خبرنامہ نمبر 663/2026
کوئٹہ، 31 جنوری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست پوری قوت اور عزم کے ساتھ مصروفِ عمل ہے اور دشمن کے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے انہوں نے یہ بات کوئٹہ میں ہفتہ کی صبح ہونے والے بم دھماکے کے مقام کے دورے کے موقع پر سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دھماکے کے مقام پر سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی کے افسران و جوانوں سے ملاقات کی اور ان کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت ردعمل کو سراہا اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے وزیر اعلیٰ کو واقعے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جس میں سیکیورٹی انتظامات، جاری کارروائیوں اور مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا گیا وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مؤثر ردعمل کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی کے باعث بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا ہے، جبکہ صرف گزشتہ دو روز میں 70 کے قریب دہشت گرد ہلاک کیے گئے انہوں نے بتایا کہ آج علی الصبح فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں نے اپنے گرتے ہوئے مورال کو سہارا دینے کے لیے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی تاہم بلوچستان پولیس اور فرنٹیئر کور کے جانباز جوانوں نے باہمی تعاون سے ان تمام حملوں کو ناکام بنایا اور اب تک 37 مزید دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ یہ بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا بلوچستان میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی کے افسران و جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو اپنے بہادر محافظوں پر فخر ہے جو اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر صوبے اور ملک کے امن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر 664/2026
کوئٹہ، 31 جنوری: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بلوچستان کے مختلف مقامات پر دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن و آشتی کا گہوارہ رہا ہے اور ہم کسی صورت اپنی پُرامن صورتحال کو سبوتاژ نہیں پونے دینگے ۔آج مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے تمام حملوں کو ناکام بنانے پر ہم اپنی سیکورٹی فورسز کے بہادر جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ملک اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائیگا۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے عوام پر زور دیا کہ حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہر قسم کی دہشت گردی اور تخریب کاری کا خاتمہ ممکن ہے۔
خبرنامہ نمبر 665/2026
کوئٹہ ، 31 جنوری :مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے کی جانے والی بزدلانہ کارروائیوں کو بروقت اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کے نیٹ ورک کی کمر توڑ دی ہے، جس کے باعث دشمن شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی مسلسل اور کامیاب کارروائیوں کے بعد بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد دباؤ میں آ کر بزدلانہ حملوں کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں تاہم ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی اور عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں صوبائی وزیر خوراک نے دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 10 پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے وطن کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، جس پر پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے انہوں نے شہید اہلکاروں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دکھ کی اس گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی ہر ممکن معاونت کو یقینی بنایا جائے گا حاجی نورمحمد خان دمڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی بھرپور حمایت جاری رکھی جائے گی اور دہشت گرد عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 666/2026
نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت 6 فروری کو ہونے والے مڈل کے سالانہ امتحانات کے انتظامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر، اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ، ڈی ایس پی شمن علی سولنگی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مڈل کے امتحانی عمل کے دوران سکیورٹی انتظامات، امتحانی مراکز کی نگرانی، امن و امان اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے واضح کیا کہ ضلع نصیرآباد میں مڈل کے سالانہ امتحانات ہر صورت مقررہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے، اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے امیدواروں کو ہدایت کی کہ وہ وقت کی پابندی کرتے ہوئے اپنے امتحانی مراکز پر پہنچیں کیونکہ امتحانی عمل میں کسی قسم کی رعایت یا ری شیڈولنگ نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ امتحانات میں خلل ڈالنے والوں اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ 27 امتحانی مراکز پر پولیس کے جوان تعینات کیے جائیں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی عمل میں غیر حاضر رہنے والے امیدوار اپنے قیمتی تعلیمی سال کو ضائع کریں گے کیونکہ کسی بھی صورت امتحانات دوبارہ منعقد نہیں ہوں گے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہو، اس لیے تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
خبرنامہ نمبر 667/2026
بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے ہفتے کے روز کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ریاست مخالف عناصر اس طرح کی ۔کارروائیوں کے ذریعے صوبے کے امن و امان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، جس کی انہیں کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کی تعمیر و ترقی، عوام کی خوشحالی اور امن و امان کی بہتری کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، اور انہی ٹھوس اقدامات کے باعث صوبہ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔
میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنے بیرونی آقاؤں کی ایماء پر ترقی و خوشحالی کے ان منصوبوں کو بدامنی کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں، تاہم انہیں کہیں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے ان تمام حملوں کو ناکام بنایا، جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد عناصر پر واضح ہو جانا چاہیے کہ اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے ہم کبھی خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ ہم نے اس ملک اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے جو حلف اٹھایا ہے، اسے عوام اور ریاستی اداروں کے تعاون سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 668/2026
کوئٹہ، 31 جنوری:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف ریاست اور عوام کا عزم غیر متزلزل ہے اور ہمارے بہادر شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز کوئٹہ میں شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت اور پولیس لائن میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور شہداء کے لواحقین سے ملاقات کے دوران کہی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہمارے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کا جرات اور عزم کے ساتھ مقابلہ کیا، اور ریاست ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے انہوں نے کہا کہ شہداء رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھیں گے اور بلوچستان کے عوام ان کے خون کے مقروض ہیں وزیر اعلیٰ نے شہداء کے لواحقین سے وعدہ کیا کہ خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لیا جائے گا اور ورثاء حوصلہ اور صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز اور عوام کی بہادری کو سراہا اور کہا کہ ہمارے جوانوں نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کی انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو ناقابلِ فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کو سلام پیش کرتی ہے وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے ریاستی ادارے اور سیکیورٹی فورسز ہر لمحہ چوکس اور سرگرم ہیں اور دہشت گرد عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 669/2026
صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ اور سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی بلوچستان وحید شریف عمرانی کی خصوصی ہدایت پر پی ٹی اے کی ٹیم نے جیل روڈ بس اڈے پر مختلف کوچ کمپنیوں کی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس اور مجموعی کنڈیشن کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی ایک بس کو فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونے اور گاڑی کی کنڈیشن بہتر نہ ہونے پر نوٹس جاری کیا گیا، جبکہ دیگر کوچ کمپنیوں کو وارننگز جاری کی گئیں۔کارروائی کے دوران کوچ مالکان کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی تمام گاڑیوں کی فٹنس کو بہتر بناتے ہوئے فٹنس سرٹیفکیٹس حاصل کریں۔ بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑیوں کے دیگر صوبوں میں داخلے پر پابندی عائد ہے، جبکہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر یا ناقص فٹنس رکھنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور انہیں نوٹسز بھی جاری کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مسافروں کے تحفظ اور حادثات کی روک تھام کے لیے تمام مسافر گاڑیوں کو فٹنس کے مقررہ معیار پر پورا اترنا انتہائی ضروری ہے، لہٰذا کوچ مالکان جلد از جلد اپنی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس بنوائیں، بصورت دیگر کارروائی کے دوران فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی صورت میں گاڑیاں بند بھی کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں ٹرانسپورٹ کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے اور محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، اس سلسلے میں ٹرانسپورٹرز بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور گاڑیوں کی حالت بہتر بناتے ہوئے فٹنس سرٹیفکیٹ ضرور حاصل کریں۔
خبرنامہ نمبر 670/2026
کوئٹہ: 31 جنوری :صوبائی وزیر اور سینئر سیاسی رہنما سردار عبدالرحمن کھیتران نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کو ناکام بنانے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بیک وقت مختلف شہروں کو نشانہ بنانے کا مقصد صوبے میں بدامنی پیدا کرنا، عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنا تھا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے غیر معمولی جرات، اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بے مثال قربانی کے جذبے کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ بلوچستان کے امن سے کھیلنے والوں کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی مؤثر حکمتِ عملی اور بھرپور کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث دشمن عناصر شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔صوبائی وزیر نے دہشت گردی کے ان افسوسناک واقعات میں 10 پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کی عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور شہداء کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی ہر کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت، پولیس اور سکیورٹی ادارے باہمی تعاون سے بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر 671/2026
خضدار 31 جنوری:ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر نسیم لانگو نے موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔ جاری کردہ احکامات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (DHQ) ہسپتال خضدار، ٹراما سینٹر خضدار، تمام سول ڈسپنسریز (CDs)، رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) اور بیسک ہیلتھ یونٹس (BHUs) میں تعینات تمام عملہ، بشمول ڈاکٹرز، فارماسسٹ اور پیرا میڈیکل اسٹاف، کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تینوں شفٹوں میں اپنی حاضری ہر صورت یقینی بنائیں۔ڈی ایچ او خضدار نے واضح کیا ہے کہ فرائض کی انجام دہی میں کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا غیر حاضری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ عوام کو بروقت اور مؤثر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے DHQ ہسپتال اور ٹراما سینٹر خضدار میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ڈاکٹر نسیم لانگو نے تمام صحت مراکز کے انچارجز کو ہدایت کی ہے کہ عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو ہر وقت فعال رکھا جائے۔ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قواعد و ضوابط کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 672/2026
قلات: ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے احکامات پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قلات میں ایمرجنسی نافز کردی گئی ہے اور موجودہ حالات کے پیش نظر ہسپتال کے تمام ملازمین کنسلٹنٹس،ڈاکٹرز، فارماسسٹ، اسٹاف نرسسز، پیرا میڈیکل اسٹاف کوالرٹ کردیا گیا ہے
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نصراللہ لانگو کاکہنا ہےکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال (ایمرجنسی) میں تمام متعلقہ اسٹاف کی ہسپتال میں موجودگی لازمی قراردی گئ ہے اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا غیر حاضری ناقابلِ قبول ہوگی طبی عملے کوہدایات جاری کردی گئ ہیں کہ وہ ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
خبرنامہ نمبر 673/2026
موسیٰ خیل 30 جنوری:
ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے آج ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC) میں بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں 02 فروری سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) موسیٰ خیل، اے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی (PPHI)، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے ااس موقع شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور اس موذی مرض سے اپنی نسلوں کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران کسی بھی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے ادا کریں انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ ضلع کا کوئی بھی بچہ عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رہ سکے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید تاکید کی کہ دور افتادہ علاقوں اور خانہ بدوش خاندانوں کے بچوں تک رسائی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع موسیٰ خیل کو پولیو فری بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ مہم کی کامیابی کے لیے فیلڈ میں موجود ٹیموں کو مکمل سیکیورٹی اور انتظامی تعاون فراہم کرے گی۔
خبرنامہ نمبر 674/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نےبلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بلوچستان ہمیشہ امن، سلامتی اور بھائی چارے کا گہوارہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تشدد کے ذریعے عوام کو یرغمال بنانا اور خوف پھیلانا صرف تباہی کا سبب بنتا ہے، اور پہلے ہی مشکلات کا سامنا کرنے والے صوبے کو مزید تباہی کا متحمل نہیں ہونا چاہیے۔وزیر خزانہ نے اس دہشت گردانہ حملے میں اپنی جانیں قربان کرنے والے بہادر سیکورٹی فورسز کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور ان کی قربانی ہمیشہ ہمیں حوصلہ دیتی رہے گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ حکومت اور شہریوں کی مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی اور تخریب کاری کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ کل کے افسوسناک واقعے میں چیئرمین ملازئی قومی اتحاد، شاہد گل ملازئی بھی شہید ہو گئے تھے۔ وزیر خزانہ نے ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے شہداء کی بہادری اور قربانی بلوچستان میں امن کے قیام کی روشن مثال ہے اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وحدت اور حوصلہ ہی ہمارے سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔
خبرنامہ نمبر 675/2026
ضلع موسیٰ خیل: موجودہ دہشت گردی کی صورتحال کے پیشِ نظر امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس ایس پی موسیٰ خیل کلیم اللہ کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی کلیم اللہ کاکڑ نے تمام متعلقہ تھانوں کے انچارجز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ امن و امان کی بہتری کے لیے اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر رہیں اور اپنی ذمہ داریاں پوری مستعدی اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں آنے جانے والی تمام گاڑیوں کی سخت سنیپ چیکنگ کی جائے، جبکہ باہر سے آنے والے ہر فرد کے شناختی کارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کو یقینی بنایا جائے۔ایس پی موسیٰ خیل نے مزید ہدایت کی کہ بازاروں، شاہراہوں اور حساس مقامات پر گشت میں اضافہ کیا جائے، مساجد اور دیگر عوامی مقامات کی مؤثر نگرانی کی جائے، اور کسی بھی مشتبہ شخص کو فوری طور پر حراست میں لے کر مکمل تفتیش کی جائے۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری و نجی املاک کی خصوصی نگرانی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 676/2026
کوئٹہ، 31 جنوری :رکن بلوچستان اسمبلی روی کمار پہوجا نے کوئٹہ میں پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بزدلانہ کارروائی انسانیت اور امن کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ہمارے بہادر سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پوری قوم کے لیے باعثِ رنج و الم ہے اپنے جاری بیان میں ایم پی اے روی کمار پہوجا نے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ قوم شہداء کی عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور دکھ کی اس گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے انہوں نے پولیس، فرنٹیئر کور اور پاک فوج کی جرات مندانہ اور بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے بزدلانہ حملے قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے رکن بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف متحد اور پُرعزم ہیں، اور امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گرد عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔







