خبرنامہ نمبر115/2026
کوئٹہ7 جنوری۔ صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی زیر صدارت شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ کے بورڈ آف گورنرز (BoG) کا ایک اہم اجلاس آج سول سیکریٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی نواب محمد اسلم خان رئیسانی، سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی، متعلقہ محکموں کے سینئر افسران اور ہسپتال انتظامیہ نے شرکت کی۔اجلاس میں شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ کی مجموعی کارکردگی، انتظامی و مالی امور، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات اور طبی آلات کی دستیابی، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تعیناتی، عملے کی حاضری اور نظم و ضبط سمیت دیگر اہم معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران ہسپتال میں جاری اصلاحاتی اقدامات اور درپیش مسائل پر بھی غور و خوض کیا گیا۔صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے بھر میں عوام کو معیاری، بروقت اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں شفافیت، نظم و نسق اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہسپتال میں علاج و معالجے کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور مریضوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔اجلاس میں ہسپتال کی بہتری اور توسیع کے لیے مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جن میں جدید طبی آلات کی فراہمی، نئی وارڈز کے قیام، تشخیصی سہولیات میں اضافہ، ایمرجنسی سروسز کو مزید موثر بنانے اور ماہر ڈاکٹرز کی تعیناتی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور وسائل کے موثر استعمال پر بھی زور دیا گیا۔ممبر صوبائی اسمبلی نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے اس موقع پر کہا کہ مستونگ اور گرد و نواح کے عوام کے لیے یہ ہسپتال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس لیے ضروری ہے کہ یہاں جدید خطوط پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ عوام کو بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے ہسپتال کی بہتری کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ کو مرحلہ وار جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا اور عوام کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اجلاس میں دی گئی سفارشات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور پیش رفت سے متعلق باقاعدہ رپورٹ پیش کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر116/2026
بارکھان 7 جنوری۔ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈنٹ ایف سی کرنل محمد یونس، ڈی ایس پی مولاداد، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی، ڈی ایس ایم غلام رسول کھیتران، کسٹم انچارج ذیشان سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں امن و امان کی صورتحال، سرحدی علاقوں میں نگرانی، انسدادِ اسمگلنگ اقدامات، صحت عامہ کی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکمے باہمی رابطہ اور تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بارکھان میں امن قام رکھنا اورعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے، صحت کے شعبے میں بہتری لانے اور غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر تمام اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کی پالیسیوں کے مطابق عوامی مفاد میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے اور ضلع میں پائیدار امن و ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر117/2026
کوئٹہ7جنوری۔صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بی ایف اے حاجی نور محمد خان کی خصوصی ہدایات پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، پیزا پوائنٹس اور فاسٹ فوڈ مراکز کے خلاف خصوصی انسپیکشن و کریک ڈاون مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ اس سلسلے میں کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں قوانین کی خلاف ورزی پر مزید 20 کھانے پینے کے مراکز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائیوں کے دوران شہر بھر میں مجموعی طور پر 74 فوڈ پوائنٹس کی جامع جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سنگین خلاف ورزیوں پر 13 ہوٹلوں، 6 پیزا پوائنٹس اور 1 فاسٹ فوڈ کارنر پر جرمانے عائد کیے گئے۔ ان مراکز میں ناقص صفائی، خراب و استعمال شدہ کوکنگ آئل، مضر صحت رنگوں، چائنیز نمک اور غیر معیاری اجزاء کے استعمال کے ساتھ ساتھ اشیائ کی غیر صحت بخش اسٹوریج پائی گئی۔معائنہ کے دوران متعدد جرمانہ کردہ فوڈ پوائنٹس فوڈ بزنس لائسنس کے بغیر کام کرتے ہوئے پائے گئے جس پر متعلقہ مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ مزید برآں بڑی مقدار میں مضر صحت چائنیز نمک ضبط جبکہ ناقابلِ استعمال کوکنگ آئل کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ معمولی نوعیت کی خامیوں پر 18 دیگر مراکز کو اصلاحی نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔ صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بی ایف اے حاجی نور محمد خان کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ “عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ناقص اور مضر صحت خوراک کے کاروبار میں ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ فوڈ قوانین پر مکمل عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔”انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ بزنس آپریٹرز مقررہ معیار، صفائی اور لائسنسنگ کے تقاضے پورے کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ترجمان کے مطابق حالیہ کارروائیاں نواں کلی، ہزار گنجی، سیٹلائٹ ٹاون، طوغی روڈ، میکانگی روڈ، گولی مار چوک، بروری روڈ اور ایئرپورٹ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں کی گئیں جبکہ آئندہ دنوں میں بھی انسپیکشن مہم مزید تیز کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر118/2026
جعفرآباد7جنوری ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان سے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر جعفرآباد حبیب اللہ جوگیزئی نے ان کے دفتر میں تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر نے محکمہ بہبودِ آبادی کو درپیش مسائل اور انتظامی چیلنجز سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اور محکمے کی مجموعی کارکردگی، جاری پروگرامز اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات پر جامع بریفنگ دی۔ اجلاس میں محکمہ بہبودِ آبادی کو گزشتہ دو سال سے کرائے پر حاصل کی گءمختلف آفسزز کے درپیش دیرینہ اور زیر التوا مسئلے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی جس کے باعث محکمے کے امور میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، جبکہ اس مسئلے کے حل میں حائل انتظامی و قانونی مشکلات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے محکمہ کے تحفظات اور تجاویز کو بغور سنا اور یقین دہانی کرائی کہ محکمہ بہبودِ آبادی کے مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیے متعلقہ محکموں سے مشاورت کرتے ہوئے عملی اور موثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ یہ ملاقات پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، ادارہ جاتی مسائل کے حل اور عوامی خدمات کے معیار کو بلند کرنے کے حوالے سے نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر119/2026
کوئٹہ7جنوری۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق صوبے کے بیشتر حصوں میں موسم سرد اور خشک رہنے جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں شدید سردی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے بدھ اور جمعرات کے روز صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم بنیادی طور پر سرد اور خشک رہے گا تاہم اس دوران کوئٹہ سمیت چمن زیارت پشین قلعہ عبداللہ مستونگ ژوب اور قلات میں کم سے کم درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کی توقع ہے خصوصاً شام اور رات کے اوقات میں ان اضلاع میں سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھی صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہا جبکہ شمالی اضلاع میں رات کے وقت سردی کی لہر انتہائی شدید رہی جس کے نتیجے میں سب سے کم درجہ حرارت زیارت میں منفی 9 اور قلات میں منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر120/2026
قلات7جنوری ۔ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کیمطابق ضلع سے باہر مال مویشی لے جانے پرمکمل پابندی عائدکردی گءہےگزشتہ روز دوران کھلی کچہری م شہریوں نے کثیر تعداد میں مال مویشی ضلع سے باہرلیجانے کی نشاندہی کی تھی جس پرڈپٹی کمشنر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پابندی عائدکی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Kalat -7:2026 HandoutAccording to a notification issued by the Kalat District Administration, a complete ban has been imposed on taking livestock out of the district.During the open court session yesterday, citizens had pointed out that a large number of livestock were being taken out of the district, on whichthe Deputy Commissioner took immediate notice and imposed a ban.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر121/2026
کوئٹہ7 جنوری۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ بات ہم سب کیلئے باعث فخر و مسرت ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صوبہ بھر کے غریب بچوں کو معیاری تعلیم، بورڈنگ اور لاجنگ فراہم کرنے کیلئے بلوچستان میں پانچ دانش اسکولوں کا کل باضابطہ افتتاح کریں گے جن میں ضلع ژوب کا دانش اسکول بھی شامل ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے شروع کیے گئے یہ سرکاری فنڈز سے چلنے والے دانش اسکولز صوبہ بلوچستان کے عوام کیلئے نئے تعلیمی مواقع کھولیں گے جن سے وہ معیاری تعلیم تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور اپنے اپنے علاقے کی تعلیمی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاو¿س کوئٹہ میں پروجیکٹ ڈائریکٹر دانش اسکولز ڈاکٹر ارون داس کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات کے دوران شیخ عمیر خان، اسفندیار کاکڑ، اور نوید قمبرانی بھی شریک تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جن ڈسٹرکٹس میں سردست دانش اسکولز قائم کیے جا رہے ہیں ان میں ڈسٹرکٹ ژوب ، موسیٰ خیل، بیکڑ ڈیرہ بگٹی ، سبی اور قلعہ سیف اللہ شامل ہیں۔ گورنر مندوخیل نے پروجیکٹ ڈائریکٹر دانش اسکولز اور ان کی پوری ٹیم پر زور دیا کہ وہ پانچ دانش اسکولز کو مقررہ وقت پر ہی پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ابھی سے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ اقدام ژوب کو جدید تعلیم کے مرکز میں تبدیل کرنے کے ان کے دیرینہ خواب کی تکمیل کا اہم اقدام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دانش اسکول کے قیام سے ژوب اور گردونواح کے ابھرتے ہوئے نوجوانوں کو جدید علم و ہنر سے آراستہ کیا جائیگا اور وہ کامیاب زندگی گزارنے کیلئے بااختیار ہوں گے۔ گورنر مندوخیل نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ان کے پارلیمانی کیریئر کا آغاز وزارت تعلیم سے ہوا اور آج الحمدللہ بحثیت گورنر بلوچستان انہوں نے صوبہ میں ہائیر ایجوکیشن کے شعبے میں قابلِ فخر کامیابیاں حاصل کیں ہیں جس سے طلباء اور طالبات مستقبل میں بھی ان کی تعلیمی خدمات سے مستفید ہوتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر122/2026
کوئٹہ، 7 جنوری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں صفائی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا اجلاس میں مشیر بلدیات نوابزادہ بابا امیر حمزہ زہری، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، کمشنر کوئٹہ ڈویڑن شاہ زیب کاکڑ، پروجیکٹ ڈائریکٹر کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ رفیق بلوچ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے سی ای او ڈاکٹر فیصل خان ، صفا کوئٹہ کے حکام سمیت سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران صفا کوئٹہ انتظامیہ اور کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر میں جاری صفائی انتظامات، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں صفائی کے موجودہ نظام، وسائل کے استعمال اور کارکردگی سے متعلق مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور مشیر بلدیات نے کوئٹہ میں صفائی کی مجموعی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ذمہ داران کو ہدایت کی کہ صفائی کے نظام میں فوری، موثر اور عملی بہتری لائی جائے اور زمینی حقائق کے مطابق نتائج یقینی بنائے جائیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوامی رائے اور صفائی کی مجموعی کارکردگی جانچنے کے لیے غیر جانبدارانہ سروے کرایا جائے گا، تاکہ عوامی شکایات اور زمینی صورتحال کی درست نشاندہی ممکن ہو سکے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صفائی سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک تیز رفتار اور موثر شکایتی نظام قائم کرنے کا بھی حکم دیا، تاکہ شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ڈسٹ بین اور مقررہ مقامات کے بجائے کھلے مقامات پر کچرا پھینکنے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور جرمانے عائد کئے جائیں گے کوئٹہ سیف سٹی کے کیمروں کے ذریعے عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے والے افراد کی نشاندہی کی جائے گی تاکہ قانون پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کوئٹہ کی صفائی پر کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ عوام کی رائے کو فوقیت دیتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام کی سہولیات پر خرچ کرنا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ صاف، صحت مند اور منظم کوئٹہ صوبائی حکومت کے عزم کا حصہ ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام اداروں کو اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھانا ہوں گی وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ شہر کی صفائی میں اداروں کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ کوئٹہ کو ایک مثالی، صاف اور منظم دارالحکومت بنانے کے لیے مربوط اور ٹھوس اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر123/2026
کوئٹہ، 7 جنوری ۔ انصاف اور انسانی ہمدردی کی ایک نمایاں مثال قائم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے رکشہ ڈرائیور عبدالنبی مینگل کو گلے سے لگا لیا نئے رکشہ کی خریداری کے لئے مالی معاونت فراہم کی جبکہ ناروا روئیے میں ملوث پولیس اہلکار کو معطل کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا بدھ کو وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے رکشہ ڈرائیور عبدالنبی مینگل کی داد رسی کرتے ہوئے اسے گلے لگا کر دلاسہ دیا اور پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ نے متاثرہ رکشہ ڈرائیور کے معاشی نقصان کے ازالے کے لیے نئے رکشے کی خریداری کی خاطر فوری مالی معاونت فراہم کی یہ ملاقات کوئٹہ کے علاقے ایئرپورٹ روڈ پر پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کے بعد عمل میں آئی، جہاں ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار کے ناروا رویے سے دلبرداشتہ ہو کر رکشہ ڈرائیور نے شدید ذہنی دباوکے عالم میں اپنے رکشے کو آگ لگا دی تھی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ملوث ٹریفک پولیس اہلکار کو فوری طور پر معطل کرنے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے ساتھ بدسلوکی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس اہلکار عوام کی خدمت اور ان کے وقار کے محافظ ہیں اور اگر کوئی اہلکار اپنے فرائض سے انحراف کرے تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان محنت کش اور کمزور طبقے کے ساتھ کھڑی ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر124/2026
کوئٹہ 7جنوری ۔صوبائی محتسب بلوچستان جناب علی احمد لہڑی کی ہدایت پر مرحوم پولیس اہلکار کی بیوہ کو خاندانی پنشن کی بحالی سمیت تمام بقایاجات ادا کر دی گئی۔ضلع گجرات، تحصیل سرائے عالمگیر کی رہائشی محترمہ انور بی بی زوجہ مرحوم فرزند علی نے صوبائی محتسب بلوچستان کو شکایت کی تھی کہ ان کے شوہر، جو محکمہ پولیس بلوچستان میں کانسٹیبل کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے تھے، کے انتقال کے بعد انہیں خاندانی پنشن موصول ہو رہی تھی، تاہم نومبر 2024 کے بعد بلا جواز پنشن کی ادائیگی بند کر دی گئی، جس کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔صوبائی محتسب بلوچستان نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اکاونٹنٹ جنرل بلوچستان سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ تحقیقات کے نتیجے میں ضروری دستاویزی تقاضے مکمل ہونے پر خاندانی پنشن یکم اکتوبر 2025 سے بحال کر دی گئی جبکہ واجب الادا بقایاجات بھی شکایت کنندہ کے بینک اکاونٹ میں منتقل کر دی گئیں۔شکایت کنندہ نے صوبائی محتسب بلوچستان کے فورم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تحریری طور پر آگاہ کیا کہ ان کی شکایت کا مکمل ازالہ ہو چکا ہے، جس کے بعد کیس کو نمٹا دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر125/2026
سبی 07 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 63 ونگ کے ونگ کمانڈر کرنل شہریار، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت تمام محکموں کے افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے سروے کی بنیاد پر گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈز ریلیز ہوچکے ہیں۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ترقی فاو¿نڈیشن افتخار احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 499 متاثرہ افراد کے لیے فنڈز جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ سبی میں مجموعی طور پر تقریباً 6 ہزار متاثرہ افراد کے گھروں کا سروے کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں 500 متاثرین کو ایک کمرے کی تعمیر کے لیے رقم فراہم کی جائے رہی ہے، جبکہ سال کے اختتام تک کوشش کی جائے گی کہ 2 ہزار متاثرہ خاندانوں کے لیے فنڈز ریلیز کروائے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم چار اقساط میں فراہم کی جائے گی، جن میں سے پہلے مرحلے کے تحت 499 میں سے 200 متاثرہ افراد رقم وصول کرچکے ہیں جبکہ باقی متاثرین کو بھی جلد ادائیگی کردی جائے گی۔ اجلاس میں اینٹوں کے نرخوں میں اضافے کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے فوری طور پر اسسٹنٹ کمشنر سبی کو ہدایت دی کہ بھٹہ مالکان سے غیر ضروری اضافے کے حوالے سے بات چیت کر کے نرخ کم کروائے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ضلع سبی میں محکمہ تعلیم کے 72 غیر فعال اسکولز کو فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ اساتذہ کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہوچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ کی بھرتی کے اگلے مرحلے کا اعلان بھی جلد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گرلز ماڈل ہائی اسکول لہڑی اور دانش اسکول لہڑی میں قائم کیا جائے گا، جو علاقہ مکینوں کے لیے تعلیمی میدان میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ اجلاس میں لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے اور ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس عمل کو حتمی شکل دے گی، جبکہ 30 دن کے اندر لیویز کو پولیس میں ضم کر دیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں باہمی تعاون کو مزید مو¿ثر بنایا جائے اور ترقیاتی منصوبوں پر مقررہ مدت میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی، تعلیم کے فروغ اور امن و امان کے قیام کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر126/2026
لورالائی 7 جنوری ۔ حکومتِ بلوچستان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور صاف پینے کے پانی کے منصوبے اس کی عملی تصویر ہیں۔ یہ بات کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے ضلع دکی میں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی بریفنگ کے دوران کئی ۔ایکسئین پی ایچ ای دکی محمد علی نے کمشنر کو دکی میں BSDI کے تحت جاری 10 واٹر سپلائی اسکیمات پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ان اسکیمات میں غریب آباد، اولہ ملک جان، پرانا دکی، فیاض آباد، ٹرپل موڑ، قادری-6، مدارسہ جات اور کِلی فیاض آباد جنگل کے علاقے شامل ہیں۔ان منصوبوں میں جدید بورنگ سسٹم، سولر انرجی، واٹر ٹینکس اور پائپ لائن کی تنصیب شامل ہے تاکہ عوام کو دیرپا اور بلاتعطل پانی کی فراہمی ممکن ہو۔ رپورٹ کے مطابق کچھ اسکیمات 40 فیصد مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ ٹرپل موڑ اور بعض مدرسہ جات کے منصوبے 100 فیصد مکمل ہو چکے ہیں۔کمشنر نے ہدایت دی کہ تمام منصوبے وقت پر مکمل اور معیاری ہونے چاہئیں اور فیلڈ مانیٹرنگ کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ شفافیت یقینی ہو۔ عوامی حلقوں نے صاف پانی کے منصوبوں پر حکومت کی سنجیدگی اور تیز رفتاری کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدامات علاقے میں پانی کے دیرینہ مسائل کے خاتمے میں موثر ثابت ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر127/2026
سبی 7 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 63 ونگ کے ونگ کمانڈر کرنل شہریار، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت ڈبل سواری، اسلحے کی نمائش، ہوائی فائرنگ، پانچ سے زائد افراد کے اجتماع، مشکوک نقل و حرکت اور امن و امان میں خلل ڈالنے والی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ دفعہ 144 پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔ اجلاس میں ریلوے حکام کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے زیر استعمال رہائشی گھروں کا مکمل ڈیٹا ضلعی انتظامیہ کو فراہم کریں، جبکہ غیر متعلقہ اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس کے علاوہ شہر میں تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کی گئیں، جس پر متعلقہ محکموں کو کہا گیا کہ عوامی مقامات، سڑکوں اور راستوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف موثر کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے تمام اداروں پر زور دیا کہ باہمی رابطہ اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے اور قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، تاکہ ضلع میں امن، استحکام اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر128/2026
لورالائی 7 جنوری ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایرڈیگشن DPEC میٹنگ ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیوایرڈیگشن (DPEC) کا نفرس حال ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں منعقد ہوئی۔ 2 فروری 2026 سے سٹارٹ ھونے والی NID, فروری کمپین کا جائزہ لیا گیا۔ میٹنگ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حلیم،DSP پولیس کریم مندوخیل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ییلتھ آفیسر ڈاکٹر شاز مان این سٹاپ ڈاکٹر فرحان انجم،DSM PPHI فرحان صاحب، ڈسٹرکٹ فوکل پرسن پولیو مختیار اللہ جان لونی، ، سی سی او ھاشم سمیت تمام UCMO اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈاکٹر فرحان انجم نے ڈپٹی کمشنر کو DPEC تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں ہدف شدہ بچوں کی پولیومہم، ٹیموں کی کوریج، فیلڈ سے موصول ہونے والے ڈیٹا اور ممکنہ رہ جانے والے علاقوں کا جائزہ شامل تھا۔کمشنر نے ٹیموں کی اب تک کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مہم کے آنے دنوں میں رفتار اور معیار مزید بہتر بنایا جائے تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطرے سے محروم نہ رہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ کم کوریج والے علاقوں میں فوری خصوصی سرگرمیاں منعقد کی جائیں، ٹیموں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے، اور روزانہ کی پیش رفت کی درست رپورٹنگ یقینی بنائی جائے۔آخر میں ڈپٹی کمشنر نے انتظامیہ مہم کو کامیاب بنانا اجتماعی ذمہ داری ہے اور ضلعی انتظامیہ ہر سطح پر اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر129/2026
بارکھان 7, جنوری ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈنٹ ایف سی کرنل محمد یونس، ڈی ایس پی مولاداد، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی، ڈی ایس ایم غلام رسول کھیتران، کسٹم انچارج محمد ذیشان سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں امن و امان کی صورتحال، سرحدی علاقوں میں نگرانی، انسدادِ اسمگلنگ اقدامات، صحت عامہ کی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکمے باہمی رابطہ اور تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بارکھان میں امن قام رکھنا اورعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے، صحت کے شعبے میں بہتری لانے اور غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر تمام اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کی پالیسیوں کے مطابق عوامی مفاد میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے اور ضلع میں پائیدار امن و ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر130/2026
لورالائی 7 جنوری ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کو ایکسئین بلڈنگ اسد خان نے ضلع دکی میں جاری اور مکمل ترقیاتی سکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع دکی میں متعدد تعمیری اسکیمات مکمل ہو چکی ہیں جن میں یت آباد، کلی لال محمد لونی، نیا ز محمد وریزئی، ریہمٹا درہ، کلی ہدایت شاہ میرا، کلی مزار، کلی ویالا جنگلے اور کلی نواب خان کے اسکولوں کی نئی عمارتیں شامل ہیں۔ ان اسکیموں کے تحت تعلیمی اداروں کی تعمیر سے مقامی طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا گیا ہے۔مزید برآں، پانی کی فراہمی، لائیو اسٹاک اور دیگر بنیادی سہولیات کے شعبوں میں بھی متعدد منصوبے مکمل اور زیر تکمیل ہیں۔ بلڈنگ سیکٹر میں عمارتوں کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کے کام جاری ہیں تاکہ ضلع کے عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں۔کمشنر ولی محمد بڑیچ نے بریفنگ کے دوران افسران کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے اور کام کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبے جلد از جلد عوام کی زندگیوں میں بہتری کا باعث بن سکیں۔حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کی یہ کوششیں علاقے کی خوشحالی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے امید افزا ہیں اور عوام میں بھی ان منصوبوں کے حوالے سے خوشی اور اطمینان پایا جاتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر131/2026
سبی 7 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر جہانزیب، ڈی ایم پی پی ایچ آئی ممتاز علی رند، سینئر اکاونٹس آفیسر میر گہرام لاشاری سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال نے ہسپتال میں دستیاب سہولیات، درپیش مسائل اور مجموعی کارکردگی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔اسی طرح ڈپٹی ڈی ایچ او نے آر ایچ سیز اور سی ڈیز، جبکہ ڈی ایم پی پی ایچ آئی نے ضلع بھر کے تمام بی ایچ یوز کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے غیر حاضر ملازمین پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ غیر حاضر عملے کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے گی، جبکہ مستقل غیر حاضر ملازمین کو آخری نوٹس جاری کرنے کے بعد ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت میں غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں، صحت مراکز میں ادویات کی کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے اور عوام کو علاج معالجے کی تمام بنیادی سہولیات بروقت اور موثر انداز میں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور صحت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع سبی میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر133/2026
لورالائی 7جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو پروگرام فیز1کے کامیابی بعدفیزٹو کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نورعلی کاکڑ، ایکسین بی اینڈ ?ر بلڈنگ احمد دین،ایکسین بی انیڈ آر روڈ داود خان،اے ڈی لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر ڈسٹرکٹ ہیڈز،اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے بی ایس ڈی آئی فیز1میں تقریبا کٹوی موڑ کے فٹ پاتھ کا کام %60سولریشن کاکام %100وٹر سپلائی %06اور فٹسال گروانڈ کاکام بھی تقریبا مکمل ہونےوالا ہے اسی طرح کٹوی موڑ سے ڈی سی آفس تک فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ 200 درخت لگا? جاہیں گے فیز1 کے کامیابی کے بعد فیز ٹو کے تحت وومن لائبریری اور پبلک لائبریری ڈبل سٹوری بلڈنگ جس کی تمغینہ لاگت 9کروڑ روپے وومن جمنازیم جن کی لاگت7کروڑ79لاکھ،باچا خان چوک کی رایش کےلیے 5کروڑ اور اسی طرح مختلف بی ایچ یوز و اسکولز کی مرمت اور سولرز کے مد 50 کروڑروپے خرچ کریں گے عوامی مفاد عامہ میں نئے ترقیاتی منصوبے پیش کیے اور ان کی ضرورت، اہمیت اور فوری عمل درآمد کے حوالے سے تجاویز سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع لورالائی میں ترقیاتی عمل کو تیز رفتار بنانے کے لیے ایسے منصوبے شامل کیے جائیں گے جو براہ راست عوامی ضرورت سے منسلک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح یہی ہے کہ وہ منصوبے سامنے لائے جائیں جو عوام کی حقیقی امنگوں کے عین مطابق ہوں اور ان کی روزمرہ مشکلات میں کمی کا ذریعہ بن سکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ کھلی کچہری کے دوران عوام نے جن مسائل کی نشاندہی کی تھی ان کے حل کے لیے انھی اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ آبادی ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے منصوبوں کو نہ صرف شفافیت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا بلکہ ان کے اجرا اور تکمیل میں رفتار اور معیار دونوں کو یقینی بنایا جائے گا۔بعد ازیں ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری اسکیمات کٹوی موڑ،گرلز کالج واٹر فلٹریشن پلانٹ فٹسال گروانڈ سمت دیگر منصوبوں کا معائنہ بھی کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر134/2026
لورالائی 7 جنوری ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کو ایکسین ہائی بی اینڈ آر روڈ دکی انجینئر شوکت نے ضلع دکی میں روڈ سیکٹر کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ ہائی ویز کی جانب سے ضلع میں اہم شاہراہوں کی تعمیر، مرمت اور توسیع کے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جن کا مقصد عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا اور علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔بریفنگ کے دوران کمشنر کو آگاہ کیا گیا کہ دکی تا لونی روڈ کی مرمت اور بہتری کا کام جاری ہے، جس سے دونوں علاقوں کے درمیان آمد و رفت مزید محفوظ اور آسان ہو جائے گی۔ اسی طرح ڈگری کالج تا بائی پاس سڑک کی تعمیر سے تعلیمی اداروں اور شہری علاقوں تک براہ راست رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں غریب آباد روڈ اور دیگر دیہی سڑکوں کی بہتری سے مقامی آبادی کو روزمرہ سفر میں نمایاں سہولت میسر آئے گی۔ان ترقیاتی منصوبوں میں معیاری تعمیراتی میٹریل کے استعمال، موثر نکاسی آب کے نظام اور پائیدار انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کمشنر ولی محمد بڑیچ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں معیار، شفافیت اور مقررہ مدت کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی خدمت کے جذبے کے تحت دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے، اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے نہ صرف سفری سہولیات میں اضافہ ہوگا بلکہ معاشی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔عوامی اور سماجی حلقوں نے سڑکوں کی تعمیر و بہتری کے جاری منصوبوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدامات ضلع دکی کی مجموعی ترقی اور خوشحالی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر135/2026
سبی 7 جنوری۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، سینئر اکاوٹس آفیسر میر گہرام لاشاری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر مرزا اطہر بیگ، ڈپٹی ڈی ای او طارق الماس، ڈپٹی ڈی ای او عبدالنبی، ڈپٹی ڈی ای او فیمیل لہڑی و سبی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام متعلقہ افسران نے ضلع بھر میں تعلیمی صورتحال، اساتذہ کی حاضری، اسکولوں کی کارکردگی اور خالی آسامیوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ ضلع سبی میں اب کوئی بھی اسکول غیر فعال نہیں رہا اور تمام سرکاری تعلیمی ادارے مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر حاضر ملازمین اور اساتذہ کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے گی، جبکہ تعلیمی نظام میں کسی قسم کی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ڈویڑنل ڈائریکٹر اساتذہ کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا مجاز نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے اس حوالے سے کوئی اختیار حاصل ہے، جبکہ اساتذہ کی ٹرانسفر پوسٹنگ صرف مقررہ پلیٹ فارم کے تحت ہی کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے فیز فور کے مرحلے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے۔ اس سلسلے میں خالی آسامیوں کی تفصیلات خزانہ آفس کو فراہم کی جائیں، جہاں خزانہ آفیسر خالی آسامیوں کی ویریفکیشن کرے گا۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ فیز تھری کے تحت تعینات ہونے والے اساتذہ کا ایچ آر اور دیگر ضروری امور جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے واضح طور پر ہدایت کی کہ کنٹریکٹ پر تعینات اساتذہ کا تبادلہ کسی صورت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سبی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع میں تعلیمی معیار کی بہتری، اسکولوں کی فعالیت، اساتذہ کی حاضری اور شفاف بھرتیوں کے عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر136/2026
کوئٹہ:7جنوری۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ محمد انور کاکڑ کی صدارت پوسٹ پولیو کمپین ریویو کے حوالے سے ایک اہم اجلاس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او)، ڈپٹی ڈی ایچ او، ڈسٹرکٹ پولیو کوآرڈینیٹر اور این اسٹاپ (N-STOP) کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ پولیو کمپین کے دوران درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ان مسائل کے موثر حل اور آئندہ کمپین کو مزید بہتر بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی اور پلان مرتب کیا گیا۔ شرکاءنے پولیو کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون، موثر نگرانی اور فیلڈ لیول پر کارکردگی مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے ہدایت کی کہ آئندہ پولیو کمپین میں نشاندہی شدہ خامیوں کو دور کرتے ہوئے بچوں کی زیادہ سے زیادہ کوریج کو یقینی بنایا جائے تاکہ پولیو کے مکمل خاتمے کے قومی ہدف کے حصول میں موثر کردار ادا کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر137/2026
کوئٹہ 7 جنوری۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیر صدارت میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ٹیکس سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں میٹروپولیٹن کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں میٹروپولیٹن ٹیکس کی وصولی، موجودہ صورتحال، درپیش مسائل اور محصولات میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) نے ہدایت کی کہ ٹیکس وصولی کے نظام کو موثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے تاکہ سرکاری محصولات میں اضافہ ممکن ہو سکے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ٹیکس نادہندگان کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہریوں کو سہولیات فراہم کرتے ہوئے ٹیکس وصولی کے عمل کو مزید بہتر بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر138/2026
تربت6جنوری۔ سیکریٹری اطلاعات کے پی ایس عاصر حسین نے ڈویژنل انفارمیشن آفس تربت کیچ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالوہاب، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف علی اور دیگر عملے نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے دوران عاصر حسین نے دفتر کے دفتری امور کا جائزہ لیا، عملے سے ملاقات کی اور درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے ڈویڑنل انفارمیشن آفس کی زیر تعمیر عمارت کا معائنہ کرتے ہوئے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کو سراہا اور مقررہ مدت میں کام کی تکمیل پر تعمیراتی کمپنی کی تعریف کی۔بعد ازاں سیکریٹری ٹو پی ایس نے تربت پریس کلب کی زیر تعمیر عمارت کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے پریس کلب کے صدر صلاح الدین سلفی سے ملاقات کی اور عمارت کی پیش رفت اور پریس کلب کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر139/2026
لورالائی: 7جنوری۔ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیوایرڈیگشن (DPEC) کا نفرس حال ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں منعقد ہوئی۔ 2 فروری 2026 سے ھونے والی NID, فروری کمپین کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حلیم،DSP پولیس کریم مندوخیل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ییلتھ آفیسر ڈاکٹر شاز مان این سٹاپ ڈاکٹر فرحان انجم،DSM PPHI فرحان ڈسٹرکٹ فوکل پرسن پولیو مختیار اللہ جان لونی، ، سی سی او ھاشم سمیت تمام UCMO اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈاکٹر فرحان انجم نے ڈپٹی کمشنر کو DPEC تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں65000 ہدف شدہ بچوں کی پولیومہم، ٹیموں کی کوریج، فیلڈ سے موصول ہونے والے ڈیٹا اور ممکنہ رہ جانے والے علاقوں کا جائزہ شامل تھا۔ڈپٹ کمشنر نے ٹیموں کی اب تک کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مہم کے آنے دنوں میں رفتار اور معیار مزید بہتر بنایا جائے تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطرے سے محروم نہ رہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ کم کوریج والے علاقوں میں فوری خصوصی سرگرمیاں منعقد کی جائیں، ٹیموں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے، اور روزانہ کی پیش رفت کی درست رپورٹنگ یقینی بنائی جائے۔ڈپٹی کمشنر لورالائی نے کہا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانا ہم سب کی اولین ترجیح ہے کیونکہ بچوں کا محفوظ مستقبل ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کے دوران جن افسران و اہلکاروں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ سست روی، غفلت یا لاپرواہی کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انہیں فارغ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو مہم کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تاکہ نصیرآباد کو پولیو فری ضلع بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر139/2026.Recast
لورالائی: 7جنوری۔ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیوایرڈیگشن (DPEC) کا نفرس حال ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں منعقد ہوئی۔ 2 فروری 2026 سے ھونے والی NID, فروری کمپین کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حلیم،DSP پولیس کریم مندوخیل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ییلتھ آفیسر ڈاکٹر شاز مان این سٹاپ ڈاکٹر فرحان انجم،DSM PPHI فرحان ڈسٹرکٹ فوکل پرسن پولیو مختیار اللہ جان لونی، ، سی سی او ھاشم سمیت تمام UCMO اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈاکٹر فرحان انجم نے ڈپٹی کمشنر کو DPEC تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں65000 ہدف شدہ بچوں کی پولیومہم، ٹیموں کی کوریج، فیلڈ سے موصول ہونے والے ڈیٹا اور ممکنہ رہ جانے والے علاقوں کا جائزہ شامل تھا۔ڈپٹ کمشنر نے ٹیموں کی اب تک کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مہم کے آنے دنوں میں رفتار اور معیار مزید بہتر بنایا جائے تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطرے سے محروم نہ رہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ کم کوریج والے علاقوں میں فوری خصوصی سرگرمیاں منعقد کی جائیں، ٹیموں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے، اور روزانہ کی پیش رفت کی درست رپورٹنگ یقینی بنائی جائے۔ڈپٹی کمشنر لورالائی نے کہا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانا ہم سب کی اولین ترجیح ہے کیونکہ بچوں کا محفوظ مستقبل ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کے دوران جن افسران و اہلکاروں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ سست روی، غفلت یا لاپرواہی کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انہیں فارغ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو مہم کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تاکہ لورالائی کو پولیو فری ضلع بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر140/2026
تربت7جنوری ۔ کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کی افتتاحی تقریبات کے سلسلے میں گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں کھیلوں کے مقابلوں کا باقاعدہ آغاز بھی ہوا۔تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر امجد شہزاد، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت اکبر اسماعیل، کیچ اسپورٹس فیسٹیول کے سیکرٹری التاز سخی، فیسٹیول کمیٹی کے رکن عمر ہوت سمیت ضلع کیچ کے مختلف تحصیلوں کے تعلیمی افسران، دیگر سرکاری محکموں کے سربراہان، طلبہ و طالبات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر کیچ اسپورٹس فیسٹیول کی تقریب کا آغاز گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کے طالب علم کی جانب سے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا۔بعد ازاں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ضلع کیچ میں تعلیمی انقلاب کا سہرا گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کے سر جاتا ہے، جہاں سے کئی نامور بیوروکریٹس اور سیاستدانوں نے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی ادارے کی بدولت انہیں بلوچستان کے اعلیٰ ترین منصب، یعنی وزارتِ اعلیٰ پر فائز ہونے کا موقع ملا اور صوبے کے عوام کی خدمت کا اعزاز حاصل ہوا۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ ضلع کیچ میں تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا کردار مزید مو¿ثر بنائیں، جبکہ طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ قوم کی امیدیں نوجوان نسل سے وابستہ ہیں، اس لیے انہیں پوری توجہ کے ساتھ تعلیم پر دھیان دینا چاہیے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس موقع پر تعلیمی ترقی کے لیے مختلف منصوبوں کا اعلان بھی کیا، جن میں گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کے امتحانی ہال کی تعمیر کے لیے دو کروڑ روپے، گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول آبسر کے امتحانی ہال کے لیے ایک کروڑ روپے اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس کیچ میں میٹنگ ہال کے لیے ایک کروڑ روپے شامل ہیں۔اس کے علاوہ ضلع کیچ کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے دو کروڑ روپے اور پریس کلب کے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے 25 لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سال بلوچی زبان کے نامور ادیب سید ظہور شاہ ہاشمی کی صد سالہ تقریبات کے انعقاد کے لیے ایک کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیچ اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد سے ضلع کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات مستفید ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس فیسٹیول کے مثبت اثرات علاقے کے لوگوں کے طرزِ زندگی پر بھی مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کل تربت یونیورسٹی میں انڈور گیمز کا افتتاح کیا گیا تھا جبکہ آج گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت میں کھیلوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی کھیلوں میں دلچسپی خوش آئند ہے اور آنے والے دنوں میں فیسٹیول کی سرگرمیوں میں مزید رونق آئے گی۔دریں اثناء کیچ اسپورٹس فیسٹیول کے سیکرٹری التاز سخی نے اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر کیچ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی کوششوں سے ضلع کیچ کے مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام زور شور سے جاری ہیں اور کامیاب اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد ممکن ہوپایا۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دور مصنوعی ذہانت کا دور ہے، جس میں نوجوانوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں پر بھی توجہ دیں تاکہ معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ ملے اور نوجوانوں میں نظم و ضبط قائم ہو۔قابل ازیں گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کے پرنسپل اکبر اسماعیل نے کہا کہ ضلع کیچ میں تعلیم کے فروغ میں گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کا نمایاں کردار رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے کئی سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے اسی اسکول سے تعلیم حاصل کی ہے، جن میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ کے لیے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی خدمات کو سراہا۔اس دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر امجد شہزاد نے کہا کہ نوجوانوں میں مثبت رجحانات پیدا کرنے کے لیے کھیلوں کا کردار نہایت اہم ہے اور اس طرح کے فیسٹیول ہونے چاہیے ۔تقریب کے دوران گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کے طلبہ نے مارچ پاسٹ پیش کیا، جبکہ 100 میٹر دوڑ کا مقابلہ بھی منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ بلوچی موسیقی پروگرام شے پرجا پیش کیا گیا اور امن کے پیغام کے طور پر کبوتروں کو فضا میں آزاد کیا گیا۔ بعد ازاں فیسٹیول میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔آخر میں گورنمنٹ ہائی اسکول کوشکلات اور گورنمنٹ ہائی اسکول آبسر کے درمیان فٹبال میچ کھیلا گیا، جس میں ہائی اسکول کوشکلات کی ٹیم نے کانٹے دار مقابلے کے بعد ہائی اسکول آبسر کی ٹیم کو پینلٹی شوٹ آوٹ میں 4-5 سے شکست دی۔ جبکہ کیچ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک میچ میں ڈی سی الیون کی ٹیم نے تربت یونیورسٹی کی ٹیم کو 1-5 سے شکست دیدی ۔جبکہ کرکٹ کے ایک میچ میں تربت انڈر 19 کی ٹیم نے تنڈر شیڈو کی ٹیم کو 4 وکٹوں سے شکست دیدی۔ تنڈر شیڈو کی جانب سے 185 رنز کے جواب میں تربت انڈر 19 کی ٹیم نے 6 وکٹیں گنوا کر 186 رنز بنائے۔ اس موقع پر تربت انڈر 19 کے کھلاڑی عامر نسیم نے 68 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر مین آف دی میچ کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر141/2026
کوئٹہ،7جنوری ۔ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے کہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی اہلکار کو اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔یہ بات انہوں نے بجلی روڈ تھانے میں زرنج ڈرائیور عبدالنبی سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ، ایس ایس پی ٹریفک پولیس کوئٹہ اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی موجود تھے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ نے زرنج ڈرائیور سے پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات معلوم کیں اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ایس ایس پی ٹریفک ، ایس پی قائدآباد اور ایس پی ٹریفک کی موقع پر انکوائری کے بعد اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کر کے زرنج ڈرائیور کو تھپڑ مارنے کے الزام میں ٹریفک پولیس کے اہلکار اے ایس آئی عبدالروف کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مکمل صاف اور شفاف انداز میں محکمانہ انکوائری بھی شروع کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس میں موجود کالی بھیڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔انکوائری پر معلوم ہو ا کہ کمشنر کوئٹہ اور چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے زرنج چلانے پر عائد پابندی کے تحت روکا گیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ٹریفک اے ایس آئی ر?ف نے ڈرائیور عبدالنبی کو تھپڑ مارنے اور 1000روپے نہ دینے پر زرنج کو تھانے میں بندکرنے کی ہدایت کی۔ عبدالنبی گزشتہ چار سال سے غیرقانونی طور پر زرنج چلا رہا تھا۔عبدالنبی کے مطابق 90 فیصد مواقع پر ٹریفک پولیس نے باز پرس کے بعد اسے چھوڑ دیا جبکہ 10 فیصد مواقع پر مبینہ طور پر پیسے لے کر چھوڑا گیاہے۔ پولیس حکام نے اس بیان کو بھی انکوائری کا حصہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا کہ بلوچستان پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور عوام کے ساتھ دوستانہ رویہ اور کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ سے ہی پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شہریوں کے ساتھ پیش آنے کے دوران قانون اور اخلاقیات کی مکمل پاسداری کی جائے۔واضح رہے کہ واقعے کے بعد پولیس حکام نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار اہلکار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی، جسے عوامی حلقوں نے مثبت اقدام قرار دیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر142/2026
کوہلو7 جنوری۔ کوہلو،کمانڈنٹ میوند بریگیڈ کرنل محمد فاروق اشرف اور ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ نے دس کروڑ روپے کی لاگت سے منظور شدہ بی آئی ایس ڈی تنگا واٹر سپلائی اسکیم کا دورہ کیا۔ جہاں ایکسین پبلک ہیلتھ نیاز بلوچ نے منصوبے کے بارے میں آفیسران کو تفصیلی بریفنگ دی۔دورے کے موقع پر منصوبے کی پیش رفت، تکنیکی امور اور تکمیل کے مراحل کا جائزہ لیا گیا، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کمانڈنٹ میوند بریگیڈ کرنل محمد فاروق اشرف اور ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ نے کہا کہ تنگا واٹر سپلائی اسکیم علاقے کے لیے ایک اہم اور بڑی منصوبہ بندی ہے، جس کی تکمیل سے شہر کے مختلف علاقوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس اسکیم کو ہر ممکن کوشش کے ساتھ بروقت اور معیاری انداز میں مکمل کیا جائے گا، دورے کے دوران متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی کہ تعمیراتی کام میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبے کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ وڈیرہ ربنواز ڑنگ نے یقین دہانی کی کہ اس میگا پروجیکٹ کو عوام کے فلاح و بہبود کے پیش نظر جلد پایہ تکیمل تک پہچایا جائے گا۔اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل طحہ علی خان، ایکسین نیاز بلوچ، وڈیرہ ربنواز ڑنگ، انجینئر غلام باری ایس ڈی او۔ اور دیگر متعلقہ افسران و معززین بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر143/2026
کوئٹہ: 7 جنوری ۔آل بلوچستان سیکرٹری اسپورٹس درا بلوچ فٹسال ٹورنامنٹ 2026 کا فائنل میچ شاندار اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد اختتام پذیر ہو گیا، جس میں اے کے ایف سی کوئٹہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سال 2026 کا فٹسال ٹائٹل اپنے نام کر لیا فائنل میچ اے کے ایف سی کوئٹہ اور مومن اسپورٹس فٹبال کلب کوئٹہ کے درمیان کھیلا گیا دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے اعلیٰ مہارت، جذبے اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے شائقین کو ایک یادگار مقابلہ دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ مقررہ وقت کے اختتام پر اے کے ایف سی کوئٹہ نے مومن اسپورٹس فٹبال کلب کوئٹہ کو دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر فائنل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا فائنل میچ کے مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر محب اللہ کاکڑ اور پی ایس سیکرٹری اسپورٹس محمد صادق بڑیچ تھے۔ اس موقع پر لکھمیر خان لانگو، قاری عبدالباسط بلوچ، کیپٹن نصر اللہ لانگو اور بشیر احمد بڑیچ بھی موجود تھے۔ مہمانانِ خصوصی نے کھلاڑیوں میں انعامات اور فاتح ٹیم کو ٹرافی پیش کی، جبکہ ٹورنامنٹ کمیٹی کے لیے چار لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان بھی کیا فائنل میچ کی لائیو کوریج نوربن ٹی وی نے فراہم کی، جبکہ سوشل میڈیا کوریج کی ذمہ داری سوشل ایکٹیویٹیس مہک شاہد نے بخوبی نبھائی ٹورنامنٹ کے آرگنائزر حاجی محمد نسیم خان اچکزئی اور کمیٹی ممبران نے مہمانانِ خصوصی، معزز مہمانوں، کھلاڑیوں، آفیشلز، کمنٹیٹر برکت محمد حسنی اور میڈیا نمائندگان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور فٹسال کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر144/2026
حب 7 جنوری ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی ضلع حب کا اجلاس منعقدحب: ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی ضلع حب کا اجلاس فیز۔III کے تحت محکمہ تعلیم میں مختلف کنٹریکٹ بنیادوں پر خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر حب جناب محمد اسماعیل ابراہیم نے کی۔اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن قلات ڈویژن جناب ذکریا، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حب جناب محمد رحیم بلیدی اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) محترمہ نسرین اقبال نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ تعلیم میں مختلف کیڈرز کی کنٹریکٹ اسامیوں پر امیدواروں کے انٹرویوز منعقد کیے گئے جبکہ بھرتی کے عمل کے دوران موصول ہونے والی اعتراضات کی درخواستوں کی جانچ پڑتال عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر متعلقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی نے حکومتِ بلوچستان کی پالیسی کے مطابق میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے اعتراضات کی درخواستوں پر موقع پر فیصلے کیے اور بھرتی کے عمل کو شفاف اور قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر145/2026
چمن7 جنوری .۔ چمن میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوااجلاس میں ہیڈکوارٹر چمن اسکاوٹس، کمانڈنگ افیسر 40 فرنٹیئر فورس (FF) چمن، ایس پی چمن، کمانڈنگ افیسر آئی ایس آئی چمن، آئی ڈبلیو چمن، کمانڈنگ افیسر سی ٹی چمن، کمانڈنگ افیسر ایم آئی 304 چمن، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ADC) چمن، اسسٹنٹ کمشنر (AC) چمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی بی چمن، ڈسٹرکٹ آفیسر سی ٹی ڈی چمن، سرکل آفیسر اسپیشل برانچ چمن، اینٹی نارکوٹکس افیسر م، ڈسٹرکٹ آئی ٹی آفیسر چمن کے علاوہ لینڈ ڈیپارٹمنٹس کے تمام ضلعی سربراہان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں ضلع چمن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سرحدی سیکیورٹی، انسدادِ جرائم، خفیہ معلومات کے تبادلے، عوامی تحفظ کے اقدامات، انتظامی امور میں باہمی رابطہ کاری اینٹی نارکوٹکس کی بارڈر اور چمن کے رابطہ سڑکوں پر اچانک تلاشی اور بھنگ اور افیون کی فصلات کی روک تھام اور ضلعی سطح پر درپیش سیکیورٹی و انتظامی چیلنجز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیااس موقع پر ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چمن جیسے حساس اور سرحدی ضلع میں تمام سول و عسکری اداروں کے مابین موثر رابطہ اور ہم آہنگی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن کے قیام اور ریاستی رِٹ کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کے تحت ہونے والے فیصلوں پر بروقت اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر146/2026
گوادر7 جنوری ۔: ملیریا کی روک تھام، موثر کنٹرول اور بروقت علاج کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ملیریا یونٹ (DMU) کے انچارج ڈاکٹر عبدالواحد کی زیر صدارت ایک اہم سہ ماہی کلسٹر میٹنگ منعقد ہوئی۔ یہ اجلاس نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (NRSP) کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس کا مقصد ضلعی سطح پر ملیریا کنٹرول پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور درپیش چیلنجز پر غور کرنا تھا۔اجلاس میں ضلع بھر کے بنیادی مراکز صحت (BHU)، دیہی مراکز صحت (RHC)، سول ڈسپنسریوں اور منتخب نجی ہیلتھ سینٹرز سے نامزد ملیریا فوکل پرسنز نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملیریا کنٹرول پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی سہولیات، خدمات اور فیلڈ سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ملیریا یونٹ کے انچارج ڈاکٹر عبدالواحد، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شہنواز، ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر PPHI ڈاکٹر مرشد دشتی اور PPHI کے مانیٹرنگ آفیسر صابر حیات نے شرکت کی۔ جبکہ NRSP کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر پیر جان اور سپلائی چین آفیسر عبدالوہاب نے شرکائ کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر عبدالواحد نے تمام ہیلتھ مراکز کے نمائندوں سے ملیریا کنٹرول سے متعلق پیش رفت رپورٹس طلب کیں، ان کے مسائل سنے اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ملیریا کی اسکریننگ پر خصوصی توجہ دی جائے اور تمام ریکارڈ مکمل، درست اور بروقت اپ ڈیٹ رکھا جائے تاکہ موثر نگرانی اور بروقت رپورٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ ملیریا کنٹرول پروگرام، GFATM-GC7 پروجیکٹ کے تحت NRSP گوادر، محکمہ صحت بلوچستان اور PPHI کے باہمی اشتراک سے جاری ہے۔ اس پروگرام کے تحت ضلع گوادر کے تمام بنیادی مراکز صحت، دیہی مراکز صحت، سول ڈسپنسریوں اور منتخب نجی ہیلتھ سینٹرز کو مفت ملیریا ادویات اور تشخیصی مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے تمام متعلقہ ہیلتھ سنٹروں کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اس قومی پروگرام کو کامیاب بنانے میں فعال کردار ادا کریں تاکہ ضلع گوادر کو ملیریا جیسے موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر147/2026
تربت7 جنوی ۔ میں کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول 2026 کا شاندار افتتاح کیچ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تربت اسٹیڈیم میں اپنی نوعیت کے پہلا بارہ روزہ “کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول 2026” کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا۔ یہ فیسٹیول 5 جنوری سے 16 جنوری 2026 تک جاری رہے گا، جس میں 32 مقامی ٹیموں کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک ایران کی 2 ٹیمیں بھی شرکت کر رہی ہیں۔فیسٹیول کے دوران فٹ بال، کرکٹ، والی بال، میرتھن ریس، باڈی بلڈنگ، سائیکل ریس سمیت مختلف مقامی اور روایتی بلوچی کھیلوں کے مقابلے جن میں کپگی اور چوکی، بلوچی موسیقی کے پروگرام شے پرجا اور دوچاپی منعقد کیے جائیں گے۔ مجموعی طور پر 20 سے زائد کھیلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی حصہ لے رہی ہیں۔جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو مثبت،صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا اور کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔افتتاحی تقریب میں رکن بلوچستان اسمبلی، ضلعی انتظامیہ، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پہلے دن باڈی بلڈنگ، ریس اور رسہ کشی کے مقابلے کرائے گئے-مقامی عمائدین اور نوجوانوں کی جانب سے فیسٹیول کے انعقاد کو خوب سراہا جا رہا ہے اور اسے ضلع کیچ میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوان نسل کی مثبت تربیت کی جانب ایک اہم اور خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر148/2026
شہید سکندر آباد/ سوراب7 جنوری۔ ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت ترقیات، تعلیم اور صحت سے متعلق تین اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں بی ایس ڈی آئی منصوبوں، تعلیمی اداروں میں خالی آسامیوں اور سرکاری صحت مراکز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈی سی کمپلیکس میں ہونے والے بی ایس ڈی آئی اجلاس میں ، ایس پی اختر محمد اچکزئی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان بلیدی سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، مسائل پر غور کیا گیا اور آئندہ حکمتِ عملی طے کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کام شفافیت کے ساتھ مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں اور عوامی مفاد میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔بعد ازاں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی خالی آسامیوں کے باعث درپیش مسائل پر غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کو میل و فیمیل ڈی ای اوز کی جانب سے تفصیلی بتایا گیا کہ عملے کی کمی تعلیمی معیار پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خالی آسامیوں کو جلد اور شفاف طریقے سے پر کیا جائے گا اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اسی طرح ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے اجلاس میں سرکاری اسپتالوں اور مراکز صحت کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جس میں ڈاکٹر سلیم احمد مستوئی، ڈاکٹر یوسف ثانی سمیت محکمہ صحت کے افسران شریک ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر نے اداروں میں حاضری اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومتی ترجیح ہے اور صحت کے شعبے میں نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Kalat.7.January: HandoutAn important meeting was held under the chairmanship of Deputy Commissioner Munir Ahmed durrani regarding the correction of date of birth in service books and identity cards of government employees.The meeting was attended by xen B&R Building Niaz Bangulzai MS Teaching Hospital Dr. Nasrullah Lango District Accounts Officer Abdul Fattah SDOB Naveed Musiani and other office staff.The applicant appeared before the committee in the meeting.The documents of the applicants were reviewed in the meeting And important decisions were taken regarding the elimination of the difference in date of birth in service book identity card and salary slip.Deputy Commissioner Munir durrani said that the problems faced by government employees are being resolved on priority basis.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر149/2026
گوادر/پسنی 7جنوری ۔ اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی خصوصی ہدایات پر پرائس کنٹرول کمیٹی نے شہر بھر میں گراں فروشی کے خلاف موثر کریک ڈاون کا آغاز کر دیا ہے۔اس سلسلے میں پرائس کنٹرول کمیٹی کے انچارج حسین ابراہیم نے پسنی مین بازار کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں مرغی، سبزی، فروٹ سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ دورے کے دوران راشن کی دکانوں پر سرکاری نرخ ناموں کی آویزاں موجودگی کو بھی چیک کیا گیا۔کمیٹی کے انچارج نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور مقررہ سرکاری نرخوں پر ہی اشیاء فروخت کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرائس کنٹرول کے عمل کو مزید موثر بنائے گی اور ایسے گراں فروش عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 150/2026
ایوانِ صنعت و تجارت کوئٹہ میں پاک۔چائنا B2B کانفرنس (اسلام آباد، 19 جنوری) کے تناظر میں زرعی و باغبانی شعبوں میں جوائنٹ وینچر کے مواقع پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت سابق صدر ایوانِ تجارت کوئٹہ جناب جمعہ خان بادیزئی اور پیٹرن اِن چیف سمال چیمبر جناب ولی خان نورزئی نے کی، جبکہ سیکریٹری زراعت بلوچستان جناب نور احمد پرکانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ دونوں صدور نے معزز مہمان کا چیمبر تشریف لانے پر خیرمقدم کیا۔ اجلاس میں زرعی و باغبانی شعبوں سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پیٹرن اِن چیف سمال چیمبر کی جانب سے سپاسنامہ پیش کیا گیا، جبکہ سیکریٹری زراعت نے بزنس کمیونٹی سے B2B شراکت کے لئے تجاویز طلب کیں۔ آخر میں معزز مہمانوں کو دونوں چیمبرز کی جانب سے شیلڈز پیش کی گئیں۔




