خبرنامہ نمبر 1981/2026
کوئٹہ، 08 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر بلوچستان کی بہادر، باصلاحیت اور باہمت خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام خواتین قابلِ احترام ہیں جو ہر طرح کی مشکلات اور چیلنجز کے باوجود صوبے اور ملک کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں انٹر نیشنل ویمن ڈے پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین نہ صرف معاشرتی اور گھریلو ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا رہی ہیں بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے صوبے کی ترقی اور استحکام میں اہم حصہ ڈال رہی ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ خواتین جو مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے امن اور ترقی کے راستے کو اختیار کر کے ملک و قوم کی خدمت کر رہی ہیں، وہ ہمارے معاشرے کا فخر ہیں۔ اسی طرح وہ خواتین جو پولیس اور مسلح افواج میں شامل ہو کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور پاکستان کے دفاع میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، پوری قوم ان پر فخر کرتی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے خواتین کی صلاحیتوں اور قیادت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں صوبے کے اہم اضلاع میں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر جیسے اہم انتظامی عہدوں پر تعینات کیا ہے اور وہ جس ذمہ داری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں وہ قابلِ تحسین ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے حکومت بلوچستان نے ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈومنٹ فنڈ متعارف کرایا ہے، جس کے تحت خواتین کو آسان اقساط پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں اور معاشی طور پر خود مختار بن سکیں۔ اسی سلسلے میں خضدار ویمن مارکیٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جہاں خواتین کو کاروبار کے بہتر مواقع میسر آ رہے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے سال 2024 اور 2025 کے دوران تقریباً سولہ ہزار طالبات کو ایک اعشاریہ پانچ ارب روپے کے تعلیمی وظائف فراہم کیے گئے ہیں اس کے علاوہ ہر ضلع سے میٹرک کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی پانچ طالبات کے سولہ سالہ تعلیمی اخراجات حکومت بلوچستان نے اپنے ذمے لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صوبے کی باصلاحیت بچیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو محفوظ اور باوقار سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پیپلز پنک بس سروس متعارف کرائی گئی ہے جس کے بعد خواتین کو سفر کے دوران درپیش مشکلات میں نمایاں کمی آئی ہے اور انہیں محفوظ، باوقار اور بااعتماد سفری سہولت میسر آئی ہے۔ اس اقدام سے خواتین کی سماجی اور معاشی خودمختاری کو مزید تقویت ملی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ہیلپ لائن 1089 قائم کی ہے جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ویمن سینٹر اور شیلٹر ہومز کے ذریعے متاثرہ خواتین کو تحفظ، قانونی معاونت اور رہائش کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ کسی بھی مشکل صورتحال میں محفوظ ماحول حاصل کر سکیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ایک اہم اور تاریخی قانون سازی کم عمری کی شادی کے خلاف قانون ہے جس کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر بچیوں کی شادی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ہماری بچیوں کو تعلیم، بہتر صحت اور باعزت زندگی کے مواقع میسر آئیں گے انہوں نے کہا کہ خواتین معاشرے کا نہایت اہم اور بنیادی جز ہیں اور انہی کے کردار سے معاشرہ خوبصورتی اور توازن حاصل کرتا ہے انہوں نے بلوچستان کی تمام خواتین، بالخصوص طالبات، بہنوں اور ماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کریں اور آگے بڑھیں، حکومت بلوچستان ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت خواتین کے لیے تعلیمی وظائف، پنک بس سروس، پنک اسکوٹیز اور دیگر فلاحی پروگراموں کے ذریعے ان کے لیے ترقی کے دروازے کھول رہی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ بلوچستان کی بچیاں دنیا کی بہترین جامعات تک رسائی حاصل کریں، اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور ایک باوقار اور کامیاب مستقبل کی بنیاد رکھیں انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ نوجوان نسل کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے یا گمراہ کن سرگرمیوں کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نوجوان کسی غلط راستے پر چلا گیا ہے تو ہمیں اسے واپس قومی دھارے میں لانے کے لیے مشترکہ کوشش کرنی ہوگی تاکہ وہ ایک خوشحال اور باعزت زندگی گزار سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کی تمام خواتین کو عالمی یومِ خواتین کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کی ہمت، صلاحیت اور عزم صوبے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
خبرنامہ نمبر 1982/2026
کوئٹہ، 08 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو یہاں پی ایس او سید امین کے والد کے انتقال پر تعزیت و فاتحہ خوانی کی اور گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ نے مرحوم کے انتقال پر سید امین اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے انہوں نے کہا کہ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں وہ سید امین اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔
خبرنامہ نمبر 1983/2026
نصیرآباد۔8 مارچ: صحبت پور۔۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ماہِ مقدس رمضان المبارک کے دوران عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے مقصد سے ضلعی انتظامیہ صحبت پور کی جانب سے شہر صحبت پور میں رمضان سستا بازار قائم کیا گیا ہے۔ اس سستے بازار کے قیام کا بنیادی مقصد شہریوں کو روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء مناسب اور کم قیمتوں پر فراہم کرنا ہے تاکہ ماہِ رمضان کے بابرکت مہینے میں عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکےضلعی انتظامیہ کی جانب سے قائم کیے گئے اس رمضان سستا بازار میں گھی، چینی، مشروبات، چاول، آٹا، گوشت، دالیں، سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے خوردونوش عام مارکیٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم قیمتوں پر دستیاب ہیں مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 20 سے 50 روپے تک کمی کی گئی ہے تاکہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے سستا بازار میں چینی 135 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت 145 روپے فی کلوگرام ہے۔ اسی طرح مختلف اقسام کے شربت اور مشروبات پر بھی خصوصی رعایت دی گئی ہے جس کے تحت ان کی قیمتوں میں 90 سے 100 روپے تک کمی کی گئی ہے، تاکہ روزہ داروں کو افطار کے لیے ضروری اشیاء باآسانی اور مناسب نرخوں پر میسر آ سکیں ضلعی انتظامیہ صحبت پور کی جانب سے سستا بازار میں بہترین اور منظم انتظامات کو یقینی بنایا گیا ہے شہریوں کی سہولت کے پیش نظر بازار میں صفائی ستھرائی، اشیاء کی مناسب فراہمی اور قیمتوں کی نگرانی کے لیے متعلقہ عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں کو پرامن ماحول میں خریداری کی سہولت فراہم کرنے کے لیے سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات بھی کیے گئے ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہےضلعی انتظامیہ کی جانب سے سستا بازار کی مسلسل نگرانی اور مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام اشیاء سرکاری نرخوں کے مطابق فروخت ہوں اور کسی قسم کی ناجائز منافع خوری یا ذخیرہ اندوزی نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باقاعدگی سے بازار کا دورہ کریں اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیتے رہیں سستا بازار کا دورہ کرنے والے شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم قرار دیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان سستا بازار کے قیام سے عام لوگوں کو مہنگائی کے اس دور میں خاطر خواہ ریلیف ملا ہے اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء مناسب قیمتوں پر دستیاب ہونے سے گھریلو اخراجات میں بھی کمی آئی ہےعوام نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے عوام دوست اور فلاحی اقدامات جاری رکھے گی تاکہ عام شہریوں کو مزید سہولیات فراہم کی جا سکیں اور انہیں درپیش معاشی مشکلات میں کمی لائی جا سکے
خبرنامہ نمبر 1984/2026
قلات:پرنس عبدالکریم خان 50 بیڈڈ ہسپتال قلات میں ڈائیلاسز سروسزکاسلسلہ جاری ہےقلات کے دوردرازعلاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کو مفت ڈائیلاسز کی خدمات فراہم کی جارہی ہیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر قلات ڈاکٹر انجم بلوچ کا کہنا ہیکہ حکومت بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں صحت عامہ سے متعلق پالیسی کے تحت ڈائیلیسز یونٹ کو مکمل فعال کردیا گیا ہے ڈاکٹرزاورطبی عملہ پیشہ ورانہ خدمات فرض شناسی اورخدمت خلق کے جذبے کے تحت سرانجام دے رہے ہیں لوگوں کے گھروں کی دہلیزپر ڈائیلیسز یونٹ آپریشنل ہوناڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اورمحکمہ صحت قلات کی بہترین کوآرڈینیشن کا نتیجہ ہےڈپٹی کمشنر قلات کی گائیڈلائن کیمطابق ضلع بھرمیں صحت عامہ کے شعبے کی بہتری کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری ہے
خبرنامہ نمبر 1985/2026
نصیرآباد8 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے ماہِ مقدس رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے خوردونوش کے سستے داموں دستیابی کے لیے صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں ان ہدایات کی روشنی میں ضلع اُستامحمد کی ضلعی انتظامیہ نے عملی اقدامات کرتے ہوئے شہر کے مرکزی مقام پر رمضان سستا بازار قائم کر دیا ہے تاکہ شہریوں کو روزمرہ خوردنوش کی ضروری اشیاء مناسب قیمتوں پر فراہم کی جا سکیں سستا بازار میں آٹا، چینی، دالیں، چاول، گھی، سبزیاں، فروٹس اور گوشت سمیت دیگر بنیادی اشیائے کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کو مناسب اور سرکاری نرخنامے کے مطابق رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی کا عمل بھی جاری رکھا گیا ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی ناجائز منافع خوری یا مہنگائی کا سامنا نہ کرنا پڑے ضلعی انتظامیہ کے مطابق سستا بازار کے قیام کا مقصد مہنگائی کے موجودہ دور میں عام شہریوں خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے انتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ بازار میں اشیاء کی معیاری اور وافر مقدار دستیاب رہے تاکہ شہری باآسانی اپنی ضروریات پوری کر سکیں علاقہ مکینوں اور خریداروں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ سستا بازار کے قیام سے انہیں رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ مناسب قیمتوں پر میسر آ رہی ہیں جس سے ان کے گھریلو اخراجات میں کمی آئے گی۔
خبرنامہ نمبر 1986/2026
چاغی: محکمہ ایکسائز نے ضلع Chagai District کے علاقے کردو میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 200 ایکڑ رقبے پر غیر قانونی طور پر کاشت کی گئی پوپی (افیون) کی فصل کو تلف کر دیا۔ یہ مشترکہ کارروائی مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت سے انجام دی گئی۔ موقع پر موجود افسران نے کہا کہ آپریشن میں Anti-Narcotics Force (اے این ایف)، Pakistan Customs اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر بھاری مشینری کی مدد سے وسیع رقبے پر اگائی گئی افیون کی فصل کو تلف کیا۔حکام کے مطابق غیر قانونی کاشت کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع کو بھی ناکارہ بنایا گیا۔ اس دوران زمین کی آبپاشی کے لیے نصب سولر ٹیوب ویل سسٹم کی پلیٹس کو بھی توڑ دیا گیا تاکہ مستقبل میں اس زمین کو دوبارہ منشیات کی غیر قانونی کاشت کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی منشیات کی غیر قانونی کاشت اور اسمگلنگ کے خلاف جاری حکومتی مہم کا حصہ ہے، اور اس سلسلے میں مزید آپریشنز بھی جاری رکھے جائیں گے۔ علاوہ ازیں واقعے سے متعلق مزید تحقیقات بھی جاری ہیں
خبرنامہ نمبر 1987/2026
نصیرآباد۔۔۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ضلع نصیرآباد میں ماہِ صیام کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی کاوشوں سے ڈیرہ مراد جمالی میں سستا بازار قائم کیا گیا جہاں روزمرہ استعمال کی اشیاء مناسب قیمتوں پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ نے سستا بازار کا دورہ کیا اور سبزی، گوشت، فروٹ، چینی، گھی، دالوں دیسی گھی شہد اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور عوام کو دی جانے والی سبسڈی کے حوالے سے تفصیلی آگاہی حاصل کی۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سلیم خان ڈومکی کی جانب سے دیگر انتظامات کیے گئے تھےاس موقع پر چینی سمیت دیگر اشیاء کی خریداری کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور لوگوں نے حکومتی اقدام کو سراہا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر مارکیٹ کمیٹی عبید اللہ پندرانی نے چیئرمین مارکیٹ کمیٹی میر بلال صادق عمرانی کی ہدایت پر قائم کیے گئے سبزی اور فروٹ کے سستے اسٹالز پر اشیاء کی فروخت کے عمل کی نگرانی کی تاکہ عوام کو معیاری کم قیمت پر فراہم کی جا سکیں۔ اس موقع پر انجمن تاجران کے صدر تاج بلوچ تاجران دکانداران کے صدر خان جان بنگلزئی اور دیگر ٹریڈز یونین کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے متعلقہ عملے کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سستا بازار میں اشیائے خوردونوش کی مقررہ قیمتوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے اور عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ ماہِ رمضان المبارک کے دوران حکومت بلوچستان کی کاوشوں سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور سستا بازار اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جہاں شہریوں کو مناسب نرخوں پر ضروری اشیاء دستیاب ہوں گی۔
خبرنامہ نمبر 1988/2026
کوئٹہ 8مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان اور سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے طلبائ کیلئے مختص میڈیکل سیٹوں کو بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق محدود کرنے کے بجائے بڑھانے کی ضرورت ہے جبکہ ان کیلئے پہلے سے مختص 333 میڈیکل سیٹیں کم کر کے 121 کر دی گئی ہیں۔ اسلیے ضروری ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) فاٹا اور بلوچستان کے طلبائ و طالبات کیلئے فوری طور پر مختص 333 میڈیکل نشستیں بحال کریں.اپنے ایک بیان میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ مختص میڈیکل سیٹیں بحال کرنے سے بلوچستان اور سابق فاٹا کے طلبائ کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے مناسب مواقع میسر آئیں گے۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے طلبائ صلاحیتوں کے لحاظ سے کسی سے کم نہیں لیکن سہولیات اور مواقعوں کی کمی ان کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
خبرنامہ نمبر 1989/2026
اسلام آباد، 08 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اتوار کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ملاقات کی جس میں ملکی اقتصادی صورتحال، توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز، پٹرولیم قیمتوں کے اثرات اور بلوچستان میں عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس امید کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مضبوط رابطے اور قریبی تعاون سے صوبے کے ترقیاتی منصوبے جلد مکمل ہوں گے اور عوامی مسائل کے حل میں بھی تیزی آئے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی استحکام اور توانائی کے شعبے میں مشترکہ اقدامات پر بھی بات چیت کی اور وفاقی حکومت سے تعاون بڑھانے پر زور دیا تاکہ عوام کو معیاری اور آسان سہولیات فراہم کی جا سکیں وفاقی وزرائ نے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور ملک میں اقتصادی استحکام، توانائی کی مناسب فراہمی اور عوام کو معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
خبرنامہ نمبر 1990/2026
اسلام آباد، 08 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اتوار کو اسلام آباد میں کائرہ ہاؤس گئے جہاں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سینئر رہنما قمر زمان کائرہ سے ملاقات کی اور ان کے بھائی مشتاق کائرہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور قمر زمان کائرہ سمیت سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم مشتاق کائرہ کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
خبرنامہ نمبر 1991/2026
کوئٹہ، 08 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پرسنل اسٹاف افسر سید امین، پروفیسر ضیائ الدین، جمال الدین اور تاج الدین کے والد، اور پروفیسر کمال الدین کے بڑے بھائی مرحوم کی فاتحہ خوانی کل مورخہ 9 مارچ کو بھی جونیئر اسسٹنٹ کالونی کی مسجد بدر میں جاری رہے گی فاتحہ خوانی کا سلسلہ صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا جس کے بعد اختتامی دعا ہوگی.
خبرنامہ نمبر 1992/2026
کوئٹہ، 08 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کوئٹہ کے علاقے سمنگلی روڈ، بورڈ آفس کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سابق ایس ایچ او اور سی ٹی ڈی میں تعینات انسپکٹر میٹھا خان کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے ملوث عناصر کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا شاہد رند نے کہا کہ انسپکٹر میٹھا خان ایک بہادر اور فرض شناس افسر تھے جنہوں نے قیام امن کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے کو پست نہیں کر سکتا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہید افسر کے خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کے درجات بلند ہوں اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا ہو۔
خبرنامہ نمبر 1993/2026
کوئٹہ، 08 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اسٹاف افسر سید امین کے والد کے انتقال پر اتوار کے روز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، صوبائی وزرائ، پارلیمانی سیکرٹریز، اراکین صوبائی اسمبلی اور سرکاری افسران نے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی جن میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی،صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی ،صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ پارلیمانی سیکرٹری حاجی ولی محمد نورزئی، صوبائی مشیر نسیم الرحمن، رکن صوبائی اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری برائے ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم، سیکرٹریز حکومت بلوچستان داؤد خلجی، عبداللہ خان، حبیب الرحمان جاموٹ، پی ایس او خالد ماندائی،ڈی جی کیو ڈی اے اورنگ زیب، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند، پریس سیکرٹری شیخ عبدالرزاق، سابق ناظم محمد یونس لہڑی اور ڈاکٹر نواز کبزئی، سمیت دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔شرکائ نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی اور اس موقع پر غمزدہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر 1994/2026
کوئٹہ:08 جنوری:صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کو مؤثر بنانے اور کام کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان نے نواں کلی میں جاری سڑک کے منصوبے کا اچانک دورہ کیا اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان نے نواں کلی میں زیر تعمیر روڈ کے کام کا سرپرائز وزٹ کیا اس موقع پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کچلاک ڈویژن کے متعلقہ افسران، انجینئرز اور منصوبے سے وابستہ کنٹریکٹر بھی موجود تھے دورے کے دوران سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے جاری تعمیراتی کام کا بغور معائنہ کیا اور روڈ کی تعمیر میں استعمال ہونے والے میٹریل، کام کی رفتار اور مجموعی معیار کا تفصیلی جائزہ لیاانہوں نے موقع پر موجود کنٹریکٹر سے منصوبے کی پیش رفت، درپیش مسائل اور تکمیل کے متوقع وقت کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کیں اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تعمیراتی کام مقررہ معیار اور قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی قسم کی سستی، غفلت یا کوتاہی ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ان منصوبوں کو شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کے اصولوں کے تحت مکمل کیا جائے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبے کی مسلسل نگرانی کی جائے اور کام کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر اور پائیدار بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح کے سرپرائز وزٹس جاری رکھیں گے تاکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ مؤثر انداز میں ہو اور کام کے معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 1995/2026
موسیٰ خیل08 مارچ:ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک سے آج اُن کے دفتر میں مقامی صحافیوں کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی وفد میں پریس کلب کے عہدیداران اور سینئر صحافی شامل تھےملاقات کا مقصد ضلع کے ترقیاتی امور، عوامی مسائل اور مقامی صحافت کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کرنا تھا ملاقات میں وفد نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو آگاہ کیا کہ ضلع موسیٰ خیل میں ابھی تک باقاعدہ پریس کلب کی عمارت تعمیر نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ سے صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وفد نے ڈپٹی کمشنر سے پریس کلب کی عمارت کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کے جلد حصول اور ابتدائی فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے کی درخواست کی ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے صحافیوں کے مسائل کو غور سے سنے اور ان کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے انہوں نے یقین دلایا کہ پریس کلب کی عمارت کے لیے اراضی اور فنڈنگ کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ صحافتی برادری کو ایک مناسب پلیٹ فارم میسر آ سکے انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو یقینی بنائیں تاکہ ضلع میں بہتر حکمرانی اور مثبت ماحول کو فروغ مل سکے۔ بعد ازاں وفد نے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کا شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر 1997/2026
لورالائی 8مارچ : 08 مارچ 2026 کو ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے ضلع لورالائی کے مختلف پولیس تھانوں، جن میں تھانہ مڑہ تنگی، تھانہ زڑہ اور تھانہ دو سڑکہ شامل ہیں، کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے تھانوں میں سیکیورٹی انتظامات، دستیاب وسائل، سرکاری گاڑیوں، اسلحہ و ایمونیشن، ریکارڈ کی تکمیل اور نفری کی حاضری کا بغور جائزہ لیا۔اس موقع پر متعلقہ ایس ایچ اوز اور دیگر افسران نے ڈی آئی جی لورالائی رینج کو علاقے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں، زیرِ تفتیش مقدمات اور شرپسند عناصر کے خلاف جاری کارروائیوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔ ڈی آئی جی لورالائی نے ہدایت کی کہ جرائم پیشہ افراد، منشیات فروشوں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھی جائیں، جبکہ جرائم کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور پولیس گشت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔پولیس افسران اور اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس فورس ریاستی نظام کا ایک اہم ستون ہے اور اس کی اولین ذمہ داری عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تھانوں میں آنے والے سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی، شائستگی اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے اور ان کے مسائل کو بروقت اور میرٹ کی بنیاد پر حل کیا جائے۔مزید کہا کہ جرائم کے خاتمے کے لیے جدید پولیسنگ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور مشکوک افراد و جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی مؤثر نگرانی کی جائے۔ڈی آئی جی لورالائی جنید احمد شیخ نے پولیس اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل اور چیلنجنگ حالات کے باوجود پولیس فورس جس جذبہ? ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ فرائض انجام دے رہی ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی اور ہدایت دی کہ دیانتداری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون کا رشتہ مضبوط ہو۔آخر میں انہوں نے تھانوں میں ریکارڈ کی درستگی، ڈیوٹی کے نظام، گشت کے شیڈول اور مجموعی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ پولیسنگ کا نظام مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 1998/2026
کوئٹہ، 8 مارچ 2026: ضلع پشین کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے موصول ہونے والی ایک ہنگامی اطلاع کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) بلوچستان کو شام تقریباً 4:30 بجے ایک 13 سالہ لڑکے کے ڈوبنے کے واقعے سے آگاہ کیا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق عظمت اللہ ولد سید حبیب اللہ، جو کہ کلی کربلا، پشین کا رہائشی تھا، قریبی تالاب میں ڈوب گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم اے ریسکیو فورس سے درخواست کی کہ وہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر تلاش اور ریکوری آپریشن کے ذریعے لاش کو نکالنے کے لیے کارروائی کرے۔اطلاع موصول ہوتے ہی ریلیف کمشنر/ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جناب جہانزیب خان غوری زئی اور ڈائریکٹر ریسکیو جناب نوید احمد شیخ نے فوری طور پر ایک خصوصی ریسکیو ٹیم کو جائے وقوعہ پر روانہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ڈائریکٹر ریسکیو کی نگرانی اور ڈپٹی انچارج ریسکیو کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم ضروری آلات کے ساتھ، جن میں آؤٹ بورڈ موٹر سے لیس ریسکیو کشتی اور ایمبولینس شامل تھی، فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔اس دوران ڈپٹی کمشنر پشین قاضی منصور احمد اور اسسٹنٹ کمشنر طلحہ بھی موقع پر موجود رہے اور آپریشن کی نگرانی کرتے رہے۔مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ضلعی انتظامیہ، مقامی رضاکاروں اور تعینات ریسکیو اہلکاروں کے تعاون سے شام تقریباً 6:30 بجے لڑکے کی لاش کو کامیابی کے ساتھ تالاب سے نکال لیا گیا۔بعد ازاں لاش کو مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔خبرنامہ نمبر
خبرنامہ نمبر 1999/2026
سنجاوی 8 مارچ :تحصیل سنجاوی میں ماہِ رمضان المبارک کے بابرکت موقع پر ہزاروں مستحق اور نادار خاندانوں میں راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ فلاحی اقدام پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور صوبائی وزیر خوراک و فوڈ اتھارٹی حاجی نورمحمد خان دومڑ اور میونسپل کمیٹی سنجاوی کے چیئرمین حاجی خان محمد دومڑ کی خصوصی کاوشوں سے ممکن ہوا، جس کے تحت متعدد ضرورت مند گھرانوں تک رمضان پیکج کا راشن پہنچایا گیا راشن کی تقسیم اور اس کارِ خیر کی نگرانی میں معزز شخصیات نے بھرپور کردار ادا کیا، جن میں صوبائی وزیر خوراک کے بھائی حاجی علی محمد دومڑ، حاجی عطائ گل دومڑ، اسسٹنٹ کمشنر شہر شاہ غلزئی، ایس ایچ او سجاد احمد، چیئرمین ملک بایع خان دومڑ، چیئرمین نظام الدین دومڑ، چیئرمین حاجی نصرالدین ترین، ڈپٹی چیئرمین دنیا خان باچا اندڑ، نوجوان سیاسی رہنما ملک محمد نواز خان دومڑ اور محبوب خان دومڑ شامل تھے ان رہنماؤں اور سماجی شخصیات کی نگرانی میں رمضان پیکج کا راشن منظم انداز میں مستحق افراد میں تقسیم کیا گیا، جس سے غریب اور نادار خاندانوں کی مشکلات میں نمایاں کمی آئی۔ اس موقع پر معاشرے میں بھائی چارے، ہمدردی اور خدمتِ خلق کا مثبت پیغام بھی عام ہوا عوامی حلقوں نے اس فلاحی اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے اقدامات کے ذریعے مستحق افراد کی مدد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم ضرورت مندوں کا سہارا بنیں اور اپنے وسائل میں سے ان کا حق ادا کریں یہ اقدام نہ صرف انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال ہے بلکہ معاشرتی یکجہتی اور باہمی تعاون کا عملی مظہر بھی ہے۔
خبرنامہ نمبر 2000/2026
ضلع کچھی میں ای پی آئی (EPI) ویکسینیشن پروگرام کے حوالے سے ایک طویل عرصے کے بعد نمایاں اور حوصلہ افزا کارکردگی دیکھنے میں آئی ہے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں ویکسینیشن کوریج 94 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ کمیونٹی کوریج 75 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں کا واضح ثبوت ہے یہ کامیابی ایسے حالات میں حاصل کی گئی ہے جب ٹیم کو متعدد چیلنجز کا سامنا تھا، جن میں کمیونٹی ریفیوزلز، عوام میں آگاہی کی کمی، دور دراز اور ہارڈ ٹو ریچ علاقے، محدود وسائل اور بعض مقامات پر سیکیورٹی کے مسائل شامل تھے۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود فیلڈ ٹیموں نے بھرپور محنت، مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں جس کے نتیجے میں یہ نمایاں پیش رفت ممکن ہو سکی اس کامیابی میں محکمہ صحت کی فیلڈ ٹیموں، ویکسینیٹرز، سپروائزرز اور دیگر متعلقہ عملے کی اجتماعی کاوشیں اور بہترین ٹیم ورک شامل ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ آئندہ بھی اسی جذبے اور محنت کے ساتھ کام جاری رکھا جائے گا تاکہ ضلع کے ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی سہولت پہنچائی جا سکے اور انہیں مختلف مہلک بیماریوں سے محفوظ بنایا جا سکے دریں اثنائ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے صوبے بھر میں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں انہی احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کچھی محکمہ صحت کے ساتھ قریبی رابطے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے اور مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہےاس سلسلے میں آج ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کچھی ڈاکٹر محمد اویس مگسی نے ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل کو تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ کے دوران انہیں ضلع میں جاری ویکسینیشن مہم، حاصل کردہ اہداف، درپیش مسائل اور آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ڈپٹی کمشنر کچھی نے اس بہترین کارکردگی پر محکمہ صحت کی ٹیم کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ویکسینیشن مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ضلع کے ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی سہولت بلا تعطل پہنچ سکے۔
خبرنامہ نمبر 2001/2026
گوادر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع گوادر میں مستحق اور نادار افراد کو رمضان المبارک کے دوران ریلیف فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان رمضان پیکج کے تحت مستحق خاندانوں تک راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔اسی سلسلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل گوادر ڈاکٹر عبدالشکور نے شہر اور گردونواح کے مختلف پسماندہ اور کم آمدنی والے علاقوں کا دورہ کیا اور مستحق افراد کے گھروں کی دہلیز تک جا کر رمضان پیکج کے تحت راشن تقسیم کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مستحق خاندانوں سے ملاقات بھی کی اور ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ رمضان ریلیف پیکج کا فائدہ حقیقی حقداروں تک شفاف انداز میں پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ مستحق افراد کو ان کے گھروں کی دہلیز پر راشن فراہم کرنے کا مقصد انہیں رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور انہیں درپیش مشکلات میں کمی لانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ گوادر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی قیادت میں عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو مؤثر انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ عملے نے بھی راشن کی تقسیم کے عمل میں حصہ لیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ امدادی اشیائ شفاف طریقے سے مستحق خاندانوں تک پہنچیں۔
خبرنامہ نمبر 2002/2026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی نگرانی میں ضلع گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔اسی سلسلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل گوادر ڈاکٹر عبدالش?ور نے ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگز اکرم رحیم کے ہمراہ بی ایس ڈی ائی(BSDI) منصوبے کے تحت جاری مختلف ترقیاتی اسکیموں کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا اور منصوبوں پر جاری کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالش?ور نے موقع پر موجود متعلقہ حکام اور ٹھیکیداروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی اسکیموں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی منصوبے میں غیر ضروری تاخیر ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی اور مقررہ ٹائم لائن پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترجیح ہے کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہوں تاکہ عوام کو ان کے ثمرات جلد از جلد میسر آ سکیں۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔






