18th-March-2026

خبرنامہ نمبر3157/2026
کوئٹہ 18 مارچ صوبائی وزیر خوراک و چیرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے ضلع دکی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں 5 ایف سی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وطن کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔انہوں نے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ صوبائی وزیر نے شہداءکے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3158/2026
کوئٹہ18مارچ۔ صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم خان بازئی کے والد اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پرسنل اسٹاف افسر سید امین کے والد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ والد کا سایہ انسان کے لیے ایک عظیم نعمت ہوتا ہے اور اس کا بچھڑ جانا ناقابلِ تلافی نقصان ہے انہوں نے مرحومین کی دینی و سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا دیر تک محسوس کیا جاتا رہے گا صوبائی وزیر نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطاء کرے۔
خبرنامہ نمبر3159/2026
گوادر18مارچ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کی روشنی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ نے چیف منسٹر بلوچستان اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام (B-TEVTA) کے تحت مختلف ٹریڈز میں بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند امیدواروں کے انٹرویوز لیے۔انٹرویوز کے دوران امیدواروں نے اپنے اصل قومی شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد اور دیگر متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ شرکت کی اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت کا موثر انداز میں مظاہرہ کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ نے امیدواروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں بلکہ ملک و قوم کا نام بھی روشن کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی کاوشوں کا نتیجہ ہے، جس کے تحت نوجوانوں کو جدید پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر کے عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ امیدواروں پر زور دیا گیا کہ وہ ایمانداری، محنت اور مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنائیں تاکہ کامیابی ان کا مقدر بن سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3160/2026
نصیرآباد18مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت شناختی کارڈ ہولڈرز افغان مہاجرین سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر، نادرا کے آفیسر شہزاد بھنگر، ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی اور انٹیلیجنس اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں افغان مہاجرین کے غیر قانونی شناختی کارڈز کے اجرا، ان کی تصدیق اور منسوخی کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن افغان مہاجرین کے پاکستانی شناختی کارڈز بنے ہوئے ہیں انہیں فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اس ضمن میں تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے تاکہ ایسے تمام افراد کو بھی سامنے لایا جا سکے جو فیملی ٹری کی بنیاد پر اس عمل میں شامل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ نادرا ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ قومی سلامتی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے شناختی کارڈز کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3161/2026
نصیرآباد 18مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا ۔جس میں ضلع بھر میں تعلیمی نظام کی بہتری، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی عمل کو موثر بنانے کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں غیر حاضر اساتذہ کے خلاف سخت فیصلے کرتے ہوئے ہدایت جاری کی گئی کہ ایسے اساتذہ کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے اور انہیں شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جائیں۔عادی غیر حاضر اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کیا جائے گا ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ بچوں کے مستقبل پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور اساتذہ کو ہر صورت اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق تعلیمی اداروں میں بہتری لانا ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ نے ضلع میں جاری تدریسی عمل، اساتذہ کی حاضری اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں تاہم مزید سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسران (میل و فیمیل)، آر ٹی سی ایم، یونیسیف کے نمائندگان، ڈپٹی کمشنر کے پرنسپل سیکرٹری منظور شیرازی اور اساتذہ تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے اور اساتذہ کی غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3162/2026
گوادر18مارچ ۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گوادر کے زیرِ اہتمام خواتین کے لیے ایک منفرد اور خصوصی مینا بازار کا انعقاد جی ڈی اے بیچ ماڈل پارک میں کیا جا رہا ہے، جس کا باقاعدہ آغاز کل افطار کے بعد ہوگا اور یہ سلسلہ چاند رات تک جاری رہے گا۔مینا بازار کے انعقاد کے لیے تیاریاں آج سے باقاعدہ طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں رضاکاروں اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے بھرپور انداز میں حصہ لیتے ہوئے بینرز کی تنصیب، اسٹالز کی منظم نمبرنگ، اشیاءکی ترتیب، صفائی و ستھرائی اور روشنی کے موثر انتظامات کو یقینی بنایا تاکہ شہریوں، بالخصوص خواتین کے لیے ایک پرکشش، منظم اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔یہ مینا بازار خصوصی طور پر خواتین کے لیے مختص ہوگا، جہاں تمام اسٹالز خواتین ہی کی جانب سے لگائے جائیں گے، کاروبار بھی خواتین چلائیں گی اور خریداروں کو سہولیات بھی خواتین فراہم کریں گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کو ایک محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ عید کی خریداری بغیر کسی دشواری کے اطمینان کے ساتھ انجام دے سکیں۔مینا بازار میں عید سے متعلق متنوع اشیاء دستیاب ہوں گی جن میں ثقافتی اور روایتی لباس، خوبصورت بلوچی چادریں، چپل، پرس، ہینڈ میڈ مصنوعات، کاسمیٹکس اور جیولری شامل ہیں۔ مزید برآں، مختلف اقسام کے معیاری کھانوں پر مشتمل فوڈ اسٹالز بھی لگائے جائیں گے جو شہریوں کے لیے خصوصی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس ایونٹ کے انعقاد کا مقصد مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، بالخصوص خواتین کی معاشی خودمختاری کو تقویت دینا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گوادر نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس منفرد اور مثبت اقدام میں بھرپور شرکت کرکے اسے کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3163/2026
کوئٹہ 18مارچ۔ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کے زیرِ اہتمام “کوئٹہ کلین اینڈ گرین انیشیٹو 2026” کے تحت شہر بھر میں شجرکاری مہم بھرپور انداز میں جاری ہے، جس کا مقصد شہر کو سرسبز و شاداب بنانا اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ہے۔اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور روٹری کلب کی مشترکہ ٹیمیں کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں شجرکاری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ شہر کے اہم شاہراہوں، پارکوں، تعلیمی اداروں، رہائشی علاقوں اور خالی پلاٹس میں پودے لگائے جا رہے ہیں تاکہ نہ صرف ماحول کو بہتر بنایا جا سکے بلکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند فضا بھی فراہم کی جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنا، درجہ حرارت میں کمی لانا اور شہریوں میں شجرکاری کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ درخت نہ صرف ماحول کو آلودگی سے پاک رکھتے ہیں بلکہ انسانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔روٹری کلب کے نمائندوں نے بھی اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر شہر کی خوبصورتی اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے گھروں، محلوں اور اردگرد کے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں۔ضلعی انتظامیہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لگائے گئے پودوں کی دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے، اس لیے متعلقہ اداروں اور شہریوں کو چاہیے کہ وہ ان پودوں کی حفاظت اور آبیاری کو یقینی بنائیں تاکہ یہ مہم دیرپا نتائج دے سکے۔شہر کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت اور خوش آئند قدم قرار دیا ہے، جس سے نہ صرف کوئٹہ کا ماحول بہتر ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ایک صاف اور سرسبز ماحول میسر آئے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3164/2026
کوئٹہ 18مارچ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کوئٹہ کے آفس سے جاری ہونے والے ایک سرکلر کے مطابق تمام زونل کمیٹی ممبران کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ زونل کمیٹی کا آئندہ اجلاس 29 رمضان المبارک 1447ہجری بروز جمعرات بتاریخ 19 مارچ 2026 قبل از وقت مغرب بمقام ڈپٹی کمشنر کمپلیکس انسکمب روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوگا ۔جس میں شوال 1447 ہجری کا چاند دیکھا جائے گا لہذا تمام ممبران کمیٹی کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ چاند اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3165/2026
تربت۔ 17 مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ، یاسر اقبال دشتی نے بدھ کے روز ٹیچنگ ہسپتال تربت کا دوبارہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وحید بلیدی اور دیگر میڈیکل افسران سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، طبی سہولیات اور درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے اپنے گزشتہ دورے کے تناظر میں ہسپتال میں صفائی کی صورتحال اور بعض ڈاکٹرز کی غیر حاضری سے متعلق امور پر توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت مکران ڈویڑن کا سب سے بڑا جبکہ صوبے کے اہم ترین ہسپتالوں میں سے ایک ہے، جہاں مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹرز اور طبی عملہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض ڈاکٹرز سرکاری فرائض کی انجام دہی کے بجائے نجی کلینکس کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، جس سے بالخصوص مستحق اور نادار مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہسپتال میں حاضری اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں اچانک دوروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیوٹی کے اوقات میں بلا اجازت غیر حاضر پائے جانے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت ایک اہم عوامی ادارہ ہے، جس کی بہتری اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت طبی خدمات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3166/2026
قلات18مارچ۔ ڈپٹی کمشنر قلات کے ایک حکمنامے کے مطابق عبدالقادر ولد پیر محمد قوم زہری سکنہ گیڑدغان تحصیل وضلع سوراب کا لوکل سرٹیفیکیٹ انکی اپنی درخواست پر منسوخ کردیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3167/2026
کوئٹہ18مارچ۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہر صلاحیت اپنی نشوونما کیلئے مناسب موقع کا محتاج ہے اور موقع نہ ملنے کی صورت میں صلاحیت ضائع بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت صوبے کے دورافتادہ اضلاع میں بعض یونیورسٹیوں اور انکے کیمپسز کو پروفیسرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ یہاں سرکاری یونیورسٹیوں کی سطح پر “برین ڈرین” ہائیر ایجوکیشن سیکٹر پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ضروری مواقعوں اور سہولیات کی عدم فراہمی سے ہمارے روشن دماغ دوسرے صوبوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں لہٰذا ایک جامع پالیسی کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ “برین ڈرین” کی بجائے “برین گین” کیلئے راہ ہموار ہو سکے۔ یہ بات انہوں نے مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم اپنے پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو جاب سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ مراعات بھی فراہم کرینگے جس کے نتیجے میں وہ متعلقہ یونیورسٹی سے وابستہ رہتے ہوئے پورے دل و جان سے کام کرینگے۔ ہماری یہ تعلیم دوست حکمت عملی مستقبل قریب میں دوسرے صوبوں کے پروفیسرز اور سکالرز کو بھی راغب کریگی۔ ہماری طویل جدوجہد اور کڑی نگرانی سے خاصی بہتری آئی ہے۔ سینیٹ اور سینڈیکیٹ اجلاسوں کی بروقت انعقاد یونیورسٹیز کے امور ومعاملات میں شفافیت پیدا ہوئی ہے۔ ہماری یونیورسٹیاں اپنی کارکردگی کے اعتبار سے پنجاب اور سندھ کی یونیورسٹیوں کے برابر ہیں۔ انشائ اللہ اب دیگر صوبوں کے طلبائ اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے بلوچستان آئیں گے۔اس وقت بھی جاب سیکورٹی نہ ہونےکی وجہ مجموعی طور 30 سے زائد سینئر پی ایچ ڈی سکالرز دیگر صوبوں میں جا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے ہاں مطلوبہ پروفیسرز کی عدم موجودگی محض تعداد کا بحران نہیں بلکہ یہ ہائیر ایجوکیشن سیکٹر کیلئے ایک وجودی سوال بھی ہے۔ تجربہ سے ثابت ہے کہ برین ڈرین کو روکنے کی پالیسی نہ اپنانے سے یہ وقت کے ساتھ تمام اداروں کیلئے “برین ہیمرج” ثابت ہوتا ہے۔گورنر مندوخیل نے کہا کہ اسکے برعکس وفاق اور دیگر صوبوں کی یونیورسٹیز میں فیکلٹی کو جاب سیکورٹی، بہتر معاوضے اور ترقی کے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ پروفیسرز کی عدمِ موجودگی سے ڈیپارٹمنٹس کی سطح پر بھی زیر تعلیم ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز اپنی سائنٹفک ریسرچ اور سپرویڑن سے محروم ہیں۔ ہمیں اس وقت زیادہ سینئر ماہرین، ریسرچرز اور سکالرز کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کی ترقی کا راز اسکے ٹیلنٹ کو ایکسپورٹ کرنے میں نہیں بلکہ یہاں انکے پروان چڑھانے میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا ہم یونیورسٹیوں کی تعمیر و ترقی پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن پروفیسرز کو جاب سیکورٹی کی عدمِ فراہمی سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ برین ڈرین کی لہر کو فوری طور پر روکنے سے صوبے کے روشن مستقبل کو بآسانی محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ اپنے پی ایچ ڈی سکالرز اینڈ ریسرچرز کو مضبوط اور بااختیار بنانے کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کا راز اپنے ماہرین و محققین کے علم وتجربے کو بروئے کار لاتے میں ہی پوشیدہ ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3168/2026
کوئٹہ ، 18مارچ ۔سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں عوامی شکایات کے ازالے کے لیے براہ راست ہر شہری اپنی شکایات، مسائل اور تجاویز براہِ راست آئی جی پولیس بلوچستان کو دینے کے لیے ان کے واٹس ایپ نمبر03043470110 پر ارسال کر سکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ ٹول فری نمبر 81-111775544پر درج کروا سکتے ہیں۔جو کہ صوبے کے کسی مقام سے اور کسی بھی وقت کال کرکے اپنی شکایات نوٹ کروائے جاسکتے ہیں جبکہ تمام پولیس تھانوں کے باہر آویزاں فون نمبرز پر بھی 9203377 / 9204081 / 9204180 / 9204094 پر کال کرکے اپنی شکایا ت درج کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت عوامی مراکز پر عام شہری کو آگاہی دینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔جبکہ فیلڈ افسران کو اس حوالے سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کو اس سہولت کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مقامی سطح پر اس کی تشہیر کو یقینی بنائیں جبکہ اس سہولت کا مقصد براہ راست بلوچستان پولیس کے سربراہ تک براہ راست رسائی، پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرنے کے علاوہ شفافیت کا فروغ اور ان کے جائز شکایات کا ازالہ فوری ممکن بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3169/2026
کوئٹہ 18مارچ۔ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ نے سیکیورٹی فورسز، انٹیلیجنس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے تمام اہلکاروں کوخاتون خودکش بمبار کی بروقت گرفتاری پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کی ہے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فرسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بروقت حکمتِ عملی اور جراتمندانہ کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ناکام بنایا اور بے شمار معصوم جانوں کو محفوظ رکھا یہ کامیابی پوری قوم کے لیے باعثِ اطمینان ہے صوبائی وزیرنے کہا کہ اس موثر اور بروقت کارروائی پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سیکیورٹی اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور تمام متعلقہ فورسز کو مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنی ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھاتے ہوئے دہشتگردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنایا انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے ہر قسم کے خطرات، سازشوں اور دہشتگردی کے ناپاک عزائم سے نمٹنے کے لیے ہر وقت چوکس، مستعد اور مکمل طور پر تیار ہیں ان اداروں کی قربانیاں، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی سلامتی کے لیے غیر متزلزل عزم قابلِ فخر ہے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ نے کہا کہ ہمیں اپنی بہادر افواج، سیکیورٹی فورسز اور انٹیلیجنس اداروں پر فخر ہے، جو اپنی جانوں پر کھیل کر ملک و قوم کی حفاظت یقینی بنا رہے ہیں۔ پوری قوم ان اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک ان کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3170/2026
کوئٹہ، 18 مارچ ۔بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قلعہ عبداللہ میں تین واٹر سپلائی اسکیموں کے فنڈز کے اجراء اور مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسکیم نمبر 3835 اور 3916 پر عملی کام کے بغیر فنڈز کے اجراءکو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔ درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ نیب اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو سات دن کے اندر باضابطہ انکوائری شروع کرنے، فرانزک آڈٹ کرانے، ہر 30 دن بعد پیش رفت رپورٹ جمع کرانے، منی ٹریل کا سراغ لگانے اور ذمہ دار افسران و ٹھیکیداروں سے تقریباً 30 ملین روپے کی وصولی مارک اپ کے ساتھ کرنے کا حکم دیا جائے۔درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا کہ انکوائری مکمل ہونے تک ملوث افسران کو معطل کیا جائے، اسکیموں کا مکمل فرانزک آڈٹ کسی مستند چارٹرڈ اکاونٹنٹ فرم یا آڈیٹر جنرل کی خصوصی ٹیم سے کرایا جائے اور ضرورت پڑنے پر ذمہ داران کے بینک اکاونٹس اور منقولہ و غیر منقولہ اثاثے منجمد کیے جائیں۔عدالت نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ آیا درخواست گزار نے متعلقہ رکن صوبائی اسمبلی سے اس معاملے پر رابطہ کیا ہے یا نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ایم پی اے کی جانب سے اسکیموں کی تجویز پیش کی جا چکی ہو تو منصوبوں پر عملیعملدرآمد کرانا متعلقہ محکمہ اور عملدرآمدی اداروںکی ذمہ داری ہوتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار عنایت اللہ خان اچکزئی کو روسٹر پر طلب کیا جنہوں نے حلف پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ قلعہ عبداللہ کے علاقے میں ایم پی اے انجینئر زمرک خان اچکزئی کے فنڈ سے تین واٹر سپلائی اسکیمیں — کلی عنایت کاکوزئی، کلی زبردست کاکوزئی اور کلی چنہ عبد الرحیم — ہر ایک ایک کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کی گئیں۔ ان کے مطابق ان اسکیموں کے فنڈز جاری ہونے کے باوجود ایک سال گزرنے کے باوجود عملی کام شروع نہیں کیا گیا۔درخواست گزار نے مزید بیان دیا کہ انہوں نے اس معاملے پر متعدد مرتبہ متعلقہ حکام، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، چیف منسٹر انسپکشن ٹیم (CMIT) اور اینٹی کرپشن حکام سے رابطہ کیا لیکن موثر کارروائی عمل میں نہیں آئی۔بیان ریکارڈ ہونے کے بعد عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ ایم پی اے زمرک خان اچکزئی اور چیئرمین چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کو بھی مقدمے میں فریق بنایا جائے اور دو دن کے اندر پٹیشن کا ترمیم شدہ عنوان عدالت میں جمع کرایا جائے۔عدالت نے قرار دیا کہ ترمیم شدہ عنوان جمع ہونے کے فوراً بعد جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ اس حکم کی کاپی ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت دی گئی۔عدالت نے مزید سماعت 2 اپریل 2026 تک ملتوی کر دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3171/2026
گوادر، 18 مارچ۔ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان کی صدارت میں ادارے کے ملازمین اور انتظامی امور سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے کی کارکردگی، اصلاحات اور مختلف شعبہ جات کی فعالیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن چنگیز خان، ڈائریکٹر فنانس ذاکر مجید، ڈائریکٹر انوائرمنٹ رسول بخش بلوچ، کنٹرولر بلڈنگز نذر احمد، ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ شے منصور، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیومن ریسورس نظر محمد، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ عبدالرزاق، سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل کو ادارے میں تعینات تمام ملازمین، ان کی ذمہ داریوں، جائے تعیناتی، کارکردگی اور اسائنمنٹس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں ادارہ جاتی بہتری کے لیے پیش کی گئی مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور ان پر موثر انداز میں عملدرآمد کے لیے متعلقہ شعبوں کو واضح ہدایات جاری کی گئیں۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ اداروں کی ترقی شفافیت، میرٹ، موثر نظام اور مضبوط انتظامی ڈھانچے سے مشروط ہوتی ہے۔اجلاس میں حال ہی میں قائم کیے گئے واٹر سیکشن کو مزید مستحکم اور فعال بنانے پر زور دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ واٹر سیکشن میں افرادی قوت کو عارضی اٹیچمنٹ کے بجائے مستقل بنیادوں پر تعینات کیا جائے تاکہ یہ شعبہ موثر انداز میں کام کر سکے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی کے نظام میں واضح بہتری لائی جا سکے۔اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے کفایت شعاری سے متعلق جاری کردہ پالیسیوں اور فیصلوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ ان حکومتی اقدامات کو ادارے میں مکمل طور پر نافذ کیا جائے اور تمام متعلقہ شعبے ان پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنائیں۔اجلاس میں ادارے میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے بھی اہم فیصلے زیر غور آئے۔ منشیات کے عادی ملازمین کے حوالے سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی تجویز پر غور کیا گیا، جبکہ مسلسل غیر حاضری کے مرتکب ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے اس موقع پر کہا کہ ادارے کی ترقی کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں اور شفافیت، میرٹ اور احتساب کو یقینی بنا کر ہی ادارے کو ایک مضبوط اور فعال ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تمام افسران و عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور جذبہ خدمت کے ساتھ انجام دیں تاکہ جی ڈی اے کو ایک مثالی عوامی ادارہ بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3172/2026
چمن18مارچ ۔ 23 مارچ یومِ پاکستان کے موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں پرچم کشائی کی ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا .۔یوم پاکستان کے موقع پر ضلع کے کے غیور عوام بشمول قبائلی و سیاسی عمائدین علمائ کرام لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران، اساتذہ کرام، اسٹوڈنٹس اور مختلف محبِ وطن تنظیموں کے نمائندگان اس پروقار تقریب میں شرکت کریں گے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام شہری یوم پاکستان کے قومی تقریب میں شرکت کر کے حب الوطنی کے جذبے کا اظہار کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آزادی کی قدر و قیمت زندہ قومیں جانتی ہیں اور پاکستان کی آزادی کا پیش خیمہ 23 مارچ کی قرارداد ہی ثابت ہوا اور آخر کار انتھک کوششوں اور جدو جہد کے بعد 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا اور برصغیر کے مسلمانوں نے سکون و اطمینان کا سانس لیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3173/2026
کوئٹہ 18 مارچ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بلوچستان ریونیواتھارٹی اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے تاکہ مقامی وسائل کے حصول کو مضبوط بنایا جا سکے اور مالیاتی نظم و نسق کو بہتر کیا جا سکے۔اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس عبداللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں اتھارٹی اور محکمہ خزانہ کے سینئر ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان میں ٹیکس گیپ کے جامع جائزے اور محصولات کی استعداد (ریونیو پوٹینشل) کی نقشہ سازی پر غور کیا گیا۔ یہ طے پایا کہ اس مقصد کے لیے محکمہ خزانہ ایشیین ڈولپمنٹ بینک(اے ڈی بی) سے تکنیکی معاونت حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا۔ اس مطالعے میں ریونیو کے بنیادی عوامل کی نشاندہی کی جائے گی، جن میں مجموعی معاشی سرگرمی، شرح نمو کے رجحانات، اور خدمات کے شعبے میں موجود غیر استعمال شدہ صلاحیت شامل ہیں۔خصوصی توجہ سنٹرل پروڈکٹ کلاسیفکیشن (CPC) فریم ورک کے تحت نئے قابلِ ٹیکس شعبوں کی نشاندہی اور موجودہ نیگیٹو لسٹ نظام کے جائزے پر دی جائے گی تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے باضابطہ شعبے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس بیس کو وسعت دی جائے۔ اس تناظر میں غیر رسمی معیشت کو ایک اہم چیلنج قرار دیا گیا، جس کے لیے ہدفی ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر دستاویزی نظام اور منظم نقشہ سازی کی ضرورت ہے۔یہ اقدام حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ شفافیت کو فروغ دیا جائے، ٹیکس نظام میں انصاف کو یقینی بنایا جائے، اور صوبے کے لیے ایک پائیدار ریونیو نظام قائم کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3174/2026
دکی18,مارچ۔ ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے آج مورخہ 18 مارچ 2026 کوRHC اسماعیل شہر، تحصیل تھل چوٹیالی کا اچانک دورہ کیا۔دورانِ چیکنگ یہ بات انتہائی تشویشناک طور پر سامنے آئی کہ ار ایچ سی ہسپتال مکمل طور پر بند تھا اور کوئی بھی ڈاکٹر ، طبی یا معاون عملہ اپنی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔ مزید برآں، ہسپتال میں صفائی کی صورتحال نہایت ابتر تھی اور صفائی کا بالکل بھی انتظام موجود نہیں تھا، اسسٹنٹ کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔یہ عمل متعلقہ عملے کی شدید غفلت، لاپرواہی اور فرائض سے چشم پوشی کا واضح ثبوت ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔لہٰذا متعلقہ عملے کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اور ذمہ داران کے خلاف انکوائری شروع کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ اس قسم کی غفلت کا سدباب ہو سکے۔اور عوام بروقت علاج معالجہ کی سہولیات مہیا ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 3176/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر نے ضلعی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام خواتین کے لیے منعقدہ خصوصی مینا بازار کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ یہ منفرد اور خصوصی مینا بازار جی ڈی اے بیچ ماڈل پارک میں سجایا گیا ہے، جس کا آغاز آج افطار کے بعد ہوا اور یہ سلسلہ چاند رات تک جاری رہے گا۔مینا بازار کے انعقاد کے لیے مختلف شاپنگ اسٹالز قائم کیے گئے ہیں، جہاں انتظامات کو نہایت منظم انداز میں یقینی بنایا گیا ہے۔ اسٹالز کی باقاعدہ نمبرنگ، اشیاء کی خوبصورت ترتیب، صفائی و ستھرائی اور روشنی کے مؤثر انتظامات کے ذریعے شہریوں، بالخصوص خواتین کے لیے ایک پُرکشش، محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں اور رضاکار بھرپور انداز میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔یہ مینا بازار خصوصی طور پر خواتین کے لیے مختص ہے، جہاں تمام اسٹالز خواتین کی جانب سے لگائے گئے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بھی خواتین ہی چلا رہی ہیں۔ خریدار خواتین کو بھی تمام سہولیات خواتین اسٹاف کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کو ایک باوقار، محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ عید کی خریداری مکمل اطمینان اور سہولت کے ساتھ انجام دے سکیں۔
مینا بازار میں عید سے متعلق متنوع اور دلکش اشیاء دستیاب ہیں، جن میں روایتی و ثقافتی ملبوسات، خوبصورت بلوچی چادریں، چپل، پرس، ہینڈ میڈ مصنوعات، کاسمیٹکس اور جیولری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ معیاری اور متنوع کھانوں پر مشتمل فوڈ اسٹالز بھی شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس مینا بازار کے انعقاد کا مقصد مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، بالخصوص خواتین کی معاشی خودمختاری کو مضبوط بنانا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مثبت اور منفرد اقدام میں بھرپور شرکت کریں اور اسے کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر3175/2026
زیارت، 18 مارچ ۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں رینج فارسٹ آفیسر رحیم اللہ، فارسٹر انعام اللہ اور دیگر فارسٹ سٹاف نے شرکت کی۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر کو جنگلات کی کٹائی کرنے والے کوسول عدالت کی جانب سے جاری کردہ وارنٹِ گرفتاری سے آگاہ کیا گیا۔ محکمہ جنگلات کی طرف سے کا ٹے گئےچالان بھی پیش کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر نے وارنٹ میں غیر قانونی قیمتی جنگلات کی کٹائی میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے محکمہ جنگلات کو عید کنٹنجنسی پلان مرتب کرنے کا بھی حکم دیا، کیونکہ عید کے موقع پر سیاح زیارت کا رخ کرتے ہیں، تاکہ انمول صنوبر کے جنگلات کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ درخت زمین کا زیور ہیں، یہ زمین کو کٹاوسے بچاتے ہیں، اس کی دلکشی میں اضافہ کرتے ہیں اور ماحول پر خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں۔ درختوں کی حفاظت کر کے ہم اپنے ملک کو جنت نظیر بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ درختوں کی کٹائی میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ زیارت کے صنوبر کے جنگلات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جنگلات کو مزید وسعت دینا ہوگی، کیونکہ زیارت کی خوبصورتی صنوبر کے جنگلات کی وجہ سے ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 3177/2026
کوئٹہ18مارچ۔صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ عید کے موقع پر شہریوں کو مکمل اور فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، سیکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی گزشتہ روز کوئٹہ میں صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو کے زیر صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئی جی جیل خانہ جات سعید احمد، ایڈیشنل آئی جی آغا یوسف، ڈی آئی جی کوئٹہ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گوریہ سمیت دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے اجلاس میں چاند رات اور عیدالفطر کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے سیکیورٹی صورتحال پر جامع بریفنگ دی اجلاس میں چاند رات، عیدگاہوں اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی پلان بھی ترتیب دیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےصوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز بہادری اور جرات کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہیں اور حالیہ واقعات کی روک تھام میں پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں امن وامان کی بحالی اور شہریوں کی تحفظ کے لئے پاک فوج،ایف سی،پولیس سمیت تمام ادارے بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں وزیر اخلہ نے ہدایت کی کہ عید کے موقعے پر تمام اضلاع سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *