9th-March-2026

خبرنامہ نمبر2003/2026
تربت، 9 مارچ ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پیپلز گرین بس سروس کیچ کے عوام کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک اہم تحفہ ہے جس کا مقصد عوام کو معیاری، محفوظ اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دے رہی ہے اور اسی وڑن کے تحت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوام دوست منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز گرین بس سروس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی وزراءمیر ظہور بلیدی، میر شعیب نوشیروانی، میر عاصم کرد گیلو، پارلیمانی سیکرٹری حاجی برکت رند بھی موجود تھے، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ موجودہ حکومت ایسی پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے جن کے ذریعے نوجوانوں کا ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اصلاحاتی ایجنڈا طویل المدتی نتائج کا حامل ہے اور اس کے مثبت اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت نے صوبے میں بند اسکولوں کو فعال بنانے کا جو وعدہ کیا تھا اس پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے اور اس کے واضح نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 3200 بند اسکول دوبارہ فعال ہو چکے ہیں جبکہ اساتذہ کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے تاکہ تعلیمی نظام کو موثر اور مضبوط بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ مکران ڈویژن میں اس حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور گوادر میں ایک بھی اسکول بند نہیں ہے جو کہ حکومت کی تعلیمی اصلاحات کا واضح ثبوت ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے بغیر بلوچستان کی پائیدار ترقی ممکن نہیں، اس لیے حکومت0 تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں، دانشوروں اور باشعور طبقات کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ لاحاصل اور طویل جنگوں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا نقصان معاشرے اور آنے والی نسلوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی، تعلیم اور امن ہی وہ راستہ ہے جس سے بلوچستان اور اس کے نوجوانوں کا روشن مستقبل ممکن بنایا جا سکتا ہے خطے کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پڑوسی ملک میں کشیدہ صورتحال کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان اس حوالے سے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کر رہی ہے انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ہونے والی ملاقات میں بھی اس حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مشاورت کے ذریعے اتفاق رائے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ ملک کو درپیش معاشی، سماجی اور علاقائی چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں امن، ترقی، تعلیم اور عوامی سہولیات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2004/2026
تربت، 9 مارچ ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے دورہ تربت کے دوران نئے ضلع تمپ کے قیام کا نوٹیفکیشن باقاعدہ طور پر صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر رند کے حوالے کیا اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ضلع تمپ کا قیام علاقے میں انتظامی نظام کو موثر بنانے، ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوام کو حکومتی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے اور وہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور مقامی سطح پر گورننس کو بہتر بنانے کے لیے نئے اضلاع کا قیام ناگزیر ہے تاکہ عوامی مسائل کا بروقت اور موثر حل ممکن بنایا جا سکے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو مزید تیز کرے گی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا تقریب میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی اور صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو ، میر اصغر رند بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے جبکہ متعلقہ محکموں کے اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی شرکت کی اس موقع پر نوٹیفکیشن وصول کرنے کے بعد صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر رند نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضلع تمپ کا قیام علاقے کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف انتظامی امور میں بہتری آئے گی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں بھی اضافہ ہوگا اور عوام کو بنیادی سہولیات تک رسائی میں نمایاں آسانی حاصل ہوگی انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا یہ اقدام علاقے کی ترقی، خوشحالی اور بہتر طرز حکمرانی کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا جس سے تمپ اور اس کے گرد و نواح کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2006/2026
تربت، 9 مارچ ۔ کوئٹہ کے بعد تربت میں بھی گرین پیپلز بس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سرکٹ ہاو¿س تربت میں گرین پیپلز بس چلا کر تربت شہر میں جدید عوامی ٹرانسپورٹ سروس کا افتتاح کر دیا افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند، صوبائی وزیر ریونیو عاصم کرد گیلو سمیت دیگر منتخب نمائندگان اور حکام بھی موجود تھے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تربت میں گرین پیپلز بس سروس کے آغاز کا مقصد عوام کو جدید، محفوظ اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ تاکہ شہریوں کو آمد و رفت میں آسانی میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بس سروس نہ صرف تربت شہر بلکہ پورے ضلع کیچ کے عوام کے لیے ایک اہم سہولت اور خوش آئند اقدام ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تربت میں گرین پیپلز بس سروس کے آغاز میں صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی سمیت ضلع کیچ کے تمام اراکینِ صوبائی اسمبلی کی مشترکہ کاوشیں شامل ہیں جن کی بدولت یہ اہم منصوبہ عملی شکل اختیار کر سکا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بہتر شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور گرین پیپلز بس سروس کی طرز پر خواتین کے لیے مخصوص پنک بس سروس بھی بہت جلد شروع کی جائے گی تاکہ خواتین کو محفوظ اور سہل سفری سہولت میسر آ سکے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ کے بعد تربت بلوچستان کا دوسرا شہر ہے جہاں گرین پیپلز بس سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے، جو صوبے میں جدید شہری ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے حکام کے مطابق جدید سہولیات سے آراستہ ان بسوں میں 37 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ کھڑے ہونے والے مسافروں سمیت مجموعی طور پر تقریباً 100 افراد سفر کر سکتے ہیں اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر تربت شہر کے لیے چار بسیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ شہر میں 18 اسٹیشن قائم کیے جا رہے ہیں یہ بسیں تقریباً 19 کلومیٹر طویل روٹ پرچلیں گی اور روزانہ لگ بھگ 4500 مسافروں کو تربت شہر اور مضافاتی علاقوں کے درمیان بہتر اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کریں گی بسوں میں خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں جبکہ خصوصی افراد کے لیے ویل چیئر کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی اخراج کے راستے اور آگ بجھانے کے آلات بھی نصب کیے گئے ہیں۔ بسوں کے دروازے خودکار ہائیڈرولک نظام کے تحت کام کرتے ہیں جبکہ بس کے اندر اور باہر نصب برقی اسکرینوں پر بس نمبر اور روٹ سے متعلق معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں حکام کے مطابق بسوں کے روٹس اور کرایوں کا حتمی تعین تربت شہر اور مضافاتی علاقوں کے درمیان فاصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں کیا جائے گا۔ ایک تجویز کے مطابق صوبائی حکومت اس بس سروس کے تحت عوام کو ابتدائی طور پر دو سال تک مفت سفری سہولت فراہم کرنے کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے عوام کو جدید اور معیاری شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایسے ترقیاتی منصوبے متعارف کراتی رہے گی تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات اور سہل زندگی میسر آ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2007/2026
کوئٹہ (خبرنامہ)9 مارچ ۔ سیکرٹری برائے محکمہ ترقی نسواں سائرہ عطاءنے کہا ہے کہ محکمہ ترقی نسواں، حکومت بلوچستان صوبے بھر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات اور آگاہی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے وزیر علی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ڈویژن کے تحت خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے مثبت پیغام معاشرے کے ہر طبقے تک موثر انداز میں پہنچ سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عا لمی یوم خواتین کے موقع پر منقعدہ سے خطاب کرتے ہوے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر محکمہ ترقی نسواں منیر احمد کاکڑ ، صوبائی محتسب برائے خواتین طاہرہ بلوچ ، روبینہ زہری مینیجر بے نظیر شیلٹر ہوم ویمن اینڈ سنٹر کوئٹہ ، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ ترقی نسواں جہاں آرا ء تبسم ،یواین ایف اے صوبائی کوآرڈنیٹرسعدہ عطاءاور دیگر مقررین کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین کی فلاح و بہبود، تحفظ اور ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ سیکرٹری محکمہ ترقی نسواں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں معاشرے میں باعزت مقام دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ محکمہ ترقی نسواں کی مختلف اسکیموں اور منصوبوں کے ذریعے خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین پر تشدد کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں اور یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ صنفی بنیاد پر تشدد کے متاثرین کی فوری مدد اور بحالی کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے تحت متاثرہ خواتین کو ایک ہی چھت کے نیچے قانونی معاونت، طبی سہولیات، مشاورت اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ کم عمر بچیوں کی شادی ایک سماجی برائی اور قانونی جرم ہے جس کے خلاف معاشرے کے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کہیں کم عمر شادی یا خواتین کے استحصال کے واقعات سامنے آئیں تو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں یا بلوچستان ویمن ہیلپ لائن 1089 پر اطلاع دیں تاکہ ایسے واقعات کے خلاف بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے خلاف ہر قسم کے ظلم و جبر کے خاتمے اور قانون پر مو¿ثر عملدرآمد کے لیے حکومت اور متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر اقدامات کر رہے ہیں تاکہ خواتین کو ایک محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کیا جا سکے۔تقریب میں مختلف سرکاری حکام، سماجی کارکنان اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور خواتین کے حقوق، تعلیم اور بااختیار بنانے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تقریب کے اخیر میں سیکٹرٹری محکمہ ترقی نسواں نے خواتین کے علمی دن کے حوالے سے شرکاء میں شیلڈ بھی تقسیم کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2008/2026
کوئٹہ 9 مارچ.۔ بلوچستان ریونیواتھارٹی نے صوبے میں ہیلتھ کیئر سینٹرز، جِمز اور فزیکل فٹنس سینٹرز سمیت ذاتی صحت و فٹنس سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں اور ٹیکس قوانین پر مکمل عملدرآمد کریں۔اتھارٹی کے مطابق بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) ایکٹ 2015 کے تحت ان خدمات پر 2 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ کاروباری مراکز کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنی ٹیکس ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مقررہ ٹیکس پیریڈ کی ریٹرنز بروقت جمع کرائیں۔ بی آر اے کے مطابق رعایتی شرح کے تحت ٹیکس ادائیگی کیلئے ضروری ہے کہ رجسٹرڈ شخص پوائنٹ آف سیل (POS) مشین نصب کرے اور اسے اتھارٹی کے ویب پورٹل کے ساتھ منسلک کرے تاکہ تمام انوائسز اور رسیدیں الیکٹرانک طریقے سے جاری کی جا سکیں۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ تمام ٹیکس انوائسز، بل آف چارجز یا رسیدیں صرف POS سسٹم کے ذریعے الیکٹرانک طور پر جاری کی جائیں گی اور اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے رسید جاری کرنا قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ مزید برآں اس اسکیم کے تحت ان پٹ ٹیکس کریڈٹ یا ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔بی آر اے نے تمام ہیلتھ کیئر، جِمز اور فٹنس سینٹرز کے مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن، POS انضمام اور ٹیکس ریٹرن فائلنگ کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی اور جرمانوں سے بچا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2009/2026
پنجگور9 مارچ۔ : وزیر اعلیٰ بلوچستان کے رمضان راشن پیکج کے تحت صوبائی حکومت کی ہدایات پر ضلع پنجگور میں مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا۔ یونین کونسل سریکوران میں ڈپٹی کمشنر پنجگور عبدالکبیر زرکون اور ایس ڈی پی او میجر صابر علی گچکی نے ڈور ٹو ڈور جا کر مستحق افراد تک راشن پہنچایا۔اس موقع پر چیئرمین سریکوران صدام فیضی اور دیگر کونسلران بھی موجود تھے۔ اہلِ علاقہ نے غریب و مستحق گھرانوں کو ترجیحی بنیادوں پر گھروں کی دہلیز تک راشن پہنچانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2010/2026
قلات 9مارچ ۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر پی بی 36قلات منیراحمد درانی نے کہا ہیکہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تحت قلات گزگ جوہان کے سات پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات کے انعقاد کے عمل کو مکمل شفاف بنایا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نےآل پارٹیز قلات کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ڈی آراوڈپٹی کمشنرقلات منیردرانی نے کہا کہ الیکشن کی شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگااس سلسلے میں تمام ترانتظامات مکمل کرلئے گئے پرامن شفاف پولنگ کے انعقادکویرصورت یقینی بنایا جائیگا ڈی آراونے آل پارٹیزوفدکے سربراہ میرقادربخش مینگل کویقین دہانی کراءکہ کل 10مارچ کو ہونے والے ری پولنگ کے موقع پر سیکیورٹی اوردیگرامورسے متعلق انکے تجاویزپر غوراورتحفظات کاازالہ کیا جائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2010/2026
کوئٹہ، 9 مارچ ۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان اور ڈی آئی جی آپریشنز لیفٹیننٹ (ر) عمران شوکت کے زیر صدارت ریڈ زون میں سیکیورٹی بنکرز اور کنکریٹ دیوار کی تعمیر کے منصوبے کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف انجینئر کوئٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی، ایس ای سٹی انجینئر اظہر جان، ایس پی ریڈ زون حنان اچکزئی، ٹیکنیکل ایڈوائزر محکمہ مواصلات و تعمیرات انجینئر احسان دوتانی اور انجینئر اویس پرویز سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران انجینئر اویس پرویز نے منصوبے کی پیش رفت، تکنیکی پہلووں اور تعمیراتی مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے مختلف مراحل پر کام جاری ہے جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران درپیش چیلنجز، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی مسائل سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ شرکائ نے ان مسائل اور رکاوٹوں کے حل کے لیے مختلف تجاویز اور اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ریڈ زون کی سیکیورٹی پلان کے حوالے سے واضح اور سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں ریڈ زون ایک نہایت حساس علاقہ ہے، جہاں سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر اور مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی بنکرز اور کنکریٹ دیوار کا یہ منصوبہ حساس سرکاری عمارات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا ڈی آئی جی آپریشنز لیفٹیننٹ (ر) عمران شوکت نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ زون اور اس سے ملحقہ وی آئی پی زون انتہائی حساس علاقے ہیں، جن کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانا اولین ترجیح ہے انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ جاری منصوبے کی تکمیل میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ سیکیورٹی کے انتظامات کو جلد از جلد موثر بنایا جا سکے اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے میں معیار، شفافیت اور رفتار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام تکنیکی و سیکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کو بروقت مکمل کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2011/2026
کوئٹہ 9 ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے آج شہباز ٹاو¿ن میں پارسی قبرستان کے مقام پر پودا لگا کر باقاعدہ طور پر “کلین اینڈ گرین کوئٹہ انیشیٹو 2026” کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر شجرکاری مہم کے آغاز کے ساتھ شہر کو سرسبز اور صاف ستھرا بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس تقریب میں روٹری کلب کوئٹہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں، سماجی کارکنوں اور مقامی رہائشیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کوئٹہ شہر کو سرسبز بنانے اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلین اینڈ گرین کوئٹہ انیشیٹو 2026 کا مقصد شہر میں ماحول دوست سرگرمیوں کو فروغ دینا اور شہریوں میں شجرکاری کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم کے تحت شہریوں، سول سوسائٹی اور مختلف اداروں کے تعاون سے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار درخت لگائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ شجرکاری ماحولیاتی آلودگی میں کمی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اور شہری ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں مرحلہ وار شجرکاری مہم جاری رکھے گی اور سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور شہریوں کو اس مہم میں شامل کیا جائے گا تاکہ کوئٹہ کو صاف، سرسبز اور خوشگوار ماحول والا شہر بنایا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر شرکاءنے مختلف پودے بھی لگائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2012/2026
کوئٹہ، 09 مارچ: کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت حلیم پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، چیف فائر آفیسر میونسپل کارپوریشن کوئٹہ عبدالحق، اسسٹنٹ کمشنر (پولیٹیکل) کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ، صدر انجمن تاجران عبدالرحیم کاکڑ اور حلیم پلازہ کے مالک سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران حلیم پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی ابتدائی صورتحال، ریسکیو اقدامات، ہونے والے نقصانات اور تخمینے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر پلازہ کے مالک، انجمن تاجران کے نمائندوں، چیف فائر آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے جامع اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ چیف فائر آفیسر کو ہدایت کی گئی کہ پلازہ میں فائر سیفٹی انتظامات، فائر فائٹنگ سسٹم، ایمرجنسی اخراج کے راستے، آگ بجھانے کے آلات اور واقعے کے دوران ریسکیو رسپانس کے حوالے سے مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں آتشزدگی کی ممکنہ وجوہات، بالخصوص فائر سیفٹی گریڈ کی عدم موجودگی، بجلی کی بندش سے متعلق مسائل اور حفاظتی معیار میں ممکنہ کوتاہیوں کے پہلووں کا بھی تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے واضح کیا کہ واقعے کی مکمل شفاف تحقیقات کی جائیں گی ۔اور اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اپنی تفصیلی رپورٹس اگلے اجلاس سے قبل جمع کرائیں تاکہ واقعے کی حقیقی وجوہات سامنے لائی جا سکیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔مزید برآں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات میں کیسکو حکام کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ بجلی سے متعلق پہلووں کا جائزہ لیا جا سکے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ غفلت یا کوتاہی کہاں اور کس کی جانب سے ہوئی، تاکہ اصل ذمہ داروں کا درست تعین ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 2013/2026
کوئٹہ 9 مارچ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ الحمدللہ، بلوچستان میں سرکاری یونیورسٹیوں کی رینکنگ اور اسکورنگ کو بہتر کرنے کے بعد، بیوٹمز یونیورسٹی نے پہلی مرتبہ یورپی یونین سے 25 کروڑ کا بریج پراجیکٹ حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ۔ پچھلے برس کے مقابلے میں ببوٹمز یونیورسٹی کی رینکنگ کو ٪51 سےبڑھا کر ٪80 پر پہنچانے پر وائس چانسلر ڈاکٹر خالدحفیظ شیخ اور ان کی ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہے۔ امید ہے کہ مستقبل قریب میں بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں اپنی سائنٹفک ریسرچ اور پیٹنٹ کے ذریعے آمدن کے نئے ذرائع پیدا کرکے خود کفیل ہوجائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں بہوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بیوٹمز یونیورسٹی ژوب کیمپس معیار اور مقدار کے اعتبار سے ترقی کی جانب گامزن ہے ۔ آگر اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو ہم بہت جلد ژوب کیمپس کو فول پلیج یونیورسٹی کے درجہ دینگے۔ بہوٹمز یونیورسٹی کی شاندار کارکردگی اور تقریبات درحقیقت کئی اہم سنگ میلوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو ترقی، کامیابی اور معاشرے کی خدمت کرنے کی تیاری کی عکس بندی ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 میں بیوٹمز یونیورسٹی عالمی بینڈ 1500 میں رکھا گیا ہے. یہ بلوچستان کی واحد یونیورسٹی ہے جسے عالمی سطح پر رینکینگ کیا گیا ہے۔ یہ کامیابی یونیورسٹی کی معیاری تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی ترقی کیلئے مستقل عزم کی عکاسی کرتی ہے.
۔۔۔

خبر نامہ نمبر2014/2026
کوئٹہ، 9 مارچ چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے این ایچ اے کے مختلف سڑک منصوبوں میں تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
عدالت میں درخواست گزار کی جانب سے وکیل دوست محمد مندوخیل ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ این ایچ اے کی جانب سے نجیب اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ اور لاء آفیسر عبدالمنان نے معاونت کی۔ اس کے علاوہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد فرید، ڈپٹی اٹارنی جنرل انور نسیم کاسی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شئے حق بلوچ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سلمیٰ نے بھی عدالت کی معاونت کی۔
سماعت کے دوران این ایچ اے کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ادارہ اس وقت N-25 (کراچی۔خضدار۔کوئٹہ۔چمن روڈ) منصوبے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور اسی وجہ سے فنڈز زیادہ تر اسی منصوبے کے لیے مختص کیے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ سڑک دو صوبوں کے درمیان عوامی آمد و رفت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ N-50 (کچلاک۔ژوب ڈوئلائزیشن منصوبہ) پر بھی کام جاری ہے۔تاہم سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ منصوبوں پر خاطر خواہ پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ عدالت میں موجود وکلاء اور لاء افسران، جن کا تعلق متعلقہ علاقوں سے ہے، نے این ایچ اے کے مؤقف کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی خراب صورتحال مسافروں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صوبے میں مختلف زیر التوا منصوبوں کی تکمیل کے لیے این ایچ اے کو اب تک تقریباً 127 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود منصوبوں پر مطلوبہ رفتار سے کام نظر نہیں آ رہا۔
درخواست گزار کے وکیل دوست محمد مندوخیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت کی بارہا ہدایات کے باوجود کراچی۔خضدار۔کوئٹہ۔چمن روڈ (N-25)، ہوشاب۔آواران روڈ (M-08)، آواران۔نالک روڈ (M-08) اور N-50 کی بحالی و مرمت سمیت متعدد منصوبوں پر عملی کام شروع نہیں کیا گیا، نہ ہی باقی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں کی آغاز ہو سکی ہیں۔چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جب N-50 کے بعض حصے مکمل ہو چکے ہیں تو باقی علاقوں میں تعمیرات روکنا اور سڑک کی دیکھ بھال و مرمت شروع نہ کرنا قابل قبول نہیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ N-50 کی ڈوئلائزیشن مختلف وجوہات کی بنا پر مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ این ایچ اے کی جانب سے مختلف بہانوں کے ذریعے منصوبوں میں تاخیر کا رجحان تشویشناک ہے۔ جب عدالت نئے منصوبوں کے بارے میں استفسار کرتی ہے تو زیر التوا منصوبوں کو تاخیر کا جواز بنایا جاتا ہے، جبکہ جاری منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق کوئی تسلی بخش جواب فراہم نہیں کیا جاتا۔
عدالت نے این ایچ اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ بصورت دیگر متعلقہ حکام کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر اپنی ناکامی کی وجوہات بیان کرنا ہوں گی۔عدالت نے حکم دیا کہ رکن این ایچ اے (بلوچستان) آئندہ سماعت پر جامع رپورٹ کے ساتھ پیش ہوں، جبکہ مزید کوتاہی کی صورت میں چیئرمین این ایچ اے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
عدالت نے اپنے حکم کی کاپی ایڈووکیٹ جنرل آفس کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی تاکہ متعلقہ حکام کو آگاہ کر کے عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
کیس کی مزید سماعت 12 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
۔۔۔

خبر نامہ نمبر 2015/20206
دکی9 مارچ۔ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ای پی آئی (EPI) کی ماہانہ ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں فروری کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مارچ کے لیے آئندہ کی حکمت عملی اور پلاننگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی، ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر نصیب اللہ، ڈی ایس او ڈاکٹر عبد اللہ جان، ایم اینڈ ای آفیسر ای پی آئی پیر محمد، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر عبد الحمید ، ڈی ایس او ڈاکٹر عبد اللہ جان، ڈی ایم راز محمد، ویکسینیٹرز اور دیگر متعلقہ عملے نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی کارکردگی، درپیش مسائل اور بہتری کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مارچ کے دوران ویکسینیشن مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ہر یونین کونسل میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے ویکسینیٹرز میں موبائل فون بھی تقسیم کیے تاکہ فیلڈ میں ڈیٹا رپورٹنگ اور رابطے کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر2016/2026
موسیٰ خیل 9مارچ.ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک سے ان کے دفتر میں ایک وفد نے موبائل نیٹ ورک کے حوالے سے ملاقات کی وفد نے نیٹ ورک کی خراب صورت حال کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا وفد نے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل کے عوام کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ یہاں موبائل نیٹ ورک نہ ہونے کے برابر ہے ضلع میں دو کمپنی نیٹ ورک کام کررہے ہیں ٹیلی نار اور یو فون لیکن دونوں کے سگنلز نا ھونے کے برابر ہیں اس وجہ سے عوام رابطے، تعلیم اور ہنگامی صورتحال میں سخت پریشانی کا شکار ہیں وفد نے ڈپٹی کمشنر سے اپیل کی کہ وہ بالا حکام اور کمپنیوں کے نمائندوں سے رابطہ کرکے عوام کے اس اہم مسلے کے حل کی کوشش میں مدد کریں ڈپٹی کمشنر نے وفد کے اہم مسلے کو تفصیل سے سنا اور یقین دلایا کہ اس مسلے اور باقی تمام حل طلب مسائل ہماری ذمہ داری ہے اور انشاءاللہ بہت جلد یہ تمام مسائل حل ہونگے ڈپٹی کمشنر نے وفد کی موجودگی میں کمپنی نمائندوں اور حکام بالا سے ٹیلی فون پہ رابطہ کیا اور اپنے ضلع کے نیٹ ورک کے حوالے سے آگاہ کیا اور ان مسائل کو جلد حل کرنے کا کہا کمپنی نمائندوں نے بہت جلد نیٹ ورک کے مسائل کو ٹھیک کرنے کی یقین دہانی کرائی وفد نے ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ـ

خبرنامہ نمبر 2017/2026
موسیٰ خیل 9 مارچ ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی (DCC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 67 ونگ ژوب ملیشیاء کے کرنل عرفان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ، جبکہ ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر (زیرِ تربیت) بشیر احمد اخونزادہ اور تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے آفیسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران بلوچستان سوشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے تمام متعلقہ آفیسران کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام آفیسران جاری ترقیاتی کاموں کی کڑی نگرانی کریں اور کام کی رفتار کو مزید تیز کریں تاکہ فیز ون اور فیز ٹو کے تمام منصوبے ہر صورت 31 مئی 2026 تک معیاری طریقے سے مکمل کیے جا سکیں انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی اہداف کے حصول اور کام کے معیار میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، تمام محکمے باہمی اشتراک سے کام کو مقررہ وقت پر پائے تکمیل تک پہنچائیں تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں اجلاس کے آخر میں ڈپٹی کمشنر نے مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے تمام لائن ڈیپارٹمنٹس سے آنے والے فیز تھری (Phase III) کے لیے تجاویز بھی طلب کیں تاکہ نئے منصوبوں کو عوامی ضرورت کے مطابق حتمی شکل دی جا سکے۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2018/2026
کوئٹہ 9مارچ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق رمضان ریلیف پیکج کے تحت مستحق اور نادار خاندانوں تک راشن کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ماہِ رمضان المبارک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر نگرانی مختلف علاقوں میں مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اچکزئی نے کلی محمد شہی میں خصوصی طور پر راشن تقسیم کرنے کی تقریب میں شرکت کی جہاں 250 مستحق خاندانوں اور بیواؤں میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت راشن تقسیم کیا گیا۔ اس موقع پر مستحق افراد کو آٹا، چاول،چینی، گھی، دالیں اور دیگر اشیائے ضروریہ فراہم کی گئیں تاکہ وہ ماہِ رمضان میں بنیادی ضروریات باآسانی پوری کر سکیں دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر (کچلاک) احسام الدین کاکڑ نے ہزارہ ٹاؤن میں 130 مستحق خاندانوں میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت راشن تقسیم کیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے عملے نے شفاف انداز میں راشن کی تقسیم کو یقینی بنایا تاکہ حقیقی مستحقین تک امداد پہنچ سکے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق رمضان ریلیف پیکج کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں مستحق افراد کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات کے مطابق راشن کی تقسیم کے عمل کو منظم، شفاف اور تیز بنانے کے لیے متعلقہ افسران خود فیلڈ میں موجود رہ کر نگرانی کر رہے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق رمضان المبارک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ مستحق اور نادار خاندانوں کو حقیقی معنوں میں سہولت میسر آ سکے۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2019/2026
کوئٹہ9مارچ۔ مارچ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے گرانفروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے شہر کے مختلف بازاروں میں 210 دکانوں کا معائنہ کیا، جس کے دوران 48 افراد کو گرفتار جبکہ 32 کو جیل منتقل کیا گیا اور 18 دکانیں سیل کر دی گئیں ان کارروائیوں کے دوران سب ڈویژن سٹی میں 52 دکانوں کا معائنہ، 8 گرفتاریاں اور 3 دکانیں سیل، سب ڈویژن صدر میں 50 دکانوں کا معائنہ، 12 گرفتاریاں اور 6 دکانیں سیل، سریاب میں 55 دکانوں کا معائنہ، 11 گرفتاریاں اور 4 دکانیں سیل جبکہ کچلاک میں 48 دکانوں کا معائنہ، 8 گرفتاریاں اور 5 دکانیں سیل کی گئیں۔ان کاروائیوں میں اسسٹنٹ کمشنرز اور اسپیشل مجسٹریٹس کی نگرانی میں کی گئیں ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ رمضان المبارک میں گرانفروشی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2020/2026
لورالائی9مارچ۔ آج ڈپٹی کمشنر آفس لورالائ میں عورت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے مناسبت سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی ایًڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نورعلی کاکڑ تھے،اس موقع پر ڈسٹرکٹ منیجر میڈیم یاسمین ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر عبد الرزاق،پی پی ایچ آئ اختر محمد بھی موجود تھے کھلی کچہری کا مقصد عورتوں پر تشدد صنفی مساوات اور دیگر مسائل کو اجاگر کرکے ان مسائل کو انتظامیہ کے زریعے حل کرنا تھا کھلی کچہری میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس دوران خواتین نے اپنے اپنے مسائل اجاگر کیے خواتین کے عالمی دن اور اس منعقدہ کھلی کچہری سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نور علی کاکڑ نےخطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ضلعی انتظامیہ حکومت بلوچستان صوبے بھر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات اور آگاہی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے وزیر علی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی وژیرن کے تحت خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے مثبت پیغام معاشرے کے ہر طبقے تک مؤثر انداز میں پہنچ سکے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ منیجر میڈیم یاسمین،ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الرازق،پی پی ایچ آئ اختر محمداور دیگر مقررین کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین کی فلاح و بہبود، تحفظ اور ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نور علی کاکڑنے کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں معاشرے میں باعزت مقام دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ضلعی انتظامیہ کی مختلف اسکیموں اور منصوبوں جن میں وومن جمنازیم، وومن لائبریری اور وومن فٹسال گروانڈ بنائے جارہے ہیں اور ان تعلیم کے ذریعے خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر2021/2026
کوئٹہ، 9 مارچ ۔حکومت بلوچستان محکمہ تعلیم (اسکولز) نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے اس حوالے سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں حالیہ علاقائی صورتحال اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے انتظامی تیاری کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان بھر کے تمام تعلیمی ادارے 9 مارچ 2026 سے 23 مارچ 2026 تک فوری طور پر بند رہیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر نقل و حرکت اور ٹرانسپورٹ سے متعلق درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی سہولت کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تاہم محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ جاری داخلہ مہم، اسکولوں کی ڈیجیٹل مردم شماری اور اگر کوئی امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں تو وہ جاری رہیں گے۔ متعلقہ افسران اور عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان سرگرمیوں کو محکمہ تعلیم کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق مؤثر طریقے سے جاری رکھا جائے
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2022/2026
کوئٹہ 9 مارچ ۔چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی روڈ منصوبے میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو منصوبوں کی ترجیحات واضح کرنے اور پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل حبیب اللہ ناصر پیش ہوئے۔ جواب دہندگان کی جانب سے محمد فرید ڈوگر، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، محمد نسیم کاسی، ڈپٹی اٹارنی جنرل، شئے حق بلوچ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، نجیب اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ برائے این ایچ اے، عبدالمنان کاکڑ ڈپٹی ڈائریکٹر (قانون) این ایچ اے، محمد اختر ڈپٹی سیکرٹری محکمہ پی اینڈ ڈی، انجینئر محمد اقبال اسسٹنٹ چیف (ٹی اینڈ سی) منسٹری آف پلاننگ کمیشن آف پاکستان اسلام آباد اور پلاننگ کمیشن کے نمائندے احمد عبداللہ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران منسٹری آف پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی روڈ منصوبے کی منظوری دفتری میمورنڈم نمبر FNo.16(351) PIA-III/PC/2020 مورخہ 30 دسمبر 2025 کے تحت دی گئی ہے اور منصوبے کی مجموعی لاگت 17 ارب 49 کروڑ 51 لاکھ 40 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی (کمیونیکیشن ڈویژن) میں اس منصوبے کے لیے سیریل نمبر 48 کے تحت 200 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے کی منظوری کو تقریباً دو ماہ گزر چکے ہیں، تاہم اب تک عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
اس موقع پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ این ایچ اے وفاقی حکومت کی منظوری کے مطابق کیچ۔ہرنائی۔سنجاوی روڈ منصوبے کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے، تاہم منصوبے کی مجموعی لاگت کے مقابلے میں موجودہ 200 ملین روپے کی محدود رقم کے باعث منصوبے پر ہموار انداز میں کام شروع کرنا ممکن نہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ جب منصوبے کی لاگت اربوں روپے ہے تو محض 200 ملین روپے کی مختص رقم سے منصوبہ کیسے شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ این ایچ اے کا بجٹ ون لائنر بنیادوں پر منظور ہوتا ہے اور فنڈز کی تقسیم این ایچ اے کی ترجیحات کے مطابق کی جاتی ہے۔عدالت کو مزید بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران این ایچ اے کو 227 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے تقریباً 127 ارب روپے بلوچستان کے مختلف جاری منصوبوں جیسے کراچی۔خضدار۔کوئٹہ۔چمن روڈ (N-25)، آواران۔نال روڈ منصوبہ (M-8) اور ژوب۔کچلاک روڈ منصوبہ (N-50) کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
دو رکنی بینچ نے ریمارکس دیے کہ جب بلوچستان کے لیے خطیر رقم پہلے ہی مختص کی جا چکی ہے اور مالی سال کے تین چوتھائی حصے کے فنڈز جاری بھی ہو چکے ہیں تو پھر زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی روڈ منصوبے پر ٹینڈرنگ کا عمل شروع نہ ہونا افسوسناک ہے۔
عدالت نے چیئرمین این ایچ اے کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر ترتیب دیں اور فنڈز کو کسی مخصوص منصوبے کی طرف غیر متوازن طور پر منتقل کرنے کے بجائے جاری اور نئے منصوبوں میں مناسب تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے ممبر این ایچ اے بلوچستان کو آئندہ سماعت پر پیش ہو کر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔عدالت نے حکم دیا کہ اس حکم نامے کی کاپی ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کو بھی ارسال کی جائے تاکہ متعلقہ حکام کو آگاہ کر کے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔کیس کی مزید سماعت 12 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
۔۔۔

خبرنامہ نمبر 2023/2026
کوئٹہ، 9 مارچ ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پرسنل اسٹاف افسر سید امین نے اپنے والد محترم کے انتقال کے موقع پر اظہارِ ہمدردی و تعزیت کرنے والے تمام عزیزوں، دوستوں اور شخصیات کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا ہے سید امین نے کہا کہ فون کے ذریعے یا بالمشافہ تشریف لا کر تعزیت کرنے والے ہر عزیز کی محبت بھری ہمدردی اور نیک تمنائیں اس صدمے میں ان کے لیے بہت بڑی تسلی، سکون اور حوصلے کا سبب بنی ہیں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور اہل خانہ کو صبر و سکون عطا فرمائے۔ سید امین نے اپنے تمام دوستوں اور عزیزان سے درخواست کی کہ وہ اپنی دعاؤں میں انہیں یاد رکھیں تاکہ یہ نازک مرحلہ آسانی سے گزر سکے۔
۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *