11th-March-2026

خبرنامہ نمبر2062/2026
کوئٹہ (1 مارچ ۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں کوئٹہ شہر میں ٹریفک مسائل اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران آرڈر I رول 10 بمعہ سیکشن 151 سی پی سی کے تحت دائر CMA نمبر 85/2026 پر غور کیا گیا، جس میں دو وکلاءنے بطور مداخلت کار درخواست میں فریق بننے کی استدعا کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث روزانہ مسافروں، طلبہ، بزرگ شہریوں، خواتین، معذور افراد اور دیگر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ، ٹریفک سگنلز، ٹریفک قوانین کے موثر نفاذ اور محفوظ ٹریفک ماحول کی فراہمی شہریوں کا بنیادی حق ہے۔درخواست گزار کے وکیل محمد ارسلان ایڈووکیٹ اور معاون وکیل نے مداخلت کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے مداخلت کرنے والے وکلاءکو بطور درخواست گزار شامل کرنے کی اجازت دے دی اور ہدایت کی کہ وہ درخواست کا ترمیم شدہ عنوان (Amended Title) عدالت میں جمع کرائیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کے وکیل نے CMA نمبر 4649/2025 اور 664/2026 کے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت طلب کیا جسے عدالت نے منظور کر لیا۔اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل سیف اللہ درانی نے ٹریفک پولیس کوئٹہ کی جانب سے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق ٹریفک پولیس نے خستہ حال اور ناقص لوکل بسوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 68 بسیں تحویل میں لے لی ہیں اور ایسی بسوں کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس کے علاوہ غیر قانونی رکشوں، ٹینٹڈ شیشوں اور فینسی نمبر پلیٹس کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں جبکہ ڈبل روڈ کوئٹہ پر غلط پارکنگ کے خلاف کریک ڈاون کیا گیا ہے۔ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ–کچلاک روٹ پر 2022 ماڈل کوسٹرز متعارف کرائی گئی ہیں اور روٹ پرمٹ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 21 نئی بسیں کوئٹہ پہنچ چکی ہیں جن میں سے 17 کوئٹہ شہر اور 4 تربت کے لیے مختص ہیں۔ ان میں 12 گرین بسیں عام مسافروں جبکہ 5 پنک بسیں خواتین مسافروں کے لیے شامل ہیں۔ اس وقت کوئٹہ شہر میں آپریشنل بسوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے اور عوامی سہولت کے لیے بسوں کے روٹس میں بھی توسیع کی گئی ہے۔مشترکہ کارروائیوں کے دوران 44 غیر قانونی رکشے ضبط جبکہ 19 جعلی پرمٹ بھی پکڑے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ اب تک 7036 رکشوں کے مینوئل پرمٹ کمپیوٹرائز کیے جا چکے ہیں۔ محکمہ خزانہ نے سیکیورٹی پیپرز کی چھپائی کے لیے 1.2 ملین روپے جاری کیے ہیں جبکہ 5000 سیکیورٹی پیپرز کی چھپائی کا آرڈر پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کراچی کو دیا گیا ہے۔آر ٹی اے نے ٹریفک پولیس کو پرانی اور خستہ حال بسوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کی بھی درخواست کی ہے۔ اسی طرح کوئٹہ شہر میں اجازت یافتہ رکشوں اور واٹر ٹینکرز کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے RFID ٹیگنگ کے منصوبے کے تحت 8.8 ملین روپے کی سمری محکمہ خزانہ کو ارسال کی گئی ہے۔ ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے واٹر ٹینکرز کی آمد و رفت کو صبح 11 بجے سے دوپہر 3 بجے تک محدود کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔سماعت کے دوران بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل خان بھی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں موصول ہونے والی بولیوں پر غور جاری ہے اور امکان ہے کہ آئندہ ماہ کے اختتام تک اس حوالے سے پیش رفت ہو جائے گی۔ عدالت نے انہیں آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔اسی طرح بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد صادق نے عدالت کو بتایا کہ کوئٹہ شہر میں نئے ٹریفک سگنلز کی تنصیب کے منصوبے کا خاکہ مکمل ہو چکا ہے اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد اس پر کام شروع کر دیا گیا ہے جو آئندہ ماہ کے آخر تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ عدالت نے انہیں بھی آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے درخواست گزار محمد آصف کو ہدایت کی کہ وہ حتمی دلائل کے لیے اپنے وکیل کی آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنائیں۔ عدالت نے حکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی تاکہ متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جا سکے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2063/2026
کوئٹہ 11 مارچ ۔بلوچستان ہائی کورٹ میں چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مختلف سڑک منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت کو منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش تکنیکی و مالی مسائل سے آگاہ کیا گیا۔سماعت کے دوران ڑوب۔میر علی خیل روڈ منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نذر جان نے عدالت کو بتایا کہ کنسٹرکشن کمپنی (جواب دہندہ نمبر 6) کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے مطابق ابتدائی طور پر منصوبے میں تقریباً 300 ملین روپے کی بچت متوقع تھی، تاہم بعد ازاں کام کے دائرہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے مزید دو پل کی تعمیر شامل کر دی گئی جس کے باعث منصوبے پر تقریباً 2.5 ارب روپے اضافی لاگت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں اس نوعیت کی تبدیلی پراجیکٹ ڈائریکٹر یا بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں تکنیکی نوعیت کے مسائل موجود ہیں اور ممکنہ طور پر حکومت بلوچستان کو اضافی فنڈز درکار ہوں گے، اس لیے عدالت فی الحال اس مرحلے پر کوئی حتمی حکم جاری کرنا مناسب نہیں سمجھتی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ حکام اگر مناسب سمجھیں تو اس معاملے کو متعلقہ فورمز پر اٹھا سکتے ہیں، لیکن منصوبے میں مزید تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کا عذر برداشت کیا جائے گا۔دوران سماعت سپیرا راغہ روڈ منصوبے کے ایس ڈی او حبیب اللہ نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے پر 95 فیصد ارتھ ورک، 80 فیصد سٹرکچر ورک اور 65 فیصد بلیک ٹاپ کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر لورالائی سے تعلق رکھنے والے وکیل حمید اللہ ناصر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مذکورہ بیان سے اختلاف کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے خود اس سڑک پر سفر کیا تھا لیکن سائٹ پر کسی قابل ذکر پیش رفت کا مشاہدہ نہیں ہوا اور صرف زمین کا ابتدائی کام نظر آیا۔اس صورتحال پر عدالت کے استفسار کے بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے رضاکارانہ طور پر منصوبے کی حقیقت جاننے کے لیے مشترکہ دورے کی پیشکش کی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، درخواست گزار کے وکیل دوست محمد مندوخیل، بی ڈی اے کے وکیل نصیر احمد کاکڑ، حمید اللہ ناصر ایڈووکیٹ، ڑوب۔میر علی خیل روڈ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور بی ڈی اے کے اسسٹنٹ انجینئر حبیب اللہ کاکڑ مشترکہ طور پر سائٹ کا دورہ کریں۔عدالت نے حکم دیا کہ مذکورہ وفد 26 مارچ تک منصوبے کے مقام کا دورہ کرے اور اپنی تفصیلی رپورٹ 28 مارچ تک عدالت میں جمع کرائے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی اور حکم نامے کی نقل متعلقہ حکام کو معلومات اور عملدرآمد کے لیے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کے ذریعے ارسال کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2064/2026
کوئٹہ 11مارچ ۔: ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز عسکر خان کی صدارت میں ای۔فائلنگ سسٹم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ اطلاعات کے تمام شعبوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز عسکر خان نے کہا کہ موجودہ دور میں سرکاری اداروں کے لیے ڈیجیٹل نظام اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ ہزا میں ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جا رہا ے۔ انہوں نے ای۔فائلنگ سسٹم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے دفتری امور کو موثر، شفاف اور تیز بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس نظام کو باقاعدہ طور پر ڈاکیومنٹ سسٹم کے تحت شروع کیا جائے تاکہ تمام فائلیں اور دفتری کارروائیاں منظم اور محفوظ طریقے سے انجام دی جا سکیں۔ڈی جی پی آر نے کہا کہ ای۔فائلنگ سسٹم کے نفاذ سے نہ صرف سرکاری امور میں جدت آئے گی بلکہ ملازمین کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا اور عوام کو خدمات کی فراہمی کا عمل مزید بہتر اور تیز ہو سکے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ای۔فائلنگ سسٹم کے موثر نفاذ کے لیے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ اور عملے کو اس جدید نظام سے متعلق تربیت بھی فراہم کی جائے۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ ڈیلوری یونٹCMDU کے محمد داور نے بریفنگ میں بتایا کہ ای۔فائلنگ سسٹم کے نفاذ سے سرکاری امور کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے گا، فائلوں کی بروقت ترسیل ممکن ہوگی اور دفتری امور میں شفافیت اور تیزی آئے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس نظام کے ذریعے ریکارڈ کی محفوظ ڈیجیٹل شکل میں دستیابی ممکن ہوگی جس سے وقت اور وسائل کی بچت کے ساتھ ساتھ کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ای۔فائلنگ سسٹم کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا تاکہ محکمہ اطلاعات میں دفتری امور کو جدید اور موثر خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2065/2026
لورالائی 11 مارچ ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایات اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ بلوچ کی کڑی نگرانی میں شہر بھر میں صفائی و ستھرائی کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔ خصوصاً ماہِ رمضان کے پیش نظر رمضان سستا بازار سمیت مختلف محلوں اور بازاروں میں صفائی کے انتظامات کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔میونسپل کمیٹی کے عملہ صفائی نے مختلف زونز میں سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے خالو زون کے کڈی محلہ میں کچرے کے ڈھیر صاف کر دیے، جبکہ عجب زون میں کونسلر عمران کے وارڈ میں نالیوں کی صفائی کا کام مکمل کیا گیا۔ اسی طرح کاشف زون میں سنٹرل جیل کے قریب نالیوں سے کچرا نکال کر علاقے کو صاف ستھرا بنا دیا گیا۔ادھر سلیم داد کمپلینٹ زون میں شہریوں کی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مختلف مقامات پر مین ہولز کے نئے ڈھکن بھی نصب کر دیے گئے تاکہ حادثات سے بچاو یقینی بنایا جا سکے۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے اور صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ شہر کو صاف رکھنے کے لیے میونسپل کمیٹی کے ساتھ تعاون کریں اور کچرا مقررہ مقامات پر ہی ڈالیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2066/2026
کوئٹہ 11مارچ ۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں بلوچستان ریونیواتھارٹی نے صوبے میں جینیٹوریل (صفائی ستھرائی)، ڈریجنگ یا ڈی سلٹنگ اور فرنچائز سروسز فراہم کرنے والے افراد اور کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں اور ٹیکس قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔اتھارٹی کے مطابق بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) ایکٹ 2015 کے تحت مذکورہ خدمات پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ جینیٹوریل سروسز میں سرکاری و نجی اداروں، دفاتر، کمرشل عمارتوں اور دیگر مقامات پر صفائی ستھرائی کی خدمات شامل ہیں، جبکہ ڈریجنگ یا ڈی سلٹنگ خدمات میں نہروں، آبی گزرگاہوں اور دیگر مقامات سے مٹی یا ریت نکالنے کے کام شامل ہیں۔ اسی طرح فرنچائز سروسز فراہم کرنے والے کاروبار بھی اس قانون کے تحت ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہیں۔بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ تمام متعلقہ سروس فراہم کنندگان کیلئے لازم ہے کہ وہ اتھارٹی کے ساتھ باقاعدہ رجسٹریشن کروائیں، مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس ادا کریں اور ہر ٹیکس پیریڈ کی ریٹرنز بروقت جمع کرائیں۔اتھارٹی کے مطابق رجسٹریشن نہ کروانے، ٹیکس واجبات ادا نہ کرنے یا بروقت ریٹرن فائل نہ کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ بی آر اے نے تمام متعلقہ کاروباری افراد اور کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی مکمل تعمیل کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی اور اضافی مالی بوجھ سے بچا جا سکے، اور صوبے کی ترقی و خوشحالی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2067/2026
لورالائی11مارچ ۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر و ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے رات گئے ہزارہ محلہ اور خواتین بازار کا تفصیلی دورہ کیا اور علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے بازاروں اور اہم مقامات پر تعینات پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی، ان کی کارکردگی کا معائنہ کیا اور سیکیورٹی کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر ایس ایس پی ڈاکٹر فہد احمد نے کہا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز کے ساتھ ہی بازاروں اور شاپنگ مراکز میں عوام کا رش بڑھ جاتا ہے، جس کے پیش نظر پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رش والے مقامات پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سادہ لباس میں بھی اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔انہوں نے ڈیوٹی پر موجود افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مکمل چوکسی اختیار کریں اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر ایس ڈی پی او کریم مندوخیل، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر اقبال لانگو، انسپکٹر ہمایوں ناصر، ایس ایچ او سٹی محمد شریف موسخیل اور لائن آفیسر سید خیر محمد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ایس ایس پی لورالائی نے مزید کہا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس گشت اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2068/2026
جعفرآباد 11مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی، ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد کاظم لونی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن احمد نواز جتک، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عائشہ بگٹی سمیت مختلف محکموں کے افسران اور ان کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام متعلقہ افسران نے اپنے ا پنے محکموں میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور جاری کاموں کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام افسران اپنے محکموں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اور مفاد عامہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور تمام منصوبوں کو پی سی ون اور مقررہ معیار کے مطابق مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ معیاری ترقیاتی منصوبے نہ صرف سرکاری وسائل کے درست استعمال کو یقینی بناتے ہیں بلکہ عوام کو بھی دیرپا اور بہتر سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ تمام جاری منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کریں تاکہ کام مقررہ معیار کے مطابق بروقت مکمل ہو سکے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے لہٰذا تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں ادا کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات بروقت حاصل ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2069/2026
صحبت پور 11مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور، محترمہ فریدہ ترین نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال صحبت پور کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات، ایمرجنسی وارڈ، او پی ڈی، لیبارٹری، فارمیسی اور دیگر وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور عملے کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے زیر علاج مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کی اور ان سے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور عملے کے رویے کے حوالے سے دریافت کیا۔ مریضوں اور ان کے لواحقین نے اپنے مسائل اور تجاویز بھی پیش کیں جنہیں ڈپٹی کمشنر نے بغور سنا اور فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں ڈپٹی کمشنر صحبت پور نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید موثر اور بہتر بنایا جائے تاکہ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہسپتال میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف اپنی حاضری اور ذمہ داریوں کا مکمل خیال رکھیں اور مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس مقصد کے لیے ہسپتالوں میں سہولیات کی بہتری، عملے کی کارکردگی اور مریضوں کو دی جانے والی خدمات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی خدمت میں کوتاہی برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2070/2026
لورالائی 11 مارچ ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے بی آئی آئی ٹی ایم ایس (BIITMS) لورالائی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران آفس مینجمنٹ ٹریننگ کورس کامیابی سے مکمل کرنے والے سرکاری ملازمین میں سرٹیفکیٹس اور بائٹمز کے طلباء و طالبات میں تعریفی اسناد تقسیم کئے ۔ تقریب میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، ڈی ڈی اوز، ٹرینیز اور بی آئی آئی ٹی ایم ایس کے طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تفصیلات کے مطابق کمشنر لورالائی ڈویژن کی ہدایات پر آفس مینجمنٹ ٹریننگ کورس کا آغاز 19 جنوری 2026 کو بی آئی آئی ٹی ایم ایس لورالائی میں کیا گیا تھا جو چار ہفتوں پر مشتمل ایک جامع تربیتی کورس تھا۔ اس تربیت کا بنیادی مقصد سرکاری ملازمین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنا، دفتری امور کی انجام دہی میں مہارت پیدا کرنا اور آفس مینجمنٹ کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید موثر اور منظم بنانا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ یہ دور آ فیشل انٹیلیجنس کا ہے جس کے پاس آئی ٹی سکیل ہوگا اس کے بچے بھوکے نہیں سوئیں گے گھر بیٹھے لاکھوں کمایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ بھرتیاں کمپیوٹر بیس پر ہوگی۔ کمشنر نے کہا کہ سرکاری اداروں کی بہتر کارکردگی کا انحصار بھی تربیت یافتہ اور باصلاحیت عملے پر ہوتا ہے۔ دورِ حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی پیشہ ورانہ تربیت انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ جدید دفتری نظام اور انتظامی امور کو بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے تربیتی پروگرام نہ صرف ملازمین کی کارکردگی میں بہتری لاتے ہیں بلکہ عوام کو بہتر اور بروقت خدمات کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کمشنر نے مزید کہا کہ اس طرح کے تربیتی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ سرکاری ملازمین کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ ہر خاص عام کو اس جانب راغب کیا جا سکے ۔ تقریب کے اختتام پر کمشنر ولی محمد بڑیچ نے ٹریننگ کورس کامیابی سے مکمل کرنے والے شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے اور ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ حاصل کی گئی تربیت کو اپنے دفتری فرائض میں بروئے کار لا کر اداروں کی کارکردگی میں مثبت کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر پرنسپل انجنئیر عزیز اللہ نے کہا کہ بائٹمز میں وقتاً فوقتاً شارٹ کورسز کے علاوہ مختلف شعبوں میں تین سالہ ڈی اے ای ڈپلومہ کورسز بھی کرائے جاتے ہیں، انجنئیر ظاہر شاہ و دیگر نے تقریب سے خطاب کیا۔ اور جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2071/2026
استا محمد11مارچ۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد کے ایک حکمنامے کے مطابق مسمی زاہد مشتاق ولد مشتاق احمد راجپوت سکنہ محلہ حسین آباد استا محمد ضلع استا محمد کا لوکل سرٹیفیکیٹ انکی اپنی درخواست پر منسوخ کیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2072/2026
لورالائی11مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کے ایک حکمنامے کے مطابق مسمی اللہ داد خان ولد عمر دین سکنہ تحصیل بوری لورالائی ٹاو¿ن کا لوکل سرٹیفیکیٹ انکی اپنی درخواست پر منسوخ کردیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2073/2026
قلات11مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر قلات کے ایک حکمنامے کے مطابق مسمی محمد ایوب ولد محمد صدیق قوم لانگو سکنہ گزگ منگچر ضلع قلات کا لوکل سرٹیفیکیٹ انکی اپنی درخواست پر منسوخ کردیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2074/2026
کوئٹہ، 11 مارچ ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کفایت شعاری سے متعلق صوبائی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس بدھ کے روز یہاں منعقد ہوا جس میں موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی بچت کے لیے اہم فیصلے کیے گئے اجلاس میں طے پایا کہ حکومت بلوچستان فوری طور پر اضافی کفایت شعاری مہم پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی تاکہ مالی وسائل کا موثر استعمال کیا جا سکے اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی بچت کے لیے حکومت کی جانب سے اضافی کفایت شعاری مہم کے تحت متعدد عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں کابینہ اجلاس میں تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ تمام صوبائی وزراء مشیران اور پارلیمانی سیکرٹریز دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے تمام اراکین کی تنخواہوں میں 25 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کی جائے گی اسی طرح گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے وہ سرکاری افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زائد ہے وہ بھی رضاکارانہ طور پر دو دن کی تنخواہ حکومت کو دیں گے تاہم صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازمین کو اس کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے کابینہ نے سرکاری اجلاسوں اور تقریبات کے حوالے سے بھی نئے اصول متعارف کرانے کا فیصلہ کیا اجلاس میں طے کیا گیا کہ آئندہ تمام سرکاری اجلاس زیادہ تر ویڈیو لنک یا آن لائن طریقہ کار کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے تاکہ غیر ضروری سفر اور اخراجات سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی وفود کے علاوہ کسی قسم کے سرکاری عشائیے کی اجازت نہیں ہوگی سیمینارز اور تربیتی پروگرامز کے انعقاد کے لیے متعلقہ محکموں سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا اور انہیں صرف سرکاری عمارتوں یا آڈیٹوریمز میں منعقد کیا جا سکے گا اجلاس میں سرکاری دفاتر کے اوقات اور طریقہ کار میں تبدیلی کا بھی فیصلہ کیا گیا کابینہ کے مطابق صوبے میں سرکاری دفاتر ہفتے میں چار دن کام کریں گے، تاہم بینکنگ اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے والے ادارے اس سے مستثنیٰ ہوں گے سرکاری دفاتر میں پچاس فیصد عملہ باری باری گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کرے گا حکومت نے نجی شعبے کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے نصف عملے سے گھر سے کام کروانے اور چار روزہ دفتری ہفتہ اپنانے پر غور کرے کابینہ نے تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 23 مارچ 2026 تک بہار کی تعطیلات (Spring Holidays) کا اعلان کر دیا تاہم واضح کیا گیا کہ امتحانات اپنے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے اور ان پر تعطیلات کا اطلاق نہیں ہوگا اجلاس میں سماجی تقریبات اور عوامی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی چند رہنما اصول طے کیے گئے جس کے تحت شادی بیاہ کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 افراد تک محدود رکھنے اور صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح ہائی ویز پر گاڑیوں کی رفتار 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ایندھن کی کھپت کو کم سے کم رکھا جا سکے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کفایت شعاری مہم کا آغاز چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے کر دیا گیا ہے جہاں تقریباً آٹھ سو کے قریب اسامیاں ختم کر دی گئی ہیں تاکہ سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت خود مثال قائم کرتے ہوئے اخراجات میں کمی کے اقدامات کر رہی ہے اور اس اقدام سے وسائل کو زیادہ موثر انداز میں عوامی فلاح و بہبود پر صرف کیا جا سکے گا وزیراعلیٰ نے تمام سرکاری اداروں اور عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ توانائی اور وسائل کے تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں ، اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے صوبائی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں وسائل کے محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی کابینہ کا یہ اقدام ایک مثبت مثال قائم کرتا ہے جس سے حکومتی اخراجات میں کمی اور قومی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ گورنر بلوچستان نے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے سے دیگر ادارے اور عوام بھی کفایت شعاری کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اجتماعی طور پر معیشت کے استحکام میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2075/2026
کوئٹہ 11مارچ ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں جدید، سستی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے الیکٹرک بائیکس اسکیم کا باضابطہ افتتاح کر دیا اس اقدام کا مقصد طلبہ و طالبات، ورکنگ وومن اور عام شہریوں کو بہتر اور کم خرچ سفری سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ روزمرہ آمد و رفت کو آسان اور مو¿ثر بنایا جا سکے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور الیکٹرک بائیکس اسکیم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت طلبہ و طالبات، ورکنگ وومن اور عام عوام کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائکس فراہم کی جائیں گی تاکہ انہیں اپنی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے بہتر ٹرانسپورٹ میسر آ سکے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت اس اسکیم کے تحت الیکٹرک بائکس کی فراہمی میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنائے گی انہوں نے کہا کہ درخواست دہندگان کا انتخاب قرعہ اندازی کے شفاف طریقہ کار کے ذریعے کیا جائے گا اور صوبے کے کسی بھی ضلع سے شہری آن لائن درخواست دے سکیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ مذکورہ الیکٹرک بائکس کی رینج 70 سے 100 کلومیٹر تک ہوگی جو طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور دیگر شہریوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعے نہ صرف شہریوں کو سستی اور قابلِ اعتماد سفری سہولت فراہم کی جائے گی بلکہ ایندھن کی بچت اور ماحول کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت ورکنگ کلاس کو سہولت فراہم کرنے کے لیے آئندہ مرحلے میں الیکٹرک لوڈرز کے منصوبے پر بھی غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے عملی پیش رفت جاری ہے تاکہ چھوٹے کاروبار اور روزگار سے وابستہ افراد کو بھی جدید اور کم لاگت ٹرانسپورٹ میسر آ سکے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان عوام کو جدید سہولیات کی فراہمی، ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ اور صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی، صوبائی وزرائ ، اراکینِ صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2076/2026
کوئٹہ 11 مارچ ۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں قومی عدالتی (پالیسی سازی) کمیٹی (NIPMC) کے زوم اجلاس کے بعد آل ججز اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کی۔ اجلاس میں لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری سات نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متفقہ طور پر اس کی توثیق کر دی گئی۔ اجلاس میں معزز ججز نے عوامی وسائل کے مو¿ثر استعمال، ممکنہ پٹرولیم کی قلت اور عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کفایت شعاری اور توانائی بچت کے متعدد اقدامات کی منظوری دی تاکہ صوبے میں عدالتی خدمات کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں چار روزہ ورکنگ ویک نافذ کیا جائے گا۔ پیر سے جمعرات تک معمول کے مطابق عدالتی کام جاری رہے گا جبکہ جمعہ کے روز صرف ہنگامی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کی جائے گی۔ اسی طرح ہائی کورٹ کا عملہ جمعہ اور ہفتہ کو روٹیشنل بنیادوں پر دفتر حاضر ہوگا۔ ضلعی عدالتوں میں بھی مقدمات پیر سے جمعرات تک مقرر کیے جائیں گے جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو ہر سیشن ڈویڑن میں ہنگامی امور جیسے ریمانڈ، ضمانت کی درخواستیں، انسداد احکامات اور ہیبیس کارپس پٹیشنز کی سماعت جاری رکھی جائے گی۔اجلاس میں اخراجات میں کمی کے لیے پیپر، آئل اور لبریکینٹس (POL) کے استعمال میں نمایاں کمی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ہائی کورٹ کے ججز اور اسٹبلشمنٹ کے لیے ان اخراجات میں 50 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ ضلعی عدالتوں میں پہلے مرحلے میں مارچ کے مہینے کے دوران 30 فیصد کمی کی جائے گی اور بعد ازاں اسے 50 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔مزید برآں رضاکارانہ تنخواہ کٹوتی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس کے تحت ہائی کورٹ کے معزز ججز، ہائی کورٹ اسٹبلشمنٹ اور ضلعی عدلیہ کے وہ افسران جو بی ایس-20 یا اس سے اوپر گریڈ میں ہیں اور ماہانہ تین لاکھ روپے یا اس سے زائد تنخواہ حاصل کرتے ہیں، ان کی دو دن کی بنیادی تنخواہ بطور رضاکارانہ کٹوتی لی جائے گی۔اجلاس میں عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتوں کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ای-کورٹ کی سہولت تمام سیشن ڈویڑنز میں دو ہفتوں کے اندر نصب کی جائے گی تاکہ فریقین اور وکلائ دور دراز علاقوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کر سکیں۔اسی طرح ہائی کورٹ اسٹبلشمنٹ اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے عملے کی حاضری کو بھی روٹیشنل بنیادوں پر ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت نصف عملہ جمعہ اور ہفتہ کے روز دفتر آئے گا تاکہ عدالتی امور کا تسلسل برقرار رہے اور آمدورفت کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔معزز ججز نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اقدامات ذمہ دارانہ حکمرانی، وسائل کے مو¿ثر انتظام اور توانائی کی بچت کے قومی اقدامات کے ساتھ مکمل یکجہتی کی عکاسی کرتے ہیں جبکہ عدالتی نظام کی کارکردگی کو بلا تعطل جاری رکھنے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2077/2026
قلات 11مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو مہم سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹرانجم بلوچ ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹرنصراللہ لانگو ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈبلوایچ او ڈاکٹرمجتبی باجوئی DSM پی پی ایچ آئی مجیب بلوچ سمیت محکمہ صحت قلات اوردیگر تمام محکموں کے سربراہان ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس میں آنے والے پولیو مہم سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا.ڈبلیوایچ او کے DPO ڈاکٹرمجتبی باجوئی نے پولیومہم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوے کہا کہ پولیو مہم 13اپریل 2026سے شروع ہوکر 16اپریل 2026 چار روز تک جاری رہیگا۔پولیو مہم کے دوران بچوں کو وٹامن Aکے کیپسول بھی دیئے جائیں گے پولیو کے اس مہم میں ضلع قلات کے دو تحصیل کے19 یونین کونسلز میں 40269بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اس مہم میں ضلع قلات میں تمام یونین کونسلز میں پولیو ٹیمیں پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کے عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گےڈپٹی کمشنر منیراحمد درانی نے کہا کہ پولیو ایک موضی مرض ہے اس مرض سے بچوں کو بچانے کیلئے پولیو کے قطرے پلانا بہت ضروری ہے ایک صحت مندمعاشرے کی تشکیل کیلئے بچوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے پولیو سے پاک معاشرہ کی تشکیل کیلئے ہم سب کو مل کر پولیو جیسے مرض کے خلاف لڑنا ہوگاجس کے لیئے ہمیں لوگوں میں شعور اجاگر کرناہے علاقے کے خطیب علمائے کرام صحافی برادی شعراء ادباءکی ذمہ داری ہیکہ وہ پولیو سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کریں تاکہ ہمارا معاشرہ پولیو سے پاک معاشرہ بن سکے پولیو مہم کو سنجیدگی سے انجام دینے کیلئے مانیٹرنگ ٹیموں کی ذمہ داری ہیکہ وہ بھرپور اپناکردار اداکریں تاکہ کوئی بھی بچہ اس مہم میں قطرہ پلائے بغیر رہ نہ جائے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2078/2026
نصیرآباد11مارچ ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ضلع نصیرآباد میں ماہ صیام کے دوران گراں فروشی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ نے بازار کا اچانک دورہ کیا اور سبزی، فروٹ، گوشت سمیت دیگر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور معیار کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والے کئی دکانداروں پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ متعدد دکانداروں کو سختی سے متنبہ کیا گیا کہ وہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں گراں فروشی سے گریز کریں بصورت دیگر ان کے خلاف مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر یوٹیز محمد طحہٰ جمالی، نائرہ نور شاہوانی اور اصغر رند بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے تاجر برادری اور ریڑھی بانوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ماہ صیام کے مقدس مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، لہٰذا تاجران سرکاری نرخنامے کی پابندی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دکاندار اشیاءخوردونوش کو ڈھانپ کر رکھیں اور بالخصوص دودھ، دہی، گوشت اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ عوام کو معیاری اور محفوظ اشیاء میسر آسکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی شکایات کی صورت میں گراں فروشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ ضلع نصیرآباد میں پرائس کنٹرول کمیٹی مکمل طور پر فعال ہے جو مسلسل بازاروں کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ ماہ صیام کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2079/2026
تربت11مارچ ۔تربت یونیورسٹی نے بلیدہ اور اس کے مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بلیدہ سے یونیورسٹی تک بس سروس جلد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ تربت یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد بلیدہ سے تربت یونیورسٹی کے مین کیمپس تک باقاعدہ بس سروس شروع کی جائے گی تاکہ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو یونیورسٹی آنے جانے میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔ اس سلسلے میں بلیدہ سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی ہاسٹل میں رہائش پذیرطلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بس سروس سے مستفید ہونے کے لیے یونیورسٹی کے ٹرانسپورٹ سیکشن سے رابطہ کری۔.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2080/2026
لورالائی 11مارچ ۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت لورالائی میں ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ، لائبریری کو علم کے فروغ کا مرکز بنانے پر زورکمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کا شہر کے مختلف منصوبوں کا دورہ، BSDI کے تحت جاری اسکیموں کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایتلورالائی: کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے ایڈیشنل کمشنر لورالائی اعجاز احمد جعفر اور ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کے ہمراہ شہر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے شہر کے اندر قائم پرانی لائبریری، سیشن کورٹ اسکول وومن لائبریری اور زیر تعمیر میل و فی میل ڈبل اسٹوری زیر تعمیر لائبریری کا معائنہ کیا اور کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران متعلقہ افسران نے حکام کو BSDI کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں کے بارے میں بریفنگ دی۔ کمشنر لورالائی ڈویژن نے منصوبوں کی رفتار اور معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی اسکیموں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی کام میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔کمشنر ولی محمد بڑیچ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت عوام کو بہتر تعلیمی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔” انہوں نے شہر کی پرانی لائبریری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لائبریریاں کسی بھی معاشرے کی علمی اور فکری ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لورالائی کی لائبریری کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا اور اسے فعال بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ طلبہ، نوجوانوں اور عام شہریوں کو مطالعہ اور تحقیق کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ‘تعلیم اور مطالعے کے فروغ کے لیے لائبریریاں معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں، اس لیے ان کی بہتری اور بحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔”اس موقع پر حکام نے سیشن کورٹ اسکول میں وومن لائبریری و سرکاری باغ میں جاری تعمیراتی کام کا بھی جائزہ لیا جہاں میل و فی میل طلبہ کےلیے ڈبل اسٹوری میل فیمیل لائبریری کی عمارت ان کے ساتھ وومن فٹسال گروانڈ کی تعمیر جاری ہے۔ کمشنر لورالائی ڈویژن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ یہ منصوبے جلد از جلد مکمل ہو کر عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔دورے کے دوران حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لورالائی میں تعلیم، علم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری منصوبوں کو ہر صورت مکمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر ماحول اور سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2081/2026
لورالائی 11مارچ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت 23 مارچ رمضان اسپورٹس فیسٹیول کے سلسلے میں سرکاری باغ فٹسال گراونڈ میں فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع بھی سے تقریباً 40 ٹیموں نے حصہ لیا۔ ٹورنامنٹ کے دوران مختلف ٹیموں کے درمیان دلچسپ، سنسنی خیز اور اعلیٰ معیار کے مقابلے دیکھنے کو ملے جبکہ شائقینِ کھیل کی بڑی تعداد نے گراونڈ میں موجود ہو کر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ٹورنامنٹ کے ابتدائی اور سیمی فائنل مراحل میں بھی کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کیا اور کئی میچز انتہائی سخت مقابلے کے بعد فیصلہ کن مرحلے تک پہنچے۔ نوجوان کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی نے ثابت کیا کہ لورالائی میں فٹبال کا ٹیلنٹ موجود ہے جسے مزید مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ٹورنامنٹ کا فائنل میچ سوشل ویلفیئر فٹبال کلب اور باچا اکیڈمی فٹبال کلب کے درمیان کھیلا گیا۔ فائنل مقابلے میں باچا اکیڈمی فٹبال کلب نے جارحانہ اور منظم کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوشل ویلفیئر فٹبال کلب کو صفر کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ میچ کے دوران باچا اکیڈمی کے کھلاڑیوں نے شاندار ٹیم ورک اور مہارت کا مظاہرہ کیا جسے شائقین نے خوب سراہا۔فائنل میچ کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم اور انڈر ٹریننگ اسسٹنٹ کمشنر اسحاق ناصر تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس نصیب اللہ کاکڑ، اسپورٹس آفیسر ظہیر احمد، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس سید ظفر اللہ شاہ، فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر انعام الحق کاکڑ اور کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد طاہر موسیٰ خیل سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔مہمانانِ خصوصی نے کامیاب ٹیم اور ٹورنامنٹ کے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اسپورٹس ایونٹس نہ صرف نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں بلکہ مقامی سطح پر کھیلوں کے فروغ اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی لورالائی میں کھیلوں کے ایسے مقابلوں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مزید مواقع میسر آ سکیں۔آخر میں مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے رنر ونر کے کھلاڑیوں میں گول میڈل،نقد انعامات اور ٹرفی بھی تقسیم کیے اور مہمانوں کو محکمہ سپورٹس بورڈ کی جانب سے شیلڈ پیش کئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2082/2026
کوئٹہ 11مارچ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیر صدارت ضلع کوئٹہ میں زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلع بھر میں لینڈ ریکارڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنے کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تمام تحصیلداران، نائب تحصیلداروں، ریونیو افسران اور ڈیجیٹلائزیشن سے وابستہ دیگر حکام نے شرکت کی اور جاری پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے نہ صرف ریکارڈ کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی بلکہ زمینوں سے متعلق معاملات میں شفافیت اور تیزی بھی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ روایتی کاغذی ریکارڈ کو مرحلہ وار ڈیجیٹل شکل میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ زمینوں کے اندراج، فرد کے اجرا اور دیگر ریونیو امور کو جدید اور موثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں اور اس عمل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے عوام کو ریونیو دفاتر کے غیر ضروری چکر لگانے سے بھی نجات ملے گی اور لینڈ ریکارڈ تک رسائی آسان ہو جائے گی۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ زمینوں کے ریکارڈ کی درستگی کو یقینی بنایا جائے اور ڈیجیٹلائزیشن کے دوران تمام اندراجات کی باقاعدہ تصدیق کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ آپس میں مکمل رابطہ اور تعاون برقرار رکھیں اور ضلع کوئٹہ میں زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2083/2026
کوئٹہ 11مارچ ۔ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ کے تحت ماہانہ کٹوتی کی شرح مقرر کردی۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت ملازم کی پنشن کے لیے 12 فیصد جبکہ ملازم اپنی تنخواہ سے 10 فیصد حصہ فنڈ میں جمع کرے گا۔ اس طرح مجموعی طور پر 22 فیصد رقم پنشن فنڈ میں جمع ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ملازم اپنی مرضی سے 10 فیصد سے زیادہ بھی فنڈ میں جمع کرا سکتا ہے، جس کے لیے اسے باضابطہ طور پر حلف نامہ / ڈیکلریشن جمع کرانا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 2084/2026
کوئٹہ 11 مارچ .سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی کی سربراہی میں آج ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں زیارت کے جونیپر کے جنگلات کے تحفظ اور بقا کے لیے قائم کیے گئے اینڈومنٹ فنڈ کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تمام اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جن میں متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندے، تحفظِ ماحول کے شراکت دار اور دیگر متعلقہ ادارے شامل تھے۔اجلاس کے دوران اینڈومنٹ فنڈ کے قیام اور اسے فعال بنانے سے متعلق اب تک ہونے والی پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے فنڈ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں موصول ہونے والی مالی معاونت، اس کے انتظامی ڈھانچے اور وسائل کے مؤثر اور شفاف استعمال کے طریقہ کار پر گفتگو شامل تھی۔
فورم نے اس امر پر بھی غور کیا کہ اینڈومنٹ فنڈ کو مزید مضبوط اور وسعت دی جائے تاکہ یہ زیارت کے جونیپر ایکوسسٹم کے طویل مدتی تحفظ کے لیے ایک پائیدار مالیاتی نظام کے طور پر کام کر سکے، اور ساتھ ہی جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے وسیع تر اقدامات کی حمایت بھی کر سکے۔ اس سلسلے میں وسائل کے حصول کو بہتر بنانے، ادارہ جاتی رابطوں کو مضبوط کرنے اور سرکاری و نجی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک مؤثر انداز میں منظم اور مناسب وسائل سے مزین اینڈومنٹ فنڈ قدیم جونیپر جنگلات کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی کے پروگراموں اور کمیونٹی پر مبنی ماحولیاتی اقدامات کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جس سے اس منفرد قدرتی ورثے کا طویل مدتی تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

خبرنامہ نمبر 2085/2026
بارکھان11مارچ۔ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایف سی، خفیہ اداروں، پولیس، کسٹم، ایکسائز اور مختلف ضلعی محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع میں امن و امان کی صورتحال، سرکاری امور کی بہتری اور مختلف محکموں کے درمیان باہمی رابطے کو مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور اقدامات کریں۔اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی مختلف امور پر غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع میں امن و استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے تمام ادارے مشترکہ طور پر کردار ادا کریں۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2086/2026
چمن11 مارچ .چمن میں پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کے ساتھ قبائلی عوام کی جانب سے اظہارِ یکجہتی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتے ہوئے پاک فوج اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔ شرکاء نے فوج ایف سی بلوچستان اور ملک کے قومی اداروں کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے تھے جس پر چیف آف آرمی جنرل عاصم منیر اور پاک فوج کے حق میں نعرے درج تھے ریلی کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان پر کسی قسم کی جارحیت کی صورت میں پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور ہر قسم کی حالات ساتھ دینے کا عزم کیا اور کہا کہ پاکستان کے دشمنوں کو ہم پیغام دیتے اور خبردار کرتے ہیں کہ چمن کے غیور عوام ہر قسم کی جارحیت کی صورت میں ہم سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہیں گے اور آخر میں پاکستان زنداباد کے نعروں پر ریلی کا اختتام کیا گیا.

خبرنامہ نمبر 2087/2026
گوادر 11 مارچ۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی سربراہی میں ادارے میں ذرائع آمدن (Revenue Generation) میں اضافے، مالی وسائل کے بہتر استعمال اور کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ادارے کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی، ڈائریکٹر فنانس ذاکر مجید، ڈائریکٹر ایڈمن چنگیز خان، کنٹرولر بلڈنگز نذر احمد، ڈائریکٹر انوائرمنٹ رسول بخش بلوچ، ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ شے منصور احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس شکور احمد سمیت دیگر افسران موجود تھے۔اجلاس کے دوران جی ڈی اے کی گزشتہ تین برسوں کے دوران حاصل ہونے والی آمدن اور مختلف شعبہ جات کے مالی وسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ادارے کے ذرائع آمدن میں اضافے کے لیے نئے امکانات اور قابل عمل حکمت عملیوں پر بھی غور کیا گیا۔
ڈائریکٹر فنانس ذاکر مجید نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹاؤن پلاننگ، بلڈنگ کنٹرول، لینڈ مینجمنٹ، انوائرمنٹ اور واٹر سیکشن سمیت مختلف شعبوں سے حاصل ہونے والی آمدن کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے اور آئندہ مالی وسائل میں اضافے کے لیے متعدد امکانات زیر غور ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے تمام شعبہ جات کےسربراہان کو ہدایت کی کہ وہ ادارے کے موجودہ ذرائع آمدن کا ازسرنو جامع جائزہ لے کر ایسے مؤثر اور قابل عمل اقدامات تجویز کریں جن کے ذریعے جی ڈی اے کے مالی وسائل میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے ٹھوس اور قابل عمل تجاویز پر مشتمل رپورٹ پیش کی جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران ڈائریکٹر جنرل کی ہدایات اور کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد کے نتیجے میں جی ڈی اے نے غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کرتے ہوئے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی بچت کی ہے، جو مختلف مدات میں اخراجات کو محدود کر کے ممکن بنائی گئی۔ڈائریکٹر جنرل نے اس موقع پر کہا کہ جی ڈی اے کو مستقبل میں مالی طور پر مضبوط اور خود کفیل ادارہ بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ ادارہ اپنی مالی ضروریات خود پوری کرنے کے قابل ہو سکے اور بتدریج مکمل مالی خود انحصاری کی طرف بڑھ سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ حالیہ عالمی اور علاقائی معاشی صورتحال کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں فیول کے استعمال، سرکاری ٹرانسپورٹ، پانی کی فراہمی کے پمپنگ اسٹیشنز اور دیگر مشینری کے استعمال کو ضرورت کے مطابق محدود رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی تاکہ وسائل کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2088/2026
چمن11مارچ۔ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو تمام بنیادی ضروریات اور سہولیات کی فراہمی کے حوالےسے آج اسسٹنٹ کمشنر امتیاز علی بلوچ نے ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن کا تفصیلی دورہ کیا۔اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر محمد اویس نے اے سی چمن کو ہسپتال کے حوالےسے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اے سی چمن نے دورے کے دوران ہسپتال کے مختلف شعبہ جات، ایمرجنسی وارڈ، او پی ڈی، لیبارٹری، اور دیگر وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیا اس موقع پر اے سی چمن نے زیر علاج مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کی اور ان سے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور عملے کے رویے کے حوالے سے دریافت کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹروں کی حاضریاں چیک کیں اور کہا کہ تمام ڈاکٹرز اور سٹاف اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں اور وقت کی پابندی کریں کیونکہ ڈاکٹرز اور سٹاف کی غیر موجودگی کی صورت میں مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے جس کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور تمام سٹاف اپنی ڈیوٹیاں ایمانداری اور دیانتداری سے سرانجام دیں اور مریضوں کی علاج و معالجہ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھا جائے اور مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف اور عملے کی حاضریوں اور مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں غفلت، لاپرواہی اور کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ہسپتال کا سرپرائزڈ وزٹ کیا کریں گے تاکہ عوام کو بہترین سروسز کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2089/2026
قلات11مارچ۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے خصوصی احکامات پر ضلعی انتظامیہ کے زیرنگرانی عیدالفطر کے موقع پر خواتین اور بچوں کے لیئےمینابازارکے انعقاد سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر طاہر سنجرانی نے کی اجلاس میں شاپنگ سنیٹرز سلک سینٹرز شوز سینٹرز کے مالکان ملک بنگلزئی بابو لعل قلیم اللہ نیاز احمد حاجی عبدالوہاب نیچاری پپولعل مکیش کمار اور دیگر تاجروں نے شرکت کی ااجلاس میں عیدالفطر کے موقع پر خواتین اور بچوں کے خریداری کے لیئے مینابازار کے انعقاد سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیااجلاس میں مینابازار کے جگہ کاتعین اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی مشاورت کی گئی تاجربرادری نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مینا بازار کے انعقاد کو خوش آئنداقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام تاجر برادری مینابازار میں اپنے اسٹالز لگائیں گے اور خواتین اور بچوں کی تمام ترضرویات کپڑےچوتے چوڑیاں اور دیگر شاپنگ کے سامان کی دستیابی یقینی بنائیں گے تاکہ خواتین اور بچے بلاججک اور آسانی سے عید کے لیئے خریداری کرسکیں۔
۔۔۔

خبر نامہ2090/2026
لورالائی 11مارچ ۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن اور آئی جی پولیس بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ کی جانب سے پولیس شہداء کے لواحقین اور مستحق ملازمین میں رمضان راشن کی تقسیموزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر خان کے احکامات کی روشنی میں ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے ڈسٹرکٹ پولیس لورالائی کے شہداء کےلواحقین، دورانِ ڈیوٹی زخمی ہونے والے اہلکاروں اور غریب و نادار پولیس ملازمین میں رمضان المبارک کے موقع پر راشن تقسیم کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے فراہم کردہ یہ رمضان پیکیج اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت اپنے محافظوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کو نہایت سنجیدگی اور ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے پولیس شہداء کے لواحقین اور دورانِ ڈیوٹی زخمی ہونے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کے بہادر جوانوں کی قربانیاں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک روشن مثال ہیں، جنہیں ہمیشہ قدر و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ڈی آئی جی لورالائی نے مزید کہا کہ پولیس فورس محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک مضبوط خاندان کی مانند ہے، جہاں ہر فرد کی عزت، فلاح و بہبود اور حوصلہ افزائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اسی طرح باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ عوامی خدمت کا یہ سفر جاری رکھا جائے گا۔آخر میں انہوں نے پولیس ملازمین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ بہتری اور درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جاتے رہیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لورالائی رینج پولیس پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری محنت اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتی رہے گی۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2091/2026
(کوئٹہ11 مارچ ۔رمضان المبارک کے دوران عوام کو معیاری اور محفوظ اشیاءخوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی تابڑ توڑ کاروائیاں جاری ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کے مطابق صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بی ایف اے کی خصوصی ہدایات پر انسپیکشن ٹیموں کو خصوصی ٹاسک تفویض کیے گئے ہیں جن کے تحت ماہِ صیام کے دوران مختلف غذائی مراکز کی مرحلہ وار چیکنگ کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ رمضان کے ابتدائی اور درمیانی عشروں میں دودھ، مشروبات، سموسہ و پکوڑا شاپس، نان شاپس ، جنرل اسٹورز اور گوشت کی دکانوں کی انسپیکشن پر خصوصی توجہ دی گئی جبکہ آخری عشرے میں بیکریوں اور بیکنگ یونٹس کی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ عیدالفطر کے موقع پر شہریوں کو معیاری اور محفوظ مٹھائیاں اوربیکری مصنوعات دستیاب ہوں۔ڈی جی بی ایف اے کے مطابق بعض عناصر خصوصاً رمضان المبارک میں زیادہ منافع کے حصول کے لیے ناقص اور مضر صحت اشیاء فروخت کر کے عوام کی صحت کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اسی تناظر میں بی ایف اے کی ٹیموں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ دن اور رات مارکیٹوں کی کڑی نگرانی اور غیر معیاری خوراک کی تیاری و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ڈی جی بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق رمضان المبارک میں شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے معائنوں کا سلسلہ مزید تیز کیا جا رہا ہے اور خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔دوسری جانب کوئٹہ کے مختلف علاقوں سمیت لورالائی اور اوستہ محمد میں بیکرز، بیکنگ یونٹس اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس کی چیکنگ کے دوران دو بیکنگ یونٹس کو سنگین خلاف ورزیوں پر سیل جبکہ متعدد بیکریوں اور کھانے پینے کے مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق معائنے کے دوران ورکرز کی ناقص ذاتی صفائی،واشنگ ایریا میں ڈسٹ بن کی عدم دستیابی، کھانے کی اشیاء کو بغیر ڈھانپے رکھنا، ایکسپائرڈ فوڈ ایسنس اور کلر کا استعمال، بیکری آئٹمز کی غیر مناسب اسٹوریج، بیکنگ ایریا میں کاکروچ کی موجودگی، مصنوعات پر تاریخِ تیاری اور تاریخِ تنسیخ درج نہ ہونا اور آٹا گوندھنے والی مشین سے آئل لیکیج جیسے مسائل سامنے آئے۔علاوہ ازیں دیگر بیکرز کو بیکنگ میں خراب انڈوں کے استعمال، گندی بیکنگ ٹرے کے استعمال، دیگر برانڈز کی پیکنگ استعمال کرنے، بیکنگ ایریا میں باتھ روم کی موجودگی اور غیر حفظانِ صحت حالات پر جرمانہ کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران ایکسپائرڈ اور ناقص اشیاء خوردونوش کی بڑی مقدار قبضے میں لے کر تلف کر دی گئی۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2092/2026
کوئٹہ، 11 مارچ:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے گرانفروشوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گئے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مجموعی طور پر 210 دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور خلاف ورزی پر 38 افراد گرفتار جبکہ 20 افراد جیل منتقل کرکے 15 دکانیں سیل کردیے گئے تفصیلات کے مطابق سب ڈویژن (سٹی) میں 55 دکانوں کا معائنہ،12 افراد گرفتار اور 5 دکانیں سیل،سب ڈویژن (صدر)60 دکانوں کا معائنہ کرکے 13 افراد گرفتار جبکہ 5 دکانیں سیل،سب ڈویژن (سریاب) میں 50 دکانوں کا معائنہ کرکے 11 افراد گرفتار اور4 دکانیں سیل جبکہ تحصیل کچلاک میں 35دکانوں کے معائنہ کرکے 7 دکاندار گرفتار جبکہ 3دکانیں سیل کردیے گئے ہیں ان کاروائیوں میں تحصیل اسسٹنٹ کمشنرز اور اسپیشل مجسٹریٹ نے شرکت کی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق رمضان المبارک میں گرانفروشی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2093/2026
موسی’ خیل۔11مارچ ۔ضلع موسی’ خیل کی تحصیل درگ میں اچانک جانوروں میں پھیلنے والی خطرناک بیماری سے بچاؤ کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر غلام محمود جعفر نے ہنگامی بنیادوں پہ احتیاطی تدابیر کا عمل شروع کردیا محکمہ لائیو سٹاک تحصیل درگ عملے کیجانب سے اس بیماری کے مکمل خاتمے اور جانوروں کی حفاظت کے لیے پوری تحصیل میں ٹیمیں بناکر ویکسینیشنز عمل شروع کرادیا اور لوگوں سے درج ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی گزارشات کی گئ ہے کہ اگر کوئی جانور مر جائے تو اسے فوری طور پر مناسب اور محفوظ طریقے سے دفن کریں تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے اور صحت مند جانور مردہ جانوروں کے قریب نہ جاسکیں اپنے جانوروں کو چند دنوں کے لیے گھر کے اندر ہی محدود رکھیں انہیں باہر نہ نکالیں جب تک بیماری کی شدت مکمل ختم نہ ہو، اپنے جانوروں کو *دوسرے علاقوں یا مال مویشی منڈیوں میں نہ لے جائیں کیونکہ چند دن کی احتیاط سے آپ اس جان لیوا بیماری سے اپنے اور دیگر جانوروں کو بچا سکتے ہیں محکمہ لائیو اسٹاک ضلع موسی’ خیل نے پورے ضلع میں اپنی ٹیموں کے ذریعے اس بیماری سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کا پیغام پہنچا دیا کہ اپنے مال مویشیوں کا خیال رکھیں اور محکمہ لائیو اسٹاک پورے ضلع میں ویکسین کا عمل شروع کررہا کوشش کریں کے بروقت اس عمل میں محکمہ کا ساتھ دیں تاکہ ایسی نگہانی آفات سے بروقت نمٹا جاسکے۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2094/2026
نصیرآباد 12مارچ۔صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی نے گوٹھ شفیع محمد جمالی میں ایم پی اے فنڈ سے منظور ہونے والی بلیک ٹاپ روڈ کی تکمیل کے بعد اس منصوبے کا دورہ کر کے اسکیم کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں اور سڑک کی تعمیر کے معیار کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی منصوبوں میں شفافیت اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے دورے کے موقع پر مقامی معتبر شخصیت شفیع محمد جمالی نے بلیک ٹاپ روڈ کی منظوری اور اس کی تکمیل پر صوبائی وزیر سردارزادہ فیصل خان جمالی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے علاقے کے لوگوں کو آمدورفت میں نمایاں سہولت میسر آئے گی اور مقامی آبادی کو معاشی و سماجی سرگرمیوں میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔اس موقع پر مزار خان مینگل، غلام شبیر پندرانی اور محمد بچل سومرو بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ موجود تھے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ انفرادی مفادات کے بجائے اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان ترقیاتی اسکیموں سے مستفید ہو سکیں انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور سڑکوں، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی شعبوں میں بہتری کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں اور علاقے میں ترقی کا عمل تیز ہو۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2095/2026
بارکھان11 مارچ ۔
23 مارچ یومِ پاکستان اور رمضان اسپورٹس فیسٹیول کے سلسلے میں محکمہ اسپورٹس بارکھان کے زیرِ اہتمام کرکٹ، فٹسال اور شوٹنگ بال کے فائنل مقابلے منعقد ہوئے۔ فائنل میچز کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر بارکھان خادم حسین تھے۔کرکٹ کے فائنل میں پرنس نعیم اور کھتیران کرکٹ ٹیم کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ ہوا۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پرنس نعیم کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 135 رنز بنائے۔ جواب میں کھتیران ٹیم بھرپور کوشش کے باوجود 90 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی، یوں پرنس نعیم کی ٹیم نے 45 رنز سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔میچ کے بہترین کھلاڑی صاحب جان قرار پائے جنہوں نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 60 رنز اسکور کیے اور ایک وکٹ بھی حاصل کی۔
تقریب میں سپورٹس آفیسر بارکھان امیر جان کھتیران، سوشل ویلفیئر آفیسر اور علاقہ معززین سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ مہمانِ خصوصی نے کامیاب ٹیموں اور کھلاڑیوں میں ٹرافیاں، میڈلز اور نقد انعامات تقسیم کیے۔اس موقع پر کھلاڑیوں نے ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر بلوچستان برائے یوتھ افیئرز و اسپورٹس مینا مجید، سیکرٹری اسپورٹس دورہ بلوچ، ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس یاسر بازئی اور سپورٹس آفیسر بارکھان امیر جان کھتیران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اسپورٹس ایونٹس نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اسی طرح تعاون جاری رکھا جائے گا۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر2096/2026
کوئٹہ، 11 مارچ ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ کے والد کے انتقال پر مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے ان کی رہائش گاہ جا کر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی تعزیت کرنے والوں میں سابق چیئرمین سینیٹ و رکن بلوچستان اسمبلی صادق سنجرانی، سابق صوبائی وزیر داخلہ و رکن بلوچستان اسمبلی میر ضیائ اللہ لانگو، پارلیمانی سیکرٹری برائے محکمہ پاپولیشن پرنس آغا عمر احمدزئی، صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم کھوسہ، رکن بلوچستان اسمبلی زرک خان مندوخیل، رکن بلوچستان اسمبلی نعیم بازئی، پارلیمانی سیکرٹری محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن عبدالمجید بادینی سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر خان کاکڑ سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں جنہوں نے مرحوم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی تعزیت کرنے والی شخصیات نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2097/2026
کوئٹہ11مارچ ، ۔پی ڈی ایم اے بلوچستان کے ڈائریکٹر پلاننگ، کوآرڈینیشن اینڈ ریسکیو نوید احمد نے کوئٹہ میں اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام کے وفد کے ساتھ ہاوس ری کنسٹرکشن یونٹ آئی ایف آر اے بی کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری ہاوس ری کنسٹرکشن منصوبے کی پیش رفت، تکنیکی معیارات اور عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ایچ آر یو آئی ایف آر اے بی ٹیم نے تعمیر نو کے جاری کاموں اور منصوبے کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی جبکہ پی ڈی ایم اے بلوچستان نے چینی تعاون سے جاری منصوبے اور ایس پی ایچ ایف ہاوسنگ منصوبے سمیت دیگر جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔اجلاس کے دوران یو این ڈی پی کے نمائندوں نے بلوچستان میں آئندہ ممکنہ تعاون کے امکانات، ترجیحی شعبوں کی نشاندہی اور ترقیاتی و بحالی منصوبوں میں موجود خلا کو پر کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ صوبے میں موثر تعمیر نو اور پائیدار بحالی کیلئے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، مسلسل نگرانی اور مشترکہ منصوبہ بندی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان اور اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام کے نمائندوں کے اجلاس میں ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری ہاوس ری کنسٹرکشن منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جارہا ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *