خبرنامہ نمبر1901/2026
کوئٹہ، 04 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسٹاف افسر سید امین کے والد کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ والد کا انتقال کسی بھی فرد کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے سید امین اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس غم کی گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
خبرنامہ نمبر1902/2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند اور پریس سیکرٹری شیخ عبدالرزاق نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اسٹاف افسر سید امین کے والد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ والد کا انتقال ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور اس صدمے کی تلافی ممکن نہیں۔ انہوں نے سید امین اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس غم کی گھڑی میں برابر کے شریک ہیں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
خبرنامہ نمبر1903/2026
گوادر: وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر ایران سے پاکستانی شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، گبد–ریمدان بارڈر کے راستے 320 سے زائد افراد کو محفوظ طریقے سے پاکستان پہنچا کر ضلعی انتظامیہ گوادر کی جانب سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے بعد مختلف شہروں کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔
خبرنامہ نمبر1904/2026
قلات:صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان علی اصغر سےال کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی بلوچستان کے حلقہ پی بی 36 قلات کے 7 پولنگ اسٹیشنوں پر 10 مارچ 2026 کو ہونے والی ری پولنگ کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان کوئٹہ میں منعقد ہوااجلاس میں جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان سید وسیم احمد جعفری، کمشنر قلات ڈویژن طفیل احمد بلوچ، ڈی آئی جی قلات وزیر خان ناصر، ڈائریکٹر الیکشن عبداللہ ڈائریکٹر ایڈمن نعیم احمد، ریجنل الیکشن کمشنر قلات ڈویژن سکندر علی جمالی، ڈی آر او و ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی ریٹرننگ افسر پی بی 36 شاہ نواز بلوچ، ایس ایس پی قلات سید زاہد حسین شاہ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں متعلقہ سات پولنگ اسٹیشنوں پر شفاف اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر پاک فوج اور ایف سی اہلکاروں کی تعیناتی سمیت سیکیورٹی کے امور بھی زیر بحث آئے۔اس موقع پر صوبائی الیکشن کمشنر علی اصغر سیال نے ہدایت کی کہ غیر جانبدار اور مستند انتخابی عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کو پرامن ماحول فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے تاکہ تمام ووٹرز آزادانہ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔
خبرنامہ نمبر1905/2026
کوئٹہ 4 مارچ:کوئٹہ میں سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ کی زیرِ صدارت برتھ نوٹیفکیشن ٹول ٹریننگ ماڈیول اور مجوزہ ٹریننگ پلان کے حوالے سے کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں میں ایڈیشنل سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی ثنائ اللہ قریش، UNICEF بلوچستان کی چائلڈ پروٹیکشن آفیسر نابیہ، عبدالحئی بس ایڈوکیٹ (ممبر این سی آر سی)، سید عباس شاہ (فوکل پرسن سید آر ایم ایس)، عباس ملک (ڈپٹی سیکرٹری محکمہ مذہبی امور)، داؤد مہمند (اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا)، محمد ابراہیم (ڈپٹی سیکرٹری محکمہ صحت) کے علاوہ محکمہ بلدیات و دیہی ترقی اور لوکل گورنمنٹ کے دیگر اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران یونیسیف کی جانب سے برتھ نوٹیفکیشن ٹول ٹریننگ ماڈیول اور مجوزہ ٹریننگ پلان کے نفاذ کے طریقہ کار پر مفصل پریزینٹیشن دی گئی۔ پریزنٹیشن میں پیدائش کے اندراج کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ڈیجیٹل نظام کی بہتری، ضلعی و یونین کونسل سطح پر استعداد کار بڑھانے اور متعلقہ عملے کی تربیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔شرکائ نے مؤثر ہم آہنگی، شفافیت اور تربیتی سرگرمیوں کے بہتر انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اپنی اور مؤثر تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ پیدائش کے بروقت اندراج سے بچوں کے قانونی حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے اور صوبے میں درست ڈیٹا کی دستیابی سے حکومتی پالیسی سازی میں بھی بہتری آئے گی۔سیکرٹری بلدیات عبدالرئوف بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ برتھ رجسٹریشن کا مؤثر نظام نہ صرف بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ گڈ گورننس اور عوامی خدمات کی بہتری میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے، باہمی تعاون کے فروغ اور بروقت عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مجوزہ ٹریننگ پلان کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے۔اجلاس کے اختتام پر اہم نکات پر اتفاقِ رائے کیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ صوبہ بھر میں مرحلہ وار تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے تاکہ مقامی حکومتوں کے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں.
خبرنامہ نمبر1906/2026
جعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت پرانے فوڈ گودام کے ڈھانچے کی نیلامی اور اراضی کے آئندہ استعمال سے متعلق قائم کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ارسلان چوہدری، ایگزیکٹو انجینیئر بی اینڈ آر کے نمائندے، سب ڈویژنل آفیسر محمد صدیق زہری اور محکمہ خوراک کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈیرہ اللہ یار میں واقع پرانے فوڈ گودام کے اسٹرکچر کو مسمار کرنے، قابل استعمال سامان کی فہرست سازی اور شفاف نیلامی کے لیے ضروری انتظامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مذکورہ اراضی کو عوامی مفاد میں بروئے کار لاتے ہوئے وہاں جدید سبزی منڈی کے قیام کی تجویز زیر غور ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ نیلامی کے عمل سے قبل متعلقہ حکام سائٹ کا دورہ کرکے دستیاب میٹریل اور سامان کا باقاعدہ معائنہ اور تصدیق کریں گے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ آکشن کے ذریعے پرانے سامان کی فروخت کے لیے باقاعدہ ٹینڈرز طلب کرنے کا اشتہار جاری کیا جائے گا اور تمام قانونی و ضابطہ جاتی تقاضے مکمل کیے جائیں گے۔ ٹینڈرنگ کے عمل کی اصولی منظوری دیتے ہوئے شرکائ نے اس امر پر زور دیا کہ نیلامی کا تمام مرحلہ شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر مکمل کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے پرانے فوڈ گودام کی اراضی کو مفید منصوبے کے لیے استعمال میں لائے گی، تاہم اس سے قبل گودام کے پرانے سامان اور میٹریل کی فروخت کے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا ناگزیر ہے تاکہ سرکاری املاک کے تحفظ اور شفافیت کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام مراحل مقررہ ضوابط کے مطابق بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ سبزی منڈی کے قیام کا منصوبہ جلد عملی شکل اختیار کر سکے۔
خبرنامہ نمبر1907/2026
ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی کی قیادت میں ہرنائی کے سابقہ لیویز فورس (ضم شدہ) کے پولیس افسران کا اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں ڈی ایس پی غلام محمد کھوسہ سمیت دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ایس پی پولیس نے اجلاس کے دوران افسران کو فورس کے نظم و ضبط، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے افسران کو سختی سے نظم و ضبط کا پابند رہنے اور اپنے فرائض احسن انداز میں انجام دینے کی ہدایت کی۔اس موقع پر ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور محبت سے پیش آیا جائے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور سابقہ لیویز فورس کی ذمہ داریاں یکساں نوعیت کی ہیں، لہٰذا باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے فرائض سرانجام دیے جائیں تاکہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہو سکے۔ اجلاس کے اختتام پر افسران نے عوامی فلاح و بہبود اور قانون کی بالادستی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے
خبرنامہ نمبر1908/2026
گوادر: وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع گوادر میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ نگرانی وزیراعلیٰ بلوچستان رمضان ریلیف و راشن اسکیم پیکیج کے تحت مستحق اور نادار خاندانوں میں باقاعدہ اور منظم طریقے سے راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔یہ ریلیف سرگرمیاں نہ صرف گوادر شہر بلکہ ضلع کی مختلف تحصیلوں، جن میں پسنی، اورماڑہ اور جیوانی شامل ہیں، میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس حکومتی اقدام سے مستفید ہو سکیں۔راشن کی تقسیم کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے افسران خود فیلڈ میں موجود ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، تحصیلدار جیوانی اعظم خان گچکی، تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران سرگرمِ عمل ہیں اور تقسیم کے تمام مراحل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس امر کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ راشن صرف حقیقی اور مستحق خاندانوں تک پہنچے، تاکہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1909/2026
ہرنائی 4مارچ:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے ویژن کے تحت ضلع ہرنائی میں یومِ پاکستان اور رمضان اسپورٹس فیسٹیول 2026 کے سلسلے میں رنگا رنگ تقریبات کا آغاز کر دیا گیا، جس کا مقصد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا اور کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایات پر محکمہ اسپورٹس ہرنائی کی جانب سے 23 مارچ یومِ پاکستان اور رمضان اسپورٹس فیسٹیول 2026 کے تحت بیڈمنٹن اور ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں اوپننگ سرمنی ایسوسی ایشن کے صدر و سینئر فزیکل ایجوکیشنر فضل الرحمن، ڈگری کالج کے سینئر کلرک قسمت اللہ ترین اور سماجی رہنما سید عمران شاہ نے شرکت کر کے ایونٹ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ڈراز کے انعقاد کے بعد بیڈمنٹن اور ٹیبل ٹینس کے افتتاحی میچز کھیلے گئے۔ یہ مقابلے 8 مارچ تک ڈگری کالج ہال میں جاری رہیں گے، جبکہ فائنل تقریب 9 مارچ کو رات 10 بجے منعقد ہوگی۔محکمہ اسپورٹس بلوچستان کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس فیسٹیول کا مقصد ضلع ہرنائی کے کھیلوں سے وابستہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانا اور انہیں منفی سرگرمیوں سے دور رکھنا ہے۔ اسپورٹس حکام کے مطابق یومِ پاکستان کی مناسبت سے منعقد ہونے والا یہ ایونٹ دفاعِ پاکستان کے جذبے کو اجاگر کرنے اور نوجوان نسل میں قومی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خبرنامہ نمبر1910/2026
کوئٹہ (04 مارچ : واسا کوئٹہ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اہم اجلاس صوبائی وزیر و چیئرمین بورڈ سردار عبدالرحمن کھیتران کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ سمیت ادارے کی مجموعی کارکردگی اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے Q-WASA کا بجٹ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ بورڈ نے واسا ملازمین کے لیے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی منظوری دی، جبکہ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی ایکس پوسٹ فیکٹو منظوری بھی دی گئی۔ افسران و اہلکاروں کی ترقیوں سے متعلق امور پر غور اور ادارے میں خالی آسامیوں کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا۔بورڈ نے میپل سولر سلوشنز کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ لیب کنسلٹنٹ اور لیب اٹینڈنٹ کے کنٹریکٹس میں توسیع اور ادارے کی ضروریات کے پیش نظر نئی گاڑیوں کی خریداری کی اجازت بھی دی گئی۔اس موقع پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ واسا کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور شہریوں کو بلا تعطل صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین ہمارے ادارے کا قیمتی سرمایہ ہیں، ان کی فلاح و بہبود اور میرٹ پر ترقی ہماری ترجیح ہے۔ مالی نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی مفاد پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مسائل میں واضح کمی لائی جا سکے اجلاس میں سیکٹر یری پی ایچ ای ہاشم غلزئی ،ایم ڈی واسا مجیب الرحمن کاکڑ و دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے.
خبرنامہ نمبر1911/2026
پشین: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نجم خان کبزئی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ میں تعلیمی سال 2026 کے لیے داخلہ مہم کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس کا مقصد اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی لانا اور شرح خواندگی میں اضافہ کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیض اللہ کاکڑ کے ہمراہ داخلہ مہم کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ داخلہ مہم کا بنیادی مقصد ضلع پشین میں اسکولوں سے باہر ہر بچے کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیض اللہ کاکڑ کے مطابق مہم کے ذریعے 24 ہزار سے زائد بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نجم خان کبزئی نے کہا کہ داخلہ مہم کے ساتھ ساتھ شجرکاری کی مہم بھی چلائی جائے گی تاکہ طلبہ میں ماحولیاتی آگاہی پیدا کی جا سکے۔ ڈسٹرکٹ بھر میں داخلہ مہم زور و شور سے جاری ہے ، نئے تعلیمی سال کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے والے طلبہ کو مفت درسی کتب کی فراہمی شروع کر دی جائے گی۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے قریبی سرکاری یا نجی تعلیمی اداروں میں ان کا داخلہ یقینی بنائیں تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
خبرنامہ نمبر1912/2026
نصیرآباد:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت این جی اوز و آئی این جی اوز کی کوآرڈینیشن سے متعلق ایک اہم اجلاس ڈی سی آفس میں منعقد ہوا جس میں ضلع میں مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دینے والی این جی اوز کے نمائندگان نے شرکت کی اور اپنے جاری و مکمل شدہ منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں این جی اوز کی فوکل پرسن حنا عمرانی، عبدالصمد کورار اور ڈپٹی کمشنر کے پرسنل اسٹاف آفیسر منظور شیرازی بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں جن این جی اوز کے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں ان کی این او سی فوری طور پر ختم کی جائے اور نئے منصوبے کی منظوری اور باقاعدہ آغاز کے بعد ہی انہیں دوبارہ این او سی جاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ورکنگ این جی اوز آئندہ اجلاس میں اپنے جاری منصوبوں، اخراجات، اہداف اور حاصل شدہ نتائج کے حوالے سے جامع پریزنٹیشن پیش کریں تاکہ ضلعی انتظامیہ کو کارکردگی کا مکمل جائزہ لینے میں آسانی ہو۔ ڈپٹی کمشنر نے اس امر پر زور دیا کہ ضلع نصیرآباد میں کام کرنے والی تمام این جی اوز مقامی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار فراہم کریں اور امور کی انجام دہی میں مقامی افرادی قوت کی خدمات حاصل کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقامی افراد کو نظرانداز کرکے دیگر علاقوں سے افراد کی تعیناتی کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی اور اس حوالے سے سخت نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد این جی اوز کے ساتھ مؤثر رابطہ اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ فلاحی منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں مقامی آبادی تک پہنچ سکیں اور ترقیاتی سرگرمیوں میں بہتری آئے۔ اجلاس کے اختتام پر این جی او نمائندگان نے ضلعی انتظامیہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے آئندہ بھی باہمی رابطے اور ہم آہنگی کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر1913/2026
کوئٹہ۔ 23 مارچ یوم پاکستان جشن رمضان اسپورٹس فیسٹول شاولینُ شان وانگ کک باکسنگ ایم ایم اے گرلز چیمپین شپ مظفر شان اکیڈمی اقبال آباد میں اختتام پذیر ہوا۔ جس میں سو سے زائد گرلز کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر شان اکیڈمی ہیڈ کوارٹرنے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ دوسری پوزیشن استاد مظفر شان نے حاصل کی تیسری پوزیشن شان اکیڈمی مالی باغ نے حاصل کی۔ مہمانان گرامی نے کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے آخر میں گرینڈ ماسٹر مبارک علی شان پرائیڈ آف پاکستان نے ایڈوائزر وزیر اعلی بلوچستان مینا مجید بلوچ سکریڑی اسپورٹس بورڈ درا بلوچ ڈائریکٹر اسپورٹس یاسر بازئی آصف لانگو کا شکریہ ادا کیا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور بلوچستان بھر میں کامیاب مقابلوں کا انعقاد ایک بہترین اقدام اور قابل ستائش ہے جس کی جتنی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جائیں کم ہے۔
خبرنامہ نمبر1914/2026
نصیرآباد۔ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت ضلع نصیرآباد میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ کی 14 کروڑ 50 لاکھ روپے کی خطیر لاگت سے 19 ترقیاتی اسکیمات کے اوپن ٹینڈرز پی ایچ ای آفس میں منعقد کیے گئے۔ ٹینڈرز کا عمل ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی سربراہی میں مکمل کیا گیا جبکہ ایگزیکٹو انجینیئر پی ایچ ای ظفر اقبال زہری نے گورنمنٹ کنٹریکٹرز کی موجودگی میں باقاعدہ طور پر ٹینڈر دستاویزات اوپن کیے۔ اس موقع پر بابو مزمل حسین کورار بھی موجود تھے جبکہ اوپن ٹینڈر کے عمل میں 15 مختلف کنٹریکٹرز نے متعدد اسکیمات میں حصہ لیا۔ ان اسکیمات کا مقصد ضلع کے مختلف علاقوں میں فراہمی آب اور بنیادی سہولیات کے نظام کو بہتر بنانا ہے تاکہ عوام کو صاف پانی اور متعلقہ سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ٹینڈرز کا عمل مکمل شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیا گیا جسے شرکائ نے سراہا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ذوالفقار علی کرار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹینڈر میں حصہ لینے والے تمام ٹھیکیداروں پر لازم ہوگا کہ وہ طے شدہ معیار اور نقشہ جات کے مطابق تعمیراتی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ تعمیراتی کام کی کڑی نگرانی کرے گا تاکہ منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوں اور عوام کو ان کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔ حکام کے مطابق قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد متعلقہ اسکیمات پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا جس سے ضلع میں ترقیاتی عمل کو مزید تقویت ملے گی۔
خبرنامہ نمبر1915/2026
قلات :ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے مورخہ 05 مارچ 2026 بروز جمعرات بوقت11.30 بجے دن تحصیل خالق آبادکی سطح پر کھلی کچہری کا انعقادہوگاکھلی کچہری اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد کے دفتر میں منعقد ہوگی۔اعلامیے کے مطابق علاقے کے معززین سیاسی سماجی رہنماوں صحافی برادی اور عوام الناس سے گزارش کی گئ ہیکہ 05 مارچ کو ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائز مسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
خبرنامہ نمبر1916/2026
لورالائی 4مارچ :ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی قیادت میں پاک فوج کے حق میں ایک پُرجوش ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا آغاز ڈی سی آفس لورالائی سے ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم،ایڈشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نور علی کاکڑ تمام ضلعی افسران، مختلف محکموں کے نمائندگان اور اسکولوں کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ریلی کے شرکائ نے قومی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور پاک فوج کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج ملک کی سلامتی اور دفاع کی ضامن ہے اور پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اس موقع ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریلی کا مقصد وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے پاک فوج کے مثالی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور افواجِ پاکستان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنا تھا شرکائ نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاک فوج کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے، جس سے حب الوطنی اور قومی جذبے کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آیا مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ اور قومی سلامتی کی ضامن ہے، جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کی امیدوں کا مرکز رہی ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ملکی استحکام اور امن و امان کے قیام میں پاک فوج کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کو بھی فروغ دیں۔ریلی پرامن طریقے سے اپنے مقررہ راستوں سے گزرتی ہوئی اختتام پذیر ہوئی۔اخرمیں ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی.
خبرنامہ نمبر1917/2026
ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ذوالفقار علی کرار سے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ڈیرہ مراد جمالی کے پرنسپل پروفیسر سمیع اللہ کھوسو نے ملاقات کی ۔تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری اور سولرائزیشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کےا گےا ۔ نصیرآباد میں تعلیمی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے ایک اہم اور مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ذوالفقار علی کرار سے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ڈیرہ مراد جمالی کے پرنسپل پروفیسر سمیع اللہ کھوسو نے ان کے دفتر میں ملاقات کی اس موقع پر پروفیسر جوہر بنگلزئی اور پروفیسر خادم سلطان سیال بھی موجود تھے ملاقات کے دوران کالج کے بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری، چار دیواری اور باؤنڈری وال کی تعمیر و مرمت، اور ادارے کو مکمل طور پر شمسی توانائی (سولر سسٹم) پر منتقل کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی پرنسپل نے کالج کی موجودہ ضروریات سے آگاہ کرتے ہوئے باضابطہ درخواست پیش کی کہ ادارے میں فوری طور پر حفاظتی اور توانائی سے متعلق اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ نصیرآباد کا یہ واحد بوائز ڈگری کالج بی ایس، ایف اے، ایف ایس سی اور اے ڈی/اے ڈی ایس پروگرامز میں سینکڑوں طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ تاہم شدید گرمی، جو اس خطے کی نمایاں موسمیاتی خصوصیت ہے، کے باعث کلاس رومز میں تدریسی سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں بجلی کی غیر یقینی فراہمی اور لوڈشیڈنگ کے مسائل تعلیمی ماحول پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں پروفیسر سمیع اللہ کھوسو نے اس امر پر زور دیا کہ موسمی شدت اور توانائی بحران کے پیش نظر متبادل اور پائیدار توانائی ذرائع، خصوصاً سولر سسٹم کی تنصیب، وقت کی اہم ضرورت ہے اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی ماحول بہتر ہوگا بلکہ بجلی کے اخراجات میں کمی، توانائی کی خود کفالت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے قومی اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی مزید برآں، انہوں نے چار دیواری کی مضبوطی کو ادارے کے تحفظ، نظم و ضبط اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا، تاکہ طلبہ کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے ۔ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار نے درخواست کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے تعلیمی اداروں کی بہتری کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیا انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ محکموں کے ساتھ مشاورت کے بعد ضروری اور عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ کالج کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے اور طلبہ کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ملاقات کے اختتام پر پرنسپل نے ڈپٹی کمشنر کو کالج کے دورے کی باضابطہ دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے جلد ادارے کا معائنہ کرنے اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے کی حامی بھر لی.
خبرنامہ نمبر1918/2026
کوئٹہ 04 مارچ۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت شیعہ علمائ کانفرنس اور شیعہ انجمن کے نمائندگان کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں 9 اور 11 مارچ کو یومِ علیؓ کے موقع پر منعقد ہونے والی مجالس اور جلوسوں کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مہراللہ بادینی، ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ محمد آصف سمیت شیعہ علمائ کانفرنس اور شیعہ انجمن کے عہدیداران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران یومِ علیؓ کے سلسلے میں منعقد ہونے والی مجالس، جلوسوں کے اوقات، مقررہ روٹس، سیکیورٹی انتظامات اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی پلان اور دیگر متعلقہ انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اس موقع پر کہا کہ یومِ علیؓ کے اجتماعات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے علمائ اور انجمن کے عہدیداران سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور ممکنہ طور پر تمام جلوس ایک ہی دن نکالنے کی کوشش کریں تاکہ سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ باہمی مشاورت اور تعاون کے ذریعے یومِ علیؓ کے موقع پر امن و امان کی فضا کو برقرار رکھا جائے گا اور شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ جلوسوں اور مجالس کے انعقاد کے سلسلے میں تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر1919/2026
شیرانی؛4مارچ:ضلع شیرانی میں اسکول داخلہ مہم کے سلسلے میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اسسٹنٹ کمشنر شیرانی محمد یوسف ہاشمی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن محمد کریم خروٹی، چیئرمین میونسپل کمیٹی محمد اللہ شیرانی، ڈسٹرکٹ ٹریننگ منیجر سی پی ڈی (پائٹ) یونیسف جابر خان شیرانی اور ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کی ٹیم نے مشترکہ طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر محمد یوسف ہاشمی اور یونیسف پائٹ کوآرڈینیٹر جابر خان شیرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کے وژن اور وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ایجوکیشن کی ہدایات کی روشنی میں ہمارا واضح اور مشترکہ ایجنڈا ہے کہ “ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب” ہو۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال ضلع شیرانی کے لیے 778 بچوں اور 265 بچیوں کی انرولمنٹ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے حصول کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع بھر کے تمام بچوں اور بچیوں کو اسکولوں میں داخل کروا کر اس خواب کو حقیقت بنایا جائے گا تاکہ وہ معیاری تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن محمد کریم خروٹی نے کہا کہ محکمہ تعلیم شیرانی، ایجوکیشن سپورٹ پروگرام اور یونیسف کے باہمی اشتراک سے داخلہ مہم ایک ماہ تک جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں اور بچیوں کا سرکاری اسکولوں میں اندراج یقینی بنانا ہے اور حکومت بلوچستان کی جانب سے مقرر کردہ ہدف سے بڑھ کر نتائج حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔پریس کانفرنس میں آر ٹی ایس ایم کے نمائندے ظریف خان، سلیمان شاہ، کلسٹر ہیڈز شیر حسن، علی خان، عبدالوہاب، صحافی برادری اور دیگر متعلقہ افراد بھی موجود تھے۔آخر میں والدین اور کمیونٹی کے معزز اراکین سے پرزور اپیل کی گئی کہ وہ داخلہ مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
خبرنامہ نمبر1920/2026
لورالائی (4 مارچ :کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیرِ صدارت پانی کے مسائل اور آئندہ موسمِ گرما کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ، ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اختر محمد مندوخیل، ایگزیکٹو انجینئر محکمہ آبپاشی عبدالکریم کاکڑ، نمائندہ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی امان اللہ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ گرمیوں کی آمد کے ساتھ پانی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے پیشِ نظر بروقت اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہری اور مضافاتی علاقوں میں پانی کی منصفانہ اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے، خراب ٹیوب ویلز اور بوسیدہ واٹر سپلائی لائنوں کی فوری مرمت مکمل کی جائے جبکہ غیر قانونی کنکشنز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔کمشنر لورالائی نے واضح کیا کہ عوام کو صاف، شفاف اور وافر پانی کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو مزید مؤثر بناتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے گی۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا اور ممکنہ پانی بحران سے پیشگی نمٹنا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر1921/2026
گوادر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن اور طے شدہ پالیسی کے مطابق صوبے بھر میں صحت کی معیاری سہولیات عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے عزم کے تحت ضلع گوادر میں بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یو کپر، بی ایچ یو نالینت اور بی ایچ یو بانڈی کپر کا تفصیلی مانیٹرنگ و سہولت کاری دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سائٹس، ایم این سی ایچ سینٹرز اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے مراکز صحت میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل اور زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق جاری خدمات کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت، معیاری اور بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور سرکاری اوقات کار کی سختی سے پابندی کی جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے مکین بھی بہتر علاج معالجہ سے مستفید ہو سکیں۔اس موقع پر انہوں نے مذکورہ بی ایچ یوز کو ضروری ادویات بھی فراہم کیں تاکہ ادویات کی دستیابی میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہو اور مریضوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ اور پی پی ایچ آئی کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع بھر کے تمام بنیادی مراکز صحت کی باقاعدہ نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو معیاری، قابل رسائی اور مؤثر طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1922/2026
لورالائی 4مارچ :ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد ایس ڈی پی او کریم مندوخیل ،ایس ایچ او شریف موسخیل کے ہمراہ ایس ایس پی آفس لورالائی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی رات لورالائی میں اندوہناک اور ظالمانہ کاروائی کے اطلاع موصول ہوئی کہ ایک معصوم 08/09 سالہ بچی بی بی فاطمہ کیساتھ ایک شخص نے ریپ کرکے اسے زخمی کیا تھا پولیس نے بچی کو فیملی کیساتھ بچی کو ہسپتال منتقل کرکے انکے میڈیکل چیک اپ کی اور بچی کے والد کے مدعیت میں نامعلوم ملزم کیخلاف مقدمہ درج کرلیا، اس واقعہ پر ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے پولیس کی خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی لورالائی پولیس نے کیس کا مختلف پہلو سے تماشواہد اکھٹے کیے اپنے تمام سورسز بروے کار لاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے مدد سے سفاک ملزم محمد ثاقب ولد یارمحمد قوم زرکون ساکن واپڈا کالونی لورالائی کو گرفتار کرلیا، لورالائی پولیس کے اس بہترین اور کامیاب کاروائی پر پولیس ٹیم کو اسپشل انعام سے نواز جائے گا، عوام کی تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور پولیس عوام کے درمیان مظبوط روابط ایک مثبت اقدام ہوگی عوام کو چاہیے کہ معاشرے میں جرائم پیشہ افراد کی بروقت نشاندہی پولیس کو کریں.
خبرنامہ نمبر1923/2026
کوئٹہ 4 مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہدایت کی کہ گوادر یونیورسٹی کے کانووکیشن سے قبل اپنے سینیٹ اور سنڈیکیٹ کے اجلاسوں کا انعقاد یقینی بنائیں۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کی اہمیت کے پیش نظر گوادر یونیورسٹی کو ایک جامع اقتصادی پالیسی کی ترقی سے آگہی و رہنمائی کیلئے ایک قومی سیمینار کا انعقاد ضروری ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے معاشی اور تجارتی منظرنامے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، مہارت یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔ گودار یونیورسٹی تحقیق اور فکری رہنمائی فراہم کرنے، اختراعی خیالات کو فروغ دینے اور سماجی مسائل کے دیرپا حل کیلئے اچھی پوزیشن میں ہے۔ یہ بات انہوں گورنر ہاؤس کوئٹہ میں یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرازق صابر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے پاس سائنٹفک ایجوکیشن اور جدید ٹیکنالوجی وہ طاقتور ہتھیار ہیں جن کی مدد سے ہم ہم اپنے معاشی اور معاشرتی نظام کو بہتر اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ وائس چانسلر محض ایک اہم منصب نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم بلاامتیاز وہ اقدامات اور فیصلے کریں جو اعلیٰ تعلیمی اداروں کے مفاد میں ہوں۔
خبرنامہ نمبر1924/2026
کوئٹہ، 04 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اکیسواں اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا، جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، انسداد دہشت گردی اقدامات، غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی، تعلیمی اصلاحات اور مالی جرائم کے خلاف کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی صوبائی اپیکس کمیٹی نے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مؤثر دفاعی حکمت عملی اور بروقت جوابی کارروائیوں پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ بلوچستان سے اب تک 7 لاکھ 21 ہزار جبکہ مجموعی طور پر صوبے کے راستے تقریباً 10 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھجوایا جا چکا ہے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور مستند اطلاع فراہم کرنے والے کے لیے 50 ہزار روپے انعام مقرر کیا گیا ہے بریفنگ میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ پوست کی کاشت میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور 330 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں جبکہ مزید سخت اقدامات کئے جاررہے ہیں اپیکس کمیٹی کو بتایا گیا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث 9 افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے برطرفی کے لیے شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں اجلاس میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کے اہل خانہ کی جانب سے اظہارِ لاتعلقی کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ۔فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے بلوچستان میں حوالہ ہنڈی اور بھتہ خوری کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 24 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 16 کو سزائیں دلوائی جا چکی ہیں اور مزید کارروائیاں جاری ہیں اپیکس کمیٹی نے ایف آئی اے بلوچستان کی کارکردگی میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی اجلاس کو تعلیم کے شعبے میں پیش رفت سے بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران 2 لاکھ آؤٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کیا گیا جبکہ بلوچستان کی 12 جامعات میں سے 10 میں بائیو میٹرک حاضری نظام نصب کیا جا چکا ہے اپیکس کمیٹی نے آئندہ مرحلے میں کالجز اور اسکولوں میں بھی بائیو میٹرک نظام کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت کی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر ڈیٹرنس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور معاشرے میں ریاستی رٹ مستحکم ہو رہی ہے انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کو مضبوط اور واضح بنانا ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ مزدور کا بچہ مزدور نہیں رہے گا بلکہ تعلیم اور میرٹ کے ذریعے نئی منزلیں حاصل کرے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رواں سال پانچ مزدوروں کے بچوں کا پاکستان ایئر فورس میں منتخب ہونا صوبے کے لیے قابل فخر اعزاز ہے انہوں نے کہا کہ الحمدللہ اس وقت 28 ہزار بلوچ نوجوان پاکستان آرمی اور ایف سی میں خدمات انجام دے رہے ہیں جو بلوچستان کی حب الوطنی کا واضح ثبوت ہے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور پائیدار قیام امن کے لئے کوشاں ہیں انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانا ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے جبکہ ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اجلاس میں کمانڈر کوئٹہ کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سمیت اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر1925/2026
کوئٹہ 04مارچ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گرانفروشوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ عوام کو ماہِ مقدس میں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو سرکاری نرخنامے کے مطابق یقینی بنانے کے لیے مختلف بازاروں اور تجارتی مراکز میں اچانک چھاپے مارے گئے۔ ان کارروائی کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے شہر بھر میں 254 دکانوں کا معائنہ کیا، نرخناموں کی جانچ پڑتال کی اور زائد قیمت وصول کرنے 51 دکاندار گرفتار اور 45کو جیل منتقل کردیا اس کے علاؤہ 18دکانیں سیل کردیے گئے ہیں اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی من مانی قیمتیں وصول کرنے، ذخیرہ اندوزی کرنے یا عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی احکامات پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد میں تعاون کریں اور گرانفروشی کی شکایات متعلقہ حکام تک پہنچائیں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور منافع خوری کے خاتمے کے لیے یہ مہم آئندہ دنوں میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی۔
خبرنامہ نمبر1926/2026
چمن 4 مارچ :وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع چمن میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف کی فراہمی کے سلسلے میں آج سینکڑوں خاندانوں میں اشیائ خوردونوش تقسیم کی گئیں ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ نگرانی وزیراعلیٰ بلوچستان رمضان ریلیف و راشن اسکیم پیکیج کے تحت مستحق اور نادار خاندانوں میں باقاعدہ اور منظم طریقے سے راشن تقسیم کیا گیا ۔ ڈی سی چمن نے عوام میں خوردنی اشیائ تقسیم کرنے کے دوران کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ریلیف و راشن اسکیم پیکیج کے تحت ضلع چمن کے تمام نادار اور مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان کے دوران ریلیف کو زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو فائدہ پہنچایا جائے گا تاکہ عوام حکومت کی اس اقدام سے مستفید ہو سکیں۔راشن کی تقسیم کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے افسران خود موقع پر موجود تھے اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر چمن امتیاز علی بلوچ اسسٹنٹ کمشنر سیٹی عزیز اللہ کاکڑ اور تحصیلدار سمیت دیگر متعلقہ افسران سرگرم عمل تھے اور تقسیم کے تمام مراحل کی نگرانی کرتے رہیں اس موقع پر عوام نے ریلیف فراہم کرنے اور ملنے پر خاص کر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ڈی سی چمن و ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور راشن ملنے پر خوشی و اطمینان کا اظہار کیا گیا.
خبرنامہ نمبر1927/2026
کوئٹہ 4مارچ : آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ پولیس نے امن کے قیام کو یقینی بنانے اور عوام کے تحفظ کیلئے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے 1115 آفیسران اور جوانوں نے خون کا نذرانہ دیا ہے شہدائ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ پولیس اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھاتی رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز علامہ طاہر اشرفی کی سربراہی میں قومی پیغام پاکستان امن کمیٹی کے علما کرام کے ملنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی آغا محمد یوسف بھی موجود تھے ۔اس موقع پر آئی جی بلوچستان محمد طاہر نے وفد میں شامل علما کرام صوبہ بلوچستان آمد پر خوش آئند کہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے پورا خط اور بلوچستان متاثر ہوا ہے۔بلوچستان پولیس قیام امن کے لئے دستیاب وسائل کے مطابق بھرپور کردار ادا کر رہی ہے جبکہ مسلمان اور ہر پاکستانی ذی شعور شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قیام امن کیلئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنا اہم کردار ادا کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علما کرام کا مثبت اور اہم کردار ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا وہ معاشرے میں سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے دین اسلام کے اصولوں کو اجاگر اور عام شہری کی معاشرے میں مثبت اور اہم ذمہ داری کو ادا کرنے کیلئے ایک موثر کردار ادا کر رہے ہیں ۔اور اس اہم پہلو کو پروان چڑھاتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ قومی پاکستان امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے علما اور اقلیتی برادری کی موجودگی ملک میں مکتبہ فکر کی یگانگی کا اظہار اور اتحاد کو ظاہر کرتی جو کہ خوش آئند ہے اس موقع پر نیشنل پیغام پاکستان امن کمیٹی کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی اور وفد نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعہ سمیت دیگر واقعات کو بلوچستان پولیس کی جانب سے بڑی جوانمردی کا مقابلہ کرتے ہوئے کوئٹہ کو بڑی تباہی سے بچایا ۔ جیسے قومی امن کمیٹی خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ بلوچستان پولیس نے فرائض کی بجا آوری کے دوران تاریخ میں پاکستان کی تمام صوبوں سے زیادہ قربانیاں دی ہے جس کی وجہ سے شہدا کی تعداد زیادہ ہے ۔1115 بلوچستان پولیس کے سپوتوں نے امن کے قیام کے لیے عوام کے تحفظ کے لیے قربانیاں دیگر تاریخ رقم کی ہے جیسے ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق نے سب سے پہلے دنیا میں پولیس فورس کا نظریہ پیش کیا اور قیام امن دیا ۔آج اسی پولیس کی وجہ سے ہم سکھ اور چین کی نیند سورہے ہیں ۔انہوں نے بلوچستان پولیس کے تمام آفیسران اور جوانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے ہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
خبرنامہ نمبر1928/2026
تربت :صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسی کے تحت گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج و بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے تعاون اور حکومتِ بلوچستان کے رائز بلوچستان پروگرام کے تحت ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ر) اسداللہ بلوچ تھے جنہوں نے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا تقریب سے مقررین نے کہا کہ رائز بلوچستان پروگرام نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ایک جامع اقدام ہے، جس کا مقصد انہیں بااختیار بنانا اور مقامی معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔ پروگرام کے تحت ضلع کیچ میں سماجی ہم آہنگی کے فروغ، ثقافتی و کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی معاونت، بلا سود قرضوں کی فراہمی اور ہزاروں نوجوانوں کو تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت دینے جیسے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔تقریب سے ضلعی انتظامیہ، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی تعلیم دوست اور عوام دوست پالیسی کو سراہا اور اسے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت قرار دیا۔ مقررین کے مطابق یہ پروگرام نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ خواتین کی معاشی شمولیت اور پائیدار ترقی کو بھی فروغ دے گا۔تقریب میں طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی تقریب سے اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، بی آر ایس پی کے ریجنل کوآرڈینیٹر التاز سخی، گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج کے پرنسپل پروفیسر ظہیر احمد، تربت یونیورسٹی کے پروفیسر غلام جان بلوچ، آل پارٹیز کیچ کے کنوینئر نواب شمبئے زئی، ڈپٹی ڈائریکٹر انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ فہد رحیم,این آر ایس پی نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے بلوچستان ریجنل منیجر نبیل احمد بلوچ، ایس پی او اسٹریٹجک پالیسی آرگنائزیشن کے ریجنل منیجر محراب بلوچ اور اسحاق احمد سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
خبرنامہ نمبر1929/2026
زیارت 04مارچ:وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیر نگرانی ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی طرف سے اسسٹنٹ کمشنر سجاد الرحمان کی قیادت میں پاکستان زندہ باد کی شاندار ریلی نکالی گئی ،قبائلی عمائدین ،سول سوسائٹی اور مختلف مکاتب فکر کے افراد نے سبز ہلالی پرچموں کے ساتھ شرکت کی ریلی کے شرکائ نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے ریلی کے شرکائ نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے اس کی حفاظت خون پسینہ ایک کرکے کریں گے اور ہم سب مل کر ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کریں ہمیں اپنے فوج اور دیگر سیکورٹی کے ساتھ ملکر شانہ بشانہ کھڑے ہیں،ملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے پاک افواج اور سویلن شہدائ کی قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انکی لازوال قربانیاں ہم سب کے لیے باعث فخر ہیں کے لئے ور ہم سب نے ملکر پاک افواج اور حکومت کے ہاتھ مزید مضبوط کرنے ہے ۔
خبرنامہ نمبر 1930/2026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت ٹیلی ہیلتھ کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے دور دراز علاقوں میں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پی پی ایچ آئی ودیگر نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کےلئے اقدامات کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں حکومت نے مالی سال کے بجٹ میں کافی رقم مختص کیا ہے اور حکومت دور افتادہ علاقوں کے لیے ٹیلی ہیلتھ کی سہولت دے رہی ہے، جس سے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی مہم نے نئی رفتار اختیار کرلی ہے۔ ٹیلی ہیلتھ یا ٹیلی میڈیسن پروگرامز کے ذریعے صوبے بھر میں ہزاروں مریض گھر بیٹھے ماہر ڈاکٹروں سے مشورہ حاصل کررہے ہیں، جو صحت کے شعبے میں انقلاب کی علامت ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری صحت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں ٹیلی میڈیسن کا آغاز بلوچستان میں 2020 میں پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے ہوا جب چار اضلاع میں پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا۔ پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹو (PPHI) نے COMSATS کے ساتھ مل کر گوادر، کوئٹہ، واشک، مستونگ، جعفر آباد اور دکی میں ٹیلی ہیلتھ کلینک قائم کیے، جو مرحلہ وار طور پر تمام اضلاع تک پھیلائے گئے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلی ہیلتھ سہولیات سے دور دراز علاقوں کی خواتین خاص طور پر مستفید ہو رہی ہیں، کیونکہ یہ انہیں گھر بیٹھے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دیتی ہیں۔ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبوں میں ٹیلی ہیلتھ کلینکس نے گائناکالوجی، پیڈیاٹرکس اور ڈرماٹالوجی جیسی خدمات کو آسان بنایا ہے۔
خبرنامہ نمبر 1931/2026
نصیرآباد04مارچ: وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت ضلع نصیرآباد میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ کی 14 کروڑ 50 لاکھ روپے کی خطیر لاگت سے 19 ترقیاتی اسکیمات کے اوپن ٹینڈرز پی ایچ ای آفس میں منعقد کیے گئے۔ ٹینڈرز کا عمل ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی سربراہی میں مکمل کیا گیا جبکہ ایگزیکٹو انجینیئر پی ایچ ای ظفر اقبال زہری نے گورنمنٹ کنٹریکٹرز کی موجودگی میں باقاعدہ طور پر ٹینڈر دستاویزات اوپن کیے۔ اس موقع پر بابو مزمل حسین کورار بھی موجود تھے جبکہ اوپن ٹینڈر کے عمل میں 15 مختلف کنٹریکٹرز نے متعدد اسکیمات میں حصہ لیا۔ ان اسکیمات کا مقصد ضلع کے مختلف علاقوں میں فراہمی آب اور بنیادی سہولیات کے نظام کو بہتر بنانا ہے تاکہ عوام کو صاف پانی اور متعلقہ سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ٹینڈرز کا عمل مکمل شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیا گیا جسے شرکائ نے سراہا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ذوالفقار علی کرار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹینڈر میں حصہ لینے والے تمام ٹھیکیداروں پر لازم ہوگا کہ وہ طے شدہ معیار اور نقشہ جات کے مطابق تعمیراتی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ تعمیراتی کام کی کڑی نگرانی کرے گا تاکہ منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوں اور عوام کو ان کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔ حکام کے مطابق قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد متعلقہ اسکیمات پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا جس سے ضلع میں ترقیاتی عمل کو مزید تقویت ملے گی۔
خبرنامہ نمبر 1932/2026
تربت ۔ کمشنر مکران قادر بخش کی زیر صدارت ذکری کمیونٹی کے زائرین کو کوہِ مراد زیارت شریف کے دوران بہتر سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس کمشنر مکران آفس تربت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں زیارت کے موقع پر زائرین کی بڑی تعداد کی آمد کے پیش نظر انتظامی، طبی، سیکیورٹی اور بلدیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تمام متعلقہ محکموں کو پیشگی اور مؤثر اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ، ڈی پی او کیچ ظہیب محسن، ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل محمد جان دشتی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر اور لائن سپریٹینڈٹ واپڈہ حلیم بلوچ، زیارت کمیٹی کے ارکان اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اس دوران ڈی آئی جی پولیس مکران ،ڈپٹی کمشنر گوادر ، ڈی پی او گوادر ، ڈپٹی کمشنر پنجگور ، ڈی پی او پنجگور ، ڈپٹی کمشنر آواران اور ڈی پی او آواران نے بھی بزریعہ آن لائن اجلاس میں شرکت کی . اس موقع پر کوہِ مراد زیارت شریف میں صاف پانی کی فراہمی، عارضی میڈیکل کیمپس کے قیام، ایمبولینس سروس کی دستیابی، صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات، ٹریفک مینجمنٹ پلان اور سیکیورٹی امور پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ آخری عشرے میں زائرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جس کے پیش نظر اضافی عملہ اور وسائل تعینات کیے جائیں گے۔کمشنر مکران نے ہدایت کی کہ زائرین کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی سے پرہیز کیا جائے گی اور تمام ادارے باہمی رابطے اور ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح زائرین کو پرامن، محفوظ اور سہولت بخش ماحول فراہم کرنا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دے کر داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی مؤثر بنائی جائے گی، جبکہ پانی اور طبی سہولیات کی مسلسل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے زیارت کے انتظامات کو مثالی بنائے گی تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ مذہبی فرائض پرسکون ماحول میں ادا کر سکیں۔واضح رہے ہر سال ذکری کمیونٹی کے زائرین کراچی اور جنوبی بلوچستان کے مختلف اضلاع سے سفر کرتے ہوئے تربت شہر میں زیارت کے لیے پہنچتے ہیں جنہیں ضلعی انتظامیہ ، پولیس ، قانون نافذ کرنیوالے والے ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے سیکیورٹی ، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات فراہم کرتے ہیں تاکہ ان زائرین کو اپنے مذہبی رسومات کی ادائیگی میں کس بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
خبرنامہ نمبر 1933/2026
خضدار4 مارچ :قائد حزب اختلاف رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری نے ٹیچنگ ہسپتال خضدار کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر نسیم لانگو بھی موجود تھے۔دورے کے دوران وفد نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات بشمول ایمرجنسی وارڈ، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی)، میڈیکل اور سرجیکل وارڈز، لیبارٹری اور دیگر طبی یونٹس کا معائنہ کیا۔ مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، ادویات کی دستیابی، طبی آلات کی کارکردگی اور صفائی و ستھرائی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال خضدار ڈاکٹر سرمد سعید نے وفد کو جاری ترقیاتی منصوبوں، نئے بلاکس کی تعمیر، طبی آلات کی فراہمی اور عملے کی دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں جبکہ بعض ترقیاتی منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔رکن صوبائی اسمبلی میر یونس عزیز زہری نے اس بات پر زور دیا کہ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات ہماری اولین ترجیح ہےگوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیمی اصلاحات اور معیاری تعلیم کے ویژن کے تحت ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) زراتون بلوچ نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول زربار اور گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول پاک چائنا گوادر کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے تدریسی و تعلیمی ماحول، کلاس روم سرگرمیوں اور مجموعی انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طالبات سے ملاقات کی اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری تعلیم کے حصول، نظم و ضبط اور مسلسل محنت کی اہمیت پر زور دیا۔اس موقع پر اساتذہ کے ساتھ ایک اہم اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں ریکارڈ کی درست تکمیل، امتحانی نتائج، ٹائم ٹیبل کی ترتیب، نصاب کی بروقت تکمیل، داخلہ مہم اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈے کے مطابق اسکولوں میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ طالبات کو بہترین تعلیمی سہولیات میسر آسکیں۔اساتذہ نے اجلاس میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مثبت تجاویز پیش کیں۔ آخر میں زراتون بلوچ نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تعلیمی معیار، حاضری اور نتائج کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں تاکہ ضلع گوادر میں معیاری تعلیم کے فروغ کا خواب شرمند تعبیر ہو سکے۔
خبرنامہ نمبر 1934/2026
علامہ طاہر اشرفی کی قیادت میں قومی پیغام امن کمیٹی کے وفد آج بروز بدھ سنٹرل پولیس آفس میں شہدائ پولیس بلوچستان کے خاندانوں سے ملاقات کی۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی بولس آغا محمد ہوسف اور اے آئی جی ویلفیئر فریال فرید بھی موجود تھے۔قومی پیغام امن کمیٹی کے وف نے کہا کہ شہدائ پولیس نے صوبے میں قیام امن اور ملکی استحکام اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے ہوئے بڑی تباہی سے بچایا ہے۔انہوں نے کہا ہم قوم کے عظیم سپوتوں سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی عوام کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کے قربانیوں کو کبھی بھی نہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے، وفد نے کہا کہ شہدائ بلوچستان پولیس کے خراج عقیدت کرنے کے لیے وہ بلوچستان آ کر ذاتی طور پر ان عظیم مانوں کو سلام پیش کرنے ہیں جنہوں ایسے بہادر سپوت پیدا کئے ہیں ۔جنہوں ملک دشمن عناصر کے خلاف عوام کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں قربان کر کے لازوال مثالیں پیش کی۔انہوں نے کہا کہ شہدائ پولیس کے خاندانوں کی کفالت حکومت بلوچستان اور محکمہ پولیس بہتر طور پر کر رہی ہے البتہ وفد اپنے محسنوں سلام پیش کرتے شہدائ کے خاندانوں کے بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں کے لئے مہناج القرآن کے جامعات واقع لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں تعلیمی سہولیات مہیا کرنے کے علاوہ ہرممکن مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔آسی موقع پر شہدا کے ورثا نے وفد بلوچستان آکر ان سے دلجوئی کرنے سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ان نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ پولیس کی سے ہر سطح تعون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شہدائ کے لواحقین اور ورثائ کہلانے پر فخر ہے اور انہیں اس بات کا ادراک نہ حکومت ،محکمہ بلکہ پوری ان کےساتھ ہیں اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک اور قوم کے لئے مستقبل میں بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
Handout No 1935/2026
Quetta
4th March 2026
A delegation of the National Peace Message Committee led by Allama Tahir Ashrafi met the families of the martyred police officers of Balochistan at the Central Police Office on Wednesday. Additional IG Police Agha Muhammad Housaf and AIG Welfare Faryal Farid were also present on the occasion. The delegation of the National Peace Message Committee said that the martyred police have sacrificed their lives for the establishment of peace and stability in the province and saved the country from a great disaster by thwarting the evil intentions of terrorists. They said that we salute the great sons of the nation and the sacrifices of their lives for the protection of the people can never be forgotten. The delegation said that to pay tribute to the martyred Balochistan police, they have to come to Balochistan and personally salute these great men who have produced such brave sons. Who have set immortal examples by sacrificing their lives for the protection of the people against the elements hostile to the country. They said that the Balochistan government and the police department are taking good care of the families of the martyred police, however, the delegation would like to salute their benefactors. They are ready to provide all possible help to the children of the families of the martyrs for their educational activities in the universities of the Islamic University of Lahore, Islamabad and Karachi. On this occasion, the heirs of the martyrs came to them from Balochistan and consoled them, which further boosted their morale. They said that they were satisfied with the assistance provided at all levels by the Balochistan government and the police department, and said that they are proud to be called the heirs and relatives of the martyrs and they realize that not only the government, the department but also the entire community is with them and reiterated their resolve that they will not hesitate to make any sacrifice for the country and the nation in the future.
خبرنامہ نمبر 1936/2026
کویٹہ 4 مارچ : صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل جمالی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت اور FAO کے تعاون سے صوبے میں لائیو اسٹاک کے شعبے کی بہتری کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں ایف اے او کے زیر اہتمام لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے فیلڈ اسٹاف میں فل کِٹ موٹر سائیکلوں کی فراہمی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری لائیو سٹاک طیب لیڑی ڈی جی صاحبان اور ایف اے او کے نمائندوں نے شرکت کی صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا وژن ہے کہ صوبے کے اہم ترین شعبے لائیو اسٹاک کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ دیہی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک وسیع رقبے پر مشتمل صوبہ ہے جہاں مال مویشی پالنا لاکھوں افراد کا ذریعہ معاش ہے، اس لیے اس شعبے کی ترقی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ اسٹاف کو موٹر سائیکلوں اور مکمل کٹس کی فراہمی سے ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی اور وہ دور دراز علاقوں تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام سے جانوروں کی ویکسینیشن، علاج معالجہ اور بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے گی، جس سے مال مویشیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ ایف اے او کی جانب سے لائیو اسٹاک سیکٹر کی بہتری کے لیے تکنیکی معاونت، تربیتی پروگرامز اور جدید سہولیات کی فراہمی بھی جاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مویشی پال حضرات کو جدید طریقہ کار سے روشناس کرانا اور انہیں معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں لائیو اسٹاک کے شعبے میں جدید لیبارٹریز کے قیام، ویکسینیشن مہمات میں توسیع، بریڈ امپروومنٹ پروگرامز، اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے جیسے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صوبہ بلوچستان میں اس شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دی جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان اور ایف اے او کے باہمی تعاون سے لائیو اسٹاک کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا اور دیہی آبادی کی خوشحالی کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ تقریب کے ملٹی پرپز ہال کا افتتاح اہلکاروں میں موٹر سائیکلوں کی تقسیم آور آفیسران میں شیلڈز تقسیم کی گئی۔






