3rd-March-2026

خبرنامہ نمبر1855/2026
کوئٹہ3 مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ وطن عزیز کو امن، ترقی اور رواداری کا گہوارہ بنانے کیلئے ہمیں سیاسی اور مذہبی دونوں محاذوں پر ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ نیشنل پیغام امن کمیٹی کے نمائندہ وفد کی کوئٹہ آمد اور علمائے کرام کو متحرک کرنے کے بہت جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور اس کمیٹی میں ملک بھر سے اقلیتوں کے نمائندوں کی شمولیت خوش آئند اقدام ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ پائیدار امن کے قیام اور دہشت گردی سے نمٹنے میں افواج پاکستان اور دیگر تمام سیکیورٹی اداروں کا اہم کردار ہے، اسلیے ضروری ہے کہ سیاسی اکابرین، جید علمائے کرام اور مشائخ عظام آگے آئیں اور عوام میں حب الوطنی، بھائی چارہ اور ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مولانا طاہر اشرفی کی قیادت میں نیشنل پیغام آمن کمیٹی (NPAC) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ دہشت گردی پورے خطے کیلئے ایک ناسور کی مانند ہے اور بلوچستان بھی پچھلے کئی سالوں میں بہت متاثر ہوا ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے. معاشرے کے ہر ذمہ دار شخص کو انسانی عظمت کا احترام، قومی یکجہتی اور امن کے قیام کے پیغامات کو ملک اور صوبہ کے تمام جوانوں اور دختران تک پہنچانا لازمی ہے۔ سردست فکری اور نظریاتی بنیادوں کا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ منبر اور محراب سے اٹھنے والی آواز بہت موثر رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وحدت فکر کے ذریعے ہی وحدت عمل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور اس ضمن میں متفقہ قومی بیانیہ کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔. ضرورت اس امر کی ہے کہ انتہا پسندی، تخریب کاری، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل جو قوم کو تقسیم در تقسیم کر رہے ہیں ان کا مکمل قلع قمع کیا جائے تاکہ فکری انتشار سے بچ کر قومی یکجہتی اور اتحاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ آخر میں ملک اور قوم کی سلامتی کیلئے خصوصی دعا کی۔

خبرنامہ نمبر1856/2026
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، ترقیاتی حکمتِ عملی اور جاری منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے چیئرمین پیپلزپارٹی کو صوبے میں جاری ترقیاتی اسکیموں، عوامی فلاحی منصوبوں اور امن و امان کی صورتحال پر جامع آگاہی دی انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت، مواصلات اور ساحلی پٹی کی ترقی سے متعلق اقدامات سے بھی آگاہ کیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں ترقی کے ثمرات پہنچانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے جبکہ شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ وسائل کا درست استعمال ممکن ہو سکے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے کی پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی پارٹی کی اولین ترجیح ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی سطح پر بھی بلوچستان کے مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر1857/2026
کوئٹہ، 03 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پسنی فش ہاربر کی بحالی اور فعالیت سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا، جس میں ہاربر کو مکمل طور پر فعال بنانے اور ماہی گیری کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، سیکرٹری فشریز طارق قمر سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ کو پسنی فش ہاربر کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور بحالی کے ممکنہ لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے ہاربر کو مکمل طور پر فعال اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع فزیبلٹی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ رپورٹ رواں سال مئی تک پیش کی جائے تاکہ منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے غیر قانونی ٹرالنگ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کیں کہ ماہی گیروں کے حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری وسائل کے تحفظ اور مقامی ماہی گیروں کے معاشی مفادات کا دفاع حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پسنی فش ہاربر کی بحالی سے نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے گوادر اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام اقدامات شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیے جائیں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے ساحلی علاقوں کی ترقی، ماہی گیری کے فروغ اور سمندری معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات جاری رکھے گی.

خبرنامہ نمبر1858/2026
لورالائی 3 مارچ :کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی ہدایات پر میونسپل کمیٹی لورالائی نے شہر بھر میں مختلف مین ہولز اور کھلے گٹروں کے ڈھکنوں کی مرمت کے لیے نئے سانچے تیار کر لیے ہیں۔یہ اقدام جاری سات روزہ صفائی مہم کے تسلسل میں شہریوں کو درپیش مسائل کے حل اور حادثات کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ میونسپل کمیٹی کو موصول ہونے والی شکایات کی روشنی میں آئندہ چند روز کے دوران مختلف علاقوں میں نئے ڈھکن نصب کر دیے جائیں گے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور شہر کو صاف ستھرا اور محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر1859/2026
ژوب: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) محکمہ تعلیم شیخ موسیٰ خان مندوخیل نے ڈسٹرکٹ مینیجر ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (ای ایس پی، یونیسیف) رازق جان کاکڑ، ڈی او ای وزیر خان ناصر، ڈی ڈی او تحصیل ژوب شیخ دولت خان مندوخیل، ڈی ڈی او کاکڑ خراسان نصراللہ کاکڑ، صدر جی ٹی اے مولانا مشہود شاہ اخوندزادہ، صدر ایپکا ملک صحبت خان مندوخیل اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی سال 2026ئ کے دوران مجموعی طور پر چھ ہزار سے زائد نئے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام کلسٹرز کی سطح پر داخلہ مہم چلائی جائے گی اور درسی کتب بھی تقسیم کی جائیں گی۔محکمہ تعلیم کے ضلعی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے موقع پر فوکل پرسن محکمہ تعلیم عبدالحنان حریفال، عجب خان کاکڑ، سید جہانگیر شاہ، عبدالستارمندوخیل، صحافی رفیع اللہ مندوخیل اور دیگر بھی موجود تھے۔ڈی ای او نے مزید کہا کہ آئندہ تعلیمی سال 2026ئ کے لیے ضلعی سطح پر مجموعی طور پر چھ ہزار چار سو پچاسی نئے بچے اور بچیوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کرایا جائے گا، جن میں تین ہزار آٹھ سو سینتالیس بچے اور دو ہزار چھ سو چھتیس بچیاں شامل ہیں۔ اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی کے لیے شہری علاقوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات (ماس اناؤنسمنٹس) کیے جائیں گے جبکہ مختلف علاقوں میں واک اور سیمینارز کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کے سربراہ نے ہر مکتب? فکر کے لوگوں سے اس داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کے سرکاری اسکولوں میں داخلے کو یقینی بنایا جائے۔ای ایس پی کوآرڈینیٹر رازق جان کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ تعلیم، ای ایس پی (یونیسیف)، جی ٹی اے، ایپکا اور سی پی ڈی کے اشتراک سے ضلعی سطح پر اسکول داخلہ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سال داخلہ مہم کا سلوگن “ہمارا خواب: ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب” رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحول کی نزاکت اور شجرکاری کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں چار ہزار درخت لگائے جائیں گے، جبکہ بائیس سو درخت تقسیم کیے جا چکے ہیں، تاکہ تمام اسکولوں میں شجرکاری کو فروغ دیا جا سکے۔ڈی او ای وزیر خان ناصر نے کہا کہ ایس بی کے اور کنٹریکٹ کے تحت اساتذہ کی بھرتی سے تقریباً تمام شہری و دیہی علاقوں کے اسکول فعال ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، تدریسی کتب بھی موصول ہو چکی ہیں جو رواں ہفتے ترسیل کی جائیں گی۔صدر ایپکا ملک صحبت خان مندوخیل اور مولانا مشہود شاہ اخوندزادہ نے والدین اور تمام مکاتبِ فکر کے افراد سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے محکمہ تعلیم سے تعاون کریں اور ہر بچے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔

خبرنامہ نمبر1860/2026
لورالائی 3مارچ : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان نے یونیسیف کے تعاون سے سال 2026کے تعلیمی سیشن کے لیے اسکول داخلہ مہم کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے اس سلسلے میں عوام،والدین اور میڈیا کو مہم کے خدوخیال سے آگاہ کرنے کے لئے ایک خصوصی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے پریس کانفرنس سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نور ولی کاکڑ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الحمید ابڑو ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر عبد الرازق،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر( فیمیل) فوزیہ درانی،منیجرایجوکیشن عبید ترین،کلسٹر ہیڈ عبد الرشید جوگیزئی نے آج ڈی سی آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داخلہ مہم 2026 کا باقاعدہ اعلان کیا جارہا ہے محکمہ تعلیم اور ایجوکیشن سپورٹ پروگرام یونیسیف کی جانب سے داخلہ مہم اکی ماہ تک جاری رکھا جائے گا تاکہ ضلع بھر میں پانچ سال سے زیادہ بچوں اور بچیوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانے جا سکے ضلع بھر کے اسکولوں میں محکمہ تعلیم کی جانب سے اس سال ضلع لورالائی کے 5632نئے بچوں اور بچیوں کو سکول میں داخل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے سکول داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کیلئے PTSMC،صحافی حضرت ،علمائکرام سیاسی وسماجی تنظیمیں اور ہر مکتب فکر کے افراد کی تعاون درکار ہوگی لہذا تمام سے تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہیں محکمہ تعلیم اور ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کی جانب سے مختلف پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں اس سلسلے مےں ضلعی سطح پر واک اور سیمینارز تحصیل اور کلیسٹر لیول اور گاؤں میں شعور اگائی کے لیے واک کا اہتمام کیا جائے گا اس کے علاوہ کمیونٹی میٹنگز،لاوڈ سپیکر اعلانات اور دیگر تقریبات بھی منعقد کئے جائیں گے تاکہ والدین اپنے پانچ سال کے بچوں کو سکولوں میں داخل کروائیں اور تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل پاسکیں اس کے علاوہ داخلہ لینے والے تمام نئے طلبائ کو حکومت بلوچستان کی جانب مفت کتابیں اور تعلیمی کٹس فراہم کی جائیں گی مہم کے دوران اساتذہ اور سماجی کارکنان گھر گھر جاکر والدین کو تعلیم کی اہمیت روشناس کروائیں گے تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اس مہم کے ذریعے ہم نہ صرف نئے داخلوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں بلکہ اسکول چھوڑ جانے والے بچوں(Drop-outs)کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں لانے کے بھی عزم ہیں ہم میڈیا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس قومی مقصد میں ہمارا ساتھ بعد ازیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نور علی کاکڑ ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الحمید ابڑو،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) فوزیہ درانی ایجوکیشن منیجر عبید ترین ودیگر نے گورنمنٹ ہائی اسکول کینٹ میں درخت لگا کر شجر کاری مہم میں حصہ لیا

خبرنامہ نمبر1861/2026
لورالائی3مارچ 2026وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ترقیاتی عمل تیزی سے جاری ہیں جو کہ عوامی مفاد ہیں اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کی اسکیموں کے تحت ڈبل اسٹوری ڈیجیٹل لائبریری و ویمن جمنازیم کا باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھ دیا۔ یہ منصوبہ ضلع کی خواتین کیلئے ایک اہم سنگِ میل اور گیم چینجر ثابت ہوگا۔سنگِ بنیاد کی تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم بھی ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ موجود تھے، جبکہ ضلعی افسران، بلدیاتی نمائندگان اور مقامی معززین نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی اور تعمیراتی معیار و مدت تکمیل کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل لائبریری کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس منصوبے کے تحت خواتین اور طالبات کو جدید آئی ٹی سہولیات، آن لائن تعلیمی مواد، ای لائبریری سسٹم، ریسرچ کارنر اور پرسکون مطالعہ ماحول میسر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ویمن جمنازیم کا قیام خواتین کو صحت مند اور متحرک طرزِ زندگی اپنانے کا محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرے گا۔ جمنازیم میں جدید فٹنس آلات اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ خواتین جسمانی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے سکیں۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ منصوبے کی شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ لورالائی میں خواتین کی تعلیمی و سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔عوامی حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ ضلع میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

خبرنامہ نمبر1862/2026
لورالائی 03مارچ:سوشل ویلفیئر لورالائی میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ اس مہم کا مقصد لورالائی میں ماحولیاتی بہتری، صاف اور صحت مند فضا کی فراہمی، اور عوام میں درختوں کی اہمیت سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر عالم لوون، اسسٹنٹ ڈائریکٹر حبیب اللہ ناصر اور سوشل ویلفیئر کے اسٹاف نے بھرپور شرکت کی اور مختلف اقسام کے پودے لگائے۔ شرکائ کا کہنا تھا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اور یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔شجرکاری مہم کے اہم مقاصد میں ماحول کو آلودگی سے پاک بنانا، گرمی کی شدت میں کمی لانا، عوام میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنا اور ڈائریکٹوریٹ آفس سمیت تمام دفاتر کو سرسبز و شاداب بنانا شامل ہے۔اس موقع پر سوشل ویلفیئر لورالائی کے تمام عملے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شجرکاری مہم کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا اور مزید پودے لگا کر لورالائی ڈویژن کو سرسبز و شاداب بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ تمام پودے اسسٹنٹ ڈائریکٹر حبیب اللہ ناصر نے اپنی جانب سے عطیہ کیے۔

خبرنامہ نمبر1863/2026
لورالائی 3 مارچ ۔2026 وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے شہر میں گراں فروشوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی مختلف ٹیموں نے شہر بھر میں 50 دکانوں کا معائنہ کیا اور خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے مختلف دوکاندار کو جرمانہاور کئی دکانوں کو سیل بھی کئے گئے تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی نگرانی میں تمام اسسٹنٹ کمشنربوری ندیم اکرم اور اسپیشل مجسٹریٹس کارروائیوں میں شریک ہیں اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر لورالائی نے اسسٹنٹ کمشنر بوری کو ہدایت دی کہ وہ، مختلف اسٹالز کا معائنہ کریں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور معیار کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مقررہ نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں عوامی ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ماہِ صیام کے دوران عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو ضروری اشیائ مناسب قیمتوں پر دستیاب رہیں۔

خبرنامہ نمبر1864/2026
بارکھان03 مارچ:اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر کی قیادت میں پاک فوج کے حق میں ایک پُرجوش ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا آغاز ڈی سی کمپلکس بارکھان سے ہوا جس میں تمام ضلعی افسران، مختلف محکموں کے نمائندگان اور اسکولوں کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ریلی کے شرکائ نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاک فوج ملک کی سلامتی اور دفاع کی ضامن ہے اور پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی استحکام اور امن و امان کے قیام میں پاک فوج کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کو بھی فروغ دیں۔ریلی پرامن طریقے سے اپنے مقررہ راستوں سے ہوتی ہوئی اختتام پذیر ہوئی۔

خبرنامہ نمبر1865/2026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے صوبے میں خدمات فراہم کرنے والے سافٹ ویئر اور آئی ٹی بیسڈ سسٹم ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور ٹیکس قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔اتھارٹی کے مطابق بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) ایکٹ 2015 کے تحت سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، آئی ٹی سسٹمز کی تیاری، ڈیجیٹل سلوشنز اور متعلقہ کنسلٹنسی خدمات پر 2 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ بی آر اے نے آئی ٹی شعبے سے وابستہ ماہرین اور کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ کاروباری سرگرمیوں کو قانونی دائرہ کار میں لاتے ہوئے بروقت رجسٹریشن اور ٹیکس ریٹرن فائلنگ کو یقینی بنائیں۔بی آر اے صوبے میں ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی بنانے اور رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کے فروغ کیلئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں آئی ٹی سیکٹر کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ نوجوان آئی ٹی پروفیشنلز اور سافٹ ویئر ہاؤسز کو آسان اور شفاف ٹیکس نظام فراہم کیا جا سکے۔اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ رضاکارانہ رجسٹریشن نہ صرف قانونی تقاضوں کی تکمیل ہے بلکہ اس سے کاروباری اعتماد میں اضافہ اور صوبے کی معاشی ترقی میں بھی مدد ملتی ہے۔ بی آر اے نے تمام آئی ٹی کنسلٹنٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کو یقینی بنا کر قومی ذمہ داری ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر1866/2026
لورالائی03مارچ:سوشل ویلفیئر لورالائی میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ اس مہم کا مقصد لورالائی میں ماحولیاتی بہتری، صاف اور صحت مند فضا کی فراہمی، اور عوام میں درختوں کی اہمیت سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر عالم لوون، اسسٹنٹ ڈائریکٹر حبیب اللہ ناصر اور سوشل ویلفیئر کے اسٹاف نے بھرپور شرکت کی اور مختلف اقسام کے پودے لگائے۔ شرکائ کا کہنا تھا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اور یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔شجرکاری مہم کے اہم مقاصد میں ماحول کو آلودگی سے پاک بنانا، گرمی کی شدت میں کمی لانا، عوام میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنا اور ڈائریکٹوریٹ آفس سمیت تمام دفاتر کو سرسبز و شاداب بنانا شامل ہے۔اس موقع پر سوشل ویلفیئر لورالائی کے تمام عملے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شجرکاری مہم کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا اور مزید پودے لگا کر لورالائی ڈویژن کو سرسبز و شاداب بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ تمام پودے اسسٹنٹ ڈائریکٹر حبیب اللہ ناصر نے اپنی جانب سے عطیہ کیے۔

خبرنامہ نمبر1867/2026
بارکھان 03مارچ :اسسٹنٹ کمشنر بارکھان خادم حسین بھنگر کی قیادت میں پاک فوج کے حق میں ایک پُرجوش ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا آغاز ڈی سی کمپلکس بارکھان سے ہوا، جس میں تمام ضلعی افسران، مختلف محکموں کے نمائندگان اور اسکولوں کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ریلی کے شرکائ قومی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور پاک فوج کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج ملک کی سلامتی اور دفاع کی ضامن ہے اور پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی استحکام اور امن و امان کے قیام میں پاک فوج کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کو بھی فروغ دیں۔ریلی پرامن طریقے سے اپنے مقررہ راستوں سے گزرتی ہوئی اختتام پذیر ہوئی۔

خبرنامہ نمبر1868/2026
عبداللہ کھوسہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تعلیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر بوائز سکولز طارق محمود کھیتران، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر گرلز سکولز مس شبانہ علی، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر ایمل خان اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم محمد نسیم کھیتران سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں بند سکولوں کو فوری طور پر فعال بنانے، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایات جاری کیں کہ اساتذہ کے تبادلے ڈی ای جی میٹنگ کی منظوری کے بعد ہی عمل میں لائے جائیں گے تاکہ نظام تعلیم میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔مزید برآں داخلہ مہم کو مؤثر بنانے، سکولوں میں حاضری یقینی بنانے اور تعلیمی معیار کو بہتر کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیں اور ضلع میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کریں۔

خبرنامہ نمبر1869/2026
لورالائی 3مارچ 2026 وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت نوجوانوں کو صحت اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے سلسلے میں یومِ پاکستان 23 مارچ کی مناسبت سے جاری رمضان سپورٹس فیسٹیول 2026 کے سلسلے میں آج سرکاری باغ فٹسال گراؤنڈ میں فٹسال کے سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلے منعقد ہوئے۔ اس فیسٹیول میں ضلع بھر سے آٹھ مختلف ٹیموں نے شرکت کی اور نوجوان کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے شائقین سے خوب داد سمیٹی۔پہلا میچ یوتھ افغان فٹبال کلب اور بولان فٹبال کلب کے درمیان کھیلا گیا۔ میچ کے آغاز ہی سے دونوں ٹیموں نے جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی، تاہم یوتھ افغان فٹبال کلب کے کھلاڑیوں نے شاندار ٹیم ورک اور بہترین اسٹرائیکنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین گول اسکور کیے اور واضح برتری کے ساتھ میچ اپنے نام کر لیا۔ بولان فٹبال کلب نے بھی بھرپور مقابلہ کیا مگر کامیابی حاصل نہ کر سکی۔دوسرا میچ نیو ناصر آباد فٹبال کلب اور سوشل ویلفیئر فٹبال کلب کے مابین منعقد ہوا۔ یہ مقابلہ نہایت سنسنی خیز رہا اور دونوں ٹیموں نے دفاعی و حملہ آور کھیل کا عمدہ مظاہرہ کیا۔ آخر کار نیو ناصر آباد فٹبال کلب نے ایک گول کی برتری حاصل کر کے میچ جیت لیا۔ اس میچ میں کھلاڑیوں کی اسپورٹس مین اسپرٹ قابلِ ستائش رہی۔تیسرا میچ سپر ملیزئی فٹبال کلب اور ڈیسڈ اکیڈمی فٹبال کلب لورالائی کے درمیان کھیلا گیا، جس میں نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار کھیل پیش کیا۔ تیز رفتار پاسنگ، بہترین دفاع اور جارحانہ حملوں نے شائقین کو خوب محظوظ کیا۔ میچ کے دوران کھلاڑیوں نے نظم و ضبط اور کھیل کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا۔واضح رہے کہ 23 مارچ رمضان سپورٹس فیسٹیول 2026 میں فٹبال اور کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیل بھی شامل ہیں تاکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ یہ فیسٹیول نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، بھائی چارے اور صحت مند معاشرے کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔فیسٹیول کی نگرانی ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس نصیب اللہ کاکڑ اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر ظہیر احمد کر رہے ہیں، جو مقابلوں کے شفاف اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ ضلعی عوام اور کھیلوں کے شائقین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ بھی ایسے پروگرامز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ لورالائی کے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔

خبرنامہ نمبر1870/2026
جعفرآباد۔ضلع جعفرآباد میں جہالت کی تاریکی کے خاتمے اور شرح خواندگی میں اضافے کے لیے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں اسکول داخلہ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفرآباد عائشہ بگٹی کے ہمراہ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں ایسے بچوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو تاحال اسکولوں سے باہر ہیں اور انہیں فوری طور پر تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ضلع جعفر آباد میں 5637 بچے اور بچیوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے جس میں 2170 بچیاں جبکہ 3466 بچے ہیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم مشترکہ حکمت عملی کے تحت گھر گھر رابطہ مہم چلائیں گے اور والدین سے قریبی روابط استوار کر کے انہیں اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے کی ترغیب دی جائے گی تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی ستون ہے جس کی بدولت ترقی اور خوشحالی کا سفر ممکن بنایا جا سکتا ہے اور ضلع جعفرآباد کو جہالت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے جبکہ ضلعی سطح پر اس مہم کی خود نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ خاطر خواہ نتائج حاصل کیے جا سکیں اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے بتایا کہ داخلہ مہم کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری مہم کو بھی تیز کیا جا رہا ہے اس حوالے سے ضلع بھر میں 5 ہزار کے قریب پودے مختلف اسکول کے بچوں اور بچیوں کے نام سے منسوب لگائے جائیں گےاس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی بھی موجود تھے۔

خبرنامہ نمبر1871/2026
نصیرآباد03مارچ:ماہِ رمضان المبارک میں صحت مندانہ سرگرمیوں کے فروغ کے لیے وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر بیسٹ آف رمضان کپ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ ٹورنامنٹ آفیسر کلب ڈیرہ مراد جمالی میں جاری ہے جس میں افسران کی مختلف ٹیمیں بھرپور انداز میں حصہ لے رہی ہیں۔ ٹورنامنٹ چار کیٹیگریز پر مشتمل ہے جن میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی ٹیم، ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی ٹیم سمیت دیگر افسران پر مشتمل ٹیمیں شامل ہیں۔ مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا جبکہ فائنل میچ جمعہ کے روز کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کے موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی، ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار اور دیگر افسران نے شرکت کی، گروپ فوٹوز بنوائیں اور اس صحت مند سرگرمی کے انعقاد کو سراہا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ماہِ رمضان میں ایسی مثبت اور صحت بخش سرگرمیاں نہ صرف افسران میں باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں بلکہ جسمانی فٹنس اور ذہنی تازگی کا بھی باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افسران کو صحت مندانہ سرگرمیوں کا پلیٹ فارم فراہم کرنا قابلِ ستائش اقدام ہے جس سے کھیلوں کے فروغ اور مثبت ماحول کے قیام میں مدد ملے گی۔

خبرنامہ نمبر1872/2026
کوہلو میں ڈپٹی کمشنر عظیم جان دومڑ کی سربراہی میں پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلئے ڈی سی آفس سے ریلی نکالی گئی ریلی مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے کوہلو پنجاب شاہراہ پر پہنچ گئی جہاں ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ ، وڈیرہ ربنواز و دیگر قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی استحکام اور امن و امان کے قیام میں پاک فوج کی قربانیاں ناقابل ستائش ہیں پاک فوج نے حالیہ افغان وار میں ملک دشمن عناصر کو منہ توڑ جواب دیا ہے ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی ادارے متحرک ہیں جبکہ افغان جنگ اور خطے میں کشیدگی کے خلاف حکومتی سطح پر واضح مؤقف اختیار کیا گیا ہے ملک کے استحکام اور خوشحالی کیلئے پوری عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ضرورت ہوئی تو ملک کے بقا کیلئے قوم فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہوگی اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا ریلی میں اسسٹنٹ کمشنر کبیر مزاری، وڈیر ربنواز ژنگ، ،ایم ایم ڈی آفیسر غلام قادر مری،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفر زرکون سمیت مختلف محکموں کے ضلعی آفیسروں سمیت سول سوسائٹی اور طلبہ نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ہے ۔۔

خبرنامہ نمبر1873/2026
گوادر/پسنی: وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔ اسی تسلسل میں اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی رہنمائی میں پرائس کنٹرول کمیٹی کی ٹیم نے رمضان پیکج بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران اشیائے خوردونوش کی دستیابی، معیار اور سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ٹیم نے مختلف اسٹالز اور دکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ ذخیرہ اندوزی، گرانفروشی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائس کنٹرول میکانزم کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گرانفروشی یا کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی صورت میں فوری طور پر انتظامیہ کو مطلع کریں تاکہ بروقت کارروائی کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف قانونی اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر1874/2026
نصیر آباد۔۔ضلع نصیرآباد میں میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ طبی خدمات کی جانچ پڑتال کے لیے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنرز یو ٹی محمد طحہٰ اور نائرا نور شاہوانی نے سول ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر انہوں نے چلڈرن وارڈ، میل وارڈ، فیمیل وارڈ، گائنی، ڈینٹل یونٹ اور پی ڈی نرسری سمیت مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنی جائے تعیناتی پر موجود ہیں جبکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو دستیاب وسائل کے تحت ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اسسٹنٹ کمشنرز یو ٹی محمد طحہٰ اور نائرا نور شاہوانی نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، ہم سب بطور سرکاری نمائندہ عوام کی خدمت پر مامور ہیں اور اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے بہتر انداز میں فرائض انجام دے کر عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے۔

خبرنامہ نمبر1875/2026
کوئٹہ، 03 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں پائیدار امن، بین المسالک ہم آہنگی اور ترقی کے تسلسل کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے تمام مکاتبِ فکر اور طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں نیشنل پیغامِ امن کمیٹی میں شامل جید مذہبی اسکالرز اور علمائے کرام کے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزرائ اور اراکین بلوچستان اسمبلی بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علمائے کرام معاشرے میں اعتدال، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی مثبت رہنمائی سے نوجوان نسل کو انتہاپسندی اور تفرقہ بازی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پیغامِ امن کمیٹی قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر فورم ثابت ہو رہی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان المبارک ہمیں صبر، تحمل اور ایثار کا درس دیتا ہے، اور انہی اقدار کو اپناتے ہوئے معاشرے میں امن و محبت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت علمائ کرام کی مشاورت اور تجاویز کو پالیسی سازی میں اہمیت دے گی اس موقع پر ملکی سلامتی، صوبے کے استحکام اور عوام کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

خبرنامہ نمبر1876/2026
تربت: 3 فروری : ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے چیئرمین میونسپل کمیٹی تمپ امین قریش اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی تمپ عبدالستار کہدا نے ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں ملاقات کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر تمپ شیہک حیات کے علاوہ میونسپل کمیٹی تمپ کے کونسلران بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران چیئرمین میونسپل کمیٹی تمپ امین قریش نے مطالبہ کیا کہ جس طرح تربت شہر اور ضلع کیچ کے ملحقہ علاقوں میں رمضان ریلیف پیکیج کے تحت راشن تقسیم کیا جا رہا ہے، اسی طرح تحصیل تمپ کے علاقوں میں بھی راشن کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ ماہِ رمضان المبارک میں وہاں کے مستحق اور نادار خاندانوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ضلع کیچ سمیت صوبے بھر میں راشن کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں تربت شہر اور ضلع کیچ کے مضافاتی علاقوں میں راشن تقسیم کیا جا چکا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں تمپ، دشت، بلیدہ اور دیگر علاقوں میں بھی راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے چیئرمین میونسپل کمیٹی تمپ کو یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی راشن کی دوسری کھیپ ضلع کیچ پہنچے گی، اسسٹنٹ کمشنر تمپ شیہک حیات کی سربراہی میں تحصیل تمپ کے مستحق خاندانوں میں شفاف اور منظم انداز میں تقسیم کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔آخر میں چیئرمین میونسپل کمیٹی تمپ امین قریش نے ڈپٹی کمشنر کیچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تحصیل تمپ کے عوام کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور جلد ہی وہاں کے غریب و مستحق خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر1877/2026
زیارت 03مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق زیارت میں شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے ڈپٹی کمشنر آفس میں پودا لگایا اس موقع پر ڈپٹی کنزرویٹر فاریسٹ حسیب کاکڑبھی موجود تھےڈسٹرکٹ زیارت میں شجر کاری مہم کے دوران پچیس ہزار درخت لگائیں جائیں گے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ ہر شہری ایک ایک درخت لگاکر شجر کاری مہم میں ضرور حصہ لیں اور شجر کاری مہم کو کامیاب بنائیں تمام سرکاری دفاتر،اسکولوں اور کالجوں میں درخت لگاکر مون سون شجر کاری مہم کو کامیاب بنائیں انہوں نے کہا کہ درخت زمین کا زیور ہیں درخت زمین کو کٹاؤ سے روکتے ہیں زمین کی دلکشی میں اضافہ کرتے ہیں ماحول پر خوش گوار اثرات مرتب کرتے ہیں درختوں کی حفاظت کرکے ہم ملک کو جنت النظیر ملک بنا سکتے ہیں ،

خبرنامہ نمبر1878/2026
کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں خالی آسامیوں پر مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے تحت تعیناتیاں، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، مختلف فورمز پر عوامی شکایات کا ازالہ، گوگل ورک سپیس، دفاتر میں آفیسران و عملے کی حاضری کو یقینی بنانا اور عوام کی معیار زندگی کو مزید بہتر کرنے کے لیے اقدامات پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعیناتیوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس میں میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیوں کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مخلص، محنتی اور اہل افراد کو عہدوں پر لانا ہے تاکہ عوامی خدمات میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکموں میں آنے والی خالی آسامیوں پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تقرریوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تقرریوں کا یہ دو سے تین مہینوں کے دوران مکمل کئے جائیں تاکہ نوجوانوں کی میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیاں ممکن ہو۔ اجلاس کو خالی آسامیوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 14 ہزار اُمیدواروں کو تقرری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ وقت پر تکمیل کو یقینی بنائیں جن سے عوام کی معیار زندگی بہتر ہو جائے گی۔ انہوں نے سیکرٹریٹ اور لائن ڈیپارٹمنٹس میں آفیسران اور عملے کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئیں۔ اجلاس کو اس موقع پر بتایا گیا کہ آفیسران کی حاضری میں کافی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے تمام سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ فائل ٹریکنگ سسٹم اور پاکستان سٹیزن پورٹل پر عوام کی جانب سے درج شکایات کو فوری طور پر حل کرنے پر خصوصی توجہ دیں اور جو کیسز پینڈنگ یا اوور ڈیو ہیں ان کو بھی جلد ازجلد حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پچھلے مالی سال کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس دفعہ زیادہ منصوبہ بندی اور شفافیت کے ساتھ پی ایس ڈی پی کی تیاری کرنے کا عزم کیا ہے، تاکہ قومی ترقی کے اہداف کی تکمیل میں کردار ادا کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1879/2026
تربت ۔ 3 فروری :اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر کے ہمراہ ذکری کمیونٹی کے مذہبی مقام زیارت شریف کوہ مراد کا دورہ کیا ۔اس دوران انہوں نے صحت و صفائی اور طبی سہولیات سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی مرتضیٰ بلوچ اور ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر رؤف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وفد نے کوہ مراد زیارت کمیٹی کے ہمراہ وہاں پر واقع بنیادی مرکز صحت سمیت مختلف مقامات کا معائنہ کرتے ہوئے مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا خصوصاً آخری عشرے کے دوران زائرین کی متوقع آمد کے پیش نظر میڈیکل انتظامات، صفائی ستھرائی، بازاروں اور دیگر مقامات پر سہولیات کا معائنہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر تربت نے زیارت کمیٹی کی سفارشات اور تحفظات سنے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ چیف آفیسر شعیب ناصر نے بھی زیارت کے دوران کوہ مراد پر صفائی، پانی کی فراہمی اور دیگر ضروری انتظامی امور بروقت نمٹانے کا عزم ظاہر کیا۔انتظامیہ نے اس موقع پر کہا کہ زائرین کو سہولیات کی فراہمی اور بہتر انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر1880/2026
سبی 3 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق مستحق اور محنت کش طبقے کو رمضان المبارک میں ریلیف فراہم کرنے کے سلسلے میں حکومت بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر گزشتہ شب پردہ کلب سبی میں مستحقین میں راشن تقسیم کیا گیا۔ راشن کی تقسیم ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی سربراہی اور اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر یوٹی ڈاکٹر میر حمزہ لاشاری، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی انضمام قاسم اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ پردہ کلب میں دہپال، کڑک، مرغزانی، مل گشکوری اور میونسپل کمیٹی سبی کے دیگر وارڈز سے تعلق رکھنے والے مستحقین کو باقاعدہ سروے اور جانچ پڑتال کے بعد راشن فراہم کیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے تقسیم کے عمل کو منظم اور شفاف بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے تاکہ حقیقی حقداروں تک امداد بروقت پہنچ سکے۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق عوامی خدمت کے مشن پر عمل پیرا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ رمضان المبارک میں کوئی بھی مستحق خاندان ریلیف سے محروم نہ رہے۔ مستحقین نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سبی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر1881/2026
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات سے علامہ طاہر اشرفی کی سربراہی میں نیشنل پیغام پاکستان آمن کمیٹی کے علمائے کرام کے ایک وفد نے کوئٹہ میں انکے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کیئے گئے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے وفد کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے امن وامان, تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں نمایاں اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مسلسل کوششوں سے بلوچستان بھر میں تین ہزار سے زائد بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے، جہاں اب ان اسکولوں میں دو لاکھ بچوں کے داخلے کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔ ان اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ پر کی گئی ہے، جبکہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔تعلیمی شعبے میں دیگر اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محنت کش طبقے کے دو ہزار افراد کے بچوں کو اسلام آباد اور لاہور کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، تاکہ وہ بہتر تعلیمی مواقع سے استفادہ کر سکیں۔شعبہ صحت کے متعلق حمزہ شفقات نے کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں بیسک ہیلتھ یونٹس (بی ایچ یو) قائم کیے گئے ہیں، جہاں عوام کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں اور ضلعی سطح پر انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور انہیں خوشحالی اور استحکام پر مبنی ماحول فراہم کیا جا سکے۔وفد نے صوبائی حکومت کی ان کوششوں کو سراہا اور بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

خبرنامہ نمبر1882/2026
ضلع ہرنائی میں داخلہ مہم 2026ئ کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر غلام حیدر ترین نے ایک پروقار پریس کانفرنس کا انعقاد کیا ۔ جس میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن، سیول سوسائٹی، اساتذہ، والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تمام معزز شرکائ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا گیا اور تعلیم کے فروغ کے لیے اجتماعی کاوشوں کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو نزدیکی سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں، کیونکہ تعلیم کو زندگی کا حقیقی زیور قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کی ضامن ہے۔رواں سال داخلہ مہم کے تحت نئے طلبہ کے لیے 2609 کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سیول سوسائٹی، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی گئی کہ وہ بڑھ چڑھ کر مہم میں حصہ لیں اور زیادہ سے زیادہ بچوں کے داخلے کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔مقررین نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور میڈیا پرسنز کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کریں تاکہ تعلیم کی اہمیت ہر گھر تک پہنچ سکے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا۔کہ مشترکہ کوششوں سے داخلہ مہم کو کامیاب بنایا جائے گا اور کوئی بھی بچہ تعلیم جیسی بنیادی نعمت سے محروم نہیں رہے گا۔

خبرنامہ نمبر1883/2026
چمن 3 مارچ :نئے تعلیمی سال کے آغاز سے ضلع بھر میں 200 سے زائد سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا گیا جبکہ تعلیمی سال 2026 کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔آج ڈپٹی کمشنرحبیب احمد بنگلزئی اور ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر عبدالقدوس اچکزئی نے ڈی سی کمپلیکس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ داخلہ مہم کا بنیادی مقصد ضلع چمن میں شرحِ خواندگی میں نمایاں اضافہ کرنا اور چمن کے زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانا مقصود ہے تاکہ وہ بچے جو سکولوں سے باہر ہیں اور اصول تعلیم سے دور ہوں انھیں علم کے زیور سے آراستہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت چمن چار ہزار سے زائد بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ ہر بچے کو تعلیم کے قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ داخلہ مہم بھرپور انداز میں جاری ہے، جبکہ سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے والے طلبہ کو مفت درسی کتب کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا جائے گا تاکہ طلبہ میں ماحولیاتی شعور کو فروغ دیا جا سکے اور تعلیمی اداروں کو سرسبز بنایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے قریبی سرکاری یا نجی تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو داخلہ دلوائیں تاکہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کرکے انکی پرورش کریں اور اپنے بچوں کو اندھیروں سے نکال کر کے انھیں علم وادب کی روشنیوں سے منور کرنے میں کامیاب وسرخرو ہوں پریس کانفرنس کے دوران محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کے آفیسران بھی موجود تھے.

خبرنامہ نمبر1884/2026
گوادر، 3 مارچ: وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل معین الرحمٰن خان کی زیر صدارت گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کی مائیکرو پلاننگ اور لینڈ یوز سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف انجینیئر جی ڈی اے حاجی سید محمد اور ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں گوادر کو وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق ایک جدید، منظم اور پائیدار بندرگاہی شہر کے طور پر ترقی دینے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جی ڈی اے کی نئی منصوبہ بندی 14 نیبر ہڈز (ٹاؤنز) پر مشتمل ہوگی، جنہیں مرحلہ وار بنیادوں پر ڈویلپ کیا جائے گا تاکہ شہری توسیع کو منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ماسٹر پلان کے تحت رہائشی، تجارتی، مخلوط استعمال، سڑکوں کے جال اور عوامی سہولیات کے لیے باقاعدہ اور متوازن انداز میں اراضی مختص کی گئی ہے۔ اس موقع پر ماسٹر پلان پر مؤثر عملدرآمد کے لیے پانچ مختلف ماڈلز پیش کیے گئے، جن میں لینڈ ایکوزیشن و معاوضہ، لینڈ پولنگ اینڈ شیئرنگ، لینڈ پرووائیڈر شراکت داری، لینڈ ڈویلپمنٹ کولابریشن اور نجی اسکیمز فریم ورک شامل ہیں، تاکہ ترقیاتی عمل کو تیز، شفاف اور سرمایہ کار دوست بنایا جا سکے۔ڈائریکٹر جنرل معین الرحمٰن خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مائیکرو پلاننگ کے مؤثر نفاذ کے لیے نجی شعبے کی شراکت داری کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی ڈی اے بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک جدید، اسمارٹ اور پائیدار پورٹ سٹی کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو محفوظ اور منافع بخش مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، خصوصاً رئیل اسٹیٹ، سیاحت اور تجارت کے شعبوں میں اعتماد کی فضا کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے تاکہ گوادر کی معاشی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جی ڈی اے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر گوادر کی ہمہ جہت ترقی کے سفر کو مزید تیز کرے گی اور شہر کو قومی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر1885/2026
گوادر، 3 مارچ: وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ساحلی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور بلیو اکانومی کے فروغ کے سلسلے میں اہم پیش رفت جاری ہے۔ اسی تناظر میں گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل معین الرحمٰن خان سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشینوگرافی کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر نعمت اللہ سہو نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران سمندری ماحول کے تحفظ، مچھلیوں کی پائیدار افزائش (Sustainable Fisheries)، ساحلی وسائل کے مؤثر استعمال اور گوادر میں بلیو اکانومی کے فروغ کے حوالے سے جامع حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈی جی این آئی او نے حکومتِ پاکستان کے قومی ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوادر میں جدید ترین اسٹیٹ آف دی آرٹ میرین سائنس لیبارٹری تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، جس کے فعال ہونے سے میرین ریسرچ، سائنسی تجزیے اور پالیسی سازی کو تقویت ملے گی اور ساحلی معیشت کو مستحکم بنیادیں فراہم ہوں گی۔انہوں نے پشکان جیٹی کی بحالی اور مؤثر فعالیت کے لیے ادارہ جاتی مہارت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی تاکہ ماہی گیری کے شعبے کو جدید سہولیات میسر آئیں اور ساحلی سرگرمیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے این آئی او کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے گوادر کو ایک جدید، ماحول دوست اور معاشی طور پر مضبوط ساحلی شہر کے طور پر ترقی دی جائے گا۔ انہوں نے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ساحلی وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

خبرنامہ نمبر1886/2026
ڈپٹی کمشنر کچھی کی ہدایت پر ڈی سی آفس ڈھاڈر میں پاک فوج کے حق میں ایک بھرپور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ریلی میں ضلعی و سول افسران، مختلف محکموں کے ملازمین، اقلیتی برادری کے نمائندگان اور مختلف سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ریلی کا مقصد وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے پاک فوج کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کرنا تھا۔شرکائ نے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ملک سے محبت اور افواجِ پاکستان سے وابستگی کا اظہار کیا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے اور ہر مشکل گھڑی میں قوم کی امیدوں کا مرکز رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع اور امن و امان کے قیام میں افواجِ پاکستان کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔خطاب کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر قسم کی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہے۔شرکائ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کیا جائے گا۔آخر میں ریلی کے شرکائ پرامن طور پر منتشر ہوگئے جبکہ اس موقع پر سیکیورٹی کے مناسب انتظامات بھی کیے گئے تھے۔

خبرنامہ نمبر1887/2026
بارکھان03 مارچ:محکمہ تعلیم بارکھان نے کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے 8 اساتذہ کو مسلسل غیر حاضری اور فرائض میں غفلت برتنے پر ملازمت سے برخاست کر دیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بارکھان نوید لطیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ اساتذہ سال 2025 کے دوران طویل عرصہ تک بغیر اطلاع ڈیوٹی سے غائب رہے، جو کہ سرکاری ملازمت کے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بارہا تنبیہ کے باوجود انہوں نے نہ حاضری یقینی بنائی اور نہ ہی تسلی بخش جواب جمع کرایا، جس پر محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر برطرف کر دیا گیا۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ سرکاری تنخواہیں لینے کے باوجود ڈیوٹی سے غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تعلیم جیسے حساس شعبے میں لاپرواہی ناقابل قبول ہے اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت ترین اقدامات جاری رہیں گے۔ محکمہ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ بھی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر1888/2026
سبی 3 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق مستحق اور محنت کش طبقے کو رمضان المبارک میں ریلیف فراہم کرنے کے سلسلے میں حکومت بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر گزشتہ شب پردہ کلب سبی میں مستحقین میں راشن تقسیم کیا گیا۔ راشن کی تقسیم ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی سربراہی اور اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر یوٹی ڈاکٹر میر حمزہ لاشاری، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی انضمام قاسم اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ پردہ کلب میں دہپال، کڑک، مرغزانی، مل گشکوری اور میونسپل کمیٹی سبی کے دیگر وارڈز سے تعلق رکھنے والے مستحقین کو باقاعدہ سروے اور جانچ پڑتال کے بعد راشن فراہم کیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے تقسیم کے عمل کو منظم اور شفاف بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے تاکہ حقیقی حقداروں تک امداد بروقت پہنچ سکے۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق عوامی خدمت کے مشن پر عمل پیرا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ رمضان المبارک میں کوئی بھی مستحق خاندان ریلیف سے محروم نہ رہے۔ مستحقین نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سبی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر1889/2026
کوئٹہ- 03مارچ:سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیر صدارت محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمے کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ اسٹاف نے شرکت کیا اجلاس کا مقصد حالیہ سیکرٹریز کمیٹی اجلاس میں محکمہ کی کارکردگی کے حوالے سے چیف سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کا جائزہ لینا تھااجلاس کے دوران محکمہ کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں، فنڈز کے استعمال، منصوبوں کی بروقت تکمیل ای فاہلنگ سسٹم ایف ٹی ایس اور دیگر درپیش انتظامی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیاسیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے افسران کو ہدایت دی کہ جہاں جہاں بھی کارکردگی میں کمی یا سستی پائی گئی ہے، اسے ہنگامی بنیادوں پر دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مفاد کے منصوبوں اور انتظامی امورکو مقررہ مدت میں مکمل کرے سیکٹری مواصلات و تعمیرات نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ڈویژنل اور ضلعی افسران اپنی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنائیں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ شفافیت، رفتار اور معیار کو یقینی بنانا ہی محکمے کی ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گا اور چیف سیکرٹری کی ہدایات پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ آئندہ جائزہ اجلاس میں مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔

خبرنامہ نمبر1890/2026
چمن 3 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو ریلیف کی فراہمی اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ چمن پوری طرح متحرک ہے۔اس سلسلے میں اے سی چمن سیٹی عزیز اللہ کاکڑ نے چمن شہر کے مختلف بازاروں اور مارکیٹوں میں اشیائ خوردونوش کی قیمتیں معیار صفائی ستھرائی اور ایس او پیز اور سیفٹی پریکاشنز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا اس موقع پر انہوں نے متعدد دکانوں کو گرانفروشی اور ایس او پیز اور سیفٹی پریکاشنز پر عمل درآمد نہ کرنے پر نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ کہیں دکانوں پر جرمانے عائد کیے گئے اور چار دکانوں کو سیل کر دیے گئے۔اے سی چمن نے واضح کیا ہے کہ گرانفروشی کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور کہا کہ شہری سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کی اطلاع فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو دیں۔ تاکہ بروقت اور پوری طور کاروائی کی جائے۔

خبرنامہ نمبر1891/2026
چمن 3 مارچ :ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں ہیڈکوارٹر چمن اسکاو?ٹس، کمانڈنگ افیسر 40 فرنٹیئر فورس (FF) چمن، ایس پی چمن، کمانڈنگ افیسر آئی ایس آئی چمن، آئی ڈبلیو چمن، کمانڈنگ افیسر سی ٹی چمن، کمانڈنگ افیسر ایم آئی 304 چمن، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ADC) چمن، اسسٹنٹ کمشنر (AC) چمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی بی چمن، ڈسٹرکٹ آفیسر سی ٹی ڈی چمن، سرکل آفیسر اسپیشل برانچ چمن، ڈسٹرکٹ آئی ٹی آفیسر چمن کے علاوہ لینڈ ڈیپارٹمنٹس کے تمام ضلعی سربراہان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں ضلع چمن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، حالیہ پاک افغان سرحدی کشیدگی اور چمن میں جاری ہائی الرٹ صورتحال کے مطابق نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے انسدادِ جرائم، خفیہ معلومات کے تبادلے، عوامی تحفظ کے اقدامات، انتظامی امور میں باہمی رابطہ کاری اور ضلعی سطح پر درپیش سیکیورٹی و انتظامی چیلنجز پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنانا تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ چمن جیسے حساس اور سرحدی ضلع میں تمام سول و عسکری اداروں کے مابین مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن کے قیام اور ریاستی رِٹ کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کے تحت ہونے والے فیصلوں پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں۔

خبرنامہ نمبر1892/2026
خضدار 3 مارچ ۔وزیراعلی ٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی سربراہی میں میونسپل کارپوریشن خضدار کے اڈوٹیریم میں میں عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا جس کے بعد باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا اور شہریوں نے اپنے اپنے مسائل سے آگاہ کیا کھلی کچہری میں ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر ونگ کمانڈر قلات اسکاؤٹس کرنل ذیشان اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ پی پی ایچ ائی ڈسٹرکٹ خضدار کے منیجر ڈاکٹر منیر احمد بلوچ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر خضدار ڈاکٹر محمد نسیم لانگو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر عابد حسین بلوچ ایکس ای این بی اینڈ ار روڈز قاضی عتیق الرحمان بلوچ ایکس ای این بلڈنگ سلیم رزاق عمرانی ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت نادر صاحب ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد انور زہری شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے چیئرمین بشیر احمد جتک ہندو پنچایت کے صدر سیٹھ جواری لال اور انجمن تاجران کے نمائندے اور دیگر تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی مختلف شعبہ جات کے نمائندوں کی موجودگی نے اس امر کو یقینی بنایا کہ شہریوں کے مسائل کا موقع پر ہی جائزہ لے کر ان کے حل کی عملی راہ ہموار کی جا سکے کھلی کچہری میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، نکاسی آب، سرکاری عمارتوں کی مرمت، روزگار کے مواقع، ریونیو ریکارڈ، امن و امان سے متعلق شکایات پیش کیں کئی درخواست گزاروں تعلیم کے شعبے سے متعلق شکایات پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ کو ہدایت کی گئی کہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اسی طرح صحت کے مسائل پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد نسیم لانگو اور ٹیچنگ اسپتال خضدار کے ایم ایس ڈاکٹر سرمد سعید خان کو دیہی مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی امن و امان کے حوالے سے ڈی ایس پی سرکل خضدار اور متعلقہ ایس ایچ اوز کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے، گشت میں اضافہ کرنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے واضح کیا کہ شہریوں کی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر محکمے کی کارکردگی کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنا اور عوام کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنا ہے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کو عبادت سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی انہوں نے کہا کہ سکندر شہید یونیورسٹی خضدار کو مائنز منرلز اور دیگر فیکلٹیز کے لیے جلد سے جلد فعال کیا جائے گا اور جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کی تعمیرات کا سلسلہ جلد سے جلد شروع کیا جائے گا اور ایسے عوامی اجتماعات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے آخر میں شہریوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ عملی اقدامات کے ذریعے مسائل کے مستقل حل کو یقینی بنایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر1893/2026
کوئٹہ3 مارچ : ڈپٹی انسپکٹر جنرل لیفٹیننٹ (ر) عمران شوکت نے کہا ہے کہ 21 رمضان المبارک کو یوم علی کے موقع پر سیکورٹی فول پروف انتظامات کئے گئے جلوس کی سیکورٹی پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوگی اور جلوس کی نگرانی سی سی ٹی وی اور کوئٹہ سیف سٹی کے کیمروں سے کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ سی سی پی او آفس میں منعقدہ اجلاس کے شرکائ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ آصف خان ، ایس ایس پی ایڈمن دوستین دشتی ، مختلف ایس پیز، ڈی ایس پیز اور سنی اور شیعہ علمائ کرام کے علاوہ تاجر تنظیموں کے صدور ، رہنمائ جن میں مفتی محمد احمد خان، قاری غلام یاسین، ڈاکٹر عطائ الرحمن، قاری عبداللہ منیر، قاری عبدالرحمن، قاری عبدالمطور، قاری محمد ، علامہ ہاشم موسوی ، عاشق حسین، کاظم علی، امیر بختیار ،کربلائی خادم، مرکزی انجمن تاجران رجسٹرڈ بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی، یاسین مینگل ، انجمن تاجران کے صدر رحیم آغا، میر اسلم رند، امر الدین آغا، ٹکری حمید بنگلزئی، بشیر بنگلزئی سمیت دیگر بھی شریک تھے۔ ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ نے کہا کہ 21 رمضان المبارک کو یوم علی کے جلوس کے موقع پر سیکورٹی کے لئے موثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور جلوس کے روٹ کو سیل کرنے کے علاوہ سلیپنگ کی جائے گی اور جلوس کی سیکورٹی پر پولیس، ایف سی سمیت سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی جائیگی انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ہمارا گھر ہے ہم سب نے ملکر اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرہ کرنا ہے اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے رابطے میں ہیں سیکورٹی کے حوالے سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور جلوس کا طے شدہ روٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے سیکورٹی پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائیگا اور جلوس کے دوران میں اور ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ موجود ہوں گے اور نگرانی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر سیکورٹی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے سنی و شیعہ علمائ کرام ، تاجر برادری اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں ہم نے ا من کی بحالی اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے اور انٹیلی جنس بیسڈ سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ کسی قسم کی ممکنہ دہشت گردی کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے عزائم کو بروقت ناکام بنایا جاسکے جس طرح 31 جنوری کو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فضل سے کامیابی حاصل کی اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے انہوں نے تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے اپیل کی کہ اتحاد و یکجہتی کے فروغ کو یقینی بناتے ہوئے امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر1894/2026
نصیرآباد03مارچ:ضلع جعفرآباد میں جہالت کی تاریکی کے خاتمے اور شرح خواندگی میں اضافے کے لیے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں اسکول داخلہ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفرآباد عائشہ بگٹی کے ہمراہ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں ایسے بچوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو تاحال اسکولوں سے باہر ہیں اور انہیں فوری طور پر تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ضلع جعفر آباد میں 5637 بچے اور بچیوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے جس میں 2170 بچیاں جبکہ 3466 بچے ہیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم مشترکہ حکمت عملی کے تحت گھر گھر رابطہ مہم چلائیں گے اور والدین سے قریبی روابط استوار کر کے انہیں اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے کی ترغیب دی جائے گی تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی ستون ہے جس کی بدولت ترقی اور خوشحالی کا سفر ممکن بنایا جا سکتا ہے اور ضلع جعفرآباد کو جہالت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے جبکہ ضلعی سطح پر اس مہم کی خود نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ خاطر خواہ نتائج حاصل کیے جا سکیں اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے بتایا کہ داخلہ مہم کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری مہم کو بھی تیز کیا جا رہا ہے اس حوالے سے ضلع بھر میں 5 ہزار کے قریب پودے مختلف اسکول کے بچوں اور بچیوں کے نام سے منسوب لگائے جائیں گےاس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی بھی موجود تھے.

خبرنامہ نمبر1895/2026
گوادر: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ نے تحصیلدار جیوانی اعظم خان گچکی کے ہمراہ زیرِ تعمیر شیزینک ڈیم کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے منصوبے پر جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام سے پیش رفت کے بارے میں بریفنگ لی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے ڈیم سے متاثرہ افراد اور مقامی عمائدین سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور متاثرین کی اراضی سے متعلق ریونیو معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے موقع پر ضروری ہدایات جاری کیں تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق امور کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔بعد ازاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے گبد ریمدان ،Gabd Rimdan Border (250 بارڈر) کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایران سے پاکستان آنے والے زائرین، طلبہ اور دیگر پاکستانی شہریوں کی آمد کے انتظامات کا معائنہ کیا۔ حالیہ صورتحال کے پیش نظر ایران سے بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اور دیگر افراد کی وطن واپسی کے باعث بارڈر پر انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے امیگریشن آفس، سیکیورٹی اور دیگر متعلقہ سہولیات کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وطن واپس آنے والے شہریوں کو ہر ممکن سہولت اور رہنمائی فراہم کی جائے اور تمام انتظامی امور کو مؤثر اور منظم انداز میں یقینی بنایا جائے۔

خبرنامہ نمبر1896/2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست اور غریب پرور وژن کے مطابق ضلع کچھی میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مستحقین میں راشن کی منصفانہ تقسیم کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن ریٹائرڈ جمعہ داد خان مندوخیل کی موجودگی میں مستحق افراد میں رمضان راشن تقسیم کیا گیا تقریب کے دوران غربائ، مساکین، نادار افراد بزرگوں اور خواتین میں باقاعدہ فہرستوں کے مطابق شفاف اور منصفانہ انداز میں راشن فراہم کیا گیا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی بھی مستحق فرد اس امداد سے محروم نہ رہے ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن ریٹائرڈ جمعہ داد خان مندوخیل نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق عوامی خدمت کے مشن پر گامزن ہے اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ضرورت مندوں کی مدد کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ راشن کی تقسیم کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ جاری رہے گا اور مستحقین کی عزت نفس کا بھرپور خیال رکھا جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر1897/2026
کچھی۔ضلعی انتظامیہ کچھی کی ہدایت پر ڈی سی آفس ڈھاڈر میں پاک فوج کے حق میں ایک بھرپور اور منظم ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں ضلعی و سول افسران، اقلیتی برادری کے نمائندگان، مختلف سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ریلی کا مقصد وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے پاک فوج کے مثالی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور افواجِ پاکستان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنا تھا شرکائ نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاک فوج کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے، جس سے حب الوطنی اور قومی جذبے کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آیا مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ اور قومی سلامتی کی ضامن ہے، جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کی امیدوں کا مرکز رہی ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ریلی کے اختتام پر ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جس کے بعد شرکائ پُرامن طور پر منتشر ہو گئے۔

خبرنامہ نمبر1898/2026
لورالائی 3مارچ :ضلع لورالائی سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل خانہ جات سیف اللہ غلزئی کو گریڈ 18 (ایس پی رینک) میں ترقی دے دی گئی۔اس موقع پر عبدالسعید نوید، آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان، اور ضیائ اللہ ترین، ڈی آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان نے باقاعدہ طور پر سیف اللہ غلزئی کو گریڈ 18 کا رینک لگایا۔سیف اللہ غلزئی اس وقت محکمہ جیل خانہ جات بلوچستان میں اے آئی جی ایڈمن اور اے آئی جی فنانس کے عہدوں پر فائز ہیں تقریب کے دوران افسران نے سیف اللہ غلزئی کی محکمانہ کارکردگی، دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اہل علاقہ اور محکمہ جیل خانہ جات کے افسران و اہلکاروں نے اس اہم پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دیتے رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر 1899/2026
موسیٰ خیل 03 مارچ 2026
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کے خصوصی احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر درگ نے رمضان سستا بازار کا تفصیلی دورہ کیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے بازار میں دستیاب اشیاء خورونوش کے معیار اور قیمتوں کا خود جائزہ لیا انہوں نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت جاری کی کہ وہ تمام اشیاء کی سرکاری ریٹ لسٹیں نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے
اس موقع پر عوامی حلقوں نے حکومتِ بلوچستان کے اس اقدام کو خوب سراہا اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے عوامی ریلیف کے عزم کا خیر مقدم کیا۔

خبرنامہ نمبر 1900/2026
گوادر: میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور احکامات کی روشنی میں ایران میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کی باحفاظت وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے نقیب اللہ کاکڑ نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 320 سے زائد افراد کو گبد–ریمدان بارڈر، ضلع گوادر کے راستے بحفاظت پاکستان پہنچا کر ملک کے مختلف شہروں کی جانب روانہ کیا جا چکا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ گوادر نے سرحدی مقام پر جامع اور مؤثر انتظامات کیے، جن کے تحت واپس آنے والے شہریوں کو محفوظ ٹرانسپورٹ، عارضی قیام، معیاری خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس تمام عمل کے اخراجات صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ گوادر نے برداشت کیے، تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ وطن پہنچنے والے تمام افراد کی مکمل دیکھ بھال اور ضروری معاونت کے بعد انہیں بحفاظت ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کیا گیا۔ سرحدی پوائنٹس پر انتظامات تاحال الرٹ ہیں اور متعلقہ ادارے ہمہ وقت متحرک ہیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق شہریوں کی محفوظ اور باوقار واپسی حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *