خبرنامہ نمبر2734/2026
کوئٹہ، 7 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں سرکاری وسائل کے موثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے متعدد سخت فیصلے کیے گئے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر متعلقہ افراد کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی فوری واپسی یقینی بنائی جائے گی۔ اس ضمن میں سابق گورنرز، سابق وزرائے اعلیٰ، سابق وزراء، سابق اراکین اسمبلی، ریٹائرڈ افسران اور دیگر غیر مجاز افراد سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کی ہدایت جاری کی گئی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایت دی کہ تمام سرکاری گاڑیوں کا جامع آڈٹ کیا جائے اور ایندھن کی فراہمی صرف تصدیق شدہ اور مجاز گاڑیوں تک محدود رکھی جائے اجلاس میں 2005 سے پرانی سرکاری گاڑیوں کی مرحلہ وار نیلامی اور گاڑیوں کی ریشنلائزیشن کی منظوری بھی دی گئی اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ دفتری اوقات کے بعد سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی تاہم سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت لازمی ہوگی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی اجلاس میں تمام سرکاری گاڑیوں میں ٹریکرز کی تنصیب کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ طے پایا کہ بغیر اجازت سرکاری گاڑیاں صوبے سے باہر لے جانے پر پابندی عائد ہوگی اندرون شہر سرکاری گاڑیوں کی نقل و حرکت کو سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ عوامی وسائل کے ضیاع کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور کفایت شعاری اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری اور غیر مجاز استعمال کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ حکومتی وسائل کا درست اور موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2735/2026
کوئٹہ، 7 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سابق رکن قومی اسمبلی بابل خان جکھرانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایم این اے اعجاز حسین جکھرانی سے ان کے والد کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم بابل خان جکھرانی ایک مخلص اور عوام دوست شخصیت تھے جنہوں نے اپنی سیاسی و سماجی خدمات کے ذریعے عوامی فلاح کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا دیر تک محسوس کیا جائے گا وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2737/2026
کوئٹہ7 اپریل۔ عالمی یومِ صحت (World Health Day) کے موقع پر صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ صحت مند معاشرہ ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی صوبے بھر میں خوراک کے معیار کو بہتر بنانے اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف اضلاع میں فوڈ سیفٹی ٹیمیں متحرک ہیں جو ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور دیگر خوراک سے متعلق مراکز کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کر رہی ہیں تاکہ عوام کو صحت بخش خوراک فراہم کی جا سکے صوبائی وزیر نے کہا کہ صاف پانی، متوازن غذا اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہم مختلف بیماریوں سے بچاو حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور غیر معیاری و مضر صحت اشیاء کے استعمال سے گریز کریں انہوں نے مزید کہا کہ عالمی یومِ صحت ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سب مل کر ایک صحت مند بلوچستان اور خوشحال پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2738/2026
کوئٹہ، 7 اپریل ۔حکومت بلوچستان اور تاجر تنظیموں کے مابین قومی کفایت شعاری اقدامات پر مفاہمت کے بعد محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے مارکیٹوں، شادی ہالوں اور ریستورانوں کے اوقات کار سے متعلق نظرِ ثانی شدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات کے مطابق توانائی کے موثر استعمال اور ایندھن کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے بھر میں تمام دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ سینٹرز، عوامی پارکس اور تفریحی مقامات رات 8 بجے بند کیے جائیں گے۔ تاہم عوامی سہولت کے پیش نظر فارمیسیاں، ہوم ڈیلیوری سروسز اور تندور اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے نوٹیفکیشن کے مطابق شادی ہالز، بینکوئٹ ہالز، ریستورانز اور دیگر تقریبات رات 10 بجے تک جاری رہ سکیں گی جبکہ کوئٹہ شہر کے لیے یہ وقت رات 11 بجے مقرر کیا گیا ہے محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ ان احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی حکام کے مطابق یہ اقدامات قومی سطح پر کفایت شعاری پالیسی کے تحت کیے گئے ہیں جن کا مقصد توانائی کے استعمال میں توازن اور عوامی وسائل کے موثر تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبرخبرنامہ نمبر2739/2026
کوہلو 7 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ خان بلوچ کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں ممکنہ بارشوں کے اثرات سے نمٹنے اور شہری آبادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے میونسپل کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ نے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔حالیہ بارشوں کے پیش نظر بھاری مشینری اور عملہ بروقت تعینات کیا گیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا فوری اور موثر جواب دیا جا سکے۔ سیلابی ریلوں کی گزرگاہوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور نکاسی آب کے دیگر انتظامات پر بھی کام جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ انسانی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر عظیم جان دومڑ نے ایمرجنسی ڈیوٹی پر معمور میونسپل کمیٹی کے عملے سے ملاقات کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر چیف آفیسر محب اللہ خان بلوچ نے عملے کو ہدایت دی کہ صفائی اور نکاسی آب کے کام میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے شہر کے مختلف علاقوں میں نالیوں کی صفائی، برساتی پانی کی نکاسی اور سڑکوں سے کیچڑ و کچرے کی ہٹائی میں فعال کردار ادا کیا۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کے بروقت اور موثر اقدامات کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدامات شہری زندگی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2740/2026
کوئٹہ 7اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیر صدارت شہر میں صفائی کی صورتحال اور مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیروں، بالخصوص بڑے برساتی نالوں میں جمع کچرے کو ٹھکانے لگانےکے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کوئٹہ ڈویڑن بہادر خان کاکڑ کے علاوہ تمام سب ڈویڑنز کے اسسٹنٹ کمشنرز، ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور صفا کوئٹہ پراجیکٹ کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیروں کو فوری طور پر اٹھانے اور بڑے برساتی نالوں کی صفائی کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت جاری کی کہ شہر کے 7 بڑے نا لوں کی صفائی کا عمل فوری طور پر شروع کرکے جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ ممکنہ بارشوں کے دوران نکاسی آب کے مسائل سے بچا جا سکے۔صفا کوئٹہ پراجیکٹ کو ہدایات دی گئیں کہ شہر بھر میں موجود بڑے کچرے کے ڈھیروں کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھایا جائے اور اس حوالے سے پیش رفت رپورٹ جلد پیش کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر صفائی سے متعلق رپورٹ مرتب کرکے ضلعی انتظامیہ کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہر کی صفائی اور عوام کو بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2741/2026
نصیرآباد7اپریل ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت ڈویژنل تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس کمشنر آفس میں منعقد ہوا، اجلاس میں ڈی آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ عاصم خان، ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار، ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر سمیت ڈویژن بھر کے ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، اجلاس میں ڈویژن بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال،کمشنر۔ڈپٹی کمشنرز۔اسسٹنٹ کمشنرز کے دفاترز اور ہاﺅسز کی سکیورٹی۔پوست کی کاشت کے خلاف جاری کارروائیوں، قومی شاہراہوں پر سیکیورٹی کی صورتحال، حساس مقامات کی نگرانی اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں پر سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے ہدایت کی کہ پوست کی غیر قانونی کاشت کے خاتمے کے لیے موثر اور مربوط اقدامات کو مزید تیز کیا جائے جبکہ قومی شاہراہوں اور حساس تنصیبات پر سیکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، انہوں نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں اور سیکیورٹی کے حوالے سے جاری حکومتی پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ ڈویژن بھر میں پائیدار امن قائم رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2742/2026
قلعہ سیف اللہ 7اپریل ۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کا محکمہ تعلیم کے اساتذہ کرام کے نام نئے تعلیمی سال کے آغاز پر مفصل پیغام محترم اساتذہ کرام نئے تعلیمی سال کے آغاز پر میں آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ایک نئے سال کا آغاز درحقیقت نئی امیدوں، نئے عزم اور نئی ذمہ داریوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ آپ سب اس قوم کے وہ معمار ہیں جن کے ہاتھوں میں ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہے۔میں آپ تمام اساتذہ سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ آپ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری، لگن اور جذبے کے ساتھ ادا کریں گے۔ سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہر استاد اپنی سکول میں باقاعدہ حاضری کو یقینی بنائے، کیونکہ ایک استاد کی موجودگی ہی تعلیمی نظام کی بنیاد کو مضبوط بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کی حاضری پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔تدریسی عمل کو منظم، موثر اور دلچسپ بنایا جائے تاکہ طلبہ نہ صرف نصاب کو سمجھ سکیں بلکہ سیکھنے میں دلچسپی بھی لیں۔ جدید تدریسی طریقوں کو اپنایا جائے، سوال و جواب کی فضا کو فروغ دیا جائے، اور طلبہ کی ذہنی و اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔یہ بھی نہایت اہم ہے کہ سالانہ نصاب کو بروقت مکمل کرنے کے لیے ایک واضح حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ ہر استاد اپنے مضمون کے مطابق تدریسی منصوبہ (Lesson Plan) تیار کرے اور اس پر باقاعدگی سے عمل کرے تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ امتحانات کی تیاری بھی بروقت اور موثر انداز میں کرائی جائے تاکہ طلبہ بہترین نتائج حاصل کر سکیں۔اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ وہ طلبہ میں نظم و ضبط، دیانتداری، محنت اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیں۔ تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل شخصیت کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔ آپ کی رہنمائی سے ہی طلبہ ایک ذمہ دار اور باکردار شہری بن سکتے ہیں۔ والدین کے ساتھ رابطے کو بھی مضبوط بنایا جائے تاکہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔ سکول کو ایک مثبت، محفوظ اور سیکھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔آخر میں، میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ ہم سب مل کر عہد کریں کہ اپنے فرائض پوری دیانتداری اور محنت سے انجام دیں گے، اور اپنے بچوں کو علم کی روشنی سے منور کر کے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2743/2026
قلعہ سیف اللہ 7اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی جانب سے ضلع کی ترقی کے لیے انقلابی اقدامات پر مفصل بیان قلعہ سیف اللہ میں حالیہ عرصے کے دوران ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی قیادت میں ترقی، بہتری اور استحکام کے حوالے سے نمایاں اور انقلابی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان کی موثر حکمت عملی اور عوام دوست پالیسیوں کے باعث مختلف شعبہ جات میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔سب سے پہلے، محکمہ صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں سہولیات کو بہتر بنایا گیا، ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا اور طبی عملے کی حاضری اور کارکردگی کو سختی سے مانیٹر کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات بہتر انداز میں میسر آ رہی ہیں۔اسی طرح محکمہ تعلیم میں بھی اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے، سکولوں کی فعالی بڑھانے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مو¿ثر اقدامات کیے گئے۔ میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کو یقینی بنا کر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے، جس سے اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت ضلع کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز اور تکمیل عمل میں لائی گئی۔ ان منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی بہتری اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئی بلکہ علاقے میں ترقی کی نئی راہیں بھی کھلیں۔امن و امان کے قیام کے حوالے سے بھی ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر رابطے اور موثر حکمت عملی کے ذریعے علاقے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا گیا۔ جرائم کی روک تھام، عوام کے تحفظ اور اعتماد کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے، جس سے عوام میں احساسِ تحفظ بڑھا ہے۔مجموعی طور پر، ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی قیادت میں قلعہ سیف اللہ ترقی، شفافیت اور میرٹ کی جانب گامزن ہے۔ ان کی کاوشیں ضلع کے روشن مستقبل کی ضمانت بن رہی ہیں اور عوام میں امید کی نئی کرن پیدا کر رہی ہیں۔”
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2744/2026
گوادر7اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی واضح ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ایرانی فیول کی قیمتوں اور ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ افسران اور ڈپو مالکان نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایس ایس پی عطاءالرحمان خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر سعد کلیم ظفر سمیت دیگر متعلقہ حکام اور ڈپو مالکان موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملک ایران میں حالیہ صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے فیول بحران پر قابو پانے کے لیے ضلعی انتظامیہ موثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی تیل کی فراہمی اور قیمتوں میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔انہوں نے ڈپو مالکان سے ایرانی تیل کی فی لیٹر اور فی بیرل اصل قیمتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات حاصل کیں اور ہدایت کی کہ کوئی بھی پمپ یا ڈپو سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخوں سے زیادہ قیمت پر تیل فروخت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام پہلووں کا جائزہ لے کر ایک مناسب اور متوازن ریٹ مقرر کرے گی، جس میں نہ ڈپو مالکان کو نقصان ہوگا اور نہ ہی شہریوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ مقررہ نرخوں پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انتظامیہ کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا ہے۔اس موقع پر ایس ایس پی عطاءالرحمان خان نے کہا کہ ایسے ڈپو مالکان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی جن کے خلاف زائد نرخوں پر تیل فروخت کرنے کی شکایات موصول ہوں گی۔اجلاس میں شہری آبادی کے اندر قائم غیر محفوظ ڈپووں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ایسے ڈپوو¿ں کو مرحلہ وار آبادی سے باہر منتقل کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔مزید برآں، ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایت جاری کی کہ فیول کی ترسیل میں استعمال ہونے والی تمام گاڑیوں کے مالکان کے ساتھ اجلاس منعقد کر کے انہیں باقاعدہ رجسٹر کیا جائے، تاکہ سپلائی چین کو منظم اور شفاف بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2736/2026
۔دکی: 7,اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایات کے تحت ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی نگرانی میں تحصیلدار سردار عبدالرازق دمڑ نے شہر کے مختلف پٹرول پمپس کا اچانک دورہ کیا، جس میں پٹرول اور ڈیزل کی سرکاری قیمتوں اور دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور عملے کو ہدایت دی گئی کہ کسی کو بھی سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے یا قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت نہ دی جائے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی؛ تحصیلدار نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور ناجائز منافع خوری یا ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور پمپوں کے اسٹاک اور قیمتوں کے ریکارڈ کا بھی معائنہ کیا گیا تاکہ مارکیٹ میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2745/2026
کوئٹہ 7 اپریل ۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت حلیم پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات اور متاثرین کو ممکنہ معاوضے کی فراہمی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، چیف فائر آفیسر میونسپل کارپوریشن کوئٹہ عبدالحق، اسسٹنٹ کمشنر (پولیٹیکل) سید کلیم اللہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹس، پلازہ کے معائنے، نقصانات کے تخمینے اور دیگر اہم پہلووں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیف فائر آفیسر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں پلازہ میں فائر سیفٹی انتظامات، فائر فائٹنگ سسٹم، آگ بجھانے کے آلات اور ایمرجنسی رسپانس کی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی۔اجلاس میں آتشزدگی کی ممکنہ وجوہات پر بھی غور کیا گیا، جن میں فائر سیفٹی گریڈ کی عدم دستیابی، بلڈنگ قوانین پر عملدرآمد میں ممکنہ کمزوریاں، بجلی کی بندش سے متعلق مسائل اور حفاظتی معیارات میں کوتاہیاں شامل ہیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے واضح ہدایت کی کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے جامع، شفاف اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا درست تعین کیا جا سکے۔کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ کیسکو حکام سے بجلی کی بندش اور اس کے اوقات سے متعلق مکمل رپورٹ حاصل کی جائے تاکہ تحقیقات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی تفصیلی رپورٹس آئندہ اجلاس سے قبل جمع کرائیں تاکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سفارشات مرتب کر کے اعلیٰ حکام کو ارسال کی جا سکیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلڈنگ کوڈ اور سیفٹی رولز 2022 پر عملدرآمد کا خصوصی جائزہ لیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ متعلقہ پلازہ میں حفاظتی اصولوں کی کس حد تک پابندی کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس تحقیقاتی عمل کا مقصد نہ صرف ذمہ داری کا تعین کرنا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اور پائیدار اقدامات کو یقینی بنانا بھی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ معاوضے کی ادائیگی کا فیصلہ تحقیقات کے نتائج اور ذمہ داری کے تعین سے مشروط ہوگا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام پہلووں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ایک جامع رپورٹ مرتب کی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2746/2026
کوئٹہ 7اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیر صدارت شہر میں صفائی کی صورتحال اور مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیروں، بالخصوص بڑے برساتی نالوں میں جمع کچرے کو ٹھکانے لگانےکے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کوئٹہ ڈویژن بہادر خان کاکڑ کے علاوہ تمام سب ڈویژنز کے اسسٹنٹ کمشنرز، ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور صفا کوئٹہ پراجیکٹ کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیروں کو فوری طور پر اٹھانے اور بڑے برساتی نالوں کی صفائی کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت جاری کی کہ شہر کے 7 بڑے نالوں کی صفائی کا عمل فوری طور پر شروع کرکے جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ ممکنہ بارشوں کے دوران نکاسی آب کے مسائل سے بچا جا سکے۔صفا کوئٹہ پراجیکٹ کو ہدایات دی گئیں کہ شہر بھر میں موجود بڑے کچرے کے ڈھیروں کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھایا جائے اور اس حوالے سے پیش رفت رپورٹ جلد پیش کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر صفائی سے متعلق رپورٹ مرتب کرکے ضلعی انتظامیہ کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہر کی صفائی اور عوام کو بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2747/2026
کوہلو 7 اپریل۔ ضلعی انتظامیہ کوہلو نے وزیر اعلٰی بلوچستان کے احکامات کفایت شعاری کے اقدامات پر فوری عملدرآمد کےلئے لاک ڈاون شیڈول کا اعلان کردیا ہےجس کے مطابق شام 8 بجے تمام مارکیٹیں،دوکانیں بند رہیں گی تاہم میڈیکل اسٹور اور تندور کھلے رہیں گے جبکہ مسافر خانے ،ہوٹلز انرجی بچت اقدامات پر عمل کرتے ہوئے رات 10 بجے بند ہوں گے جبکہ اعلامیہ میں پٹرول مصنوعات فروخت کرنے والے پمپ مالکان کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی اور پیٹرول مہنگے داموں فروخت کرنے سے گریز کریں عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2748/2026
نصیرآباد7اپریل ۔ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت IFRAP کے تحت ہاوسنگ ریکنسٹرکشن پراجیکٹ کی مجموعی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں نجیب ببری (چیف آپریٹنگ آفیسر HRU)، آفتاب لہڑی (ریجنل کوآرڈینیٹر HRU) اور ثناء اللہ ٹونیو (کوآرڈینیٹر BRSP) سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی، اجلاس کے دوران جاری ہاوسنگ تعمیراتی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، ڈپٹی کمشنر نے ٹیم کی کارکردگی اور اب تک ہونے والی پیشرفت کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا، اجلاس میں 32 ایسے مستفیدین کی فہرست بھی پیش کی گئی جنہوں نے فنڈز وصول کرنے کے باوجود تعمیراتی کام شروع نہیں کیا یا مکمل نہیں کیا جس پر ڈپٹی کمشنر نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ ان مستفیدین کو فوری طور پر تعمیراتی عمل شروع کروانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے تاکہ منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہو سکے، بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک مجموعی طور پر 3327 مکانات زیر تعمیر ہیں جبکہ 1342 مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں، ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ منصوبے کی شفاف اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ متاثرہ عوام کو بہتر اور محفوظ رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں، مزید برآں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فیلڈ مانیٹرنگ کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا اور متعلقہ ٹیمیں باقاعدگی سے دورے کر کے کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیں گی، ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ وسائل کا درست اور شفاف استعمال یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رکھا جا سکے اور منصوبہ اپنی افادیت کے مطابق مکمل ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2749/2026
تربت7اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ، یاسر اقبال دشتی سے میئر تربت، بلخ شیر قاضی کی سربراہی میں میونسپل کارپوریشن تربت کے کونسلرز نے منگل کے روز ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران ایس ایس پی کیچ، ذوہیب محسن اور چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت، شعیب ناصر بھی موجود تھے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ، میئر میونسپل کارپوریشن تربت اور ایس ایس پی کیچ کے درمیان تربت شہر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، ٹریفک کے مسائل اور دیگر شہری انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔میئر میونسپل کارپوریشن تربت نے شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباو، بے ہنگم صورتحال اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور ان مسائل کے حل کے لیے موثر اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے تربت شہر میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی جانب سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے مزید موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔میئر تربت نے شہر کے دیگر اہم مسائل اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے بھی ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا، جبکہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ڈینگی وائرس کے خلاف جاری اسپرے مہم کی تفصیلات بھی پیش کیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے ٹریفک مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہر اور تاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جلد میئر اور ان کی ٹیم کے ہمراہ شہر کا دورہ کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ، میونسپل کارپوریشن تربت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر کیچ نے ایس ایس پی کیچ کے ساتھ امن و امان سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور موثر حکمت عملی کے ذریعے شہریوں کو درپیش خدشات کے ازالے اور امن و امان کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گے، تاکہ شہریوں کو مزید بہتر اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2750/2026
دکی 7اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں لیبر کے بچوں کے نئے تعلیمی سال 2026 کے داخلوں کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ڈائریکٹر زبیر اللہ خان کبزئی، ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی خیراللہ ناصر، انسپکٹر آف مائنز یار جان،نیشنل لیبر فیڈریشن کے عبدالمجید شاہ، کول مائنز اونرز سمیت دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران لیبر کے بچوں کو معیاری تعلیمی اداروں میں داخلے دلوانے، میرٹ کو یقینی بنانے اور سہولیات کی فراہمی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر ورکرز ویلفیئر بورڈ زبیر اللہ خان کبزئی نے کہا کہ ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی لیبر کے بچوں کو لاہور اور اسلام آباد کے معیاری تعلیمی اداروں میں داخلے دلوائے جائیں گے تاکہ مزدوروں کے بچے بھی بہترین تعلیم حاصل کرکے معاشرے میں مثبت اور موثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ مزدور طبقے کے بچوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ مزدور طبقے کے بچوں کی تعلیم کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس حوالے سے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ داخلوں کے عمل کو مکمل شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنایا جائے تاکہ مستحق بچوں کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2751/2026
کوئٹہ 7اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت شادی ہال، موبائل شاپس اور ریسٹورنٹس کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ محمد انور کاکڑ سمیت آل بلوچستان موبائل ایسوسی ایشن، ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن اور شادی ہال ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کیاجلاس کے دوران حکومتی فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ ایس او پیز اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام متعلقہ ایسوسی ایشنز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی تاہم قانون کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2752/2026
گوادر7اپریل ۔ یوتھ سمٹ 2026 کی افتتاحی تقریب میں مشیر برائے اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز مینا مجید بلوچ باقاعدہ افتتاح کر رہی ہیں، جبکہ سیکرٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز درا بلوچ ابتدائی سیشن سے خطاب کر رہے ہیں۔ تقریب کی میزبانی فرینہ خٹک کر رہی ہیں۔افتتاحی سیشن کے دوران نوجوانوں کے سماجی، معاشی اور قومی ترقی میں کردار کے موضوع پر ایک جامع اور فکر انگیز پینل ڈسکشن جاری ہے، جس میں مشیر برائے اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز مینا مجید بلوچ، رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ، چیئرمین گوادر پورٹ نور الحق بلوچ، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ اور نوجوانوں کی نمائندہ نفیسہ بلوچ اظہارِ خیال کر رہی ہیں۔ پینل ڈسکشن کی نظامت گل ناز دوست کر رہی ہیں، جبکہ شرکاءنوجوانوں کو بااختیار بنانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور انہیں قومی ترقی کے دھارے میں موثر انداز سے شامل کرنے کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2753/2026
گوادر:7اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق یوتھ ڈویلپمنٹ کے فروغ کے لیے یوتھ سمٹ 2026 کی پروقار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ اور سیکرٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز درا بلوچ نے مشترکہ طور پر افتتاح کیا اور شرکا سے خطاب کیا۔تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، ڈی جی اسپورٹس یاسر بازئی سمیت دیگر اعلیٰ حکام، نوجوانوں اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی کے فرائض فرینہ خٹک نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔یہ یوتھ سمٹ 7 اپریل سے 9 اپریل تک جاری رہے گی، جس میں بلوچستان کے ساتھ ساتھ ملک بھر سے نوجوانوں، ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرپور شرکت متوقع ہے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ نے کہا کہ اس نوعیت کے ایونٹس نوجوانوں کے لیے سیکھنے، آگاہی حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوتھ سمٹ کے دوران نوجوانوں کو جدید رجحانات، نئی سوچ اور عملی آئیڈیاز سے روشناس کرایا جائے گا، جو ان کی شخصیت سازی اور مستقبل کی راہ متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یوتھ سمٹ کے ذریعے بلوچستان کا مثبت اور روشن تشخص اجاگر کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان خیالات کے تبادلے سے فکری ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرتے ہوئے قومی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے۔اس موقع پر سیکرٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز درا بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل ہوتے ہیں۔ یوتھ سمٹ کا مقصد نوجوانوں کو درست سمت فراہم کرنا، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ابھارنا ہے۔یوتھ سمٹ کی یہ تین روزہ تقریبات نوجوانوں کے لیے سیکھنے، رابطے بڑھانے اور نئے مواقع تلاش کرنے کا ایک منفرد پلیٹ فارم ثابت ہوں گی، جو صوبے میں مثبت تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2754/2026
کوئٹہ 7اپریل ۔ بلوچستان سول سروسز اکیڈمی میں شجرکاری مہم ‘ موسمِ بہار کی شجرکاری مہم کے سلسلے میں آج بروز 7 اپریل 2026 کو سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات، عمران تاج گچکی اور چیف کنزرویٹر فاریسٹ (نارتھ) علی عمران نے ڈاکٹر حفیظ احمد جمالی ڈائریکٹر جنرل بلوچستان سول سروسز اکیڈمی کے ہمراہ کوئٹہ میں پودے لگائے۔اس موقع پر انہوں نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی کا دورہ بھی کیا، جہاں موجودہ درختوں کی بہتری اور دیکھ بھال کے حوالے سے اکیڈمی کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔رواں سال محکمہ جنگلات کی جانب سے 900 زیتون کے درخت اور 300 مختلف اقسام کے پودے فراہم کیے گئے ہیں، جو نہ صرف کوئٹہ کے عمومی ماحول بلکہ اکیڈمی کے احاطے کو بھی مزید خوشگوار بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2755/2026
چمن 7اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت آج ڈی سی کمپلیکس ہال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا .کھلی کچہری میں لائن ڈیپارٹمنٹس کے آفیسران قبائلی و سیاسی راہنماوں مشران علمائ کرام اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران مختلف شعبوں کے افسران نے چمن کی مجموعی ترقی کے لیے بی ایس ڈی آئی کی جانب سے تکمیل شدہ اور زیر تعمیر اسکیمات کے حوالےسے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اور چمن کی مجموعی ترقی کیلئے بی ایس ڈی آئی فیز III کمیونٹی بیسڈ تم ترقیاتی اسکیمات کو شامل کرنے کیلئے اپنی تجاویزات اور آرائ پیش کی گئیں کھلی کچہری میں حالیہ شدید بارشوں ڑالہ باری اور طوفانی ہواوں سے ندی نالوں سڑکوں عوامی املاک اور مکانوں کو نقصان پہنچنے کے حوالےسے معلومات فراہم کی گئیں کھلی کچہری میں قبائلی و سیاسی عمائدین نمائندوں اور علماء کرام نے چمن کی مجموعی ترقی و خوشحالی اور چمن میں پائیدار امن و امان کی قیام اور عوام کو درپیش حل طلب مسائل و مشکلات، ہیلتھ اسکولوں روڈز اور دیگر ضروری مسائل کے حوالے سے اپنے قیمتی تجاویز پیش کیں کھلی کچہری میں قبائلی و سیاسی عمائدین مشران عوامی نمائندوں اور علمائ کرام نے ضلعی انتظامیہ چمن کیساتھ ہر قسم کی تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی کھلی کچہری سے ڈی سی چمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور علاقے کی پائیدار ترقی کے لیے موثر منصوبہ بندی اور آپکی تجاویز اور سفارشات کو مد نظر رکھ کر چمن میں بی ایس ڈی آئی فیز3 میں کمیونٹی بیسڈ ترقیاتی اسکیمات کو شامل کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ اس طرح ہم چمن کو ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن کر سکتے ہیں اور اسطرح ہم چمن میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر سکیں گے اور تعلیم و صحت کے شعبوں کو مضبوط کیا جائے گا اور امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنانے میں کامیاب ہوں گے ڈی سی چمن نے عوام کی طرف سے بیان اور پیش کئے گئےضلعی انتظامیہ کی دسترس اور دائرہ اختیار میں شامل مسائل اور مشکلات کو موقع پر ہی متعلقہ افسران کو فی الفور عوامی مسائل حل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ڈی سی چمن نے کہا کہ کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد بھی یہی ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کی جائے اور عوامی مسائل اور مشکلات کا صحیح اور بروقت حل نکالا جائے ڈی سی چمن نے اس موقع پر عوامی سوالات کا ایک ایک کرکے تسلی بخش جوابات دیے ڈی سی چمن نے ضلع چمن کے تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری افسران و اہلکاران اپنے آپ کو عوام کے خادم سمجھیں نہ کے حاکم۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف اور سہولیات پہنچائی جائے اور انکی مدد کی جائے اور افسران خدمت خلق کو اپنا شعار بنائیں.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2756/2026
جعفرآباد7اپریل ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ ریونیو کے افسران، عملہ مال اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر میں سرکاری واجبات کی وصو لی کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور مختلف محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا گیا کہ واجبات کی وصولی کے لیے جاری اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حکومتی محصولات میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ہدایت جاری کی کہ سرکاری واجبات کی وصولی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرداوری کے عمل کو مکمل شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی گنجائش نہ رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو تاکید کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق محصولات کی بروقت وصولی نہ صرف ریاستی امور کی بہتری کے لیے ضروری ہے بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے اور باہمی رابطہ کاری کو فروغ دینے پر زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2757/2026
بارکھان 7 اپریل ۔و زیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمن قمبرانی نے بارکھان تا رکھنی زیرِ تعمیر اہم شاہراہ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جبکہ متعلقہ محکموں کے افسران اور عملہ بھی شریک تھا۔دورے کے دوران پروجیکٹ ڈائریکٹر زرغون کنسٹرکشن کمپنی ظفر علی کھوسہ نے کمشنر کو منصوبے کی پیش رفت، فنڈز کے استعمال، درپیش مسائل اور تکمیل کے شیڈول سے متعلق جامع بریفنگ دی۔ کمشنر نے سڑک کے مختلف حصوں کا موقع پر معائنہ کرتے ہوئے کام کے معیار، رفتار اور استعمال ہونے والے میٹریل کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن نے کام کی سست روی اور غیر تسلی بخش پیش رفت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹھیکیدار اور متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت جاری کی کہ منصوبے کو ہر صورت مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت، محفوظ اور معیاری سفری سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بارکھان تا رکھنی روڈ علاقے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی بروقت تکمیل سے عوام کو سفری سہولیات کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر دراصل عوامی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ روزانہ کی بنیاد پر کام کی مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے، رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناقص میٹریل کے استعمال یا کام میں کوتاہی کی صورت میں ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افسران کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔آخر میں کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں تمام ترقیاتی منصوبوں کو شفافیت اور بروقت تکمیل کے ساتھ پایہتکمیل تک پہنچایا جائے گا تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے اور علاقے میں ترقی کا عمل مزید تیز ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2758/2026
موسیٰ خیل7 اپریل ۔ وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں اور ڈپٹی کمشنر موسی’ خیل کی خصوصی ہدایات پہ اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ نے تمام منی پٹرول پمپس کا معائنہ کیا اور بعد ازاں پٹرول پمپ مالکان کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس کا مقصد ضلع میں پیٹرولیم مصنوعات کی سرکاری نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنانا تھا اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دو ٹوک پیغام دیا گیا کہ حکومتِ بلوچستان کی مقرر کردہ قیمت 280 روپے فی لیٹر سے زائد وصول کرنے والے کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی اس ضمن میں اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس کے تحت نہ صرف بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا بلکہ متعلقہ دکان یا پمپ کو فوری طور پر سیل کر کے تمام اسٹاک بحقِ سرکار ضبط کر لیا جائے گا ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی مہم بھی چلا رہی ہے تاکہ شہری باخبر رہیں اور کسی بھی ناجائز منافع خوری کی صورت میں حکام کو مطلع کر سکیں پٹرول پمپ مالکان نے یقین دلایا کہ وہ سرکاری احکامات پہ عملدرآمد یقینی بنائیں گے اور کسی شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2759/2026
رکھنی، 7 اپریل ۔صدر پریس کلب کوہِ سلیمان ڈویژن حیات خان کھیتران کی سربراہی میں صحافیوں کے ایک وفد نے کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی سے ملاقات کی اور انہیں عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر وفد کی جانب سے کمشنر کو پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔ملاقات کے دوران ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ بھی موجود تھے۔ صحافیوں کے وفد نے کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن کو صحافی برادری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور صحافتی امور کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر علاقائی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور مثبت صحافت کے فروغ کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل اور صحافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔اس موقع پر پریس کلب کے سربراہ حیات خان کھیتران نے کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں صحافی برادری کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور انتظامیہ و میڈیا کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2760/2026
قلعہ سیف اللہ7اپریل ۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر عمران مندوخیل نے مختلف پٹرول پمپس کا معائنہ کیا۔معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض پٹرول پمپس سرکاری مقررہ نرخوں پر عملدرآمد نہیں کر رہے تھے اور صارفین سے زائد قیمت وصول کی جا رہی تھی۔ اس خلاف ورزی پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے چار پٹرول پمپس کو موقع پر ہی سیل کر دیا، جبکہ دیگر کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔انتظامیہ کے مطابق اس قسم کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ اس موقع پر اسٹاف ممبر جمیل کاکڑ بھی اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ موجود تھے۔ضلعی انتظامیہ نے پٹرول پمپ مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری نرخ نامہ نمایاں طور پر آویزاں کریں اور اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2761/2026
بارکھان 7 اپریل ۔ رکھنی: صدر پریس کلب کوہ سلیمان ڈویژن حیات خان کھیتران کی قیادت میں صحافیوں کے ایک نمائندہ وفد نے کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی سے ملاقات کی، جس میں صحافی برادری کو درپیش مسائل، علاقائی ترقی اور عوامی فلاح سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے موقع پر ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ بھی موجود تھے۔ وفد نے کمشنر کو صحافیوں کو درپیش پیشہ ورانہ مشکلات، سہولیات کی کمی اور دیگر مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے صحافتی نظام کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتے ہیں جو نہ صرف عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کو عوام تک پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحافیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صحافی بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر عوامی مسائل کے حل اور گورننس کی بہتری کے لیے تمام ادارے متحرک ہیں، اور اس سلسلے میں میڈیا کا مثبت کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔صدر پریس کلب کوہ سلیمان ڈویژن حیات خان کھیتران نے کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں گے اور صحافتی برادری کو درپیش مشکلات کا ازالہ ممکن بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نا مہ نمبر2762/2026
تعلیم میں جزوی اصلاحات گہرے ڈھانچہ جاتی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ پورے تعلیمی نظام کو پل پل بدلتی دنیا کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ایک دانشمندانہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں اجتماعی دانش کے ذریعے ان بنیادی عوامل کا درست ادراک حاصل کرنا ہوگا. پرائمری سکول وہ بنیاد ہے جس پر پورا تعلیمی نظام استوار ہے۔ ایک مضبوط بنیاد ایک مضبوط ڈھانچے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ہمارے اکثر گورنمنٹ ٹیچرز اپنے بچوں کو سرکاری کی بجائے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کو ترجیح دیتے ہیں جو کہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
کوئٹہ7 اپریل: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ تعلیم میں جزوی اصلاحات گہرے ڈھانچہ جاتی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ پورے تعلیمی نظام کو پل پل بدلتی دنیا کے جدید تقاضوں اور اپنی معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ایک دانشمندانہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ سردست جن چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کیلئے ہمیں اجتماعی دانش کے ذریعے ان بنیادی عوامل کا درست ادراک حاصل کرنا ہوگا جو ہمارے تعلیمی نظام کے زوال کا باعث بن رہے ہیں تاکہ ہم پورے تعلیمی نظام کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔ گورنر جعفرخان خان مندوخیل نے اپنے ایک بیان کہا کہ پرائمری سکول وہ بنیاد ہے جس پر پورا تعلیمی نظام استوار ہے۔ یہ تعلیمی ترقی کا آغاز ہے جہاں بچوں کے ذہنوں کو افہام و تفہیم کے بیجوں سے پروان چڑھایا جاتا ہے۔ پرائمری سیکٹر پر توجہ پورے نظام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ اس طرح ایک مضبوط بنیاد ایک مضبوط ڈھانچے کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض امتحانات کے دنوں میں سختی کرنے سے نقل کے ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اس کیلئے تمام متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ شروعات سے ہی کلاسز میں باقاعدہ پڑھائی پر توجہ دے اور خاص طور پر اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنائے تاکہ نقل کی لعنت کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اکثر گورنمنٹ ٹیچرز اپنے بچوں کو سرکاری کی بجائے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کو ترجیح دیتے ہیں جو کہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
خبر نا مہ نمبر2763/2026
کوئٹہ7اپریل:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کے وژن اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے جاری مانیٹرنگ مہم کو مزید وسعت دے دی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباری مراکز میں سیلز ٹیکس کے نظام کو مؤثر بنانا، فروخت کی درست رپورٹنگ کو یقینی بنانا اور ٹیکس نیٹ کو مضبوط کرنا ہے۔اسی سلسلے میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی مانیٹرنگ ٹیم نے کوئٹہ کے معروف بلنہ ریسٹورنٹ کا تفصیلی دورہ کیا جہاں حکام نے ٹیکس قوانین کی پاسداری اور فروخت کے نظام کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران ٹیم نے فروخت کے اندراج کے نظام، الیکٹرانک رسیدوں کے اجرا اور فروخت کے مکمل ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی۔ حکام نے اس امر کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ ہر فروخت کو باقاعدہ طور پر نظام میں درج کیا جائے اور صارفین کو الیکٹرانک رسید فراہم کی جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔مانیٹرنگ ٹیم نے ریسٹورنٹ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ فروخت کے نظام کو بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے مرکزی کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ منسلک رکھا جائے تاکہ تمام لین دین کی معلومات براہ راست اتھارٹی تک پہنچ سکیں۔ اس عمل سے نہ صرف ٹیکس کی درست وصولی ممکن ہوگی بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں شفافیت بھی بڑھے گی۔حکام کے مطابق صوبائی حکومت کی پالیسی کے تحت ریسٹورنٹس اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں سیلز ٹیکس کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں فیلڈ ٹیمیں مختلف کاروباری مراکز کے باقاعدہ دورے کر رہی ہیں اور فروخت کے ریکارڈ، ٹیکس اندراج اور رسیدوں کے اجرا کا جائزہ لے رہی ہیں۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام کاروباری اداروں اور ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی فروخت کا مکمل اور درست اندراج کریں، مقررہ وقت پر ٹیکس گوشوارے جمع کروائیں اور واجب الادا ٹیکس بروقت ادا کریں۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔حکام کا مزید کہنا تھا کہ اس مانیٹرنگ مہم کا بنیادی مقصد کاروباری برادری کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا، ٹیکس نظام کو شفاف بنانا اور صوبے کی مالی خودمختاری کو مضبوط کرنا ہے تاکہ حاصل ہونے والی آمدن کو عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکے۔
خبر نا مہ نمبر2764/2026
کوئٹہ07 اپریل:۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان کے زیر صدارت اپ لفٹنگ آف رکھنی ٹاؤن و ری ماڈلنگ آف رکھنی بازار منصوبے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ اعلیٰ حکام اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی اجلاس میں ایس ای بارکھان و موسیٰ خیل عبدالرحمان گورمانی ٹیکنکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی ایگزیکٹیو انجنیر بارکھان انجنیر فضل کریم کے علاوہ متعلقہ کنسلٹنٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھیاجلاس کے دوران منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تعمیراتی سرگرمیوں درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کیابریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے کام جاری ہے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے رکھنی ٹاؤن کی اپ لفٹنگ اور بازار کی ری ماڈلنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام کے بعد رکھنی کو بطور ڈویژنل ہیڈکوارٹر خصوصی اہمیت حاصل ہوئی ہیاس تناظر میں شہر کی بنیادی سہولیات سڑکوں نکاسی آب بازاروں اور شہری ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رکھنی شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور معیار کو یقینی بنایا جائیانہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی یہ اولین ترجیع ہے رکھنی شہر کو دور حاضر کے جدید سہولیات سے ہم آہنگ کریں جس کے کشادہ سڑکیں موثرسٹریٹ لائیٹس معیاری بائی پاس کے علاوہ مرکزی بازار میں دکانوں اور ریڑھی بانوں کے لیے الگ اور منظم جگہ فراہم کی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رکھنی شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے خواب کو شرمندتعبیر کیا جائے
خبر نا مہ نمبر2765/2026
کوئٹہ07 اپریل:۔بلوچستان انسدادِ گداگری بل 2025 پر چیئرمین فضل قادر مندوخیل کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں بل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں کمیٹی کے ارکان اسداللہ بلوچ، فرح عظیم شاہ اور صفیہ فضل کے علاوہ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریش، اور محکمہ قانون و صوبائی اسمبلی کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بلوچستان پریوینشن آف بیگری بل 2025 پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں حالیہ عرصے کے دوران بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سڑکوں، چوراہوں، شاہراہوں اور تجارتی مراکز پر پیشہ ور گداگروں کی موجودگی بڑھ گئی ہے۔ بعض مواقع پر دیہاڑی دار مزدوروں کو بھی بالخصوص شام کے اوقات میں بھیک مانگتے دیکھا گیا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ بھیک مانگنا اکثر منظم گروہوں کے استحصال کا نتیجہ ہوتا ہے، جہاں افراد کو زبردستی، اسمگلنگ یا دیگر طریقوں سے اس عمل پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس بل میں ایسے عناصر کے خلاف سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے جو اس عمل سے فائدہ اٹھاتے ہیں، تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔مزید برآں، اس قانون میں صرف سزا تک محدود نہ رہتے ہوئے بھکاریوں اور ان کے زیر کفالت افراد کی بحالی پر بھی زور دیا گیا ہے، جس کے تحت انہیں سرکاری منظور شدہ فلاحی اداروں میں رہائش، نگہداشت اور معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ معاشرے میں دوبارہ باعزت طریقے سے شامل ہو سکیں۔بل میں بچوں اور زیر کفالت افراد کے تحفظ کے لیے خصوصی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ انہیں مزید استحصال سے بچایا جا سکے اور انہیں مناسب تعلیم، نگہداشت اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بل بھیک مانگنے کو ایک سماجی مسئلہ اور عوامی خلل دونوں کے طور پر حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اس کے بنیادی اسباب جیسے غربت اور تعلیم کی کمی کو دور کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔بل پر غور کے دوران اراکین نے محکمہ سماجی بہبود کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بتایا گیا کہ محکمہ مختلف مریضوں کو علاج کے لیے مختلف ہسپتالوں میں بھیج رہا ہے، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث اسے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ اراکین کے مطابق مؤثر فلاحی اقدامات کے لیے محکمہ کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
خبر نا مہ نمبر2766/2026
سبی 07 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر سبی، میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، انجمن تاجران کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں توانائی کے تحفظ اور کفایت شعاری کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں ضلع سبی میں تمام بازار، مارکیٹس اور شاپنگ سینٹرز رات 8 بجے بند کر دیے جائیں گے، جبکہ میڈیکل اسٹورز، تندور اور ایمرجنسی سروسز کو اس فیصلے سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔مزید برآں، تمام شادی ہالز، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس رات 10 بجے تک بند کیے جائیں گے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان اقدامات کا مقصد توانائی کی بچت، کفایت شعاری کو فروغ دینا، ملکی معیشت کو مستحکم کرنا اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ڈپٹی کمشنر سبی نے اسسٹنٹ کمشنرز اور پولیس انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اپنے اپنے علاقوں میں ان احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
خبر نا مہ نمبر2767/2026
لورالائی 7اپریل:۔ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر محمد اقبال کے ہمراہ سپلائی چوک پر قائم افغان مہاجرین کے لیے بنائے گئے ڈی ہولڈنگ سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران حکام نے فوڈ گودام سمیت مرد و خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ مختص بڑے ہال نما گوداموں کا معائنہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے متعلقہ عملے کو ہدایت جاری کی کہ ڈی ہولڈنگ سینٹر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، بالخصوص صاف پانی، واش رومز اور صفائی کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ زیرِ حراست افراد کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔حکام کے مطابق لورالائی میں اس وقت ہزاروں افغان پناہ گزین مقیم ہیں، جو شہر اور گردونواح کے دیہاتوں میں آباد ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف ایک جامع اور منظم آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایسے افراد جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں ہوں گی، انہیں ڈی ہولڈنگ سینٹر منتقل کیا جائے گا جہاں نادرا کی جانب سے بائیو میٹرک تصدیق اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں مرحلہ وار ڈی پورٹ کیا جائے گا۔، ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کارروائیاں کریں گے۔ انتظامیہ نے مقامی آبادی سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی مقیم افراد کی نشاندہی میں تعاون کریں تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب، سماجی حلقوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ کارروائی کے دوران انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے اور خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام اقدامات ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی اصولوں کے مطابق کیے جائیں گے۔
خبر نا مہ نمبر2768/2026
لورالائی 7اپریل:۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی احکامات کی روشنی میں صوبہ بھر میں ایرانی پٹرول کی قیمت 280 روپے مقرر کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ لورالائی نے اس سلسلے میں سخت نگرانی کا آغاز کر دیا ہے۔ڈپٹی کمشنرلورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے اچانک شہر اور گردونواح میں ایرانی پٹرول پمپس کا معائنہ کیا۔ اس دوران ایک درجن کے قریب پٹرول پمپس کے نرخ اور پیمانے چیک کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق زیادہ تر پمپس پر پٹرول کی قیمت 278.90 سے 280 روپے فی لیٹر کے درمیان پائی گئی، جو حکومتی نرخوں کے مطابق تھی۔معائنے کے دوران مہاجر اڈہ کے قریب دو پٹرول پمپس پر قیمتیں مقررہ نرخ سے زیادہ پائی گئیں، جس پر انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پمپ مالکان کو آخری وارننگ جاری کی اور موقع پر ہی نرخ درست کروائے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ حکم تک ایرانی پٹرول 280 روپے فی لیٹر فروخت کیا جائے گا، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والے پمپس کو سیل کر دیا جائے گا۔ادھر ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں چھاپوں اور انسپکشن کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ زائد قیمت وصول کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف شکایات ضلعی کنٹرول روم میں درج کروائیں۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اسی طرز کے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ حکومت بلوچستان آئندہ دنوں میں پٹرول کی سپلائی اور قیمتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔
خبر نا مہ نمبر2769/2026
موسیٰ خیل7اپریل:۔حکومتِ بلوچستان کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ موسیٰ خیل نے توانائی کی بچت کے پیش نظر کاروباری اوقات کار مقرر کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ضلع بھر میں تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار محدود کر دیے گئے ہیں۔اس سلسلے میں جاری اعلامیہ کے مطابق تمام بازار، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور دکانوں کو روزانہ رات 8 بجے مکمل طور پر بند کرنا ہوگا، تاہم میڈیکل اسٹورز، پیٹرول پمپس اور دیگر ضروری خدمات کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔علاؤہ ازیں ضلعی انتظامیہ نے شادی ہالز اور تقریبات کے لیے بھی وقت مقرر کرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ تمام تقریبات ہر صورت رات 10 بجے تک ختم کی جائیں۔ مزید برآں ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کو بھی رات 10 بجے تک بند کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات توانائی کے مؤثر استعمال اور غیر ضروری بجلی کے ضیاع کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ شہریوں اور تاجر برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ اوقات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نا مہ نمبر2770/2026
کوہلو 07 اپریل:۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر کوہلو کبیر مزاری کی سربراہی میں انتظامی ٹیموں نے شہر اور گردونواح میں قائم ایرانی پٹرول پمپس کا اچانک معائنہ کیا۔ دورانِ چیکنگ متعدد پمپس مقرر کردہ نرخوں سے زیادہ قیمت پر پٹرول فروخت کرتے پائے گئے، جس پر ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 7 پمپس کو فوری طور پر سیل کر دیا جبکہ بعض دیگر کو سخت وارننگ بھی جاری کی گئی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق اوور پرائسنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ حکام نے واضح کیا کہ ایرانی پٹرول کی قیمتوں کو عوام کی استطاعت کے مطابق رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اسسٹنٹ کمشنر کبیر مزاری نے کہا کہ ناجائز منافع خوری کے خاتمے اور مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک ہے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ مقررہ نرخوں سے زائد وصولی کی صورت میں فوری طور پر انتظامیہ کو آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کل پٹرول فی لیٹر 290 جبکہ ڈیزل 300 روپے مقرر کردی گئی ہے۔ کل رکنی سے نیا ریٹ لے کر آئندہ دنوں کے لئے مزید قیمتوں میں کمی کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ کے مطابق ضلعی انتظامیہ آئندہ دنوں میں بھی اس قسم کی کارروائیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کرے گا تاکہ مہنگے داموں ایرانی پٹرول فروخت کرنے والوں کا مکمل سدباب کیا جا سکے اور صوبائی حکومت کی وژن کے مطابق عوام کو حقیقی ریلیف میسر آ سکے۔
خبر نا مہ نمبر2771/2026
ْقلعہ سیف اللہ 7اپریل:۔قلعہ سیف اللہ میں حالیہ بارشوں اور ژالہ باری سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے دورہ کیا۔ اس موقع پر ہدایت اللہ جعفر ان کے ہمراہ تھے، جبکہ زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین عبداللہ جان میرزئی اور ایگزیکٹو اراکین بھی موجود تھے۔دورے کے دوران بندات پسین زئی سمیت دیگر متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا گیا، جہاں ژالہ باری سے ہونے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین زمیندار ایکشن کمیٹی عبداللہ جان میرزئی نے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع کے مختلف علاقوں، جن میں بندات میرزئی، بندات پسین زئی، بندات فتوزئی، گھڑی میرزئی، قلندرہ، دولت زئی اور اختر زئی شامل ہیں، میں زمینداروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ ژالہ باری کے باعث باغات، گندم کی فصل، سبزیاں، کچے مکانات، گھروں کے راستے اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی زمینداروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے اس موقع پر متاثرہ زمینداروں کو یقین دہانی کرائی کہ نقصانات کا مکمل اور شفاف تخمینہ لگایا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر متاثرہ اور مظلوم زمیندار کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔آخر میں چیئرمین زمیندار ایکشن کمیٹی عبداللہ جان میرزئی نے ڈپٹی کمشنر کا دورہ کرنے اور زمینداروں کے مسائل سننے پر شکریہ ادا کیا، اور امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ متاثرین کی بروقت مدد کو یقینی بنائے گی۔
خبر نا مہ نمبر2772/2026
موسی خیل7 اپریل:۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے اچانک مختلف مراکز صحت کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے Old RHC اور MCH سینٹرز کا تفصیلی معائنہ کیا اور تمام انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔اس اچانک دورے کا بنیادی مقصد صحت مراکز میں عملے کی حاضری کو یقینی بنانا، ادویات کی دستیابی کا جائزہ لینا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانا تھا انہوں نے موقع پر موجود اسٹاف کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کریں تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس موقع پر انہوں نے ادویات کے سٹاک، صفائی اور مریضوں کے لیے بنیادی سہولیات کا بھی تفصیلی معائنہ کیا ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے نظام میں بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایسے اچانک دورے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
خبر نا مہ نمبر2773/2026
بارکھان 07 اپریل:۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے سیشن کورٹ بارکھان اور بار روم کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر بار کونسل بارکھان اور وکلاء سے ملاقات کی۔ اس موقع پر کمشنر نے سیشن جج عبد القیوم لہڑی سے بھی ملاقات کی اور عدالتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔صدر بار کونسل نے کمشنر کو وکلاء کو درپیش اہم مسائل، سہولیات کی کمی، پیشہ ورانہ امور میں حائل رکاوٹیں اور دیگر انتظامی مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ کمشنر نے وکلاء کے مسائل کو بغور سنا اور یقین دہانی کروائی کہ ضلعی انتظامیہ ان کے مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی اور متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔کمشنر نے کہا کہ ”وکلاء عدالتی نظام کا ایک اہم ستون ہیں اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومتِ بلوچستان عوامی خدمت، انصاف کی فراہمی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔”دورے کے اختتام پر کمشنر نے سیشن کورٹ کے احاطے میں شجرکاری مہم کے تحت پودا لگایا اور ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری ہر شہری کی قومی ذمہ داری ہے اور اس میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔کمشنر کے اس دورے سے نہ صرف وکلاء کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی بلکہ عدالتی نظام اور ماحولیات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا ہوگا۔
خبر نا مہ نمبر2774/2026
زیارت 07اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کے مطابق گورنمنٹ ہائی اسکول ورچوم زیارت میں مفت درسی کتابیں تقسیم کی گئیں یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع زیارت کے دونوں تحصیلوں زیارت اور سنجاوی کے تمام گورنمنٹ اسکولوں میں مفت درسی کتابیں تقسیم کی گئیں ہیں اور تمام بچوں کو مفت کتابیں دی گئیں ہیں یہ اقدام وزیراعلی بلوچستان کے تعلیم دوستی کا اہم ترین ثبوت ہے۔
خبر نا مہ نمبر2775/2026
بارکھان 07 اپریل:۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن بارکھان تا رکھنی روڈ کے ترقیاتی منصوبے کا جائزہ لینے پہنچ گئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمن قمبرانی نے بارکھان تا رکھنی زیرِ تعمیر اہم شاہراہ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ کے ساتھ متعلقہ محکموں کے افسران اور عملہ بھی موجود تھے۔دورے کے دوران پروجیکٹ ڈائریکٹر زرغون کنسٹرکشن کمپنی ظفر علی کھوسہ نے کمشنر کو منصوبے کی پیش رفت، فنڈز کے استعمال، درپیش چیلنجز اور تکمیل کے شیڈول سے آگاہ کیا۔ کمشنر نے سڑک کے مختلف حصوں کا موقع پر معائنہ کیا اور کام کے معیار، رفتار اور میٹریل کے استعمال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔کمشنر نے کام کی سست روی اور ناقص پیش رفت پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ٹھیکیدار و متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ منصوبہ ہر صورت مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت اور محفوظ سفری سہولت میسر ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بارکھان تا رکھنی روڈ علاقے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس کی بروقت تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ کمشنر نے متعلقہ افسران کو روزانہ مانیٹرنگ کی ہدایت دی اور معیار پر کسی قسم کے سمجھوتے کی سختی سے ممانعت کی۔آخر میں کمشنر نے عوام کے لیے حقیقی ریلیف اور علاقے میں ترقی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں تمام ترقیاتی منصوبے شفافیت اور بروقت تکمیل کے ساتھ مکمل کیے جائیں۔
خبر نا مہ نمبر2776/2026
ضلع چمن 7اپریل:۔ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے چمن میں عوامی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چمن کی عوام کو روزگار کی فراہمی اور علاقے کی ترقی کیلئے آئیے ضلعی انتظامیہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز اور عوام ملکر کردار ادا کریں انہوں نے کہا ہمیں عوام کی دکھ درد اور پریشانیوں اور مصائب کا پوری طرح سے ادراک اور درد ہے انہوں نے کہا کہ جو درد آپکے سینے میں ہے وہی درد میرے سینے میں بھی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی و وفاقی حکومت عوام کو روزگار کی فراہمی کیلئے پُرعزم اور سنجیدہ ہیں انہوں نے کہا کہ جرگے کی جائز مطالبات کو ہم اور آپ جرگے کے سربراہان ملکر سرکار کے سامنے رکھیں گے ہمارے باہمی اتفاق و اتحاد اور یکسوئی سے موجودہ صوبائی حکومت ہمارے باتیں سنے گی اور ہمارے جائز مطالبات مانیں گے انہوں نے کہا کہ ہمیں چمن کی عوام کو سرحد کی بندش اور ون ڈاکومنٹس رجیم کی پالیسی لاگو ہونے کے بعد روزگار کی فراہمی کے حوالیسے سمال انڈسٹریز اور نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کیلئے حکومت کو ہر وقت اپنے مختلف تجاویز پیش کی ہیں تاہم خطے کی موجودہ سخت سیکیورٹی صورتحال خاص کر ایران اسرائیل امریکہ جنگ سے ملک میں سخت اقتصادی اور معاشی دباؤ کے باوجود حکومت عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے پُرعزم ہیں اور آئیے اس جرگے سے پہلے منعقدہ جرگوں کے مشران اور ضلعی انتظامیہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز ملکر آئندہ کیلئے ملکر لائحہ عمل طے کریں اور اسطرح ہم چمن کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں آخر میں انہوں نے جرگے کے منتظمین اور مشران کا شکریہ ادا کیا اور انکی حوصلے اور ہمت کو داد پیش کی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2777/2026
کوئٹہ7اپریل:۔سیکٹریری ایکسائز ظفر علی بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان، میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی ہدایات پر حکومت بلوچستان نے عوام کو بڑی سہولت فراہم کرتے ہوئے موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی ٹرانسفر پر عائد فیس کو 15 دن کے لیے مکمل طور پر معاف کر دیا ہے۔صوبائی سیکٹریری نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور اوپن ٹرانسفر لیٹر پر چلنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن کو باقاعدہ بنانا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوری طور پر اپنے قریبی ایکسائز آفس سے رجوع کریں اور ٹرانسفر کا عمل مکمل کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے ایکسائز کے تمام ضلعی دفاتر میں خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کر دیے گئے ہیں، جو پورا ہفتہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک خدمات انجام دیں گے۔ صوبائی سیکٹریری ایکسائز نے مزید عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس محدود مدت کی سہولت سے بروقت فائدہ اٹھائیں اور اپنی گاڑیوں کی منتقلی کو قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل بنائیں۔
خبر نامہ نمبر 2778/2026
تربت 7اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تربت میں 10 پٹرول پمپس کو سیل کر دیا گیا، جبکہ متعلقہ مالکان کو حراست میں لے لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے باہمی مشاورت کے بعد ضلع کیچ میں مختلف پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مقرر کیے گئے تھے، جنہیں عوامی حلقوں میں سراہا گیا۔ شہریوں کی جانب سے اس امر پر زور دیا گیا تھا کہ مقررہ نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔تاہم بعض پٹرول پمپس کے خلاف یہ شکایات موصول ہوئیں کہ وہ سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من مانی قیمتوں پر پٹرول فروخت کر رہے ہیں۔ ان شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ نے فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔کارروائی کی سربراہی زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنرز ماہ نور برکت اور نعمان منیر نے کی، جبکہ ڈی ایس پی میجر سلام اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر انڈسٹریز فہد رحیم بھی ٹیم کا حصہ تھے۔ کارروائی کے دوران شہر میں 10 پٹرول پمپس کو سیل کر دیا گیا اور خلاف ورزی کے مرتکب مالکان کو موقع پر حراست میں لے لیا گیا۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ باقاعدہ مشاورت کے بعد مقرر کر کے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا اور تمام پمپس مالکان کو اس پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا اور عوامی شکایات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں متعلقہ پمپس مالکان کو خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر کی نشاندہی جاری رکھیں تاکہ ضلعی انتظامیہ بروقت کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کر سکے۔
خبر نامہ نمبر 2779/2026
دکی07ُٓاپریل: ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان کی زیر صدارت پرائمری ہیلتھ کیئر سروسز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم پروگریس ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی، ایم اینڈ ای آفیسر ای پی آئی پیر محمد ناصر، منان خان (مانیٹرنگ آفیسر/سٹاف کنسلٹنٹ) اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بنیادی صحت مراکز، دیہی مراکز صحت اور دیگر طبی سہولیات کی مجموعی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، اسٹاف کی حاضری اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر جاری صحت پروگرامز، ویکسینیشن مہم اور ماں و بچے کی صحت سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام مراکز صحت میں ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے، ادویات کی بلا تعطل فراہمی برقرار رکھی جائے اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔








