خبرنامہ نمبر 999/2026
کوئٹہ 3 جنوری: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ٹراما سینٹر سول ہسپتال جناح روڈ اور سی ایم ایچ کوئٹہ کینٹ کا علیحدہ علیحدہ دورہ کیا جہاں انہوں نے گزشتہ روز مختلف مقامات پر دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور متعلقہ حکام کو فوری طور پر تمام طبی سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی. گورنر جعفرخان مندوخیل نے فرداً فردا زخمیوں کی خیریت دریافت کی ان کی حالت کا جائزہ لیا اور وہاں موجود ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی جانب سے بہترین دیکھ بھال کی تعریف کی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے زخمی افراد کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی.
خبرنامہ نمبر 1000/2026
کوئٹہ ۔ 03 فروری ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا رواں مہم کے تحت بلوچستان بھر میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر ہے انسدادِ پولیو مہم میں مجموعی طور پر 11 ہزار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں پولیو مہم کے دوران 822 فکسڈ اور 474 ٹرانزٹ ٹیمیں بھی خدمات انجام دیں گی گزشتہ 15 مہینوں کے دوران بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوابلوچستان کے 23 اضلاع میں سے صرف دو علاقوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2025 میں بلوچستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں ماحولیاتی سطح پر پولیو کے مکمل خاتمے کے لیےموجودہ سال انتہائی اہم ہے انہوں نے کہا کہ سال رفتہ کی طرح 2026 میں بھی منظم اور مؤثر مہم کے ذریعے ہر بچے تک رسائی یقینی بنائیں گے بلوچستان کے 93 فیصد علاقوں کے ماحولیات سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہو چکا جبکہ 7 فیصد علاقوں سے وائرس کے خاتمے کیلئے منظم اقدامات کئے جاررہے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے ننھے بچے کسی بھی وقت پولیو وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں، مہم بیماری کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیو لاعلاج معذوری کا باعث بن سکتا ہے، والدین بچوں کو لازمی قطرے پلوائیں بچوں کی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اگر ایک بچہ بھی پولیو کے قطروں سے محروم رہ گیا تو تمام بچے خطرے میں پڑ سکتے ہیں،
خبرنامہ نمبر 1001/2026
کوئٹہ 03 فروری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بہاؤ کی بہترین مینجمنٹ و روانی اور مجوزہ متعلقہ ٹریفک پلان کی تکمیل سے کوئٹہ میں ٹریفک کے نظام میں خاطر خواہ اور انقلابی تبدیلیاں آئیں گی بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو بورڈ کے دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام کو شہر کے اندر بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے صوبائی حکومت نے جامع حکمت عملی اور منظم انداز سے ٹریفک کی روانی اور بہتری کے لیے انقلابی اقدامات کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد شہر کے عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنا ہے اجلاس کو متعلقہ حکام کی جانب سے کوئٹہ شہر کے لئے مجوزہ ٹریفک پلان سے متعلق ایجنڈا آئٹمز پر بریفنگ دی گئی اور اس حوالے سے اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پہلے مرحلے کے تمام منصوبوں کو مئی 2026 تک مکمل کیا جائے اور دوسرے فیز سے متعلق ٹریفک پلان کو جلد حتمی شکل دیتے ہوئے متعلقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے انہوں نے ہدایت کی کہ افرادی قوت کی بھرتیوں کے عمل کو کنٹریکچول بنیادوں پر عمل میں لاتے ہوئے میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل طریقے کار اپنایا جائے وزیراعلیٰ نے ایس ایس پی ٹریفک کو پلان پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے انہوں نے ہدایت کی کہ شہر کے اہم چوکوں پر ٹریفک کے خلل سے بچنے کے لیے انٹرسیکشنز پر مونیٹرنگ کو بہتر کیا جائے انہوں نے کہا کہ ٹریفک پلان پر عمل درامد متعلق بین الاقوامی شہرت یافتہ کنسلٹنٹس کی دلچسپی صوبائی حکومت پر ان کے اعتماد کا ثبوت ہے اس نظام سے ایک بہتر ڈیجیٹل کمانڈ اینڈ کنٹرول کے وجود کو تقویت ملے گی اور شہر کے اہم چوراہوں پر سگنلز تنصیب ہوں گے جو کہ ہمہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں گے اجلاس میں شہر کے بعض علاقوں میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کچھ سڑکوں کو ون وے کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بہاؤ اور مینجمنٹ روڈ سیفٹی،کنٹرول و مانیٹرنگ اور ٹریفک سگنل کی تنصیب سمیت دیگر اہم فیصلے بھی کیے گئے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، سیکرٹری خزانہ لعل جان جعفر،سیکرٹری ٹرانسپورٹ حیات خان، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان،ایس ایس پی ٹریفک مرزا بلال حسن اور ڈائریکٹر جنرل بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو بورڈ ڈاکٹر سجاد سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر 1002/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (PPHI) سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں پی پی ایچ آئی کے تحت صوبے بالخصوص دور دراز اور دیہی علاقوں میں فراہم کی جانے والی بنیادی صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیرِ صحت نے عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔اس موقع پر سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) پی پی ایچ آئی بھی موجود تھے، جنہوں نے اجلاس کو پی پی ایچ آئی کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی۔
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سروس ڈیلیوری کو بہتر بنایا جائے، شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ صوبے بھر میں صحت کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے بلوچستان میں بنیادی صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبرنامہ نمبر 1003/2026
بارکھان 3 فروری۔ بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی قیادت میں نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد نے پاکستان کے سبز ہلالی پرچموں کے ساتھ شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھیتران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارا وطن یے اور اسکی دفاع اور سلامتی کے لئے ضلع بارکھان کے عوام صف اول میں کھڑی ہے ۔ انہوں نے ملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے پاک افواج اور سویلن شہداء کی قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انکی لازوال قربانیاں ہم سب کے لئے ایک پیغام ہے کہ ان مٹھی بھر دہشت گردوں کو انکے مکروہ عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔ اور ہم سب نے ملکر پاک افواج اور حکومت کے ہاتھ مزید مضبوط کرنے ہے تاکہ آخری دہشت گرد کو اس پاک سرزمین سے صاف کیا جاسکے۔
خبرنامہ نمبر1004/2026
خضدار 3 فروری :ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر محمد نسیم لانگو نے قومی انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں یونین کونسل گزگی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد پولیو مہم کی نگرانی، بچوں کو قطرے پلانے کے عمل کی جانچ پڑتال اور ٹیموں کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔ڈی ایچ او خضدار نے گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی انگلیوں پر لگائے گئے پولیو فنگر مارکنگ کو چیک کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پولیو ٹیموں کی حاضری، رجسٹر ویکسین کی دستیابی اور حفاظتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا ۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ خضدار افیسر محمد نسیم لانگو نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ مہم کو پوری ذمہ داری، دیانت داری اور محنت سے انجام دیں، جبکہ والدین کو پولیو کے قطروں کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں مؤثر آگاہی فراہم کریں تاکہ پولیو کے مکمل خاتمے کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال زہری ڈاکٹر میلاد زہری بھی ڈی ایچ او خضدار کے ہمراہ موجود تھے، جنہوں نے ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے میں ڈی ایچ او کی معاونت کی۔
خبرنامہ نمبر1005/2026
نصیرآباد03فروری:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، تحصیلداران، نائب تحصیلداران، قانون گو اور پٹواریوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سرکاری واجبات کی وصولی میں غیر تسلی بخش کارکردگی پر عملہ مال پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سابقہ اجلاس میں دی گئی ہدایات پر تاحال کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی انہوں نے واضح احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ لاپرواہی برتنے والے اہلکاروں کو فوری طور پر شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ زرعی انکم ٹیکس، آبیانہ، عشر اور دیگر سرکاری واجبات سے متعلق تمام گوشوارے فوری طور پر مرتب کیے جائیں اور اجلاس کے ایجنڈے کو تحریری شکل دے کر تمام متعلقہ افسران دو ہفتوں کے اندر اپنی کارکردگی اور پیش رفت رپورٹ جمع کروائیں تاکہ سرکاری واجبات کی وصولی کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جن زمینداروں پر تاحال سرکاری واجبات بقایا ہیں انہیں بھی نوٹسز جاری کیے جائیں اور ریکوری کے عمل میں کسی قسم کی سست روی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عملہ مال پر لازم ہے کہ وہ سرکاری واجبات کی وصولی پر خصوصی توجہ دے تاکہ مقررہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں، بصورتِ دیگر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 1006/2026
کوئٹہ 03فروری: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلا ل خان کاکڑ کی زیر صدارت صوبے میں معدنی وسائل کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری، باالخصوص سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسرقائم لاشاری، بلوچستان منرل ایکسپلوریشن کمپنی (BMEC)کے چیف ایگزیکٹو آفیسرشاہ زیب جمالدینی، بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ (BMRL) کے ہیڈ آف ایکسپلوریشن حفیظ بلوچ سمیت محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے نمائندوں اور حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلوچستان کے مائنز اینڈ منرلز کے مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے معدنی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبائی معیشت کو استحکام ملے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہاکہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور یہاں مائنز اینڈ منرلز کے شعبے میں بے پناہ سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ حکومت بلوچستان غیر ملکی سرمایہ کاروں، خصوصاً سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ سرمایہ کاری محض کاروباری مفاد تک محدود نہ رہے بلکہ مقامی آبادی کی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا ذریعہ بھی بنے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ ایک ون ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر سرمایہ کاروں کی رہنمائی اور سہولت کاری کے لیے کام کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تعلقات معدنی وسائل کے شعبے میں مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر 1007/2026
سبی 03 فروری :ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیو ٹیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ افسران اور پولیو ٹیموں نے شرکت کی، جبکہ مہم کے دوران کوریج، زیرو ڈوز بچوں اور فیلڈ کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران کسی بھی بچے کو پولیو کے قطروں سے محروم نہ رکھا جائے اور فیلڈ مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
Handout No 1008/2026
Quetta, February 03:
An important meeting was held under the chairmanship of Bilal Khan Kakar, Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBOIT), to review prospects for foreign investment in the province’s minerals sector, particularly opportunities for cooperation with Saudi Arabian investors.
The meeting was attended by Qaim Lashari, Chief Executive Officer (BBoIT), Shahzaib Jamaldini, Chief Executive Officer of the Balochistan Mineral Exploration Company (BMEC); Hafeez Baloch, Head of Exploration at Balochistan Mineral Resources Limited (BMRL), along with representatives and officials from the Mines & Minerals Department.
During the meeting, detailed briefings were given on various mines and minerals projects in Balochistan, and comprehensive discussions were held on potential investment opportunities in these projects. The participants emphasized that partnerships with Saudi investors could help modernize the minerals sector, create employment opportunities, and strengthen the provincial economy.
While addressing the meeting, Vice Chairman Bilal Khan Kakar stated that Balochistan is rich in natural resources and offers immense investment potential in the mines and minerals sector. He said that the Government of Balochistan is fully committed to providing all possible facilitation to foreign investors, particularly those from Saudi Arabia.
He added that the government wants such investments to go beyond purely commercial interests and serve as a means of local development, job creation, and technology transfer.
Bilal Khan Kakar further stated that the Balochistan Board of Investment and Trade is working as a one-window facilitation platform to guide and facilitate investors. He expressed hope that Pakistan’s brotherly relations with Saudi Arabia would translate into strong economic partnerships in the minerals sector.
خبرنامہ نمبر 1009/2026
زیارت 03 فروری: ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیرصدارت ڈسٹرکٹ زیارت میں جاری دوسرے روزانسداد پولیو مہم کے سلسلے میں مانیٹرنگ افسران اور زونل سپروائزرکی ایوننگ ریویو میٹنگ کا انعقاد ڈسٹرکٹ زیارت میں جاری انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ تمام یوسی انچارج سے ڈپٹی کمشنر نے فرداً فرداً بریفنگ لی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے انسداد پولیو مہم کا جائزہ لیا تمام یوسی انچارج کو ہدایت دی کی انسداد پولیو مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرایا جائے پولیو مہم ایک قومی مہم ہے اس میں غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا جو بھی پولیو ورکر اس مہم میں سستی کرے گا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گا اگر غلطی سے ایک بچہ بھی مہم سے رہ گیا تو یہ مہم کامیاب نہیں ہوگا تمام پولیو ورکرز اس سلسلے مین اپنے کام کو ایمانداری سے ادا کریں۔
خبرنامہ نمبر 1110/2026
گوادر:ڈسٹرکٹ مینیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے ضلع گوادر کے مختلف بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کے مؤثر انتظام اور طبی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فیلڈ مانیٹرنگ و فسیلیٹیشن دورے کیے۔ ان دوروں کے دوران ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یو شادوبند، بی ایچ یو گھٹی ڈور اور بی ایچ یو چب کلمتی کا تفصیلی معائنہ کیا۔
دورے کے موقع پر انہوں نے متعلقہ مراکز میں طبی عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ٹیلی ہیلتھ کلینک، ماں اور بچے کی صحت (MNCH) سینٹرز اور ای پی آئی سائٹس کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ صحت مراکز میں دستیاب طبی سہولیات اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی کی گئی۔
ڈسٹرکٹ مینیجر پی پی ایچ آئی نے موقع پر ہی بی ایچ یوز کو درکار ادویات فراہم کیں اور عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع گوادر کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے مانیٹرنگ کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری علاج میسر آ سکے۔
خبرنامہ نمبر 1111/2026
سکندر آباد سوراب: 3فروری :قومی انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ آغاز، 35 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقررسکندر آباد سوراب میں قومی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد صاحبزادہ نجیب اللہ نے اپنی صاحبزادی کو پولیو کے قطرے پلا کر کیا۔ افتتاحی تقریب ایم سی ایچ سینٹر میں منعقد ہوئی جہاں ضلعی صحت حکام اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن اقدامات کرے گی اور اس قومی فریضے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔افتتاحی تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر سلیم احمد مستوئی، ایم ایس/ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر یوسف ثانی، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈسٹرکٹ سپورٹ آفیسر (ڈی ایس او) ڈاکٹر ارسلان لہڑی سمیت دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔ڈی ایچ او سوراب نے پولیو مہم کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع شہید سکندر آباد سوراب میں جاری مہم کے دوران 35 ہزار 480 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے 135 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ 9 ٹرانزٹ پوائنٹس اور 14 فکسڈ سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہ سکے۔ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو لازمی طور پر پولیو کے قطرے پلوائیں اور ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ایک موذی مرض ہے جس کا خاتمہ اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے مؤثر اور جامع انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ مہم بلا تعطل جاری رہے۔بعد ازاں شام کے وقت ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت پولیو مہم کے حوالے سے ایوننگ ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ضلع بھر میں جاری مہم کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں درپیش چیلنجز، فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل پر غور کیا گیا۔میٹنگ میں ڈی ایچ او ڈاکٹر سلیم احمد مستوئی، ایم ایس/ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر یوسف ثانی، ڈی پی او ڈاکٹر ارسلان لہڑی، مانیٹرز، یو ایس ایم اوز، ٹی ٹی ایس پیز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پولیو ٹیموں کی فیلڈ کارکردگی، ویکسینیشن کوریج اور مائیکرو پلاننگ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ٹیموں کی نگرانی سخت کی جائے، فیلڈ میں حاضری کو یقینی بنایا جائے اور عوامی آگاہی مہم کو مزید وسعت دی جائے تاکہ ہر گھر تک رسائی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں گے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گاضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اشتراک سے جاری یہ مہم پولیو کے خلاف جاری قومی جدوجہد کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کو اس مہلک مرض سے ہمیشہ کے لیے پاک کرنا ہے۔







