خبرنامہ نمبر3095/2026
کوئٹہ، 16 مارچ۔ حکومت بلوچستان نے صوبے میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لیے انقلابی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہو۔ا جس میں تعلیم کے شعبے کی بہتری اور آوٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے جامع حکمت عملی پر غور کیا گیا اجلاس کو چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے نمایاں خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں آوٹ آف اسکول بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے پانچ سالہ جامع پروگرام تجویز کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں تک لایا جا سکے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 679 پرائمری اور 409 مڈل اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا بریفنگ کے مطابق تقریباً ایک ہزار اسکولوں کی اپ گریڈیشن سے گزشتہ پندرہ سال کے دوران پیدا ہونے والا تعلیمی عدم توازن بڑی حد تک ختم ہونے کی توقع ہے اجلاس میں تعلیم نسواں کے فروغ کے لیے طالبات کو معقول ماہانہ وظیفہ دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی تاکہ بچیوں کی تعلیم کے فروغ اور اسکولوں میں ان کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکے اس موقع پر محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے 174 ارب روپے کی لاگت سے 308 محکمانہ ترقیاتی اسکیمات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور ہر بچے کو اسکول تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل بلوچستان کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے اور حکومت صوبے میں تعلیمی سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ نوجوان نسل کو بہتر مواقع میسر آئیں انہوں نے کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں بھی تعلیمی اداروں کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا تاکہ تعلیمی شعبے میں حقیقی اور دیرپا بہتری لائی جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3096/2026
ہرنائی16مارچ۔ صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی کاوشوں اور فوکل پرسن حاجی باز محمد دمڑ کی مشاورت سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایکسین پی ایچ ای حفیظ الرحمن ہاشمی نے کلی اسپانی، کلی چرکین اور کلی چشتی آباد کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق جاری کاموں کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران ایکسین پی ایچ ای حفیظ الرحمن ہاشمی نے متعلقہ حکام اور عملے کے ساتھ مختلف مقامات پر جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا اور کام کے معیار اور رفتار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر انہوں نے ہدایت دی کہ منصوبے کو بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد اس منصوبے سے فائدہ پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی توجہ اور فوکل پرسن حاجی باز محمد دمڑ کی رہنمائی کے باعث علاقے میں عوامی فلاح و بہبود کے کئی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صاف پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں جاری منصوبہ علاقے کے عوام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ایکسین پی ایچ ای نے مزید کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے کلی م اسپانی، کلی چرکین اور کلی چشتی آباد کے مکینوں کو پینے کے صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے نہ صرف عوام کی روزمرہ مشکلات کم ہوں گی بلکہ صحت عامہ کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاری منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہونے کے بعد علاقے کے عوام کو درپیش پانی کی قلت اور صاف پانی کی عدم دستیابی جیسے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور ایسے ترقیاتی منصوبے عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے حکومتی کاوشیں آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہیں گی تاکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3097/2026
نصیرآباد16مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا ۔جس میں ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی، پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم طارق شہباز کٹوہرایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی،ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی یونیسیف کے نمائندگان، این اسٹاف، کامنیٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں 13 سے 16 اپریل تک جاری رہنے والی انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات اور حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر این اسٹاف کے ڈاکٹر غلام یاسین داجلی نے پولیو مہم کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مائیکرو پلاننگ، ٹیموں کی تربیت، ٹرانزٹ پوائنٹس اور ہائی رسک ایریاز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو بھرپور ذمہ داری اور ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینا ہوں گے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ مہم کے دوران کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ٹیمیں مقررہ شیڈول کے مطابق گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین بھی اس قومی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں کیونکہ پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات، ٹیموں کی مانیٹرنگ، دور دراز علاقوں تک رسائی اور عوامی آگاہی کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز پر غور کیا گیا جبکہ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ مہم کے دوران فیلڈ میں موجود ٹیموں کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ مہم کو ہر لحاظ سے کامیاب بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3098/2026
ہرنائی16مارچ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر تحصیل شاہرگ میں رمضان پیکج کے تحت غریب اور مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا۔ اس موقع پر کرنل علی عمر خٹک اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین کی نگرانی میں راشن کی تقسیم منظم اور باعزت انداز میں مکمل کی گئی۔تحصیل شاہرگ میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران مستحق افراد کی مدد کے لیے انتظامیہ کی جانب سے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں کرنل علی عمر خٹک اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین کی نگرانی میں مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا۔راشن کی تقسیم کے موقع پر ایس ایچ او پولیس شاہرگ عبدالمجید دشتی اور چیئرمین میونسپل کمیٹی شاہرگ سید عطاءاللہ شاہ بھی موجود تھے، جنہوں نے انتظامات کا جائزہ لیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ راشن شفاف اور منصفانہ انداز میں صرف مستحق افراد تک پہنچے۔اس موقع پر کرنل علی عمر خٹک اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رمضان پیکج کا مقصد علاقے کے غریب اور مستحق خاندانوں کی مدد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہدایت کے مطابق راشن صرف مستحق افراد میں تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ حقیقی حقداروں کو اس سہولت سے فائدہ پہنچ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ راشن کی تقسیم کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھا جائے اور مستحق افراد کی عزتِ نفس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انہیں سہولت فراہم کی جائے۔راشن حاصل کرنے والے مستحق افراد نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اس طرح کی امداد ان کے لیے بڑی سہولت اور ریلیف کا باعث ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی حکومت اور انتظامیہ اسی طرح عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کی مدد ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3099/2026
جعفرآباد16۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت 13سے 16اپریل تک شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم فیصل اقبال کھوسہ این سٹاف ڈاکٹر عبدالغفار سولنگی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندگان، لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے افسران اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر میں پولیو مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اب تک کیے گئے انتظامی و عملی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیاڈپٹی کمشنر خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام محکمے قومی ذمہ داری کے طور پر اپنا کردار ادا کریں، کوئی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنی قومی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں تاکہ ہم اپنے آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہم کے دوران فیلڈ میں تعینات ٹیموں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران کسی بھی قسم کی انتظامی یا فنی رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں فوری طور پر ضلعی کنٹرول روم سے رابطہ کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3100/2026
جعفرآباد16مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ضلع بھر میں تعلیمی امور، تدریسی عمل اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفرآباد عائشہ بگٹی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسران اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران افسران کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں جاری تدریسی عمل، اساتذہ کی حاضری، تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کی گئی کارروائیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ تعلیمی نظام کو موثر بنانے اور اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں جبکہ غیر حاضر اور فرائض میں غفلت برتنے والے اساتذہ کے خلاف ضابطہ کے مطابق کارروائیاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے اس لیے تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کو بہتر بنانا اور طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کو احساس کے ساتھ ادا کریں اور اسکولوں میں حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ طلبہ کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع نہ ہو۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلع کے تعلیمی اداروں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور جہاں بھی مسائل درپیش ہوں انہیں فوری طور پر حل کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، اساتذہ کی کارکردگی کو مزید فعال بنانے اور اسکولوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے اور ضلع جعفرآباد میں تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اقدامات مزید موثر ثابت ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3101/2026
تربت، 16 مارچ ۔: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے آج بروز پیر اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال کر بطور ڈپٹی کمشنر کیچ فرائض کی انجام دہی کا آغاز کر دیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل میجر (ر) بشیر احمد بڑیچ ضلع کیچ کے ڈپٹی کمشنر کے منصب پر تعینات تھے، جنہیں سرکاری حکمنامے کے تحت تبادلہ کرکے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ بلوچستان تعینات کر دیا گیا تھا۔ جبکہ ان کی جگہ تعیناتی کے منتظر یاسر اقبال دشتی کو نیا ڈپٹی کمشنر کیچ مقرر کیا گیا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3102/2026
کوئٹہ: 16مارچ ۔ ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ مرزا بلال حسن نے کہا کہ شہر میں عید کی خریداری کے مراکز اور شاپنگ مال کے حوالے سے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور ٹریفک کے نظام کو رواں رکھنے کے لئے ترتیب دی گئی جامع پلان کے تحت 260 اہلکار تعینات کئے گئے جوکہ اپنے افیسران کی نگرانی میں اپنی جائے تعیناتی پر موجود رہیں گے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز شہر کے مختلف مقامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔ ایس ایس پی ٹریفک نے کہا کہ شہر میں عوامی سہولیات کے حواے سے کسی کو ٹریفک نظام میں رکاوٹ اور تجاوزات کرنے کی اجازا ت نہیں دی جائے گی۔جبکہ غیر قانون موٹر سائیکل جو کہ سڑکوں پر قائم اور وہ ٹریفک میں خلل کا باعث بن رہے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر شہریوں اور دکانداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ شہر میں ٹریفک پولیس سے تعاون کرتے ہوئے ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں تاکہ آمد ورفت کے نظام کو بہتر بنایا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3103/2026
تربت: 16 مارچ ۔ میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی نے کوہ مراد زیارت شریف کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کوہ مراد زیارت شریف میں قائم بی ایچ یو سینٹر، زیارت کمیٹی کے دفتر اور آل پاکستان ذکری مسلم انجمن کی جانب سے لگائے گئے میڈیکل کیمپ کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران زیارت کمیٹی کے اراکین اور آل پاکستان ذکری مسلم انجمن کے مرکزی رہنماوں نے میئر بلخ شیر قاضی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میئر میونسپل کارپوریشن تربت نے زیارت شریف آنے والے زائرین کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔انہوں نے فراہمی آب، ایمرجنسی سروسز کے لیے فائر بریگیڈ کی سہولت اور صحت و صفائی کی خدمات کی فراہمی پر خصوصی طور پر میئر میونسپل کارپوریشن کا شکریہ ادا کیا۔آخر میں میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی نے میڈیکل کیمپ میں ادویات کی کمی کو جلد پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر میئر کے ہمراہ مسعود بلوچ، ڈاکٹر محمد حیات بلوچ، وہاب بلوچ اور کونسلر خدابخش بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3104/2026
کوئٹہ، 16 مارچ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پیر کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں وفاقی و صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس میں بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، افغان مہاجرین کی واپسی، حوالہ ہنڈی بھتہ خوری کے خاتمے، اسمگلنگ کی روک تھام اور دیگر اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اجلاس میں چیئرمین نادرا، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اور انسپکٹر جنرل فیڈرل کانسٹیبلری نے اپنے اپنے اداروں سے متعلق امور پر جامع بریفنگ دی اور صوبے میں غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب، ادارہ جاتی استعداد کار میں بہتری اور امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا اجلاس میں بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا اہم فیصلہ کیا گیا اس ضمن میں پہلے مرحلے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے دو ونگز تعینات کیے جائیں گے جبکہ مجموعی طور پر تقریباً تین ہزار اہلکار صوبے کے مختلف حساس علاقوں میں فرائض سرانجام دیں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو مزید فعال اور موثر بنایا جائے گا اس مقصد کے لیے ادارے میں موجود تمام خالی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی کی جائے گی تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں اور مقامی سطح پر ادارے کی کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اجلاس کے دوران حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت کے درمیان اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا اس سلسلے میں ریاست اور قومی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن و استحکام کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت بلوچستان کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے، جدید تربیت اور وسائل کی فراہمی کے لیے بھی بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے پوری قوت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے اور اس میں قومی اتحاد و یکجہتی بنیادی حیثیت رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ وہ روزِ اول سے واضح کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں ریاست کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی موثر حکمت عملی اور اداروں کے باہمی تعاون کے باعث صوبے میں صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے اور آج بلوچستان میں احتجاج کے نام پر کوئی شاہراہ بند نہیں ہوتی وزیر اعلیٰ نے صوبے میں امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کاوشوں، مربوط حکمت عملی اور قومی یکجہتی کے ذریعے دہشت گردی اور بدامنی کے چیلنجز کو شکست دی جائے گی اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور صوبائی حکومت باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام، ریاستی عملداری کے استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں گے اجلاس میں وفاقی حکام کے علاوہ بلوچستان سے رکن صوبائی اسمبلی میر ضیاء لانگو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ عمران زرکون سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3105/2026
کوئٹہ 16مارچ۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتیران نے رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم بازئی کے والد رکن قومی اسمبلی عادل خان بازئی کے دادا بازئی قبیلے کی بزرگ و معزز شخصیت ملک سیف اللہ بازئی کے انتقال پر ان کے گھر جا کے تعزیت کی -صوبائی وزیر نے کہا کہ مرحوم ملک سیف اللہ بازئی ایک باوقار قبائلی رہنما اور نہایت بااخلاق شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ہمیشہ علاقے میں بھائی چارے، اتحاد اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتیران نے رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم بازئی اور دیگر لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3106/2026
کوئٹہ 16مارچ۔بلوچستان بورڈسرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑاورسعودی عرب۔پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل کے وائس چیئرمین جناب عبدالعزیز الاشرفی نے بلوچستان میں آئی ٹی کے شعبے میں ممکنہ سرمایہ کاری منصوبوں سے متعلق آن لائن اجلاس کی مشترکہ طور پر صدارت کی،اجلاس میں بلوچستان بورڈسرمایہ کاری بورڈ کے سی ای اوقائم لاشاری اور دیگر حکام نے شرکت ہے، اجلاس میں سرمایہ کاری کے باہمی مواقع اور تعاون کو فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا اورفِن ٹیک، بزنس پراسیس آوٹ سورسنگ (BPO) اور آئی ٹی سروسز کے شعبوں میں ممکنہ پبلک پرائیویٹ جوائنٹ وینچر کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس مجوزہ اشتراک کا مقصد بلوچستان کے آئی ٹی سیکٹر میں سرحد پار جدت، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینا ہے۔اس موقع پر عبدالعزیز الاشرفی نے بلوچستان کے معدنیات کے شعبے میں بالخصوص تانبے اور سونے کے لیے ریفائنری اور ویلیو ایڈیشن سہولیات کے قیام کے حوالے سے سرمایہ کاری میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا، اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سعودی عرب کے شہزادہ پرنس منصور بن محمد بن سعود کے ساتھ پہلے زیرِ بحث آنے والے دیگر سرمایہ کاری مواقع پر علیحدہ فالو اپ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ ان شعبوں میں مچھلی اور جھینگا فارمنگ، لائیو اسٹاک اور زرعی ویلیو چینز کے فروغ کے علاوہ انسانی وسائل کی ترقی اور مہارتوں کی تربیت بھی شامل ہیں۔اس موقع پر بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع سے مالا مال ہے اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں بین الاقوامی شراکت داری صوبے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, March 16: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT), Mr. Bilal Khan Kakar, and Vice Chairman of the Saudi–Pakistan Joint Business Council, Mr. Abdulaziz Alashrafi, jointly chaired an online meeting regarding potential investment projects in the IT sector in Balochistan. The meeting was also attended by CEO BBoIT Mr. Qaim Lashari and other relevant officials.During the meeting, participants reviewed opportunities for mutual investment and discussed ways to enhance cooperation. Detailed discussions were held on the establishment of a potential public–private joint venture in the fields of FinTech, Business Process Outsourcing (BPO), and IT services. The proposed collaboration aims to promote cross-border innovation, investment, and technological cooperation in Balochistan’s IT sector.On this occasion, Mr. Abdulaziz Alashrafi also expressed strong interest in investment opportunities in Balochistan’s mining sector, particularly in establishing refinery and value-addition facilities for copper and gold.It was also agreed during the meeting that dedicated follow-up meetings would be held regarding other investment opportunities previously discussed with His Highness Prince Mansour bin Muhammad bin Saud. These include projects in fish and shrimp farming, livestock and agricultural value chains, as well as human resource development and skills training.Speaking on the occasion, Mr. Bilal Khan Kakar stated that Balochistan is rich in investment opportunities and that international partnerships, particularly in the IT sector, can play a vital role in the province’s economic development. He added that the Balochistan Board of Investment and Trade will extend full support and facilitation to foreign investors to promote investment in the province.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3107/2026
دکی .16,مارچ ۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال کی سربراہی میں مشرقی بائی پاس دکی کے مقام پر ناجائز قبضوں کے خلاف کارروائی< عمل میں لائی گئی۔کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ قبضہ مافیا کی جانب سے سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا تھا۔ اسسٹنٹ کمشنر دکی کی نگرانی میں فوری طور پر بھاری مشینری اور ٹریکٹر کے ذریعے آپریشن کرتے ہوئے تقریباً 3 ایکڑ اراضی کو ناجائز قبضے سے واگزار کرایا گیا۔آپریشن کے دوران تمام غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کو مسمار کر دیا گیا اور سرکاری اراضی کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ سرکاری زمین پر کسی قسم کا ناجائز قبضہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور آئندہ بھی قبضہ مافیا کے خلاف اسی طرح سخت قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔یہ کارروائی ضلعی انتظامیہ دکی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ سرکاری اراضی کو ہر صورت محفوظ بنایا جائے گا اور قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3108/2026
حب16مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر حب کے جاری کردہ ایک حکمنامے کے مطابق کمشنر قلات ڈویژن کے احکامات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی تاکہ وہ اس بات کا پتہ لگائے کہ محمد نواز ولد زہری خان اور علی جان ولد پھلان ( والد سفیان) حقیقت میں ضلع حب کے مقامی رہائشی ہیں یا نہیں۔ یاد رہے مذکورہ افراد کے لوکل سرٹیفیکیٹس فراز آدم ولد محمد آدم، آفتاب ولد عظیم اللہ، عبدالوحید ولد عبدالقادر اور جویرہ عزیز دختر عبدالعزیز نے چیلنج کیے تھے۔ جنکی درخواست پر بعد ازاں انکوائری شروع کی گئی۔اب انکوائری مکمل ہونے پر انکے لوکل سرٹیفیکیٹ معطل کردیے گئے ہیں۔ حکمنامے کے مطابق مذکورہ افراد نے جان بوج کر لوکل کمیٹی سے اپنی شناخت چپائی تھی اور ضروری سرکاری دستاویزات کی عدم فراہمی کے باوجود لوکل سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیے تھے۔ اس کے علاوہ انکوائری میں یہ بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ افراد ضلع حب کے مستقل رہائشی نہیں تھے بلکہ بعد ازاں یہاں ہجرت کرکے آئے تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3109/2026
کوئٹہ16 مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ خوشی ہوئی کہ میرے دورہ روس کے نتائج برآمد ہونا شروع ہوئے ہیں۔ پہلی مرتبہ سینٹ پیٹرزبرگ سٹیٹ یونیورسٹی آف ٹیلی کمیونیکیشنز (SPBSUT) نے لسبیلہ یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں. GIZ یورپین یونین کے تحت لسبیلہ یونیورسٹی کے فیکلٹی ایکیوپمنٹ اور ریپئرنگ کیلئے 21.3 کروڑ روپے کا پروجیکٹ موصول ہوا ہے۔ علاؤہ ازیں پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے لسبیلہ یونیورسٹی کے شعبہ سول انجینئرنگ کو باقاعدہ ایک سنگ میل کے طور پر تسلیم کرنا خوش آئند اقدام ہے۔ ہم وفاقی وزیر جام کمال خان، پاکستان کوسٹ گارڈ حب کے ڈی جی میجر جنرل جواد ریاض اور پارلیمانی سیکرٹری زرین مگسی کو لسبیلہ یونیورسٹی کے ساتھ خصوصی تعاؤن اور معاونت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لسبیلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ ہم سب کیلئے اعزاز ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی کی کیو ای سی (QEC)رینکنگ ٪45 سے ٪85.3 پر پہنچ چکی ہے جس کیلئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین اور کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ یہ ںہتری ہمارے درست فیصلوں، کڑی نگرانی اور سینٹ و سینڈیکیٹ کے اجلاسوں کے بروقت انعقاد کے نتیجے میں آئی ہے۔ گورنر بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ لسبیلہ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹس کی تعداد بڑھائی جائے، میرین سائنسز، زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں ڈپلومہ کورسسز کا جلد از جلد آغاز کیا جائے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔ اپنی کارکردگی اور تعلیمی ماحول کو پروان چڑھانے کے بعد اب لسبیلہ یونیورسٹی اس پوزیشن میں ہے کہ اس میں نئے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید مضامین متعارف کروائیں۔ وائس چانسلر نے گورنر بلوچستان کو لسبیلہ یونیورسٹی کے مالی امور میں مزید شفافیت لانے یونیورسٹی ہاسٹلز کے معاملات کو بہتر بنانے سے اگاہ کیا جس پر گورنر بلوچستان نے سراہتے ہوئے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ بحیثیت وائس چانسلر آپ عید کے بعد منعقد ہونے والے آل پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے سیمینار میں اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کرینگے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر3110/2026
کوئٹہ، 16 مارچ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد کوئٹہ سے واپس اسلام آباد روانہ ہو گئے کوئٹہ ایئرپورٹ پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر داخلہ کو رخصت کیا اس موقع پر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے دورۂ کوئٹہ کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کی اور امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور امن و استحکام کے قیام کے لیے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3111/2026
کوئٹہ، 16 مارچ .چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں جاری سڑکوں کی تعمیر اور ٹریفک مسائل سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف منسٹر پیکج برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ (CMPQD) کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رفیق بلوچ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ اکرم ہسپتال سے امداد چوک تک سڑک کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری ہے اور عیدالفطر سے پہلے تقریباً 70 فیصد کام مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت موجودہ سڑک کو ختم کر کے ایگریگیٹ بیس اور اسفالٹ بیس کورس بچھایا جا رہا ہے جبکہ فلائی اوور کے نیچے یوٹرنز، کراس ڈرینیج اور سروس روڈز کی تعمیر بھی جاری ہے۔ منصوبے کے ذیلی کاموں میں کرب اسٹون، فٹ پاتھ، لین مارکنگ، سائن بورڈز اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب شامل ہے جنہیں 30 اپریل 2026 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ زرغون روڈ کی توسیع اور بائیں جانب مجوزہ سروس روڈ کی تعمیر کے بعد شہر کے جنوب مشرقی اور مغربی علاقوں سے آنے والی ٹریفک کو مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ہر کیریج وے پر صرف تین لین دستیاب ہوں گی جبکہ پیک اوقات میں روزانہ 50 ہزار سے 70 ہزار گاڑیاں اس سڑک سے گزرتی ہیں۔ اس پر پروجیکٹ ڈائریکٹر نے تجویز دی کہ سڑک کے مشرقی حصے کو سروس روڈ بنانے کے بجائے مرکزی کیریج وے کے طور پر استعمال کیا جائے اور ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے ریگولیٹری سائن بورڈز، لین ڈیوائیڈرز اور کیٹ آئیز نصب کیے جائیں۔عدالت نے عبوری حکم دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، ڈی آئی جی کوئٹہ رینج اور ایس ایس پی ٹریفک پولیس کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تعمیر کے دوران اور اس کی تکمیل کے بعد زرغون روڈ اور دیگر زیر تعمیر سڑکوں پر کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کو پارکنگ کی اجازت نہ دی جائے۔
اس موقع پر وکیل مہک نے عدالت سے درخواست کی کہ اپریل میں آنے والے مسیحی تہوار ایسٹر کے پیش نظر امداد چوک خصوصاً میتھوڈسٹ چرچ کے کونے کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔ عدالت نے اس درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ امداد چوک کی تکمیل کو ترجیح دی جائے۔
عدالت کے سامنے یہ مسئلہ بھی اٹھایا گیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کی گیس پائپ لائن کی منتقلی اور دیگر یوٹیلیٹی لائنوں کی شفٹنگ میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جبکہ کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کی جانب سے بعض انتظامی رکاوٹیں بھی سامنے آئی ہیں جس کے باعث سمنگلی روڈ کی بروقت تکمیل متاثر ہو رہی ہے۔عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے CMPQD، SSGCL اور کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ عیدالفطر سے قبل مشترکہ اجلاس منعقد کریں اور ہدہ سنٹرل جیل کے مغربی جانب اور ہدہ قبرستان کے شمالی جانب گاڑیوں کے کمپاؤنڈ کے قیام سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کریں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی ادارے بشمول QESCO، PTCL اور WASA منصوبوں میں رکاوٹ بننے کے بجائے بروقت این او سی جاری کریں۔عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ بعض مقامات پر سڑکوں کے اطراف غیر قانونی دکانیں اور پارکنگ قائم کی جا رہی ہیں۔ عدالت نے واضح حکم دیا کہ انسکمب روڈ اور زرغون روڈ پر کسی بھی قسم کی نئی تجارتی سرگرمی یا دکانوں کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہو کر ان سڑکوں پر تجارتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی سے متعلق نوٹیفکیشن اور عملدرآمد رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔
عدالت نے حکم دیا کہ اس فیصلے کی نقل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی بھیجی جائے تاکہ متعلقہ اداروں تک پہنچا کر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
کیس کی مزید سماعت 9 اپریل 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
…
خبرنامہ نمبر 3112
کوئٹہ، 16 مارچ ۔بلوچستان ہائی کورٹ میں چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی، جس میں مختلف اہم شاہراہوں کی پیش رفت، فنڈنگ اور آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شمولیت کے معاملات زیر غور آئے۔
سماعت کے آغاز پر فاضل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں 6 مارچ 2026 کا ایک خط پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہرنائی سے سبی براستہ سپن تنگی روڈ سے متعلق پی سی ون (PC-I) مارچ 2023 میں جمع کرایا گیا تھا جبکہ فروری 2025 میں اسے دوبارہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے 9 اگست 2024 کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے منٹس کی کاپی بھی عدالت میں جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے اس منصوبے کے حوالے سے اس وقت کوئی معاملہ زیر التوا نہیں ہے۔دوسری جانب نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ممبر (ویسٹ زون) بشارت حسین نے عدالت کو زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی روڈ منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق 146.5 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ وفاقی حکومت نے بین الاضلاعی اور بین الصوبائی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیا ہے۔ موجودہ سڑک کی چوڑائی 3.65 سے 4.5 میٹر ہے جسے پی ایس ڈی پی کے تحت این ایچ اے کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کا ابتدائی پی سی ون 2018 میں تقریباً 10 ارب 79 کروڑ روپے کی لاگت سے پیش کیا گیا تھا جسے کم کر کے 8 ارب 37 کروڑ روپے کیا گیا اور 7 مارچ 2018 کو ECNEC نے اس کی منظوری دی۔ بعد ازاں علاقے کی جغرافیائی اور تکنیکی ضروریات، حفاظتی دیواروں اور دیگر تعمیراتی کاموں کے باعث منصوبے کی لاگت اور دائرہ کار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مزید برآں حکومت بلوچستان کی سفارش اور عدالت کی ہدایات کے مطابق ابتدائی طور پر تجویز کردہ ٹی ایس ٹی فٹ پاتھ کو عوامی مفاد میں اسفالٹ فٹ پاتھ میں تبدیل کیا گیا، جس کے باعث منصوبے کے پی سی ون پر جامع نظرثانی کی گئی۔
نظرثانی شدہ پی سی ون پلاننگ کمیشن کی نگرانی میں لاگت کے تفصیلی جائزے کے بعد 17 ارب 49 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا۔ منصوبے کی انتظامی منظوری 5 جنوری 2026 کو جاری کی گئی جبکہ 2025-26 کے پی ایس ڈی پی میں اس کے لیے 200 ملین روپے بطور ٹوکن رقم مختص کی گئی ہے تاکہ منصوبہ ترقیاتی پروگرام میں برقرار رہے۔این ایچ اے نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ منصوبے کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل جون 2026 سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا جبکہ تعمیراتی کام اگلے مالی سال 2026-27 کے آغاز پر فنڈز کی دستیابی کے ساتھ شروع کیا جائے گا۔این ایچ اے کے مطابق موجودہ مالی سال میں بلوچستان میں چند ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جو تکمیل کے قریب ہیں، جن میں جھل جھاؤ۔بیلا روڈ، بیلہ۔آواران روڈ، ہوشاب۔آواران روڈ، آواران۔نال روڈ، کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس اور نوکنڈی۔ماشکیل روڈ شامل ہیں۔ ادارے کا مؤقف تھا کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ کم سے کم وقت میں عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر 31 مارچ 2026 تک منصوبے کو اگلے مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی میں شامل نہ کیا گیا تو بعد میں اسے شامل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم این ایچ اے کے ممبر (ویسٹ زون) نے اس مؤقف کی سختی سے تردید کرتے ہوئے عدالت کو یقین دلایا کہ زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی اور زیارت موڑ منصوبوں سے متعلق تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں گے اور انہیں آئندہ پی ایس ڈی پی میں شامل کرایا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ سبی۔ہرنائی روڈ سے متعلق محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے جمع کرایا گیا پی سی ون پلاننگ کمیشن نے سی ڈی ڈبلیو پی کی سفارش پر واپس کر دیا تھا اور این ایچ اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ شیئرنگ فارمولے کے مطابق نیا پی سی ون دوبارہ جمع کرایا جائے، جس کے بعد اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔عدالت نے ہدایت کی کہ این ایچ اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ممبر (ویسٹ زون) عدالت کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈویلپمنٹ حکومت بلوچستان کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ پلاننگ کمیشن اور این ایچ اے کے حکام سے رابطہ رکھ کر پی سی ون کی بروقت منظوری اور منصوبوں کو مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی میں شامل کرانے کو یقینی بنائیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ممبر (ویسٹ زون) این ایچ اے کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی جب تک عدالت کی جانب سے دوبارہ طلب نہ کیا جائے۔ حکم کی نقل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ متعلقہ حکام تک احکامات پہنچائے جا سکیں۔عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ وہ احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں بصورت دیگر وضاحت کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوگا۔ کیس کی مزید سماعت 9 اپریل 2026 کو ہوگی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3113/2026
دکی14مارچ۔ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے سستا بازار کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخنامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور عوام کو مقررہ نرخوں پر معیاری اشیاء فراہم کریں۔ انہوں نے سستا بازار میں خریداری کے لیے آنے والے شہریوں سے بھی بات چیت کی اور ان سے درپیش مسائل کے بارے میں دریافت کیا۔اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے متعلقہ عملے کو ہدایت دی کہ سستا بازار میں اشیائے ضروریہ کی مسلسل فراہمی اور قیمتوں کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3114/2026
قلعہ سیف اللہ16مارچ۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار سے ڈپٹی ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین احسان کاکڑ اور بی اینڈ آر کے ایکسین ہاشم کاکڑ کی ملاقات قلعہ سیف اللہ میں ڈپٹی کمشنر ساگر کمار سے ڈپٹی ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین احسان کاکڑ اور بی اینڈ آر کے ایکسین ہاشم کاکڑ نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، سرکاری عمارتوں کی بہتری اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین احسان کاکڑ نے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی خستہ حالی، نکاسی آب کے مسائل اور دیگر عوامی نوعیت کے معاملات سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آسکیں۔بی اینڈ آر کے ایکسین ہاشم کاکڑ نے ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ منصوبہ بندی کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ مختلف شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ مزید ترقیاتی سکیموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور شفاف انداز میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ضلعی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے باہمی تعاون کے ساتھ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر/2026 3115
زیارت 16مارچ ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں محکمہ لائیو سٹاک زیارت کی طرف سے یونین کونسل کچھ زیارت کان زیارت،تلری زیارت میں ایک روزہ فری ویٹرنری کیمپ کا انعقاد کیا گیا کیمپ میں مالداروں کو مفت ادویات فراہم کی گئی اور جانوروں کی ویکسینیشن کی گئی اور مالداروں میں جانوروں کی بیماریوں کے حوالے سے معلومات دی گئیں۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر3116/2026
سبی16مارچ ۔ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سبی ڈاکٹر عبدالخالق نے PPHI کے ضلعی دفتر سبی کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ضلعی میڈیسن اسٹور کا معائنہ کیا اور ادویات کی دستیابی، ریکارڈ اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ممتاز علی رند نے انہیں ادارے کی جاری سرگرمیوں، طبی سہولیات کی فراہمی اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ نے صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ادویات کی دستیابی برقرار رکھی جائے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج میسر آ سکے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر3117/2026
سبی، 16 مارچ ۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایس ایس پی سبی شاہنواز چاچڑ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی ڈاکٹر حمزہ لاشاری، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی انضمام قاسم، چیئرمین میونسپل کمیٹی سبی سردار محمد خان خجک سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور مختلف محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع کی مجموعی صورتحال اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام محکموں کے سربراہان اپنے عملے کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عیدالفطر کے موقع پر عید گاہوں اور دیگر عوامی مقامات پر صفائی ستھرائی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اگر کسی مقام پر کوئی مشکوک سرگرمی یا شے نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
۔۔۔
خبر نامہ نمبر 3118/2026
لورالائی16مارچ 2026: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ضلع لورالائی میں ماہِ صیام کے دوران گراں فروشی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے شہر کے مختلف بازاروں کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے سبزیوں، پھلوں، گوشت اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور معیار کا تفصیلی جائزہ لیا۔ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والے متعدد دکانداروں کو جرمانے عائد کیے گئے جبکہ کئی تاجروں کو سختی سے متنبہ کیا گیا کہ وہ مقررہ نرخوں کی پابندی کریں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر پرائس کنٹرول کمیٹی کے افسران بھی اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ موجود تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے تاجر برادری اور ریڑھی بانوں کو ہدایت کی کہ ماہِ صیام کے مقدس مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، لہٰذا تمام تاجر سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ دکاندار اشیائے خوردونوش کو ڈھانپ کر رکھیں اور بالخصوص دودھ، دہی، گوشت اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءکی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ شہریوں کو معیاری اور محفوظ اشیاءفراہم کی جا سکیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ عوامی شکایات کی صورت میں گراں فروشی کے مرتکب افراد کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع لورالائی میں پرائس کنٹرول کمیٹی مکمل طور پر فعال ہے اور رمضان المبارک کے دوران بازاروں کی مسلسل نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3119/2026
کوئٹہ، 16 مارچ ۔بلوچستان حکومت نے صوبائی سرکاری ملازمین کو عیدالفطر سے قبل تنخواہوں کی ادائیگی کر دی ہے اس حوالے سے تمام سرکاری محکموں کو جاری ہدایات کے مطابق عید کی تعطیلات سے پہلے ملازمین کے اکاونٹس میں تنخواہیں منتقل کر دی گئی ہیں تاکہ سرکاری ملازمین عید کی خوشیوں میں بلا کسی مالی پریشانی کے بھرپور طریقے سے شریک ہو سکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ حکومت اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیتی ہے اور عیدالفطر کے موقع پر پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت اور محنتی ملازمین صوبائی نظام کی بہتری اور عوامی خدمت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور حکومت ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صوبائی سرکاری ملازمین کو عیدالفطر کی پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیےنیک تمناوں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدام ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے عید کی خوشیوں کو مزید بڑھانے کا سبب بنے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3120/2026
جعفرآباد16مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے مختلف فیزز کا دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر انہوں نے تالابوں میں پانی کے ذخیرہ کرنے کے عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نصیرآباد محمد کاظم لونی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پٹ فیڈر کینال کی سالانہ بندش سے قبل ہی تمام فیزز کے تالابوں کو بھرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور ہماری بھرپور کوشش ہے کہ تمام محلوں، وارڈز اور شہری آبادی کو مرحلہ وار اور منصفانہ طریقے سے آبِ نوشی کی فراہمی ان کی دہلیز تک یقینی بنائی جائے۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ جعفرآباد کے انجینئرز اور دیگر عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص پٹ فیڈر کینال کی بندش کے دوران پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کینال کی بندش سے قبل زیادہ سے زیادہ پانی تالابوں میں ذخیرہ کیا جائے تاکہ شہریوں کو مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3121/2026
کوئٹہ، 16 مارچ۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مفادِ عامہ سے متعلق قومی فیصلوں پر بلوچستان میں موثر پیش رفت اور وفاقی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون و رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی کھلے دل سے تعریف کی ہے یہ اظہارِ خیال پیر کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا اجلاس میں افغان مہاجرین کی باعزت واپسی، امن و امان کی صورتحال اور دیگر اہم قومی و انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کی جانب سے طے شدہ اہداف اور فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت سے متعلق جامع بریفنگ بھی دی گئی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں خدمات سرانجام دینے والے وفاقی سول سروس کے افسر حمزہ شفقات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں پر موثر عملدرآمد کے لیے ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں انہوں نے اس امر کو بھی سراہا کہ صوبائی حکومت اور وفاقی اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کے ذریعے اہم قومی معاملات میں مثبت پیش رفت ممکن ہوئی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی اس موقع پر اداروں کے مابین باہمی تعاون اور ہم آہنگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان مضبوط رابطہ کاری صوبے میں امن و استحکام اور عوامی فلاح کے اقدامات کو مزید موثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اجلاس میں اعلیٰ سول حکام اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں اہم قومی امور پر جاری اقدامات اور آئندہ حکمت عملی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3122/2026
کوئٹہ، 16 مارچ.۔بلوچستان میں سائبر کرائمز اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے قوانین کے دائرہ اختیار میں آنے والے قابلِ گرفت جرائم کی موثر روک تھام کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کا دائرہ کار صوبے میں ڈویژن سطح تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بلوچستان حکومت نے ایف آئی اے کے دفاتر کے قیام اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے اراضی کی فراہمی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ جس میں صوبے میں سائبر کرائمز، مالیاتی جرائم اور دیگر وفاقی نوعیت کے جرائم کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی استعداد بڑھانے پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جدید ڈیجیٹل دور میں سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی نوعیت کے پیش نظر ایف آئی اے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے مختلف ڈویڑنز میں ایف آئی اے کے دفاتر قائم کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو سائبر کرائمز اور دیگر وفاقی نوعیت کے جرائم سے متعلق شکایات کے اندراج اور ازالے کے لیے مقامی سطح پر موثر سہولیات فراہم کی جا سکیں اجلاس کے دوران ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام خان مندوخیل کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا گیا اور صوبے میں ادارے کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے درکار اقدامات کا جائزہ لیا گیا اس موقع پر ایف آئی اے میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ طے پایا کہ ادارے میں بلوچستان کے مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے گا تاکہ ایک جانب ایف آئی اے کی استعداد میں اضافہ ہو اور دوسری جانب صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانے اور سائبر کرائمز سمیت دیگر جرائم کے خلاف موثر کارروائی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿






