خبرنامہ نمبر184/2026
کوئٹہ، 9 جنوری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 21 واں اہم اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبے کی معاشی، سماجی اور انتظامی بہتری سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئےاجلاس کے آغاز میں صوبائی کابینہ نے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی جانب سے بلوچستان میں مواصلاتی اور تعلیمی منصوبوں کے آغاز پر اظہارِ تشکر کیا اور ان اقدامات کو صوبے کی ترقی کے لیے خوش آئند قرار دیا صوبائی کابینہ نے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے الیکٹرک بائیکس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا اجلاس میں طے پایا کہ طلبہ، ورکنگ ویمن اور سرکاری ملازمین کو الیکٹرک بائیکس 30 فیصد سبسڈی پر فراہم کی جائیں گی جبکہ عام شہریوں کو بھی آسان اقساط پر اس سہولت سے مستفید ہونے کا موقع دیا جائے گا کابینہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسکیم پر عملدرآمد بنک فنانسنگ کے تحت کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھا سکیں کابینہ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ صوبے کے لگ بھگ ڈھائی لاکھ سرکاری ملازمین کے علاج معالجے پر سالانہ 6 سے 7 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں اس تناظر میں صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ علاج معالجے کا نظام شفاف، موثر اور پائیدار بنایا جا سکے اجلاس میں رائج الوقت پالیسی کے تحت علاج کی غرض سے پیشگی میڈیکل ادائیگیوں اور عوامی انڈومنٹ فنڈ کے آڈٹ کی بھی منظوری دی گئی صوبائی کابینہ نے نوجوانوں کو معاشی خودمختاری کی جانب گامزن کرنے کے لیے انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کی توسیع کی منظوری دے دی جس کے تحت یہ پروگرام اب گوادر، کیچ اور آواران تک پھیلایا جائے گا اجلاس میں گڈ گورننس کے فروغ کے لیے میرٹوکریسی پر زور دیتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیوں پر اتفاق کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ میرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے لیے مواصلاتی اور تعلیمی منصوبوں میں تعاون پر وزیر اعظم پاکستان کے شکر گزار ہیں ان منصوبوں کی تکمیل سے مواصلاتی نیٹ ورک میں نمایاں بہتری آئے گی جبکہ مقامی سطح پر معیاری تعلیم کے موقعوں میں اضافہ ہوگا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ الیکٹرک بائیکس اسکیم کے تحت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو آسان اقساط پر سہولت فراہم کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عام آدمی کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان وسائل کا درست اور منصفانہ استعمال حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناانصافی ہے کہ بلوچستان کا غریب آدمی مشکلات جھیلے اور وسائل کا بڑا حصہ صرف مخصوص طبقے پر خرچ ہو، میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کے علاج معالجے کے لیے ایک جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم لائی جا رہی ہے، جبکہ انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو معاشی استحکام کا راستہ دکھایا جائے گاوزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گڈ گورننس کا قیام میرٹوکریسی سے مشروط ہے اور بلوچستان کابینہ نے میرٹ کے فروغ کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے، جس پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر185/2026
کوئٹہ 9 جنوری,۔ ناقص و مضرِ صحت خوراک کے خاتمے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیمیں مسلسل متحرک ہیں اس ضمن میں کوئٹہ، کچلاک اور سبی کے مختلف علاقوں میں ہمہ گیر فوڈ سیفٹی انسپیکشن مہم کے دوران مجموعی طور پر 79 کھانے پینے کے مراکز کی جامع جانچ پڑتال کی گئی جہاں متعدد مراکز میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق فوڈ قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر 33 فوڈ پوائنٹس کے خلاف فوری ایکشن لیا گیا ، ناقص صفائی، غیر محفوظ اسٹوریج اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 25 ہوٹلوں، 4فاسٹ فوڈ کارنرز اور 4 پکوان سینٹرز پر جرمانے عائد کیے گئے۔انسپیکشن کے دوران بار بار استعمال ہونے والا اور خراب کوکنگ آئل، ناقص مصالحے بڑی مقدار میں برآمد کر کے موقع پر تلف کر دیے گئے۔ اسی طرح مراکز میں مضر صحت رنگوں، چائنیز نمک اور غیر معیاری اجزاءکے استعمال کا بھی انکشاف ہوا۔ متعدد فوڈ پوائنٹس بغیر فوڈ بزنس لائسنس کے چلتے ہوئے پائے گئے جن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔مزید برآں، معمولی نوعیت کی خامیوں پر 24 مراکز مالکان کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے تاکہ وہ بی ایف اے کی وضع کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور مقررہ مدت میں بہتری لائی جا سکے۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر186/2026
کوہلو 9 جنوری۔ رکنِ صوبائی اسمبلی نواب چنگیز مری کی خصوصی ہدایت پر ضلع بھر کی مساجد کو مرحلہ وار سولر انرجی سسٹم پر منتقل کیا جارہا ہے جس میں پہلے مرحلے میں دور دراز علاقوں کو خصوصی ترجیح دیا گیا ہے جہاں مساجد کو بجلی کے لوڈشیڈنگ و عدم دستیابی کا سامنا ہے اس اقدام کا مقصد مساجد میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور نمازیوں کو عبادت کے اوقات کار میں بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے سولر سسٹم کی تنصیب سے مساجد میں روشنی، وضو کےلئےگرم پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی ممکن ہوگی جس سے خصوصاً گرمی و سردی کے موسم میں نمازیوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی آئے گی اور متبادل توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی مساجد عوامی فلاح کا اہم مرکز ہیں ان کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے سولر سسٹم ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ پائیدار حل بھی ہے جس سے قومی وسائل کی بچت ممکن ہوگی علاقہ مکینوں اور نمازیوں نے رکن صوبائی اسمبلی کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر187/2026
تربت: 9 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کی زیرِ صدارت کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کی میراتھن ریس کی تیاریوں کے حوالے سے ضلع کیچ کے لائن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے ساتھ ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ مقبول انور رند، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے سیکرٹری التاز سخی سمیت محکمہ تعلیم، ایگریکلچر، ایم ایم ڈی، بی اینڈ آر، ماحولیات، سوشل ویلفیئر اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ نے میراتھن ریس کے روٹ، سیکیورٹی انتظامات، میڈیا کوریج اور کھلاڑیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات سمیت دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا اور تیاریوں کو حتمی شکل دی۔اس موقع پر انہوں نے تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ریس کے آغاز کے موقع پر صبح 10:30 بجے ڈپٹی کمشنر ہاوس تربت کے سامنے موجود ہوں۔دریں اثنا ڈپٹی کمشنر کیچ نے اعلان کیا کہ میراتھن ریس تمام عوام کے لیے کھلی ہوگی، جس میں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے والے تمام افراد سے اپیل کی کہ وہ ریس کے آغاز سے قبل صبح 10:30 بجے ڈپٹی کمشنر کیچ ہاو¿س کے سامنے پہنچ جائیں۔واضح رہے کہ کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے تحت میراتھن ریس کا انعقاد ہفتہ، 10 جنوری 2026 کو صبح 10:30 بجے ڈپٹی کمشنر کیچ کی رہائش گاہ تربت کے سامنے سے ہوگا، جو پولیس اسٹیشن چوک اور تختی چوک سے ہوتی ہوئی ایئرپورٹ روڈ کے راستے کیچ اسٹیڈیم کے قریب اختتام پذیر ہوگی۔ ریس میں پہلے نمبر پر آنے والے کھلاڑی کو ایک لاکھ روپے ، دوسرے نمبر پر آنے والے کھلاڑی کو پچاس ہزار روپے جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والے کھلاڑی کو پچیس ہزار روپے کا انعام دیا جائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر188/2026
گوادر9جنووری ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈی پیک این آئی ڈی فروری 2026 کے تحت پہلی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر سے تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی، ڈی ایس پی پولیس چاکر بلوچ، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر ظفر اقبال، ایکس این بی اینڈ آر اکرم رحیم، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عیسیٰ بلوچ،ڈسٹرکث سرویلنس افیسر ڈاکٹر فاروق بلوچ ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ دوست محمد بلوچ، ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر ڈاکٹر صابر علی بلوچ، این آر ایس پی کے ڈسٹرکٹ منیجر پیر جان بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر وہاب مجید سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈبلیو ایچ او کے نمائندے نے گزشتہ انسدادِ پولیو مہم کی تفصیلی رپورٹ پیش کی، جس میں سسپیکٹڈ پولیو کیسز، انوائرمنٹل سیمپلز اور ڈیموگرافک ڈیٹا پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مہم کے دوران مجموعی طور پر 35,364 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران فیلڈ میں کام کرنے والے ورکرز کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا اور ان کے حل کے لیے متعلقہ افسران کو فوری اور موثر اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ورکرز کی حوصلہ افزائی اور مہم کی موثر نگرانی پر بھی زور دیا۔اس کے علاوہ اجلاس میں سیکیورٹی پلان پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی پلان کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر نافذ کیا جائے تاکہ مہم کو پرامن اور کامیاب بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر189/2026
تربت9جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کی زیرِ صدارت آل پارٹیز کیچ اور انجمن تاجران کیچ کے ساتھ میراتھن ریس کے انعقاد کے حوالے ایک اہم اجلاس ڈی سی کیچ آفس تربت کے مقام پر منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تمپ شے حق حیات، آل پارٹیز کیچ کے صدر نواب شمبے زئی، انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار احمد جوسکی، اعجاز جوسکی، اسحاق روشن دشتی، نیشنل پارٹی کے رہنما معتبر شیر جان، کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے سیکریٹری التاز سخی اور پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے نمائندہ مراد اسماعیل نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ، کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے سیکریٹری التاز سخی اور دیگر معزز شرکاء کے مابین کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول میں میراتھن ریس کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اس اہم ایونٹ کو خوش اسلوبی سے پایہ? تکمیل تک پہنچانے کے لیے مختلف انتظامی اور عملی امور پر سیر حاصل غور و خوض کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے اجلاس کے تمام شرکاءسے اپیل کی کہ وہ اس قومی نوعیت کے اسپورٹس ایونٹ کے انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ کیچ سے بھرپور تعاون کریں اور میراتھن ریس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ریس کے آغاز کے وقت ڈپٹی کمشنر کیچ ہاو¿س کے سامنے 10 جنوری 2026 کو ہفتے کے روز صبح 10:30 بجے موجود رہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر190/2026
کوئٹہ 9جنوری ۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ میں موجود نان فنکشنل اسکولوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ جہاں جہاں نان فنکشنل اسکول موجود ہیں وہاں تعطیلات کے دوران تمام ضروری کام مکمل کیے جائیں تاکہ اسکول تعطیلات کے فوراً بعد فعال ہو سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ نان فنکشنل اسکولوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ کے افسران محکمہ تعلیم کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں کوئٹہ کے تمام نان فنکشنل اسکولوں کو مکمل طور پر فعال کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر191/2026
لورالائی 9 جنوری ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کو ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ اینڈ روڈ بارکھان فضل محمد ذرکون نے ضلع بارکھان میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران تعلیمی، عدالتی، رہائشی اور سڑکوں کے شعبوں میں جاری ترقیاتی اسکیمات، ان کی موجودہ پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے اہداف سے آگاہ کیا گیا۔بلڈنگ سیکٹر کے تحت ضلع بارکھان میں گرلز انٹر کالج رکھنی، بوائز انٹر کالج رڑکن، پراسیکیوشن اسٹاف کے لیے دفتر و رہائشی عمارت (فیز ٹو) رکھنی، گورنمنٹ ہائی اسکول رکھنی کی اپ گریڈیشن، ڈاکٹرز کالونی بارکھان، سوشل ویلفیئر آفس اور سوشل ویلفیئر ہال بارکھان کی تعمیر ودیگر اہم منصوبے شامل ہیں، جن کا مقصد تعلیمی سہولیات کے فروغ، انتظامی و عدالتی ڈھانچے کی مضبوطی اور سرکاری ملازمین کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی ہے۔روڈ سیکٹر میں کوڈی تا کونل بڑگھیانی روڈ، بی ٹی روڈ سید محمد رنڈ، مین رکنی روڈ سے بستی میوہ پختہ روڈ، بستی فاضل خان تا چھوڑی روڈ، ونگہ تا زوری روڈ اور بغاو روڈ تا ناکامی بی ٹی روڈ و دیگر بلیک ٹاپ روڈ کے اہم منصوبے شامل ہیں، جو عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے اور علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے شفافیت، اعلیٰ معیار اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقیاتی منصوبے محض عمارتوں اور سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی اعتماد، خوشحالی اور بہتر مستقبل کی بنیاد ہیں۔ حکومت بلوچستان پسماندہ علاقوں کی ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔عوامی اور سماجی حلقوں نے ضلع بارکھان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر192/2026
: زیارت 9جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر زیارت محمد ریاض خان داوڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر لطیف اللہ غرشین، ڈی ای او فیمیل میمونہ،ڈی ڈی او سنجاوی غلام رسول کاکڑ، ڈی ڈی او فیمیل فرزانہ ارباب اکاونٹس افسر عبدالغنی پانیزئی،ڈی ڈی اونقیب اللہ کاکڑ نے شرکت کی اجلاس میں تمام ڈی ڈی اوز نے رپورٹ پیش کیں ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی گئی اجلاس میں ڈپٹی کمشنرمحمد ریاض خان نے کہ عارضی اساتذہ کی پراسیس کو مکمل کرکےتقرری اسی مہینے کریں گے اس تقرری سے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دور ہو گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنت انیشیٹیو میںں شامل محکمہ تعلیم کے اسکیمات کا تعلیم کے افسران ڈیلی بنیادوں پر وزٹ کریں اور کام کو میرٹ اور بروقت مکمل کیا جائے انہوں نے کہا کہ تعلیم ایک اہم شعبہ ہے اس پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا جائے گا اور میرٹ پر فیصلے کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ پورے ڈسٹرکٹ میں تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کئے جائیں گے اور اس سلسلے کوئی غفلت برداشت نہیں کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر193/2026
کوئٹہ9جنوری۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میں سیاست کو ایک اہم سماجی ذمہ داری کے طور پر دیکھتا ہوں۔ سیاست دراصل عام لوگوں کی زندگی میں بہتری لانے، ان کی ذہنی سطح بلند کرنے اور خرافات و توہمات سے نجات دلانے کا یہ ایک موثر اور معتبر وسیلہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں مختلف اضلاع کے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج بھی ہم عوام دوست سیاست کے ذریعے قومی یکجہتی کو فروغ دیکر عوامی حقوق و اختیارات کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہر منتخب عوامی نمائندوں کا قومی فریضہ ہے کہ وہ لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کریں۔ بےآواز اور بےسہارا لوگوں کی آواز اور سہارا بنے کی کی وکالت کریں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ انسان کی توقیر و عظمت کا آغاز درحقیقت اس کی بنیادی ضروریات اور سہولیات کی فراہمی سے مشروط ہے۔ اس ضمن میں ہم جاری ترقیاتی منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کرنے اور ان کے فوائد عام آدمی تک پہنچانے کیلئے ٹھوس کوششیں کر رہے ہیں۔ دکھی انسانیت کی خدمت سب سے بڑی خدمت ہے۔ لوگوں کی خدمت کے جذبے کو مجسم کرنا ایک صحتمند معاشرے کا آغاز ہے۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم نے اپنے طویل سیاسی کیریئر میں بغیر کسی امتیاز کے دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا سیکھا ہے جس کیلئے معاشرے میں حقوق و فرائض کا احساس اجاگر کرنا اولین شرط ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر194/2026
کراچی ،9 جنوری ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وزیراعلیٰ ہاوس کراچی میں ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، گورنر پنجاب سلیم حیدر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھوڑ بھی شریک تھے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماوں راجا پرویز اشرف، نئیر بخاری، قمر الزمان کائرہ، رانا فاروق سمیت دیگر قائدین نے بھی شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزراءشرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، ضیائ الحسن لنجار، جام خان شورو، سعید غنی، مرتضیٰ وہاب اور دیگر بھی موجود تھے ملاقات کے دوران ملکی معیشت، سیاسی استحکام، سماجی ترقی، پاکستان پیپلز پارٹی کی تنظیمی صورتحال اور بین الصوبائی تعاون کے فروغ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے درمیان موثر رابطہ کاری اور تعاون سے سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین بہتر ہم آہنگی کے باعث جرائم پر موثر قابو پایا گیا ہے اور مستقبل میں اس تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کو قومی استحکام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ باہمی اشتراک سے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور اس کے مثبت اثرات غربت کے خاتمے اور عوامی فلاح کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام سے معیشت مزید مضبوط ہوگی اور حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد بحال ہو رہا ہے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھوڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت اور صوبوں کا تعاون نہایت اہم ہے، جبکہ ملکی استحکام اور معاشی بہتری کے اثرات آزاد کشمیر تک منتقل ہو رہے ہیں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مختلف قانون سازیوں اور پارلیمانی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے ذریعے جمہوری عمل کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر195/2026
تربت: 9 جنوری .۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کی زیرِ صدارت میونسپل کارپوریشن تربت کے کونسلران کا ایک اہم اجلاس میراتھن ریس کے انعقاد کے حوالے سے منعقد ہوا۔ اجلاس میں 10 جنوری کو کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول میں منعقد کیے جانے والے میراتھن دوڑ میں شہری انتظامات اور انتظامی تعاون پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اس موقع پر اجلاس میں کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے سیکریٹری التاز سخی کے علاوہ میونسپل کارپوریشن تربت کے کونسلران طارق بابل، کیپٹن چاکر خان، نصیر اسماعیل، اعجاز ملائی، اسلم بلوچ، شمس بشیر اور ندیم حسرت سمیت دیگر کونسلران نے شرکت کی، جنہوں نے میراتھن ریس کے کامیاب انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں میراتھن ریس کی تیاریوں کے سلسلے میں روٹس کی صفائی، سڑکوں کی مرمت، جگہ جگہ واٹر پوائنٹس قائم کرنے اور شائقین کے لیے سہولیات کی فراہمی جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور سیکیورٹی اداروں سے موثر رابطے کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے ہدایت کی کہ میونسپل کارپوریشن ریس سے قبل صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کرے، جبکہ فائر بریگیڈ، ریسکیو اور طبی عملے کو بھی الرٹ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے اور کھلاڑیوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر196/2026
موسیٰ خیل 9 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایرایڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی ایچ او، ڈی ایس او ڈبلیو ایچ او ، یو سی ایم اوز اور لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان نے شرکت کی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ آنے والی پولیو مہم کو ایک “مشن موڈ” کے تحت چلایا جائے گا جس میں غفلت کی قطعاً گنجائش نہیں ہوگی۔ انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں موجود تمام پولیو ٹیموں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکیں ڈپٹی کمشنر نے خاص طور پر انکاری کیسز پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یو سی ایم اوز مقامی علماء اور عمائدین کے ہمراہ انکاری والدین سے رابطہ کریں اور انہیں قائل کریں کہ وہ اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ضلع سے پولیو کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر197/2026
نصیرآباد9جنوی ۔سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ سے سب ڈویژنل افیسر ممتاز علی سومرو نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران سب ڈویژنل افیسر ممتاز علی سومرو نے سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ کو چارج سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر گڈو بیراج سے بلوچستان کے حصے کے زرعی پانی کی فراہمی سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی، جس میں موجودہ صورتحال، درپیش مسائل اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے امور پر روشنی ڈالی گئی۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ نے اس موقع پر گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حصے کے زرعی پانی کے حصول اور بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سب ڈویژنل افیسر ممتاز علی سومرو کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل تمام تر صورتحال اور زرعی پانی کی فراہمی کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتے رہے ہیں جو قابلِ تحسین ہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں افسران نے زرعی پانی کی بہتر ترسیل اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر198/2026
خضدار 9 جنوری:۔ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن (BHCV) کی انسپیکشن ٹیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر منظور حسین بلوچ کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر خضدار سے ملاقات۔بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن (BHCC) کی انسپیکشن ٹیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر بلوچستان ڈاکٹر منظور حسین بلوچ کی کے سربراہی میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی سے ملاقات ٹیم میں ڈاکٹر بسم اللہ خان کا کڑ سینیئر انسپیکٹر فوکل پرسن ڈاکٹر عبدالحماد بلوچ انسپیکٹر اسٹاف افیسر ڈپٹی کمشنر عنایت اللہ بلوچ بھی موجود تھے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کو بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر منظور حسین بلوچ نے تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے بی ایچ سی سی ایکٹ کی قواعد و ضوابط کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوامی و نجی صحت کے مراکز ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹس کی رجسٹریشن اور کوئکری کی خاتمے کے حوالے سے کمیشن کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کمیشن کے مینڈیٹ کو عوام میں اجاگر کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر خضدار نے صحت کے حوالے سے مریضوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو صحت کے حوالے سے معیاری اور بروقت علاج کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ بی ایچ سی سی کے ٹیم اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں وقت کی پابندی اور عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش انے کی ہدایت کی انہوں نے بی ایچ سی سی کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا عمل جاری رکھنے کا عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر199/2026
قلات 9جنوری ۔ ۔ قلات کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت قلات پاک فوج ایف سی بلوچستان کے اشتراک سے قلات اور خالق آباد میں فری میڈیکل کیمپ انعقاد کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے اس سلسلے میں انتظامات مکمل کئے گئےڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کےجاری کردہ ہینڈآﺅٹ میں کہا گیا ہے کہ فری میڈیکل کیمپ میں ملک کے نامور طبی ماہرین ڈاکٹرز(گائناکالوجسٹ)اماہرمراض نسواں مریضوں کا مفت معائنہ کرکےادویات بھی فراہم کریں گےفری میڈیکل کیمپ شیڈول کے مطابق مورخہ 12جنوری کو خالق آباد آرایچ سی مندے حاجی جبکہ14جنوری کو پرنس کریم خان ہسپتال قلات میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد ہورہاہے۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹرانجم بلوچ کاکہنا ہیکہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیئے لوگوں کا صحت مند ہوناضروری ہے لوگوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیئے تمام تروسائل بروئے کارلارہے ہیں علاقہ معززین سماجی کارکنان اور صحافی برادری فری میڈیکل کیمپ کے حوالے سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ آگاہ کریں تاکہ عوام اس مفت میڈیکل کیمپ سے مستفید ہوسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Kalat 9;2026;Handout.In order to provide basic health facilities to the people of Kalat district, the District Administration, in collaboration with the Health Department, Kalat, Pakistan Army, FC Balochistan, has issued a schedule for organizing free medical camps in Kalat and Khaliqabad. Arrangements have been completed in this regard. The handout issued by the District Administration states that in the free medical camp, renowned medical experts of the country, doctors (gynecologists), will examine all female patients for free and provide medicines. According to the free medical camp schedule, a free medical camp is being organized on January 12 at Khaliqabad RHC Mande Haji, while on January 14 at Prince Karim Khan Hospital, Kalat. Deputy Commissioner Munir Ahmad Durrani and District Health Officer Dr. Anjum Baloch said that to create a healthy society, people must be healthy. They are using all means to provide better medical facilities to the people. Respected social workers and journalist community of the area should inform the people as much as possible about the free medical camp so that the people can benefit from this free medical camp.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر200/2026
گوادر:9جنوری ۔ سیکریٹری انفارمیشن حکومتِ بلوچستان عمران خان کی ہدایت پر سیکریٹری انفارمیشن کے کوآرڈینیٹر عاصر حسین نے ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن (پبلک ریلیشنز) گوادر کے دفتر کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن گوادر کو درپیش انتظامی و فنی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر متعلقہ افسر نے کوآرڈینیٹر کو دفتر کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور ایک جامع بریفنگ دی، جس میں جدید دور سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی سے منسلک آلات کی کمی، دفتر کی عمارت، سرکاری گاڑی (آفس وہیکل)، ڈرون کیمرہ، کیمرہ، لیپ ٹاپ، ٹی وی، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی شامل تھی۔ بریفنگ کا مقصد یہ تھا کہ سیکریٹری انفارمیشن کو ان مسائل سے آگاہ کیا جائے تاکہ محکمہ کی استعدادِ کار میں بہتری اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔دورے کے موقع پر سابق صدر پریس کلب گوادر اسماعیل عمر بھی موجود تھے۔ بعد ازاں کوآرڈینیٹر ٹو سیکریٹری انفارمیشن عاصر حسین نے پریس کلب گوادر کا بھی دورہ کیا اور صحافتی امور و مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر201/2026
ٹنڈوجام9 جنوری۔ ٹنڈوجام سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے درمیان صوبائی سطح پر تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، پائیدار زراعت، ڈرائی لینڈ اور رینج لینڈ مینجمنٹ، فارسٹری، فوڈ سیکیورٹی، اور بارش و نکاسی آب کے موثر اور سائنسی استعمال جیسے اہم زرعی و ماحولیاتی چیلنجز پر مشترکہ تحقیق کو فروغ دینا ہے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب جمعہ کے روز سندھ زرعی یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں منعقد ہوئی، جہاں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے سندھ زرعی یونیورسٹی جبکہ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق ریکی نے بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کی نمائندگی کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کیے۔یہ تعاون بالخصوص بلوچستان کے ناڑی بیسن اور ملحقہ علاقوں سے سندھ میں داخل ہونے والے پانی، مختلف قدرتی و مصنوعی نالوں اور ڈرینز کے ذریعے آنے والی نکاسی، بارش کے پانی کے ذخیرے، اور بارش و نکاسی کے پانی کو سائنسی بنیادوں پر زراعت میں استعمال کرنے کے امکانات پر تحقیق کو فروغ دینے کے لیے طے پایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ میں فارسٹری کے فروغ اور بلوچستان کے رینج ایریاز میں رینج لینڈ مینجمنٹ پر مشترکہ تحقیقی سرگرمیاں بھی اس مفاہمت کا اہم حصہ ہوں گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ بلوچستان کی مجموعی نکاسی آب کا تقریباً 25 فیصد حصہ چ±کھی کے ذریعے سندھ میں داخل ہوتا ہے، جو حمل جھیل سے گزرتے ہوئے آر بی او ڈی کے راستے منچھر جھیل تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئ گاج اور حب ڈیم کے ذریعے بھی بلوچستان سے سندھ میں پانی آتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں صوبوں کے درمیان آبی، زرعی اور ماحولیاتی مسائل پر مشترکہ تحقیق اور تعلیمی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی شدت کے باعث سندھ کا تقریباً نصف حصہ زیرِ آب رہا، جبکہ بعض علاقوں میں 1600 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی، جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہے۔ ڈاکٹر الطاف علی سیال نے اس بات پر زور دیا کہ بارش اور نکاسی کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانا، محفوظ ذخیرہ کرنا، نکاسی کے بہتر نظام تشکیل دینا، اور اس پانی کو زراعت میں موثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے مشترکہ سائنسی تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کے ماہرین بلوچستان میں ڈرائی لینڈ اور رینج لینڈ مینجمنٹ پر مشترکہ تحقیق کریں گے، جبکہ سندھ زرعی یونیورسٹی اپنے نئے متعارف کردہ فارسٹری ڈگری پروگرام کے تحت سندھ میں جنگلات کی ترقی کے لیے اپنی فنی اور تحقیقی مہارت فراہم کرے گی۔ معاہدے کے تحت فیکلٹی اور گریجویٹس کے تبادلے اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں پر بھی عمل کیا جائے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق ریکی نے کہا کہ وہ خود سندھ زرعی یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ وہ اپنے مادرِ علمی کے ساتھ قومی اہمیت کے حامل ایک مشترکہ تحقیقی منصوبے کا حصہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے، خصوصاً معاشی دباو، موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے تناظر میں نوجوانوں کو مستقبل سے ہم آہنگ تعلیم دینا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ جس رفتار سے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، اسی رفتار سے مارکیٹ کی ضروریات بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت دونوں صوبوں، محققین، طلبہ اور زرعی شعبے کے لیے طویل المدتی فوائد کی حامل ثابت ہوگی۔تقریب سے ڈاکٹر محمد اسماعیل کمبھر نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے مشترکہ آبی اور ماحولیاتی مسائل کا حل سائنسی تحقیق اور مضبوط بین الادارہ جاتی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت نہ صرف زرعی تحقیق کو فروغ دے گی بلکہ فوڈ سیکیورٹی اور موسمیاتی موافقت کے عملی اور قابلِ عمل حل سامنے لانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے، لیبارٹری وسائل اور سہولیات کے اشتراک، اور مشترکہ ورکشاپس، سیمینارز اور کانفرنسز کے انعقاد میں باہمی تعاون کریں گے۔ معاہدے کے مطابق سندھ زرعی یونیورسٹی اور بلوچستان ایگریکلچر کالج اپنی اپنی مہارت، انفراسٹرکچر اور وسائل باہمی تعلیمی و تحقیقی پروگراموں کے لیے فراہم کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿







