خبرنامہ نمبر1321/2026
سنجاوی 13فروری ۔صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ کی قیادت میں سنجاوی میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد کی شاندار ریلی نکالی گئی ،ریلی میں ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی،قبائلی عمائدین ،سول سوسائٹی اور مختلف مکاتب فکر کے ہزاروں افراد نے سبز ہلالی پرچموں کے ساتھ شرکت کی ریلی کے شرکائ نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے سنجاوی بازار کو پاکستان کے پرچموں سے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے اس کی حفاظت خون پسینہ ایک کرکے کریں گے اور ہم سب مل کر ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کریں گے ہم اپنے فوج اور دیگر سیکورٹی کے ساتھ ملکر شانہ بشانہ کھڑے ہیں،ملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے پاک افواج اور سویلن شہداء کی قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انکی لازوال قربانیاں ہم سب کے لیے باعث فخر ہیں ا ور ہم سب نے ملکر پاک افواج اور حکومت کے ہاتھ مزید مضبوط کرنے ہے۔انہوں نے کہ گزشتہ دنوں فتنہ الخوارج نے جس طرح کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع پر بزدلانہ حملہ کی کوشش کی اس کو ہمارے فوج اور دیگر اداروں نے قربانی دیکر بری طرح ناکام کیا،اور دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا جو کہ قابل قدر ہے ،پاک فوج کے ساتھ ملک کی پچیس کروڑ عوام پیچھے کھڑی ہے,آج کی شاندار ریلی میںں ہزاروں افراد کی شرکت نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہاں کے لوگ محب وطن پاکستانی اور پاک فوج سے محبت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل پاکستان کے ازلی دشمن ہے ہندوستان پاکستان کے بننے کے بعد پاکستان کو توڑنے کو کوششیں کررہے ہیں لیکن ہر وقت ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے. انہوں نے کہا پاکستان ہمیں کسی نے تحفے میں نہیں دیا ہے بلکہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بزرگوں نے اپنے خون کی قربانی دیکر حاصل کیا،اس مملکت خداداد کی چپے چپے کہ حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔انہوں نے کہا پوری پاکستان قوم پاک فوج کے ساتھ ہے بلوچستان کے عوام پاک فوج کی پالیسیوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں دہشتگردوں کی بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں ہم سٹیٹ کی پالیسیوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1322/2026
گوادر 12 فروری ۔ آج ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان کی زیرِ صدارت جی ڈی اے کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اہم پروگریس ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف انجینیئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈ نادر بلوچ، سپرنٹنڈنگ انجینیئر شے آصف غنی، پی ڈی واٹر میرجان بلوچ سمیت دیگر انجینیئرز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں جی ڈی اے اولڈ ٹاون بحالی پروجیکٹ کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں شاہی بازار، جنت بازار، سورگ دل فٹبال گراونڈ، ینگ جان فٹسال گراونڈ قدیم ثقافتی ورثہ کی بحالی، واٹر منصوبہ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں ڈرینج و سیوریج لائنز کی تنصیب، سڑکوں اور گلیوں کی توسیع و پختگی کے منصوبے شامل تھے۔اسی طرح پلیری کور ہور میرین ڈرائیو پر زیر تعمیر کازوے سے متعلق بھی ڈائریکٹر جنرل کو پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ انجینیئرز نے اپنے اپنے منصوبوں سے متعلق فزیکل اور فنانشل پیشرفت اور درپیش چیلنجز سے متعلق بھی ڈائریکٹر جنرل کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نے تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کی سخت ہدایت کی۔ڈائریکٹر جنرل نے ترقیاتی کاموں کے دوران انجینیئرز کی عدم موجودگی سے متعلق عوامی شکایات پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے کے ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی مقصد شہر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اور عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کو میرین ڈرائیو سید ظہور شاہ ہاشمی چوک سے بوٹ بیسن تک متاثرہ اسٹریٹ لائٹس سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا، جس پر بتایا گیا کہ سید ہاشمی چوک سے بوٹ بیسن تک جدید سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا کام جلد شروع کر دیا جائے گا تاکہ متاثرہ لائٹس کو بحال کیا جا سکے۔اسی طرح جی ڈی اے آفس کی سولرائزیشن سے متعلق پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے ادارے کی مالیاتی امور سے متعلق ایک الگ اجلاس کی صدارت کی، جس میں ڈائریکٹر فنانس ذاکر مجید اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس عبدالشکور نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کو مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران مختلف اقدامات اور کفایت شعاری کے باعث ادارے کو تقریباً لاکھوں روپے کی بچت ہوئی ہے، جو ایک مثبت پیشرفت ہے۔اجلاس میں ادارے کو خود کفیل بنانے اور ریوینیو جنریشن میں اضافے کے لیے زیرِ غور منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے مالی نظم و ضبط کو مزید بہتر بنانے اور آمدن بڑھانے کے لیے مزید موثر اقدامات کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1323/2026
استامحمد13فروری ۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کی تعمیر سے تمام ضلعی افسران کے دفاتر کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف محکموں کے دفاتر ایک ہی چھت تلے قائم ہونے سے نہ صرف انتظامی امور میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے مختلف دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ اس اقدام سے عوامی شکایات اور سروسز کی فراہمی کا عمل مزید آسان اور موثر ہو جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1324/2026
گوادر13فروری ۔ ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی نے ضلع گوادر کے علاقوں چر بندن (پسنی) اور بسول (اورماڑہ) میں قائم بنیادی مراکز صحت (BHU) کا مانیٹرنگ و فیسلیٹیشن دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے طبی عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹرز، ای پی آئی سائٹس (Expanded Program on Immunization) اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے مراکز میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، مریضوں کو دستیاب ادویات اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ بچوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔اس موقع پر دونوں بی ایچ یوز کو ضروری ادویات بھی فراہم کی گئیں تاکہ مقامی آبادی کو علاج معالجے کی سہولیات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع بھر کے صحت مراکز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1324/2026
استامحمد13فوری ۔محمد رمضان پلال، ڈپٹی کمشنر استامحمد نے ایکسین بلڈنگز محمد یٰسین اور اسسٹنٹ کمشنر محمد رمضان اشتیاق کے ہمراہ زیرِ تعمیر ڈسٹرکٹ کمپلیکس استامحمد کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسین بلڈنگز محمد یٰسین، ایکسین بی اینڈ آر عبدالستار، متعلقہ افسران اور ٹھیکیدار بھی موجود تھے۔ایکسین بلڈنگز نے ڈپٹی کمشنر کو جاری تعمیراتی کاموں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور تکمیلی مراحل کے حوالے سے جامع بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کو سال 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر آفس اور اسٹاف کے چیمبرز کو مارچ کے اختتام تک تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر بلاکس کو بھی مقررہ مدت سے قبل مکمل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے کمپلیکس کے مختلف شعبہ جات، دفاتر، مرکزی ہال، انتظار گاہوں، پارکنگ ایریا اور دیگر سہولیات کا باریک بینی سے معائنہ کیاانہوں نے تعمیراتی معیار، کام کی رفتار اور استعمال ہونے والے میٹریل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ منصوبے میں اعلیٰ معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے اندر کام کی تکمیل یقینی بنائی جائے اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کی تکمیل سے ضلع کے مختلف سرکاری دفاتر ایک ہی چھت تلے منتقل ہو جائیں گے، جس سے انتظامی امور میں نمایاں بہتری آئے گی اور عوام کو سہولت میسر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہریوں کو بروقت، آسان اور باوقار انداز میں سرکاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہےانہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کی روزانہ کی بنیاد پر موثر نگرانی کی جائے، پیش رفت رپورٹ باقاعدگی سے پیش کی جائے اور کسی بھی تکنیکی مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ منصوبہ جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچ کر عوام کے لیے سہولت کا باعث بن سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1325/2026
کوئٹہ13 فروری ۔ سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ کی زیرِ صدارت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جائیدادوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف میٹروپولیٹن آفیسر نظر زہری، ایڈیشنل سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی ثناء اللہ قریش ، ایڈمن آفیسر محکمہ بلدیات محمد شاہد، لا آفیسر عبداللہ ایڈووکیٹ سمیت محکمہ بلدیات و دیہی ترقی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران میٹروپولیٹن کارپوریشن کی مختلف جائیدادوں، ان کے قانونی امور، لیز، کرایہ جات اور ریونیو سے متعلق معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ متعلقہ حکام نے جائیدادوں کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل اور آمدن میں اضافے کے امکانات کے حوالے سے بریفنگ دی۔سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جائیدادیں ایک قیمتی اثاثہ ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کو شفاف اور موثر انداز میں محکمہ بلدیات کے اداروں کے ذریعے شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریونیو میں اضافے کے ذریعے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و مرمت، سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور گلی محلوں میں صفائی کے نظام کو موثر بنانے جیسے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جار ہیں تاکہ کوئٹہ کے شہریوں کی روزمرہ زندگی میں مثبت اور واضح تبدیلی لائی جا سکے۔سیکرٹری بلدیات نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جائیدادوں سے متعلق تمام قانونی و انتظامی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، واجبات کی وصولی کو یقینی بنایا جائے اور شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے ریونیو میں اضافہ کیا جائے تاکہ ادارے کی کارکردگی مزید بہتر ہو اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ایک فعال، خود کفیل اور عوام دوست ادارہ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1326/2026
زیارت 13فروری ۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے سنجاوی میں پاکستان زندہ باد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے پیارے وطن پاکستان سے محبت کے اظہار کے لیے جمع ہوئے ہیں پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں، شہیدوں کے لہو اور قائدین کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملک بے شمار قربانیوں کے بعد ملا۔ قائداعظم نے ہمیں اتحاد، ایمان اور تنظیم کا درس دیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان اصولوں پر چل کر اپنے وطن کو مضبوط بنائیں۔آپ پاکستان کا روشن مستقبل ہیں، اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ نفرت، تعصب ا کو ختم کر کے محبت، بھائی چارہ اور اتحاد کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پاک فوج اور تمام سیکورٹی اداروں پر فخر ہے اور ہم پاکستان کی دفاع سلامتی کے لیے بھر پور کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1327/2026
کوئٹہ13 فروری۔سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ کی زیرِ صدارت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جائیدادوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف میٹروپولیٹن آفیسر نظر زہری، ایڈیشنل سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی ثناء اللہ قریش ، ایڈمن آفیسر محکمہ بلدیات محمد شاہد، لاء آفیسر عبداللہ ایڈووکیٹ سمیت محکمہ بلدیات و دیہی ترقی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران میٹروپولیٹن کارپوریشن کی مختلف جائیدادوں، ان کے قانونی امور، لیز، کرایہ جات اور ریونیو سے متعلق معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ متعلقہ حکام نے جائیدادوں کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل اور آمدن میں اضافے کے امکانات کے حوالے سے بریفنگ دی۔سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جائیدادیں ایک قیمتی اثاثہ ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کو شفاف اور موثر انداز میں محکمہ بلدیات کے اداروں کے ذریعے شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریونیو میں اضافے کے ذریعے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و مرمت، سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور گلی محلوں میں صفائی کے نظام کو موثر بنانے جیسے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جار ہیں تاکہ کوئٹہ کے شہریوں کی روزمرہ زندگی میں مثبت اور واضح تبدیلی لائی جا سکے۔سیکرٹری بلدیات نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جائیدادوں سے متعلق تمام قانونی و انتظامی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، واجبات کی وصولی کو یقینی بنایا جائے اور شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے ریونیو میں اضافہ کیا جائے تاکہ ادارے کی کارکردگی مزید بہتر ہو اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ایک فعال، خود کفیل اور عوام دوست ادارہ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1328/2026
گوادر13فروری ۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے قومی انسدادِ پولیو مہم (این آئی ڈی فروری) کا باقاعدہ افتتاح ایک بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر کیا۔ افتتاحی تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈی ایس او ڈاکٹر فاروق بلوچ سمیت متعلقہ افسران اور محکمہ صحت کے نمائندگان نے شرکت کی۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ? صحت کے حکام نے بتایا کہ انسدادِ پولیو مہم 14 فروری بروز ہفتہ سے شروع ہو کر 17 فروری تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران ضلع بھر کی 20 یونین کونسلوں میں پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاوکے قطرے پلائے جائیں گے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے مطابق ضلع میں 35 ہزار 664 بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ پولیو ایک موذی اور لاعلاج بیماری ہے جس سے بچاو کا واحد موثر ذریعہ ویکسینیشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ انسدادِ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک کے بچوں کو لازمی طور پر پولیو سے بچاو کے قطرے پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قومی مہم کی کامیابی کے لیے سیاسی جماعتوں، سماجی و سیاسی کارکنوں، علماءکرام، اساتذہ، والدین اور معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ضلع گوادر کو پولیو فری بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1329/2026
کچھی13فروری ۔ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن ریٹائرڈ جمعہ داد خان مندوخیل کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر مچھ لیاقت علی جتوئی نے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے امتحانی مرکز گورنمنٹ ہائی سکول مچھ کا تفصیلی دورہ کیا دورے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے امتحانی کمروں کا معائنہ کیا اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات، بیٹھنے کے انتظامات، روشنی، پنکھوں اور سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا انہوں نے امتحانی عملے کو ہدایت کی کہ نقل کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے تاکہ امتحانات شفاف اور پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں اس موقع پر سینٹر سپرنٹنڈنٹ نے جاری امتحانی عمل کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام انتظامات بورڈ کی ہدایات کے مطابق مکمل کیے گئے ہیں اور سکیورٹی اہلکار بھی تعینات ہیں اسسٹنٹ کمشنر نے طلبہ سے بھی مختصر گفتگو کی اور انہیں محنت اور دیانت داری کے ساتھ امتحان دینے کی تلقین کی انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح صاف و شفاف امتحانات کا انعقاد ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1330/2026
کوئٹہ 13فروری ۔بلوچستان پولیس نے صوبہ بھر میں جرائم پیشہ عناصر منشیات فروشوں، اشتہاری، مفرور سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری مہم کے خصوصی کارروائیوں میں 173 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 12 مسروقہ گاڑیاں، 42 موٹر سائیکلیں، 17 موبائل فون، 153 پسٹل و ریوالور، 20 کلاشنکوف، 1397 کارتوس،119میگزین برآمد کرنے کے علاوہ9 مغویوں کو بھی بازیاب کرایا۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کی خصوصی ہدایت پر بلوچستان پولیس نے صوبہ بھر میں منشیات فروشوں، جرائم پیشہ عناصر، موٹر سائیکل گاڑیاں، موبائل فون چھیننے، چوری راہزنی سمیت دیگر مقدمات میں مطلوب اشتہاری، مفرور ملزمان کے خلاف خصوصی مہم کے دوران 173ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 153 پسٹل و ریوالور ،20 کلاشنکوف ، 10 شارٹ گن،1397 کارتوس ، 119میگزین ،33کلو 30 گرام دھماکہ خیز مواد ،1خود کش جیکٹ ، 59دستی بم قبضے میں لی۔ جبکہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 230 ملزمان کو حراست میں لیکر ان سے 2845.24چرس ، 2443.756 گرام آئس شیشہ، 114 گرام ہیروئن , 15.740 افیوم ، 60 گرام مارفین ، 1.245 کرسٹل،1132شراب کی بوتلیں اور 564بیئر کین برآمد کیں۔ اس کے علاوہ472 مطلوب مفرور اور اشتہاری ملزمان، جبکہ مختلف جرائم میں 673 ملزمان کو حراست میں لیا گیا اور 9 مغویوں کو بھی بازیاب کرایا گیا ان کارروائیوں کے دوران 12 مسروقہ گاڑیاں،42 موٹر سائیکلیں ، 17 موبائل فون ، نقدی 632,500 اور 35 تولہ سونا اس کے علاوہ 2782 گاڑیوں سے کالے شیشے اتارے گئے۔ بلوچستان پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اپنے فرائض کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے صوبہ بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے۔ کوئٹہ سمیت دیگر 7 رینجز کے اضلاع میں ٹارگٹ آپریشن کئے جارہے ہیں جس میں مختلف سنگین جرائم چوری، ڈکیتی، اشتہاری، مفرور ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا اس کے علاوہ جرائم کی روک تھام اور عوام کے تحفظ کے لئے صوبے بھر میں شہریوں کو پرامن اور جرائم سے پاک ماحول فراہم کرنا مقصود ہے۔واضح رہے کہ آئی جی پولیس بلوچستان کی ہدایات پر خصوصی جاری مہم کے دوران جرائم پیشہ مطلوب اور اشتہاریوں کی ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں کارروائی کے دوران روپوشی کے تدارک کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں علاوہ ازیں گرفتار ہونے والے ملزمان کی صوبے کے تما م تھانوں میں مطلوب مقدمات کی چھان بین کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ان کے خلاف متوقع مقدمات کے حوالے سے بھی تینوں صوبوں کے پولیس حکام سے بھی رابطہ کر کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی جارہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1330/2026
اسلام آباد:13فروری ۔ چیئرپرسن بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما کرن بلوچ نے نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے زیرِ اہتمام اسلام اباد میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں خواتین کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پالیسی سازی کے عمل میں خواتین کی موثر اور بامعنی نمائندگی کو یقینی بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مختلف سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، ماہرین اور متعلقہ شعبہ جات کے نمائندگان نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اپنی تجاویز پیش کیں۔کرن بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں مرکزی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیم، صحت، معاشی خودمختاری اور سیاسی شمولیت کے مواقع فراہم کیے بغیر خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمتِ عملی، مضبوط قانون سازی اور موثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ اس موقع پر اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور متعلقہ تنظیموں کے باہمی تعاون سے صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے گا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1331/2026
سبی 13 فروری ۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی اور ضلعی انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈر کرنل شہریار، ایس ایس پی شاہنواز چاچڑ، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، چیئرمین میونسپل کمیٹی سردار محمد خان خجک سمیت تمام محکموں کے سربراہان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ون کامیابی سے مکمل ہوا جبکہ فیز ٹو کے لیے شفاف طریقے سے ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کیا گیا ہے اور کم بولی دینے والے ٹھیکیداروں کو منصوبے الاٹ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے تک ان منصوبوں کا باقاعدہ افتتاح بھی کر دیا جائے گا اور ضلع کے تمام علاقوں کو ان ترقیاتی اسکیموں میں شامل کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے محکمہ بی اینڈ آر، پی ایچ ای، لوکل گورنمنٹ اور یو پی اینڈ ڈی کے ایگزیکٹو انجینئرز اور ایس ڈی اوز کو سختی سے ہدایت کی کہ فوری طور پر ورک آرڈرز جاری کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی بھی ٹھیکیدار مقررہ مدت میں کام مکمل نہ کرے یا ناقص و غیر معیاری کام کرے تو اسے بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ایف آئی آر بھی درج کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عیدالفطر تک تمام منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے موجودہ حالات کے پیش نظر سیکیورٹی اور نگرانی کے امور پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے گھروں میں نوجوانوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمیوں یا غیر قانونی عناصر کی معاونت میں ملوث نہ ہوں۔ اسی طرح تمام سرکاری دفاتر میں بھی عملے کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ قومی ترانہ پڑھانے اور پرچم کشائی کے عمل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اساتذہ طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ اجلاس میں ضلعی امور، ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1332/2026
کوئٹہ،13 فروری۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کا فیلڈ افسران کی غیر حاضری پر سخت نوٹس، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے فیلڈ افسران کی اپنی متعلقہ ڈیوٹی اسٹیشنز پر عدم موجودگی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی اور عوامی خدمات کی بروقت فراہمی کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے موصولہ رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ متعدد فیلڈ افسران اپنی تعیناتی کے مقامات پر باقاعدگی سے موجود نہیں ہوتے، جس کے باعث نہ صرف عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ جاری ترقیاتی اسکیموں کی رفتار بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری افسران کی غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام فیلڈ افسران کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے موثر مانیٹرنگ نظام مرتب کیا جائے اور اچانک معائنوں کا سلسلہ شروع کیا جائےانہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائےگی صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور رہائشی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر فیلڈ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کریں گے تو اس کا براہِ راست نقصان عوام کو اٹھانا پڑے گا جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں صوبائی وزیر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں جاری اسکیموں کی باقاعدہ نگرانی کریں اور پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹس مقررہ مدت کے اندر جمع کرائیں انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ فیلڈ سطح پر کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیں اور کسی بھی قسم کی کوتاہی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو فراہم کرے صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی خدمت اور شفاف طرز حکمرانی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور ترقیاتی منصوبوں کی موثر تکمیل میں حائل ہر رکاوٹ کو دور کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1333/2026
سنجاوی 13فروری ۔صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ ،ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی قبرستان میں زیر تعمیر جنازہ گاہ کے کام کا معائنہ کیا اس موقع پر متعلقہ حکام نے جنازہ کے کام کے بارے میں بریفنگ دی۔صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان نے کہا کہ قبرستان کےجنازہ گاہ کے کام کو بروقت اور کوالٹی کے مطابق مکمل کیا جائے تعمیراتی کام میں ناقص میٹیریل کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1334/2026
کوئٹہ، 13 فروری ۔سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی کی زیر صدارت محکمہ جاتی ترقیاتی پروگرام ( پی ایس ڈی پی) سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ ساوتھ، چیف کنزرویٹر نارتھ ، چیف کنزرویٹر آف وائلڈ لائف اور چیف کنزرویٹر آف سوائل کنزرویشن نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پی ایس ڈی پی 2025–26 کے تحت جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف اسکیموں پر اب تک مجموعی طور پر 87 فیصد پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے۔ سیکرٹری عمران گچکی نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے متعلقہ افسران کی کارکردگی کی تعریف کی اور ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تاکہ مقررہ اہداف بروقت مکمل کیے جا سکیں۔اجلاس میں آئندہ مالی سال پی ایس ڈی پی 2026–27 کے لیے نئی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ چیئر نے ہدایت جاری کی کہ موجودہ ترقیاتی تجاویز کے علاوہ مزید جامع اور موثر اسکیمیں تیار کر کے مقررہ وقت میں اپ لوڈ کی جائیں، تاکہ محکمہ کی ترجیحات کو آئندہ ترقیاتی پروگرام میں بھرپور انداز میں شامل کیا جا سکے۔سیکرٹری عمران گچکی نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور موثر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے صوبے میں ماحولیات کے تحفظ، جنگلات کی بحالی اور جنگلی حیات کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1335/2026
کوئٹہ 13فروری۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت کوئٹہ ڈویژن میں پوست کی کاشت کے تدارک کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر (پولیٹیکل) کوئٹہ ڈویڑن سید کلیم اللہ، انسدادِ منشیات فورس (ANF) کے افسران، ڈپٹی کمشنر پشین، ڈپٹی کمشنر چمن، ایس سی قلعہ عبداللہ، ایس پی پشین، ایس پی ژوب اور ایس پی چمن نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ ڈویژن میں پوست کی کاشت کے خلاف جاری کارروائیوں، فنڈز کے اجرا، سروے اور آئندہ کے ایکشن پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاءکو بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ ،پولیس ،ایف سی اور اے این ایف مشترکہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔اب تک 70 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پوست کی کاشت کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔فصل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے مکمل نشاندہی کے بعد کارروائی مزید تیز کی جائے گی۔ ان کارروائیوں کے دوران 150 سے زائد ٹیوب ویل /ڈھانچے مسمار،1316 سولر پلیٹس،300 پانی کے ٹینک قبضے میں لیے گئے اور متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج اور کئی افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے ایکشن پلان کے مطابق کارروائی مزید تیز کریں۔اے این ایف جلد از جلد سروے مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے۔مارچ اور اپریل تک فصل تیار ہونے سے پہلے ہی اسے تلف کیا جائے۔کاشت میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ایف آئی آر کے اندراج اور فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کا عمل تیز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بروقت نشاندہی اور موثر کارروائی کے ذریعے منشیات کی کاشت کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکتا ہے، جس کے لیے تمام اداروں کی مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1336/2026
کوئٹہ 13فروری۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویژن میں زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کوئٹہ ڈویژن بہادر خان، سیٹلمنٹ آفیسر کوئٹہ اور ڈپٹی کمشنرز چمن، قلعہ عبداللہ اور پشین نے بذریعہ آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کو موثر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور قانونی کارروائی سے متعلق پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زرعی آمدن رکھنے والے افراد اور زمینداروں کی رجسٹریشن کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے اور محصولات میں اضافہ ممکن ہو۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے عمل میں شفافیت اور تیزی لائی جائے۔غیر رجسٹرڈ زرعی آمدن رکھنے والوں کی نشاندہی کر کے انہیں فوری رجسٹر کیا جائے۔تمام اضلاع میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ کاشتکاروں کو ٹیکس قوانین سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔متعلقہ محکمے باہمی رابطے کو موثر بنا کر کارروائی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ زرعی انکم ٹیکس کی موثر وصولی سے صوبائی آمدن میں اضافہ ہوگا اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل دستیاب ہوں گے۔ اجلاس کے شرکاءنے کہا کہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے اپنے اپنے اضلاع میں زرعی ٹیکس وصولی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1337/2026
کوئٹہ 13فروری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیرِ صدارت کوئٹہ ائیرپورٹ پر جاری ترقیاتی کاموں کی جلد تکمیل اور چمن پھاٹک تا کوئلہ پھاٹک روڈ کی تعمیر کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی جن میں ایگزیکٹیو انجینئر روڈ کچلاک قاضی ثنااللہ اور ایگزیکٹیو انجینئر ورکشاپ کوئٹہ محمد انور شامل تھے۔ اجلاس کے دوران جاری منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور کام کی رفتار کو مزید تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ ائیرپورٹ پر جاری ترقیاتی کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آسکیں۔ اسی طرح چمن پھاٹک تا کوئلہ پھاٹک روڈ کی تعمیر کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تاکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی اور شہریوں کو آمد و رفت میں آسانی فراہم ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1338/2026
کوئٹہ 13فروری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی (PPHI) نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔اجلاس میں کوئٹہ کے تمام فعال بی ایچ یوز کی کارکردگی سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس موقع پر ضلع میں بنیادی صحت مراکز کی بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مزید برآں کوئٹہ میں نئے بی ایچ یوز کی تعمیر اور صحت کے نظام کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1339/2026
بارکھان 13فروری ۔ بارکھان صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سردار عبدالرحمن کھیتران نے یونین کونسل صدر کا دورہ کیا اور سید برادری اور زکوانی برادری کے مابین جاری اراضی تنازع کے حل کے سلسلے میں جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے موقع پر صوبائی وزیر نے دونوں فریقین کی موجودگی میں متنازعہ اراضی کا جائزہ لیا اور متعلقہ عمائدین و نمائندگان کے موقف تفصیل سے سنے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قبائلی و مقامی تنازعات کا حل قانون، انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ علاقے میں پائیدار امن و امان اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔صوبائی وزیر نے حقائق، دستیاب ریکارڈ اور مقامی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے موقع پر فیصلہ صادر کیا، جسے دونوں برادریوں نے قبول کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔ فریقین نے صوبائی وزیر کی بروقت اور منصفانہ اقدام پر شکریہ ادا کیا۔حکومت بلوچستان عوامی مسائل کے حل اور مقامی سطح پر تنازعات کے پرامن تصفیے کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1340/2026
گوادر، 13 فروری ۔ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے گوادر میں پانی کے بحران اور اس کے حل سے متعلق میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی اے نے مشکل ترین حالات میں پانی کے بحران کو موثر انداز میں مینج کیا اور آج گوادر میں پانی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں نمایاں حد تک بہتر ہو چکی ہے۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران خاطر خواہ بارشیں نہ ہونے کے باعث سوڈ ڈیم اور انکڑا ڈیم خشک ہو گئے تھے، جس سے شہر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2025 میں صوبائی حکومت نے عوامی مفاد کے پیش نظر پانی کی فراہمی کی ذمہ داری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے واپس لے کر جی ڈی اے کے سپرد کی، جو کہ ایک بڑا چیلنج تھا تاہم جی ڈی اے نے اسے قبول کرتے ہوئے فوری اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کیے۔میڈیا بریفنگ کے دوران چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جی ڈی اے نے وفاقی حکومت کے فنڈز سے گوادر میں 11 ارب روپے کا واٹر سپلائی منصوبہ مکمل کیا ہے، جس میں تقریباً 150 کلومیٹر مین ٹرانسمیشن لائن، 150 کلومیٹر ڈسٹری بیوشن لائن، چار مختلف مقامات پر تقریباً ایک کروڑ گیلن صلاحیت کے واٹر ٹینکس، اور 11 پمپنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واٹر ٹینکس مکمل طور پر پمپنگ اسٹیشنز سے لیس ہیں۔چیف انجینئر کے مطابق شادی کور ڈیم سے سوڈ ڈیم اور سوڈ ڈیم سے گوادر تک قائم ٹرانسمیشن سسٹم کے ذریعے شہر کو 2019 سے پانی فراہم کیا جا رہا تھا اور اس نظام کے تحت اب تک ستمبر 2025 تک مجموعی طور پر 4542 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بحران کے دوران جی ڈی اے نے ہنگامی بنیادوں پر مختلف ذرائع سے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا، جس میں میرانی ڈیم سے بذریعہ ٹینکرز 84 ملین گیلن، شادی کور ڈیم سے 173 ملین گیلن، جبکہ جی پی اے ڈی سیلینیشن پلانٹ سے 78 ملین گیلن پانی فراہم کیا گیا، جو مجموعی طور پر تقریباً 335 ملین گیلن بنتا ہے۔چیف انجینئر نے کہا کہ میرانی ڈیم سے ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی ایک بڑا انتظامی چیلنج تھا کیونکہ ماضی میں اس نظام پر بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آتے رہے تھے۔ تاہم جی ڈی اے نے ٹینکرز مالکان اور واٹر کمیٹی سے مسلسل مذاکرات کے بعد نہ صرف انہیں پانی سپلائی کے لیے آمادہ کیا بلکہ مارکیٹ ریٹ سے کم نرخوں پر پانی کی فراہمی ممکن بنائی۔ انہوں نے بتایا کہ اس ٹینکرز آپریشن پر اب تک تقریباً 70 کروڑ روپے خرچ ہوئے، تاہم پورے عمل میں کرپشن یا بے قاعدگی کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔چیف انجینئر نے مزید بتایا کہ جی ڈی اے نے شادی کور سے گوادر تک تقریباً 150 کلومیٹر پائپ لائن کی بحالی کا بڑا اقدام بھی کیا، جو گزشتہ ساڑھے تین سال سے غیر فعال تھی۔ لائن کی بحالی کے دوران بجلی کی عدم دستیابی، جنریٹرز پر انحصار، لائن کی جگہ جگہ خرابی، آلات کی چوری، موسمی اثرات اور سیکیورٹی چیلنجز جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے بھی وقتاً فوقتاً فیلڈ میں جا کر لائن کا معائنہ کیا اور ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی، جس سے کام کی رفتار میں اضافہ ہوا۔چیف انجینئر کے مطابق شادی کور لائن سے پانی کی فراہمی 5 لاکھ گیلن یومیہ سے شروع کی گئی اور آج اس کے ذریعے گوادر کو 18 سے 19 لاکھ گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس لائن سے پسنی، راستے میں موجود دیہات اور مختلف سرکاری ادارے بھی مستفید ہو رہے ہیں، یوں مجموعی فراہمی 25 لاکھ گیلن یومیہ سے زائد ہو جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بحران کے دوران حکومت چین کے تعاون سے قائم 12 ایم جی ڈی چائنیز واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بحال کر کے اولڈ ٹاون میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جبکہ اس حوالے سے گوادر پورٹ اتھارٹی کی ٹیم نے بھی اہم کردار ادا کیا۔چیف انجینئر نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے پرانے، بوسیدہ اور مسائل سے بھرپور انفراسٹرکچر کے باوجود جی ڈی اے نے بحران کو موثر انداز میں مینج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مستقل ذرائع بہتر ہونے کے بعد میرانی ڈیم سے ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے کیونکہ یہ نظام حکومت کے لیے انتہائی مہنگا تھا، جبکہ اب گوادر کو پانی شادی کور پائپ لائن اور جی پی اے ڈی سیلینیشن پلانٹ سے فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے نے شہر میں نئی پائپ لائنز بچھا کر پانی کے نظام کو جدید بنیادوں پر استوار کیا ہے اور اب تک 15 ہزار سے زائد ہاوس کنکشنز نئے نظام پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کی فراہمی کو منظم بنانے کے لیے بلنگ سسٹم بھی متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کے تحت گھریلو صارفین کے لیے 300 روپے ماہانہ فکس فیس تجویز کی گئی ہے جبکہ کمرشل صارفین کے لیے استعمال کے مطابق ریٹ مقرر کیا جائے گا۔آخر میں چیف انجینئر نے کہا کہ جی ڈی اے نے پانی کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لیے واٹر سیکشن قائم کیا ہے اور شہر کو نارتھ اور ساوتھ زون میں تقسیم کر کے باقاعدہ مینجمنٹ شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے کی مسلسل نگرانی میں ممکن ہوئے۔جی ڈی اے نے اس بحران میں تعاون کرنے والے اداروں، خصوصاً گوادر پورٹ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، پاکستان آرمی، منتخب عوامی نمائندگان، اور صحافی برادری سمیت سیاسی، سماجی و کاروباری حلقوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1341/2026
کچھی13فروری۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کچھی جار اللہ کاکڑ کی سربراہی میں ریونیو سے متعلق ایک اہم اور جامع اجلاس منعقد ہوااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ڈھاڈر قاضی پرویز احمد، تحصیلدار، نائب تحصیلداران، قانونگو صاحبان اور پٹواریوں نے شرکت کی ۔اجلاس کے دوران زرعی انکم ٹیکس کی وصولی، ریونیو ریکارڈ کی درستگی، بقایاجات کی ادائیگی، اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض کیا گیا۔ مختلف تحصیلوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور وصولیوں کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی اجلاس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کچھی جار اللہ کاکڑ نے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، لہٰذا اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا رعایت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام ریونیو افسران اور عملہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں انہوں نے مزید کہا کہ ریونیو اسٹاف پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی ایمانداری، شفافیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیں تاکہ سرکاری محصولات کی بروقت اور مکمل وصولی ممکن بنائی جا سکے انہوں نے تاکید کی کہ فیلڈ میں متحرک رہتے ہوئے بقایاجات کی وصولی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ کا نظام اپنایا جائےاجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کو جلد از جلد مکمل کرنے اور ریونیو نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Pishin Feb 13: Mansoor Ahmed Qazi, Deputy Commissioner Pishin, chaired a high-level meeting regarding issues related to mining activities in Khanozai. The meeting was attended by senior officials of the Mines and Minerals Department and other relevant stakeholders.During the meeting, a detailed review was conducted of ongoing mining operations, lease matters, regulatory compliance, environmental considerations, and revenue-related issues. The Deputy Commissioner directed that all mining activities must strictly adhere to applicable laws and regulations, ensuring transparency, merit, and protection of local community interests. Emphasis was also placed on strengthening inter-departmental coordination and implementing practical measures for the timely resolution of identified issues.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 1342/2026
پشین13 فروری: ڈپٹی کمشنر پشین منصور احمد قاضی نے خانوزئی میں کان کنی کی سرگرمیوں سے متعلق امور کے جائزے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے سینئر افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران جاری کان کنی آپریشنز، لیز کے معاملات، قوانین و ضوابط پر عملدرآمد، ماحولیاتی تحفظ اور ریونیو سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ تمام کان کنی سرگرمیاں مروجہ قوانین کے مطابق شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر انجام دی جائیں اور مقامی آبادی کے مفادات کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بین الادارہ جاتی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے اور درپیش مسائل کے بروقت اور پائیدار حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر بھی زور دیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع میں معدنی وسائل کے شعبے کو منظم، قانونی اور ذمہ دارانہ انداز میں فروغ دیا جائے گا۔
…
خبرنامہ نمبر 1343/2026
گوادر13فروری۔ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن فیمیل زراتون بلوچ نے ضلع کے مختلف گرلز اسکولوں کا تفصیلی دورہ کیا، جن میں گورنمنٹ گرلز اسکول گھٹی ڈور، نگور شریف اور زربار شامل ہیں۔ دورے کے دوران انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں، فزیکل ایجوکیشن (جسمانی تعلیم) کے انتظامات اور اس کی اہمیت، صفائی و ستھرائی کی مجموعی صورتحال اور اسکول ریکارڈ کا جائزہ لیا۔انہوں نے اساتذہ اور طالبات سے ملاقات کرتے ہوئے تدریسی معیار، نظم و ضبط اور سیکھنے کے ماحول کا مشاہدہ کیا، جسے مجموعی طور پر اطمینان بخش قرار دیا۔ طالبات نے ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اور درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول زربار کی طالبات اور انتظامیہ نے پانی کے لیے موٹر پمپ کی فراہمی، اضافی کلاس رومز کی تعمیر اور عارضی شیڈ کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ مذکورہ اسکول کو طویل عرصے سے پانی کی قلت کے مسئلے کا سامنا تھا، جسے ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) کی خصوصی کاوشوں اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی جی ڈی اے کے تعاون سے حل کر دیا گیا۔ اسکول انتظامیہ نے اس اقدام پر جی ڈی اے کا شکریہ ادا کیا۔مزید برآں ایک اسکول میں کلاس رومز کی شدید کمی کے باعث طالبات فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جس کے پیش نظر فوری طور پر اضافی کمروں کی فراہمی اور عارضی شیڈ کے قیام کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ بعض اسکول عمارات خستہ حالی کا شکار ہیں، جن کی مرمت اور بحالی اشد ضروری ہے تاکہ تعلیمی ماحول کو مزید بہتر اور محفوظ بنایا جا سکے۔
ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) زراتون بلوچ نے متعلقہ حکامِ بالا سے درخواست کی کہ درپیش مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ طالبات کو معیاری، محفوظ اور سازگار تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 1344/2026
کوئٹہ 13 فروری ۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے حالیہ جاری میٹرک امتحانات کے دوران مختلف امتحانی مراکز کے دورے کیے گئے۔ یہ اقدامات مہراللہ بادینی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں عمل میں لائے گئےتمام سب ڈویژنز میں انتظامی آفیسران نے امتحانی مراکز کا معائنہ کیا، سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور نقل کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔ اس موقع پر امتحانی عملے کو ہدایت کی گئی کہ شفاف اور منصفانہ امتحانات کے انعقاد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی کیپٹن (ر) عبداللہ بن عارف اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی کیپٹن (ر) حمزہ انجم نے مختلف مراکز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کچلاک احسام الدین کاکڑ نے سب ڈویژن کچلاک میں امتحانی مراکز کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس کے علاوہ اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار، اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ، اسپیشل مجسٹریٹ عمران زیب اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے بھی امتحانی مراکز کے دورے کیے اور نقل کی روک تھام کے اقدامات کا معائنہ کیا۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ نقل جیسے ناسور کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رہے گا اور شفاف امتحانی نظام کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر1345/2026
قلات13فروری۔حکومت بلوچستان کی ہدایت پرمیٹرک کےامتحانی مراکز میں نقل کی روک تھام کیلئے ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے مﺅثراقدامات کئے گئے ہیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شاہنواز بلوچ نےگورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں قائم امتحانی سینٹر کا دورہ کیادورے کے موقع پرامتحانی مراکز پر تعینات اسٹاف کی حاضریاں چیک کیں طلباءکے پیپرز چیک کئے اور ان سے سوالات بھی پوچھے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے سینٹرز میں سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیاامتحالی سینٹر میں رول نمبر سلپ چیکنگ کےدوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نےبورڈکی اجازت کے بغیرشریک ڈپلیکیٹ امیدواروں کوامتحانی سینٹر سےکال دیا اور امٹحانی عملہ کو تنبیہہ کیاکہ وہ باریک بینی سے رول نمبر سلپ چیک کریں اور کسی دوسرے ڈپلیکیٹ امیدوار کو امتحانی ہال میں داخلے کی اجازت نہ دیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے کہاامتحانی مرکز میں تعینات عملے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ طلباء ہمارے مستقبل کے معمار ہیں طلباء اپنی تمام ترتوجہ اپنے تعلیم پر دیں خوب محنت کریں اور نقل جیسے ناسور سے گریز کریں نقل انسان کی تمام صلاحیتوں کو ختم کردیتا ہے طلباءاپنے پیپر خود حل کریں کسی دوسرے کو امتحانی سینٹر میں بیٹھنے کسی صورت اجازت نہیں دی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1346/2026
قلات 13فروری۔ آل قلات شہید میرعبدالخالق لانگو کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل میچ ملکی ٹائیٹنز اور علی کاونٹی کے درمیان کھیلا گیا فائینل میچ کے مہمان خاص ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی اعزازی مہمان بریگیڈئیر ناصر تھے ٹورنامنٹ کمیٹی کیجانب سے دونوں ٹیموں کامہمانوں سے تعارف کرایا گیا ان کے ہمراء کرنل زرار329 میجر ابدال اے ڈی سی قلات شاہنواز بلوچ ٹینس بال کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالوحید مینگل جزل سیکٹری میراحمد لانگو اسپورٹس آفیسر میراصغر لانگو کامریڈ سلام لانگو احمد نواز بلوچ جاوید ویر حاجی خیرجان شاہوانی اور دیگر موجود تھےشائقین کرکٹ کی بڑی تعداد میچ دیکھنے کیلئے موجودرہی۔علی کاونٹی کے کپتان نےٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا مقررہ اوورز میں 155 بنائے علی کاونٹی کی طرف سے حماد مینگل نے جارحانہ 72 رنز بنائے جواب میں ملکی ٹائیٹنز نے اپنے اننگز کا آغاز سست روی سے شروع کیا ان کے وکٹے یکے بعد دیگرے گرتے رہے اور پوری ٹیم 125 رنز پر آﺅٹ ہوگئی اس طرح شاندار فائینل میچ علی کاونٹی نے 30 رنز سے جیت کر ٹورنامنٹ ٹائیٹل جیت لیافائنل میچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمد درانی نے کہا کہ کھیل نوجوان نسل کی جسمانی صحت، ذہنی مضبوطی اور مثبت سرگرمیوں کی جانب رہنمائی کا موثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نہ صرف ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں بلکہ نوجوانوں کو منفی رجحانات سے بچا کر قومی ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں ڈپٹی کمشنر نے ٹورنامنٹ کے آرگنائزراور منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کی ہے اور مزید بھی جاری رکھے گی تاکہ قلات کے نوجوان صوبائی،قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں انہوں نےاسپورٹس تنظیموں کیساتھ تعاون کی ہر ممکن یقین دہانی کراءتقریب کے مہمان خاص ڈپٹی کمشنر منیراحمد درانی نے ٹورنامنٹ کی ونر ٹیم کے لیئے پچاس ہزار (50000) رنر ٹیم کے لیئے پچیس ہزار (25000)میچ کوریج کرنے والے میڈیامنتظمین کے لیئے دس ہزار(10000)کمنٹیٹر کے لیئے دس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا جبکہ اعزازی مہمان بریگیڈیئر ناصر نے دونوں ٹیموں کو نقد بالترتیب دس دس ہزار روپے نقد انعام دیا گیا ۔ آخر میں مہمان خاص ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمد درانی نے ونر اور رنر ٹیموں میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیئے فائنل میچ میں ایمپائرز محمد انور اور نصیبئ اللہ اسکورنگ سلیم کیف کمنٹری کے فرائض کیپٹن غلام مصطفی ٰپردیسی نے سرانجام دیئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1347/2026
کوئٹہ، 13 فروری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں، ڈاکٹر روبابہ خان بلیدی، اور صوبائی سیکرٹری محکمہ ترقی نسواں، سائرہ عطا کی قیادت میں، محکمہ ترقی نسواں کی منیجر روبینہ زہری نے شہید باز محمد کاکڑ فاونڈیشن کے ساتھ شہید بینظیر بھٹو وومن کرائسس سینٹر میں ویمن ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ تقریب میں ڈاکٹر لعل خان کاکڑ اور دیگر متعلقہ حکام و نمائندگان نے شرکت کی۔ تقریب میں مقررین نے کہا کہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور خواتین کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا ان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ معاہدے کے تحت وومن کرائسس سینٹر میں جدید سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری قائم کی جائے گی، جہاں خواتین کمپیوٹر، انٹرنیٹ، آن لائن تعلیمی مواد، ای لرننگ پلیٹ فارمز اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق وسائل تک رسائی حاصل کریں گی، جس سے نہ صرف متاثرہ اور ضرورت مند خواتین کو تعلیمی مواقع میسر آئیں گے بلکہ انہیں ہنر مندی اور روزگار کے بہتر امکانات بھی فراہم ہوں گے، اور یہ شراکت داری خواتین کو بااختیار بنانے، ان کی استعداد کار بڑھانے اور خود انحصاری کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1348/2026
کوئٹہ 13فروری۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے حالیہ جاری میٹرک امتحانات کے دوران مختلف امتحانی مراکز کے دورے کا سلسلہ جاری ہے۔یہ دورے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں عمل میں لائے گئے۔تمام سب ڈویژنز میں انتظامی آفیسران نے امتحانی مراکز کا معائنہ کیا، سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور نقل کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے۔ اس موقع پر امتحانی عملے کو ہدایت کی گئی کہ شفاف اور منصفانہ امتحانات کے انعقاد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی کیپٹن (ر) عبداللہ بن عارف اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی کیپٹن (ر) حمزہ انجم نے مختلف مراکز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کچلاک احسام الدین کاکڑ نے سب ڈویژن کچلاک میں امتحانی مراکز کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس کے علاوہ اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار، اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ، اسپیشل مجسٹریٹ عمران زیب اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے بھی امتحانی مراکز کے دورے کیے اور نقل کی روک تھام کے اقدامات کا معائنہ کیا۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ نقل جیسے ناسور کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رہے گا اور شفاف امتحانی نظام کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1349/2026
چمن 13فروری ۔ڈی پی او چمن عبداللہ عمران چیمہ اور ڈی ایس پی محمد طاہر نے اج ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن کا دورہ کیا اس موقع پر ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر محمد اویس نے ڈی پی او چمن کو ہسپتال کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اس موقع پر ہسپتال کی سیکیورٹی، نظم و ضبط کے حوالےسے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ڈی پی او نے ہسپتال میں داخل مریضوں سے ملیں اور انکا حال احوال پوچھا انہوں نے ہسپتال کے تمام شعبوں کا دورہ کیا اور ہسپتال میں داخل مریضوں کو فراہم کی جانے والی علاج و معالجہ پر خوشی کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1350/2026
اسلام آباد، 13 فروری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مولانا عبدالغفور حیدری کی عیادت اور صحت یابی کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد مکمل صحت اور دراز عمری کے لیے دعا کی ہے جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر ان کے اسٹاف آفیسر سید امین نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد جا کر مولانا عبدالغفور حیدری کی عیادت کی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کا خصوصی پیغام پہنچایا اس موقع پر انہوں نے مولانا کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے پیغام میں کہا کہ مولانا عبدالغفور حیدری ملک کی ایک باوقار سیاسی و دینی شخصیت ہیں جن کی قومی و پارلیمانی خدمات قابلِ قدر ہیں انہوں نے کہا کہ پوری قوم ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ بہت جلد مکمل صحت کے ساتھ اپنی قومی و سیاسی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مولانا عبدالغفور حیدری کو کامل صحت و عافیت عطا فرمائے اور انہیں طویل و بابرکت زندگی نصیب کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1351/2026
کوئٹہ 13 فروری ۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی ہدایات اور چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی رہنمائی میں صوبے میں خدمات پر سیلز ٹیکس کے نفاذ، محصولات میں اضافے اور ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد کیلئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی ایک خودمختار ادارہ ہے جو بلوچستان ریونیو اتھارٹی ایکٹ 2015 کے تحت قائم کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد خدمات پر سیلز ٹیکس کا انتظام، وصولی اور ٹیکس نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
اتھارٹی جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کر رہی ہے جن میں ای رجسٹریشن، ای فائلنگ، ای پیمنٹ اور دیگر آن لائن خدمات شامل ہیں۔ ادارے کا وژن ایک جدید، شفاف اور پیشہ ورانہ ٹیکس نظام کا قیام ہے جو صوبے کی مالی خودمختاری اور معاشی ترقی کو فروغ دے۔حکام کے مطابق اتھارٹی نے حالیہ عرصے میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، غیر رجسٹرڈ کاروبار کو رجسٹر کرنے اور ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے محصولات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔مزید برآں مختلف شہروں میں علاقائی دفاتر کے قیام، کاروباری برادری کیلئے آسان ٹیکس نظام اور کم شرح ٹیکس جیسی پالیسیوں کے ذریعے کاروبار دوست ماحول کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ غیر رجسٹرڈ اور نادہندگان کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ ٹیکس نظام کو شفاف اور منصفانہ بنایا جا سکے بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے عوام اور کاروباری طبقے سے اپیل کی ہے کہ وہ خدمات پر سیلز ٹیکس کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ صوبے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
۔۔۔





