس سے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پشین نے عبور کرتے تقریبا 18 فیصد تک پہنچادیا مجموعی طور پر محکمہ ایجوکیشن پشین نے 27432 بچوں کو سکول میں داخل کروایا جن میں 9179 بچیاں اور 18253 بچے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کے تمام بند سکولوں کو کھول دیا گیا ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نجم الدین کبزئی نے کہا کہ والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کروا کر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں،کیونکہ آج کا پڑھا لکھا بچہ ہی کل کے خوشحال پاکستان کی بنیاد ہے۔ “آو مل کر علم پھیلائیں، ہر بچے کو اسکول لائیں۔” انہوں نے والدین سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کا مستقبل سنواریں، آج ہی قریبی اسکول میں داخلہ کروائیں۔حکومت کی جانب سے مفت کتب اور معیاری تعلیم کی فراہمی جاری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4012/2026
قلات16اپریل ۔ ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی کےزیرصدارت پولیو مہم کے چوتھے اور آخری روز کیچ اپ ڈے کے اختتام پر ایوننگ میٹنگ منعقدہوااجلاس میں SPقلات سیدزاہدحسین شاہ ڈی ایچ او ڈاکٹر انجم بلوچ ڈپٹی ڈی ایچ اوڈاکٹر محمداقبال نورزئی ڈبلیو ایچ او کے ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر مجتبی باجوئی سمیت مانیٹرنگ افسران یوسی ایم اوز نے شرکت کی۔اجلاس میں پولیو مہم سے متعلق جامع رپورٹ پیش کیئے گئے اور پولیو ٹیموں کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیاگیا۔اجلاس میں پولیو ٹیموں کی مجموعی کارکردگی ٹوٹل ٹارگٹ NA بچے رفیوزلز اور مہمان بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا۔ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کی مجموعی کارکردگی پر اظہار اطمینان کیا ڈپٹی کمشنرمنیراحمد درانی نے کہاکہ پولیو ایک خطرناک مرض ہے پولیو کے خلاف لڑنا ہم سب کی زمہ داری ہے پولیو کے خاتمے کے لیئے ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت ڈبلیو ایچ او مل کر جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ ضلع بھر کے بچوں کو اس موضی مرض سے محفوظ رکھ سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4013/2026
قلات 16اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کی ہدایت پرضلع قلات کی تجصیل خالق آباد میں پولیو مہم کی کوریج سے متعلق اپ ڈیٹ میٹنگ کاانعقاد اے سی خالق آباد ڈاکٹر علی گل عمرانی کی زیر نگرانی کیاگیا۔ میٹنگ میں UCMOs، مانیٹر اور پولیو آفیسر قلات شریک ہوئےاجلاس کے شرکائ نے قلات میں جاری پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا حساس علاقوں میں غیر موجود بچوں انکاری والدین کے کیسز اور سیکورٹی خدشات پر خصوصی توجہ دی گئی ٹیموں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ 100% کوریج کو یقینی بنائیں اور ہر سطح پر کوآرڈینیشن کو بہتر بنائیں آنے والی مہم کے دوران کمیونٹی بیداری اور موثر نگرانی پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر3114/2026
کوئٹہ 16اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے ایک سرکلر کے مطابق آپ تمام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ضلع کوئٹہ میں، بلوچستان چیرینیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن اتھارٹی، تمام فلاحی خیراتی اداروں این جی اوز، فاؤنڈیشن، ٹرسٹ، مدارس، مساجد، ویلفیئر ایسوسی ایشن یونین سوسائٹیز کمیونٹی آرگنائزیشنز کی واحد رجسٹریشن اتھارٹی ہے۔ اس ضمن میں تمام مدارس بشمول و و مدارس جو سو سائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860، سوشل ویلفیئر آرڈیننس 1961 اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مذہبی تعلیم (DGRE) یا کسی بھی وفاقی بورڈ کے تحت رجسٹرڈ ہیں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ چیریٹیز ایکٹ ” دی بلوچستان چیریٹیز رجسٹریشن، ریگولیشن اینڈ ٹیسیلیٹیشن ایکٹ 2019 کے تحت اپنی مدارس کی رجسٹریشن کرائیں اور جس کی آخری تاریخ 30 اپریل 2026 ء ہے مذکورہ مدت ختم ہونے کی صورت میں آپ کا ادارہ کسی بھی قسم کی رجسٹریشن کا مجاز نہیں رہے گا۔ مزید معلومات کیلئے دیئے گئے نمبر 0819213476 پر رابطہ کریں۔
خبر نامہ نمبر3115/2026
کوئٹہ 16 اپریل۔عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں ناجائز منافع خوروں، گرانفروشوں، قصائیوں اور تندوروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں۔ ان آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 16 افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا، 4 دکانیں سیل کر دی گئیں جبکہ متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کی گئی۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی اور اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے ائیرپورٹ روڈ اور نواں کلی کے علاقوں میں ناجائز منافع خوروں اور گرانفروشوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ اس دوران 8 افراد گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیے گئے اور متعدد دکانداروں کو سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی پر سخت وارننگ دی گئی۔ دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے بروری روڈ اور ملحقہ علاقوں میں قصائیوں اور تندوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ کارروائی کے دوران 8 افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا جبکہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے پر 4 دکانیں سیل کر دی گئیں۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد کے تحفظ اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے واضح کیا کہ ناجائز منافع خوری اور گرانفروشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
خبر نامہ نمبر3116/2026
کوئٹہ 16 اپریل۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے تعلیمی وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے شہر اور مضافات میں قائم امتحانی مراکز کی نگرانی تیز کر دی ہے۔ نقل سے پاک امتحانات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے افسران مختلف مراکز کے اچانک دورے کر رہے ہیں اور عملے کو ضروری احکامات جاری کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر (کچلاک) احسام الدین کاکڑ نے سب ڈویژن کچلاک میں مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔ انہوں نے امتحانی عمل کا جائزہ لیا اور نقل کی روک تھام کے لیے تعینات عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ شفاف امتحانات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب اسپیشل مجسٹریٹ سریاب عزت اللہ نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کیچی بیگ اور ہیلپر پبلک اسکول کے امتحانی مراکز کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے انتظامات چیک کیے اور سپرنٹنڈنٹ و نگران عملے کو واضح احکامات دیے کہ امتحانی ہالوں میں نقل برداشت نہیں کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے تعلیمی وژن کے تحت نقل کے خاتمے اور میرٹ کے فروغ کے لیے امتحانی مراکز کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر3117/2026
کوئٹہ16 اپریل۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے“خوبصورت اور صاف کوئٹہ”وژن کے مطابق شہر کو صاف ستھرا اور خوشگوار بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے صفائی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی مہم جاری ہے تاکہ شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی کی زیرِ نگرانی“صفا کوئٹہ”کے عملے کے ہمراہ چلتن ٹاؤن اور ائیرپورٹ روڈ پر صفائی کا عمل بھرپور انداز میں جاری ہے۔ مہم کے دوران سڑکوں، نالیوں اور فٹ پاتھوں کی مکمل صفائی کی جا رہی ہے۔ کوڑا کرکٹ اور ملبہ اٹھانے کے لیے خصوصی گاڑیاں اور مشینری تعینات کی گئی ہے تاکہ کچرے کو فوری طور پر ٹھکانے لگایا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر صدر نے موقع پر موجود عملے کو ہدایت کی کہ صفائی کے دوران کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نالیوں کی بروقت صفائی سے بارشوں میں پانی کی نکاسی بہتر ہوگی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ صفائی مہم میں سڑکوں کے اطراف میں پڑے کچرے کے ڈھیروں کو بھی صاف کیا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ مہم“صاف کوئٹہ”وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد شہر کی خوبصورتی بحال کرنا اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ صفائی کے ساتھ ساتھ علاقے میں چونے کا چھڑکاؤ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ ماحول کو جراثیم سے پاک رکھا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ شہر کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ شہری کوڑا کرکٹ مقررہ مقامات پر ہی پھینکیں، نالیوں میں کچرا نہ ڈالیں اور صفائی کے عملے کے ساتھ تعاون کریں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا کہنا ہے کہ صاف کوئٹہ کا خواب صرف انتظامیہ کی کوششوں سے نہیں بلکہ شہریوں کی شراکت سے ہی ممکن ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ صفائی مہم کو شہر کے دیگر علاقوں تک بھی توسیع دی جائے گی اور یہ عمل مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔
خبر نامہ نمبر3118/2026
تربت16اپریل:۔ڈپٹی کمشنر کیچ، یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس بروز جمعرات منعقد ہوا۔اجلاس میں پی ایچ ای، لوکل گورنمنٹ اور بی اینڈ آر (روڈز اینڈ بلڈنگ) سمیت مختلف متعلقہ محکموں کے افسران اور کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران زیرِ تکمیل منصوبوں سے متعلق پیش رفت رپورٹس پیش کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ منصوبوں کی رفتار اور معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اور متعلقہ ٹھیکیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے کام میں تیزی اور بہتری لائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ جائزہ اجلاس میں پیش رفت کو مزید مؤثر اور تسلی بخش بنایا جائے، بصورتِ دیگر قواعد و ضوابط کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے اور آئندہ مراحل کے آغاز کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔اجلاس میں ونگ کمانڈر تربت کرنل علی، ایکسین بی اینڈ آر کیچ (بلڈنگ) مجیب احمد، ایکسین بی اینڈ آر کیچ (روڑ) حامد علی، ایکسین پی ایچ ای کیچ محمد عظیم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ زاہد علی، انجینئر محمد اقبال لوکل گورنمنٹ، ایس ڈی او بی اینڈ آر تربت گہرام گچکی اور سپرنٹنڈنٹ ڈویلپمنٹ برانچ ڈی سی آفس اعجاز احمد سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام محکمے باہمی رابطہ، مؤثر ہم آہنگی اور مسلسل نگرانی کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنائیں گے تاکہ علاقے میں ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر3119/2026
تربت16اپریل:۔ یونیورسٹی آف تربت کی اکیڈمک کونسل کا اٹھارہواں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔وائس چانسلر نے معزز اراکین کا خیرمقدم کرتے ہوئے یونیورسٹی کی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اکیڈمک کونسل کے ممبران کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی انتظامیہ تمام تعلیمی اور انتظامی امور کو یونیورسٹی ایکٹ اور متعلقہ قوانین کے مطابق چلانے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔معززاراکین کی جانب سے اٹھائے گئے ریمارکس پر وائس چانسلر نے متعلقہ شعبہ جات کے سربراہان کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں پیش کیے جانے سے قبل تمام ایجنڈا آئٹمز، کارروائی اور سابقہ اجلاسوں کے منٹس کو مکمل اور جامع انداز میں تیار کرکے پیش کیاجائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر اجلاس کے منٹس مقررہ وقت کے اندر تمام اراکین کو نظرثانی اور دستخط کے لیے بھیج دیے جائیں۔ترجمان تربت یونیورسٹی کے مطابق وائس چانسلر نے یہ بھی ہدایت کی کہ تربت یونیورسٹی اور اس سے الحاق شدہ کالجوں میں پڑھائے جانے والے تمام تعلیمی پروگرامز کے نصاب متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیے جائیں تاکہ تعلیمی معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ کونسل نے سفارش کی کہ حکومت بلوچستان کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ایک مراسلہ ارسال کیا جائے جس میں یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کے لیے کالجوں کو درکار سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کی جائے۔وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے اندر اور دوسرے اداروں کے ساتھ بروقت اور موثر رابطہ کاری کو مزیدبہتراور مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس کے علاوہ اجلاس نے تمام تعلیمی پروگرامز میں اے آئی کورس شامل کرنے کی بھی منظوری دی۔اس سے قبل رجسٹرار گنگزار بلوچ نے بحث اور منظوری کے لیے ایجنڈا آئٹمز اجلاس کے سامنے پیش کیے۔ ان میں گزشتہ اکیڈمک کونسل کے منٹس، سال 2026 کا تعلیمی کیلنڈر، انڈرگریجویٹ ٹرانسکرپٹ کا ڈیزائن، تعلیمی نصاب میں بہتری کی تجاویز، ریپیٹ امتحان کی پالیسی میں ترامیم، سمسٹر پروموشن کے رول کو جی پی اے سے سی جی پی اے نظام میں تبدیل کرنا، بورڈ آف فیکلٹی اجلاسوں کی سفارشات، یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے لیے ایس او پیز اور قواعد و ضوابط، ایم فل/ایم ایس گریجویٹس کو ڈگریوں کی اجرا اور پی ایچ ڈی اسکالر کے داخلے کی منظوری شامل تھے۔ کونسل نے ہر ایجنڈا آئٹم پر تفصیلی غور کیا اور انہیں قواعد وضوابط کے مطابق نمٹادیا۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق اجلاس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ یونیورسٹی آف گوادر اور یونیورسٹی آف مکران، پنجگور کے قریب واقع کالجوں کو ان کی متعلقہ جامعات سے الحاق کی اجازت دی جائے۔اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، ڈین فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجز ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ (تمغہ امتیاز)، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، ڈین فیکلٹی آف لاء ڈاکٹر مظفر حسین، ڈین فیکلٹی آف بزنس اینڈ اکنامکس اور کونسل کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے نمائندے محمد علی بیگ اور حکومت بلوچستان کے شعبہ ہائر ایجوکیشن کے نمائندے ڈاکٹر منصور احمد نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔

خبر نامہ نمبر 2026/3120
اسلام آباد/گوادر 16 اپریل:ـوفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقیات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) فیز ٹو کے منصوبوں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔اجلاس میں سی پیک کے طویل المدتی منصوبے اور وژن پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے جنوبی ایشیا، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ علاقائی کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنایا جائے،انفراسٹرکچر کی بہتری کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں سی پیک 2.0 کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی جامع تجاویز ائندہ تین روز کے اندر سی پیک سیکرٹریٹ کو جمع کرائیں تاکہ منصوبے کا حتمی مسودہ تیار کر کے چین کے ادارے NDRC کو ارسال کیا جا سکے. پاک-چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر تمام وزارتوں کو 2 سے 3 بڑے فلیگ شپ منصوبے تجویز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس موقع پر کہا کہ حکومت پاکستان اور چین نے سی پیک فیز ٹو کے تحت پانچ نئے اقتصادی کاریڈورز—گروتھ، لائیولی ہڈ، انوویشن، گرین ریولوشن اور ریجنل کنیکٹیویٹی—پر تیزی سے عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تمام وزارتیں ان کاریڈورز کے تحت جامع منصوبہ بندی کرتے ہوئے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے تیار کریں تاکہ انہیں مشترکہ ورکنگ گروپس اور آئندہ اجلاسوں میں شامل کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک فیز ٹو کے منصوبے صنعتی و تجارتی ترقی، روزگار کے مواقع کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس ضمن میں نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔

خبر نامہ نمبر 2026/3122
زیارت16اپریل:ـڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر لطیف اللہ غرشین، ڈسٹرکٹ افسر غلام رسول پانیزئی،ڈی ڈی او نقیب اللہ کاکڑ ،ڈی ڈی او فیمیل سنجاوی فرزانہ کلثوم،صدر سیسافتح محمد کاکڑ،بی ایف ڈسٹرکٹ آرگنائزر فیض اللہ خلجی،آرگنائزر یونیسیف فداحسین پانیزئی ،آر ٹی ایس ایم بدرالدین نے شرکت کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ زیارت اسکولوں میں زیادہ بچوں کے داخلے سے کتابوں کی کمی کا سامنا ہے ان کمی کو پورا کرنے کے لیے محکمہ تعلیم سے مزید کتابوں کی فراہمی کے لیے ڈیمانڈ کیا جائے گا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے ڈی ڈی سوزا کو ہدایت کی کہ جو اسکول اچھی فنکشنل ہوئے ہیں ان میں تمام ضروریات کو جلد پورا کیا جائے اور غیر حاضر ٹیچرز کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ڈپٹی کمشنرعںدالقدوس اچکزئی نے کہا تعلیم ایک اہم شعبہ ہے اس پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا جائے گا اور میرٹ پر فیصلے کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ پورے ڈسٹرکٹ میں تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کئے جائیں گے.
خبر نامہ نمبر 2026/3123
زیارت17اپریل:ـڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈی سی سی(بی ایس ڈی آئی)کے سلسلے میں اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ایکسین پی ایچ ایف آغا تیمورشاہ،ایکسین بی اینڈ آر عرفان اللہ مندوخیل،ڈی ایچ اوڈاکٹر رفیق مستوئی،ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین ،ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر منیر احمد ترین،ایس ڈی او ایریگیشن اعجاز الدین،اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد صدیق ایس ڈی او ایریگیشن نصیر احمد،ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی نثار احمد ترین نے شرکت کی ۔اجلاس میں بی ایس ڈی آئی فیز ون اور فیز ٹو کے سکیمات کا جائزہ رپورٹ پیش کی گئی ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے افسران کو ہدایت کی فیز ون اور فیز ٹو بی ایس ڈی آئی کے سکیمات کے وزٹ کئے جائیں اور سکیمات کو بروقت اور معیار کے پورے کئے جائیں.
خبر نامہ نمبر 2026/3124
زیارت16اپریل:ـڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر رفیق مستوئی ،ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین،ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی نثار احمد ترین ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال سنجاوی ڈاکٹر نورالباقی ڈی ایم پی پی ایچ آئی نثاراحمد ترین نے شرکت کی اجلاس میں محکمہ صحت کو فعال کرنے کے لیے مختلف فیصلے کئے گئے ۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ کنٹریکٹ ڈاکٹرز کا ٹائم پورا ہوکر ان کی مزید ایکسٹنشن کے لیے ہائر اتھارٹیز کو لکھا جائے گا ،انہوں پی پی ایچ آئی افسر کو ہدایت کہ تمام بی ایچ یوز کو سروسز مزید بہتر طور پر کی جائے انہوں نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں اور بی ایچ یوز کو ادویات بروقت فراہم کنے جائیں تاکہ جلد ہی عوام ان ادویات سے مستفید ہوسکے۔

خبر نامہ نمبر 3125/2026
کوئٹہ 16 اپریل۔ عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں گوشت کی دکانوں اور تندوروں کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں کیں۔اس موقع پرمہنگا گوشت فروخت کرنے، کم وزن روٹی دینے اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 170 دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ اس دوران 47 افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ 23 دکانیں اور تندور سیل کیے گئے۔ یہ کارروائیاں بروری روڈ، گوالمنڈی چوک، پٹیل روڈ، نواں کلی، عالمو چوک، کچلاک، بلیلی، چلتن اسکیم، سریاب روڈ اور جتک اسٹاپ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں عمل میں لائی گئیں، جہاں قصائیوں اور تندور مالکان کی جانب سے مہنگے داموں گوشت کی فروخت اور وزن میں کمی کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ یہ ارروائیاں اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ، اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی، اسسٹنٹ کمشنر (کچلاک) احسام الدین کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر (سریاب) مصور اچکزئی، اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار، اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ کی زیر نگرانی کی گئیں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد کے تحفظ، سرکاری نرخنامے پر مکمل عملدرآمد اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبر نامہ نمبر 3126/2026
جھل مگسی16 اپریل:ـچیف منسٹر بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر کی ہدایات کی روشنی میں عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ضلعی صدر مقام گنداواہ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ اور ایف سی ونگ کمانڈر( لیفٹیننٹ کرنل ) عاصم خان نے کیں۔کھلی کچہری میں ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکموں کے آفیسران، قبائلی عمائدین، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندگان، مقامی زمیندار، سول سوسائٹی، صحافی حضرات عوامی نمائندے ودیگر عوام نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں عوام نے اپنے مسائل پیش کیے جن میں اسکولوں ،ہسپتالوں، صفائی و ستھرائی کے مسائل، واٹر سپلائی ، سیلاب سے متاثرہ گھروں کی تعمیر کے مسائل، اور گنداواہ میں بجلی کی فراہمی، بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں معیاری کام، کالج ، گاجان روڈ کی مرمت ، نوتال شاہراہ کی مرمت ، اللّٰہ آباد کالونی میں سیوریج و نکاسی آب ، نادرا آفس کی عمارت ، ڈاکخانہ بالخصوص علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے متعلق مسائل شامل تھےڈپٹی کمشنر سید رحمت اللہ شاہ نے عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے کئی احکامات جاری کئے اور یقین دہانی کروائی کہ عوامی مسائل کے حل کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں انھوں نے کہا کہ عوامی مفاد عامہ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر بلوچستان کے وژن کے تحت عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریوں کا تسلسل آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔علاقے کی عوام نے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت اقدام ہے جس سے ان کے مسائل براہ راست متعلقہ آفیسران کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّہ شاہ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ جھل مگسی عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3127
گوادر16اپریل:ـ ڈپٹی کمشنر گوادر، نقیب اللہ کاکڑ نے وومن مارکیٹ کا تفصیلی دورہ کیا، جس کا مقصد جاری ترقیاتی و تزئین و آرائش کے کاموں کا جائزہ لینا اور منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا تھا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر اور فوکل پرسن برائے وومن مارکیٹ انیتا جلیل بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مارکیٹ میں قائم دکانوں، جاری مرمتی کاموں اور مجموعی انتظامی امور کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام کام اعلیٰ معیار کے مطابق، مقررہ وقت میں مکمل کیے جائیں تاکہ خواتین کے لیے ایک مثالی اور باوقار کاروباری ماحول فراہم کیا جا سکے۔وومن مارکیٹ میں دکانوں کی مرمت، وائٹ واش، تزئین و آرائش، دلکش سجاوٹ اور مختلف تجارتی شعبوں کے لیے وضع کردہ ایس او پیز کے مطابق اسٹالز کی ترتیب و تنظیم کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے خواتین کے لیے محفوظ، بااعتماد اور بااختیار کاروباری پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وومن مارکیٹ نہ صرف خواتین کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرے گی بلکہ انہیں معاشی خودمختاری کی جانب گامزن کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خواتین کو بااختیار بنانے کی عملی کوششوں کا مظہر ہے۔مزید برآں، انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ مارکیٹ میں صفائی، سیکورٹی، بنیادی سہولیات اور صارفین کی سہولت کے تمام تقاضوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں، خصوصاً خواتین کو ایک پُرسکون، بااعتماد اور جدید شاپنگ ماحول میسر آ سکے۔
واضح رہے کہ وومن مارکیٹ کا افتتاح جلد متوقع ہے، جس کے بعد یہ مارکیٹ نہ صرف خواتین تاجروں کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گی بلکہ شہری خواتین کو بھی اپنی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء ایک محفوظ اور آزاد ماحول میں میسر آئیں گی-

خبر نامہ 3128/2026
کوئٹہ16اپریل:ـ سیکرٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان میر عمران گچکی کی قیادت میں محکمہ کی مؤثر حکمتِ عملی اور فیلڈ ٹیموں کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں صوبے میں جنگلی حیات کے تحفظ اور افزائشِ نسل کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔محکمہ کے ذرائع کے مطابق ضلع چاغی میں ہرن کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کیے گئے عملی اقدامات کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی علاقے میں جنگلی جانوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہاں کا قدرتی ماحول محفوظ اور موافق ہو رہا ہے۔سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات نے اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ صوبے میں حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، جن میں غیر قانونی شکار کی روک تھام، قدرتی مساکن کا تحفظ اور مقامی سطح پر آگاہی مہمات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کی ٹیمیں دور دراز علاقوں میں بھی بھرپور انداز میں خدمات انجام دے رہی ہیں، جس کے نتیجے میں نایاب اور خطرے سے دوچار انواع (Endangered Species) کو تحفظ مل رہا ہے۔ ضلع چاغی میں ہرن کی بڑھتی ہوئی تعداد اسی مسلسل محنت اور مربوط حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے. سیکرٹری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گا تاکہ صوبے کے قدرتی وسائل اور جنگلی حیات کو محفوظ بنایا جا سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک متوازن اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3129
قلعہ عبداللّٰہ16اپریل :ـقلعہ عبداللہ میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے منشیات کے خلاف ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 100 ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشت کی گئی افیون کی فصل کو تلف کر دیا۔ یہ اہم آپریشن خفیہ اطلاعات، مربوط حکمت عملی اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے تحت انجام دیا گیا۔کارروائی کے دوران ایکسائز کی ڈرون ٹیم نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشتبہ علاقوں کی فضائی نگرانی کی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی فصل کی درست نشاندہی ممکن ہوئی۔ بعد ازاں زمینی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے افیون کی فصل کو مکمل طور پر تلف کر دیا۔اس کامیاب آپریشن میں محکمہ ایکسائز کے ساتھ ساتھ اے این ایف، ایف سی، ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کے اہلکاروں نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ تمام اداروں کے درمیان بہترین کوآرڈینیشن کے باعث کارروائی کو محفوظ، مؤثر اور کامیاب بنایا گیا۔حکام کے مطابق اس آپریشن سے منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور یہ ایک واضح پیغام ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف ریاستی ادارے متحد اور متحرک ہیں۔سیکرٹری ایکسائز ظفر علی بخاری نے اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر میں منشیات کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشرے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ منشیات کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو فراہم کریں تاکہ اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3130
موسی خیل16 اپریل:_ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کے کیچ اَپ ڈے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر نجیب اللہ کاکڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی، ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر نادر خان ایسوٹ، PPHI کے نمائندہ عمران ، IHHN کے کوآرڈینیٹر مجیب الرحمٰن اور WHO سے TSA نعمت اللہ سمیت متعلقہ افسران اور یو سی ایم اوز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران چاروں دنوں کی فیلڈ کارکردگی، اہداف کے حصول اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ کیچ اَپ ڈے کے دوران ان تمام بچوں تک ہر صورت رسائی حاصل کی جائے جو کسی بھی وجہ سے پولیو کے قطروں سے محروم رہ گئے، تاکہ ضلع کا کوئی بھی بچہ عمر بھر کی معذوری کا شکار نہ ہو ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے پولیو ٹیموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے تمام یو سی ایم اوز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مہم کی خود نگرانی کو یقینی بنائیں اور سو فیصد کوریج کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع موسیٰ خیل کو پولیو فری بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *