12th-April-2026

خبرنامہ نمبر2908/2026
کوئٹہ12 اپریل: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ گورنر بلوچستان نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بعض دہشتگرد عناصر صوبے میں آمن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کر کے خوف وہراس پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ ہر قسم کی دہشتگردی کے قلع و قمع کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ امن کو برقرار رکھنے کیلئے حکومتی کوششوں میں بھرپور تعاون فراہم کریں۔ گورنر مندوخیل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ زخمیوں کی فوری طبی دیکھ بھال کو یقینی بنائیں۔ گورنر نے سوگوار خاندانوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

خبرنامہ نمبر2909/2026
کوئٹہ، 12 اپریل:حکومت بلوچستان نے رکھنی بازار کی جامع بہتری، تزئین و آرائش اور ترقیاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا، تجارتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے اس منصوبے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے تحت متعلقہ اداروں کو فوری عملدرآمد کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں تاکہ منصوبے کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ رکھنی بازار کی ترقی سے مقامی معیشت کو نئی جہت ملے گی کاروباری سرگرمیوں میں وسعت آئے گی اور تاجروں کو ایک منظم، محفوظ اور سہل کاروباری ماحول میسر آئے گا سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو مستحکم کرے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت شہری سہولیات کی بہتری، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور پائیدار ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے عوام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سہولیات کی فراہمی اور شہروں کی منظم ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ رکھنی بازار کی اپ گریڈیشن سے علاقے کی مجموعی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا، شہری نظم و نسق بہتر ہوگا اور عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی جو ایک خوشحال اور ترقی یافتہ بلوچستان کے وژن کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

خبرنامہ نمبر2910/2026
سنجاوی12 اپریل: صوبائی وزیر کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دومڑ کی خصوصی ہدایات اور میونسپل کمیٹی سنجاوی کے چیئرمین حاجی خان محمد دومڑ کی کاوشوں سے سنجاوی بازار میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا اہم منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے اس منصوبے کا مقصد عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت بازار کے اہم مقامات، داخلی و خارجی راستوں اور حساس جگہوں پر جدید طرز کے کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی فوری نگرانی اور بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے جاری کام کا تفصیلی معائنہ یونین کونسل کاژہ کے چیئرمین حاجی نصر الدین ترین نے کیا اس موقع پر انہوں نے کام کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو اس کے فوائد بروقت حاصل ہو سکیں عوامی حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ شہریوں میں احساس تحفظ بھی بڑھے گا انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام کی اس کاوش کو سنجاوی میں امن، ترقی اور جدید سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

    خبرنامہ نمبر2911/2026
موسیٰ خیل12اپریل:ضلعی انتظامیہ موسیٰ خیل اور کولاج آف یوتھ ایکٹیوزم اینڈ ڈویلپمنٹ (CYAAD) کے باہمی اشتراک سے یونین کونسل غڑیاسہ اور درگ میں تین روزہ مفت طبی کیمپوں کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ یہ کیمپ پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) کے تعاون سے دور افتادہ علاقوں کے غریب عوام کو صحت کی سہولیات پہنچانے کے لیے لگائے گئے ان کیمپوں میں مجموعی طور پر 700 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔ ماہر ڈاکٹروں نے مریضوں کو مختلف بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ موقع پر مفت ادویات بھی فراہم کیں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر درگ گل نواز بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ موسیٰ خیل عوام کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ سیاد (CYAAD) اور ضلعی انتظامیہ کا یہ مشترکہ مشن دور افتادہ علاقوں میں صحت کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ مقامی آبادی نے ضلعی انتظامیہ اور سیاد کی اس مخلصانہ کوشش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے فلاحی کام جاری رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر2912/2026
صوبائی وزیر صحت بلوچستان، بخت محمد کاکڑ کی ہدایات پر بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی مشترکہ ٹیم نے سنڈیمن پراونشل ہسپتال (سول ہسپتال) کوئٹہ اور اولڈ ٹراما سینٹر کا مانیٹرنگ و سہولت کاری دورہ کیا۔دورے کا مقصد بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لینا اور مریضوں کو درپیش مسائل کے حل کو یقینی بنانا تھا۔ اس موقع پر ٹیم نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات اور ٹراما سینٹر کا معائنہ کیا اور زیرِ علاج مریضوں سے ملاقات کر کے فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق آگاہی حاصل کی۔مشترکہ ٹیم نے ہسپتال انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے دوران سروسز کے معیار کو مزید بہتر بنانے، مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنانے، اور بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت سہولیات کو مزید مؤثر بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی ہدایات کے مطابق عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں مانیٹرنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ ہر مستحق مریض کو بلا تعطل علاج کی سہولت میسر آ سکے۔

خبرنامہ نمبر2913/2026
چمن 12 اپریل:ڈسٹرکٹ میڈیا سیل چمن میں شامل تمام میڈیا اورصحافی حضرات سے گزارش ہیکہ یہ گروپ صرف اور صرف ضلعی انتظامیہ چمن، انتظامی مسائل سے متعلقہ ایشوز اور ضلع کی مجموعی ترقی و خوشحالی اور چمن کے عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق ایشوز کو اجاگر کرنے اور پوسٹ وغیرہ شیر کرنے کیلئے استعمال کی جانے انتظامی مسائل کے علاؤہ اس گروپ میں غیر ضروری اور غیر متعلقہ پوسٹ اور تبصرہ خبریں وغیرہ چلانے کی ہر گز اجازت نہیں ہے اسطرح ضلعی انتظامیہ کی رجحان اور ترجیحات یکسوئی سے چمن کی ترقی مسائل و مشکلات کے حل کیلئے بروئے کار لائے جائیں۔ ڈسٹرکٹ میڈیا سیل چمن گروپ میں شامل صحافی حضرات کو خلاف ورزی کی صورت میں گروپ سے نکال دیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر2914/2026
قلعہ عبداللہ 12 اپریل:ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں منشیات کے خلاف جاری پوست (پاپی) کے خاتمے کی مہم 2026 (فیز-II) کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے پوست کی فصل کیخلاف جاری آپریشن کے دورے کے دوران صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا، انہوں نے آپریشن کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تمام متعلقہ اداروں اور ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا۔ ضلع قلعہ عبداللہ میں جاری پوست کی فصل کیخلاف ضلعی انتظامیہ قلعہ عبداللہ پولیس فورس اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران و اہلکاروں نے ملکر اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ کی نگرانی میں کی اس آپریشن میں ایف سی (77 ونگ)، پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)، انسپکٹر ایکسائز و نارکوٹکس رفیق خان ناصر اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ضلعی انتظامیہ کے ایک ذمہدار آفیسر نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران دو ٹیموں نے تحصیل گلستان کے علاقوں دولنگی، سَیگئی، پِنکئی اور تحصیل قلعہ عبداللہ کے علاقوں گلستان کراس، حبیب زئی، میزئی، جنگل پیر علیزئی، کلازئی اور پاپلزئی میں آپریشن کیا۔ اس دوران مجموعی طور پر 1554 ایکڑ اراضی پر کاشت کی گئی پوست کی فصل کو مکمل طور پر تلف کر دیا گیا اے سی قلعہ عبداللہ نے کہا کہ
ٹیمI نے قلعہ عبداللہ میں 608 ایکڑ رقبہ کلیئر کیا
ٹیمII نے دولنگی گلستان میں 843 ایکڑ رقبہ صاف کیا انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران روایتی طریقوں کے ذریعے سے
83 ایکڑ رقبہ ٹریکٹرز کے ذریعے سے کلئیر کر دیا گیا اور
940 ایکڑ ڈرون سے کیمیکل اسپرے کے ذریعے
90 ایکڑ مزدوروں کے ذریعے دستی طور پر
338 ایکڑ وہیل بیرو (ہاتھ گاڑی) کے ذریعے صاف کیا گیا سے سی قلعہ عبداللہ نے کہا کہ حالیہ ژالہ باری کے باعث مزید 103 ایکڑ رقبے پر موجود پوست کی فصل بھی متاثر ہو کر تباہ ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ اب تک ضلع بھر میں مجموعی طور پر 7659 ایکڑ رقبے سے پوست کی فصل کا خاتمہ کیا جا چکا ہے، جبکہ یہ مہم پوست کے فصل کیخلاف پوست کی فصل کی مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہے گا۔اے سی قلعہ عبداللہ نے کہا کہ اس مہم کا مقصد منشیات کی کاشت کا مکمل خاتمہ اور نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ بنانا ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر2915/2026
کوئٹہ 12 اپریل 2026۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے ہزار گنجی کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مزمت کی ہے، اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر اپنے بیرونی آقاؤں کی ایماء پر بزدلانہ کارروائیوں سے صوبے کا امن و امان خراب کرنا چاہتے ہیں جس میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح اور خصوصاً خطے کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ شہر میں دہشت گردی کے واقعے کا رونما ہونا پاکستان اور خصوصاً بلوچستان میں قیام امن کیلئے جاری کوششوں کو خراب کرنا ہے، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعے میں معصوم شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر انہیں دلی دکھ اور افسوس ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کی حفاظت کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے لیکن دہشت گرد عناصر آسان اہداف کو نشانہ بنا کر خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوگی, صوبائی وزیر نے فائرنگ کے واقعے میں جانبحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعاء کی کہ اللّٰہ تعالیٰ تمام مرحومین کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطاء کرے، انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے بھی دعاء کی ہے۔

خبرنامہ نمبر 2916/2026
کوئٹہ: 12 اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب احمد نوشیروانی کے وژن اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے چیئرپرسن عبداللہ خان کی ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر میں جاری مانیٹرنگ مہم کے سلسلے میں آج مختلف ریسٹورنٹس پر ٹیمیں تعینات کی گئیں۔اتھارٹی کے مطابق مانیٹرنگ ٹیم نے OPTP اور Master Biryani کا دورہ کیا جہاں ٹیکس قوانین پرعملدرآمد اور POS سسٹم کی درست انٹیگریشن کا جائزہ لیا گیا۔
بی آر اے نے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے POS سسٹمز مکمل طور پر فعال رکھیں، فروخت کی درست رپورٹنگ یقینی بنائیں اور مقررہ مدت کے اندر ٹیکس ریٹرن فائل کریں اور واجبات ادا کریں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 2917/2026
خضدار 12 اپریل: انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار میں محکمہ فنانس قلات ڈویژن کے اسسٹنٹ کمپیوٹر آپریٹر کی خالی آسامیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ نہایت شفاف، منظم اور بہترین انتظامات کے ساتھ کامیابی سے منعقد کیا گیا۔ تقریباً 3700 امیدواروں کی بڑی تعداد کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے امتحانی عمل کو احسن انداز میں مکمل کرنے کے لئے جامع اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں پورا عمل خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔امتحانی سرگرمیوں کی نگرانی یونیورسٹی منیجمنٹ کے سربراہ رجسٹرار ڈاکٹر جلال شاہ نے کی۔ ان کے ہمراہ ڈائریکٹر جنرل کیو ای سی انجینئر لیاقت لہڑی، ڈی جی ORIC ڈاکٹر عطاء اللہ خدرانی، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن انجینئر رضا زہری، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر صلاح الدین،ڈاکٹر عبداللہ مینگل، ٹریژر عابد مینگل، لائبریری سے محمد انور سرپرہ، ڈپٹی رجسٹرار عبدالرحمن گنگو، محمد حسین، انجینئر رحیم زہری، مرزا نعمان، ابرار حلیمی اور پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد بشیر جتک بھی موجود تھے۔ یونیورسٹی کی منیجمنٹ اور متعلقہ شعبہ جات کے سربراہان نے امتحان کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ دیگر فیکلٹی ممبرز بھی بھرپور انداز میں شریک رہے۔ٹیسٹ کے انعقاد کے لئے یونیورسٹی میں مختلف امتحانی مراکز قائم کیے گئے، تھے۔ ہر مرکز پر ذمہ دار افسران اور عملہ تعینات کیا گیا تھا، جنہوں نے امیدواروں کی رہنمائی، نشستوں کی ترتیب اور داخلے کے عمل کو انتہائی منظم انداز میں یقینی بنایا۔ نتیجتاً کہیں بھی بدنظمی دیکھنے میں نہیں آئی اور امتحانی ماحول مکمل طور پر پرامن اور شفاف رہا۔امتحان میں مرد و خواتین امیدواروں نے بھرپور شرکت کی، جن کے لئے علیحدہ اور مناسب انتظامات کیے گئے تھے تاکہ سب کو یکساں سہولت فراہم ہو سکے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی جامع اقدامات کئے گئے۔ سیکیورٹی آفیسر عبدالصمد مینگل کی نگرانی میں امتحانی مراکز کے اندر اور باہر سخت سیکیورٹی تعینات رہی جبکہ نقل کی روک تھام کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے۔ امیدواروں کو واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی مدد یا مواد کی اجازت نہیں ہوگی، جس پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا۔دوسری جانب محکمہ فنانس کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈپٹی سیکرٹری ریگولیشنز نصیر احمد کی سربراہی میں امتحانی مراکز کا وقتاً فوقتاً دورہ کرتا رہا اور انتظامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کے ہمراہ عثمان ببری (انڈر سیکرٹری ٹریژریز) تھے۔ متعلقہ آفیسرز نے مختلف مراکز کا جائزہ لے کر شفافیت اور نظم و ضبط کو سراہا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایڈمن رضا زہری نے کہا کہ اس طرح کے شفاف اقدامات میرٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اہل امیدواروں کو آگے آنے کا موقع دیتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نتائج بھی اسی میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر 2918/2026
کوئٹہ 12 اپریل۔ صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کی زد میں ہے، پانی کی قلت اور زرعی زمینوں کی بربادی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہےوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق :”بلوچستان ماحولیاتی لحاظ سے ایک حساس صوبہ ہے، ہمیں مستقبل کے خطرات کو روکنے کے لیے آج اقدامات کرنے ہوں گے۔ شجرکاری، پانی کے ذخائر کی حفاظت اور صاف توانائی کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صوبائی مشیر ماحولیات نسیم الرحمن ملاخیل نے کہا کہ:”بلوچستان میں کلائمیٹ چینج کے اثرات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے صوبے بھر میں ‘گرین بلوچستان’ مہم کے تحت بڑے پیمانے پر شجرکاری، آلودگی کنٹرول اور ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔”نسیم الرحمن ملاخیل نے مزید بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے عوام، سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔”ماحول صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم ضلعی سطح پر ماحولیاتی کمیٹیاں قائم کر رہے ہیں تاکہ مقامی سطح پر مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ممکن ہو سکے۔”حکومت بلوچستان کا مؤقف ہے کہ وفاقی سطح پر کلائمیٹ فنانسنگ میں بلوچستان کو جائز حصہ دیا جائے تاکہ صوبہ اس چیلنج کا مؤثر طور پر مقابلہ کر سکے۔

خبرنامہ نمبر 2920/2026
کوئٹہ 12اپریل۔آج پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے فوری اور مؤثر اقدامات کرتے ہوئے صورتحال کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، پارلیمانی سیکرٹری صمد گورگیج، ایس ایس پی آپریشن محمد آصف اور اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ حکام نے موقع پر موجود لواحقین سے تفصیلی مذاکرات کیے اور ان کے تحفظات کو غور سے سنا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں مکمل اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کے افسران شہداء کی تدفین تک مسلسل لواحقین کے ساتھ موجود رہے اور ہر مرحلے پر معاونت فراہم کرتے رہے۔صوبائی حکام کی سنجیدہ کاوشوں اور مؤثر مذاکرات کے نتیجے میں لواحقین نے شہداء کی تدفین پرامن انداز میں مکمل کی۔ تدفین کے بعد بند شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا، جس سے آمدورفت بحال ہوگئی اور شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی آئی۔حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی بروقت کارروائی، مربوط حکمت عملی اور عوام دوست اقدامات کے باعث ایک ممکنہ کشیدہ صورتحال کو نہایت دانشمندی اور پرامن طریقے سے حل کر لیا گیا۔ انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ متعلقہ حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی بھی کروائی ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 2922/2026
ڈیرہ غازی خان، 12 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اتوار کو کھوسہ ہاؤس گئے جہاں انہوں نے سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے انتقال پر ان کے صاحبزادگان اور اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے انتقال سے ملک ایک مدبر، دور اندیش اور سینئر سیاستدان سے محروم ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ مرحوم کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ بلوچ اقوام اور پاکستان کی سیاست کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، جس کا خلا مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا انہوں نے کہا کہ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے ساتھ ان کے دیرینہ احترام پر مبنی تعلقات تھے اور ان کی وفات پر وہ گہرے رنج و غم کا شکار ہیں اور اس دکھ کو اپنا ذاتی صدمہ سمجھتے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مرحوم کی قومی خدمات کو ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا اور ملک و قوم کے لیے ان کی خدمات ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں اس موقع پر صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ، رکن بلوچستان اسمبلی مولوی نور اللہ اور دیگر شخصیات بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ موجود تھیں۔

خبرنامہ نمبر 2923/2026
کوئٹہ، 12 اپریل:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہزار گنجی میں پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اور ناقابلِ برداشت کارروائی قرار دیا انہوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر کو معصوم اور نہتے شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی میر سرفراز بگٹی نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے انہوں نے واضح کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور دہشت گرد عناصر کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور کسی کو بھی عوام کے امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *