خبرنامہ نمبر634/2026
کراچی30 جنوری ۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے تمام نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی ہے۔ گورنر مندوخیل نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایک آزاد مگر ذمہ دار پریس کسی بھی جمہوری معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ صحافت دراصل حکومت اور عوام کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ہمیں پل پل بدلتی دنیا میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفتوں سے باخبر رکھتی ہے لہذا ضروری ہے کہ تمام میڈیا پرسنز آپ اپنے کو پیپر لیس فیوچر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے مطابق ڈھال لیں۔ گورنر مندوخیل نے جیت جانے والے صدر منظور احمد، سینئر نائب صدر فرید اللہ، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین، نائب صدر ظفر بلوچ، فنانس سیکرٹری عصمت سمالانی، سینئر جوائنٹ سیکرٹری کفایت علی اور جوائنٹ سیکرٹری عدنان سعید سمیت مجلسِ عاملہ کے نومنتخب اراکین رضا الرحمان، سلیم شاہد، سید خلیل الرحمٰن، شہزادہ ذوالفقار، ارشد بٹ، مرتضیٰ زہری، محمد عامر اور محب اللہ پر زور دیا کہ وہ اپنے قلم اور فکر کو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں بروئے کار لائیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ سردست ہمیں عوام دوست صحافیوں اور ذمہ دار صحافت کی اشد ضرورت ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے انکی مزید کامیابی اور سرخروئی کیلئے دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر635/2026
کوئٹہ30 جنوری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع ہرنائی میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 41 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کی ہلاکت اور بھاری ہتھیاروں و گولہ بارود کی برآمدگی کو فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، اعلیٰ کارکردگی اور مستعدی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے مکمل خاتمے، کرپشن کے خلاف موثر کارروائیوں اور میرٹوکریسی کے فروغ کے لیے حکومت سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر بلا امتیاز عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور ریاست دشمن عناصر کے لیے بلوچستان کی سرزمین تنگ کی جا چکی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جاری بھرپور کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست پوری قوت کے ساتھ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور استحکام کو سبوتاڑ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سیکورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے دفاع اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فورسز کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں اور پوری قوم ان کی جرات، بہادری اور خدمات کو سلام پیش کرتی ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں قانون کی بالادستی، عوامی تحفظ اور ترقیاتی عمل کے تسلسل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر636/2026
گوادر30جنوری ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) بیان میں گوادر میں غیر فعال سرکاری اسکولوں کی کامیاب فعالی پر ضلعی انتظامیہ گوادر اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گوادر سمیت پوری تعلیمی ٹیم کو شاباش دی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گوادر صوبہ بلوچستان کا پہلا ضلع بن گیا ہے جہاں تمام 313 سرکاری پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکول مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں، جو ایک قابلِ تحسین اور تاریخی کامیابی ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام سے یہ پختہ وعدہ ہے کہ بہت جلد صوبے میں کوئی اسکول بند نہیں رہے گا اور کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں ہوگا، حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر637/2026
کوئٹہ، 30 جنوری ۔،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں غیر فعال سرکاری اسکولوں کی بحالی کے عمل میں تیزی سے پیش رفت جاری ہے اور صوبائی حکومت تعلیم کے شعبے میں عملی اور ٹھوس اصلاحات کے ذریعے تاریخی تبدیلی لا رہی ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلع گوادر صوبے بھر میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کا پہلا ضلع بن گیا ہے جہاں کوئی بھی سرکاری اسکول غیر فعال نہیں رہا گوادر میں 313 سرکاری پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکول مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں جو صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محکمہ تعلیم بلوچستان کے متعلقہ حکام نے تحریری طور پر تصدیق کر دی ہے کہ ضلع گوادر میں کوئی بھی سرکاری اسکول بند نہیں، جبکہ تمام اسکولوں کی فعالیت کا باقاعدہ سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اس شفاف طریقہ کار سے نہ صرف تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہوا ہے بلکہ میرٹ اور احتساب کو بھی یقینی بنایا گیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ضلع گوادر کی انتظامیہ اور تعلیمی حکام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی اور کہا کہ محنت، دیانت داری اور ٹیم ورک کے باعث یہ تاریخی کامیابی ممکن ہوئی انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر اضلاع بھی اسی جذبے اور عزم کے ساتھ غیر فعال اسکولوں کی بحالی کے عمل کو مکمل کریں گےمیر سرفراز بگٹی نے بلوچستان کی عوام سے کیے گئے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ بہت جلد پورے صوبے میں کوئی بھی سرکاری اسکول بند نہیں رہے گا اور کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم ہی بلوچستان کے روشن مستقبل، سماجی ترقی اور پائیدار استحکام کی بنیاد ہے اور صوبائی حکومت اس شعبے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر638/2026
کوئٹہ 30جنوری ۔ ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان نے باقاعدہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام کا آغاز کر دیا۔ نئے ڈی جی پی آر کے ڈائریکٹریٹ آف پبلک ریلیشنز بلوچستان پہنچنے پر سابق ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز محمد نور کھیتران اور ادارے کے سینئر افسران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پر سابق ڈی جی پی آر محمد نور کھیتران نے عسکر خان کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور ان کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔ بعد ازاں ڈائریکٹریٹ میں افسران کے ساتھ نئے ڈی جی پی آر کا تعارفی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے کی کارکردگی، مستقبل کے لائحہ عمل اور محکمہ جاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈی جی پی آر عسکر خان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ محکمہ تعلقات عامہ کو مزید فعال، موثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اور ٹیم ورک کے تحت سرکاری پالیسیوں اور عوامی معلومات کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر639/2026
نصیرآباد30جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر ظاہر حسین عمرانی، صدام حسین، ڈاکٹر یاسین داجلی، ڈاکٹر ممتاز، ظہیر احمد عمرانی، ثناء اللہ چکھڑا سمیت محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ جاری پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام یو سی ایم اوز، ایریا انچارجز، پولیو ورکرز اور فیمیل ٹیمیں بھرپور محنت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ ضلع نصیرآباد کو پولیو فری بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ مہم کے دوران فیلڈ مانیٹرنگ کو موثر بنایا جائے، ٹیموں کی حاضری اور کارکردگی کو یقینی بنایا جائے اور والدین میں شعور اجاگر کرنے کے لیے علماء کرام اور معززینِ علاقہ کا تعاون بھی حاصل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی میں تمام اداروں کو یکسو ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر640/2026
نصیرآباد30جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی قرار نے ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں انسداد پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں اور ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اس مہم کے دوران ضلع بھر میں ایک لاکھ 57 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 460 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔ اس کے علاوہ پولیو مہم کو موثر بنانے کے لیے 42 فکسڈ سینٹرز اور 33 ٹرانزٹ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ کوئی بچہ پولیو سے بچاو کے قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر ڈاکٹر حسین عمرانی، صدام حسین، ڈاکٹر یاسین داجلی، ڈاکٹر ممتاز، ظہیر احمد عمرانی اور ثنائ اللہ چکھڑا سمیت دیگر متعلقہ افسران اور محکمہ صحت کے اہلکار بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر641/2026
کوئٹہ30 جنوری۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کی تیاری و فروخت کے خلاف بھرپور کریک ڈاون جاری ہے۔ کوئٹہ شہر سمیت مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران 2 فیکٹریاں سیل جبکہ 30 مراکز پر بھاری جرمانے عائد کردئیے گئے۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کوئٹہ کے علاقوں مشرقی بائی پاس، جٹک اسٹاپ اور سرکی روڈ میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کارروائیاں کرتے ہوئے ایک املی تیار کرنے والے یونٹ کو سنگین خلاف ورزیوں پر بند کر دیا۔ یونٹ میں لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس موجود نہیں تھیں، پروسیسنگ لائن غیر معیاری جبکہ خام مال، پیکنگ میٹریل اور خراب ہونے والی اشیاءکو الگ رکھنے کا کوئی نظام نہیں تھا۔ معائنے کے دوران فنگس زدہ پھل، غیر صحت بخش اسٹوریج، ناقص صفائی، ویسٹ مینجمنٹ اور پیسٹ کنٹرول کے فقدان کا بھی انکشاف ہوا۔ مصنوعات کی رجسٹریشن اور لیبل منظوری بھی فراہم نہ کی جا سکی جبکہ ورکرز حفاظتی لباس سے محروم پائے گئے جس پر پروڈکشن رکوادی گئی۔علاوہ ازیں علاقے میں اسنیکس تیار کرنے والے ایک یونٹ کو بھی سیل کیا گیا جہاں فوڈ سیفٹی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تھا۔ یونٹ میں ناقص صفائی، غیر رجسٹرڈ اسنیکس کی تیاری، لیب رپورٹس اور پروڈکٹ رجسٹریشن کی عدم دستیابی، لیبل کی غیر منظوری، پہلے سے پرنٹ شدہ تاریخِ تیاری و میعاد ختم ہونے کی تاریخیں، اجزائ کی ٹریس ایبلٹی ریکارڈ کی عدم موجودگی، ویسٹ اور پیسٹ کنٹرول کے ناقص انتظامات اور پیکنگ میٹریل و تیار مصنوعات کی غیر مناسب اسٹوریج پائی گئی۔کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، ڈیرہ مراد جمالی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ اور پنجگور میں بھی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف مراکز کا معائنہ کرتے ہوئے متعدد خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کیے۔نو تعینات ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ “عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “فوڈ بزنس آپریٹرز فوڈ سیفٹی قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈی جی بی ایف اے کا کہنا تھا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی صوبہ بھر میں نگرانی کا نظام مزید موثر بنا رہی ہے اور عوامی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ غیر معیاری خوراک کی تیاری یا فروخت کی اطلاع فوری طور پر اتھارٹی کو دیں تاکہ صحت دشمن عناصر کے خلاف بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر642/2026
کوہلو ، 30 جنوری ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ایک روزہ دورے پرکوہلو پہنچے جہاں سابق صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری اور قبائلی عمائدین نے ان کا استقبال کیا وزیراعلیٰ کے ہمراہ رکن صوبائی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما علی مدد جتک بھی موجود تھے وزیراعلی کا کوہلو پہنچنے پر پیپلز پارٹی کے جیالوں نے سڑک پر کھڑے ہو کر وزیراعلیٰ کی آمد پر انہیں خوش آمدید کہا وزیراعلیٰ نے اس موقع پر قبائلی عمائدین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور عہدے داران سے خطاب کرتے ہوئے شہید میر گل خان مری اور جسٹس محمد نواز مری کو خراج عقیدت پیش کیا انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے کوہلو کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں جس کے باعث کوہلو میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوہلو میرا دوسرا گھر ہے اور یہاں کے لوگوں سے میرا پرانا تعلق ہے انہوں نے کوہلو کے عوام کے فلاح و بہبود کے لیے اس سال ڈسٹرکٹ کونسل کے بجٹ میں 50 کروڑ اضافی گرانٹ دینے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ کوہلو شہر میں ٹف ٹائلز اور سیوریج نظام کی بہتری کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں وزیراعلیٰ نے سب تحصیل رحمان آباد ، سب تحصیل گرسنی اور سب تحصیل تمبو کو تحصیل کا درجہ دینے اور یونین کونسل کرم خان شہر کو سب تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان کیا وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قبائلی دشمنیاں باہمی افہام و تفہیم سے حل ہوتی ہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ایسے مسائل حل نہیں ہوتے انہوں نے کہا کہ میری ایک سرکاری ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک قبائلی ذمہ داری بھی ہے جسے مجھے بطریق احسن نبھانا ہے اور میری یہی کوشش ہے کہ قبائلی تنازعات کا مکمل خاتمہ کرتے ہوئے علاقے کو مجموعی ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے مری قبائل باشعور ہیں اور ہم نے برادر بلوچ اقوام کہ تنازعات کو افہام اور تفہیم سے حل کرنا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قبائلی تنازعات کے کہ خاتمے کے لیے ہم بیٹھنے کو تیار ہیں قبائلی عمائدین سے سابق صوبائی وزیر میر نصیب اللہ خان مری اور حاجی علی مدد جتک نے بھی خطاب کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر643/2026
موسیٰ خیل 30 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ نے ڈرگ انسپکٹر اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) کے ہمراہ موسیٰ خیل بازار میں قائم میڈیکل اسٹورز کا اچانک معائنہ کیا۔ اس مہم کا مقصد عطائیت کا خاتمہ، بھارت سے اسمگل شدہ ادویات کی روک تھام اور ڈرگ قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 13 میڈیکل اسٹورز کی جانچ پڑتال کی گئی۔ صفائی کے ناقص انتظامات اور زائد المیعاد ادویات رکھنے پر 5 اسٹورز کو سخت وارننگ جاری کی گئی، جبکہ ڈرگ ریگولیشنز کی سنگین خلاف ورزی پر 06 میڈیکل اسٹورز کو موقع پر سیل (Seal) کر دیا گیا۔ سیل کیے گئے اسٹورز میں عبداللہ فارمیسی، لاریب میڈیکل اسٹور، شاہ میڈیکل اسٹور، ہارون میڈیکل اسٹور، عبدالحلیم میڈیکل اسٹور، اور دعا چائلڈ کیئر شامل ہیں اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کا پیغام پہنچاتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عطائیت اور اسمگل شدہ یا غیر معیاری ادویات کی فروخت ایک سنگین جرم ہے جو انسانی زندگیوں کے لیے سراسر خطرہ ہے۔ ضلعی انتظامیہ موسیٰ خیل کو ان غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک کرنے کے لیے زیرو ٹولرینس کی پالیسی پر گامزن ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا انتظامیہ نے تمام میڈیکل اسٹور مالکان کو اپنی رجسٹریشن فوری مکمل کرنے اور ادویات کی اسٹوریج کے لیے مقررہ طبی اصولوں پر عمل کرنے کی سخت تاکید کی ہے۔ ایس ایچ او پولیس کو سیل شدہ دکانوں کی کڑی نگرانی اور کسی بھی خلاف ورزی پر فوری قانونی کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر644/2026
کوئٹہ:30جنوری ۔ حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے ”کاونٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم“ کے موضوع پر تین روزہ پالیسی ڈائیلاگ کے اختتامی تقریب سے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال کاکڑ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ مامون حمید،ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اغا محمد یوسف,ڈاکٹر عبدالقادر, چیف کوآرڈینیشن آفیسر سی وی ای ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ , ڈاکٹر عصمت اللہ و دیگر نے شرکا سے خطاب کیا۔اس موقع پر وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ شدت پسندی کا خاتمہ ہمارے صوبے اور ملک کا سب سے چیلنج ہے جس پر قابو پانے کیلئے ہم سب نے ملکر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے تعلیمی نصاب میں تبدیلی کیلیے اقدامات اٹھائے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں، مثبت سوچ ہی نوجوانوں کو تابناک مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔ نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر فرد ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ملک، صوبے اور شہر کے لیے اپنے فرائض پوری کریں۔ ہم نے باشعور قوم کی حیثیت سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ملک اور صوبے کے خلاف سازشوں کو ناکام بنا کر اس کی سالمیت کے لیے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں۔ صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ب±گٹی کی سربراہی میں نوجوانوں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ بند اسکول کھولے جا رہے ہیں، میرٹ پر اساتذہ بھرتی کیے جا رہے ہیں، یونیورسٹیوں کو بروقت فنڈز فراہم کرکے پروفیسرز کی مالی مشکلات حل کی جا رہی ہیں۔ کرپشن اور اقرباء پروری کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی طرف سے بھرپور کوشش کر رہی ہے، لیکن فرائض کی انجام دہی معاشرے کے دیگر افراد سمیت ان ملازمین کی بھی ہے جو تنخواہ لیتے ہیں۔ انہیں بھی ہمارے مستقبل کے معمار نوجوانوں کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔تقریب میں بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال کاکڑ نے کہا کہ حکومت بلوچستان، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں، صوبے میں انٹرپرینیورشپ اور انویسٹمنٹ کو فروغ دینے کے لیے ”بزنس فیسیلٹیشن سینٹر“ کا افتتاح بہت جلد کیا جائے گا، اور جلد ہی صوبے کے تمام ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز میں اسی طرح کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان کے ذریعے صوبہ بھر کے انٹرپرینیورز اور کاروباری افراد کو پیشہ ورانہ انداز میں کاروبار شروع کرنے کے بارے میں مکمل آگاہی، رہنمائی اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں سرکاری نوکریوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا کاروبار شروع کرنا چاہیے، جس کے لیے بزنس فیسیلٹیشن سینٹر ان کی ہر طرح سے مدد کریں گے اور انہیں اپنے کاروبار کی فروغ کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی دیں گے۔بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال کاکڑ نے کہا کہ بزنس فیسیلٹیشن سینٹر کی کارکردگی کو مو¿ثر بنانے کے لیے کسی بھی انٹرپرینیور کا فائل صرف پندرہ دنوں میں پروسیس کیا جائے گا، اور اس کی باقاعدہ ٹریکنگ آئی ڈی متعلقہ فرد کو دی جائے گی تاکہ وہ اپنے فائل کی آن لائن اپ ڈیٹ لے سکے۔ تاخیر کی صورت میں آٹو جنریٹڈ ای میل سیکرٹری اور چیف سیکرٹری کے پاس جائے گی، جس پر بزنس فیسیلٹیشن سینٹر کے منیجر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس حکمت عملی کا مقصد شفافیت اور احتساب کو یقینی بنا کر صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ ملکی ترقی و خوشحالی اور امن و استحکام میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں۔تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ مامون حمید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”سنٹر آف ایکسیلینس“ محکمہ داخلہ کی جانب سے اقوام متحدہ کے ادارے یو این او ڈی سی اور دیگر اداروں کے تعاون سے منعقدہ تین روزہ پالیسی ڈائیلاگ میں میڈیا، پروفیسرز، علماءکرام ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران، طلبہ و طالبات اور دیگر تمام مکتب فکر کے لوگوں کی شرکت قابل ستائش ہے، جس میں ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے، آنے والے چیلنجز سے نمٹنے اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے لائح عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔تقریب میں ڈاکٹر دوست محمد نے بلوچستان کے جیو اکنامک پوٹینشل پر پریزنٹیشن پیش کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر645/2026
کوئٹہ، 30 جنوری۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ نے گوادر میں منعقدہ بین الاقوامی ایکسپو اینڈ سیمینار “گوادر 2026” میں بھرپور شرکت کی۔ ایکسپو کے دوران بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے قائم کردہ اسٹال پر صوبے کے مختلف شعبوں میں دستیاب سرمایہ کاری کے وسیع مواقع، سہولیات اور حکومتِ بلوچستان کی جانب سے سرمایہ کاروں کو دی جانے والی مراعات سے متعلق شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی گئی، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال، صوبائی وزراء، ارکانِ اسمبلی، اعلیٰ سرکاری افسران، ملک کے ممتاز کاروباری رہنماو¿ں، سرمایہ کاروں، جامعات اور کالجز کے طلبہ و طالبات نے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے اسٹال کا دورہ کیا اور ادارے کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی وڑنری قیادت میں صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے لیے تاریخی اور انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر نہ صرف بلوچستان کا دل بلکہ پورے خطے کا ایک اہم تجارتی گیٹ وے ہے، جہاں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی، روزگار اور معاشی خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, January 30:The Balochistan Board of Investment and Trade actively participated in the International Expo and Seminar “Gwadar 2026” held in Gwadar. During the expo, participants were given a detailed briefing at the Balochistan Investment Board’s stall on the vast investment opportunities available across various sectors of the province, the facilities on offer, and the incentives being provided to investors by the Government of Balochistan.Federal Minister for Planning and Development Professor Ahsan Iqbal, provincial ministers, members of the assembly, senior government officials, leading business figures of the country, investors, and students from universities and colleges visited the BBoIT’s stall and appreciated the institution’s efforts.On the occasion, Vice Chairman BBoIT, Bilal Khan Kakar, stated that under the visionary leadership of Chief Minister Balochistan Mir Sarfaraz Bugti, historic and revolutionary measures
are being taken to promote investment and industrial development in the province. He added that Gwadar is not only the heart of Balochistan but also an important trade gateway for the entire region, where domestic and foreign investment can create new opportunities for development, employment, and economic prosperity.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر646/2026
چمن 30ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت پولیو افسران کیساتھ آنے والے انسداد پولیو مہم کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا گیا اس دوران ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح بچے کو پولیوویکسین پلانے سے کیا آنے والا انسداد پولیو مہم 2 فروری سے 8 فروری تک جاری رہے گی اس مہم میں بچوں کوپولیو ویکسین کیساتھ ساتھ حفاظتی ٹیکہ جات بھی لگائے جائیں گے اجلاس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالرشید، ڈی پی او چمن ڈی سی او محمد اشرف اچکزئی ڈبلیو ایچ او کے ضلعی کوارڈنیٹر ڈاکٹر نادر اچکزئی اے کے یو کے ضلعی کوارڈنیٹر محمد علی اچکزئی کمیونیکیشن آفیسر اور دیگر افسران شریک تھے اجلاس میں ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کو پولیو افسر ڈی سی او محمد اشرف نے پولیو مہم کی آفیسران سٹاف تیاریوں اور دیگر ضروری حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کر دی گئی ڈی سی او محمد اشرف نے کہا کہ پولیو مہم کو کور کرنے کیلئے میل اور فیمیل پر مشتمل 224 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے اور ضلع چمن میں تقریباً 5 سال تک کے80 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین پلائی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے پولیو مینجمنٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس بار ضلع بھر میں پولیو کی کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور امید ہے آئندہ بھی ایسی ہی بہترین ٹیم ورک جاری رہیگی ڈی سی چمن نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے 5 سال تک کی بچوں کو پولیو کے قطرے اور حفاظتی ٹیکہ جات لگوا کر انھیں عمر بھر کی معذوری سے بچائیں انہوں نے میڈیا علماء کرام قبائلی مشران اساتذہ اور تمام ذیشعور اور پڑھے لکھے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ہم ضلع چمن سے پولیو کی خاتمے کو یقینی بنانے میں کامیابی سے ہمکنار ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر647/2026
سبی 30جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے 2 فروری سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح فیلڈ میں جا کر کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈی ایچ او ڈاکٹر اکبر سولنگی، ڈبلیو ایچ او سے ڈاکٹر احسان اللہ، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان سمیت دیگر متعلقہ افسران اور پولیو ٹیمیں موجود تھیں۔ ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مہم کے دوران ضلع بھر میں 37,991 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے دو تحصیلوں جن میں 25 یونین کونسلز ، 25 یوسی سپروائزرز، 62 ایریا انچارجز، 19 ٹرانزٹ ٹیمیں اور مجموعی طور پر 285 پولیو ٹیمیں فرائض سرانجام دیں گی۔ افتتاح کے موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی نے خود بھی علاقے کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور ٹیموں کے کام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ہر صورت پولیو کے قطرے پلوا کر اس موذی مرض کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈپٹی میجر(ر) الیاس کبزئی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خلاف کامیابی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے، اس لیے والدین، علما، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات پولیو ٹیموں سے تعاون یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے اور ٹیمیں مقررہ اہداف بروقت مکمل کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر648/2026
چمن 30جنوری ۔ ضلعی انتظامیہ چمن نے حالیہ شدید برفباری سے بند ہونے والی روڈ کو چمن بوغرہ ٹاپ سے توبہ اچکزئی تک کو مکمل طور پر کلئیر کردیا گیا ہے اس موقع پر ضلعی انتظامیہ چمن کے افیسر نے کہا کہ آج الحمدللہ قومی شاہراہ چمن تا توبہ اچکزئی روڈ کو مکمل طور پر آمد ورفت کیلئے بحال کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ عوام آج سے اپنے سفر کو بغیر کسی انتظار اور خوف و خطر کے جاری رکھ سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 649/2026
لورالائی30جنوری ۔ باعزت روزگار کسی بھی معاشرے میں معاشی استحکام، سماجی خودداری اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے اس کٹھن دور میں نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی کسی نعمت سے کم نہیں۔لورالائی ایم پی اے حاجی محمد خان طور اتمانخیل کی خصوصی کاوشوں سے نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلے میں آج ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی ڈپٹی کمشنر میران بلوچ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریو نیو محمد اسماعیل مینگل ،اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم فرزند ایم پی اے لورالائءکےفرزنداجمل خان اتمانخیل کی زیر نگرانی ایک سادہ مگر بامقصد تقریب منعقد ہوئی، جس میں 14 مستحق اور غریب گھرانوں کے نوجوانوں میں با قاعدہ روزگار کے آرڈرز تقسیم کیے گئے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لورالائی میراں بلوچ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی کسی بھی علاقے کی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فلاحی اقدامات نہ صرف بے روزگاری کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ایم پی اے حاجی محمد خان طور اتمانخیل کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے لیے عملی بنیادوں پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے۔فوکل پرسن اجمل خان اتمانخیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ حاجی محمد خان طور اتمانخیل کا وژن ہے کہ نوجوانوں کو خود کفیل بنایا جائے تاکہ وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حاجی طور کاروان کے تحت نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔تقریب کے دوران روزگار حاصل کرنے والے نوجوانوں نے ایم پی اے حاجی محمد خان طور اتمانخیل حاجی کے فرزند اجمل خان اتمانخیل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں روزگار ملنا کسی بڑے تحفے سے کم نہیں، اور حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے ہمیشہ نوجوانوں کے مسائل کو ترجیح دی ہے۔نوجوانوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دی گئی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری، محنت اور دیانت داری کے ساتھ انجام دیں گے اور اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ علاقے کی ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے امید ظاہر کی کہ حاجی طور کاروان کی جانب سے شروع کیا گیا روزگار کی فراہمی کا یہ سلسلہ مزید وسعت اختیار کرے
گا، جس سے زیادہ سے زیادہ بے روزگار نوجوان مستفید ہو سکیں گے اور علاقے میں خوشحالی آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر650/2026
سبی 30 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، سینئر ڈسٹرکٹ اکاونٹس میر گہرام لاشاری سمیت ضلع بھر کے تمام بینک مینیجرز اور ان کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں عوامی سہولت، بینکاری نظام اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے تمام بینکوں کو خصوصی ہدایت دی کہ اے ٹی ایم مشینوں کو ہر وقت فعال رکھا جائے، کیونکہ سبی میلہ اور ماہِ رمضان کے دوران ٹرانزیکشنز میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور کسی بھی قسم کی بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ بینکوں کے اے ٹی ایمز کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی، مشینوں میں کیش کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور کسی خرابی کی صورت میں فوری طور پر مسئلہ حل کیا جائے۔ سیکیورٹی امور پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی نے ہدایت کی کہ تمام بینک برانچز پر سیکیورٹی گارڈز کی مناسب تعداد تعینات ہو، سی سی ٹی وی کیمرے مکمل طور پر فعال ہوں اور گارڈز کے پاس ضروری ہتھیار اور دیگر سیکیورٹی آلات موجود ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ موثر کوارڈینیشن برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن سے متعلق مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ سینیر اکاونٹس آفیسر سبی نے بتایا کہ بعض ملازمین کے ڈیٹا مس میچ کی وجہ سے تنخواہ یا پینشن کی ادائیگی میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ ڈیٹا بینکوں کو فراہم کر دیا گیا ہے ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ فوری طور پر ریکارڈ کی جانچ پڑتال کر کے ڈیٹا مس میچ کے مسائل حل کیے جائیں تاکہ کسی بھی ملازم یا پنشنر کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو بہتر بینکاری سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت نہیں ہونی چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر651/2026
لورالائی 30جنوری ۔ : ایس ایس پی لورالائی ملک محمد اصغر عثمان کی زیرِ صدارت لورالائی پولیس کے تمام ایس ایچ اوز کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی ایس پی لیگل سردار نصراللہ خان حمزازئی، ایس ڈی پی او کریم مندوخیل اور لورالائی پولیس کے تمام ایس ایچ اوز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی لورالائی ملک محمد اصغر عثمان نے کہا کہ اس وقت ہم سب ایک ٹیم ہیں اور محکمہ پولیس کے نظم و ضبط کے تحت فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا کام کسی قومیت یا تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ محکمے کے فرائض اور عوام کی خدمت کے لیے ہے۔ایس ایس پی لورالائی نے بتایا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر خان کی جانب سے اشتہاری، مفرور ملزمان اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے، جس پر ہم سب نے مل کر مکمل عمل درآمد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور پولیس افسران کے درمیان باہمی تعاون ہی ہماری اصل طاقت ہے۔آخر میں ایس ایس پی لورالائی نے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی بحالی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 652/2026
سبی 30 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر امورِ حیوانات ڈاکٹر فاروق لونی، ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک شاکر، محکمہ انڈسٹریز کے مینیجر سمیت گوشت، دودھ اور دہی فروشوں، کریانہ و بیکری مالکان اور انجمنِ تاجران کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، معیار اور دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے واضح ہدایت کی کہ سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عوام کو مقررہ نرخوں سے زائد قیمتوں پر اشیاء فروخت کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ گوشت، دودھ، دہی، آٹا، چینی، گھی اور دیگر بنیادی اشیاء کے معیار پر بھی کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مارکیٹوں میں باقاعدہ چیکنگ کا عمل مزید موثر بنایا جائے، نرخ نامے نمایاں مقامات پر آویزاں ہوں اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس موقع پر تاجر برادری کے نمائندگان نے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سبی نے کہا کہ پرائس کنٹرول انتظامیہ اور تاجر برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا منافع خوری کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر653/2026
تربت 30جنوری ۔ کمشنر مکران قادر بخش پرکانی کی زیرِ صدارت پولیو مہم کے حوالے سے ڈویژنل ٹاسک فورس کا اجلاس کمشنر مکران آفس تربت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ (بزریعہ ویڈیو لنک)، ڈپٹی کمشنر پنجگور عبدالکبیر زرکون (بزریعہ ویڈیو لنک) ،ایڈیشنل کمشنر (پولیٹیکل) مکران محمد جان دشتی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ، ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر محب بلوچ، ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ سمیت محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر محکمہ صحت اور دیگر اداروں کی جانب سے پولیو کے خاتمے سے متعلق بریفنگ دی گئی، جبکہ پولیو مہم کو درپیش چیلنجز اور کمزوریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا اور پولیو کے خاتمے کے لیے فول پروف حکمتِ عملی اپنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں تاکہ ضلع کیچ میں کوئی بھی بچہ پولیو مہم سے محروم نہ رہ جائے۔واضح رہے کہ بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح ضلع کیچ میں بھی تین روزہ پولیو مہم کا آغاز 2 فروری 2026 سے ہوگا، جو 5 فروری 2026 تک جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
گوادر:30 جنوری ۔گزشتہ روز گوادر پورٹ میں منعقدہ سیمینار کے دوران وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ جناب احسن اقبال نے گوادر یونیورسٹی کے طلبہ سے خصوصی ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر وزیر نے بالخصوص گوادر یونیورسٹی کی طالبہ بدریہ رفیق کی غیر معمولی کارکردگی کو سراہا، جنہوں نے حال ہی میں اڑان پاکستان نیشنل ڈیبیٹس کمپیٹیشن میں آل پاکستان یونیورسٹیوں کے درمیان انگریزی تقریری کے مقابلے میں اول پوزیشن لیکر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین اسپیکر ڈیبیٹس کا ٹائٹل اپنے اور یونیورسٹی آف گوادر کے نام کیا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے تعلیم اور محنت کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا: تعلیم میں زندگیوں کو بدل دینے کی طاقت ہے۔ یہ جامعہ آگے بڑھنے کے لیے آپ کا سنہری موقع ہے۔ سفر چاہے کتنا ہی مشکل ہو، آپ کی محنت آپ کو آگے لے جائے گی۔ جدوجہد جاری رکھیں؛ گوادر کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔”اس موقع پر صوبائی وزرا میر ظہور بلیدی اور محترمہ مینا مجید کے علاوہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد اور فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔ ملاقات گوادر یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوئی جبکہ بدریہ رفیق کی کامیابی نے دیگر طلبہ کے لیے حوصلہ افزا مثال قائم کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 654/2026
بلوچستان سول سروسز اکیڈمی (بی سی ایس اے) کے پروبیشنری افسران کے ایک وفد نے اپنی تربیتی اور ادارہ جاتی سیکھنے کی سرگرمیوں کے تحت سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے)، لاہور کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد ملک کے ممتاز سول سروسز تربیتی ادارے میں رائج تربیتی نظام، سہولیات اور تدریسی طریقہ کار سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔دورے کے دوران پروبیشنری افسران نے سی ایس اے کے والٹن کیمپس اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کیمپس میں موجود تربیتی سہولیات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ ان دوروں کی قیادت ڈائریکٹر سی ایس اے والٹن کیمپس، جناب بلال اکرم، اور ڈائریکٹر سی ایس اے پی اے ایس کیمپس، ڈاکٹر فیصل ظہور نے کی۔ انہوں نے وفد کو تعلیمی ماحول، رہائشی سہولیات اور مشترکہ و خصوصی تربیتی پروگراموں کے مختلف پہلووں پر بریفنگ دی۔ وفد نے زیرِ تربیت پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے افسران سے بھی ملاقات اور تبادلہ خیال کیا، جس کے دوران تربیتی تجربات، پیشہ ورانہ توقعات اور مستقبل کی انتظامی ذمہ داریوں پر گفتگو ہوئی۔ اس باہمی تعامل سے ہم مرتبہ سیکھنے (Peer Learning) کے مواقع پیدا ہوئے اور بین الصوبائی و بین الخدمات ہم آہنگی کو فروغ ملا۔مزید برآں، پروبیشنری افسران نے ڈائریکٹر جنرل، سول سروسز اکیڈمی، لاہور، جناب فرحان عزیز خواجہ کے ساتھ ایک تعاملی نشست میں شرکت کی۔ اس موقع پر ڈی جی سی ایس اے نے سول سروسز کی تربیت، قیادت کی صلاحیتوں کی نشوونما اور عوامی انتظامیہ کو درپیش موجودہ و مستقبل کے چیلنجز پر اظہارِ خیال کیا اور پروبیشنری افسران کو دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی خدمت کے جذبے کو اپنانے کی تلقین کی۔یہ دورہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پروبیشنری افسران کے لیے ایک نہایت مفید اور معلوماتی تجربہ قرار دیا گیا، جس نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا اور وفاقی سطح پر رائج معیاری تربیتی نظام کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر655/2025
موسیٰ خیل 30 جنوری ۔ وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا راڑہ شم سے کیا گیا وعدہ 24 گھنٹوں میں حقیقت بن گیا. بلوچستان کے عوام کے ہردل عزیز قائد وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوہِ سلیمان ڈویژن کے قیام کی تاریخی اور پروقار تقریب میں راڑہ شم کے غیور عوام کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے جس ایمبولینس کا اعلان کیا تھا، وہ محض 24 گھنٹوں کے ریکارڈ وقت میں علاقے میں پہنچا دی گئی وزیرِ اعلیٰ کے خصوصی احکامات پر انتظامیہ نے راتوں رات اس جدید طبی سہولیات سے لیس ایمبولینس کو راڑہ شم پہنچایا، جہاں اس کی چابیاں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) اور انچارج بی ایچ یو کے حوالے کر دی گئیں۔ یہ اقدام اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ میر سرفراز بگٹی کے نزدیک سیاست صرف تقریروں کا نام نہیں بلکہ عوام کی دہلیز پر عملی خدمت پہنچانے کا مشن ہے راڑہ شم کی عوام نے وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کا ڈھیر ساری دعاوں کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر656/2025
گوادر30جنوری ۔ میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال گوادر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایمرجنسی (کیجولٹی) یونٹ کو نئے تعمیر شدہ بلڈنگ میں منتقل کر دیا ہے۔واضح رہے کہ دو روز قبل صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال گوادر کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت جاری کی تھی کہ کیجولٹی یونٹ کو جلد از جلد نئے تعمیر شدہ بلڈنگ میں منتقل کیا جائے تاکہ مریضوں کو بہتر، معیاری اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق نئے ایمرجنسی یونٹ میں مریضوں کے لیے سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی اور علاج معالجے کے عمل کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر657/2025
چمن 30جنوری ۔ ضلعی انتظامیہ چمن نے حالیہ شدید برفباری سے بند ہونے والی روڈ کو چمن خواجہ عمران سے سپینہ تیڑہ اور دیگر چھوٹے چھوٹے رابطہ سڑکوں کو مکمل طور پر کلئیر کردیا گیا ہے اس موقع پر ضلعی انتظامیہ چمن کے افیسر نے کہا کہ آج الحمدللہ چمن سے خواجہ عمران تا سپینہ تیڑہ اور گلستان تک روڈ کو مکمل طور پر آمد ورفت کیلئے بحال کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ عوام آج سے اپنے سفر کو بغیر کسی انتظار اور خوف و خطر کے جاری رکھ سکتے ہیں ضلعی انتظامیہ کی انتھک اور مسلسل کاوشوں سے حالیہ برفباری اور ندی نالوں سے بند ہونے والے تمام قومی شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں آمد و رفت کیلئے بحال کر دیئے گئے ہیں ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر658/2026
بارکھان۔ 30 جنوری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے طول و عرض میں یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے اور ایسے عوام دوست اقدامات کو فروغ دے رہی ہے جس کے براہ راست ثمرات سے عوام مستفید ہوسکیں۔ بارکھان میں اقوام کیتھران سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوہ سیلمان ڈویژن کے قیام سے اس علاقے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا انہوں نے کہا کہ ڈویژن کے اعلان کے بعد ہی گذشتہ شب رکنی کے لیے فائر بریگیڈ گاڑیاں بھی روانہ کر دی گئی ہے سرکاری ملازمین کے احتجاج سے متعلق انہوں کہا کہ دستیاب وسائل کا بہت بڑا حصہ پہلے ہی سرکاری ملازمین پر خرچ ہورہا ہے اور رواں بجٹ میں 10فیصد اضافہ بھی کرچکے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئی حکومت اپنے لوگوں پر سختی کرنا نہیں چاہتی گرینڈ الائنس قانون ہاتھ میں نہ لیں مالی سال کے وسط میں مطالبے نہ کریں انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے پیسوں سے جمع ہونے والے وسائل پر بلوچستان کے غریب ، بے روزگار ایک عام آدمی کا بھی حق ہے۔ تعلیم ، اسپتال ، سڑک اور ایک بہتر معیار زندگی ہر شہری کا حق ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر منظم طور پر بلوچ نوجوانوں کو ریاست سے دور کیا جارہا ہے میرا صرف ایک سوال ہے جب بندوق کے زور پر جیت نہیں سکتے تو پھر لاحاصل جنگ لڑنے کا فائدہ کیا ہے وزیراعلیٰ نے سابق ادوار کے غیر مکمل تمام ترقیاتی منصوبے فوری شروع کرنے کے علاوہ ، علاقے میں تھیلیسیمیا سینٹر ، فائبر کیبل ، عیشانی ڈیم ، واٹر سپلائی ، بغاو اور دیگر دیہی علاقوں تک آمدو روفت کیلئے لنک روڈ پراجیکٹس کا بھی اعلان کیا اجتماع سے بارکھان نیشنل پارٹی کے صدر میر عبدالکریم کیتھران نے کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام پر علاقے کے لوگوں کی طرف سے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 659/2026
قلات30جموری۔پولیوفری بلوچستان کے حکومتی عزم کے تحت بلوچستان کےسردترین ضلع قلات میں چار روزہ پولیومہم کا افتتاح کردیاگیاہےڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرڈاکٹر انجم بلوچ نے ڈی ایچ او آفس، قلات میں بچوں کو قطرے پلاکر پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا ڈسٹرکٹ سرویلنس آفیسر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر نوروز بلوچ، ڈبلیو ایچ او کے تحصیل آفیسرز عمیر بلوچ وعبدالمالک اور ڈی ایچ او آفس کے کلرک و پولیو فوکل پرسن عبدالفتح دہوار نے بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور فنگر مارکنگ کی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر انجم بلوچ کہا کہ پولیو مہم 2فروری 2026 سے شروع ہوکر5 فروری 2026 تک جاری رہے گی ضلع کے 19 یونین کونسلز میں اس بار 30,661 ٹارگٹ بچوں کو پولیوکےقطرے پلائے جائیں گےانہوں نے کہاکہ 2 فروری تا 5 فروری پولیو ٹیمیں گھرگھر جاکر پانچ سال تک کےتمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی ضلعی ناظم صحت قلات نے مزید کہا کہ اس سرد موسم میں ٹیموں کی کارکردگی کو جانچنے اور بہتر کام کرنے پے انکی حوصلہ افزائ کیلئے ضلعی انتظامیہ تمام محکموں کے سربراہان و نمائندگان ہیلتھ منیجمنٹ ٹیم بشمول ڈی ایچ او و ڈپٹی ڈی ایچ او، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال قلات، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئ قلات ایم اینڈ ای قلات و ڈبلیو ایچ او کے ڈی ایس او قلات ،تحصیل سپروایزرز و ٹی یو ایس پیز سمیت تمام لوگ فیلڈ میں متحرک رہیں گےضلعی انتظامیہ و تمام ہیلتھ منیجمنٹ ٹیم کی طرف سے عوام الناس والدین سیاسی وسماجی کارکنان، علماء کرام، شعراء ، ادباء اور صحافی برادری سے اپیل کی گئ ہے کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کریں اور گھر گھر آنے والی ٹیموں سے مکمل تعاون کریں تاکہ ضلع قلات کو پولیو سے پاک بنانے میں ہم اپنا بنیادی و مثبت کردار ادا کریں –
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 660/2026
گوادر 30 جنوری ۔گوادر میں پانی کے طویل بحران کے بعد صورتحال معمول پر آ گئی ہے، جس کے بعد میرانی ڈیم سے ٹینکرز کے ذریعے پانی کی سپلائی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے جی ڈی اے حکام کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت اور ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان کی نگرانی میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کی مؤثر اور مربوط حکمتِ عملی کے باعث اکتوبر 2025 سے جاری پانی بحران پر تقریباً مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر میرانی ڈیم سے بذریعہ ٹینکر پانی کی فراہمی روک دی گئی ہے، تاہم نظام کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر ٹینکر سپلائی دوبارہ بحال کی جا سکتی شادی کور ٹرانسمیشن لائن اور چائنیز ڈیسالینیشن پلانٹ سے پانی کی فراہمی بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں گرد و نواح کے دیہات گاؤں میں بھی پانی دستیاب ہو گیا ہے، جس کے بعد اضافی ٹینکر سپلائی کی ضرورت اس وقت باقی نہیں رہی۔ واضح رہے کہ ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی اگرچہ حکومت کے لیے نہایت مہنگا اور دشوار عمل تھا، تاہم شدید بحرانی صورتحال میں یہ اقدام ناگزیر ہو چکا تھا۔ اسی پس منظر میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ایک جامع اور دور اندیش حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے ٹینکرز پر انحصار کو ابتدا ہی سے مرحلہ وار کم کیا، جس کے تحت روزانہ 15 لاکھ گیلن پانی کی سپلائی کو بتدریج گھٹاتے ہوئے بالآخر صفر کی سطح تک لے آیا گیا، تاکہ مہنگی ٹینکر سپلائی پر انحصار کم سے کم رکھا جا سکے اور پائیدار نظام کو فروغ دیا جاسکے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 661/2026
موسیٰ خیل 30 جنوری ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے آج ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC) میں بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں 02 فروری سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) موسیٰ خیل، اے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی (PPHI)، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور اس موذی مرض سے اپنی نسلوں کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران کسی بھی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے ادا کریں انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ ضلع کا کوئی بھی بچہ عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رہ سکے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید تاکید کی کہ دور افتادہ علاقوں اور خانہ بدوش خاندانوں کے بچوں تک رسائی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع موسیٰ خیل کو پولیو فری بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ مہم کی کامیابی کے لیے فیلڈ میں موجود ٹیموں کو مکمل سیکیورٹی اور انتظامی تعاون فراہم کرے گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 662/2026
موسیٰ خیل 30 جنوری۔ حکومتِ بلوچستان کے تعلیم دوست وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے آج ضلع کمپلیکس ڈپٹی کمشنر کانفرنس ہال میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں فیز تھری (Phase-III) کے تحت عارضی بنیادوں پر منتخب ہونے والے مجموعی طور پر 50 میل اور فیمیل اساتذہ میں تقرری نامے تقسیم کیے گئے ان نئی تعیناتیوں کا ایک بڑا اور بنیادی مقصد ضلع بھر میں اساتذہ کی کمی کے باعث بند پڑے نان فنکشنل سکولوں کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔ ان 50 اساتذہ کی شمولیت سے ضلع کے دور افتادہ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا فوری آغاز ممکن ہو سکے گا، جس سے سینکڑوں طلباء کا تعلیمی مستقبل محفوظ ہو جائے گا اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ اور شرح خواندگی میں اضافے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ آج ان 50 میل اور فیمیل اساتذہ کی تعیناتی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری اولین ترجیح ضلع کے دور افتادہ علاقوں میں بند پڑے سکولوں کے تالے کھولنا اور بچوں کو ان کی دہلیز پر معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے انہوں نے نو منتخب اساتذہ کو نصیحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپ صرف سرکاری ملازم نہیں بلکہ قوم کے معمار ہیں آپ کی محنت ہی موسیٰ خیل کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ میرا وژن ہے کہ ضلع کا کوئی بھی بچہ اساتذہ کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ضلعی انتظامیہ تعلیمی نظام کی مانیٹرنگ اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی تقریب کے دوران نئے تعینات ہونے والے اساتذہ نے حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میرٹ کی بالادستی اور شفافیت پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے عزم کیا کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں ضلع میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے اور بند سکولوں میں تدریسی عمل کو فعال بنانے کے لیے وقف کر دیں گے۔تقریب میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سمیت تعلیم کے دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت ۔
۔۔۔








