28th-February-2026

خبرنامہ نمبر1693/2026
کوئٹہ،28 فروری :چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کی سربراہی میں بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے خلاف دائر متعدد آئینی درخواستوں پر سماعت کی عدالت میں آئینی پٹیشن نمبر 1039، 1018، 1055، 1052، 1057، 1088، 1099، 1134، 1161، 1188 اور 1193 سمیت مختلف درخواستیں زیرِ سماعت تھیں، جن میں درخواست گزاروں نے مذکورہ ایکٹ کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے مختلف وکلائ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ حکومت بلوچستان کی نمائندگی ایڈووکیٹ جنرل عدنان بشارت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل فرید ڈوگر، ایڈیشنل اے جی شائے حق بلوچ اور ڈپٹی سالیسٹر محمد شریف کھوسو نے کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایک درخواست گزار نے 24 ستمبر 2025 کی اخباری تراشوں کو ریکارڈ پر لانے کے لیے سی ایم اے نمبر 4332/2025 دائر کی، جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو (وزیراعلیٰ) نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ ایکٹ پر عملدرآمد ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے مؤخر کر دیا گیا ہے اور بل کو مزید غور کے لیے دوبارہ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔عدالت نے استفسار کیا کہ اگر ایسا کوئی باضابطہ ایگزیکٹو آرڈر موجود ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے ہدایات لینے کے لیے وقت طلب کیا تھا۔ عدالت نے حکومت بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعلیٰ کے بیان سے متعلق باضابطہ حکم نامہ عدالت میں جمع کرائے اور سی ایم اے نمبر 4332/2025 پر جواب داخل کرے۔درخواست گزاروں کے وکلائ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر مذکورہ دستاویز عدالت میں پیش کر دی جاتی ہے تو وہ حتمی قانون سازی تک انتظار کرنے پر آمادہ ہوں گے۔عدالت نے مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

خبرنامہ نمبر1694/2026
لورالائی 28 فروری 2026:- ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے BSDI فیز ٹو کے تحت خواتین کی فلاح و ترقی کے ایک اہم منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔ اس سلسلے میں ڈبل سٹوری ڈیجیٹل لائبریری وومن جمنازیم کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جو لورالائی کی خواتین کے لیے ایک انقلابی اقدام ثابت ہوگا تقریب کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے کہا کہ اس منصوبے سے خواتین کو جدید تعلیمی سہولیات اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع میسر آئیں گے، جس سے نہ صرف ان کی تعلیمی استعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ جسمانی طور پر بھی متحرک اور بااعتماد بن سکیں گی انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی پالیسی کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایسے ترقیاتی منصوبے ناگزیر ہیں، اور ڈیجیٹل لائبریری و جمنازیم لورالائی کی سماجی و تعلیمی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

خبرنامہ نمبر1695/2026
لورالائی 28 فروری 2026 ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس لورالائی رینج جنید احمد شیخ، کے احکامات پر ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد(پی ایس پی) کے ہدایات پر ایس ڈی پی او کریم مندوخیل کی زیرِ نگرانی اور ایس ایچ او پولیس تھانہ شہید محمد اشرف ترین سٹی لورالائی سب انسپکٹر محمد شریف موسٰخیل کی سربراہی میں خصوصی پولیس ٹیم نے نومبر 2025 میں قتل ہونے والے مکینک قیوم بابوزئی کے کیس کو مختلف پہلوؤں سے ازسرِنو انکوائری کیا پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی، شواہد اور انٹیلیجنس ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اندھے قتل کے اس معمہ کو حل کیا اور ملوث ملزمان جمعہ خان حمزازئی اور قدرات اللہ بابوزئی کو گرفتار کرکے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا ایس ایس پی لورالائی نے پولیس ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انتھک محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی لورالائی پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت متحرک ہے۔

خبرنامہ نمبر1696/2026
لورالائی 28 فروری 2026:- انجمن تاجران بلوچستان (رحیم آغا گروپ) لورالائی کے سرپرستِ اعلیٰ حاجی یعقوب شاہ کاکڑ اور ضلعی صدر حاجی عبدالغفار ناصر کی قیادت میں ضلعی کابینہ کی جانب سے لورالائی شہر میں ایک پُروقار اجتماعی افطار دسترخوان کا اہتمام کیا گیا، جس میں ضلعی انتظامیہ، معززینِ علاقہ، تاجر برادری اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی افطار دسترخوان میں کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ، ایس ڈی پی او لورالائی کریم مندوخیل، اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم، ڈی ایچ او لورالائی ڈاکٹر شاہ زمان کاکڑ کے علاوہ قبائلی عمائدین، علما کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور اجتماعی طور پر روزہ افطار کیا اس موقع پر کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے انجمن تاجران کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اجتماعی افطار دسترخوان کا انعقاد قابلِ تحسین عوامی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور عوام کا ایک ہی دسترخوان پر بیٹھنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور عوام ایک صفحے پر ہیں اور باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور یکجہتی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ہیں تقریب خوشگوار، پُرامن اور روح پرور ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جہاں شرکا نے رمضان المبارک کی برکتوں، اتحاد و یگانگت اور باہمی محبت کے پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے ملکی استحکام اور علاقائی ترقی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی ۔

خبرنامہ نمبر1697/2026
لورالائی 28 فروری 2026:- وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع لورالائی میں مستحق اور نادار خاندانوں کو اُن کی دہلیز پر راشن کی فراہمی کا سلسلہ تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ جاری ہے۔ اس عوامی فلاحی اقدام کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنا اور مہنگائی کے موجودہ حالات میں اُن کی بنیادی ضروریات کی تکمیل میں معاونت کرنا ہے اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے رکشہ چلانے والے 200 مستحق خاندانوں میں منظم، شفاف اور باوقار انداز میں راشن تقسیم کیا۔ راشن کی تقسیم کے دوران مستحقین کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور میرٹ کو مدنظر رکھا گیا تاکہ امداد حقیقی حقداروں تک پہنچ سکے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کو اپنا اولین فریضہ سمجھتی ہے اور ضرورت مند طبقے کی بھرپور معاونت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ امدادی سرگرمیاں مکمل شفافیت، نظم و ضبط اور میرٹ کی بنیاد پر جاری رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف مستحق خاندانوں کو فوری ریلیف ملتا ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہوتا ہے اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران بھی موجود تھے جبکہ مستحق خاندانوں نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ایک احسن اور بروقت قدم قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر1698/2026
نصیر آباد 28 فروری:- استامحمد ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے خصوصی رمضان راشن پیکج کے تحت ضلع استامحمد میں مستحق اور نادار خاندانوں میں راشن کی تقسیم کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل کیا گیا یہ تقسیم کا عمل اسسٹنٹ کمشنر اُستامحمد رمضان اشتیاق اور تحصیلدار اُستامحمد علی گوہر کی نگرانی میں نہایت منظم، شفاف اور مربوط انداز میں انجام دیا گیا راشن پیکجز کی منصفانہ تقسیم کے لیے پہلے سے مرتب اور تصدیق شدہ فہرستوں کے مطابق مستحقین کو باقاعدہ طور پر مدعو کیا گیا تاکہ امداد بروقت اور بلا امتیاز حقیقی حقداروں تک پہنچ سکےتقسیم کے دوران نظم و ضبط کو یقینی بنایا گیا جبکہ بزرگ شہریوں، خواتین اور خصوصی افراد کے لیے بہتر سہولیات فراہم کی گئیں تاکہ انہیں کسی قسم کی زحمت یا انتظار کا سامنا نہ کرنا پڑےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے واضح کیا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ضرورت مند خاندانوں کی معاونت حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انتظامیہ پوری ذمہ داری، دیانتداری اور سنجیدگی کے ساتھ اس عمل کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ امداد مکمل شفافیت کے ساتھ مستحق افراد تک پہنچے اور ہر ضرورت مند خاندان کو مساوی بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جا سکےمزید برآں انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ تقسیم کا عمل مرحلہ وار جاری رکھا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق گھرانے اس سہولت سے مستفید ہو سکیں مقامی شہریوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے فلاحی اقدامات سے نہ صرف مستحق خاندانوں کو حقیقی سہارا ملتا ہے بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہےانہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر1699/2026
سبی 28فروری:حکومت بلوچستان کی جانب سے رمضان پیکج کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق گزشتہ روز بختیار آباد میں تحصیل لہڑی کے مزدور اور مستحق طبقے میں ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے راشن تقسیم کیا۔ اس تمام عمل کی نگرانی و انتظام اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی نے کی، جبکہ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مستحق اور نادار افراد کی معاونت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں یہ راشن پیکج شفاف طریقے سے مستحقین تک پہنچایا جا رہا ہے تاکہ حقیقی حقداروں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ سبی مستحق افراد کی فہرستوں کی جانچ پڑتال کے بعد راشن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنا رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ راشن کی تقسیم کا عمل منظم طریقے سے مکمل کیا گیا اور مستحقین کی باعزت طریقے سے امداد کو یقینی بنایا گیا۔مستحقین نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سبی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے انہیں رمضان المبارک میں خاطر خواہ سہولت میسر آئی ہے۔

خبرنامہ نمبر1700/2026
سبی 28 فروری:حکومت بلوچستان کے خصوصی رمضان پیکج کے تحت اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کی نگرانی میں سرکٹ ہاؤس اور پردہ کلب سبی میں مستحقین میں راشن تقسیم کیا گیا۔ اس موقع پر انجمن تاجران اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مشترکہ سروے کے بعد دہاڑی دار مزدوروں اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے افراد کو ترجیحی بنیادوں پر راشن فراہم کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق رمضان المبارک میں محنت کش اور نادار طبقے کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحق افراد کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور شفاف سروے کے بعد امدادی اشیائ تقسیم کی جا رہی ہیں تاکہ حقیقی حقداروں تک سہولت پہنچ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ سبی، انجمن تاجران کے تعاون سے اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ کوئی بھی مستحق فرد راشن سے محروم نہ رہے اور تقسیم کا عمل مکمل شفافیت اور نظم و ضبط کے ساتھ جاری رہے۔ راشن کی تقسیم کے موقع پر مستحقین نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور انجمن تاجران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے انہیں رمضان المبارک میں خاطر خواہ ریلیف ملا ہے۔

خبرنامہ نمبر1701/2026
جعفرآباد 28 فروری:- حالیہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت خصوصی DICC اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی سمیت مختلف انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان اور ضلعی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ڈرونز کے ممکنہ استعمال سے متعلق رپورٹس کے تناظر میں سیکیورٹی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ بلوچستان بھر میں جاری ہائی الرٹ صورتحال کے مطابق ضلع جعفرآباد میں بھی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران مختلف سمتوں سے ممکنہ ڈرون خطرات، حساس مقامات کی سیکیورٹی، عوامی جان و مال کے تحفظ، امن و امان کی مجموعی صورتحال اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو فعال بنانے سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنانا تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ضلع میں قیام امن کو برقرار رکھنے کے لیے شرپسند عناصر کی نشاندہی اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے، جبکہ ریاستی رٹ کے خلاف کسی بھی سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1702/2026
جعفرآباد 28 فروری:- ضلع جعفرآباد سے جہالت کی تاریکی کے خاتمے اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کے زیر اہتمام فور کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جس میں چوتھی مرتبہ اساتذہ کی تعیناتی کے عمل کو مکمل کرتے ہوئے ضلع بھر کے بند اسکولوں کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عائشہ بگٹی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے نئے تعینات ہونے والے میل اور فیمیل اساتذہ میں تقرری کے آرڈرز تقسیم کیے اور خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے بغیر معاشرتی ترقی ممکن نہیں، اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نہایت خوش اسلوبی، دیانتداری اور محنت کے ساتھ سرانجام دیں تاکہ سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم بہتر ہو اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ بلوچستان حکومت کی ہدایات کے مطابق تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی اور اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی کی باقاعدہ مانیٹرنگ بھی کی جائے گی تاکہ بند اسکولوں کو فعال اور تعلیمی ماحول کو مضبوط بنایا جاسکے۔

خبرنامہ نمبر1703/2026
لورالائی 28 فروری:- کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے احکامات اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کی ہدایات کی روشنی میں شہر بھر میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ میونسپل عملہ مختلف زونز میں متحرک ہو کر صفائی مہم کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہا ہے، جس سے شہریوں میں اطمینان کی فضا پیدا ہو رہی ہے تفصیلات کے مطابق خالو زون میں ڈاکٹر صالح کالونی اور دوبیگاٹ محلہ میں کچرے کی صفائی مکمل کی گئی، جبکہ باران زون کے بھنڈار محلہ اور خواجہ نالی میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے بھرپور صفائی کی گئی۔ عجب زون کے مرغی خانہ محلہ میں نالیوں کی صفائی کا کام بھی مکمل کیا گیا تاکہ بارشوں اور گندے پانی کی روانی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو سلیم داد ہزارہ محلہ میں مین ہول کے لیے نئے ڈھکن تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ جامعہ مسجد ندی کے اطراف صفائی اور نکاسی کے امور سرانجام دیے گئے۔ اسی طرح خالو زون میں باچا خان چوک کے مقام پر دیوار کی مضبوطی کے لیے مٹی ڈال کر تعمیراتی کام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے شہر کی خوبصورتی اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے درختوں کو باقاعدگی سے پانی دیا جا رہا ہے، جبکہ ٹریفک مسائل کے حل کے لیے پرانے اسپیڈ بریکرز کو صاف اور درست کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اہم مقامات پر نئے اسپیڈ بریکر بھی نصب کر دیے گئے ہیں شہری حلقوں نے کمشنر ولی محمد بڑیچ اور چیف آفیسر محب اللہ بلوچ کی قیادت میں جاری صفائی و بہتری مہم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف شہر کا حسن نکھر رہا ہے بلکہ عوام کو صاف ستھرا اور محفوظ ماحول بھی میسر آ رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر1704/2026
لورالائی 28 فروری:- کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ، چیئرمین میونسپل کمیٹی لورالائی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر محب اللہ خان بلوچ کی قیادت میں لورالائی میونسپل حدود میں شہری حفاظت اور سہولت کو یقینی بنانے کے لیے کھلے مین ہول اور گٹر ڈھکنوں کی مرمت و بحالی کے حوالے سے خصوصی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو حادثات سے محفوظ رکھنا اور نکاسی آب کے نظام کو مؤثر بنانا ہے میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود کھلے مین ہول یا خراب گٹر ڈھکنوں کی بروقت اطلاع ہیلپ لائن نمبر03347327219 پر دیں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ اس خصوصی مہم کے تحت میونسپل کمیٹی کا عملہ ہیلپ لائن انچارج سلیم داد کی نگرانی میں شہر کے مختلف علاقوں کا سروے کر رہا ہے اور مین ہولز و گٹر ڈھکنوں کی پیمائش، مرمت اور بندش کا کام تیزی سے جاری ہے کمشنر ولی محمد بڑیچ کی ہدایات کے مطابق اس مہم کا آغاز پہلے مرحلے میں میونسپل کمیٹی لورالائی کی حدود میں کیا گیا ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں لورالائی ڈویژن کی دیگر میونسپل کمیٹیوں میں بھی اسی طرز کے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ پورے ڈویژن میں شہریوں کو محفوظ اور بہتر بلدیاتی سہولیات میسر آ سکیں شہری و سماجی حلقوں نے اس بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ کھلے مین ہولز کی مرمت سے نہ صرف حادثات کی روک تھام ممکن ہو گی بلکہ شہر میں صفائی اور نکاسی آب کے نظام میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ یہ مہم بلدیاتی خدمات کی بہتری اور عوامی تحفظ کے حوالے سے ایک مثبت اور قابلِ تحسین پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

خبرنامہ نمبر1705/2026
قلات 28 فروری:- اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد ڈاکٹرعلی گل عمرانی کی زیرِ صدارت پندرہ روزہ ریونیو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں تحصیلدار، نائب تحصیلدار، پٹواریان اور دیگر ریونیو عملے نے شرکت کی میٹنگ کے دوران زیرِ التوائ ریونیو مقدمات، ریکارڈ آف رائٹس کی درستی، ریکوری کے معاملات اور عوامی شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ مقدمات کے بروقت فیصلے کو یقینی بنایا جائے، ریکارڈ کی درستگی اور شفافیت برقرار رکھی جائے اور عوام کو بلا تاخیر سہولت فراہم کی جائے۔اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر علی گل عمرانی نے کارکردگی میں بہتری کے لیے وقت کی پابندی، جوابدہی اور حکومتی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کی تاکید کی۔

خبرنامہ نمبر1706/2026
تربت 28 فروری2026:- یونیورسٹی آف تربت کے ڈائریکٹوریٹ آف گریجویٹ اسٹڈیز کے زیراہتمام شعبہ بائیو کیمسٹری، کیمسٹری اور انگلش کے ایم فل اسکالرز کے زبانی امتحانات منعقد کیے گئے۔شعبہ بائیو کیمسٹری کے زبانی امتحان کی صدارت فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجزکے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ (تمغہ امتیاز)نے کی، جبکہ شعبہ کیمسٹری کے زبانی امتحان کی صدارت فیکلٹی آف سوشل سائنسزکے ڈین ڈاکٹر محمد طاہر حکیم نے کی۔ اسی طرح شعبہ انگلش کے زبانی امتحان کی صدارت شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر حنیف الرحمن نے کی۔ شعبہ بائیو کیمسٹری میں ایم فل اسکالر ماریہ نور نے کامیابی کے ساتھ اپنے مقالے کا دفاع کیا۔ یونیورسٹی آف لاہور کےایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر منیر احمدنے ان کے تحقیقی کام کا جائزہ لیا۔ یہ تحقیق تربت یونیورسٹی کے شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسزکے لیکچرار ڈاکٹر نجیب اللہ کی زیر نگرانی مکمل کی گئی۔شعبہ کیمسٹری میں ایم فل اسکالرز ماہ جان، سارہ حمید اور ماہین نے بھی کامیابی کے ساتھ اپنے مقالہ جات کا دفاع کیا۔ ان کے مقالہ جات کا جائزہ یونیورسٹی آف چترال کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد سفیاد خان اوریونیورسٹی آف لکی مروت کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثنائ اللہ خان نے لیا۔ ان ایم فل اسکالرز نے اپنی تحقیق تربت یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر روح اللہ کی زیر نگرانی مکمل کی۔ شعبہ انگلش کے ایم فل اسکالر زوہا نے بھی کامیابی کے ساتھ اپنے تحقیقی مقالے کا دفاع کیا۔تحقیقی مقالے کے ڈیفنس کے دوران سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سمن صلاح نے ایکسٹرنل ایگزامنر کے فرائض انجام دیئے۔ ایم فل اسکالر نے اپنی تحقیق تربت یونیورسٹی کے شعبہ انگلش کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عدنان ریاض کی زیرنگرانی مکمل کی۔

Recast
خبرنامہ نمبر1693/2026
کوئٹہ،28 فروری :چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کی سربراہی میں بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے خلاف دائر متعدد آئینی درخواستوں پر سماعت کی عدالت میں آئینی پٹیشن نمبر 1039، 1018، 1055، 1052، 1057، 1088، 1099، 1134، 1161، 1188 اور 1193 سمیت مختلف درخواستیں زیرِ سماعت تھیں، جن میں درخواست گزاروں نے مذکورہ ایکٹ کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے مختلف وکلائ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ حکومت بلوچستان کی نمائندگی ایڈووکیٹ جنرل عدنان بشارت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل فرید ڈوگر، ایڈیشنل اے جی میر شے حق بلوچ اور ڈپٹی سالیسٹر محمد شریف کھوسو نے کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایک درخواست گزار نے 24 ستمبر 2025 کی اخباری تراشوں کو ریکارڈ پر لانے کے لیے سی ایم اے نمبر 4332/2025 دائر کی، جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو (وزیراعلیٰ) نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ ایکٹ پر عملدرآمد ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے مؤخر کر دیا گیا ہے اور بل کو مزید غور کے لیے دوبارہ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔عدالت نے استفسار کیا کہ اگر ایسا کوئی باضابطہ ایگزیکٹو آرڈر موجود ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے ہدایات لینے کے لیے وقت طلب کیا تھا۔ عدالت نے حکومت بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعلیٰ کے بیان سے متعلق باضابطہ حکم نامہ عدالت میں جمع کرائے اور سی ایم اے نمبر 4332/2025 پر جواب داخل کرے۔درخواست گزاروں کے وکلائ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر مذکورہ دستاویز عدالت میں پیش کر دی جاتی ہے تو وہ حتمی قانون سازی تک انتظار کرنے پر آمادہ ہوں گے۔عدالت نے مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

خبرنامہ نمبر1707/2026
کوئٹہ 28 فروری ،وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔جس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ لیاگیا۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق جاری رمضان ریلیف اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ضلعی افسران نے پرائس کنٹرول، اشیائے خوردونوش کی دستیابی اور سرکاری نرخوں پر فروخت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم ہو سکے۔اجلاس میں مستحق خاندانوں تک راشن کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ مستحقین کی فہرستوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے تاکہ امداد صرف حقدار افراد تک پہنچے۔ بیواؤں، یتیموں، معذور افراد اور کم آمدنی والے خاندانوں کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران بازاروں میں رش کے پیش نظر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔ ٹریفک پولیس کو ہدایت کی گئی کہ اہم شاہراہوں، بازاروں اور افطار اوقات میں خصوصی ڈیوٹی سرانجام دی جائے تاکہ شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے کو مضبوط بنائیں اور فیلڈ میں موجود مسائل کی فوری نشاندہی کرکے بروقت حل یقینی بنائیں۔اجلاس کے اختتام پر آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دیتے ہوئے ضروری ہدایات جاری کی گئیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی اقدامات مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔

خبرنامہ نمبر1708/2026
کوئٹہ 28فروری۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبہ بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی رمضان ریلیف راشن کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ حکومت کا ماہِ مقدس میں مستحق اور نادار خاندانوں کو بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی یقینی بنانا اور انہیں مہنگائی کے دباؤ سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنا ہے۔اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) کیپٹن (ر) عبداللہ بن عارف نے کلی اسماعیل کا دورہ کیا جہاں 200 غریب و مستحق افراد، بیواؤں، یتیموں اور دیہاڑی دار مزدوروں میں راشن پیکجز تقسیم کیے گئے۔ تقسیم کے عمل کے دوران شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مستحقین کی پیشگی تصدیق شدہ فہرستوں کے مطابق راشن فراہم کیا گیاجبکہ موقع پر موجود انتظامی عملے نے نظم و ضبط برقرار رکھنے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔راشن پیکج میں آٹا، چاول، دالیں، چینی، گھی اور دیگر اشیائے خوردونوش شامل تھیں تاکہ مستحق خاندان رمضان المبارک کے دوران بنیادی غذائی ضروریات پوری کر سکیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ حکومت بلوچستان کا رمضان ریلیف پروگرام حقیقی حقداروں تک پہنچے اور کسی قسم کی بدعنوانی یا بے ضابطگی کی گنجائش نہ رہے۔مقامی لوگوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے حکومت بلوچستان اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے فلاحی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران شہر کے دیگر علاقوں میں بھی اسی طرز پر راشن کی تقسیم کا عمل مرحلہ وار جاری رکھا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان مستفید ہو سکیں۔

خبرنامہ نمبر1709/2026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن کے مطابق رمضان المبارک کی بابرکت اور روح پرور شاموں میں شہرِ گوادر کے پارکس خوشیوں اور رونقوں سے جگمگا اٹھے ہیں، جہاں بچے جھولوں اور کھیل کے میدانوں میں بے فکری سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین اور خاندانوں کی بڑی تعداد بھی محفوظ اور خوشگوار ماحول میں تفریح سے مستفید ہو رہی ہے۔ادارہ ترقیات گوادر (جی ڈی اے) کی جانب سے تعمیر کیے گئے تین جدید اور معیاری پارکس شہریوں کو صحت مند تفریح کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سماجی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا ہے۔خصوصی طور پر پدی زر پارک میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان کی ہدایات پر حالیہ دنوں میں تزئین و آرائش (رینوویشن) کا کام مکمل کیا گیا، جس کے تحت نئے جھولے، جدید کھیلوں کا سامان اور دیگر سہولیات نصب کی گئیں۔ مزید برآں پدی زر ساحل کو بھی بہتر اور معیاری سہولیات سے آراستہ کر کے عوام کے لیے پہلے سے زیادہ پُرکشش اور دلکش بنا دیا گیا ہے، جہاں شہری رمضان کی شاموں میں پُرسکون اور خوشگوار لمحات گزار رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر1710/2026
تربت: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد کی زیر صدارت ضلع کیچ میں تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ اور داخلہ مہم کو مؤثر بنانے کے لیے مرد و خواتین کلسٹر ہیڈز کا ایک اہم اجلاس ہفتہ 28 فروری 2026 کو گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کیچ ڈاکٹر اصغر علی بلوچ، تمام میل و فیمیل ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، ڈی پی ایم یونیسیف، منیجر سی پی ڈی پی آئی ٹی ای، ڈی ایم سی آر ٹی ایس ایم اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں جاری تعلیمی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ایجنڈے میں داخلہ مہم، نصابی کتب کی بروقت تقسیم، شجرکاری مہم، اسکولوں کی اراضی پر قبضہ یا دراندازی کے معاملات اور غیر فعال اسکولوں کی بحالی جیسے اہم نکات شامل تھے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر امجد شہزاد نے کلسٹر ہیڈز کو ہدایت کی کہ داخلہ مہم کی تمام سرگرمیاں منظم حکمت عملی کے تحت مکمل کی جائیں اور تحصیل، کلسٹر اور اسکول کی سطح پر بھرپور انداز میں مہم چلائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کروایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ کمیونٹی کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور والدین کو تعلیم کی اہمیت اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے۔نصابی کتب کی فراہمی کے سلسلے میں ہدایت کی گئی کہ بک اسٹور سے بروقت کتب حاصل کرکے انہیں فیڈر اسکولوں تک پہنچایا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع کیچ میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر1711/2026
خضدار 28 فروری:خضدار میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ، کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے حکومتِ بلوچستان وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ خضدار نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایچ او سٹی منیر جتک نے خصوصی شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنر حفیظ اللہ کاکڑ نے ایس ایچ او سٹی منیر جتک کو علاقے میں مقیم افغان مہاجرین کی تفصیلی لسٹیں فراہم کیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ آج سے ہی باقاعدہ کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔پولیس اور انتظامیہ مشترکہ طور پر غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی طرف سے افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے سخت احکامات جاری کیے گئے اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ اس مہم میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ شہر میں امن و امان کا قیام اور قانون کی بالادستی ہماری اولین ترجیح ہے۔ غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کاروائی آئین اور قانون کے مطابق جاری رہے گی۔

خبرنامہ نمبر1712/2026
ہرنائی28 فروری :وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے رمضان المبارک کے پیش نظر قائم کیے گئے رمضان سستا بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مختلف اسٹالز کا معائنہ کرتے ہوئے اشیائے خوردونوش کی دستیابی، معیار اور مقررہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری اشیائ کی قیمتوں کا خود جائزہ لیا اور دکانداروں کو ہدایت کی کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخنامے پر سختی سے عمل یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر انہوں نے سستا بازار میں خریداری کے لیے آنے والے شہریوں سے بھی ملاقات کی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات، قیمتوں اور اشیائ کی دستیابی سے متعلق ان کی رائے معلوم کی۔ شہریوں نے رمضان سستا بازار کے قیام کو ضلعی انتظامیہ کا مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے مزید بہتری کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک ایک بابرکت، مقدس اور رحمتوں والا مہینہ ہے جس میں عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور جو عناصر مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے یا سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ رمضان سستا بازاروں کی باقاعدگی سے نگرانی جاری رکھی جائے، اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی یقینی بنائی جائے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ماہِ مقدس میں عوام کو معیاری اور سستی اشیائے خوردونوش کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر1713/2026
تربت: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی ہدایت پر رکنِ قومی اسمبلی کیچ۔گوادر حاجی ملک شاہ گورگیج کے نمائندوں اور فوکل پرسنز صادق تاجر، ماجد حسین اور دیگر افراد نے ضلع کیچ کے علاقے آبسر میں ماہِ رمضان المبارک کے موقع پر غریب اور مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا۔رمضان ریلیف پیکج کے تحت آبسر کے مختلف علاقوں شاہ آباد، آسکانی، دل مراد بازار، ریسرچ فارم، اکرم محلہ، نواب محلہ سمیت دیگر بستیوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نادار اور مستحق خاندانوں کو بنیادی اشیائے خورد و نوش پر مشتمل راشن فراہم کیا گیا۔اس موقع پر مستحقین اور مقامی افراد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور رکنِ قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس کی طرح رواں سال بھی رمضان پیکج اور سولر سسٹمز کی فراہمی سے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملا ہے۔مستحقین کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسے فلاحی اقدامات عوام دوستی، احساسِ ذمہ داری اور خدمتِ خلق کی عملی مثال ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومتِ بلوچستان اور عوامی نمائندے آئندہ بھی اسی طرح کے ریلیف پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندان مستفید ہو سکیں اور معاشرتی ہم آہنگی و بھائی چارے کو فروغ حاصل ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *