5th-January-2026

خبرنامہ نمبر61/2026
کوئٹہ، 05 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کشمیریوں کے یومِ حقِ خود ارادیت کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ آج سے 77 سال قبل اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا تھا مگر افسوس کہ آج بھی کشمیری قوم اس بنیادی اور تسلیم شدہ حق سے محروم ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بدستور جاری ہیں جہاں معصوم کشمیری عوام کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی علمبرداروں کا کردار اس اہم مسئلے پر سوالیہ نشان بن چکا ہے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بلوچستان کی عوام اور حکومت کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کی ہر سطح پر اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ملنا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔

خبرنامہ نمبر62/2026
کوئٹہ، 05 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس پیر کو یہاں منعقد ہوا جس میں سوئی ٹاؤن کی مجموعی ترقی، شہری انفراسٹرکچر کی بہتری اور مستقبل کی پائیدار منصوبہ بندی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) سکندر میمن سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی میاں خان بگٹی، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی زوہیب الحق اور چیئرمین میونسپل کمیٹی عزت امان بگٹی بھی اجلاس میں شریک تھے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کے تحت سوئی ٹاؤن میں انٹرنل ڈویلپمنٹ اور شہری خوبصورتی کے جامع منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا جن کے ذریعے علاقے کو جدید شہری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت اسٹریٹ لائٹس، نکاسی آب کا مؤثر نظام، صاف پانی کی فراہمی، اسپورٹس گراؤنڈ اور جدید سہولیات سے آراستہ بس ٹرمینل کی تعمیر شامل ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کا بنیادی مقصد مقامی آبادی کو معیاری شہری سہولیات فراہم کرنا اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان سوئی کو ایک منظم، خوبصورت اور پائیدار شہر میں تبدیل کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ پی پی ایل معاہدے کے مطابق منصوبے کے لیے اپنے حصے کے وسائل بروقت فراہم کرے گی وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، اعلیٰ معیار اور بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ منصوبہ بندی کو عوامی ضروریات اور مقامی حقائق سے مکمل طور پر ہم آہنگ رکھا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سوئی کی ترقی نہ صرف مقامی معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ علاقے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے جس سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا اور خطے کی مجموعی سماجی و معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

خبرنامہ نمبر63/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت نیشنل فنانس کمیشن کے تیاریوں سے متعلق مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ممبر نیشنل فنانس کمیشن برائے بلوچستان محفوظ علی خان ، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس عارف اچکزئی اور کنسلٹنٹس فنانس موجود تھے۔ صوبائی وزیر خزانہ کو نیشنل فنانس کمیشن این ایف سی ایوارڈ کے متعلق فنانس کی ٹیم نے صوبے کے معاشی ضروریات و اخراجات اور محاصل پر تفصیلی طور پر بریفننگ دی تیاریوں اور مشاورت کا بنیادی مقصد صوبے کے ہر سیکٹر کا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے حوالے سے بلوچستان کے عوامی مفادات کا تحفظ، صوبے کے معاشی حقوق کی مکمل نمائندگی اور آئینی حصہ دلانے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کرنی ہے صو بائی وزیر خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے عوام کے معاشی و معاشرتی حقوق دلانا ہماری اولین ترجیح ہیں۔ ہم این ایف سی کے تحت صوبے کے حقدارانہ حصے کے تعین کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ وفاق سے صوبے کے لیے منصفانہ حقوق کی حصول یقینی بنا ئی جائے کیونکہ ہمارا صوبہ دیگر صوبوں کی نسبت زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ “صوبائی محکمہ خزانہ نے این ایف سی ایوارڈ کے لیے ایک جامع اور تحقیقی حکمت عملی تیار کی ہے جس میں بلوچستان کی آبادی، پسماندگی، رقبہ اور دیگر اہم عوامل کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔” نیشنل فنانس کمیشن کے تحت صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے اصولوں کا تعین کرتی ہے اورہم بلوچستان کے اس میں منصفانہ حصے کی حصول کے لیے پرعزم اور کوشاں ہیں۔

خبرنامہ نمبر64/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بلوچستان سردار عبدالرحمن خان کھیتران نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی وعدہ ہے، جسے آج تک پورا نہیں کیا جا سکا۔5جنوری، یومِ حقِ خودارادیتِ کشمیر کے موقع پر اپنے ایک خصوصی بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ دن اقوامِ متحدہ کی جانب سے کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق دینے کے وعدے کی یاد دہانی ہے، مگر بدقسمتی سے دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ وعدہ وفا نہ ہو سکا۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ کشمیری عوام آج بھی جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جو عالمی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور ان کے جائز حق کے لیے عالمی فورمز پر مؤثر آواز بلند کرتا رہے گا۔ صوبائی وزیر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ اقوامِ متحدہ اپنی ہی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دیا جا سکے۔آخر میں سردار عبدالرحمن خان کھیتران نے کہا کہ 5 جنوری کا دن اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر65/2026
کوئٹہ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق پیرکو صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ ضلع چاغی، واشک اور پنجگور میں موسم جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے، جبکہ واشک، پنجگور، کیچ، چاغی، گوادر، پسنی، اورماڑہ، جیوانی اور نوشکی میں تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے جو شام کے وقت بعض مقامات پر شدید بھی ہو سکتی ہیں۔ کوئٹہ، چمن، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ، ژوب اور قلات میں کم سے کم درجہ حرارت نقط? انجماد سے نیچے رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔منگل کو صوبے کے بیشتر حصوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ ضلع چاغی، واشک اور پنجگور میں جزوی ابر آلود موسم متوقع ہے، جبکہ واشک، پنجگور، کیچ، چاغی، گوادر، پسنی، اورماڑہ، جیوانی اور نوشکی میں دوپہر اور شام کے اوقات کے دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے جو بعض علاقوں میں شدید ہو سکتی ہیں۔ کوئٹہ، چمن، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ، ژوب اور قلات میں کم سے کم درجہ حرارت بدستور نقط? انجماد سے نیچے رہنے کی توقع ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور سرد رہا، جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں رات کے اوقات میں شدید سردی ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران سب سے کم درجہ حرارت کوئٹہ میں منفی 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دالبندین میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی۔

خبرنامہ نمبر66/2026
کوہلو 05 جنوری :ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دمڑ نے کہا ہے کہ کھیلوں کے میدان آباد ہونے سے معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ ملنے کے علاوہ کھیل صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں اور نوجوان نسل کی جسمانی و ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل بلوچستان فٹبال ٹورنامنٹ کے میچ لورالائی اور دُکی فٹبال کلب کے مابین کھیلے گئے فائنل میچ کے موقع پر کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ لورالائی اور دُکی فٹبال کلب نے نظم و ضبط، اسپورٹس مین اسپرٹ اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا جو قابلِ تحسین ہے انہوں نے مزید کہا کہ ایسے کھیلوں کے مقابلے نہ صرف نوجوانوں میں کھیلوں کے رجحان کو بڑھاتے ہیں بلکہ باہمی بھائی چارے، برداشت اور مثبت مقابلے کے جذبے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھیلوں کے میدانوں کی بحالی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بھی فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا اس موقع پر مہمان خصوصی کمانڈنٹ میوند برگیڈ کرنل فاروق اشرف اور ڈپٹی کمشنر کوہلو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسپورٹس کمپلیکس کوہلو کو مزید جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین کو کھیلوں کے دوران بہتر سہولیات میسر ہوں ۔آخر میں ڈپٹی کمشنر نے وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی ،فنانس سیکرٹری عمران زرکون ، ایف سی بلوچستان،منتظمین، آل بلوچستان سیول سوسائٹی کے چئیرمین سمیع زرکون۔محکمہ کھیل بلوچستان اور شائقینِ کھیل کو خراجِ تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوانوں کو منفی رجحانات سے دور رکھنے میں مؤثر ثابت ہوں گی تقریب میں مہمان خصوصی کمانڈنٹ میوند برگیڈ کرنل فاروق اشرف اور ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دمڑ کے علاوہ ونگ کمانڈر میوند رائفل طاحہ علی خان، ڈسٹرکٹ چئیرمین میر نثار احمد مری۔ اسپورٹس آفیسر جمعہ خان۔ وڈیرہ ربنواز ژنگ،محراب بلوچ ،ملک الطاف زرکون سمیت سرکاری آفیسران و قبائلی عمائدین کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں شائقین نے شرکت کی ہے جہاں شائقین اور سیول سوسائٹی نے وزیر اعلٰی بلوچستان، فنانس سیکرٹری عمران زرکون، ایف سی بلوچستان۔ضلعی انتظامیہ،آل بلوچستان سیول سوسائٹی کے چئیرمین اور محکمہ کھیل کے کاوش کو خوب سراہا ہے ۔

خبرنامہ نمبر67/2026
پشین، 5 نومبر : چیئرمین میونسپل کمیٹی حرمزئی حیدر شاہ نے کہا ہے کہ حرمزئی میں عوامی فلاح کے ایک اہم منصوبے کے تحت ہوم سولر پینلز اور انورٹرز کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے، جس کا مقصد عوام کو سستی، پائیدار اور متبادل توانائی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر منعقدہ تقریب میں مقامی معززین، منتخب بلدیاتی نمائندگان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف افیسر میونسپل کمیٹی حرمزئی ابدال خان ترین نے کہا کہ میونسپل کمیٹی حرمزئی عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کی پالیسی کے مطابق عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے مکین بھی جدید سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ابدال خان ترین نے مزید کہا کہ توانائی کے موجودہ بحران اور لوڈشیڈنگ کے پیشِ نظر ہوم سولر پینلز اور انورٹرز کی فراہمی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف گھریلو صارفین کو متبادل اور کم خرچ توانائی میسر آئے گی بلکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسائل میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میونسپل کمیٹی حرمزئی کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام علاقوں میں مرحلہ وار ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین میونسپل کمیٹی سید حیدر شاہ نے کہا کہ عوام کی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے اور مقامی حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمزئی جیسے پسماندہ علاقوں میں متبادل توانائی کے منصوبے نہایت اہمیت کے حامل ہیں جو عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ آخر میں شرکائ نے میونسپل کمیٹی حرمزئی کی جانب سے شروع کیے گئے اس عوام دوست اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے منصوبے جاری رہیں گے جو علاقے کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنیں گے۔

خبرنامہ نمبر68/2026
کوئٹہ 05 جنوری۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت لوکل/ڈومیسائل کے ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں نادرا کے متعلقہ آفیسران کے علاوہ ڈی سی آفس کی لوکل/ڈومیسائل برانچ کے اہلکاران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران لوکل و ڈومیسائل کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں موجودہ طریقہ? کار، درپیش چیلنجز اور مجوزہ اصلاحات پر غور کیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے شفافیت، سہولت اور تیز رفتار سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں اس ضمن میں مختلف اہم فیصلے بھی کیے گئے تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر69/2026
کوئٹہ 05 جنوری ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ائیرپورٹ روڈ پر بند نالی کے باعث سڑک پر پانی کے بہاؤ اور عوام کو درپیش مشکلات کے پیشِ نظر صفا کوئٹہ اور کیو ڈی پی (QDP) کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں کچھ دنوں سے ائیرپورٹ پر نالی بند ہونے کے باعث پانی مسلسل سڑک پر بہہ رہا تھا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا اور ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی تھی۔اجلاس میں ڈپٹی پی ڈی کیو ڈی پی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) اور اسسٹنٹ کمشنر (صدر) نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ نالے میں موجود تمام تر تجاوزات کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے متعلقہ اداروں کو واضح احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہیوی مشینری کے ذریعے تمام تجاوزات ہٹا کر نالے کو مکمل طور پر کھولا جائے تاکہ پانی کے بہاؤ کو بحال کیا جا سکے اور عوام کو درپیش مشکلات کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ شہری مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر70/2026
قلات:بلوچستان کے تاریخی شہر قلات میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت منظورشدہ جاری ترقیاتی منصوبوں کا ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے دورہ کیامحکمہ مواصلات تعمیرات کے ایگزیکٹیوانجینئربلڈنگ نیاز بنگلزئی نے ڈپٹی کمشنر کو اسکیمات کادورہ کرایاڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے نئے تعمیرشدہ رہائش گاہ کی عمارت اور مختلف سڑکوں کامعائنہ کیا ڈپٹی کمشنر نےتعمیرات میں استعمال ہونے والی مٹیریل کی کوالٹی اور کام کے معیار کاجائزہ لیاایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ نیازبنگلزئ نے ڈپٹی کمشنر کو ترقیاتی منصوبوں کے فزیکل اورفنانشل پروگریس سےمتعلق بریفنگ دی اس موقع پرڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ ضلع بھرمیں جاری ترقیاتی کاموں کی نگرانی جاری رکھے گی ترقیاتی کاموں کے معیار پر کسی صورت کمپرومائز نہیں کیا جائیگاضلعی انتظامیہ کی کوشش ہیکہ علاقے میں جاری ترقیاتی کام جلدازجلد مکمل ہوں تاکہ عوام ان ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں ۔

خبرنامہ نمبر71/2026
کوئٹہ:5 جنوری :صوبائی محتسب بلوچستان جناب علی احمد لہڑی کی موثر کارروائی کے نتیجے میں ضلع ہرنائی میں سیلاب سے متاثرہ حفاظتی دیوار کی ہنگامی بحالی کے کام کی بقایا رقم ادا کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سائل شن گل ترین نے صوبائی محتسب بلوچستان سے رجوع کیا تھا کہ سال 2010 میں ضلع ہرنائی کے علاقے ناکس میں گبیون وال کی تعمیر و ہنگامی مرمت کا کام مکمل کرنے کے باوجود 36 لاکھ 60 ہزار روپے کی رقم طویل عرصے سے واجب الادا تھی۔ شکایت کی سماعت کے دوران محکمہ اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نے کام کے معیار کی تصدیق کی۔ صوبائی محتسب کی ہدایات پر متعلقہ محکمے نے واجب الادا رقم بینک چیک کے ذریعے ادا کر دی، جس پر سائل نے شکایت کے ازالے کی تصدیق کر دی۔ بعد ازاں کیس نمٹاتے ہوئے ریکارڈ میں محفوظ کر دیا گیا۔

خبرنامہ نمبر72/2026
قلات :ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرقلات شاہنواز بلوچ نےBSDI کے تحت جاری آبنوشی اسکیمات کےکام کا دورہ کیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے قلات کے مختلف محلوں میں BSDI کے تحت منظور ہونے والے آبنوشی ٹیوب ویلوں کے جاری کام کے فزیکل فنانشل پیشرفت سے متعلق آگہی حاصل کی ایڈشنل ڈپٹی کمشنر نے کلی چشمہ کلی پندرانی کلی دشت محمود کلی گیاوان میں لگنے والے آبنوشی ٹیوب ویلوں کے جاری کام کا معائنہ کیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے متعلقہ ٹھیکیداروں کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوے کہاکہ ٹیوب ویلوں کے کام جلداز جلد مکمل کیاجائے تاکہ علاقے کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بناجاسکے۔

خبرنامہ نمبر73/2026
کوئٹہ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ ذیشان خان پانیزئی نے کہا ہے کہ سنوکر بلوچستان کا مقبول ترین کھیل ہے۔ بلوچستان میں ٹینلٹ کی کوئی کمی نہیں اگر توجہ دی جائے تو یہاں سے عالمی سطح کے کھلاڑی ابھر کر سامنے آئیں گے۔ کھیل صحت مند معاشرے کے قیام کیلئے انتہائی ضروری ہے انہوں نے سنوکر کے کھیل کو فروغ دینے میں آل بلوچستان بلیئرڈ اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سنوکر کے فروغ کیلئے ہرممکن تعاون کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی سنوکر کلب میں آل بلوچستان سنوکرکپ چیمپئن شپ کے اختتام پر بطور مہمان خصوصی انعامات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ذیشان خان نے کہا کہ آل بلوچستان سنوکر کپ چیمپئن شپ بلوچستان میں سنوکر کے فروغ کے لیے منعقد کی جانے والی ایک اہم ایونٹ ہے، جس میں باصلاحیت کھلاڑیوں کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا موقع ملا ہے، انہوں نے کہا کہ کہ وہ خود بھی سنکور کے کھیل کے بہت شوقین ہے اور کھیلتے رہے ہیں کیونکہ کھیل ایک صحت مند معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں سنوکر بلوچستان میں بہت مقبول ہے اگرمحکمہ کھیل کی جانب سےا س کھیل کی سرپرستی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو کوئی شک نہیں کہ بلوچستان سے عالمی سطح کے کھلاڑی ابھر کر سامنے نہ آئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی دیگر شعبوں کی طرح بلوچستان میں کھیلوں کے فروغ اور ترقی پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفرازبگٹی کی قیادت میں بلوچستان میں تمام کھیلوں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور وزیر اعلیٰ صاحب زاتی دلچسپی لیکر صوبے میں ضلعی سطح پر مختلف کھیلوں کے ٹورنامنٹس اور مقابلے منعقد کروا رہے ہیں جس سے بلوچستان کا ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آرہا ہے ۔ یاد رہے آل بلوچستا ن سنوکرکپ چمپئن شپ مقامی سنوکر کلب کوئٹہ میں کھیلا گیا ٹورنامنٹ میں 140 کھلاڑیوں نے شرکت کی ٹورنامنٹ 22 دنوں تک جاری رہا جس کا فائنل مقامی سنوکر کلب میں کوئٹہ کے زیب خان اور عباس ہزارہ کے درمیان کھیلا گیا فائنل مقابلہ زیب خان نے جیت کر ٹورنامنٹ اپنے نام کرلیا۔ مہمان خصوصی ذیشان خان پانیزئی نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے ۔ اس موقع پرآل بلوچستان بلئیرڈ اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

خبرنامہ نمبر74/2026
کوئٹہ ۔ 05 جنوری :صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ صوبے کی انفراسٹرکچر کو اگر بہتر بنانا ہے تو محکمہ مواصلات و تعمیرات میں مذید سخت فیصلے کرنے ہونگے انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کردار نہایت اہم ہے صوبے میں انفراسٹرکچر کی بہتر ترقی اور خوشحالی کا دارومدار محکمہ مواصلات و تعمیرات کی بہتر کارکردگی پر منحصر ہے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق جاہزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات لعل جان جعفر چیف انجینئر چیف انجینئرز آفیسران کے علاؤہ دیگر محکمہ مواصلات و تعمیرات کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے اجلاس کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی کو مذید بہتر بنانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت گو کہ بہتر انداز سے جاری ہے لیکن پھر بھی مجھے سست روی دکھائی دے رہی ہے اور اس قسم کی سستی ناقابل برداشت ہے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے میعار پر کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور محکمہ کے دو ایگزیکٹو انجینئر آفیسران کو ناقص کارکردگی کے بنا پر معطل کردیا گیاہے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ چیف انجینئرز اور ایس ای جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق متواتر جاہزہ لیں اور اپنی پروگریس رپورٹ ارسال کریں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی انفراسٹرکچر کی بہتری اور صوبے کے عوام کو جدید سہولیات چاہے روڈز سیکٹر ہو یا بلڈنگ سیکٹر میں ہوں انہیں فراہم کرنا محکمہ مواصلات و تعمیرات کی زمہ داری ہے اور اس زمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانا ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔

خبرنامہ نمبر75/2026
لورالائی5 جنوری:کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی کی خصوصی ہدایات پر شہر کو صاف، صحت مند اور خوبصورت بنانے کے لیے شروع کی گئی “ستھرا لورالائی” صفائی مہم بھرپور انداز میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اس مہم کے تحت میونسپل کمیٹی کا عملہ گزشتہ ایک ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں اور زونز میں صفائی کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔صفائی مہم کے دوران سلیم داد کمپلینٹ زون (مرغی خانہ محلہ) میں نالیوں کی مکمل صفائی عمل میں لائی گئی، خالو زون (باگڑی میدان، حنظلہ مسجد روڈ) سے کیری سوزوکی کے ذریعے کوڑا کرکٹ اٹھا کر بروقت منتقلی کی گئی، جبکہ باران زون (کڈی محلہ، خان گلی) میں ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے نالیوں کی صفائی اور کچرے کی منتقلی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں صفائی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے تاکہ عوام کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔اور شہر بھر میں صفائی مہم میں جدید مشینری اور میونسپل کمیٹی کے گاڑیوں کا مؤثر استعمال کے باعث صفائی کے نظام میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گلیوں، محلوں اور نالیوں کی صفائی اور جھاڑ پھونک سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی واضح کمی واقع ہوئی ہے۔شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے صفائی کے مؤثر انتظامات کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ستھرا لورالائی مہم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے اور اس کا دائرہ کار مزید علاقوں تک بڑھایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور عوام کے باہمی تعاون سے لورالائی کو ایک صاف، سرسبز اور صحت مند شہر بنایا جا سکتا ہے۔

خبرنامہ نمبر 76/2025
صحبت پور5 جنوری: ڈپٹی کمشنر صحبت پور کے ایک اطلاع کے مطابق محمد راشد ولد محمد اشرف قوم مغل سکنہ محکمہ پوسٹ افس پریال تحصیل و ضلع راولپنڈی کا لوکل سرٹیفیکیٹ ان کی اپنی درخواست پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔

خبرنامہ نمبر 77/2025
کوئٹہ5 جنوری۔محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایک اعلامیہ کے مطابق M/S حاجی صاحب جان اینڈ سنز پر لگائی گئی محکمانہ پابندی ختم کر دیا گیا ہے۔

خبرنامہ نمبر 78/2025
کوئٹہ 5 جنوری:محکمہ مواصلات و تعمیرات حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق گورنمنٹ کنٹریکٹر M/S سید نصیر احمد اینڈ برادرز پر ہائر سیکنڈری سکول قلعہ عبداللہ کی اپگریڈیشن کے کام میں تاخیر اور منصوبے کی عدم تکمیل کی وجہ سے ایک سال کی پابندی لگائی گئی ہے۔

خبرنامہ نمبر 79/2025
جعفر آباد5 جنوری: ڈپٹی کمشنر جعفر اباد کے ایک اعلامیہ کے مطابق محترمہ سمل خاتون دختر مہر اللہ قوم کنرانی سکنا گوٹھ تا گیا خاندان کنبرانی تحصیل جٹ پٹ کا لوکل سرٹیفکیٹ ان کی اپنی درخواست پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔

خبرنامہ نمبر 80/2025
لورالائی 5 جنوری :ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ کی ہدایات پر اور ایس ایس پی لورالائی ملک محمد اصغر عثمان کی قیادت میں پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 14 کلو افیون برآمد کرلی۔کارروائی ایس ڈی پی او کریم مندوخیل کی نگرانی اور ایس ایچ او تھانہ سٹی سب انسپکٹر محمد شریف موسیٰ خیل کی سربراہی میں عمل میں لائی گئی، جس میں اے ایس آئی گلاب نور، پولیس اور سی آئی اے اسٹاف شامل تھے۔ٹیم نے ڈیرہ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے ایک مشکوک ٹوڈی گاڑی کو روکا، جس کی تلاشی کے دوران گاڑی سے 14 کلو افیون برآمد ہوئی۔ پولیس نے موقع پر ہی فرید ولد زعفران قوم اچکزئی ساکن قلعہ عبداللہ کو گرفتار کرلیا۔ملزم کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ایسی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ معاشرے کو منشیات کے ناسور سے پاک کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 81/2025
سبی 5 جنوری :ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت عوام کو بلا سود قرضے فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ونگ کمانڈرز کرنل زبیر اور کرنل منان، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے افسران و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت لوگوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے بلا سود قرضے دیے جائیں گے، جس کے ذریعے وہ جانور حاصل کر کے اپنا کاروبار شروع کر سکیں گے اور معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت قرض کی واپسی آسان اقساط میں کی جا سکے گی۔ ڈی سی سبی نے لائیو اسٹاک افسران سے اس ضمن میں تفصیلی تجاویز بھی طلب کیں اور ہدایت کی کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں موجود جانوروں کی اقسام اور تعداد سے متعلق جامع ڈیٹا فراہم کیا جائے تاکہ منصوبے کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ اقدام مکمل طور پر گرین پاکستان انیشیٹو کا حصہ ہے جس کا مقصد لائیو اسٹاک کے شعبے کو فروغ دینا اور ضلع سبی میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

خبرنامہ نمبر 82/2025
تربت ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے پیر کے روز کیچ اسٹیڈیم تربت میں شاندار طریقے سے بارہ روزہ کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول 2026 کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ فیسٹیول 5 جنوری سے 16 جنوری تک جاری رہے گا، جس میں فٹ بال، کرکٹ، والی بال سمیت مختلف مقامی اور روایتی کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔افتتاحی تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، مشیر برائے مائیگیری حاجی برکت رند، سابق مشیر برائے پی ایچ ای لالہ رشید دشتی، سابق سینیٹر محمد اسماعیل بلیدی، کمشنر مکران قادر بخش پرکانی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ذوہیب محسن، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف تربت پروفیسر ڈاکٹر گل حسن بلوچ، ڈاکٹر غفور بلوچ، میر حمل بلوچ , عطا اللہ محمد زئی، ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ملک ریحان دشتی، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر عبدالغفار دشتی، کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے سیکرٹری التاز سخی، فیسٹیول کمیٹی کے اراکین عومر ہوت اور غلام اعظم دشتی ، ظریف رند ، شاہ دوست دشتی ، چاکر بلوچ ،کیپٹن باسط سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔اس دوران تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ آج کا دن ضلع کیچ کے عوام کے لیے نہایت خوشی کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر مکران اور ڈپٹی کمشنر کیچ کی قیادت میں کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد ہو رہے ہیں، جو ایک خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیچ کی سرزمین نے عطا شاد جیسے عظیم شاعر و ادیب کے علاوہ عظیم کھلاڑی بھی پیدا کیے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر کھیل کر علاقے اور ملک کا نام روشن کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، ضرورت صرف انہیں مواقع فراہم کرنے کی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کھیلوں کے ساتھ ساتھ تعلیم اور تکنیکی مہارتوں پر بھی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے شعبے کی بہتری کے لیے صوبائی پی ایس ڈی پی میں فنڈز مختص کرینگے ۔اس موقع پر مشیر برائے مائیگیری حاجی برکت رند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ کی جانب سے تربت میں اس نوعیت کے بڑے اسپورٹس ایونٹ کا انعقاد قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بھی منعقد ہونے چاہئیں تاکہ دیہی علاقوں میں بھی کھیلوں کو فروغ دیا جا سکے۔ قبل ازیں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے معزز مہمانوں اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ضلع کیچ کی سرزمین ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بہترین کھلاڑی بھی پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی تشکیل میں مثبت سماجی سرگرمیوں اور صحت مند طرزِ زندگی کا اہم کردار ہوتا ہے، اور کھیل اس میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کے شعبے سے وابستہ افراد ہمیشہ نظم و ضبط کا پابند ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں کیچ کلچرل فیسٹیول کی کامیابی کے بعد عوامی مطالبے پر اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول ضلع کیچ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور اس فیسٹیول کے انعقاد سے ضلع کیچ میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور ایک صحت مندوتندرست معاشرے کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی ۔کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر کیچ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میگا ایونٹس ہر سال منعقد ہونے چاہئیں۔وائس چانسلر یونیورسٹی آف تربت پروفیسر ڈاکٹر گل حسن بلوچ نے فیسٹیول کے منتظمین کی تعریف کرتے ہوئے یونیورسٹی کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔دریں اثنائ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ذوہیب محسن میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ وہ اس فیسٹیول کو کامیابی کے ساتھ پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے بھرپور سیکیورٹی فراہم کرینگے ۔تقریب کی نظامت فیسٹیول کے سیکرٹری التاز سخی نے انجام دی، جنہوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ڈسٹرکٹ اسپورٹس ایسوسی ایشن کے صدر حاجی فدا دشتی نے بھی فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر و مرمت کے لیے فنڈز کی فراہمی پر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر فیسٹیول کے دوران 100، 200 اور 400 میٹر ریس، روایتی بلوچی کھیل کپگی اور چوکی، سائیکل ریس، بلوچی موسیقی کے پروگرام شے پرجا اور دوچاپی سمیت باڈی بلڈنگ کے مقابلے منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ فوڈ اسٹالز اور کتابوں کے اسٹالز بھی قائم کیے گئے۔واضح رہے کہ فیسٹیول میں فٹ بال، کرکٹ اور والی بال کے ساتھ ضلع کیچ کے روایتی اور مقامی کھیلوں کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ مقامی ثقافت کو فروغ اور تحفظ دیا جا سکے۔ کراچی ، کوئٹہ، چمن اور گوادر کے علاوہ ہمسایہ ملک ایران سے آنے والی فٹ بال ٹیموں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ مجموعی طور پر 20 سے زائد کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے، جن میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی حصہ لے رہی ہیں۔ خواتین کے مقابلے گورنمنٹ گرلز کالج تربت میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔فیسٹیول کے دوران بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے درمیان ایک دلچسپ رسہ کشی کا مقابلہ بھی منعقد ہوا، پہلے دن کے اختتام پر معزز مہمانوں نے مختلف کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات اور میڈلز تقسیم کیے۔

خبرنامہ نمبر 83/2025
کوئٹہ 5جنوری۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کا ائیرپورٹ روڈ پر تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن،22 افراد گرفتار، جیل منتقل تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کی روشنی میں ائیرپورٹ روڈ پر نالے کے اوپر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تجاوزات کے باعث نالے کا پانی بند ہو کر سڑک پر بہہ رہا تھا جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے کارروائی کرتے ہوئے نالے پر قبضہ کرنے والے 22 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹ روڈ پر کسی بھی قسم کی تجاوزات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نالوں پر قبضہ کرکے پانی کا راستہ بند کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

خبرنامہ نمبر 84/2025
لورالائی 6جنوری 2026 ڈپٹی کمشنر میران بلوچ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم،ڈی ایس پی کریم مندوخیل، ٹریفک انچارج منظور حسنی، پولیس انتظامیہ اور سوشل میڈیا کے نمائندے بھی موجود تھے۔ اجلاس میں تحصیل روڈ پر نو پارکنگ کے بعد ژوب روڈ پر بھی نو پارکنگ کے نفاذ پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ ٹریفک کی روانی ایک نہایت اہم معاملہ ہے، جس میں عوام کا تعاون بھی لازم ہے۔ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ہرصورت میں سخت چالان کیے جائیں گے۔ تاہم اگر کسی کو ضرورت کے تحت عارضی طور پر گاڑی روکنی پڑے تو ڈرائیور گاڑی سے نہیں اترے گا یا گاڑی اسٹارٹ حالت میں رکھ کر فوری طور پر واپس آئے گا۔مزید یہ کہ کٹوئی موڑ پر بنائے گئے فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ ڈی سی آفس تک سڑک کے دوسرے سائیڈ پر بھی فٹ پاتھ تعمیر کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میونسپل کمیٹی لورالائی ضلعی انتظامیہ،اور ٹریفک پولیس کے باہمی اشتراک سے لورالائی تحصیل روڈ کے بعد اب ژوب روڈ کو بھی نو پارکنگ وزن میں تبدیل کریں گے اور اس کے ساتھ ہی لورالائی کوایک منظم۔محفوظ،خوبصورت،اور عوام دوست شہر بنانے کیلئےعملی ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کاسلسلہ جاری رکھا جا? گا اجلاس میں پارکنگ مالکان کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ سرکاری طور پر مقرر کردہ پارکنگ ریٹس کا خاص خیال رکھیں، بصورت دیگر ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ٹریفک نظام کی بحالی اور شہر کی خوبصورتی کے ان اقدامات پر عوامی حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ کے اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر 85/2025
کوئٹہ 5جنوری :عدالت عالیہ بلوچستان میں سال 2025 کے شروع میں زیر التوائ مقدمات 5272 تھے۔ سال 2025 کے دوران 6926 مقدمات دائر ہوئے جبکہ 31 دسمبر 2025 تک 5813 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت عدالت عالیہ بلوچستان میں زیر التوائ مقدمات کی تعداد 6385 ہے۔اسی طرح سال 2025 کے شروع میں ماتحت عدلیہ میں زیر التوائ مقدمات 18685 تھے۔ سال 2025 کے دوران ما تحت عدلیہ میں 62393 مقدمات دائر ہوئے جبکہ 62654 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت بلوچستان کی ماتحت عدالتوں میں زیر التوائ مقدمات کی تعداد 18424 ہے۔

خبرنامہ نمبر 86/2025
کوئٹہ:5 جنوری :پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی، عظیم عوامی رہنما اور سابق وزیرِاعظمِ پاکستان شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یوم پیدائش کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور رکنِ صوبائی اسمبلی حاجی علی مدد جتک نے انہیں زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔اپنے جاری کردہ بیان میں حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام کے ایک عظیم، مدبر اور انقلابی رہنما تھے جنہوں نے عوام کو شعور، حقوق اور خود اعتمادی دی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو شہید نے “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ دے کر غریب، مزدور اور پسے ہوئے طبقے کو زبان اور طاقت عطا کی۔حاجی علی مدد جتک کا کہنا تھا کہ متفقہ آئینِ پاکستان، ایٹمی پروگرام کی بنیاد، اسلامی سربراہی کانفرنس اور خارجہ محاذ پر پاکستان کو ایک باوقار مقام دلانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وہ تاریخی کارنامے ہیں جو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو شہید نے اصولوں کی سیاست کی اور آمریت کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنی جان قربان کر دی، جو آج بھی جمہوریت پسندوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے پر عمل پیرا ہے اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں عوامی خدمت، جمہوریت کے استحکام اور آئین کی بالادستی کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔حاجی علی مدد جتک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات، عوامی سیاست اور جمہوری جدوجہد کو ہر فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ “شہید ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہیں، کیونکہ ان کا نظریہ آج بھی کروڑوں دلوں میں دھڑک رہا ہے۔”

خبرنامہ نمبر 87/2025
گوادر5جنوری ::ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے ضلع کے مختلف بنیادی مراکزِ صحت (بی ایچ یوز) کا مانیٹرنگ دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے بی ایچ یو نالینٹ، بی ایچ یو کپر اور بی ایچ یو بونڈی کپر کا تفصیلی معائنہ کیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے مراکز صحت میں عملے کی حاضری، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کے ریکارڈ، ای پی آئی مراکز اور ماں و بچے کی صحت (MNCH) سینٹرز کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے طبی سہولیات، صفائی کی صورتحال اور دستیاب سہولیات کا بھی معائنہ کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر مرشد دشتی نے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت علاج کی فراہمی پی پی ایچ آئی کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ بی ایچ یوز کو ادویات بھی فراہم کیں تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے عملے کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دینے، وقت کی پابندی اور عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی ہدایت کی، جبکہ صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

خبرنامہ نمبر 88/2025
کوئٹہ، 5 جنوری :بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ جسٹس آف پیس سے متعلق نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواستوں کی سماعت کی۔عدالت نے ایڈووکیٹ راحب خان بلیدی کی جانب سے دائر آئینی درخواست (سی پی نمبر 13 آف 2026) اور افتخار احمد لانگو و ایڈووکیٹ عبدالبصیر کاکڑ کی درخواست (سی پی نمبر 19 آف 2026) کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران 2026 کے CMA نمبر 27 اور 47 میں فوری سماعت کی اجازت بھی دے دی گئی۔درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت بلوچستان نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ان کے متعلقہ علاقوں میں دفعہ 22-A اور 22-B ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت جسٹس آف پیس مقرر کر دیا ہے۔درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ نوٹیفکیشن صوبے کے چیف جسٹس کی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر جاری کیا گیا جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 175(3) کے تحت عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی کے اصول کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 202 اور 203 اور Cr.P.C کے سیکشن 25 کے تحت سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز پہلے ہی جسٹس آف پیس کے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس لیے ایگزیکٹو افسران کو یہ اختیارات دینا آئینی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہے۔درخواست گزاروں کے مطابق اگرچہ Cr.P.C کی دفعہ 22 حکومت کو تقرری کا اختیار دیتی ہے، تاہم یہ اختیار واضح قواعد و ضوابط بنانے سے مشروط ہے، جبکہ حکومت نے بغیر کسی قانونی فریم ورک کے محض ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عدالتی اختیارات ایگزیکٹو افسران کو منتقل کر کے متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جو عدلیہ کی آزادی کے بنیادی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ اٹھائے گئے قانونی نکات مزید غور طلب ہیں، جس کے بعد جواب دہندگان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے متنازع نوٹیفکیشن کو آئندہ سماعت تک معطل کر دیا۔عدالت نے CMA نمبر 46 اور 26 آف 2026 میں بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا اور آفس کو ہدایت کی کہ حکم نامے کی نقول جواب دہندگان اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو معلومات اور تعمیل کے لیے ارسال کی جائیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت سردیوں کی عدالتی تعطیلات کے فوراً بعد مقرر کرنے کا حکم دیا۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video