17th-February-2026

خبرنامہ نمبر1396/2026
کوئٹہ، 17 فروری :چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) ورکنگ گروپ کا اہم اجلاس آج منعقد ہوا جس میں صوبے میں SMEs کی ترقی، مالی معاونت، مارکیٹ تک رسائی اور چیلنجز کے حل پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ SMEs کو فروغ دینے کے لیے نئی پالیسیز وضع کی جائیں گی، تربیت کے پروگرام شروع کیے جائیں گے اور عوام کو اپنے کاروبار کے لیے اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے آسان قرضوں کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ اقدامات صوبے کی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ چیف سیکریٹری نے شرکائ کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے اس اقدام کی فوری عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ بلوچستان کے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو جدید مواقع دستیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے حوالے سے صوبائی حکومت ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے جب کہ ایس ایم ای شعبے کے لئے لیبر کی پیشہ وارانہ تربیت انتہائی ضروری ہے جس کے لئے 4,320 نوجوانوں کو پیشہ ورانہ اور تکنیکی تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرپرائز ڈیویلپمنٹ کے ذریعے 180 ایس ایم ایز کو انٹرپرائز دیو کے ذریعے تیار اور 57 ہزار نوجوانوں کو یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے ضلعی سطح پر کاروباری صلاحیتوں اور صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز خالد سرپرہ، سیکرٹری زراعت داؤد خلجی، سیکرٹری لائیو سٹاک محمد طیب لہڑی و دیگر موجود تھے۔

خبرنامہ نمبر1397/2026
کوئٹہ 17 فروری:صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل سے مختلف شہری نمائندوں پر مشتمل وفود نے ملاقات کی۔ وفود نے صوبائی مشیر کو درپیش مسائل سے اگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں. ملاقات میں مجموعی ماحولیاتی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی مشیر نے وفود کی جانب سے پیش کیے گیے مسائل کے حل کی ہر ممکن یقین دہانی کرائی اور تجاویز کا خیر مقدم کیا اس موقع پر صوبائی مشیر نے کہا کہ اگرچہ بلوچستان کو ماضی میں خشک سالی اور کم بارشوں جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے، تاہم امسال صوبے کے مختلف علاقوں میں اچھی بارشیں ہوئی ہیں جو خوش آئند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری کی توقع ہے بلکہ زرعی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پانی کے وسائل کے مؤثر اور محتاط استعمال کی ضرورت بدستور برقرار ہے۔ صوبائی مشیر نے بتایا کہ صوبے میں ماحول دوست پالیسی سازی کو فروغ دیاجارہا ہے تاکہ ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور موسمیاتی خطرات سے نمٹا جا سکےانہوں نے وفود کو آگاہ کیا کہ صوبے میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مرحلہ وار پابندی نافذ کی جا رہی ہے تاکہ آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔ اسی طرح اسپتالوں کے فضلات کو محفوظ اور جدید طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے لیے انتظامات بہتر بنائے جا رہے ہیں اور میڈیکل ویسٹ کی تلفی کے لیے انسینیریشن یونٹس کو فعال کیا جا رہا ہے تاکہ انسانی صحت اور ماحول دونوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔صوبائی مشیر نے مزید کہا کہ شہری علاقوں میں صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے فضلے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ اور ڈمپنگ سائٹس کی اپ گریڈیشن جیسے اقدامات جاری ہیں شجرکاری مہمات کو بھی تیز کیا گیا ہے تاکہ حالیہ بارشوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جا سکیں اور موجودہ درختوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے نسیم الرحمان خان نے زور دیا کہ حکومت کے اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام اور سماجی تنظیموں کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ماحول دوست عادات اپنائیں، پانی کا ضیاع نہ کریں، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائیں اورشجرکاری مہمات میں بھرپور حصہ لیں تاکہ بلوچستان کو ماحولیاتی بگاڑ اور موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1398/2026
کوئٹہ:استحکام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر ملک سعد اللہ جان ترین نے بلوچستان کے موجودہ چیف سیکرٹری شکیل قادر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانتداری اور اعلیٰ انتظامی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک باوقار، اصول پسند اور قانون کی پاسداری کرنے والے سینئر افسر ہیں جو صوبے میں شفافیت، میرٹ اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سابق ایم پی اے علی حسن زہری کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام میں چیف سیکرٹری شکیل قادر کے خلاف نازیبا، غیر پارلیمانی اور گالی گلوچ پر مبنی زبان استعمال کی گئی، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ایک سابق عوامی نمائندے سے اس نوعیت کی غیر مہذب اور اشتعال انگیز گفتگو کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ملک سعد اللہ جان ترین نے مزید کہا کہ علی حسن زہری نے نہ صرف ایک اعلیٰ سرکاری افسر کی تضحیک کی بلکہ پشتون قوم کو بھی بلاجواز نشانہ بنایا، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ کسی شخصی یا انتظامی اختلاف کو قومیت اور لسانیت کا رنگ دینا تعصب اور نفرت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ضرور ہے، مگر گالم گلوچ، کردار کشی اور قومیت کی بنیاد پر اشتعال انگیزی ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسے بیانات سے نہ صرف انتظامی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ صوبے میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا بھی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی اپنی روایات اور اقدار ہیں جہاں بزرگوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کا احترام بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ اگر چیف سیکرٹری جیسے اعلیٰ منصب کے حوالے سے اس نوعیت کی زبان استعمال کی جائے گی تو یہ ہماری اجتماعی روایات کے بھی منافی ہے۔ملک سعد اللہ جان ترین نے سخت لہجے میں کہا کہ جو الزامات اور باتیں کی جا رہی ہیں، ان پر بولنے والوں کا ماضی بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔انہوں نے سابق ایم پی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیے اور اپنی سیاسی و انتظامی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق ایم پی اے علی حسن زہری اپنے غیر ذمہ دارانہ اور توہین آمیز الفاظ پر فوری طور پر معذرت کریں اور آئندہ ذمہ دارانہ اور باوقار طرزِ گفتگو اختیار کریں، تاکہ سیاسی ماحول میں شائستگی اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1399/2026
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان کے ترجمان نے ایک ہنگامی وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر زیرِ گردش الزامات کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ میں مبینہ غیر شفاف بھرتیوں اور صوبائی حکومت پر عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور دانستہ طور پر گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ترجمان نے کہا کہ آغا عبید نامی یوٹیوبر کے پلیٹ فارم “اولس” کی جانب سے نہ صرف جھوٹا اور من گھڑت پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے بلکہ اس ضمن میں محکمہ کے افسران کے ساتھ ٹیلیفونک رابطوں میں گالی گلوچ کی گئی اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ترجمان کے مطابق یوٹیوبر کی کال ریکارڈنگز اور دیگر متعلقہ شواہد محکمہ کے اعلیٰ حکام کے پاس بطور ثبوت محفوظ ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر متعلقہ قانونی فورمز پر پیش کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل مذکورہ یوٹیوبر کے کزن کی ایک گاڑی دورانِ چیکنگ تحویل میں لی گئی، جو ابتدائی جانچ کے مطابق غیر قانونی دستاویزات کے باعث زیرِ کارروائی آئی۔ اس ضمن میں متعلقہ یوٹیوبر کی جانب سے بھی گاڑی چھوڑنے کے لیے محکمہ کے متعلقہ افسر کو پیغام موصول ہوا، تاہم محکمہ نے کسی بھی قسم کے دباؤ، سفارش یا مبینہ بلیک میلنگ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی اور گاڑی کو ضابطے کے تحت قانونی تحویل میں رکھا۔ترجمان نے مزید کہا کہ سرکاری امور میں مداخلت، دباؤ ڈالنے اور دھمکی آمیز رویے کے تناظر میں متعلقہ یوٹیوبر کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس سلسلے میں قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا منفی تاثر دراصل ذاتی مفادات کے تحفظ کی کوشش ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جھوٹے، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز مواد کی تشہیر میں ملوث عناصر کے خلاف Prevention of Electronic Crimes Act (پیکا ایکٹ) کے تحت بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ترجمان نے کہا کہ محکمہ میں ہونے والی تمام بھرتیاں حکومت بلوچستان کے مقررہ قواعد و ضوابط، میرٹ پالیسی اور مکمل شفاف طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہیں اور کسی قسم کی سیاسی مداخلت یا اقربا پروری کا تاثر حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین نہ کریں اور سرکاری معلومات کے حصول کے لیے محکمہ کے مستند اور سرکاری ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔

خبرنامہ نمبر1400/2026
نصیرآباد17فروری: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس سرکٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں ایس ایس پی نصیرآباد اسد اللہ ناصر سمیت ضلع بھر کے تمام محکموں کے سربراہان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری ترقیاتی منصوبوں، حکومتی اسکیموں اور عوامی ریلیف اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمشنر نصیرآباد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو فیز ون کے تحت مکمل ہونے والی تمام اسکیموں کو فوری طور پر آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے اور ان کے متعلقہ ریکارڈ، اور ضروری دستاویزات جمع کرانے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ کام کے معیار اور کوالٹی کی جانچ پڑتال کے بعد شفاف انداز میں ادائیگی کے عمل کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے تمام محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ مکمل شدہ اسکیموں کی جامع فہرستیں مرتب کرکے پیش کی جائیں تاکہ پیش رفت کا واضح ریکارڈ موجود ہو اور کسی بھی قسم کی کوتاہی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے۔ اجلاس کے دوران ماہِ رمضان المبارک میں مستحق اور نادار افراد کو راشن کی منصفانہ فراہمی کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور کاوشوں کے نتیجے میں صوبہ بھر کی طرح ضلع نصیرآباد میں بھی غریب اور مستحق خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے تحت آٹھ رکنی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو ہر یونین کونسل اور وارڈ کی سطح پر منتخب کونسلرز اور چیئرمینوں کے ہمراہ سرکاری ملازمین کو شامل کرکے مستحق افراد کی شفاف نشاندہی کریں گی اور حکومتی راشن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں گی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ راشن کی تقسیم میں شفافیت اور مساویانہ عمل ہماری اولین ترجیحات کا حصہ ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی بے ضابطگی، اقربا پروری یا ناانصافی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں پیش رفت رپورٹ باقاعدگی سے جمع کرائیں اور حکومتی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جاسکے۔

خبرنامہ نمبر1401/2026
کوئٹہ 17فروری۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویژن میں رمضان المبارک 2026ئکی تیاریوں، پرائس کنٹرول، سستا بازاروں کے قیام اور راشن کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، اسسٹنٹ کمشنر (پولیٹیکل) کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ کے علاوہ ڈپٹی کمشنرز چمن، قلعہ عبداللہ اور پشین نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران امن و امان کی صورتحال، نمازِ تراویح اور دیگر عبادات کے اوقات میں انتظامات، تجاوزات کے خاتمے، صفائی کی صورتحال، پرائس کنٹرول، سستا بازاروں کے انعقاد اور راشن کی منصفانہ تقسیم سے متعلق مختلف امور پرغور وخوص کیا گیا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ رمضان المبارک کے دوران راشن کی تقسیم کے لیے واضح اور شفاف طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ صرف حقدار اور مستحق افراد کو ہی سہولت میسر ہو۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ ڈی سی آفس کی سطح پر اجلاس منعقد کرکے تقسیم کے طریقہ کار اور معیار کے تعین کے لیے مؤثر میکنزم تیار کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ راشن کی تقسیم کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے جس سے رش اور بدنظمی سے بچا جا سکے اور غریب افراد باعزت اور آسان طریقے سے راشن حاصل کر سکیں۔اس ضمن میں معذور افراد اور بیوہ خواتین کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ مستحقین کی درست نشاندہی کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے ڈیٹا سے استفادہ کیا جائےتاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران پرائس کنٹرول، سیکیورٹی انتظامات اور سستا بازاروں کے قیام کے حوالے سے متعلقہ محکموں کو جامع منصوبہ بندی کر کے جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

خبرنامہ نمبر1402/2026
کوہلو 17 فروری ۔ ڈی سی کوہلو عظیم جان دومڑ نے میٹرک کے جاری امتحانات کے سلسلے میں مختلف امتحانی مراکز کا تفصیلی دورہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کوہلو اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کوہلو میں قائم امتحانی مراکز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے امتحانی کمروں کا جائزہ لینے کے ساتھ سیکیورٹی انتظامات، طلبہ کی حاضری اور ڈیوٹی پر مامور عملے کی کارکردگی کا بھی تفصیلی مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عظیم جان دومڑ نے سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات ہر صورت شفاف، منصفانہ اور مکمل نظم و ضبط کے تحت منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے نقل کی روک تھام کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ صاف و شفاف امتحانات کے انعقاد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ میرٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جا سکے اور کسی کو بھی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر کبیر احمد مزاری بھی ان کے ہمراہ تھے۔

خبرنامہ نمبر1403/2026
جعفرآباد۔۔۔جعفرآباد میں ڈپٹی کمشنر خالد خان کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ الہیار ارسلان چوھدری کی زیر صدارت احترام رمضان کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے مختلف محکموں کے افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ماہ مقدس رمضان المبارک کے دوران احترام رمضان آرڈیننس پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی پر غور کیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماہ رمضان کے موقع پر عوام کو سستے دامو اشیائ خوردونوش کی فراہمی کے لیے سستے بازار بھی لگائے جائیں گے تاکہ عوام کو صاف ستھری معیاری اور سستی اشیائ مل سکے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ارسلان چوھدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع جعفرآباد میں احترام رمضان کے تقدس کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ سحری و افطاری کے اوقات کے علاوہ دن کے اوقات میں ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکانوں کے کھلے رکھنے پر مکمل پابندی عائد ہوگی اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام تر اقدامات قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر خالد خان کی جانب سے بھی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ احترام رمضان آرڈیننس پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ افسران کو ٹاسک سونپ دیے گئے اور واضح کیا گیا کہ روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ حکومتی احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1404/2026
سبی 17 فروری:اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کی زیر صدارت لوکل و ڈومیسائل کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحصیلدار میر زابر علی ڈومکی، انچارج لوکل و ڈومیسائل برانچ علی محمد بزدار اور دیگر متعلقہ افسران و کمیٹی اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران لوکل سرٹیفیکیٹس کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل اور موصولہ درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مختلف علاقوں سے آنے والے کیسز پر غور کیا گیا جن میں والد کی لوکل سے علیحدہ ذاتی لوکل یا ڈومیسائل کے حصول، نئی لوکل و ڈومیسائل کے اجرائ اور دیگر متعلقہ امور شامل تھے۔ کمیٹی نے تمام درخواستوں کی جانچ پڑتال اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی چھان بین کے بعد وہ کیسز منظور کر لیے جن کے کوائف مکمل اور درست پائے گئے، جبکہ نامکمل یا ریکارڈ سے مطابقت نہ رکھنے والی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے متعلقہ عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ لوکل و ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کا اجرائ مکمل شفافیت اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا کوتاہی کی گنجائش باقی نہ رہے۔

خبرنامہ نمبر1405/2026
سبی 17 فروری:اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے موسمِ بہار کے موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس سبی کے سبزہ زار میں شجرکاری مہم کے تحت پودا لگایا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیعی) غلام مصطفی، پی ایس ٹو ڈپٹی کمشنر فہیم احمد نے بھی پودا لگا کر مہم میں حصہ لیا، جبکہ رینج فاریسٹ آفیسر اللہ وسایا بھی موجود تھے۔شجرکاری مہم محکمہ جنگلات اور محکمہ زراعت کے باہمی تعاون سے منعقد کی گئی جس کا مقصد ضلع میں شجر افزائی اور ماحول کی بہتری کو فروغ دینا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے کہا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اور موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر شجرکاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات پر زیادہ سے زیادہ پودے لگا کر خوشگوار اور صحت مند ماحول کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر1406/2026
کمشنر ژوب ڈویژن آصف علی نے باقاعدہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ اس موقع پر ڈویژنل سطح کے افسران اور متعلقہ محکموں کے نمائندے موجود تھے۔ کمشنر آصف علی نے چارج سنبھالتے ہی واضح کیا کہ ژوب ڈویژن میں انتظامی نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے سخت نگرانی اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے کمشنر کی قیادت میں ژوب ڈویژن میں ترقیاتی کاموں میں تیزی اور گورننس کے معیار میں واضح بہتری آئے گی۔

خبرنامہ نمبر1407/2026
سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان کے زیر صدارت ناگ تا واشک روڈ منصوبہ اور اپ لفٹنگ آف رکھنی ٹاؤن و ری ماڈلنگ آف رکھنی بازار منصوبے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ اعلیٰ حکام اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی اجلاس میں چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ، چیف انجینئر رخشان مکران زون خلیل احمد اچکزئی، چیف انجینئر لورالائی ژوب زون قاضی نور الحق، ایس ای بارکھان و موسیٰ خیل عبدالرحمان گورمانی کے علاوہ متعلقہ منصوبوں کے کنسلٹنٹس اور دیگر افسران بھی موجود تھےاجلاس کے دوران دونوں ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی حکام نے ناگ تا واشک روڈ کی تعمیراتی سرگرمیوں درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کیابریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے کام جاری ہے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ ناگ تا واشک روڈ ایک نہایت اہم شاہراہ منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے ضلع واشک کے عوام کو طویل اور دشوار گزار سفر سے نجات ملے گی انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے ناگ اور واشک کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی میں نمایاں آسانی پیدا ہوگی رکھنی ٹاؤن کی اپ لفٹنگ اور بازار کی ری ماڈلنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام کے بعد رکھنی کو بطور ڈویژنل ہیڈکوارٹر خصوصی اہمیت حاصل ہوئی ہےاس تناظر میں شہر کی بنیادی سہولیات سڑکوں نکاسی آب بازاروں اور شہری ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رکھنی شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور معیار کو یقینی بنایا جائےسیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے خواب کو شرمند? تعبیر کیا جائے.

خبرنامہ نمبر1408/2026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) نے سامان کی گڈز ڈیکلریشن کے اجرائ سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے کسٹم ایجنٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر بی آر اے کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور ہر ٹیکس پیریڈ کی ریٹرن بروقت جمع کرائیں تاکہ قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔بی آر اے کے مطابق کسٹم ایجنٹس کی جانب سے گڈز ڈیکلریشن کے اجرائ پر بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) کی شرح فی گڈز ڈیکلریشن 1000 روپے مقرر ہے۔ تمام متعلقہ سروس پرووائیڈرز پر لازم ہے کہ وہ مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی کو یقینی بنائیں اور مقررہ وقت کے اندر اپنی ٹیکس ریٹرنز جمع کرائیں۔اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ رہنے، ٹیکس واجبات ادا نہ کرنے یا بروقت ریٹرن جمع نہ کرانے کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف بی ایس ٹی ایس ایکٹ 2015 کے تحت جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ بی آر اے نے کسٹم ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی مکمل پیروی کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی اور جرمانوں سے بچا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1409/2026
قلات: کے عارضی آسامیوں پر بھرتیوں سے متعلق DRC ڈسترکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی کے زیرصدارت منعقدہوااجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثار احمدنورزئی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن فیمیل محترمہ فرزانہ احمدزئی ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفس سے آفتاب احمد جونیئر کلرک جونیئر کلرک محکمہ تعلیم قلات امان اللہ جونیئر کلرک اسرارسپرنٹنڈنٹ حاجی محمدابراہیم بنگلزئی نے شرکت کی اجلاس میں اعتراض جمع کرنے والے درخواست گزار کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔کمیٹی ممبران نے درخواست گزاروں کے اعتراضات پر فیصلے محفوظ کرلئے ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ محکمہ تعلیم قلات کے اساتذہ کی اسامیوں پر بھرتی عمل میں میرٹ کو یقینی بنایا جارہاہے کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیاجائیگا تمام تعلیمی اسناد کی ویریفکیشن کرایاجائیگاجن امیدواروں کے ڈگری جعلی نکلے انکے خلاف سخت قانونی کاروائی کرکے انکے خلاف مقدمہ درج کرلیاجائیگا اور تین سال تک کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیئے درخواست دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

خبرنامہ نمبر1410/2026
شہید سکندر آباد سوراب 17 فروری : سوراب میں ماہِ رمضان المبارک کے پیشِ نظر اشیائے خوردونوش کے نئے سرکاری نرخ مقرر کر دیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی کی سربراہی میں پرائس کنٹرول کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے نئی ریٹ لسٹ کی منظوری دی گئی. اجلاس میں تحصیلدار سوراب محمود احمد کرد، وائس چیئرمین ایم سی سوراب شیخ محمد یاسین سمالانی، پی ایس اے سی فضل لہڑی سمیت مختلف تجارتی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سوراب اور گردونواح کے علاقوں میں رائج قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد باہمی مشاورت سے رمضان المبارک کے لیے نئی پرائس لسٹ کو حتمی شکل دے دی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر شئے اکبر علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے، اسے ناجائز منافع خوری کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تمام تاجروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ نئے سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر 1412/2026
کوئٹہ،17 فروری:گرین پاکستان انیشیٹو (جی پی آئی) کے دوسرے مرحلے کے تحت بلوچستان کے 847 کسانوں میں 3.2 ارب روپے کے بلا سود قرضے تقسیم کئے گئے اس سلسلے میں کوئٹہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیرِ اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تقریب میں اعلیٰ فوجی اور سول افسران کی بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پر کسانوں میں چیک تقسیم کئے گئے اس سے قبل گرین پاکستان انیشیٹو کے پہلے مرحلے میں 12 کور ہیڈکوارٹرز کے تحت 257 کسانوں کو 685 ملین روپے کا بلا سود قرضہ فراہم کیا گیا تھا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا اس کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسرے مرحلے میں 35609 ایکڑ رقبے پر کاشت کے لیے یہ بلا سود قرضہ فراہم کی جا رہا ہے تقریب کے دوران گرین پاکستان انیشیٹو کی کامیابیوں پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے زراعت کو فروغ ملتا ہے جو ہماری برآمدات کا بڑا ذریعہ ہے ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان کسانوں کی فلاح و بہبود اور صوبے کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گی اس موقع پر کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان بھی موجود تھے بلاسود اور آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کو مقامی کسانوں نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا حکومت کا یہ اقدام کسان دوست اقدام ہے جس سے نہ صرف کسانوں کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ بنجر زمینیں زرخیز ہونگی جس سے کسان خوشحال ہوگا اور پاکستان میں زراعت کا نیا انقلاب آئے گا۔

خبرنامہ نمبر 1413/2026
لورالائی17 فروری:ڈی ایس پی صدر کریم مندوخیل کی زیرِ نگرانی رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے پیش نظر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام، امن کمیٹی کے اراکین، ایس ایچ او سٹی شریف موسخیل، انچارج ٹریفک منظور احمد اور دیگر پولیس افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال، سحری و افطاری کے اوقات میں خصوصی سیکیورٹی انتظامات، مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کی حفاظت، نمازِ تراویح کے اجتماعات کی نگرانی اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ڈی ایس پی صدر کریم مندوخیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک رحمت، برکت اور اخوت و بھائی چارے کا مہینہ ہے اور اس بابرکت مہینے میں قیامِ امن ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ مساجد و امام بارگاہوں کے اطراف مؤثر گشت، اضافی نفری کی تعیناتی اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
علمائے کرام اور امن کمیٹی کے اراکین نے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، صبر و برداشت اور اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے پر زور دیا۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا غیر معمولی صورتحال کی فوری اطلاع پولیس کو دی جائے گی تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، امن و استحکام اور رمضان المبارک کی برکتوں کے حصول کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

خبرنامہ نمبر 1413/2026
زیارت 17فروری: ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر رفیق مستوئی ،ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین،ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی نثاراحمد ترین،پی پی ایچ آئی افسر ریحان کاکڑ،ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر فرمان اللہ ڈرگ انسپکٹر عدیل احمد نے شرکت کی اجلاس میں محکمہ صحت کو فعال کرنے کے لیے مختلف فیصلے کئے گئے اجلاس میں ڈاکٹرز اور سٹاف کی تنخواہوں سے کٹوتی اور ان کی جواب طلبی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ تمام ہسپتالوں میں ادویات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ادویات کے سلسلے میں کوئی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ تمام ڈاکٹرزاورمددگار سٹاف ہسپتالوں میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور دکھی انسانیت کی خاطر مریضوں کا بروقت علاج کریں، عوام کو کسی بھی شکایت کا موقع نہ دیں عوامی شکایات پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔انہوں نے صحت جیسے اہم شعبے کی فعالیت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں اس سلسلے جو حکومتی وسائل ہے ان کو بروئے کار لایا جائے گا۔انہوں نے کہاغیرحاضر ڈاکٹرز کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر 1414/2026
لورالائی 17 فروری:لورالائی یونیورسٹی میں وزیر اعظم پاکستان یوتھ لیپ ٹاپس سکیم کے اجرا کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ تھے، جبکہ ان کے ہمراہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس لورالائی رینج جنید احمد شیخ، ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ، ایس ایس پی لورالائی ملک محمد اصغر اور لورالائی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر انجینئر احسان اللہ کاکڑ بھی موجود تھے۔ تقریب میں یونیورسٹی کے اساتذہ، ڈاکٹرز، پروفیسرز اور طلباء و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے طلباء و طالبات پر زور دیا کہ وہ وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپس سکیم سے مستفید ہو کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھاریں اور لیپ ٹاپس کو مثبت اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سکیم نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور انہیں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہے، لہٰذا طلباء صرف تفریح کے بجائے تحقیق، آن لائن تعلیم اور ہنر سیکھنے پر توجہ دیں تاکہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔تقریب کے اختتام پر مہمانانِ گرامی نے وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپس سکیم کے تحت منتخب طلباء و طالبات میں لیپ ٹاپس تقسیم کیے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

خبرنامہ نمبر 1415/2026
کوئٹہ 17فروری۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ امن کمیٹی / مذہبی ہم آہنگی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران امن و امان، بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے فروغ کے حوالے سے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، مختلف جامعات کے نمائندگان، کوئٹہ کے علماء کرام، انجمن تاجران اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ شرکاء نے ماہِ رمضان کے مقدس مہینے میں اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، جس میں معاشرتی ہم آہنگی اور امن و استحکام کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء، تاجر برادری اور انتظامیہ باہمی رابطے کو مضبوط بنائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بروقت نمٹا جا سکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر بھر میں مذہبی رواداری اور برداشت کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ ادارے مکمل رابطے میں رہیں گے۔رمضان المبارک کے دوران مساجد، امام بارگاہوں اور اہم مقامات پر سکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔تاجروں کے تعاون سے بازاروں میں نظم و ضبط اور عوامی سہولت کو یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کوئٹہ میں پائیدار امن، مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا انتشار کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے مشترکہ کردار ادا کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 1411/2026
RECAST
کوئٹہ، 17 فروری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ امور حکومت میں نظم و نسق کی مضبوطی، عوامی اعتماد کی بحالی اور مؤثر گورننس کا انحصار باصلاحیت، باکردار اور بااصول افسران پر ہوتا ہے عوامی خدمت کو محض سرکاری فریضہ نہیں بلکہ قومی امانت سمجھ کر ادا کرنا ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو بلوچستان سول سروسز اکیڈمی میں اسسٹنٹ کمشنرز اور سیکشن آفیسرز کے پہلے پری سروس ٹریننگ کورس کے اختتام پر افسران میں سرٹیفکیٹس کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان سول سروسز اکیڈمی عبدالحفیظ جمالی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج سے آپ سب کی اصل آزمائش عملی میدان میں شروع ہو رہی ہے آپ کی پیشہ ورانہ زندگی کا یہ مرحلہ خدمت، دیانت اور قیادت کے امتحان کا آغاز ہے انہوں نے کہا کہ دیانت داری کامیابی کی کنجی ہے جبکہ کرپشن ایک بڑا چیلنج ہے جتنی دوری آپ کرپشن سے اختیار کریں گے اتنی ہی عزت اور ترقی آپ کا مقدر بنے گی آپ کے نصیب میں جو رزق لکھا ہے وہ آپ کو مل کر رہے گا لہٰذا غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی سازی کا اختیار آئینِ پاکستان نے منتخب قیادت کو دیا ہے اس لیے حکومت کی ذمہ داری پالیسی تشکیل دینا ہے جبکہ افسران کا کام بغیر کسی “اگر مگر” کے ان پالیسیوں اور احکامات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا کہ ہم پالیسی کی تشکیل جبکہ افسران عمل درآمد کے زمہ دار ہیں اس درمیانی خلیج کو ختم کرکے ملک و قوم کی خدمت افسران کا نصب العین ہونا چاہئے وزیر اعلیٰ نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ صوبے کے دور دراز علاقوں سے خالص میرٹ پر منتخب ہو کر یہاں تک پہنچے ہیں جو اس امر کا ثبوت ہے کہ میرٹوکریسی ہی نظام کی مضبوطی کی بنیاد ہے اسی جذبے کے ساتھ عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور بلوچستان کے اس عام آدمی کو ریلیف فراہم کریں جو مختلف مشکلات اور مصائب کا سامنا کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ غیر متوازن ترقی صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے تاہم غیر متوازن ترقی کے نام پر بندوق اٹھا کر تشدد کسی بھی طرح قابل قبول نہیں تشدد کے ذریعے ریاست کو توڑنے کی مذموم کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اس لاحاصل جنگ سے بلوچوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی انہوں نے زور دیا کہ مٹھی بھر دہشتگرد ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں مگر ریاست تا قیامت قائم رہے گی اور ایسے عناصر اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے وزیر اعلیٰ نے اسے تشویشناک قرار دیا کہ بیوٹمز یونیورسٹی کا ایک پروفیسر دہشتگردی میں ملوث پایا گیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ منظم انداز میں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ نہ صرف خود ریاست مخالف پراپیگنڈے سے دور رہیں بلکہ عوام میں شعوری آگاہی بھی پیدا کریں پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 5 ریاست کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط وفاداری کا تقاضا کرتا ہے اور ہر سرکاری افسر پر لازم ہے کہ وہ اس آئینی ذمہ داری کو مقدم رکھے انہوں نے کہا کہ نظم و نسق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں تاریخ میں پہلی بار بلوچستان سول سروسز اکیڈمی میں زیر تربیت ایک افسر کے خلاف ضابطہ جاتی کارروائی عمل میں لائی گئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہر انسان نے ایک دن دنیا سے رخصت ہونا ہے اس لیے ایسی عملی زندگی گزاریں کہ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے اصل کامیابی عہدے میں نہیں بلکہ کردار اور خدمت میں پوشیدہ ہے تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی کے ڈیلی ویجز ملازمین کو کنٹریکچول بنیادوں پر تعینات کرنے اور اکیڈمی کی لائبریری کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنے کے احکامات جاری کئے.

خبرنامہ نمبر 1416/2026
لورالائی؛17فروری: ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی زیر نگرانی محکمہ ایجوکیشن میں خالی آسامیوں پر بھرتی کے سلسلے میں امیدواروں کے انٹرویوز کا عمل ڈی سی آفس لورالائی میں جاری ہے۔ انٹرویوز کے اس عمل میں ضلع بھر سے بڑی تعداد میں امیدوار شریک ہو رہے ہیں اور اپنی تعلیمی اسناد و دیگر دستاویزات کے ساتھ مقررہ وقت پر ڈی سی آفس میں پیش ہو رہے ہیں۔
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل، اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نور علی کاکڑ بھی موجود ہیں اور بھرتی کے عمل کی نگرانی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جبکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل و فیمیل) اور دیگر متعلقہ اسٹاف بھی انٹرویوز کے دوران موجود رہا۔ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم میں مختلف خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے یہ انٹرویوز لیے جا رہے ہیں تاکہ ضلع لورالائی کے تعلیمی اداروں میں درپیش عملے کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق بھرتی کا عمل مکمل طور پر شفاف، میرٹ اور قانون کے مطابق مکمل کیا جا رہا ہے اور کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی خالی آسامیوں کو پُر کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ سکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی کمی کو ختم کرکے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امیدوار انٹرویو کے دوران اپنی تعلیمی قابلیت، تجربہ اور دیگر معیار پر پورا اترنے کی کوشش کریں کیونکہ میرٹ ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔ انٹرویو کے دوران امیدواروں سے مختلف سوالات کیے گئے اور ان کی تعلیمی قابلیت و کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ریکارڈ کا جائزہ بھی لیا گیا۔آخر میں انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ انٹرویوز کا عمل مکمل ہونے کے بعد کامیاب امیدواروں کی فہرست میرٹ کی بنیاد پر تیار کی جائے گی اور جلد ہی نتائج کا اعلان کر دیا جائے۔

خبرنامہ نمبر 1417/2026
کوئٹہ,پارلیمانی سیکرٹری برائے بہبودِ آبادی پرنس آغا احمد عمر احمدزئی کی زیرِ صدارت محکمہ بہبودِ آبادی بلوچستان کے زیرِ اہتمام تیسری صوبائی ٹاسک فورس (PTF) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری بہبودِ آبادی ظفر بلیدی، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ بہبودِ آبادی مسٹر ایوب بنگلزئی، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ شیہک بلوچ، سپیشل سیکرٹری فنانس محمد عارف، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر غلام فاروق، سپیشل سیکرٹری سکولز عبدالسلام اچکزئی، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اشرف گچکی، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ بہبودِ آبادی عبدالباسط بزدار، روشن خورشید بروچہ، صوبائی نمائندگان UNFPA، WHO، FPAP، PPHI اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ صوبے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مؤثر نظم و نسق کے لیے صوبائی ٹاسک فورس ایک کلیدی پلیٹ فارم ہے، جہاں بین المحکماتی ہم آہنگی اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے جامع حکمتِ عملی مرتب کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران مانع حمل ادویات کی خریداری، پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 73 افسران کی تعیناتی، ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل کی صوبائی کابینہ سے منظوری اور نجی ہسپتالوں کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے معاہدات اہم پیش رفت ہیں۔انہوں نے بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے اب تک 15 ہوم بیسڈ سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، 151 سروس پرووائڈرز کو تربیت فراہم کی گئی ہے اور مختلف اضلاع و ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں آگاہی و ایڈووکیسی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے زور دیا کہ پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں دفاتر کی تعمیر کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے جائیں۔ مزید برآں، ابلاغی و آگاہی سرگرمیوں اور میڈیا مہمات کے لیے ہر سال 100 ملین روپے مستقل بنیادوں پر مختص کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ کمیونیکیشن اور ایڈووکیسی کو پائیدار بنیادوں پر جاری رکھا جا سکے۔ انہوں نے موبائل سروس یونٹس کی تعداد 56 سے بڑھا کر 76 کرنے، ہر ضلع میں مزید 10 موبلائزرز کی تعیناتی، خدمات کے انضمام (Integration) کو مضبوط بنانے اور کموڈیٹیز سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔اجلاس میں پی ٹی ایف کے اراکین نے متفقہ طور پر ترقیاتی بجٹ میں اضافے، کمیونیکیشن و ایڈووکیسی کے لیے مستقل فنڈنگ، مؤثر میڈیا کمپینز کے اجرا، خدمات کے بہتر انضمام اور مانع حمل ادویات کی مسلسل دستیابی (Commodity Security) کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر سیکرٹری بہبودِ آبادی ظفر بلیدی نے بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی مؤثر عملدرآمد کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی؛ پہلی کمیٹی مالی امور اور بجٹ کی نگرانی کرے گی جبکہ دوسری کمیٹی خدمات کی فراہمی اور کارکردگی کا جائزہ لے گی۔اجلاس میں صوبے میں آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے اور بین المحکماتی و بین الادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کی۔

خبرنامہ نمبر 1418/2026
خضدار 17 فروری: میونسپل کارپوریشن خضدار نے شہر کو خوبصورتی بنانے کے لیئے ایک ماہ کی طویل صفائی ستھرائی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی اور چیف آفیسر خضدار وڈیرہ محمد صالح جاموٹ ڈپٹی میئر خضدار جمیل قادر زہری کی براہ راست نگرانی میں صفائی کی یہ مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد شہر کے مختلف علاقوں میں برساتی نالوں، سیوریج لائنوں اور گلی محلوں کو مکمل طور پر صاف ستھرا کرنا ہے، تاکہ خضدار کو صوبے کا سب سے صاف اور خوبصورت شہر برقرار رکھا جا سکے۔مہم کے پہلے مرحلے میں سیول کالونی، ٹیچنگ ہاسپیٹل ایریا، چاندنی چوک، محلہ گزگی، زرینہ کھٹان، بالینہ کھٹان، بازگیر، جھالاوان کمپلیکس، کوشک سمیت دیگر اہم علاقوں کے مین برساتی نالوں اور سیوریج میں جمع کوڑے کے بڑے ڈھیر کو ہیوی مشینری کی مدد سے ہٹایا جا رہا ہے۔ یہ کام مسلسل ایک ماہ تک جاری رہے گا، جس کے بعد مرحلہ وار پورے شہر کی گلیوں اور محلوں میں صفائی کا عمل وسعت پکڑے گا۔میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی نے مہم کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ خضدار شہر ہم سب کا مشترکہ گھر ہے، اسے صاف ستھرا رکھنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شہریوں کو صاف شفاف ماحول اور خوبصورت شہر فراہم کرنے کے لیے یہ ایک ماہہ صفائی مہم شروع کی گئی ہے، جو شہر کی رونق میں اضافہ کرے گی۔چیف آفیسر وڈیرہ محمد صالح جاموٹ نے اس موقع پر کہا کہ میونسپل کارپوریشن خضدار کے عملہ اور ورکرز محنت، خلوص اور نیک نیتی سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ پلاننگ کے تحت اٹھائے گئے اقدامات سے خضدار صفائی کے اعتبار سے صوبے میں سرفہرست ہے۔ ہم اس عمل کو بتدریج جاری رکھیں گے تاکہ تاجر، دکاندار اور عام شہریوں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈپٹی میئر خضدار جمیل قادر زہری سمیت دیگر افسران اور عملہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کہ خضدار شہر کی صفائی اور ترقی ہماری اولین ترجیح ہے۔میئر میر محمد آصف جمالدینی، چیف آفیسر وڈیرہ محمد صالح جاموٹ اور ڈپٹی میئر خضدار جمیل احمد نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے گلی محلوں میں صفائی سے متعلق کوئی مسئلہ ہو تو وہ براہ راست رابطہ کریں، عملہ فوری طور پر ان کے علاقے پہنچ کر مسئلہ حل کرے گا۔یہ مہم نہ صرف شہر کی رونق دوبالا کرے گی بلکہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان تعاون کو بھی مزید مضبوط بنائے گی۔ میونسپل کارپوریشن خضدار کی یہ کاوشیں شہر کو صوبے کا ماڈل شہر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

خبرنامہ نمبر 1419/2026
کوئٹہ 17فروری۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران انتظامات اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران نے شرکت کی، جبکہ (بی آئی ایس پی) اور (بی سی آر اے) کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران ماہِ رمضان کے لیے جامع پلان کو حتمی شکل دے دی گئی۔ سکیورٹی پلان، ٹریفک مینجمنٹ پلان پرائس کنٹرول اور اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل فراہمی کے لیے مؤثر حکمتِ عملی ترتیب دی گئی۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ رمضان المبارک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام محکمے باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت فرائض سرانجام دیں تاکہ شہریوں کو پرامن اور سہولتوں سے بھرپور ماحول میسر آسکے۔

خبرنامہ نمبر 1420/2026
خضدار 17 فروری :وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے “تعلیمی ایمرجنسی” وژن اور حکومتِ بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے، اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی نے آج گورنمنٹ بوائز ہائی سکول وڈھ میں جاری میٹرک کے سالانہ امتحانات کے مراکز کا اچانک دورہ کیا ۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی نے امتحانی عمل، عملے کی تعیناتی اور سیکیورٹی اقدامات کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے امتحانی مراکز میں نظم و ضبط کی مثالی صورتحال کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ امتحانی عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی نےکہا کہ بلوچستان کا مستقبل ہمارے نوجوانوں کی بہتر تعلیم اور شفاف امتحانی نظام سے وابستہ ہے۔ حکومتِ بلوچستان کی پالیسی کے تحت امتحانات میں ‘نقل سے پاک کلچر’ کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ میرٹ کی پامالی کسی صورت قبول نہیں، اور جو عناصر اس عمل میں کوتاہی برتیں گے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ امتحانی مراکز کی کڑی نگرانی کر رہی ہے تاکہ مستحق اور محنتی طلبہ کی حق تلفی نہ ہو اور صوبے میں تعلیمی معیار کو بلند کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1421/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے انسدادِ پولیو مہم (این آئی ڈی) فروری کے چوتھے اور آخری روز منعقدہ کیچ اَپ ڈے کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، World Health Organization کے ڈویژنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اشرف خان، ایس ایچ او پولیس گوادر محسن بلوچ، ڈسٹرکٹ سرویلنس آفیسر ڈاکٹر فاروق بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران و اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کیچ اَپ ڈے کی مجموعی پیش رفت، کوریج اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی پر جامع بریفنگ دی گئی۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے آگاہ کیا کہ کیچ اَپ ڈے کے موقع پر تمام مقررہ اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے گئے۔ خصوصی حکمتِ عملی کے تحت ناٹ اویلیبل بچوں، ریفیوزل کیسز، زیرو ڈوز بچوں اور دیگر رہ جانے والے خلا کو مؤثر انداز میں کور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے انسدادِ پولیو مہم میں نمایاں کارکردگی پر محکمہ صحت، پولیو ٹیموں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ مہمات میں بھی مؤثر نگرانی، مربوط حکمتِ عملی اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع گوادر کو پولیو فری بنانے کے قومی ہدف کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر1422/2026
گوادر: ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (خواتین) زراتون بلوچ نے ضلع کے مختلف تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول شینیکانی ڈہر اور گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سربندن کا معائنہ کیا، جہاں جاری میٹرک امتحانات کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے امتحانی مراکز میں نظم و ضبط، شفافیت اور سہولیات کی فراہمی کو سراہتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایات جاری کیں کہ امتحانی عمل کو مزید مؤثر اور منظم بنایا جائے تاکہ طالبات کو پرامن اور سازگار ماحول میسر آ سکے۔ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن نے اسکولوں میں تدریسی عمل کا بھی جائزہ لیا اور اساتذہ کرام، کلریکل اسٹاف اور پی ٹی ایس ایم سی ممبران کے ساتھ الگ الگ اجلاس منعقد کیے۔ اجلاسوں میں تعلیمی معیار کی بہتری، حاضری کی صورتحال، اسکول مینجمنٹ، صفائی ستھرائی اور انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طالبات کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور جدید تدریسی طریقہ کار کو اپنائیں۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (خواتین) زراتون بلوچ نے اسپرنگ شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔ انہوں نے اساتذہ اور طالبات کے ہمراہ پودے لگا کر ماحولیاتی تحفظ اور سرسبز و شاداب تعلیمی ماحول کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں معاون ہے بلکہ طلبہ میں ماحول دوستی اور ذمہ داری کے احساس کو بھی اجاگر کرتی ہے۔دورے کے اختتام پر انہوں نے اسکول انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ تعلیمی معیار، نظم و ضبط اور ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں تاکہ ضلع میں معیاری تعلیم کے فروغ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

خبرنامہ نمبر1423/2026
تربت۔ 17 فروری 2026: یونیورسٹی آف تربت کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے پانچویں سمسٹر کے طلبہ وطالبات نے اپنے مطالعاتی دورے کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر آفس تربت کا دورہ کیا، جہاں انہیں ضلعی انتظامیہ کیچ کے امور اور عملی سیاست کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)اسداللہ بلوچ نے خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں طلبہ وطالبات سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے سیاسیات کے عملی تقاضوں، ضلعی انتظامیہ کے کردار اور عوامی خدمت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنی تعلیم کو عملی زندگی سے جوڑ کر ملک و قوم کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں۔بعد ازاں پی اے ٹو ڈی سی شیر جان بلوچ اور سپرنٹنڈنٹ حضور بخش بلوچ کے ہمراہ طلبہ وطالبات نے ڈی سی آفس کی مختلف برانچز کا تفصیلی دورہ کیا۔ دریں اثنائ ہر برانچ کے انچارج نے اپنے اپنے شعبے کے فرائض، دفتری نظام اور عوامی مسائل کے حل کے طریقہ کار پر جامع بریفنگ دی، جس سے طلبہ وطالبات کو عملی سرکاری امور کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔اس موقع پر طلبہ وطالبات نے اس مطالعاتی دورے کو نہایت مفید اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں کتابی علم کے ساتھ ساتھ عملی مشاہدے کا قیمتی تجربہ حاصل ہوا ہے۔

خبرنامہ نمبر1424/2026
ہرنائی :ڈپٹی کمشنر آفس میں پولیو مہم کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیو ورکرز کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں متعلقہ صحت حکام اور عملے نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے پولیو ورکرز کی محنت، لگن اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے فرنٹ لائن ورکرز کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے بہترین کارکردگی دکھانے والے ورکرز میں تعریفی اسناد تقسیم کیں اور آئندہ بھی بھرپور ذمہ داری اور خلوص نیت کے ساتھ خدمات سرانجام دینے کی تلقین کی۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع ہرنائی کو پولیو فری بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر1425/2026
ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا تفصیلی اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، پروگرام منیجرز اور دیگر کمیٹی اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں، رورل ہیلتھ سینٹرز اور بیسک ہیلتھ یونٹس کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، طبی آلات کی فعالیت اور صفائی و ستھرائی کے انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کا نظام مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام طبی مراکز میں اسٹاف کی حاضری یقینی بنائی جائے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں صحت کے جاری منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور مزید بہتری کے لیے اہم انتظامی فیصلے کیے گئے۔3

Handout 1426/2026
Quetta, The Third Provincial Task Force (PTF) meeting of the Population Welfare Department, Government of Balochistan, was held under the chairmanship of the Parliamentary Secretary for Population Welfare, Prince Agha Ahmed Omar Ahmedzai.
The meeting was attended by Secretary Population Welfare, Mr. Zafar Buledi; Additional Secretary, Population Welfare Department, Mr. Ayoub Bangulzai; Special Secretary Health, Mr. Shehak Baloch; Special Secretary Finance, Mr. Muhammad Arif; Director General Health Services, Dr. Ghulam Farooq; Special Secretary Schools, Mr. Abdul Salam Achakzai; Director Social Welfare, Mr. Ashraf Gichki; Deputy Secretary, Population Welfare Department, Mr. Abdul Basit Buzdar; Ms. Roshan Khurshid Broacha; Provincial Representatives of UNFPA, WHO, FPAP, PPHI; and other development partners.
Addressing the meeting, the Parliamentary Secretary stated that the Provincial Task Force serves as a key platform for coordinated, multi-sectoral efforts to address the challenges of rapid population growth in the province. He highlighted major achievements during FY 2025–26, including procurement of contraceptives, recruitment of 73 officers through the Public Service Commission, approval of the Reproductive Health Bill by the Provincial Cabinet, and strengthening of Public-Private Partnerships through agreements with private hospitals.He further informed that 15 home-based centers have been established, 151 service providers have been trained, and advocacy and awareness events have been conducted across various districts and divisional headquarters to promote family planning.
The Parliamentary Secretary emphasized the need to allocate Rs. 2 billion under the development budget for the construction of departmental offices. He also stressed that Rs. 100 million should be allocated annually on a permanent basis for communication and advocacy, particularly for sustained media campaigns. He proposed increasing the number of mobile service units from 56 to 76, deploying 10 additional mobilizers in each district, strengthening service integration, and ensuring commodity security for uninterrupted availability of contraceptives.The PTF members unanimously agreed on the enhancement of the development budget, provision of permanent funding for communication and advocacy, launching of effective media campaigns, intensified efforts toward service integration, and strengthened measures for commodity security.
On the occasion, Secretary Population Welfare Mr. Zafar Buledi informed the participants that two committees would be constituted to further strengthen implementation: one to oversee financial matters and budget monitoring, and the other to review service delivery and program performance.The meeting reaffirmed the Government’s commitment to addressing population challenges through coordinated interdepartmental collaboration and support from development partners.

خبرنامہ نمبر 1428/2026
ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج اور دیگر تعلیمی افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں تدریسی عمل، اساتذہ اور عملے کی حاضری، طلبہ کی حاضری، بنیادی سہولیات اور درپیش انتظامی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے اور اساتذہ کی حاضری پر خصوصی نظر رکھی جائے۔ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، عمارتوں کی مرمت اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر تعلیمی بہتری کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

خبرنامہ نمبر 1429/2026
ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت تاریخِ پیدائش کی تصحیح سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف سرکاری و نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور اپنی تاریخِ پیدائش کی درستگی کے لیے درخواستیں پیش کیں۔
متعلقہ افراد نے کمیٹی کے روبرو اپنے تعلیمی اسناد، شناختی دستاویزات اور دیگر ثبوت پیش کیے۔ کمیٹی نے تمام کیسز کا انفرادی طور پر تفصیلی جائزہ لیا اور قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلے صادر کیے۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام معاملات کو شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر نمٹایا جائے تاکہ سرکاری ریکارڈ میں درستگی برقرار رہے اور شہریوں کو درپیش مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video