خبرنامہ نمبر1968/2026
کوئٹہ/گوادر، 06 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ادارہ ترقیاتِ گوادر (جی ڈی اے) کی گورننگ باڈی کا 31واں اجلاس منعقد ہوا جس میں گوادر کی مجموعی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، مالی امور اور مستقبل کے ترقیاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے اجلاس میں ایم این اے گوادر حاجی ملک شاہ، ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات) زاہد سلیم، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان، ڈسٹرکٹ چیئرمین گوادر واجہ شے مختار سمیت پلاننگ کمیشن اسلام آباد، پاکستان ریلوے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اجلاس میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مالی سال 2025-26 کے سالانہ بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے جی ڈی اے کے مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی آڈٹ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو ہدایت دی کہ جی ڈی اے کے مالی امور کا جامع آڈٹ کر کے اپنی مفصل رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مالی طور پر خودمختار بنانا وقت کی ضرورت ہے اور اتھارٹیز کا بنیادی مقصد اپنے وسائل میں اضافہ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ادارے حکومت پر مالی بوجھ بننے کے بجائے اپنے وسائل پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے کی سالانہ آمدن صرف 7 کروڑ روپے جبکہ اخراجات 87 کروڑ روپے ہونا تشویشناک امر ہے جس کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گوادر کی ترقی کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات اور مؤثر مالی نظم و ضبط انتہائی ضروری ہے اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ایک فعال اور مؤثر ادارہ بنانے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ ادارہ اپنے اہداف حاصل کر سکے اور شہر کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرے اجلاس میں گوادر شہر کے نشیبی علاقوں ٹی ٹی سی کالونی، بخشی کالونی، شمبے اسماعیل اور نیا آباد میں ڈرینیج اور سیوریج سسٹم کی بہتری، اسٹریٹ ورک اور سڑکوں کی پختگی کے منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹس تیار کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ ان منصوبوں کو آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جا سکے اجلاس میں جی ڈی اے واٹر منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی مختلف گرانٹس کو یکجا کرنے اور ان میں مزید اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی کہ گوادر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر اور پائیدار بنانے کے لیے نئے امکانات اور متبادل ذرائع کا جائزہ لیا جائے تاکہ شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مستقل بنیادوں پر پورا کیا جا سکے اجلاس کے دوران جی ڈی اے کے جاری ترقیاتی منصوبوں، شہر میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے اقدامات اور ادارے کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سوڈ ڈیم جو گزشتہ دو برسوں کے دوران بارشیں نہ ہونے کے باعث خشک ہو گیا تھا حالیہ بارشوں کے بعد اس میں پانی جمع ہونے سے دوبارہ پانی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ شادی کور ڈیم اور جی پی اے پلانٹ سے بھی شہر کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس کے باعث اس وقت گوادر میں پانی کی فراہمی کا نظام بلاتعطل جاری ہے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے اجلاس کو ادارے کے دیگر جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اجلاس میں جی ڈی اے ملازمین کے میڈیکل واجبات کی ادائیگی کی بھی منظوری دی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ گوادر کو ایک جدید، ترقی یافتہ اور پائیدار ساحلی شہر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید بہتر بنا کر عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔
خبرنامہ نمبر1969/2026
کوئٹہ، 06 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وطن عزیز کی حفاظت کے دوران جان کی قربانی دینے والے شہید لیفٹیننٹ عصمت اللہ بنگلزئی کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور شہید کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہید کی بے مثال قربانی اور بلند حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک و صوبے کی خدمت میں دی گئی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے لواحقین کے ساتھ فاتحہ خوانی بھی کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے.
خبرنامہ نمبر1970/2026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) نے صوبے میں مریضوں کے پیتھالوجیکل، ریڈیالوجیکل اور دیگر ڈائگناسٹک ٹیسٹس انجام دینے والی لیبارٹریز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں اور ٹیکس قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔اتھارٹی کے مطابق بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) ایکٹ 2015 کے تحت مریضوں کے پیتھالوجیکل، ریڈیالوجیکل اور ڈائگناسٹک ٹیسٹس سے متعلق فراہم کی جانے والی خدمات پر 2 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ تمام متعلقہ لیبارٹریز اور ڈائگناسٹک مراکز پر لازم ہے کہ وہ مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی کریں اور ہر ٹیکس پیریڈ کی ریٹرنز بروقت جمع کرائیں۔بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ رہنے، ٹیکس واجبات ادا نہ کرنے یا بروقت ریٹرن فائل نہ کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اتھارٹی نے تمام لیبارٹری مالکان اور منتظمین پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی مکمل تعمیل کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1971/2026
تربت ۔ یونیورسٹی آف تربت کے ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کا چوبیسواں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف تعلیمی وتحقیقی امور کا تفصیلی جائزہ لیاگیااوراہم فیصلے کئے گئے۔ ان تعلیمی معاملات میں مختلف گریجویٹ پروگراموں کے سائناپسس ڈیفنس، تھیسس، جائزہ رپورٹس، زبانی امتحان کےرپورٹس اور تعلیمی سال 2026 کے داخلوں کی توثیق کے علاوہ ایڈوانسڈ اسٹڈیز سے متعلق دیگر معاملات شامل تھے۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق اجلاس کے دوران یونیورسٹی میں تحقیقی معیار کو برقرار رکھنا، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے گائیڈ لائنز پرعملدرآمد کو یقینی بنانااور یونیورسٹی میں جدت پر مبنی بامقصد تحقیق کو فروغ دینے کے لئے تبادلہ خیال کیاگیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے یونیورسٹی میں معیاری تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے اجلاس میں ممبران کی فعال شرکت اور قیمتی تجاویز کو سراہا۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی اپنی آئینی و انتظامی باڈیز کے اجلاس بروقت منعقد کررہی ہے تاکہ تحقیقی سرگرمیوں اور تعلیمی و انتظامی امور کی انجام دہی میں غیر ضروری تاخیر یا رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وائس چانسلر کاکہناتھا کہ اعلی تعلیمی اداروں کا مقصدمحض ڈگریاں دینا نہیں بلکہ ایسے جدید علوم کو فروغ دیناہے جو معاشرے کی بہتری، ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے محققین کو ایسا سازگار علمی ماحول فراہم کرے جو ان کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرے۔ اجلاس میں تھیسس کے جائزہ لینے کے نظام کو مزید موثراور جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور فیکلٹی ممبران اور اسکالرز کے درمیان تحقیقی روابط کو مزید مضبوط کرنے کے علاوہ یونیورسٹی کی تحقیقی سرگرمیوں کو قومی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تعمیری تجاویز بھی پیش کی گئیں۔اجلاس میں فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجزکے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور (تمغ? امتیاز)، فیکلٹی آف سوشل سائنسزکےڈین ڈاکٹر محمد طاہر حکیم،فیکلٹی آف لا کے ڈین ڈاکٹر مظفر حسین اور فیکلٹی آف بزنس اینڈ اکنامکس کے ڈین کے علاوہ رجسٹرار گنگزار بلوچ،ڈائریکٹر گریجویٹ اسٹڈیز ڈاکٹر وسیم برکت، کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض احمد، آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد یاسین، گورنمنٹ شہید ایوب بلیدی کالج کے پرنسپل اور یونیورسٹی کے سینئر فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر1972/2026
نصیرآباد۔۔۔۔ضلع نصیرآباد میں ماہ صیام کے موقع پر پاکستان ڈے کے حوالے سے اسپورٹس فیسٹیول کی سرگرمیاں تیزی کے ساتھ جاری ہیں۔ یہ اسپورٹس فیسٹیول وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے احکامات، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ایڈوائزر برائے اسپورٹس اینڈ یوتھ مینا مجید بلوچ کی ہدایت اور صوبائی سیکریٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ درا خان بلوچ جبکہ ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس ڈاکٹر یاسر خان بازئی کی کاوشوں سے منعقد کیا جا رہا ہے جس کی نگرانی ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس نصیرآباد فیروز خان ابڑو کر رہے ہیں۔ اسپورٹس فیسٹیول کے دوران مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ شوٹنگ بال کا سنسنی خیز فائنل میچ بھی کھیلا گیا جس میں نوجوان کھلاڑیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی بہترین کھیل مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ فائنل میچ کے موقع پر شائقینِ کھیل کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے دلچسپ مقابلے سے بھرپور لطف اٹھایا اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا۔ اس موقع پر عوام کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی جانب سے نوجوانوں کے لیے فراہم کردہ صحت مند سرگرمیوں اور کھیلوں کے فروغ کے اقدامات کو بھی بے حد سراہا گیا۔ فائنل میچ کے مہمان خصوصی ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس نصیرآباد فیروز خان ابڑو تھے جنہوں نے کھلاڑیوں سے تعارف حاصل کیا اور ان کے ساتھ گروپ فوٹو سیشن بھی کیا۔ اس موقع پر شوٹنگ بال ڈسٹرکٹ نصیرآباد کے سرپرست اعلیٰ بابو شکرالدین تنیو، صدر خدابخش رند، کوچ حفیظ اللہ جمالی، کیپٹن نثار انجم مینگل، وائس کیپٹن اسرار احمد، احسان اللہ قریشی، پریس کلب کے سینئر نائب صدر علی جان منگی،حفیظ رحمان، ناصر رند ، یاسر علی، لشکر خان، وحید مینگل، اسرار احمد، اعجاز احمد، فرحان علی سولنگی ، زاہد حسین سولنگی سمیت دیگر افسران کھلاڑی اور معززین بھی موجود تھے فائنل میچ کے موقع پر شائقین اسپورٹس اور کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس نصیرآباد فیروز خان ابڑو نے کہا کہ ماہ صیام کے مقدس مہینے میں عوام کو صحت مند تفریحی مواقع فراہم کرنے اور مختلف کھیلوں میں مہارت رکھنے والے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس فیسٹیول کا مقصد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا اور انہیں کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ ضلعی اور ڈویژنل سطح کے بعد یہ باصلاحیت کھلاڑی صوبائی سطح پر بھی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے نصیرآباد اور بلوچستان کا نام روشن کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کھلاڑیوں کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے اور آئندہ بھی کھیلوں کے فروغ اور باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نصیرآباد کی زرخیز سرزمین میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جسے مناسب مواقع فراہم کر کے قومی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچایا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے لیے محکمہ اسپورٹس کھلاڑیوں کی مکمل سرپرستی کرے گا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو ہدایت کی کہ وہ کھیل کے میدان میں نظم و ضبط، محنت اور کھیل کے مثبت جذبے کو فروغ دیں تاکہ وہ مستقبل میں کامیابی کے اعلیٰ مقامات حاصل کر سکیں۔ آخر میں انہوں نے اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد میں تعاون کرنے والے منتظمین اور کھلاڑیوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوان نسل کو مثبت سمت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر1973/2026
قلات :ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ڈسٹرکٹ قلات میں لیشمانیاسس کےوبائکی روک تھام کیلئے ا یم ایس ڈاکٹر نصر اللہ لانگو نے ڈاکٹر بدرانصاری ڈائریکٹر ملیریا VBD حکومت بلوچستان کے تعاون سے اس بیماری کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات تیزکردی ہیں ہےڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال قلات میں لیشمانیاس سنٹرمیں 16 مریضوں کو گلوکین ٹائم انجیکشن لگاکرطبی امدادفراہمی کا سلسلہ جاری ہے واضح رہے کہ وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت کے حکام بلوچستان کے سردعلاقوں میں لیشمانیاس کی وبائ کنٹرول کرنے کیلئے بین الاقوامی معیار کے گلوکین ٹائم انجکشن کے ذریعے متاثرہ مریضوں کا علاج جاری ہے.
خبرنامہ نمبر1974/2026
کوئٹہ۔ 5 مارچ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور صوبے میں بلدیاتی نظام کی مؤثر فعالیت کو یقینی بنانے کے عزم کے تحت سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان عبدالرؤف بلوچ کی زیر صدارت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ سے متعلق مختلف انتظامی، مالی اور ترقیاتی امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ مجیب الرحمٰن قمبرانی، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ شجاعت علی، وحید بادینی، طحہٰ جیند، اسسٹنٹ ڈائریکٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن نظر خان زہری، چیف میٹروپولیٹن آفیسر (سی ایم او) میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اور محکمہ بلدیات و دیہی ترقی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی مجموعی کارکردگی، انتظامی معاملات، مالی نظم و نسق، جاری ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالرؤف بلوچ نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ شہر میں صفائی ستھرائی کے مؤثر نظام، بلدیاتی سہولیات کی بروقت فراہمی اور شہری خدمات کی بہتری کے حوالے سے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنا میٹروپولیٹن کارپوریشن کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جائے اور دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں استعمال میں لایا جائے۔اجلاس کے دوران خصوصی طور پر صفائی و ستھرائی کے منصوبے “صفائ کوئٹہ” کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس منصوبے کے تحت جاری سرگرمیوں، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ سیکرٹری بلدیات نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے تاکہ شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں گرانٹ اِن ایڈ فنڈز کی موجودہ صورتحال، فنڈز کے اجرائ اور ان کے مؤثر، شفاف اور بروقت استعمال کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دستیاب فنڈز کو شہری سہولیات کی بہتری، صفائی کے نظام کو مضبوط بنانے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جائے۔اجلاس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے تحت قائم چار نئے ٹاؤنز کے چیف آفیسرز کے انتظامی امور، دفتری معاملات اور ادارہ جاتی فعالیت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام انتظامی اور مالی معاملات کو مکمل شفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ نمٹایا جائے تاکہ ادارے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور شہریوں کو بہتر بلدیاتی خدمات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ سے متعلق زیر التوائ معاملات اور سرکاری خط و کتابت میں تاخیر کے مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید مشینری کی خریداری، ادارے کے سروس رولز کی تیاری، مختلف امور کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور انتظامی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے مختلف کمیٹیوں کی تشکیل جیسے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے ملازمین کو درپیش مسائل، تنخواہوں اور پنشن کے معاملات کے حل کے لیے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس حوالے سے ملازمین کے لیے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس، پنشنرز کے لیے 7 فیصد اضافے اور ملازمین کی سالانہ انکریمنٹ کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے اور ادارے میں بہتر کام کے ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔مزید برآں اجلاس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے ہیومن ریسورس (HR) ڈیٹا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ ادارے میں موجود افرادی قوت کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے اور انتظامی امور کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔ سیکرٹری بلدیات نے اس بات پر زور دیا کہ ادارے کی استعداد کار میں اضافے کے لیے جدید انتظامی تقاضوں کے مطابق اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالرؤف بلوچ نے ہدایت کی کہ کوئٹہ شہر اور اس کے گردونواح میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور شہر میں بڑے پیمانے پر جمع ہونے والے کچرے کو فوری طور پر شہر سے باہر منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا، محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ گرانٹ اِن ایڈ فنڈز کو شفاف اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں عوام کو بہتر بلدیاتی سہولیات کی فراہمی، شہری مسائل کے حل اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گا۔
خبرنامہ نمبر1975/2026
نصیرآباد۔۔سکول داخلہ مہم 2026 کے سلسلے میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول میرواہ ضلع نصیرآباد میں ایک تعلیمی واک کا انعقاد کیا گیا۔ واک کا اہتمام ہیڈ ماسٹر محمد زمان عمرانی کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نصیرآباد حفیظ اللہ کھوسہ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا جس میں اساتذہ، طلبہ اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نصیرآباد حفیظ اللہ کھوسہ اپنے خطاب میں کہا کہ سکول داخلہ مہم 2026ئ کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں داخل کرانا اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خواب ہے کہ ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب ہو اور کوئی بھی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے اساتذہ، والدین اور سماجی حلقوں پر زور دیا کہ وہ بچوں کو سکول بھیجنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ ضلع نصیرآباد کے دور دراز گاؤں میں منعقد ہونے والی اس تعلیمی واک میں بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں نے بھی بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ بچیوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر انہیں مناسب مواقع اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے تو وہ بھی تعلیم اور مثبت سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم بھی انتہائی ضروری ہے اور محکمہ تعلیم اس حوالے سے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول داخلہ مہم کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے اساتذہ اور سکول انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ داخلہ مہم 2026ئ کے تحت ضلع بھر میں آگاہی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ “ہمارا خواب — ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب” کے مقصد کو عملی شکل دی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1976/2026
منشیات کی نا سور کے خلاف خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے افسران اور اہلکاروں کے لیے اے این ایف ہیڈکوارٹر خالد ایئربیس میں ڈرون ٹریننگ سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ تربیتی پروگرام کا مقصد افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے منشیات کی غیر قانونی کاشت کی نشاندہی اور اس کے خاتمے کے لیے جدید طریقہ کار سے آگاہ کرنا تھا۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نارتھ ایوب ہزارہ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے منشیات کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں افیون، بھنگ، چرس اور دیگر منشیات کی غیر قانونی کاشت کی نشاندہی اور بروقت تلفی میں کلیدی مدد حاصل ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی پیشہ ورانہ تربیت سے محکمہ ایکسائز کے افسران اور اہلکاروں کی استعداد کار میں نمایاں اضافہ ہوگا اور منشیات کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے گا۔ تربیتی سیشن کے دوران شرکائ کو ڈرون کے عملی استعمال، نگرانی کے جدید طریقہ کار اور آپریشنل حکمت عملی سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔تقریب کے اختتام پر تربیت مکمل کرنے والے افسران اور آفیشلز میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں، جبکہ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایکسائز نصیر اللہ مندوخیل و دیگر حکام بھی موجود تھے ۔
خبرنامہ نمبر1977/2026
جعفرآباد: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ضلع بھر میں قائم مختلف بینکوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع میں کام کرنے والی تمام نجی و سرکاری بینکوں کے مینیجرز اور ان کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں بینکوں کی سیکیورٹی صورتحال، حفاظتی انتظامات اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے سے متعلق تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بینکوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر اور مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ انہوں نے بینک مینیجرز کو ہدایت کی کہ تمام بینک برانچز میں سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی یقینی بنائی جائے اور گارڈز اسلحہ سمیت اپنی ذمہ داریاں پوری طرح انجام دیں جبکہ بینکوں میں سی سی ٹی وی کیمرے مکمل طور پر فعال اور درست حالت میں ہونے چاہئیں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکیورٹی کے موثر انتظامات کیے جائیں اور بینک کے اندر آنے والے افراد کی نگرانی کا مناسب نظام موجود ہو۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اس بات پر زور دیا کہ بینکوں کے اردگرد صفائی اور روشنی کا مناسب انتظام بھی کیا جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو موقع نہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس سلسلے میں بینک انتظامیہ کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بینکوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ وقتاً فوقتاً بینکوں کی سیکیورٹی کا جائزہ لیتے رہیں۔ اجلاس میں بینک مینیجرز نے بھی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنی آرائ اور تجاویز پیش کیں اور ضلعی انتظامیہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد نے کہا کہ انتظامیہ اور بینکوں کے باہمی تعاون سے ہی سیکیورٹی کے نظام کو مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے تاکہ شہری بلا خوف و خطر اپنی مالیاتی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
خبرنامہ نمبر1978/2026
نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار سے انجمن تاجران کے صدر تاج بلوچ اور تاجران و دکانداران کے صدر خان جان بنگلزئی نے ملاقات کی جس میں شہریوں کو درپیش مختلف مسائل بالخصوص شہر میں آبنوشی کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ تاجران رہنماؤں نے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی واٹر سپلائی اسکیم کے بجلی کنکشن منقطع ہونے کے باعث شہر میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے جس سے شہریوں اور تاجروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہری مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے واٹر سپلائی اسکیم کے لیے بجلی کی فراہمی کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر کیسکو آپریشن محمد وریام خان منجھو، ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ظفر زہری، اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ، مزمل حسین کورا، ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی اور ایس ایس پی ہائی ویز عبدالعزیز سرپرہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر کیسکو کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے واٹر سپلائی اسکیم کی بجلی کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھا جائے کیونکہ بجلی کی بندش کے باعث شہریوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو بھی سختی سے ہدایت کی کہ کیسکو کے واجبات کی ادائیگی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے اور دونوں محکموں کے درمیان بہتر رابطہ اور ہم آہنگی قائم رکھی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی مشکلات پیدا نہ ہوں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس مرتبہ کینال کی بندش مقررہ وقت سے پہلے کی جا رہی ہے اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ واٹر سپلائی اسکیم کو بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ پانی تالابوں میں ذخیرہ کیا جا سکے اور شہریوں کو پانی کی قلت سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ عوام کے مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے باہمی تعاون اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
خبرنامہ نمبر1979/2026
جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی کی زیر صدارت سنڈیکیٹ ہال میں جامعہ کے تمام چیئرمینز اور ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نئے تعلیمی سال 2026 کے آغاز، تعلیمی سرگرمیوں، کلاسز کے باقاعدہ انعقاد، اساتذہ و عملے کی حاضری اور مختلف شعبہ جات کے انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غلام رزاق شاہوانی، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر شریف محمد حسنی سمیت مختلف فیکلٹیز کے ڈینز، شعبہ جات کے چیئرمینز اور ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تعلیمی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، کلاسز کے بروقت آغاز کو یقینی بنانے، اساتذہ و ملازمین کی حاضری کو باقاعدہ بنانے اور مختلف شعبہ جات میں مؤثر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔اس موقع پر مختلف شعبہ جات کے چیئرمینز، ڈائریکٹرز اور سربراہان نے اپنے اپنے شعبوں کو درپیش مسائل، تجاویز اور آرائ بھی پیش کیں۔ وائس چانسلر نے شرکائ کی آرائ کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ جامعہ میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے اور طلبہ کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔وائس چانسلر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعہ بلوچستان میں نئے تعلیمی سال 2026 کو منظم اور مؤثر انداز میں شروع کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1980/2026
کوئٹہ 06 مارچ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے)نے صوبے میں مریضوں کے پیتھالوجیکل، ریڈیالوجیکل اور دیگر ڈائگناسٹک ٹیسٹس انجام دینے والی لیبارٹریز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں اور ٹیکس قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اتھارٹی کے مطابق بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) ایکٹ 2015 کے تحت مریضوں کے پیتھالوجیکل، ریڈیالوجیکل اور ڈائگناسٹک ٹیسٹس سے متعلق فراہم کی جانے والی خدمات پر 2 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ تمام متعلقہ لیبارٹریز اور ڈائگناسٹک مراکز پر لازم ہے کہ وہ مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی کریں اور ہر ٹیکس پیریڈ کی ریٹرنز بروقت جمع کرائیں۔ بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ رہنے، ٹیکس واجبات ادا نہ کرنے یا بروقت ریٹرن فائل نہ کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اتھارٹی نے تمام لیبارٹری مالکان اور منتظمین پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی مکمل تعمیل کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1981/2026
کوئٹہ، 06 مارچ 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں ایک وفد نے جمعہ کو یہاں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، باہمی دلچسپی کے امور اور بلوچستان میں جاری ترقیاتی عمل سمیت مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام، جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی قیادت کے درمیان مشاورت اور مثبت مکالمے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے باہمی تعاون، سیاسی ہم آہنگی اور تعمیری طرزِ عمل ناگزیر ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں پائیدار ترقی، بہتر طرز حکمرانی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشاورت کو اہمیت دی جا رہی ہے ملاقات کے اختتام پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو مختلف موضوعات پر مشتمل کتابوں کا تحفہ پیش کیا وزیر اعلیٰ نے اس علمی تحفے پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی علمی، سیاسی اور جمہوری خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
خبرنامہ نمبر1982/2026
نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا ہے کہ سال 2024 کے سکیورٹی ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور ضلع میں قائم تمام سرکاری و نجی بینکوں کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جامع اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ تمام نجی بینکوں کے مینیجرز اس امر کو یقینی بنائیں کہ اپنی بینکوں کی سکیورٹی ہوم ڈیپارٹمنٹ سے باقاعدہ طور پر کلئیر کروائی جائے جبکہ بینکوں کی حفاظت پر مامور سکیورٹی گارڈز اور دیگر عملے کی مکمل چھان بین بھی کرائی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرکاری اور نجی بینکوں کی سکیورٹی کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ، ڈی ایس پی شمن علی سولنگی، پی ایس ٹو ڈپٹی کمشنر منظور شیرازی سمیت مختلف سرکاری اور نجی بینکوں کے مینیجرز اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران ضلع میں قائم بینکوں کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور بینکوں کے داخلی و خارجی راستوں، سی سی ٹی وی کیمروں، الارم سسٹم، مسلح گارڈز کی موجودگی اور دیگر حفاظتی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ تمام بینک اپنی سکیورٹی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں اور بینکوں کے اطراف میں مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر متحرک ہے اور اس حوالے سے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی الرٹ ہیں۔ انہوں نے بینک مینیجرز کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا مسئلے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور بینکوں کی سکیورٹی کو مضبوط بنانا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، اس لیے تمام ادارے باہمی تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ ضلع میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1983/2026
نصیرآباد: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے احکامات کی روشنی میں مفادِ عامہ کے تحت ترقیاتی اقدامات کا سلسلہ ضلع نصیرآباد میں جاری ہے۔ اسی سلسلے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ نصیرآباد احمد نواز جتک کی سربراہی میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) پروگرام کے تحت مختلف ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز اوپن کیے گئے۔ ٹینڈرز کھولنے کا عمل ایگزیکٹو انجینئر لوکل گورنمنٹ ملک عرفان کاکڑ نے اے ڈی لوکل گورنمنٹ احمد نواز جتک کی نگرانی میں مختلف سرکاری کنٹریکٹرز کی موجودگی میں باضابطہ طور پر ٹینڈرز اوپن کیے۔ اس موقع پر متعلقہ افسران اور ٹھیکیداران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جن کے سامنے شفاف طریقہ کار کے مطابق ٹینڈرز کا جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ احمد نواز جتک نے اس موقع پر بتایا کہ ضلع نصیرآباد میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو پروگرام کے تحت شروع کی جانے والی ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز حکومتی قواعد و ضوابط اور مقررہ معیار کے مطابق کھولے گئے ہیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام ٹھیکیدار جو حکومتی معیار اور قواعد پر پورا نہیں اترے انہیں ڈس کوالیفائیڈ کر دیا گیا ہے جبکہ وہ کنٹریکٹرز جو مقررہ معیار پر پورا اترے انہیں کوالیفائیڈ قرار دیا گیا ہے اور بہت جلد ضلع میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوکل گورنمنٹ نصیرآباد کی بھرپور کوشش ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبے پی سی ون کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے حقیقی ثمرات حاصل ہو سکیں۔ احمد نواز جتک کا کہنا تھا کہ ترقیاتی اسکیموں کے معیار اور شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام منصوبوں کی تکمیل تک ان کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایات کے مطابق صوبے کے دور دراز علاقوں سمیت ضلع نصیرآباد میں بھی ترقیاتی عمل کو تیز کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور علاقے میں پائیدار ترقی کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1984/2026
لورالائی 6 مارچ :کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے احکامات اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ بلوچ کی ہدایت پر میونسپل کمیٹی کا عملہ شہر کے مختلف علاقوں اور زونز میں صفائی مہم، نالیوں کی صفائی، کچرے کی بروقت اٹھان اور جھاڑ پھونک کے کاموں میں مصروفِ عمل ہے۔ اس صفائی مہم کا مقصد شہر کو صاف ستھرا رکھنا، نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا اور شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔اس سلسلے میں باران زون سینما گلی میں نالیوں کی صفائی کا کام کیا گیا جبکہ عملہ صفائی نے ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے جمع شدہ کچرا اٹھا کر مناسب مقامات پر منتقل کیا۔ اسی طرح خالو زون بلوچ کالونی میں بھی صفائی عملے نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے گلیوں اور محلوں سے کچرا صاف کیا اور صفائی کی صورتحال کو بہتر بنایا۔مزید برآں سلیم داد کمپلینٹ زون میں درالعلوم، صدر بازار، باگی بازار اور کاکڑی مسجد روڈ پر نالیوں کی صفائی اور کچرے کی نکاسی کا عمل مکمل کیا گیا تاکہ گندگی اور پانی کے جمع ہونے کے مسائل سے شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔رمضان المبارک کے پیش نظر سستا بازار میں بھی روزانہ کی بنیاد پر خصوصی صفائی انتظامات کیے جا رہے ہیں، جہاں عملہ صفائی سوزوکی گاڑیوں کے ذریعے کچرا اٹھا کر فوری طور پر ٹھکانے لگا رہا ہے تاکہ خریداروں اور دکانداروں کو صاف ستھرا ماحول میسر ہو۔اسی طرح عجب زون تحصیل روڈ پر بھی نالیوں کی صفائی کا کام مکمل کیا گیا اور عملہ صفائی کی جانب سے مختلف مقامات پر جھاڑ پھونک اور کچرے کی اٹھان کا عمل جاری رکھا گیا۔ میونسپل کمیٹی کے حکام کے مطابق صفائی مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے شہر کے دیگر علاقوں میں بھی روزانہ کی بنیاد پر صفائی کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ لورالائی شہر کو صاف، خوبصورت اور صحت مند بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1948/2026
کوئٹہ 6 مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے نیشنل ہائی وے کے متعلقہ ذمہ داران کو خصوصی ہدایت دی کہ ژوب بائی پاس کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں کیونکہ یہ دیرینہ مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ کوئٹہ ٹو کراچی قومی شاہراہ کے بعد کوئٹہ ٹو ژوب سب سے اہم قومی شاہراہ ہے۔ گورنر مندوخیل نے ژوب بائی پاس کیلئے بروقت فنڈز کے اجرائ پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وفاقی وزیر مواصلات علیم خان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر واضح رہے کہ عید کے بعد گورنر بلوچستان اپنے صوبائی وزرائ کے ہمراہ مذکورہ بائی کا باقاعدہ دورہ بھی کرینگے۔ انہوں نے بی اینڈ آر پر زور دیا کہ وہ عید سے قبل ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کیلئے متبادل راستہ کھولنے کا بھی اہتمام کریں تاکہ ژوب ڈویژن کے عوام اور مسافروں کو دیگر صوبوں تک بغیر کسی پریشانی کے رسائی ممکن ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ہائی وے کے ذمہ دار افیسروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان نے کہا کہ ژوب بائی پاس وفاقی حکومت کا ایک اہم ترقیاتی منصوبہ ہے جس کی بروقت تکمیل سے نہ صرف ٹریفک کی بھیڑ میں کمی آئیگی بلکہ ژوب ڈویژن کے تمام رہائشیوں اور مسافروں کیلئے سفری سہولیات میں بہتری آئیگی۔
خبرنامہ نمبر1949/2026
چمن 6 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع چمن میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف کی فراہمی کے سلسلے میں آج سینکڑوں خاندانوں میں اشیائے خوردونوش تقسیم کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ نگرانی وزیراعلیٰ بلوچستان رمضان ریلیف و راشن اسکیم پیکیج کے تحت مستحق اور نادار خاندانوں میں باقاعدہ اور منظم طریقے سے راشن تقسیم کیا گیا۔ ڈی سی چمن نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ریلیف و راشن اسکیم پیکیج کے تحت ضلع چمن کے تمام نادار اور مستحق خاندانوں میں راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ماہِ رمضان کے دوران زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ عوام حکومت کے اس اقدام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ راشن کی تقسیم کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے افسران خود موقع پر موجود تھے اور تقسیم کے تمام مراحل کی نگرانی کرتے رہے۔ اس موقع پر عوام نے ریلیف فراہم کرنے پر بالخصوص وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، ڈی سی چمن اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا.
خبرنامہ نمبر1950/2026
خضدار : ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے تربیت کے دوران موجود نوجوان افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خدمت کا عظیم موقع عطا کیا ہے۔ یہ وقت سیکھنے، تجربہ حاصل کرنے اور عوام کی بہتری کے لیئے کام کرنے کا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ فیلڈ پر جائیں اور عملی کام کریں ایسے اسٹیشن کا انتخاب کریں کہ جہاں مزید سیکھنے کی صلاحیت پیدا ہو ، چیلنجز کا سامنا ہو اور حقیقی انتظامی تجربہ حاصل ہو سکے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ کتابی علم کے ساتھ ساتھ گراؤنڈ لیول پر کام کرنے سے ہی ایک اچھا افسر بنایا جا سکتا ہے، جو عوام کی مسائل کو سمجھے اور ان کا فوری حل نکالے ۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کے مثبت اقدامات ضلع میں شفافیت، میرٹ اور عوام کی فلاح کے لیئے جاری کوششوں کا حصہ ہیں، جیسا کہ وہ رمضان ریلیف، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسی رہنمائی سے نوجوان افسران نہ صرف بہتر کارکردگی دکھائیں گے بلکہ بلوچستان کے ترقیاتی سفر میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ انڈر ٹریننگ اسسٹنٹ کمشنرز نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی جانب سے قیمتی مشورے دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اور ان مشوروں کو برؤئے کار لانے اور فیلڈ میں عملی اقدامات لانے کا ارادہ و عزم مصمم کیا۔
خبرنامہ نمبر1951/2026
کوئٹہ 6 مارچ:صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کے خصوصی رمضان پیکج کے تحت مستحق اور نادار خاندانوں کی معاونت کے سلسلے میں مستحقین میں راشن تقسیم کیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں مستحق افراد اور مقامی عمائدین بھی موجود تھے۔صوبائی مشیر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ رمضان المبارک رحمت، برکت اور ہمدردی کا مہینہ ہے، اور حکومتِ بلوچستان وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں مستحق طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان پیکج کے تحت ضرورت مند خاندانوں تک راشن کی فراہمی کا مقصد انہیں مہنگائی کے بوجھ سے کسی حد تک نجات دلانا اور مقدس مہینے میں ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔نسیم الرحمن ملاخیل نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ رمضان المبارک کے دوران کوئی بھی مستحق خاندان بنیادی اشیائے خورونوش سے محروم نہ رہے۔ اس سلسلے میں مستحقین کی شفاف فہرستیں مرتب کر کے انہیں راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ حقیقی ضرورت مند افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سماجی بہبود کے مختلف پروگراموں کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو وسعت دے رہی ہے اور آنے والے دنوں میں بھی مستحق طبقات کی مدد کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ اس موقع پر مستحقین نے حکومتِ بلوچستان کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں اس طرح کے فلاحی اقدامات غریب اور نادار افراد کے لیے بڑی سہولت کا باعث بنتے ہیں۔
خبرنامہ نمبر1952/2026
زیارت 06 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے ڈی ای او آفس زیارت میں شجر کاری مہم سلسلے میں پودا لگا یااس موقع پر ڈی ای او زیارت لطیف اللہ غرشین، ڈی او ای زیارت عبدالمالک تاج ، ڈی او ای فیمیل میمونہ فہیم ، ڈی ڈی او ای زیارت نقیب اللہ کاکڑ ، ڈی ڈی او ای فیمیل زیارت فرزانہ ارباب اور ڈی ڈی او ای فیمیل سنجاوی فرزانہ کلثوم بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ اس موقع پرڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ ہر شہری ایک ایک درخت لگاکر شجر کاری مہم میں ضرور حصہ لیں اور شجر کاری مہم کو کامیاب بنائیں تمام سرکاری دفاتر،اسکولوں اور کالجوں میں درخت لگاکر شجر کاری مہم کو کامیاب بنائیں انہوں نے کہا کہ درخت زمین کا زیور ہیں درخت زمین کو کٹاؤ سے روکتے ہیں زمین کی دلکشی میں اضافہ کرتے ہیں ماحول پر خوش گوار اثرات مرتب کرتے ہیں.
خبرنامہ نمبر1953/2026
زیارت 06مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمیشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی نے اسکول داخلہ مہم کے سلسلے میں میڈیا کو پریس بریفنگ دیا اس موقع پر ،ڈی ای او زیارت لطیف اللہ غرشین، ڈی او ای زیارت عبدالمالک تاج ، ڈی او ای فیمیل میمونہ فہیم ، ڈی ڈی او ای زیارت نقیب اللہ کاکڑ ، ڈی ڈی او ای فیمیل زیارت فرزانہ ارباب اور ڈی ڈی او ای فیمیل سنجاوی فرزانہ کلثوم بھی موجود تھے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ زیارت اور سنجاوی میں چار ہزار سے زائد بچوں کو اسکولوں میں داخل کرائیں گے انہوں نے کہا کہ عوام اسکول داخلہ مہم میں حکومت کا ساتھ دیں حکومت بلوچستان سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پورے صوبے میں تعلیمی سال کے آغاز پر سکول داخلہ مہم کا آغاز کیاجاتاہے۔ اسی سلسلے میں ضلع زیارت میں بھی داخلہ مہم کا باقاعدہ آغاز کیاگیا ہے ہمارے تمام سماجی تنظیموں، طلبائ تنظیموں اور باقی تمام اسٹیک اولڈر سے درخواست ہے کہ سکول داخلہ مہم میں ہمارےساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ ضلع زیارت میں کوئی بچہ بھی تعلیم حاصل کئیں بغیر نہ رہ جائے.
خبرنامہ نمبر1954/2026
زیارت 06مارچ ::ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سجاد الرحمان ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر لطیف اللہ غرشین، ڈسٹرکٹ افسر ایجوکیشن عبدالمالک تاج ،ڈسٹرکٹ افسر ایجوکیشن فیمیل میمونہ،ڈی ڈی او فیمیل فرزانہ ارباب اڈی ڈی اونقیب اللہ کاکڑ ،اے ڈی اوسنجاوی شبانہ،بی سی ایف سپر وائزر فیض خلجی،آرٹی ایس ایم بدرالدین نے شرکت کی اجلاس میں تمام ڈی ڈی اوز نے رپورٹ پیش کیں ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی گئی اجلاس فیصلہ کیا گیا کہ اسکول داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ اور تحصیل کی سطح پر واک اور ریلیاں نکالی جائیں گی اور عوام میں شعور اجاگر کیا جائے گا ڈپٹی کمشنرعںدالقدوس اچکزئی نے فیلڈ افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ کہ بنیادوں پر اسکولوں کا وزٹ کریں اورتعلیم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔
خبرنامہ نمبر1955/2026
ہرنائی06 مارچ :ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی قیادت میں افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی اور ان کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ ہرنائی کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں ضلع ہرنائی کے مختلف محکموں کے افسران نے بھرپور شرکت کی، جن میں ایس پی پولیس انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر غلام حیدر ترین، ڈی ایچ او ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل، پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم عالم گیر اچکزئی، ایس ایچ او سٹی ملک اشتیاق احمد اعوان سمیت تاجر برادری اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شامل تھی۔ریلی کے شرکائ نے “پاکستان زندہ باد” اور “پاک فوج زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے اور دشمن قوتوں کو واضح پیغام دیا کہ پوری قوم متحد ہو کر اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔اس موقع پر شرکائ نے قومی یکجہتی، امن اور ملکی دفاع کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کی سلامتی، امن اور استحکام کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
خبرنامہ نمبر1956/2026
لورالائی 6 مارچ :نیو باورفلاحی خدمات کمیٹی کی جانب سے سکول داخلہ مہم کے سلسلے میں ایک تقریب اور آگاہی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم تھےاسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم اور نیو باورفلاحی خدمات کمیٹی کی سربراہی میں علاقے میں بچوں اور ان کے والدین کے ہمراہ ایک آگاہی ریلی بھی نکالی گئی، جس کا مقصد والدین کو اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرانے کی ترغیب دینا تھااس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے کہا کہ “سکول داخلہ مہم کا مقصد ہر بچے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول میں داخل کروائیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ آئیں مل کر اس مہم کو کامیاب بنائیں اور اپنے علاقے کے تمام بچوں کو سکول بھیجیں۔بعد ازاں نیوباورفلاحی خدمات کمیٹی کی جانب سے تعلیم کے حوالے سے کچھ مطالبات بھی پیش کیے گئے، جس پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے مطالبات پر غور کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر نیو باورفلاحی خدمات کمیٹی نے اسسٹنٹ کمشنر لورالائی کا شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر1957/2026
مستونگ، 06 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع مستونگ میں رمضان المبارک راشن ریلیف پیکج کی تقسیم کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل مستونگ محمد افضل سرپرہ کی نگرانی میں مستحق خاندانوں تک امدادی پیکجز کی منظم اور شفاف انداز میں فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے ڈی سی کمپلیکس مستونگ اور مختلف علاقوں میں مستحق خاندانوں میں رمضان راشن ریلیف پیکج تقسیم کیا گیا راشن کی تقسیم کے عمل کو باقاعدہ انتظامات کے تحت یقینی بنایا گیا تاکہ مستحق افراد کو عزتِ نفس کے ساتھ سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس موقع پر غربائ و مساکین، یتیموں، بیواؤں، مزدوروں اور معذور افراد کو ترجیحی بنیادوں پر راشن فراہم کیا گیا تاکہ ماہِ مقدس کے دوران انہیں درپیش معاشی مشکلات میں کمی لائی جا سکے ضلعی انتظامیہ کے حکام نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایات کے مطابق مستحق اور نادار طبقات کی مدد حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حکومت بلوچستان کی جانب سے یہ اقدام ضرورت مند خاندانوں کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو رہا ہے ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستحقین تک امداد کی فراہمی کا عمل شفافیت، نظم و ضبط اور میرٹ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
خبرنامہ نمبر1958/2026
کوئٹہ، 06 مارچ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق رمضان المبارک میں مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے رمضان ریلیف پیکج کے تحت راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں آج مجموعی طور پر 540 مستحق خاندانوں میں رمضان ریلیف پیکج تقسیم کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں یہ عمل شفاف اور منظم انداز میں مکمل کیا گیا تاکہ حقیقی حقداروں تک بروقت امداد پہنچائی جا سکے۔تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے150 پیکجز کچلاک میں تقسیم کیے گئےجبکہ 210 پیکجز نواں کلی کچلاک میں مستحق خاندانوں کو فراہم کیے گئے۔ اور50 پیکجز ہاؤس آف ہوپ میں تقسیم کیے گئے۔ اس کے علاؤہ 150 پیکجز کلی جمال آباد میں مستحق افراد تک پہنچائے گئے۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران مستحق خاندانوں کو ان کی دہلیز پر باعزت طریقے سے ریلیف فراہم کرنے کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں اور انہیں رمضان المبارک میں ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی میں سہولت میسر آئے۔
خبرنامہ نمبر1959/2026
سبی 06 مارچ:ماہِ رمضان المبارک کے دوران ضلعی انتظامیہ سبی کی جانب سے قائم کردہ رمضان سستا بازار میں آج بھی شہریوں کی بڑی تعداد نے خریداری کی۔ فروٹ، سبزی، آلو، پیاز، ٹماٹر، دودھ، دہی، کھجور، مرغی کا گوشت، بیف اور مختلف کریانہ اشیائ رعایتی نرخوں پر دستیاب رہیں، جس سے عوام کو خاطر خواہ ریلیف ملا۔ ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے سستا بازار کا دورہ کر کے قیمتوں اور اشیائ کے معیار کا جائزہ لیا اور مقررہ نرخنامے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا۔ دکانداروں کو ہدایت کی گئی کہ سرکاری نرخوں کی مکمل پابندی کریں اور کسی بھی قسم کی منافع خوری سے گریز کیا جائے۔ سستا بازار کے علاوہ شہر کے دیگر بازاروں میں بھی قیمتوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری رہا تاکہ عوام کو ناجائز منافع خوری سے محفوظ رکھا جا سکے اور رمضان المبارک میں اشیائے ضروریہ مناسب نرخوں پر دستیاب رہیں۔ ضلعی انتظامیہ سبی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ رمضان سستا بازار اور عمومی مارکیٹوں کی نگرانی کا یہ سلسلہ پورے ماہِ رمضان میں تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر1960/2026
کوئٹہ 06 مارچ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ماہِ رمضان المبارک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی اور سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر بھر میں 278 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، جس کے دوران خلاف ورزیوں پر 58 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 35 افراد کو جیل منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ 28 دکانوں کو سیل کیا گیا۔ اس حوالے سے سب ڈویژن سٹی میں 84 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 16 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 8 دکانیں سیل کی گئیں۔سب ڈویژن (صدر) میں 72 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 13 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 6 دکانیں سیل کی گئیں۔ جبکہ سب ڈویژن (سریاب) میں 65 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 15 افراد کو گرفتار کیا گیا، 5 افراد کو جیل منتقل کیا گیا جبکہ 5 دکانیں سیل کی گئیں۔ اس کے علاوہ سب ڈویژن (کچلاک) میں 50 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، 09 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 5 دکانیں سیل کی گئیں۔اس میں پر ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوامی شکایات کے ازالے اور اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ کریک ڈاؤن بلا تفریق جاری رہے گا تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1961/2026
چاغی: محکمہ ایکسائز کی ٹیم نے ضلع چاغی کے علاقے سیاہ جنگل میں منشیات کے خلاف بڑی اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 50 ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی افیون کی فصل کو تلف کر دیا۔آپریشن میں محکمہ ایکسائز نے مرکزی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔کارروائی کے دوران محکمہ ایکسائز کی ٹیم نے علاقے میں موجود غیر قانونی پوپی کی کاشت کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر تلف کر دیا۔ آپریشن میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)، کسٹم اور پولیس نے بھی معاونت فراہم کی جبکہ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر چاغی موجود تھے جنہوں نے کارروائی کی نگرانی کی۔حکام کے مطابق اس کامیاب آپریشن میں محکمہ ایکسائز کی بروقت حکمت عملی اور مؤثر کارروائی کے باعث بڑے رقبے پر موجود غیر قانونی پوپی کی فصل کو ختم کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ ایکسائز منشیات کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں مزید تیز کر رہا ہے اور ایسے آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ علاقے کو منشیات جیسے ناسور سے پاک کیا جا سکے







