خبرنامہ نمبر 9793/2025
نصیرآباد30دسمبر:سپرنٹنڈنگ انجینئر مواصلات و تعمیرات نصیرآباد سرکل انجینئر فدا حسین کھوسہ نے ضلع نصیرآباد میں محکمہ روڈز اینڈ بلڈنگز کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کا جامع اور تفصیلی جائزہ لیا اور موقع پر موجود آفیسر سے ہر اسکیم کی پیش رفت، مالی اخراجات، معیارِ تعمیر اور تکمیل کے شیڈول کے حوالے سے آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں، اس لیے ہر منصوبے میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنانا محکمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، بروقت تکمیل اور اعلیٰ معیار پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام افسران اور فیلڈ اسٹاف ترقیاتی کاموں کی روزانہ بنیادوں پر خود نگرانی کریں، ناقص میٹریل کے استعمال کو فوری طور پر روکیں اور تعمیراتی معیار کو متعلقہ قوانین و قواعد کے مطابق یقینی بنائیں۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر نے تحصیل باباکوٹ میں مختلف زیر تعمیر سرکاری عمارتوں، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی اسکیمات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کام کی رفتار، معیار اور حفاظتی اقدامات کا معائنہ کیا۔ سب ڈویژنل افیسر بی اینڈ آر ذوالفقار علی لہڑی نے سپرنٹنڈنگ انجینئر کو تمام جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تعمیراتی کام مقررہ معیار کے مطابق جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نگرانی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر انجینئر فدا حسین کھوسہ نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی غفلت، تاخیر یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ذمہ دار افسران کے خلاف قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے ضلع نصیرآباد میں انفراسٹرکچر بہتر ہوگا اور عوام کو آمدورفت سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
خبرنامہ نمبر 9794/2025
کوئٹہ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق منگل کے روز صوبے کے شمالی اور مغربی اضلاع میں مطلع ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ تاہم ژوب، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ، نوشکی، قلات، موسیٰ خیل، لورالائی، چاغی، خضدار، واشک اور خاران میں درمیانی شدت کی بارش اور گرج چمک کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے۔ خاص طور پر زیارت، توبہ کاکڑی، کان مہترزئی اور مسلم باغ میں اس دوران بارش اور برفباری کا ایک مؤثر سلسلہ متوقع ہے۔ اسی طرح بارکھان، گوادر، جیوانی، لسبیلہ، کیچ، آواران اور پنجگور میں ہلکی بارش یا بوندا باندی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔بدھ کے روز کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ژوب، قلات، بارکھان اور موسیٰ خیل میں بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے، جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں موسم سرد اور جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔گزشتہ بارشوں کے دوران چمن میں 8.5 ملی میٹر، جیوانی میں 7.0 ملی میٹر، پشین میں 2.5 ملی میٹر، پنجگور میں 2.0 ملی میٹر، دالبندین میں 1.3 ملی میٹر، گوادر میں 0.3 ملی میٹر، کوئٹہ سریاب اور کوئٹہ بریوری میں 0.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کوئٹہ سٹی اور سمونگلی میں معمولی (ٹریس) بارش ہوئی۔کم سے کم درجہ حرارت قلات میں منفی 1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 9795/2025
کوئٹہ۔ محکمہ محصولات و آبکاری (ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس) حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی B-18 محمد ایاز جمالی کو مورخہ 18 نومبر 2025 سے ڈائریکٹر آئی ٹی B-19 کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔
خبرنامہ نمبر 9796/2025
کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی کے زیر صدارت محکمہ خزانہ کے افیسران وکنسلٹنس کا نیشنل فنانس کمیشن کے تیاریوں کے حوالے سے مشاورتی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ صوبائی وزیر خزانہ کو نیشنل فنانس کمیشن این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے فنانس کے ٹیم نے صوبے کے معاشی ضروریات و اخراجات اور محاصل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ تیاریوں اور مشاورت کا بنیادی مقصد صوبے کے ہر سیکٹر کا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے حوالے سے بلوچستان کے عوامی مفادات کا تحفظ، صوبے کے معاشی حقوق کی مکمل نمائندگی اور آئینی حصہ دلانے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کرنی ہے صو بائی وزیر خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے عوام کے معاشی و معاشرتی حقوق دلانا ہماری اولین ترجیح ہیں۔ ہم این ایف سی کے تحت صوبے کے حقدارانہ حصے کے تعین کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ وفاق سے صوبے کے لیے منصفانہ حقوق کی حصول یقینی بنا ئی جائے کیونکہ ہمارا صوبہ دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ پسماندہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ “صوبائی محکمہ خزانہ نے این ایف سی ایوارڈ کے لیے ایک جامع اور تحقیقی حکمت عملی تیار کی ہے جس میں بلوچستان کی آبادی، پسماندگی، رقبہ اور دیگر اہم عوامل کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔” نیشنل فنانس کمیشن کے تحت صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے اصولوں کا تعین کرتی ہے اور بلوچستان اس میں منصفانہ حصہ کے حصول کے لیے پرعزم اور تگ ودو کر رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر 9797/2025
کوئٹہ،30دسمبر۔محکمہ ثانوی تعلیم نے تعلیمی سال 2026ء کے لیے درسی کتب کی پرنٹنگ کے ٹینڈرز میں شفافیت برقرار رکھتے ہوئے صوبائی خزانے کو تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے کی بچت فراہم کردی ہے۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے ویژن اور سیکرٹری محکمہ تعلیم اسفندیار خان کے واضح ہدایات کے مطابق چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ گلاب خان خلجی اور سیکرٹری بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نیاز خان ترین نے گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس بار نہ صرف لاگت میں نمایاں کمی کی بلکہ کتابوں کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا۔محکمہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2023-24 میں 92 لاکھ 54 ہزار 625 کتابیں 2 ارب 12 کروڑ 46 لاکھ روپے میں شائع کی گئیں، جبکہ سال 2024-25 میں 93 لاکھ 9 ہزار کتابوں کی اشاعت پر 1 ارب 8 کروڑ 66 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس کے برعکس سال 2025-26ء میں ایک کروڑ 15 لاکھ درسی کتابیں محض 88 کروڑ 31 لاکھ روپے میں تیار کی گئیں، جو گزشتہ برسوں کی نسبت غیر معمولی بچت ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے امسال 0.65 پیسہ فی صفحہ کے حساب سے کتابوں کی اشاعت ممکن بنائی، جو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ترین ہے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخوا میں یہی لاگت 0.79 پیسہ فی صفحہ رہی۔اسکول ڈائریکٹوریٹ کے مطابق رواں تعلیمی سال کے لیے ایک کروڑ 15 لاکھ کتابوں کی ڈیمانڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کی نسبت 22 لاکھ زیادہ ہے۔ اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے تقریباً 4 ہزار بند اسکولوں کو فعال کیا جبکہ 10 ہزار سے زائد نئے اساتذہ کی بھرتیاں بھی عمل میں لائی گئیں۔نیشنل کریکلم آف پاکستان 2022-23 کے تحت پرائمری سے انٹرمیڈیٹ تک نئے نصاب کے مطابق کتب تیار کر لی گئی ہے۔ نصاب میں ناظرہ و ترجمۂ قرآن، کمپیوٹر ایجوکیشن اور متعدد سپلیمنٹری لرننگ مٹیریل جیسے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، صحت و جسمانی تعلیم، شہریت و اخلاقیات شامل کیے گئے ہیں۔ تمام کتب کو ایس او پیز کے مطابق انٹرنل اور پروونشل ریویو کمیٹیوں کے ذریعے جانچا گیا، جبکہ سیکرٹری تعلیم کی ہدایت پر اضافی دو سطحی جائزے بھی لیے گئے۔محکمہ کے مطابق آئندہ سال انگلش میڈیم کتابوں کو ترجیحی بنیادوں پر شائع کیا جائے گا، جبکہ کتابوں کے معیار میں بہتری کے لیے بکس بورڈ کی جگہ بلیچ کارڈ پیپر استعمال کیا جائے گا۔ اسی طرح کتابوں میں غیر ضروری مواد کم کرکے نصاب کو ایسا بنایا گیا ہے کہ اساتذہ اور طلبہ سالانہ کورس بروقت مکمل کر سکیں اور طلبہ پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔مزید کہا گیا ہے کہ شفاف ٹینڈرنگ، کم لاگت اور بہتر معیار کے اس ماڈل کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 9798/2025
جعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت PPHI جعفرآباد کی ماہانہ ریویو میٹنگ (MRM) منعقد ہوئی جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جعفرآباد ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی، ڈی ایس ایم PPHI جعفرآباد فیصل اقبال کھوسہ سمیت دیگر متعلقہ افسران اور ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں PPHI کے تحت جاری صحت سہولیات، بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، اسٹاف کی حاضری، طبی آلات کی فعالیت اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈی ایس ایم PPHI جعفرآباد فیصل اقبال کھوسہ نے ماہانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مراکز صحت کی مجموعی صورتحال، جاری پروگرامز، درپیش مسائل اور مستقبل کی حکمت عملی سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی صحت مراکز پر عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مراکز صحت میں ادویات کی مسلسل فراہمی، عملے کی حاضری اور صفائی ستھرائی کو یقینی بنایا جائے جبکہ فیلڈ میں خدمات انجام دینے والے عملے کی کارکردگی کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے اور رپورٹنگ کے عمل کو مزید بہتر بنایا جائے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ PPHI کے تحت صحت سہولیات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے باہمی رابطہ کاری اور اقدامات کو تیز کیا جائے گا تاکہ ضلع جعفرآباد کے عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خبرنامہ نمبر 9799/2025
بیکڑ، 30 دسمبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بحیثیت چیف آف بگٹی اپنی ترجیحاتی ایجنڈے کی بلوچی میں کی گئی تقریر میں خواتین کے حقوق، بالخصوص تعلیم کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے ایک جرات مندانہ اور تاریخی مؤقف پیش کیا ہے جسے قبائلی سماج میں ایک فکری تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ ایک ایسا معاملہ اپنے زرکانیوں اور قبائلی عمائدین کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں جو ان کے دل کے نہایت قریب ہے ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق عطاء کیے ہیں مگر عملی طور پر انہوں نے اکثر قبائلی روایات اور خواتین کے حقوق کے درمیان تصادم دیکھا ہے جس کے نتیجے میں عورتوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام وڈیرے، نواب صاحبان اور معتبرین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر خصوصی طور پر خواتین کے حقوق پر سنجیدہ غور کریں انہوں نے تجویز دی کہ ایک ایسی جامع نشست منعقد کی جائے جس میں ان حقوق کا جائزہ لیا جائے جو یا تو سلب ہو چکے ہیں یا جو قبائلی نظام کی سختیوں کی نذر ہو گئے ہیں تاکہ اجتماعی مشاورت سے ایک نیا مثبت اور عادلانہ رواج متعارف کرایا جا سکے میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دہائیوں سے چلے آ رہے بعض روایتی رسم و رواج اب فرسودہ ہو چکے ہیں اور انہی کے باعث خواتین کے حقوق متاثر ہوتے رہے ہیں انہوں نے زور دیا کہ ان روایات کو ایک درست سمت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ قبائلی معاشرہ ترقی، تعلیم اور انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ میر سرفراز بگٹی تاریخ کے پہلے پڑھے لکھے، باشعور اور جدید سوچ کے حامل چیف آف ٹرائب ہیں جنہوں نے اپنی قوم سے پہلی ہی تقریر میں خواتین کو معاشرتی مقام، تعلیم اور حقوق دینے پر کھل کر بات کی مبصرین کے مطابق یہ خطاب نہ صرف بگٹی قبیلے بلکہ مجموعی طور پر بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے
خبرنامہ نمبر9800/2025
نصیرآباد30دسمبر۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیرِ صدارت الاٹمنٹ ٹاون شپ ڈیرہ مراد جمالی عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ڈیرہ مراد جمالی سلیم خان ڈومکی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈیرہ مراد جمالی کے شہریوں کو مالکانہ حقوق کی فراہمی کے حوالے سے اب تک کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ہاوس لسٹنگ کا عمل ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس تمام عمل میں حکامِ بالا کی پالیسی پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے انہوں نے واضح کیا کہ ڈیٹا مکمل جامع اور درست ہونا چاہیے، جس میں پرائیویٹ رہائشی مکانات کمرشل پلاٹس، دکانیں، سرکاری کالونیاں، ان کا مجموعی رقبہ اور تعمیر شدہ عمارات کی مکمل تفصیلات شامل ہوں۔ کمشنر نے ہدایت کی کہ ضلع انتظامیہ الاٹمنٹ کمیٹی کے باقاعدہ اجلاس منعقد کر کے تمام معاملات کو مقررہ وقت کے اندر پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ کمشنر نصیرآباد نے مزید ہدایت کی کہ قبرستانوں، پلے گراونڈز، پارکس، مساجد، امام بارگاہوں، مندروں، چرچز اور دیگر عوامی و مذہبی مقامات کی جامع فہرستیں مرتب کی جائیں اور تمام ڈیٹا کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے تاکہ مانیٹرنگ کا نظام مزید موثر اور شفاف بنایا جا سکے۔انہوں نے ریونیو ٹیموں کی خدمات موثر انداز میں حاصل کرنے اور فیلڈ میں کام کرنے والی ٹیموں سے روزانہ کی بنیاد پر شام کے اوقات میں پیش رفت رپورٹس طلب کرنے کی بھی ہدایت کی۔ کمشنر نصیرآباد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گرینڈ جرگہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی جانب سے ڈیرہ مراد جمالی کے شہریوں کو مالکانہ حقوق کی فراہمی کے لیے دی گئی ہدایات پر ہر صورت من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جامع اور مستند ڈیٹا مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگا اور انتظامیہ کو ممکنہ مسائل سے بچانے میں مدد دے گا۔ کمشنر نے کہا کہ ایسے اجلاسوں کا مقصد بروقت اور درست معلومات کی تیاری کے ذریعے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9801/2025
کوئٹہ 30 دسمبر ۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم پارکنگ پلازوں میں پارکنگ کے مسائل، مختص کردہ پارکنگ فیس اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت جاری ترقیاتی کاموں سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے سی ای او ڈاکٹر فیصل،پی ڈی کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ رفیق بلوچ اور ڈویژنل ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ظہوراحمد نے شرکت کی اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو بریفنگ دی گئی کہ شہر میں قائم پارکنگ پلازے مکمل طور پر فعال ہیں، تاہم عام شہریوں کی سہولت کے لیے پارکنگ پلازوں میں بیت الخلاء کی تعمیرات کا کام جاری ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ اسی طرح نماز کی ادائیگی کے لیے وضو خانے اور مخصوص جگہ بھی جلد فنکشنل کر دی جائے گی بریفنگ میں بتایا گیا کہ سرکلر پارکنگ پلازہ میں ایک وقت میں تقریباً 1000 گاڑیاں اور 400 کے قریب موٹر سائیکلیں پارک کی جا سکتی ہیں جو پلازہ کی مجموعی گنجائش کے مطابق ہے جبکہ بلدیہ پارکنگ پلازہ میں 400 سے زائد گاڑیاں اور تقریباً 1000 موٹر سائیکلیں پارک ہوتی ہیں اس سے زیادہ پارکنگ کی گنجائش موجود نہیں پارکنگ فیس بھی عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب رکھی گئی ہے جس سے شہریوں پر مالی بوجھ نہیں پڑتا جس کا واضح ثبوت پارکنگ پلازوں میں مسلسل فل پارکنگ کا ہونا ہےاس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن سے مٹن مارکیٹ میں نئے پارکنگ منصوبے کو جلد شروع کروانے کی درخواست کی گئی تاکہ وہاں پارکنگ کی اضافی سہولت فراہم کی جا سکے جس سے نہ صرف شہریوں کو گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پارک کرنے کی نئی جگہ میسر آئے گی بلکہ شہر میں ٹریفک کے نظام میں بہتری، ٹریفک جام اور رش میں بھی نمایاں کمی آئے گی اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے شہر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی کاموں کو طے شدہ مدت میں شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے جبکہ تعمیراتی کاموں کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ شہریوں کو مشکلات اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنائے جائیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9802/2025
کوئٹہ 30 دسمبر ۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت مین اور جنوبی ہنہ میں سیٹلمنٹ آپریشن سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور سیٹلمنٹ آفیسران نے شرکت کی اجلاس میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کو سیٹلمنٹ آفیسر کوئٹہ ریجن کی جانب سے موضع مین اور جنوبی ہنہ میں جاری سیٹلمنٹ آپریشن سے متعلق ایک تفصیلی بریفنگ دی۔دوران اجلاس کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے موضع مین اور جنوبی ہنہ کے تمام سیٹلمنٹ امور کا جامع جائزہ لیا بریفنگ میں موضع کی مجموعی صورتحال، سیٹل اور ان سیٹل رقبہ، کتونیاں اور دستیاب اراضی کی تفصیلات پیش کی گئیں، جنہیں کمشنر نے تفصیل سے چیک کیا اسکے علاوہ موضع کی باونڈریز سے متعلق مکمل معلومات حاصل کیں اور اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اس موضع میں سرکاری زمین اور عام لوگوں کو کتنی اراضی الاٹ کی گئی ہے۔ اجلاس میں عوام کی جانب سے موضع سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا کمشنر شاہزیب خان کاکڑ نے ہنہ، اوڑک اور جنوبی ہنہ کے علاقوں کی باونڈریز کا واضح تعیین کروانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ باونڈری تنازعات سیٹلمنٹ کے اہم مسائل میں شامل ہیں جنہیں قانونی بنیادوں پر حل کرنا ناگزیر ہےاجلاس کے اختتام پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ اس موضع میں متعدد اور سنگین مسائل موجود ہیں جن کا ہر پہلو سے قانونی جائزہ لے کر اصلاح کرنا ضروری ہے انہوں نے واضح کیا کہ اگر ازسرِ نو موضع کی نئی تشکیل ممکن ہوئی تو وہ بھی کی جائے گی اور اگر صرف تصحیح درکار ہوئی تو وہ بھی عمل میں لائی جائے گی تاہم تمام اقدامات صرف اور صرف قانون کے مطابق کیے جائیں گے کمشنر کوئٹہ ڈویڑن نے سیٹلمنٹ حکام کو ہدایت کی کہ شفافیت، میرٹ اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے سیٹلمنٹ آپریشن کو آگے بڑھایا جائے تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا مستقل اور منصفانہ حل یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9803/2025
کوئٹہ 30 دسمبر ۔ کمشنر کوئٹہ ڈویXن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کرخسہ ریکرییشنل ایریا ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک کی ممکنہ بندش سےمتعلق سفارشات پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، ایس ایس پی آپریشن کیپٹن (ر) آصف خان،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آغا سمیع اللّٰہ،اسسٹنٹ کمشنر پولیٹکل محمد کلیم اور محکمہ جنگلات کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پارک کی بندش یا دیگر حفاظتی اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس کے دوران سیکورٹی خدشات، پارک کے وسیع رقبے کو محفوظ رکھنے میں درپیش مشکلات اور عوامی سہولیات خصوصاً واٹر سپلائی کے حوالے سے اہم نکات اٹھائے گئے شرکاء کو مطلع کیا گیا کہ کرخسہ نیشنل پارک کا رقبہ انتہائی وسیع ہے اور یہ مستونگ تک جا ملتا ہے اس بڑے رقبے پر سکیورٹی فراہم کرنا نہایت مشکل ہے علاوہ ازیں پارک میں واٹر سپلائی کے لیے واسا کے ٹیوب ویلز فعال ہیں پابندی سے واسا کے اہم کام پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے ۔اجلاس سے خطاب میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ کرخسہ نیشنل پارک کوئٹہ کے شہریوں کے لیے ایک اہم تفریحی مقام ہے اور شہر میں محدود تفریحی مقامات کے پیشِ نظر اس کی بندش سے عوام محروم ہو جائیں گے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کی حفاظت ہے اور یہی ترجیح ہر صورت ممکن بنائی جائے گی انہوں نے کہا کہ شکار پر عائد پابندی برقرار رہے گی لہذا شکار کی غرض سے لوگ پارک میں داخل نہیں ہو سکتے تفریح اور پکنک کے لیے عوام کو اجازت حاصل ہوگی مگر نئے ضوابط و قواعد کے تحت جو سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیے جائیں گے اور ان پر سختی سے عملدرآمد ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارک میں موجود حفاظتی انتظامات کو مضبوط کیا جائے گا اور پارک میں داخلے کے لیے صرف ایک مرکزی راستہ مقرر کیا جائے گا۔عوام کو صرف ڈیَم تک جانے کی اجازت ہوگی ڈیَم کے بعد کا علاقہ بند قرار دیا جائے گا اور اس کے بارے میں واضح بورڈز و بینرز نصب کیے جائیں گے محکمہ جنگلات کو متعین کردہ حدود کی نشاندہی اور متعلقہ حفاظتی اقدامات کے فوری نفاذ کی ہدایت دی گئی۔پولیس کو ہدایت دی گئی کہ وہ چیک پوسٹ فعال کرے، گشت میں اضافہ کرے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائےپارک انتظامیہ عوام کو متعین شدہ جگہوں تک محدود رکھنے اور مربوط رہنمائی کے لیے بینرز و نشانات نصب کر اخر میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پارک انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں سے تعاون کریں قوانین کی پابندی کریں اور متعین کردہ حدود کے باہر جانے سے گریز کریں تاکہ عوامی حفاظت اور پارک کی سہولیات دونوں برقرار رہ سکیں۔ اجلاس میں شریک حکام نے بھی عوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ آئندہ حفاظتی صورتحال کے مطابق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9804/2025
سبی 30 دسمبر۔ نئے سال کی مناسبت سے سبی میں خواتین کے لیے وومن بازار کا انعقاد کیا گیا، جس میں مہمانِ خاص بیگم کمانڈنٹ سبی سکاوٹس تھیں۔ وومن بازار میں خواتین نے بھرپور شرکت کی اور مختلف دکانوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے خریداری سے لطف اندوز ہوئیں۔ بازار میں خواتین کی جانب سے ہینڈی کرافٹس، روایتی خوراک، شالیں، بلوچی ملبوسات، سیلون، ڈرائیونگ سنٹر اور دیگر مختلف دکانیں لگائی گئیں تھیں۔ اس موقع پر خواتین نے نہ صرف اپنے ہنر کا مظاہرہ کیا بلکہ باہمی میل جول اور تفریحی ماحول سے بھی بھرپور انداز میں انجوائے کیا۔ وومن بازار کو خواتین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور اس اقدام کو خواتین کے لیے مثبت اور خوشگوار سرگرمی قرار دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9805/2025
کوئٹہ، 30دسمبر۔بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن محترمہ کرن بلوچ نے راہنماء فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان (FPAP) کے ریجنل دفتر کا باضابطہ سرکاری دورہ کیا۔ دورے کا مقصد ادارے کی جانب سے خواتین اور خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری مختلف پروگراموں اور صحت سے متعلق خدمات کا جائزہ لینا اور مستقبل میں باہمی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔اس موقع پر محترمہ کرن بلوچ نے FPAP کے ریجنل ڈائریکٹر مشتاق احمد سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں خواتین کی صحت، فیملی پلاننگ، جنسی و تولیدی صحت کے مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے دوران ادارے کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے اہداف پر بھی بریفنگ دی گئی۔دورے کے دوران محترمہ کرن بلوچ نے FPAP کے مختلف شعبہ جات اور سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار، عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مریضوں کو دی جانے والی خدمات کو سراہا اور اطمینان کا اظہار کیا۔چیئرپرسن نے FPAP کے تحت چلنے والے لائف اسکلز بیسڈ ایجوکیشن (LSBE) پروگرام کی خصوصی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں میں آگاہی، خوداعتمادی اور مثبت سماجی رویوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے تعلیمی اور تربیتی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ نوجوان نسل کو صحت مند فیصلے کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔محترمہ کرن بلوچ نے فیملی پلاننگ، زچگی کی دیکھ بھال، محفوظ ڈیلیوری، سی سیکشن اور ہنگامی جنسی و تولیدی صحت کی خدمات کی فراہمی میں FPAP کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان خدمات کا دائرہ کار کوئٹہ تک محدود رکھنے کے بجائے بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ اضلاع تک بڑھایا جائے تاکہ وہاں رہنے والی خواتین اور خاندان بھی معیاری صحت کی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن صوبے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی سماجی و معاشی بہتری کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کی صحت، تعلیم اور معاشی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے درمیان مو¿ثر اشتراک ناگزیر ہے۔دورے کے اختتام پر مستقبل کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں صوبے کے متعدد اضلاع میں FPAP کی خدمات کی توسیع، محفوظ زچگی اور تولیدی صحت کے مراکز کے قیام، اور کاروباری و ہنر مندی پر مبنی پروگراموں کے ذریعے خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد صنفی مساوات کے فروغ کے ساتھ ساتھ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے۔محترمہ کرن بلوچ نے امید ظاہر کی کہ FPAP اور بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے درمیان باہمی تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا اور اس کے مثبت اثرات صوبے بھر کی خواتین اور خاندانوں تک پہنچیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9806/2025
کوہلو30 دسمبر۔ رکنِ صوبائی اسمبلی نواب چنگیز مری کی ہدایت پر ضلع بھر کی مساجد کو مرحلہ وار سولر انرجی سسٹم پر منتقل کیا جارہا ہے اس اقدام کا مقصد مساجد میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور نمازیوں و شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے سولر سسٹم کی تنصیب سے مساجد میں روشنی، پنکھوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی ممکن ہوگی جس سے خصوصاً گرمی کے موسم اور لوڈشیڈنگ کے دوران نمازیوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی آئے گی اور متبادل توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی مساجد عوامی فلاح کا اہم مرکز ہیں ان کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے سولر سسٹم ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ پائیدار حل بھی ہے جس سے قومی وسائل کی بچت ممکن ہوگی علاقہ مکینوں اور نمازیوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف مساجد بلکہ مجموعی طور پر علاقے میں مثبت تبدیلی آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9807/2025
گوادر/پسنی 30دسمبر۔ رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی قیادت میں ایک کھلی کچہری منعقد ہوئی، جس میں اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری سمیت مختلف سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کا مقصد شہریوں کو درپیش مسائل سننا اور ان کے فوری و دیرپا حل کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل اور اختیارات کے باوجود انتظامیہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز تک حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مسائل کا حل ضلعی سطح پر ممکن نہ ہو، انہیں ڈپٹی کمشنر اور صوبائی سطح پر رکنِ صوبائی اسمبلی کے ذریعے متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے گا۔کھلی کچہری میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لائیو اسٹاک، تعلیم، صحت، بی اینڈ آر، پولیس، کیسکو، میونسپل کمیٹی اور دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ شہریوں نے اورماڑہ اور چر بندن میں پانی کی قلت، پسنی میں پینے کے پانی میں بدبو، شہر میں ریت کے ٹیلوں ، زمینوں کے سیٹلمنٹ، ملیریا اور ڈینگی کے خلاف اسپرے، آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، صفائی، تعلیم اور صحت سے متعلق مسائل پیش کیے۔اسسٹنٹ کمشنر نے آوارہ کتوں کے مسئلے پر بتایا کہ میونسپل کمیٹی پسنی اور اورماڑہ کو پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، جن پر عملدرآمد جاری ہے۔ شہریوں نے کھیلوں کی سرگرمیوں اور اسپورٹس سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔کھلی کچہری کے دوران ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ اہم اور حساس مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ غیر مقامی (سندھی) ماہی گیروں کو پسنی میں روزگار سے روکنے کے فیصلے پر انجمنِ تاجران، فش کمپنی مالکان اور کاروباری طبقے نے شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا۔شرکاءکا کہنا تھا کہ پسنی کی معیشت کا بڑا انحصار ماہی گیری اور فشریز کے کاروبار پر ہے، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ غیر مقامی ماہی گیروں پر پابندی کے باعث فش کمپنیوں، آئس فیکٹریوں، ٹرانسپورٹ، مزدوروں اور مقامی بازاروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔انجمنِ تاجران کے جنرل سیکریٹری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پابندی کے باعث پسنی کی معیشت روز بروز کمزور ہو رہی ہے، اور اگر صورتحال برقرار رہی تو شہر میں بے روزگاری اور معاشی بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔اس موقع پر ایک مقامی ناخدا نے کہا۔‘پسنی کے مقامی سیٹھ اور تاجر ہمارے بھائی ہیں، ہم سب ایک ہی شہر کے باشندے ہیں۔ مسئلے کا حل تصادم یا پابندیوں میں نہیں بلکہ باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے میں ہے، تاکہ نہ کسی کا روزگار متاثر ہو اور نہ شہر کی معیشت کو نقصان پہنچے۔’شرکاءنے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مقامی اور غیر مقامی ماہی گیروں کے مسئلے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک جامع اور متوازن پالیسی مرتب کی جائے، جو مقامی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پسنی کی معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کو بھی یقینی بنائے۔کھلی کچہری کے اختتام پر شہریوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ اس حساس مسئلے سمیت دیگر عوامی مسائل پر سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے گی، تاکہ پسنی کو درپیش معاشی و سماجی مشکلات کا دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9808/2025
لورالائی 30 دسمبر ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل نے آج بروز منگل بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیو (BSDI) پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی اسکیمات کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم بلوچ اور متعلقہ اسکیموں کے ٹھیکیدار، انجینئرز اور متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لورالائی نے بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت زیرِ تکمیل منصوبوں میں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج واٹر سپلائی اسکیم، کلی باور ناصران میں واٹر فلٹریشن پلانٹ اور کٹوئی موڑ پر فٹ پاتھ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار، رفتار اور اب تک کی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور موقع پر موجود انجینئرز سے تفصیلی بریفنگ بھی حاصل کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد اسماعیل مینگل نے اس موقع پر ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور تعمیراتی کام کی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی ہے، جس کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچنے چاہئیں۔ انہوں نے ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ کام میں تیزی لائی جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ دورے کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ لورالائی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی نگرانی خود کر رہی ہے تاکہ سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے اور ضلع لورالائی میں ترقیاتی عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9809/2025
کوئٹہ 30 دسمبر ۔ حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تعلیمی خدمات کو ضروری خدمات قرار دے دیا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر SO(عدالتی) 1-12/2025-Edn:/1028-37 کے مطابق، بلوچستان اسنشل ایجوکیشن سروسز ایکٹ، 2019 پہلے ہی نافذ العمل ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ ایکٹ کے تحت تعلیمی خدمات سے وابستہ افراد کی جانب سے ہڑتال، تالہ بندی یا کسی بھی نوعیت کے غیر قانونی اقدامات پر پابندی عائد ہے، جبکہ ایسے اقدامات کی صورت میں سزا کے لیے بھی قانونی انتظامات موجود ہیں۔ اس قانون کا مقصد صوبے میں تعلیم کی فراہمی کو اس کے حقیقی تناظر میں منظم اور بلا تعطل یقینی بنانا ہے۔مزید برآں، بلوچستان اسنشل ایجوکیشن سروسز ایکٹ، 2019 کے سیکشن 6کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، محکمہ سکول ایجوکیشن نے عوامی مفاد میں فوری طور پر صوبے کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں ہڑتال، تالہ بندی یا کسی بھی دیگر غیر قانونی عمل پر چھ (06) ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9810/2025
چمن 30دسمبر۔ اے ڈی سی چمن فدا بلوچ نے گلدارہ باغیچہ میں دو گھروں کی حالیہ بارشی ندی میں بہہ جانے والے دو گھروں کے افراد کو فی الفور گرم کمبلوں کپڑوں اور خوراکی اجناس اور دیگر ضروری اشیائ پہنچا دیئے اس دوران انہوں نے بارشی ندی میں بہہ جانے والے دونوں گھروں کا تفصیلی جائزہ لیا اور وہاں دونوں فیملیز کے ممبروں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ انکے کیساتھ ہر قسم کی امداد اور تعاون کریگی انہوں نے کہا کہ تکلیف کی گھڑی میں چمن کے عوام اور ضلعی انتظامیہ دونوں گھروں کو سیف سائیڈ پر منتقل کر کے وہاں آپ کیلئے شیلٹر کا بندوست کرے گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9811/2025
گوادر30دسمبر۔بنیادی صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یو چب کلمتی اور بی ایچ یو نگور شریف کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے صحت مراکز میں دستیاب سہولیات، عملے کی حاضری اور ریکارڈز کا بغور جائزہ لیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے دونوں بی ایچ یوز میں اسٹاف کی حاضری رجسٹر، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سائٹس اور دیگر متعلقہ ریکارڈز چیک کیے۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کا بھی معائنہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ انجام دیں اور عوام کو بہتر سے بہتر صحت سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی ایچ آئی کا مقصد دور دراز علاقوں میں معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے مجموعی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے دورے مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ صحت کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9812/2025
کوئٹہ 30 دسمبر۔ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول، ممنوعہ پلاسٹک تھیلوں اور غیر قانونی گیس کمپریسرز کے خلاف موثر کارروائیاں عمل میں لائیں ان کارروائیوں کے دوران 78 دکانوں کا معائنہ کیا گیا،13 افراد گرفتار کیے گئے،10 افراد کو جیل منتقل کیا گیا،04 دکانیں سیل کی گئیں،25 غیر قانونی گیس کمپریسرز ضبط کرنے کے علاوہ 30 کلو گرام ممنوعہ پلاسٹک تھیلےبھی ضبط کیے گئےضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے دوران سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی، ممنوعہ پلاسٹک تھیلوں کے استعمال اور غیر قانونی گیس کمپریسرز کی نشاندہی پر فوری ایکشن لیا گیااسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے سب ڈویژن سریاب میں کارروائیاں کیں اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے سب ڈویژن صدر میں کارروائیاں انجام دیں۔جبکہ اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے سب ڈویژن سٹی میں کارروائیاں کیں ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد کے خلاف سرگرمیوں، مہنگائی اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿






