خبرنامہ نمبر2024/2026
کہروڑپکا، 10 مارچ ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کہروڑپکا میں واقع کانجو فارم ہاوس گئے جہاں انہوں وزیر مملکت برائے توانائی و عوامی امور عبدالرحمٰن خان کانجو سے ان کی والدہ ماجدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ والدہ کا سایہ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہوتا ہے اور اس عظیم ہستی کا دنیا سے رخصت ہونا ایسا صدمہ ہے جس کا ازالہ آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ماں کی جدائی کا دکھ نہایت گہرا اور ناقابلِ بیان ہوتا ہے، تاہم ایمان اور صبر کے ساتھ اس آزمائش کا سامنا کرنا ہی مومن کا شیوہ ہے میر سرفراز خان بگٹی نے عبدالرحمٰن خان کانجو اور ان کے اہل خانہ سے بھرپور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، جنت الفردوس میں بلند درجات نصیب فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا کرے اس موقع پر مختلف سیاسی شخصیات، سابق ناظمین اور حلقے کے معززین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جنہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندان سے اظہارِ تعزیت کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2025/2026
کوئٹہ، 10 مارچ ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کے چچا اور فیصل کاکڑ و حاجی خالد کاکڑ کے والد محترم ملک حاجی جمال خان کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی قریبی عزیز کا انتقال اہلِ خانہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کے لیے مغفرت اور سوگوار خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2026/2026
کوئٹہ 10مارچ ۔کوئٹہ سیکریٹری اطلاعات عمران خان کی صدارت میں محکمہ اطلاعات کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز عسکر خان سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈیجیٹل پالیسی 2026 کے حوالے سے مجوزہ ترامیم اور مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ، حکومتی پالیسیوں کی موثر تشہیر اور جدید تقاضوں کے مطابق پالیسی کو مزید فعال بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے موثر استعمال سے حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات عمران خان اور ڈی جی پی آر عسکر خان نے کہا کہ ڈیجیٹل پالیسی کے نفاذ کا بنیادی مقصد حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کو موثر اور جدید انداز میں عوام تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کر کے نہ صرف باعزت روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے بلکہ انہیں منفی سرگرمیوں سے دور رکھ کر معاشرے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ڈیجیٹل پالیسی 2026 کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مزید موثر اور جامع بنایا جائے گا تاکہ حکومت کی کارکردگی، عوامی آگاہی اور نوجوانوں کے لیے مواقع میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2027/2026
بارکھان 10 مارچ ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے تحت ضلعی انتظامیہ بارکھان کی جانب سے ناہڑکوٹ کے عوام کے مسائل براہ راست سننے اور ان کے فوری حل کے لیے ایف سی قلعہ بارکھان میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ نے کی جبکہ ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد یونس، اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر، مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی افسران، علاقائی معتبرین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران ناہڑکوٹ اور ملحقہ علاقوں سے آئے ہوئے شہریوں نے اپنے مسائل براہ راست انتظامیہ کے سامنے پیش کیے۔ عوام نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، بنیادی صحت کی سہولیات کی کمی، موبائل سگنلز کی خراب صورتحال، مال مویشیوں کے لیے ویٹرنری اہسپتال کے قیام، مستحق افراد میں راشن کی منصفانہ تقسیم اور ناہڑکوٹ روڈ کی تعمیر و مرمت جیسے اہم عوامی مسائل کی نشاندہی کی۔ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ نے عوامی مسائل کو نہایت توجہ سے سنا اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کیں کہ پیش کیے گئے مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ حکومت بلوچستان کے وڑن کے مطابق عوامی خدمت اور مسائل کے بروقت حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلی کچہریوں کا انعقاد اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔اس موقع پر ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد یونس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امن و استحکام، ترقی اور عوامی فلاح کے لیے سول انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ علاقے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔کھلی کچہری کے دوران بعض مسائل موقع پر ہی حل کر دیے گئے جبکہ دیگر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو فوری ہدایات جاری کی گئیں۔ شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے عوامی فورمز عوام اور حکومتی اداروں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ بارکھان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے حل اور علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لیے کھلی کچہریوں اور عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2028/2026
تربت. 10 مارچ ۔گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کوشقلات میں اسکول داخلہ مہم کے سلسلے میں محکمہ تعلیم کی جانب سے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔ واک محکمہ تعلیم ضلع کیچ اور یونیسیف کے تعاون سے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کوشقلات سے شروع ہوکر کوشقلات بازار تک نکالی گئی۔واک میں ہیڈماسٹر سکول لیاقت علی بلوچ,قاسم جان گچکی, حاجی مولابخش, حاجی صالح محمد,منصور مقصود,کونسلر امام دریائی,نعیم,ماسٹر شفیع محمد سمیت اسکول کے اساتذہ اور پی ٹی ایس ایم سی کے نمائندگان اور علاقےکے نمائندگان نے شرکت کی۔واک کے دوران مقررین نے خطاب کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ 4 سے 9 سال عمر کے بچوں کو لازمی طور پر اسکولوں میں داخل کرائیں تاکہ انہیں بہتر اور روشن مستقبل فراہم کیا جاسکے۔بعدازاں واک ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گی جو گھر گھر جاکر والدین کو بچوں کے اسکولوں میں داخلے کے لیے آگاہی فراہم کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر2029/2026
حب10 مارچ ۔: اسسٹنٹ کمشنر حب میہم خان گچکی کی سربراہی میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے حب شہر میں ایک پرجوش ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں ضلعی انتظامیہ کے افسران، مختلف سرکاری محکموں کے نمائندگان، سماجی و قبائلی شخصیات، اساتذہ، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور قومی پرچم اٹھا کر پاک فوج کے ساتھ اپنی والہانہ محبت اور مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پاک فوج کے حق میں نعرے اور قومی یکجہتی کے پیغامات درج تھے۔ ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزری جہاں شرکاء نے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں بھرپور نعرے بازی کی۔ اس موقع پر شہریوں میں جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور لوگوں نے جگہ جگہ ریلی کے شرکائ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر حب میہم خان گچکی نے کہا کہ پاک فوج وطنِ عزیز کی سلامتی اور دفاع کی ضامن ہے اور اس کے افسران و جوانوں نے ملک کی حفاظت کے لیے بےمثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور پاکستانی قوم اپنے بہادر سپاہیوں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا، ترقی اور استحکام کے لیے قومی یکجہتی اور اتحاد ناگزیر ہے اور پاکستان کے عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ مکمل طور پر متحد ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر حب نے مزید کہا کہ دشمن عناصر ہمیشہ پاکستان کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم پاکستانی قوم اور سکیورٹی ادارے ان سازشوں کو ہمیشہ ناکام بناتے آئے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حب کے عوام اور ضلعی انتظامیہ ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ریلی میں شریک مختلف سماجی شخصیات، اساتذہ اور طلبہ نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ہماری قومی سلامتی کی ضامن ہے اور پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اپنی افواج کے ساتھ محبت، اعتماد اور احترام کا مضبوط رشتہ رکھتے ہیں جو ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ریلی کے دوران شہر کی فضاء پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔ شرکاءنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہیں گے اور وطنِ عزیز کے دفاع، سلامتی اور ترقی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ریلی کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ شرکاء نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھے اور ہماری مسلح افواج کو مزید قوت و کامیابی عطا فرمائے۔ اس موقع پر اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ حب کے عوام اور ضلعی انتظامیہ قومی مفادات اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2030/2026
خضدار 10 مارچ ۔ ضلع خضدار میں بلوچ عوام اور پاکستان آرمی کے درمیان یکجہتی اور بھائی چارے کے پیغام کو اجاگر کرنے کے لیئے ایک پرامن ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا مقصد امن کے پیغام کو عام کرنا تھا۔ ریلی کا اہتمام ضلعی انتظامیہ خضدار نے کیا تھا، جو ضلعی سیکریٹریٹ سے شروع ہو کر علامہ دین پوری لائبریری کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی،ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ اے ڈی سی خضدار علم دین، اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزارزئی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر محمد نسیم لانگو ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر سرمد سعید خان ڈپٹی کمشنر خضدار کے اسٹاف افیسر مراد گزو زئی ہندو پنچایت کے سربراہ چوہدری جواہری لال اور کونسلر بسنت کمار آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد جتک سمیت دیگر سیاسی، سماجی رہنما اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اور خواتین نے کثیر تعداد میں بھرپور شرکت کی۔شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “بلوچ عوام اور فوج ساتھ ساتھ” جیسے نعرے درج تھے۔ ریلی کے دوران شرکاءنے امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔ یہ ریلی بلوچستان کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان مضبوط رشتے اور مشترکہ مقاصد کی عکاسی کرتی ہے۔شرکاءنے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اجتماعات سے صوبے میں امن و امان کی فضا مزید مستحکم ہوتی ہے اور عوام اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ ریلی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں حالیہ دنوں میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کی خاطر نکالی جارہی ہے، جو قومی سلامتی اور استحکام کے لیئے عوامی حمایت کی علامت ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام ہمیشہ پاکستان اور اس کی افواج کے ساتھ ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2031/2026
لورالائی 10مارچ ۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت یومِ پاکستان و رمضان اسپورٹس فیسٹیول جاری ہے۔ کرکٹ سمیت تین شاندار فائنل مقابلے لورالائی میں یومِ پاکستان اور ماہِ رمضان کے سلسلے میں جاری اسپورٹس فیسٹیول کے تحت مختلف کھیلوں کے دلچسپ مقابلے منعقد کیے گئے، جن میں کرکٹ، ووشو اور علاقائی کھیل گم لڈو کے سنسنی خیز فائنل میچز کھیلے گئے۔ ان مقابلوں کو دیکھنے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد گراونڈ میں موجود تھی جنہوں نے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ان فائنل میچز کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم تھے اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس نصیب اللہ کاکڑ،ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر ظہیر احمد سابق ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس سید ظفر اللہ شاہ ودیگر آفیسر ان بھی موجود تھے کرکٹ کے مقابلوں کے سلسلے میں آج دوسرا سیمی فائنل ایک دلچسپ اور سنسنی خیز میچ کی صورت میں سامنے آیا، جو آرین سپورٹس کرکٹ کلب اور جواد اسٹار کرکٹ کلب کے درمیان کھیلا گیا۔ دونوں ٹیموں نے عمدہ کھیل پیش کیا تاہم جواد اسٹار کرکٹ کلب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارین سپورٹس کرکٹ کلب کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔میچ میں ارین سپورٹس کرکٹ کلب کے بلے بازوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ایک مناسب اسکور بنایا، لیکن جواب میں جواد اسٹار کرکٹ کلب کے بلے بازوں نے پراعتماد کھیل پیش کرتے ہوئے مطلوبہ ہدف باسانی حاصل کر لیا۔ جواد اسٹار کے گیند بازوں نے بھی عمدہ لائن اور لینتھ کے ساتھ گیند بازی کرتے ہوئے مخالف ٹیم کے اہم کھلاڑیوں کو جلد آوٹ کیا جس سے میچ کا رخ ان کے حق میں ہوگیا۔اسپورٹس فیسٹیول کے دوران ووشو اور علاقائی کھیل گم لڈو کے فائنل مقابلے بھی نہایت دلچسپ رہے جن میں کھلاڑیوں نے بھرپور مہارت کا مظاہرہ کیا۔ مقامی شائقین نے کھیلوں کے فروغ کے لیے ایسے مقابلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔تقریب کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے اورکہا کہ اسپورٹس فیسٹیول کا مقصد نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2032/2026
حب10مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر حب کے جاری کردہ ایک حکمنامے کے مطابق مسمیان عبدالقادر ولد جلال خان اور حاکم علی ولد عبدالقادر اقوام مگسی سکنہ محلہ بلوچ آباد تحصیل و ضلع حب کے لوکل سرٹیفیکیٹ انکی اپنی درخواست پر منسوخ کردیے گئے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2033/2026
کوئٹہ 10مارچ:۔بلوچستان پولیس نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران صوبہ بھر میں جرائم پیشہ عناصر منشیات فروشوں، اشتہاری، مفرور سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری مہم کے خصوصی کارروائیوں میں144 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے5 مسروقہ گاڑیاں، 39 موٹر سائیکلیں، 12 موبائل فون، 122 پسٹل وریوالور،15شارٹ گن، 4کلاشنکوف، 594کارتوس،91میگزین برآمد کرنے کے علاوہ10 مغویوں کو بھی بازیاب کرایا ہیں۔آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کی خصوصی ہدایت پر بلوچستان پولیس نے صوبہ بھر میں منشیات فروشوں، جرائم پیشہ عناصر، موٹر سائیکل گاڑیاں، موبائل فون چھیننے، چوری راہزنی سمیت دیگر مقدمات میں مطلوب اشتہاری، مفرور ملزمان کے خلاف خصوصی مہم کے دوران 144ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 122 پسٹل وریوالور ،4کلاشنکوف ، 15شارٹ گن،594کارتوس ، 91میگزین قبضے میں لی۔ جبکہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 111 ملزمان کو حراست میں لیکر ان سے 743.678چرس ، 11.630 آئس شیشہ، , 10.665افیوم اور1620شراب کی بوتلیں برآمد کیں۔ اس کے علاوہ295 مطلوب مفروراور402 اشتہاری ملزمان، جبکہ مختلف جرائم میں 718 ملزمان کو حراست میں لیا گیااور 10 مغویوں کو بھی بازیاب کرایا گیاان کارروائیوں کے دوران 5مسروقہ گاڑیاں،39موٹر سائیکلیں ، 12موبائل فون ، 450غیر ملکی سگریٹ ، 1478لیٹر پیٹرول، 203لیٹر ڈیزل ، نقدی 300000 ، کارروائی 550/411کے تحت27موٹر سائیکلیںاور گاڑیاں قبضے میں لے لی اور اس کے علاوہ 2109گاڑیوں سے کالے شیشے اتارے گئے۔بلوچستان پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اپنے فرائض کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے صوبہ بھر میں کارروائیاں کررہی ہے اس کے علاوہ کوئٹہ سمیت 7 رینجز کے مختلف اضلاع میں ٹارگٹ آپریشن کئے گئے جس میں مختلف سنگین جرائم چوری، ڈکیتی، اشتہاری، مفرور ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا اس کے علاوہ جرائم کی روک تھام اور عوام کے تحفظ کے لئے صوبے بھر میں شہریوں کو پرامن اور جرائم سے پاک ماحول فراہم کرنا مقصود ہے۔واضح رہے کہ آئی جی پولیس بلوچستان کی ہدایات پر خصوصی جاری مہم کے دوران جرائم پیشہ مطلوب اور اشتہاریوں کی ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں روپوشی کے تدارک کے لئے اقدامات کئے گئے علاوہ ازیں گرفتار ہونے والے ملزمان کی صوبے کے تما م تھانوں میں مطلوب مقدمات کی چھان بین کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ان کے خلاف متوقع مقدمات کے حوالے سے بھی تینوں صوبوں کے پولیس سے بھی رابطہ میں ہیں گرفتار ملزمان کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین کرکے معلومات کا تبادلہ کاسلسہ بھی جاری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2034/2026
جعفرآباد10مارچ ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں کاشتکاروں اور زمینداروں کو درپیش مسائل سننے اور ان کے فوری و موثر حل کے لیے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت گوٹھ سردار مراد سیال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن و ڈرینیج گل حسن کھوسہ سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی جبکہ قریبی دیہی علاقوں کے کاشتکاروں اور زمینداروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اس موقع پر کاشتکاروں نے آبپاشی، پانی کی فراہمی، نہروں کی صفائی، زرعی مسائل اور دیگر درپیش مشکلات کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا۔ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کے مطابق ضلع بھر کے دیہی اور شہری علاقوں میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو درپیش مسائل براہ راست سن کر ان کے فوری حل کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور ضلعی انتظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو درپیش مشکلات کا بروقت ازالہ کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ کاشتکاروں اور زمینداروں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ زراعت کے شعبے کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور مسائل کو موقع پر ہی حل کرنا ہے تاکہ عوام کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ اس موقع پر کاشتکاروں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2035/2026
کوئٹہ10 مارچ۔ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات میں بھرتیوں کا عمل خالصتاً میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا اور اس ضمن میں کسی قسم کی سفارش یا دباو کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا یہ بات انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی اجلاس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئر نصیر آباد زون محمد بشیر خان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ میں درجہ چہارم اور دیگر خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے ابتدائی ورکنگ مکمل کر لی گئی ہے اور اشتہارات جلد جاری کیے جائیں گےاس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ بھرتیوں کے عمل کو موثر منظم اور مکمل طور پر شفاف بنانے کے لیے واضح طریقہ کار اختیار کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام یا شکایت کی گنجائش نہ رہےصوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہےانہوں نے واضح کیا کہ بھرتیوں کے تمام مراحل کی نگرانی خود سیکرٹری مواصلات و تعمیرات کریں گے تاکہ شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آسامیوں کو فوری طور پر مشتہر کیا جائے تاکہ بھرتیوں کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکےانہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور محکمہ مواصلات و تعمیرات میں میرٹ کی بنیاد پر نئی بھرتیاں اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا اور اداروں کو مضبوط بنانا حکومت کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام تقرریاں مکمل شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق عمل میں لائی جائیں گی تاکہ اہل اور مستحق امیدواروں کو آگے آنے کا موقع مل سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2036/2026
کوئٹہ، 10 مارچ ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کے چچا اور فیصل کاکڑ و حاجی خالد کاکڑ کے والد محترم ملک حاجی جمال خان کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بزرگ شخصیت کا دنیا سے رخصت ہونا اہلِ خانہ کے لیے ایک بڑا سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ بخت محمد کاکڑ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہیں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2037/2026
کوئٹہ، 10 مارچ ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کے چچا اور فیصل کاکڑ و حاجی خالد کاکڑ کے والد محترم ملک حاجی جمال خان کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں شاہد رند نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی عزیز ہستی کا دنیا سے رخصت ہونا اہلِ خانہ کے لیے ایک بڑا صدمہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ بخت محمد کاکڑ اور ان کے تمام اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں شاہد رند نے مرحوم کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2038/2026
کوئٹہ (10 مارچ ۔بلوچستان ہائی کورٹ میں چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران مختلف منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق رپورٹیں عدالت میں پیش کی گئیں اور متعلقہ حکام کو متعدد ہدایات جاری کی گئیں۔سماعت کے دوران وزیراعلیٰ پیکج برائے کوئٹہ کے منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رفیق بلوچ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو کر ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق امداد چوک اور اس سے ملحقہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے کاموں میں پرانی سڑک کی کٹائی، ایگریگیٹ بیس کورس اور اسفالٹ بیس کورس کی تیاری، بچھانے اور کمپیکشن کا عمل جاری ہے جبکہ سڑک کے دونوں اطراف مکمل چوڑائی میں فرش کی تیاری، کراس ڈرینیج اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے کام بھی مکمل کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے میں فٹ پاتھ، لین مارکنگ، مین ہول کورز اور گرِلنگ کی تنصیب بھی شامل ہے۔اسی طرح محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایکسین و پراجیکٹ ڈائریکٹر حبیب الرحمٰن نے عدالت کو سریاب روڈ پر جاری فلائی اوور منصوبوں کے حوالے سے تصویری شواہد کے ساتھ بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ گاہی خان چوک فلائی اوور پر تقریباً 98 فیصد فزیکل پیش رفت مکمل ہو چکی ہے جبکہ کسٹم فلائی اوور پر تعمیراتی کام تقریباً 4 فیصد تک پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مقامی زمینداروں کے ساتھ مسائل کی وجہ سے کام میں رکاوٹ پیش آئی ہے، جس پر معاملہ حل کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے تعاون طلب کیا گیا ہے۔ عدالت نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو سریاب روڈ پر سروس کوریڈور کی تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو بھی ہدایت کی کہ وہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے ساتھ معاملہ اٹھا کر عدالتی احکامات پر بروقت عمل درآمد یقینی بنائیں۔ سماعت کے دوران عالمو چوک فلائی اوور منصوبے سے متعلق بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر اسے ون وے اوورہیڈ برج کے طور پر منصوبہ بندی کیا گیا تھا تاہم مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر اس میں ترمیم کرتے ہوئے اسے ڈبل وے پل کے طور پر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں فزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائننگ کا عمل جاری ہے اور مکمل ہونے کے بعد منصوبہ منظوری کے لیے پی ڈی ڈبلیو پی اور بعد ازاں سی ڈی ڈبلیو پی کو ارسال کیا جائے گا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی منظوری اور تکمیل کے عمل کو تیز کیا جائے۔دوران سماعت یہ بھی بتایا گیا کہ ہاکی چوک تا سریاب ریلوے کراسنگ زرغون روڈ کی تعمیر کے بعد کمشنر کوئٹہ ڈویڑن نے نئی تعمیر شدہ سڑکوں، خصوصاً انسکمب روڈ اور زرغون روڈ پر کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمی یا نئی تعمیرات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے کمشنر کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے ایڈمنسٹریٹر کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سڑک کے اطراف کسی قسم کی نئی تجارتی سرگرمی کی اجازت نہ دی جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان ریلوے حکام کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔سماعت کے دوران سوئی سدرن گیس کمپنی کے نمائندوں، منیجر لٹیگیشن مخدوم الرحمٰن اور چیف مینیجر شہزاد جلیل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ گیس سپلائی لائن کی منتقلی سے متعلق مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور ضروری کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسفالٹ کنکریٹ پلانٹ کے قیام سے متعلق معاملہ بھی حل کر لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ پولیس حکام کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔عدالت نے اس موقع پر تمام سرکاری افسران، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ کی جانب سے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ مقررہ ٹائم لائن کے مطابق تمام ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔عدالت نے حکم دیا کہ اس آرڈر کی کاپی ایڈووکیٹ جنرل و ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو ارسال کی جائے تاکہ متعلقہ حکام کو آگاہ کر کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ مزید سماعت 12 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2039/2026
کوئٹہ، 10 مارچ .۔عدالت عالیہ بلوچستان میں چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ہرنائی تا سبی روڈ منصوبے سے متعلق دائر آئینی درخواست (سی پی نمبر 1284/2024) کی سماعت کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد اقبال ترین اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات حکومت پاکستان کے اسسٹنٹ چیف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہرنائی تا سبی روڈ براستہ سپن تنگی (طول تقریباً 97.640 کلومیٹر) کی تعمیر کے منصوبے کو سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) سے منظوری کے بعد آگے بڑھایا جانا تھا۔ تاہم منصوبے سے متعلق فزیبلٹی، ڈیزائن اور دیگر تکنیکی امور مکمل نہ ہونے کے باعث عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی مکمل فزیبلٹی رپورٹ اور نقشہ جات عدالت میں پیش کیے جائیں۔درخواست گزار کے وکیل نے 20 مئی 2024 کے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حکومت بلوچستان کے کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ضروری اقدامات مکمل کرے تاکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے ذریعے منصوبے کا نظرثانی شدہ PC-I تیار کر کے وزارت مواصلات کے ذریعے CDWP کو منظوری کے لیے بھیجا جا سکے۔اس موقع پر این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے متعلقہ محکمے کی جانب سے تاخیر کے باعث نظرثانی شدہ PC-I کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور نہ ہی اسے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے ذریعے CDWP کو منظوری کے لیے ارسال کیا گیا ہے۔عدالت نے اس معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فاضل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ پہلے بھی اسی نوعیت کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ CDWP کے دفتر سے اس سلسلے میں مختصر مہلت کی درخواست کی گئی ہے۔بینچ نے ریمارکس دیے کہ اگر رواں مالی سال میں منصوبہ پیش نہ کیا گیا تو اسے آئندہ سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں شامل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اگلے مالی سال کے PSDP کے لیے PC-I کو 30 مارچ 2026 تک جمع کرانا لازمی ہے، بصورت دیگر منصوبے کو مزید تاخیر اور ممکنہ طور پر خارج ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ وہ احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر منصوبے کی پیش رفت، ڈرائنگ، نقشہ جات اور دیگر تفصیلات پر مشتمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ مزید برآں ممبر این ایچ اے بلوچستان کو بھی آئندہ کارروائی کے لیے عدالت میں حاضر رہنے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اس حکم کی نقول ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کو ارسال کی جائیں تاکہ متعلقہ حکام تک معلومات اور تعمیل کے لیے پہنچائی جا سکیں۔کیس کی مزید سماعت 12 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2040/2026
چمن 10مارچ ۔ ڈی ایس پی چمن طاہر محمود نے میڈیا نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چمن پاک افغان سرحد سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے انہوں نے کہا کہ ملک و صوبے کے دیگر علاقوں اور ضلع چمن سے روزانہ کی بنیاد پر 400 سے 500 تک افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا کہ ہولڈنگ کیمپ میں نادرا سنٹر میں افغان باشندوں کی ویری فیکیشن اور ڈیٹا انٹری اور دیگر ضروری کاغذی کاروائی مکمل کرنے کے بعد انھیں باعزت طور پر افغانستان بھیجے جا تے ہیں انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یکم اپریل 2025 سے اب تک چمن بارڈر سے تقریباً 575000 سے زیادہ کی تعداد میں افغان مہاجرین افغانستان جا چکے ہیں تاہم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے انہوں نے کہا کہ چمن سے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 20 سے 25 افغان مہاجرین واپس افغانستان جا رہےہیں انہوں نے کہا کہ تاہم رمضان المبارک میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا سلسلہ کسی حد کمزور اور کم ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ چمن میں روزانہ کی بنیاد پر ناکوں سنیپ چیکنگ گشت اور سرچ آپریشن کے دوران افغان مہاجرین کو گرفتاری کے بعد انھیں ہولڈنگ کیمپ میں نادرا ڈیٹا انٹری اور رجسٹریشن کے بعد باعزت طریقے سے افغانستان بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا کہ چمن میں تمام غیر قانونی اور دستاویزات نہ رکھنے والے افغان باشندوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ باعزت طریقے سے اپنے ملک افغانستان چلے جائیں انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک افغان کشیدگی اور جنگی صورتحال کے پیش نظر تمام افغان باشندوں کی پاکستان میں مزید رہنے اور وقت گذارنے کا دور اب ختم ہو گیا ہے انہوں نے کہا لہذا تمام افغان مہاجرین خود ہولڈنگ کیمپ آکر قانونی کارروائی مکمل کر کے باعزت طور پر اپنے ملک افغانستان چلے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2041/2026
کوئٹہ 10 مارچ ۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہماری انتھک کاوشوں اور کڑی نگرانی کی بدولت یونیورسٹی آف بلوچستان نے مختلف بحرانوں پر قابو پا کر ترقی کی طرف گامزن کیا ہے۔ یہ پیش رفت حکومتی اقدامات اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی تعلیم دوستی کا نتیجہ ہے۔ کارکردگی میں بہتری یونیورسٹی کے مجموعی تعلیمی معیار کو بڑھانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے تاہم ترقی کی نئی منازل طے کرنے کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت بلوچستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں اور ان کے کیمپسز کی اضافی اراضی “اولیو پروموشن پراجیکٹ” کے تحت لانے کے منصوبے کو خوش آئند قرار دیا جس کے 30 فیصد اخراجات یونیورسٹی اور 70 فیصد وفاقی حکومت برداشت کریگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے بارہویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر معزز جسٹس اقبال احمد کاسی بلوچستان ہائی کورٹ، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہورِ بازئی، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان کلیم اللہ بابر، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے ڈاکٹر خالد حفیظ، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری، پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غلام رزاق شاہوانی اور رجسٹرار طارق جوگیزئی سمیت یونیورسٹی آف بلوچستان کے سینت تمام ممبران موجود تھے. گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کو یقینی بنانے اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے کیلئے مزید اقدامات اٹھائیں۔ پروموشن میں میریٹ کی پاسداری کو یقینی بنائیں تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے گیارہویں سینٹ اجلاس میں موجود شرکا کے سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں کئی اہم فیصلے کیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2042/2026
چمن 10مارچ ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی احکامات کے مطابق عوام کو ریلیف کی فراہمی اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ چمن پوری طرح متحرک ہے۔اس سلسلے میں اے سی چمن سیٹی عزیز اللہ کاکڑ نے چمن شہر کے مختلف بازاروں اور مارکیٹوں میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں معیار صفائی ستھرائی اور ایس او پیز اور سیفٹی پریکاشنز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا اس موقع پر انہوں نے متعدد دکانوں کو گرانفروشی اور ایس او پیز اور سیفٹی پریکاشنز پر عمل درآمد نہ کرنے پر نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ کہیں دکانوں پر جرمانے عائد کیے گئے اس موقع پر اے سی چمن نے کہا کہ گرانفروشی سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور کہا کہ شہری سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کی اطلاع فوری طور پر ضلعی انتظامیہ چمن کو دیں۔ تاکہ بروقت اور موثر کاروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور انھیں معیاری اور مقررہ نرخوں پر صاف ستھری اشیاءفراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح اور ذمہداری ہے انہوں نے کہا کہ لہذا دکانداروں اور تاجروں کو رمضان المبارک کی فضیلت اور اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے گرانفروشی ملاقات اور من مانی سے گریز برتیں بصورت دیگر حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2043/2026
گوادر:10مارچ ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ہدایات کی روشنی میں ضلع گوادر میں اسکول انرولمنٹ مہم کے سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کی۔ تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن زاہد حسین، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) زرتون بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل) عبدالوہاب بلوچ، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، میونسپل کمیٹی گوادر کے چیئرمین ماجد جوہر ،مختلف این جی اوز کے نمائندگان، تعلیم سے وابستہ شخصیات، صحافی حضرات اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ ضلع گوادر میں رواں سال 5500 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے تقریب میں شریک تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آوٹ آف اسکول بچوں کی سب سے بڑی وجہ غربت اور معاشی مسائل ہیں، جس کے باعث اکثر والدین بچوں کو تعلیم کے بجائے محنت مزدوری یا دیگر روزگار کی طرف مائل کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف روزگار یا مالی فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسان کو شعور، آگاہی اور ایک ذمہ دار شہری بننے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی انسان اپنے بنیادی اور قانونی حقوق سے واقف ہوتا ہے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ اسکول انرولمنٹ مہم کے پیغام کو گراس روٹ لیول تک پہنچایا جائے اور والدین کو قائل کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر صورت اسکولوں میں داخل کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کو بھرپور محنت اور کوشش کرنا ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی غریب خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت والدین اور بچوں کو مختلف مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بچوں کو تعلیم دلانے کی طرف راغب ہوں۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ضلع میں چائلڈ لیبر کے باعث بھی بہت سے بچے تعلیم سے محروم ہیں، جنہیں اسکولوں میں داخل کرانا ضروری ہے۔تقریب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ضلع گوادر میں ڈراپ آوٹ کی شرح بھی تشویشناک حد تک زیادہ ہے، جسے کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ اس مہم میں سیاسی جماعتوں، یونین کونسلز، وارڈ ممبران، موبائل لائبریریز، الیکٹرانک میڈیا، صحافی برادری، ضلعی و تحصیل کمیٹیوں، میونسپل کمیٹیوں اور دیہی علاقوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا جا سکے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلع گوادر میں کام کرنے والے غیر مقامی مزدوروں کے بچوں کو بھی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں اور انہیں اسکولوں میں داخل کرانے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2044/2026
کوئٹہ10 مارچ ۔ ایڈیشنل آئی جی پی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے سادگی، کفایت شعاری اور اپنے جوانوں سے قربت کی ایک خوبصورت مثال قائم کرتے ہوئے افطار کے موقع پر بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں کے ساتھ افطار ڈنر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بغیر کسی رسمی پروٹوکول کے جوانوں کے درمیان بیٹھ کر نہایت سادہ اور دوستانہ انداز میں افطار کیا اور ان کے ساتھ گھل مل کر وقت گزارا۔ افطار کے دوران ایڈیشنل آئی جی پی نے جوانوں سے براہِ راست گفتگو کی اور ان کے پیشہ ورانہ امور، درپیش مسائل اور دیگر مشکلات کے بارے میں تفصیل سے آگاہی حاصل کی۔ جوانوں نے کھل کر اپنے مسائل بیان کیے جس پر ایڈیشنل آئی جی پی نے نہ صرف انہیں غور سے سنا بلکہ موقع پر ہی متعدد مسائل کے حل کے لیے فوری احکامات بھی جاری کیے۔اس موقع پر اشفاق احمد نے کہا کہ فورس کے جوان بلوچستان کانسٹیبلری کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی فلاح و بہبود، سہولیات اور پیشہ ورانہ مسائل کا حل ادارے کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران اور جوانوں کے درمیان باہمی اعتماد، احترام اور مضبوط رابطہ فورس کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوانوں کے مسائل کو سننا اور انہیں حل کرنا قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔جوانوں نے ایڈیشنل آئی جی پی کے اس اقدام کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ افسر کا اس طرح بغیر پروٹوکول کے ان کے درمیان بیٹھ کر افطار کرنا اور ان کے مسائل سننا ان کے حوصلے اور اعتماد میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ جوانوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس طرح کے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے جس سے فورس کے اندر اتحاد، ہم آہنگی اور جذبہ خدمت مزید مضبوط ہوگا۔ ایڈیشنل آئی جی پی کے اس سادہ اور دوستانہ طرز عمل سے بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اپنے کمانڈر کے ساتھ اس یادگار لمحے کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2045/2026
کوہلو 10مارچ ۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اصغر مری نے نیوٹریشن سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے غذائی قلت کے شکار بچوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایم ایس نے سینٹر میں موجود بچوں اور ان کے لواحقین سے بھی بات چیت کی اور فراہم کی جانے والی طبی اور غذائی سہولیات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔انہوں نے نیوٹریشن سینٹر کے عملے کی حاضریوں کو چیک کیا اور بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی و غذائی سہولیات کا جائزہ لیا۔ ایم ایس نے عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عملہ محدود وسائل کے باوجود انتہائی ذمہ داری، پیشہ ورانہ مہارت اور جذبہ خدمت کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کے شکار بچوں کی بروقت تشخیص، مناسب علاج اور متوازن غذا کی فراہمی میں عملے کی کاوشیں لائقِ ستائش ہیں۔ایم ایس نے مزید کہا کہ نیوٹریشن سینٹر میں آنے والے بچوں کی بہتر دیکھ بھال اور علاج کے لیے عملہ جس محنت اور لگن کے ساتھ خدمات انجام دے رہا ہے وہ دیگر مراکز کے لیے بھی ایک مثبت مثال ہے۔ انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ اسی جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے بچوں کی صحت اور نگہداشت کو اولین ترجیح دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
ر نامہ نمبر2046/2026
کوئٹہ 10مارچ ۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران سے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم کھوسہ نے آج منسٹر پی ایچ ای آفس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، جاری ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااس موقع پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے موجودہ حالات اور امن و امان کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ دونوں صوبائی وزرائ نے اس امر پر اتفاق کیا کہ صوبے کے عوام کی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے اور ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ملاقات کے دوران رکنی تا بارکھان روڈ کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سڑک کی تعمیر جدید تقاضوں اور اعلیٰ معیار کے مطابق کی جائے گی تاکہ علاقے کے عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور علاقائی ترقی کو مزید فروغ مل سکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2047/2027
کوئٹہ 10مارچ ۔ صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی نے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے چچا ملک حاجی جمال خان کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں میر شعیب نوشیروانی نے بخت محمد کاکڑ اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ملک حاجی جمال خان کاکڑ کے انتقال کی خبر سن کر دلی صدمہ پہنچا۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔صوبائی وزیر خزانہ نے سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ کسی قریبی عزیز کا انتقال اہلِ خانہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے۔میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ بخت محمد کاکڑ اور ان کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2048/2026
کوئٹہ 10مارچ ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت موجودہ معاشی صورتحال اور عالمی حالات کے پیش نظر ملک میں کفایت شعاری اقدامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کفایت شعاری سے متعلق مختلف پہلووں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں حکومت صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر غوروغوض کیا گیا اور سرکاری اخراجات کو کم سے کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کی منظوری دی گئی جن میں صوبائی کابینہ کے اراکین، صوبائی مشیر اور پارلیمانی سیکرٹریز اپنی دو ماہ کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر نہیں لیں گے جبکہ اراکین صوبائی اسمبلی اپنی تنخواہوں کا 25 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کریں گے۔ اس کے علاوہ 20 گریڈ کے آفیسران اور تین لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والے آفیسرز دو دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر سرکاری خزانے میں جمع کریں گے۔ تمام سرکاری آفیسران سے گاڑیوں کی مد میں 50 فیصد ایندھن کی فراہمی میں کمی، محکموں میں گاڑیوں کی خریداری پر پابندی کے علاوہ60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو استعمال میں نہیں لایا جائے گا، دفاتر میں ہفتے میں چار دن کام، 50 فیصد ورک فرام ہوم، سکولز اور کالجز 23 مارچ تک بند، آفیشل ڈنر پر پابندی، آن لائن اجلاسز کو ترجیح، تمام سرکاری سیمینارز، کانفرنسز اور ٹریننگ سرکاری جگہوں جیسے آڈیٹوریمز، کمیٹی رومز پر منعقد کرنا شامل ہیں۔ ان اقدامات سے کافی رقم کی بچت ہوگی، جو عوام کو سبسڈی اور ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہوں گے۔ ان اقدامات سے معاشی استحکام اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں غیر معمولی مدد ملے گی۔ اس سلسلے میں چیف سیکرٹری نے مجوزہ اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی سختی سے ہدایت کی۔ یہ اقدامات تمام صوبائی محکموں، منسلک محکموں/تنظیموں، صوبائی اسمبلی، عدلیہ، خود مختار اداروں، قانونی اتھارٹیز اور دیگر اداروں پر لاگو ہوں گے۔ اس حوالے سے ایس اینڈ ڈی اے جی نے نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا ہے جس میں کفایت شعاری اقدامات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2049/2026
: ہرنائی10مارچ ۔ : ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر غلام شبیر مری، ضلعی ترجمان ناصر خان ملازئی اور سلام جمالی نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران علاقے کو درپیش مسائل اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔اس موقع پر غلام شبیر مری، ناصر خان ملازئی اور سلام جمالی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے علاقے کا افسر مقامی رسم و رواج اور مسائل سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے اور وہ عوام کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین کی کارکردگی نہایت قابلِ تعریف، مثالی اور قابلِ تقلید ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب سے محمد سلیم ترین اس عہدے پر تعینات ہوئے ہیں، انہوں نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی دیانتداری، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دی ہیں۔ انہوں نے اپنے دفتر آنے والے ہر شخص کو عزت دی ہے اور کسی کو بھی مایوس ہو کر واپس نہیں جانے دیا۔ ایسے افسران کسی بھی علاقے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔انہوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین کی ان گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2050/2026
: ہرنائی10مارچ ۔ : وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے گوشت مارکیٹ اور مختلف دکانوں کا دورہ کر کے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور سرکاری نرخناموں کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے مختلف دکانوں پر جا کر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا اور سرکاری نرخناموں کی جانچ پڑتال کی۔ انہوں نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ تمام اشیاء مقررہ سرکاری نرخوں کے مطابق فروخت کی جائیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے دکاندار برادری کو تاکید کی کہ عوام کو معیاری، صاف ستھری اور مناسب قیمت پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بازاروں میں سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2051/2026
: ہرنائی10مارچ۔: ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ہرنائی میں شجرکاری مہم کے تحت میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سیف اللہ خان مری نے لوکاٹ اور امرود کے پودے لگا کر مہم کا آغاز کیا اور درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ شجرکاری کی تلقین کی۔اس موقع پر سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر وزیر خان مری، ڈاکٹر ثناء زیب، ضیاء الحق ترین، ڈاکٹر صغیر احمد اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر سیف اللہ خان مری نے کہا کہ شجرکاری ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے، موسم کی بہتری اور ماحول کی خوبصورتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت انسانی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں اور صحت مند ماحول کے قیام کے لیے شجرکاری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شجرکاری مہم کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ آنے والی نسلوں کو صاف، سرسبز اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2052/2026
: زیارت خبرنامہ 10مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر رفیق مستوئی ،ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین،ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال سنجاوی ڈاکٹر نورالباقی ڈی ایم پی پی ایچ آئی نثاراحمد ترین،پی پی ایچ آئی افسر ریحان کاکڑ،ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر فرمان اللہ نے شرکت کی اجلاس میں محکمہ صحت کو فعال کرنے کے لیے مختلف فیصلے کئے گئے۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی ہدایت کرتے ہوئے کہ تمام ہسپتالوں اور بی ایچ یوز کو ادویات بروقت فراہم کنے جائیں تاکہ جلد ہی عوام ان ادویات سے مستفید ہوسکے انہوں نے کہا کہ تمام کنٹریکٹ ڈاکٹرز اپنے جائے تعیناتی پر موجودگی کو یقینی بنائیں اور اپنی خدمات سے عوام کا علاج معالجہ کریں اور غریب اور لاچار مریضوں کی خدمت کریں انہوں نے کہاکہ تمام ڈاکٹرزاورمددگار سٹاف ہسپتالوں میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور دکھی انسانیت کی خاطر مریضوں کا بروقت علاج کریں، عوام کو کسی بھی شکایت کا موقع نہ دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2053/2026
کوئٹہ 10 مارچ۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ضلعی انتظامیہ تعلیم کے فروغ کے لیے مو¿ثر اقدامات کر رہی ہے۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر حکومت کی جانب سے ضلع کوئٹہ میں 35 ہزار بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جسے ہر صورت بروقت مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال تعلیمی مہم “ہر بچہ اسکول جائے” کے سلوگن کے تحت شروع کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا سکے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اس وقت ضلع کوئٹہ کے 789 سرکاری اسکولوں میں تقریباً ایک لاکھ 72 ہزار طلبائ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک صوبے اور خصوصاً کوئٹہ کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہے، اسی لیے بچوں کو معیاری تعلیم اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لیے خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران تین مراحل میں 700 سے زائد اساتذہ کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا جا چکا ہے جس کے نتیجے میں 90 نان فنکشنل اسکول دوبارہ فعال ہو گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ کوئٹہ میں کئی اسکولوں کی عمارتوں پر قبضے اور تجاوزات قائم تھے، جن کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم نے مشترکہ کارروائیاں کیں۔ اب تک 18 اسکولوں سے تجاوزات ختم کر کے انہیں مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر مقامات پر کارروائیاں مختلف مراحل میں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے بھر کے 30 ہزار سے زائد اسکولوں کو اپگریڈ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس کے تحت اسکولوں میں اضافی کمروں اور باتھ رومز کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔اسکولوں کی بحالی اور مرمت کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ یونیسف (UNICEF) بھی بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ عوام میں تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے آگاہی واکس، سیمینارز اور سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغامات جاری کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ والدین اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرائیں۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی طور پر اسکولوں میں داخل کرائیں تاکہ وہ تعلیم حاصل کر کے نہ صرف اپنا بلکہ صوبے اور ملک کا مستقبل روشن بنا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ اسکولوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2054/2026
: موسی’ خیل10 مارچ ۔ وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت ضلع موسی’ خیل میں محکمہ پبلک ہیلتھ کی اسکیمات پہ کام دن رات جاری ہے ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ پبلک ہیلتھ کاشف چانڈیو نے کہا کہ صوباءوزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی ہدایات پہ عمل کرتے ہوئے PSDP-2025-26 کے تحت شاف شفاف ٹینڈرنگ کے عمل کے بعد ضلع موسی’ خیل کی مختلف یونین کونسلوں میں بورنگ فلٹریشن پلانٹس اور سولر سسٹم کے عمل جاری ہیں کرپشن سے پاک بلوچستان کے وژن پہ عمل کرتے ہوئے کام کے معیار پہ کوءسمجھوتہ نہیں ہوگا اور تمام اسکیمات مقررہ وقت پہ پایہ تکمیل کو پہنچیں گی تاکہ عوام کو صاف پانی میسر ہو۔
خبرنامہ نمبر2055/2026
نصیرآباد10مارچ ۔ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن نصیرآباد ڈویژن، ڈیرہ مراد جمالی کے دفتر سے جاری کردہ ایک اہم اعلامیے کے مطابق ضلع کے تمام زمینداروں، عوام الناس اور متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ رواں ماہ 30 مارچ 2026 سے 30 اپریل 2026 تک پٹ فیڈر کینال اور کیرتھر کینال میں سالانہ مرمت اور دیگر ضروری امور کے باعث پانی کی فراہمی بند رہے گی اس حوالے سے تمام زمینداروں، کاشتکاروں اور عوام سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ اپنی زرعی ضروریات اور پینے کے مقاصد کے لیے 30 مارچ سے قبل اپنے تالابوں اور دیگر ذخیرہ گاہوں میں پانی محفوظ کر لیں تاکہ بندش کے دوران کسی قسم کی دشواری یا قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے اسی طرح محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کریں اور اپنی ضروریات کے مطابق پانی ذخیرہ کر لیں ایریگیشن حکام نے مزید کہا ہے کہ پانی کی بندش کا مقصد نہری نظام کی بہتری، مرمت اور بحالی کے کاموں کو بروقت مکمل کرنا ہے تاکہ آئندہ سیزن میں پانی کی فراہمی کو بہتر اور موثر بنایا جا سکے عوام اور زمینداروں سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت انتظامات کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2056/2026
: موسی خیل مورخہ 10 مارچ ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے ضلع کے مختلف بنیادی مراکز صحت کا اچانک دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران BHU نالی میردادزئی، BHU سلی، BHU حبیب آباد اور BHU زام کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔اس اچانک دورے کا بنیادی مقصد عملے کی حاضری کو یقینی بنانا، طبی سہولیات کی دستیابی کا جائزہ لینا اور مراکز صحت میں ادویات کے موجودہ ذخیرے کا معائنہ کرنا تھا تاکہ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں دورے کے دوران BHU حبیب آباد بند پایا گیا جس پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر نوٹس لیا اور متعلقہ ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایات جاری کیں اس موقع تمام طبی عملے کو ہدایت دی کہ وہ اپنی حاضری اور ذمہ داریوں کو یقینی بنائیں اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے مراکز میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے آئندہ دنوں میں بھی اس طرح کے اچانک دورے باقاعدگی سے جاری رہیں گے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع بھر کے تمام بنیادی مراکز صحت کو فعال اور موثر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2057/2026
کوئٹہ، 10 مارچ:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے گرانفروشوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گئے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مجموعی طور پر 180 دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور خلاف ورزی پر 24 افراد گرفتار جبکہ 18 افراد جیل منتقل کرکے 12 دکانیں سیل کردیے گئے تفصیلات کے مطابق سب ڈویژن (سٹی) میں 60 دکانوں کا معائنہ،10 افراد گرفتار اور 4 دکانیں سیل،سب ڈویژن (صدر)55 دکانوں کا معائنہ کرکے 11 افراد گرفتار جبکہ 4 دکانیں سیل،سب ڈویژن (سریاب) میں 75 دکانوں کا معائنہ کرکے 14 افراد گرفتار اور4 دکانیں سیل کردیے گئے ہیں ان کاروائیوں میں تحصیل اسسٹنٹ کمشنرز اور اسپیشل مجسٹریٹ نے شرکت کی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق رمضان المبارک میں گرانفروشی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2058/2026
لورالائی 10 مارچ ۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی (DEA) کا تیسرا اجلاس ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لورالائی جناب عبد الحمید ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل جناب عبدالرزاق، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل محترمہ فوزیہ درانی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل جناب طارق محمود، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل محترمہ قمر سلطانہ اور ڈی ای او آفس کے جناب عبدالغنی نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مختلف تعلیمی اور انتظامی امور سے متعلق پیش کیے گئے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الحمید ابڑو نے تمام کیسز کو نہایت محنت اور باریک بینی سے سنا اور ان پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اجلاس کے شرکاء کی مشاورت سے فیصلے کیے گئے۔اس موقع پر ڈی ای او عبد الحمید ابڑو نے متعلقہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایت کی کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے اجلاس باقاعدگی اور وقت کی پابندی کے ساتھ منعقد کیے جائیں تاکہ اساتذہ کو درپیش مسائل کا بروقت اور موثر حل یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے شرکاء نے اس بات کا اظہار کیا کہ انہیں ڈی ای او عبد الحمید ابڑو کی قیادت، تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے سیکھنے اور رہنمائی حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے، جو ضلع میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2059/2026
لورالائی10مارچ ۔ پاکستان ڈے 23 مارچ کے حوالے سے رمضان فٹبال ٹورنامنٹ کا شاندار فائنل میچ سرکاری باغ لورالائی میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر چیف گیسٹ اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم تھے، جبکہ ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر اسحاق صاحب بھی موجود تھے۔فائنل میچ میں ٹیموں نے بھرپور مقابلہ کیا اور شائقین نے بھی گراونڈ میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ بعد از میچ، فاتح اور ہارنے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیے گئے، جس سے کھلاڑیوں اور شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اس ٹورنامنٹ کا مقصد نوجوانوں میں کھیلوں کا شوق پیدا کرنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا بتایا گیا۔ انتظامیہ نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا اور آئندہ ایسے مزید ٹورنامنٹس کے انعقاد کا اعلان کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2060/2026
کوئٹہ/10مارچ، ۔ضلع نوشکی میں جاری منصوبے “انٹیگریٹڈ ڈیزاسٹر پریپیئرڈنیس فار ریزیلینس بلڈنگ” کے سلسلے میں منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی قیادت ایف اے او پاکستان کے کنٹری ہیڈ ولید مہدی نے کی۔اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر پلاننگ، کوآرڈینیشن اینڈ ریسکیو نوید احمد نے کی جس میں صوبائی سطح پر مجوزہ ایڈاپٹیشن ایکشن (AA) اسٹریٹجی کے مسودے پر ورکشاپ کے انعقاد کیلئے منصوبہ بندی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پی ڈی ایم اے، ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (DDMAs)، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) اور دیگر متعلقہ محکموں کی شمولیت کو یقینی بنانے پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں ورکشاپ کے انعقاد کیلئے ٹائم لائنز، مختلف محکموں کی ذمہ داریاں، شرکائ کی نامزدگی اور دیگر انتظامی امور پر بھی گفتگو کی گئی تاکہ ورکشاپ کو مو¿ثر انداز میں منعقد کر کے آفات سے نمٹنے کی تیاری اور صوبے میں پائیدار مزاحمتی صلاحیت کو فروغ دیا جا سکے۔مزید برآں آئندہ منعقد ہونے والے ایکسپوڑر وزٹ کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جس میں مجوزہ شیڈول، شرکائ کے انتخاب اور اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے امور پر غور کیا گیا تاکہ متعلقہ حکام کو عملی تجربات، فیلڈ لرننگ اور معلومات کے تبادلے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔اجلاس نے پی ڈی ایم اے اور ایف اے او کے درمیان باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پیشگی منصوبہ بندی، بین الادارہ جاتی تعاون اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کمیونٹیز کی مزاحمتی اور موافق صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2061/2026
کوئٹہ 10 مارچ ۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے پسنی کے علاقے وارڈ نمبر دو میں ایک رہائشی کوارٹر پر دستی بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے انہوں نے کہا کہ اس حملے میں سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدور زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے شاہد رند نے کہا کہ صوبائی حکومت زخمی مزدوروں کے علاج و معالجے کے لیے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کر رہی ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ زخمیوں کی بہترین دیکھ بھال یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو کسی صورت قانون سے بچنے نہیں دیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
۔۔۔







