7th-March-2026

خبرنامہ نمبر 1962/2026
کوئٹہ، 07 مارچ:ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات بلوچستان زاہد سلیم اور سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہفتہ کے روز کوئٹہ شہر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا اور کام کی رفتار اور معیار کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے دوران متعلقہ حکام نے جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں مختلف سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبوں پر کام جاری ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی جدید سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے بھی جاری منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے دورے کے دوران متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر، انجینئرز اور افسران بھی موجود تھے جنہوں نے منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

خبرنامہ نمبر 1963/2026
بارکھان:7 مارچ:محکمہ تعلیم بارکھان کے زیرِ اہتمام جاری داخلہ مہم کے سلسلے میں ایک آگاہی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ نے کی۔ ریلی کا مقصد والدین اور عوام میں بچوں کے اسکولوں میں داخلے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کروانے کے لیے شعور بیدار کرنا تھا۔ریلی کا آغاز ضلعی ہیڈکوارٹر سے ہوا جس میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی میں شریک شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر تعلیم کی اہمیت اور بچوں کے اسکولوں میں داخلے سے متعلق مختلف نعرے درج تھے۔ ریلی شہر کے مختلف شاہراہوں سے گزری جس کا مقصد عوام کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور والدین کو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب دینا تھا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف، اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر، ڈی ڈی او طارق محمود، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر محمد نسیم کھیتران، بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سپروائزر، پرنسپل ماڈل ہائی اسکول حاجی میریزار خان سمیت دیگر افسران، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی معاشرے کی ترقی و خوشحالی تعلیم کے فروغ سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے داخلہ مہم کا مقصد ایسے بچوں کو تعلیمی اداروں تک لانا ہے جو کسی وجہ سے اسکول سے باہر ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے انہیں تعلیم دلائیں اور اسکولوں میں داخل کرائیں۔
ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے اساتذہ پر بھی زور دیا کہ وہ بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے اور والدین کو آگاہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کریں۔
ریلی کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ داخلہ مہم کو کامیاب بنانے اور ضلع بھر میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر 1964/2026
کرائے کی گاڑیوں (رینٹ اے کار) اور آٹوموبائل رینٹل سروسز فراہم کرنے والوں کیلئےبی آر اے میں رجسٹریشن اور 8 فیصد سیلز ٹیکس کی ادائیگی لازمی قرار
کوئٹہ: بلوچستان ریونیواتھارٹی نے فنانس ایکٹ 2025 کے تحت بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 میں کی گئی ترامیم کے مطابق کرائے کی گاڑیوں (رینٹ اے کار) اور آٹوموبائل رینٹل سروسز فراہم کرنے والوں کیلئے سیلز ٹیکس کی شرح 8 فیصد مقرر کر دی ہے۔اتھارٹی کے مطابق تمام رینٹ اے کار اور آٹوموبائل رینٹل سروس فراہم کنندگان پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور قانون کے مطابق مقررہ وقت پر اپنے واجب الادا ٹیکس گوشوارے (ریٹرنز) جمع کرائیں۔بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ جو کاروبار رجسٹریشن نہیں کرواتے، واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کرتے یا بروقت ریٹرن فائل نہیں کرتے، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے اور دیگر قانونی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔اتھارٹی کے مطابق ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے صوبے بھر میں فیلڈ سرگرمیوں کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو مختلف اضلاع میں کاروباری مراکز کے دورے کر رہی ہیں تاکہ غیر رجسٹرڈ کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔بی آر اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے صوبائی محصولات میں اتھارٹی کا حصہ 80 فیصد سے زائد ہے، اور یہ محصولات صوبے میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود، خصوصاً تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کیلئے انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بی آر اے نے تمام کرائے کی گاڑیوں (رینٹ اے کار) اور آٹوموبائل رینٹل سروسز فراہم کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور بروقت گوشوارے جمع کرکے صوبہ بلوچستان کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر 1965/2026
بارکھان 7 مارچ :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی تعلیم دوست پالیسی اور حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق ضلع بارکھان میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو مفت درسی کتب کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ تعلیم بارکھان کی جانب سے مختلف اسکولوں کے کلسٹر ہیڈز کو کتابیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ بروقت فیڈر اسکولوں تک پہنچائی جا سکیں اور نئے تعلیمی سیشن کے آغاز پر طلبہ کو کتابوں کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مفت درسی کتب مرحلہ وار تقسیم کی جا رہی ہیں اور محکمہ تعلیم کی کوشش ہے کہ تمام سرکاری اسکولوں کے بچوں تک کتابیں جلد از جلد پہنچائی جائیں تاکہ تعلیمی عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ کلسٹر ہیڈز کے ذریعے کتابیں فیڈر اسکولوں تک منتقل کی جائیں گی اور اساتذہ کی نگرانی میں طلبہ میں تقسیم کی جائیں گی۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات ہیں کہ صوبے کے تمام اضلاع میں بچوں کو بروقت مفت تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ کوئی بھی طالب علم تعلیم سے محروم نہ رہے اور نئے تعلیمی سال کا آغاز بلا کسی رکاوٹ کے ہو۔

خبرنامہ نمبر1966/2026
کوئٹہ 7 مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بدلتے ہوئے انٹرنیشنل پولیٹیکل منظرنامے اور خطے کی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کو درپیش چیلنجز کا کثیرالجہتی نقطہ نظر سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ حکومت طویل المدتی بصیرت اور قومی مفادات کے درمیان توازن پیدا کریں۔ موجودہ اندرونی اور بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے عوام کے سیاسی اکابرین اور بیوروکریٹس معاشی استحکام، ریجنل تعاون اور ادارہ جاتی مضبوطی کو ترجیح دیں۔ اپنے ایک بیان میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمیں خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ممکنہ منفی اثرات کو پاکستان بالخصوص بلوچستان کے غریب عوام پر کم کرنے کیلئے ٹھوس عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ نامساعد حالات کے پیش نظر گوڈ گورننس کو یقینی بنانا، ادارہ جاتی شفافیت کو مزید بہتر بنانا، اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو برقرار رکھنا، اسٹریٹ کرائم کو روکنا اور چیزوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اشد ضروری ہے۔ علاؤہ ازیں مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں کی مدد بھی زرعی پیداوار کو بڑھا سکتی ہے جبکہ ہنگامی ذخائر سے بھی عارضی قلت کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسطرح حفاظت اور وسائل کی دستیابی کے بارے میں موثر عوامی اگہی مہم چلانے کے بھی مثبت نتائج برآمد ہونگے۔ انہوں نے ملک کے اندر سیاسی استحکام کو یقینی بنانے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے کوششیں تیز پر زور دیا۔ اچھی طرز حکمرانی، شفافیت اور انسانی ترقی ان چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے۔ عوام دوست پالیسیوں سے ہم بحرانوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال میں ہمیں اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سوچ اپناتے ہوئے سنجیدگی سے فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ہم سب مل جل کر آگے بڑھیں۔

خبرنامہ نمبر1967/2026
کوئٹہ، 7مارچ 2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ہر بیٹی اپنی ذات میں ایک روشن ستارہ ہے اور ان کی سماجی و معاشی خودمختاری کے بغیر ایک خوشحال اور ترقی یافتہ صوبے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، ہمیں اپنی خواتین کی ہمت اور ان کی بے پناہ صلاحیتوں پر فخر ہے جو تمام تر چیلنجز کے باوجود زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے عالمی یومِ خواتین کے حوالے سے جاری کردہ اپنے ایک خصوصی پیغام میں کیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ عورت کائنات کی رنگینی، صبر کی علامت اور کامیابیوں کا استعارہ ہے۔ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر ہم ان تمام خواتین کو سلام پیش کرتے ہیں جو اپنی ہمت اور محنت سے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنا رہی ہیں۔انہوں نے بلوچستان کی خواتین کی ہمت، استقامت اور قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی خواتین نے تمام تر سماجی اور جغرافیائی چیلنجز کے باوجود تعلیم، صحت، سیاست، کھیل اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے زور دیا کہ خواتین کی ترقی درحقیقت پورے خاندان اور قوم کی ترقی ہے۔ صوبائی مشیر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے، انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے محکمہ ترقی نسواں کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں خواتین کے لیے ویمن کرائسز سینٹرز، دارالامان، ڈے کئیر سینٹرز اور ورکنگ ویمن ہاسٹلز کو فعال بنایا گیا ہے تاکہ انہیں ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اقتصادی خودمختاری کے حوالے سے ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے بتایا کہ خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کیے بغیر حقیقی بااختیاری ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں حکومت بلوچستان کے زیر انتظام ویمن بزنس انکیوبیشن سینٹرزکے ذریعے سینکڑوں خواتین کو کاروبار کے جدید طریقے سکھائے جارہے ہیں اور انہیں مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ایگزیبیشنز کا اہتمام کیا جاتاہے۔ اسکے علاوہ خواتین کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضہ جات کی فراہمی میں سہولیات دی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے خواتین کے خلاف تشدد اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے قانون سازی اور موجودہ قوانین کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں خصوصی ویمن پولیس اسٹیشنز کا قیام اور اہم عہدوں پر خواتین ملازمین کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے خلاف قوانین کو مزید سخت اور فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ خواتین بلا خوف و خطر قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے تعلیمِ نسواں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بیٹیوں کو تعلیم دینا معاشرے کو تعلیم دینا ہے۔ حکومت بلوچستان دور دراز علاقوں میں لڑکیوں کے لیے اسکولوں کے قیام اور معیارِ تعلیم کی بہتری کے لیے کوشاں ہے اس سلسلے میں صوبے کی طالبات میں میرٹ کی بنیاد پر اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس کی تقسیم کے علاوہ فنی تربیت کے پروگراموں کے تحت ہزاروں خواتین کو دستکاری، گرافک ڈیزائننگ اور دیگر ہنر سکھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت میں بھرپور حصہ لے سکیں ۔ طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو باعزت اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بتایا کہ پنک بس سروس اور پنک الیکٹرک اسکوٹیز جیسے منصوبوں کے ذریعے دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے خواتین کی نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید بتایا کہ حکومتِ بلوچستان صوبائی جینڈر پالیسی پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے جو خواتین کی تعلیم، صحت اور سیاسی شراکت داری کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہارکیا کہ بلوچستان کی خواتین کو وہ تمام مواقع فراہم کیے جائیں گے جو ان کا آئینی حق ہے اور معاشرے کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ خواتین کے احترام اور ان کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے تاکہ ہم مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں جہاں صنف کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی امتیاز نہ برتا جائے۔

خبرنامہ نمبر1968/2026
کوئٹہ، 07 مارچ:ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات بلوچستان زاہد سلیم اور سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہفتہ کے روز کوئٹہ شہر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا اور کام کی رفتار اور معیار کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے دوران متعلقہ حکام نے جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں مختلف سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبوں پر کام جاری ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی جدید سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے بھی جاری منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے دورے کے دوران متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر، انجینئرز اور افسران بھی موجود تھے جنہوں نے منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

خبرنامہ نمبر1970/2026
کوئٹہ 06مارچ۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق رمضان المبارک کے دوران مستحق اور نادار خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گھر گھر راشن کی فراہمی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی زیر نگرانی رمضان ریلیف پیکج کو شفاف اور منظم انداز میں مستحق افراد تک پہنچایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول جناح ٹاؤن میں ایک منظم تقریب کے دوران 150 مستحق خاندانوں، بیواؤں اور نادار افراد میں راشن تقسیم کیا۔تقریب کے دوران مستحق افراد کو آٹا، چاول، گھی، چینی اور دیگر بنیادی اشیائے خوردونوش پر مشتمل راشن پیکجز فراہم کیے گئے تاکہ وہ ماہِ رمضان میں اپنی بنیادی ضروریات آسانی سے پوری کر سکیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تقسیم کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے باقاعدہ فہرستوں اور تصدیقی عمل کو یقینی بنایا گیا تاکہ حقیقی حقداروں تک امداد پہنچ سکے۔اس موقع پر انتظامیہ کے حکام کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق رمضان المبارک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ امدادی پیکجز مستحق خاندانوں تک باعزت اور منصفانہ طریقے سے پہنچیں۔انتظامیہ کے مطابق یہ سلسلہ پورے ضلع میں جاری رہے گا اور مختلف علاقوں میں مرحلہ وار مستحق خاندانوں، بیواؤں اور ضرورت مند افراد میں راشن کی تقسیم کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ رمضان المبارک میں کسی بھی مستحق خاندان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

خبرنامہ نمبر1971/2026
تربت ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہفتے کے روز تربت کے علاقے گنہ میں پارلیمانی سیکریٹری برائے کھیل و امورِ نوجوان مینا مجید بلوچ سے ان کے والد عبدالمجید کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔تعزیت کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند، میر عاصم کرد گیلو اور دیگر بھی موجود تھے۔اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری مینا مجید بلوچ کے ہمراہ ٹھیکیدار زبیر رند، بشیر احمد بلوچ، ڈاکٹر نور بلوچ سمیت مرحوم کے قریبی عزیز و اقارب بھی موجود تھے۔

خبرنامہ نمبر1972/2026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے تربیتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ آفیسرایجوکیشن )فیمیل( زراتون بلوچ نے گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول گوادر کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے اسکول کے تدریسی عملے کے ساتھ اجلاس بھی منعقد کیا اور اساتذہ سے تعلیمی سرگرمیوں، تدریسی معیار اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اسکول میں جاری پانچ روزہ ریفریشر تربیتی پروگرام کا معائنہ کیا، جس میں ضلع کے مختلف اسکولوں سے تعلق رکھنے والے 24 اساتذہ شرکت کر رہے ہیں۔یہ تربیتی پروگرام تدریس، تشخیصی نظام اور بنیادی خواندگی و حسابی مہارتوں کے موضوعات پر مشتمل ہیں، جسے UNICEF، Global Partnership for Education، سی پی ڈی، محکمہ تعلیم بلوچستان اور Provincial Institute for Teacher Education Balochistan کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔تربیتی سیشن کے دوران اساتذہ کو ریاضی کے چار بنیادی شعبوں یعنی اعداد و عملیات، الجبرا، جیومیٹری و پیمائش اور شماریات و احتمال سے متعلق تفصیلی تربیت دی گئی۔ اس موقع پر ہندسوں کی قدرِ مقام، جمع و تفریق، زاویوں کی اقسام (نوکیلا، قائمہ اور کند زاویہ) اور کسر کی اقسام (صحیح، غیر صحیح اور مخلوط کسر) سے متعلق عملی سرگرمیوں کے ذریعے رہنمائی فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ میٹرک پیمانوں کی تبدیلی کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کی گئی۔پروگرام کے ماسٹر ٹرینرز ثمیرہ خالد اور فہمیدہ برکت نے شرکائ کو ریاضی اور فزکس کی تدریس سے متعلق جدید تدریسی حکمت عملیوں سے آگاہ کیا جبکہ سیشن کو مؤثر بنانے کے لیے ویڈیوز، زاویہ پیما آلات اور گروہی سرگرمیوں کا بھی استعمال کیا گیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) زراتون بلوچ نے تربیتی مرکز کا دورہ کرتے ہوئے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ جدید تدریسی طریقوں کو اپنی جماعتی تدریس میں شامل کریں تاکہ طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیتوں میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تربیت اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافے اور تعلیمی معیار کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

خبرنامہ نمبر1969/2026
کوئٹہ،07مارچ: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈکے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں فِن ٹیک، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (BPO) اور آئی ٹی سروسز کے شعبوں کو فروغ دینے کے لیے مجوزہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) منصوبے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت ِ سعودی عرب کے ممکنہ سرمایہ کاروں کے ساتھ اشتراک کے امکانات کا جائزہ بھی لیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ حکام، ماہرین اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی اور بلوچستان میں جدید ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔مجوزہ منصوبہ بلوچستان میں جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے قیام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی ہنرمند افراد کی استعداد کار میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے علاوہ فِن ٹیک، بی پی او اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کے مراکز کے قیام سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے کی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ اس موقع پر وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ صوبے میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جسے موثر منصوبہ بندی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذریعے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔حکومت بلوچستان صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت یہ منصوبہ بلوچستان میں پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ اشتراک سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور مہارتیں بھی بلوچستان میں متعارف ہوں گی۔ اس شراکت داری کے ذریعے صوبے کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر متعارف کرانے کی راہ ہموار ہوگی۔

خبرنامہ نمبر 1973/2026
تربت، 7 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہفتے کے روز تربت کے علاقے گنھہ میں مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ سے ان کے والد عبدالمجید کے انتقال پر دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ انہوں نے کہا کہ والد کا سایہ انسان کے لیے ایک بڑی نعمت ہوتا ہے اور اس کا بچھڑ جانا یقیناً ایک بڑا صدمہ ہے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مینا مجید بلوچ اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اہل خانہ کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند، میر عاصم کرد گیلو اور دیگر بھی موجود تھے تعزیت کے موقع پر مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ کے ہمراہ ٹھیکیدار زبیر رند، بشیر احمد بلوچ، ڈاکٹر نور بلوچ سمیت مرحوم کے قریبی عزیز و اقارب بھی موجود تھے۔

خبرنامہ نمبر 1974/2026
گوادر، 07 مارچ:ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی کوششوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں سندھ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ یونین نے دو ہفتوں سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے یونین کے مطابق احتجاج کا آغاز 18 فروری 2026 کو کیا گیا تھا، جس کے دوران ٹرانسپورٹرز نے ضلع حب کی حدود میں احتجاجی پنڈال قائم کرتے ہوئے حکومت کے سامنے اپنے تحفظات اور مسائل پیش کیے تھے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے یونین کے نمائندگان کو مذاکرات کے لیے مدعو کیا اور ان کے مسائل اور تحفظات سے حکومت بلوچستان کو آگاہ کیا۔ یونین کے مطابق مختلف ملاقاتوں اور مذاکرات کے بعد ان کے مسائل کے حل کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی، جس کے بعد دو ہفتوں سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے سندھ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ یونین نے ضلعی انتظامیہ گوادر، خصوصاً ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ٹرانسپورٹرز کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کیے یونین نے ہڑتال کے باعث مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی اور یقین دلایا کہ حالیہ زائرین کی آمد اور کوہ مراد کے مذہبی تہوار کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا یونین نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور انہیں غیر ضروری طور پر تنگ نہیں کیا جائے گا تاکہ عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے۔

خبرنامہ نمبر 1975/2026
کوئٹہ، 07 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پرسنل اسٹاف افسر سید امین، پروفیسر ضیاء الدین، جمال الدین اور تاج الدین کے والد، اور پروفیسر کمال الدین کے بڑے بھائی مرحوم کی فاتحہ خوانی کل مورخہ 8 مارچ سے کوئٹہ میں جونیئر اسسٹنٹ کالونی کی مسجد بدر میں ہوگی۔ فاتحہ خوانی کا سلسلہ صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔

خبرنامہ نمبر 1976/2026
کوئٹہ، 07 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہرنائی اور بسیمہ میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہادر سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور قربانیاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے فورسز کی خدمات قابل تحسین ہیں میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

خبرنامہ نمبر 1977/2026
مورخہ 07 مارچ:وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کی زیرِ صدارت (MRM) میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر نادر، (M&E) آفیسر عبدالروف، (IHHN) کے کوآرڈینیٹر مجیب الرحمٰن اور ضلع بھر کے تمام ویکسینیٹرز نے شرکت کی اجلاس کے دوران بچوں کی ویکسینیشن کوریج، زیرو ڈوز بچوں اور ڈراپ آؤٹ کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان کی مؤثر نگرانی پر زور دیا گیا۔ ڈی ایچ او نے ویکسینیٹرز کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ زیرو ڈوز بچوں کی فوری نشاندہی کی جائے اور انہیں بروقت حفاظتی ٹیکے لگانے کو ترجیح دی جائے انہوں نے کہا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ویکسینیشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ٹیم ورک اور محنت میں مزید اضافہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنایا جائے اور ہر ہفتے مکمل اور بروقت رپورٹ پیش کی جائے ڈی ایچ او نے مزید ہدایت کی کہ کمیونٹی میں ویکسینیشن کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بڑھے اور مہم کامیاب ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر ممکن کوشش کے ذریعے ضلع میں ویکسینیشن کوریج کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اجلاس کے اختتام پر تمام ویکسینیٹرز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دی گئی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں گے اور ضلع میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔

خبرنامہ نمبر 1978/2026
گوادر، 07 مارچ:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر گبد۔ریمدان سرحد پر ایران سے آنے والے پاکستانی شہریوں کی محفوظ آمد اور انہیں ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ خان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے احکامات کے تحت ضلعی انتظامیہ گوادر گبد۔ریمدان بارڈر پر چوبیس گھنٹے الرٹ ہے اور ایران سے آنے والے مسافروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے وطن واپس آنے والے طلبہ، زائرین اور دیگر پاکستانی شہریوں کے لیے بارڈر پر جامع، منظم اور مربوط انتظامات کیے گئے ہیں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ گوادر کی جانب سے گبد۔ریمدان بارڈر پر ایران سے آنے والے پاکستانی شہریوں کو ٹرانسپورٹ، عارضی رہائش اور کھانے پینے کی سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں بارڈر پر موجود رہتے ہوئے آنے والے شہریوں کی رجسٹریشن اور رہنمائی کا عمل بھی انجام دے رہی ہیں نقیب اللہ خان کے مطابق ایران سے آنے والے مسافروں کو مکمل معاونت فراہم کرتے ہوئے انہیں محفوظ اور باعزت انداز میں اپنی منزلوں تک روانہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یکم مارچ سے اب تک آٹھ سو سے زائد زائرین، طلبہ اور بزنس مین گبد۔ریمدان سرحد کے ذریعے پاکستان پہنچ چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ گبد۔ریمدان بارڈر پر مسافروں کے لیے طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی مقام پر کیے گئے انتظامات کا مقصد ایران سے آنے والے پاکستانی شہریوں کو فوری سہولت فراہم کرنا اور ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانا ہے ڈپٹی کمشنر گوادر نے کہا کہ گبد۔ریمدان بارڈر کے ذریعے وطن واپس آنے والے پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے تمام متعلقہ ادارے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں تاکہ آنے والے مسافروں کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر1979/2026
کوئٹہ 07فروری۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے شہر میں قائم رمضان سہولت بازار مکمل طور پر فعال ہے، جہاں شہریوں کو اشیائے ضروریہ اور اشیائے خوردونوش سرکاری نرخوں پر دستیاب ہیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی زیر نگرانی قائم اس سستا بازار میں آٹا، چینی، گھی، دالیں، چاول، سبزیاں، گوشت اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیائ مناسب قیمتوں پر فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق رمضان سہولت بازار میں قیمتوں اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامی افسران روزانہ کی بنیاد پر بازار کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دوران اسٹالز کا معائنہ، اشیائ کی قیمتوں اور معیار کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامات کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ افسران دکانداروں کو سرکاری نرخنامے کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا ناجائز منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی۔ شہریوں کی سہولت کے لیے بازار میں مناسب انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ لوگ باآسانی خریداری کر سکیں اور انہیں معیاری اشیائ مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں۔انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری نرخنامے کے مطابق خریداری کریں اور اگر کسی دکاندار کی جانب سے زائد قیمت وصول کی جائے تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

    خبرنامہ نمبر1980/2026
دکی 7 مارچ :رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوامی خدمت کے جذبے کے تحت ضلعی انتظامیہ دکی کی جانب سے میونسپل کمیٹی دکی میں رمضان دسترخوان کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا ہے۔ اس دسترخوان پر روزانہ مستحق، نادار اور مسافر افراد کے لیے افطار کا انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔یہ اقدام حکومتِ بلوچستان کے عوام دوست ویژن کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور کمشنر لورالائی ڈویژن کے احکامات کی روشنی میں شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنا اور رمضان المبارک کی حقیقی روح یعنی بھائی چارے، ہمدردی اور خدمتِ خلق کو فروغ دینا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران یہ دسترخوان مسلسل جاری رہے گا تاکہ ضرورت مند افراد باعزت طریقے سے افطار کر سکیں۔ اس اقدام کو شہری حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے اور اسے عوامی فلاح کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *