خبرنامہ نمبر1831/2026
کوئٹہ2 مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل کوئٹہ میں ایران کے قونصلیٹ جنرل گئے جہاں انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے رفقائ کیلئے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے ایرانی قوم کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی حالیہ صورتحال اور علاقائی کشیدگی کو پاکستان سمیت پوری امت مسلمہ کیلئے تشویشناک قرار دیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے دو برادر ہمسایہ ممالک پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط تاریخی اور اسلامی تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مرحوم آیت اللہ خامنہ ای کی مغفرت کیلئے دعا کی اور ایرانی حکومت اور عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر1832/2026
کوئٹہ، 2 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے محکمہ محنت و افرادی قوت سردار بابا غلام رسول عمرانی نے بلوچ کلچر ڈے کے پرمسرت موقع پر تمام اہلِ بلوچستان اور بلوچ قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ ثقافت ہماری قومی پہچان، غیرت اور صدیوں پر محیط درخشاں تاریخ کا وہ امین سرمایہ ہے جس پر ہم جتنا فخر کریں کم ہے۔ انہوں نے اپنے خصوصی بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ دن ہمیں اپنی منفرد تہذیبی اقدار، دیدہ زیب روایتی لباس، مٹھاس بھری زبان، دلکش موسیقی اور بے مثال مہمان نوازی جیسی اعلیٰ انسانی روایات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے، جو ہماری معاشرتی زندگی کا حسن ہیں۔ سردار بابا غلام رسول عمرانی نےکہا کہ بلوچ قوم نے ہر دور میں امن پسندی، بے خوف بہادری اور لازوال وفاداری کی روشن مثالیں قائم کی ہیں جو ہماری تاریخ کا طرہ امتیاز ہیں۔ انہوں نے مذید کہا کہ اپنے اس عظیم اور قدیم ثقافتی ورثے کی حفاظت اور اسے دنیا بھر میں متعارف کروانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔ موجودہ وقت کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو ان کی جڑوں اور شاندار روایات سے جوڑیں تاکہ ہماری یہ منفرد اور خوبصورت ثقافت آنے والی نسلوں تک نہ صرف محفوظ طریقے سے منتقل ہو سکے بلکہ اس کا تسلسل بھی برقرار رہے۔صوبائی مشیر نے اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ ثقافتی ہم آہنگی دراصل قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور بلوچستان کی حقیقی خوبصورتی اس کے رنگا رنگ ثقافتی تنوع اور مختلف اکائیوں کے حسین امتزاج میں پوشیدہ ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی نے صوبائی مشیر برائے محکمہ کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ کے والد محترم کے انتقال پر دلی تعزیت وافسوس کا اظہار کیا ۔ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے ۔
خبرنامہ نمبر1833/2026
صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچ ثقافت ہماری پہچان، غیرت، روایات اور تاریخ کا امین سرمایہ ہے۔ بلوچ کلچر ڈے ہمیں اپنی تہذیبی اقدار، روایتی لباس، زبان، موسیقی اور مہمان نوازی جیسی اعلیٰ روایات کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم نے ہمیشہ امن، بہادری اور وفاداری کی مثالیں قائم کی ہیں۔ آج کے دن ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اپنی ثقافتی ورثے کی حفاظت اور فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔ نوجوان نسل کو اپنی روایات سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہماری ثقافت آنے والی نسلوں تک محفوظ منتقل ہو سکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ثقافتی ہم آہنگی قومی یکجہتی کو مضبوط بناتی ہے اور بلوچستان کی خوبصورتی اس کے رنگا رنگ ثقافتی تنوع میں پوشیدہ ہے۔ حکومت بلوچستان ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ، فنکاروں کی سرپرستی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر تمام اہلِ بلوچستان کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ہم سب مل کر اپنی تہذیب، زبان اور روایات کو زندہ و تابندہ رکھیں گے۔
خبرنامہ نمبر1834/2026
پشین ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نجم خان کبزئی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ میں تعلیمی سال 2026 کے لیے داخلہ مہم کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس کا مقصد اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی لانا اور شرح خواندگی میں اضافہ کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیض اللہ کاکڑ کے ہمراہ داخلہ مہم کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ داخلہ مہم کا بنیادی مقصد ضلع پشین میں اسکولوں سے باہر ہر بچے کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیض اللہ کاکڑ کے مطابق مہم کے ذریعے 24 ہزار سے زائد بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نجم خان کبزئی نے کہا کہ داخلہ مہم کے ساتھ ساتھ شجرکاری کی مہم بھی چلائی جائے گی تاکہ طلبہ میں ماحولیاتی آگاہی پیدا کی جا سکے۔ ڈسٹرکٹ بھر میں داخلہ مہم زور و شور سے جاری ہے ، نئے تعلیمی سال کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے والے طلبہ کو مفت درسی کتب کی فراہمی شروع کر دی جائے گی۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے قریبی سرکاری یا نجی تعلیمی اداروں میں ان کا داخلہ یقینی بنائیں تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
خبرنامہ نمبر1835/2026
کوئٹہ، 02 مارچ۔ وزیراعلی بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت شہر میں گوشت کی قیمت کے حوالے سے مٹن اور بیف ایسوسی ایشن کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللّٰہ بادینی، ڈائریکٹر انڈسٹریز محمد اقبال، اسسٹنٹ کمشنر (پولیٹیکل) کوئٹہ کلیم اللّٰہ، اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) کوئٹہ بہادر خان، صدر مٹن اینڈ بیف ایسوسی ایشن سرمد صدیق، نائب صدر نصیب اللّٰہ بریچ، محکمہ لائیو اسٹاک، میونسپل کارپوریشن اور قصاب یونین کے دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔قصاب یونین کے نمائندوں نے کمشنر کو آگاہ کیا کہ بلوچستان سے مٹن کی بڑی مقدار پنجاب سمیت دیگر صوبوں کو بھی جاتی ہے جبکہ گزشتہ تین سال سے افغانستان سے زندہ جانوروں کی درآمد بند ہے جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں سپلائی اور ڈیمانڈ کا توازن متاثر ہوا ہے اور گوشت مہنگا ہونے کے باعث مقررہ نرخوں پر فروخت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے واضح کیا کہ رمضان المبارک میں ڈیمانڈ بڑھنے اور سپلائی کم ہونے کی صورتحال کے باوجود قیمتوں کو غیر ضروری طور پر بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گوشت کی مقررہ نرخ سے زائد پر فروخت کسی صورت قبول نہیں جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے گرفتار کیے گئے قصابوں کو فوری رہا کیا جا رہا ہے تاہم آئندہ زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ قصاب یونین پر زور دیا گیا کہ وہ مقررہ نرخ پر گوشت کی فروخت کو یقینی بنائیں۔کمشنر نے مزید کہا کہ قصاب یونین کے دیگر جائز مسائل کے حل کے لیے عیدالفطر کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ لائیو اسٹاک، میونسپل کارپوریشن اور یونین کے نمائندے شامل ہوں گے یہ کمیٹی مارکیٹ ڈیٹا کا جائزہ لے کر کم از کم چھ ماہ کے وقفے سے پرائس اسسمنٹ کرے گی تاکہ مستقبل میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1836/2026
نصیرآباد۔۔ضلع نصیرآباد ضلع میں ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے حوالے سے ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ظفر زہری، ایگزیکٹو انجینیئر لوکل گورنمنٹ ملک عرفان کاکڑ، سب ڈویژنل آفیسر عابد علی پہنور ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بی ایس ڈی آئی فیز ون کے مکمل اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف اسکیموں کی رفتار، معیار اور مالی امور پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار نے ہدایت دی کہ حکومت بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ترقیاتی عمل تیزی سے جاری ہیں جوکہ عوامی مفاد میں ہیں تمام منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے اور ورک کی بنیاد پر ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے جبکہ کام کی نوعیت اور تکنیکی معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی سرکاری کنٹریکٹرز کو بلوں کی ادائیگی کی جائے گی اور کسی قسم کی غفلت یا ناقص میٹریل ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبے شفافیت اور معیار کے مطابق بروقت مکمل ہوں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1837/2026
کوئٹہ:02مارچ: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈکے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑاور چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری نے ریلیشن شپ منیجر کے الیکٹرک محمد فصیح الرحمان کے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں ضلع لسبیلہ کے علاقے ڈامب میں جاری جھینگا فارمنگ منصوبے کے لیے توانائی کے وسائل کی فراہمی اور ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شرکائ نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے مستحکم، پائیدار اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیا۔وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ جھینگا فارمنگ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے اہم ثابت ہو سکتاہے، اس منصوبے کوبجلی و دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی میں آبی زراعت (Aquaculture) کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں اور حکومت صوبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جھینگا فارمنگ منصوبہ نہ صرف برآمدات میں اضافے کا سبب بنے گا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔سی ای او قائم لاشاری نے اجلاس کے دوران منصوبے کیلئے توانائی کی ضروریات اور کے الیکٹرک کے ساتھ ممکنہ منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے ساتھ اشتراک سے بلوچستان میں معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون کے ذریعے اس اہم منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے، تاکہ بلوچستان کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور ساحلی علاقوں کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1838/2026
نصیرآباد۔۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق اور صوبہ بھر میں جہالت کے خاتمے ہر بچہ اسکول میں کے تحت ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن (ر) ذوالفقار احمد کرار کی زیر صدارت سکول داخلہ مہم 2026ئ کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دی جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نصیرآباد حفیظ اللہ کھوسہ اعجاز علی ساسولی مقبول عمرانی پی ایس ٹی ڈپٹی کمشنر منظور احمد شیرازی سمیت دیگر ڈی ڈی ای اوز یونیسیف کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام بھی شریک تھے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو داخلہ مہم کی حکمت عملی، اہداف اور شیڈول کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے بتایا کہ سال 2026ئ کے لیے ضلع بھر میں مجموعی طور پر 11 ہزار 283 طلبہ و طالبات کو سکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جن میں 7 ہزار 843 لڑکے اور 3 ہزار 440 لڑکیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داخلہ مہم کا باقاعدہ آغاز 26 فروری سے ہوگا جبکہ داخلوں کا سلسلہ 15 اپریل تک جاری رہے گا اور اس دوران خصوصی اقدامات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں لایا جائے گا۔ ضلع میں کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، تحصیل اور سکول سطح پر خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں اور مؤثر مانیٹرنگ نظام کے تحت اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر سے سکول تک اور ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب کے نعرے کو عملی شکل دی جائے گی جبکہ 2 مارچ سے 15 اپریل تک کمیونٹی آگاہی مہم، آؤٹ آف سکول بچوں کی نشاندہی، والدین سے رابطہ، نئے داخل ہونے والے طلبہ کو یونیفارم، کتب اور بیگز کی فراہمی اور حاضری و نظم و ضبط کی نگرانی جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ آخر میں میڈیا، علمائ کرام، اساتذہ، والدین اور کمیونٹی نمائندگان سے اپیل کی گئی کہ وہ داخلہ مہم کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کریں تاکہ ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکے۔
خبرنامہ نمبر1839/2026
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کا تحصیل درگ میں قائم مختلف مراکز صحت کا اچانک دورہ جن میں بی ایچ یو سردار اقبال لنڈورہ آر ایچ سی درگ اور سی ڈی کیارہ شامل ہیں اس اچانک دورے کا بنیادی مقصد عملے کی حاضری کو یقینی بنانا، طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لینا اور ادویات کی دستیابی کو چیک کرنا تھا۔ ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے اسٹاف کا حاضری رجسٹر باقاعدہ چیک کیا اور غیر حاضری کی صورت میں سخت ہدایات جاری کیں کہ آئندہ ایسی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی دورے کے دوران مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، صفائی کی صورتحال، ویکسینیشن سروسز، لیبر روم اور ایمرجنسی سہولیات کا بھی معائنہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں ادویات کے اسٹاک رجسٹر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور میعاد ختم ہونے والی ادویات کی جانچ بھی کی گئی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے متعلقہ عملے کو ہدایت جاری کی کہ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں ادویات کی کمی ہرگز نہ ہونے دی جائے تمام ریکارڈ مکمل اور اپڈیٹ رکھا جائے۔مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیاجائے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع بھر کے تمام مراکز صحت کے اچانک دورے جاری رہیں گے تاکہ صحت کے نظام کو مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکے، اور عوام کو بہترین طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔
خبرنامہ نمبر1840/2026
نصیرآباد۔۔ضلع نصیرآباد ضلع میں ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے حوالے سے ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ظفر زہری، ایگزیکٹو انجینیئر لوکل گورنمنٹ ملک عرفان کاکڑ، سب ڈویژنل آفیسر عابد علی پہنور ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بی ایس ڈی آئی فیز ون کے مکمل اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف اسکیموں کی رفتار، معیار اور مالی امور پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار نے ہدایت دی کہ حکومت بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ترقیاتی عمل تیزی سے جاری ہیں جوکہ عوامی مفاد میں ہیں تمام منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے اور ورک کی بنیاد پر ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے جبکہ کام کی نوعیت اور تکنیکی معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی سرکاری کنٹریکٹرز کو بلوں کی ادائیگی کی جائے گی اور کسی قسم کی غفلت یا ناقص میٹریل ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبے شفافیت اور معیار کے مطابق بروقت مکمل ہوں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1841/2026
لورالائی (2 مارچ 2026) ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے BSDI پروگرام کے تحت آج باقاعدہ طور پر شروع ہونے والے کام کا جائزہ لیتے ہوئے زیرِ تعمیر ڈبل سٹوری ڈیجیٹل لائبریری اور ویمن جمنازیم منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع کی خواتین اور طلبہ و طالبات کو جدید تعلیمی اور جسمانی سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ڈبل سٹوری ڈیجیٹل لائبریری نوجوان نسل کے لیے تحقیق، مطالعہ اور جدید آئی ٹی سہولیات کا ایک اہم مرکز ثابت ہوگی، جبکہ ویمن جمنازیم خواتین کی صحت، فٹنس اور مثبت سماجی سرگرمیوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ میران بلوچ نے تعمیراتی معیار، رفتارِ کار اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کام میں شفافیت، معیار اور تسلسل کو برقرار رکھا جائے تاکہ یہ اہم عوامی منصوبے جلد از جلد مکمل ہو کر عوام کے لیے قابلِ استعمال بن سکیں۔
خبرنامہ نمبر1842/2026
کوئٹہ:02مارچ: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈکے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑاور چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری نے ریلیشن شپ منیجر کے الیکٹرک محمد فصیح الرحمان کے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں ضلع لسبیلہ کے علاقے ڈامب میں جاری جھینگا فارمنگ منصوبے کے لیے توانائی کے وسائل کی فراہمی اور ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شرکائ نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے مستحکم، پائیدار اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیا۔وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ جھینگا فارمنگ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے اہم ثابت ہو سکتاہے، اس منصوبے کوبجلی و دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی میں آبی زراعت (Aquaculture) کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں اور حکومت صوبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جھینگا فارمنگ منصوبہ نہ صرف برآمدات میں اضافے کا سبب بنے گا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔سی ای او قائم لاشاری نے اجلاس کے دوران منصوبے کیلئے توانائی کی ضروریات اور کے الیکٹرک کے ساتھ ممکنہ منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے ساتھ اشتراک سے بلوچستان میں معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون کے ذریعے اس اہم منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے، تاکہ بلوچستان کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور ساحلی علاقوں کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 1843/2026
کوئٹہ3 مارچ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل جنگلی حیات کی حفاظت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن منانے کا مقصد جنگلی حیات کےںتحفظ اور شکار کا خاتمہ کرنا ہے ۔ بدقسمتی سے ماضی میں بلوچستان کو جنگلی حیات، سیاحت اور آثار قدیمہ کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی اس میں موجود نایاب جانوروں اور پرندوں کے حوالے سے کوئی خاص منصوبہ بندی کی گئی۔ اج بھی خطے کے سب سے قیمتی جانور اور پرندے بلوچستان میں ہی ہیں۔ سیاحت کی ترقی کو ترجیح دیکر بلوچستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور مقامی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ہمیں اپنے قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے ہونگے۔ بلوچستان میں اپنی خوبصورت ساحلی پٹی، ساحلی علاقوں میں مینگروز کے جنگلات، ژوب کے سرسبز زیتون کے جنگلات اور زیارت اور ہربوئی جیسے پرکشش مقامات کے ساتھ سیاحت کی بےپناہ صلاحیت موجود ہے۔ یہ قدرتی عجائبات, جنگلی حیات اور سیاحتی مراکز دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔
خبرنامہ نمبر 1844/2026
کوئٹہ، 2 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بلوچ ثقافت ہماری شناخت، روایات اور عظیم تاریخی ورثے کی امین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر صوبے کی ثقافت قابلِ احترام ہے اور بلوچ ثقافت اس قومی گلدستے کا ایک درخشاں رنگ ہے جو ملک کے تنوع اور حسن کو اجاگر کرتا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچ روایات محبت، بہادری، رواداری اور مہمان نوازی جیسی اعلیٰ اقدار کی آئینہ دار ہیں۔ ثقافتی دن اپنی اقدار سے وابستگی کے عزم کی تجدید اور نئی نسل کو اپنے تاریخی و ثقافتی ورثے سے جوڑنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوان نسل کو اپنے ورثے سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچ قوم کو کسی لاحاصل جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے بلکہ قومی ترقی، امن اور استحکام ہی ہمارا مشترکہ راستہ ہے وزیر اعلیٰ نے بلوچ نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ علم و تحقیق کو شعار بنائیں اور تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قرار دیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی جدید عالمی دوڑ میں بلوچ نوجوان نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان نے بلوچ نوجوانوں کے لیے عالمی سطح کی جامعات تک رسائی کے مواقع فراہم کیے ہیں، جن میں جامعہ آکسفورڈ اور جامعہ ہارورڈ سمیت دنیا کی 200 سے زائد جامعات شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نوجوانوں کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر 1845/2026
کوئٹہ، 02 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ایران میں جاری صورتحال کے پیش نظر وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کی باحفاظت وطن واپسی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے تاکہ شہریوں کی واپسی کا عمل منظم اور محفوظ انداز میں جاری رکھا جا سکے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سرحدی مقامات پر امیگریشن حکام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں تاکہ آمد و رفت کے عمل کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے اور کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ انسانی ہمدردی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بارڈر سے ملحقہ اضلاع کی انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ واپس آنے والے مسافروں کو ہر ممکن سہولیات، رہنمائی اور ضروری معاونت فراہم کی جائے تاکہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے وزیر اعلیٰ کے مطابق اب تک 70 سے زائد پاکستانی شہری ایران سے واپس اپنے وطن پہنچ چکے ہیں اور یہ عمل مرحلہ وار جاری رہے گا انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر 1846/2026
زیارت02 مارچ:ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی ہدایت پر آج اسسٹنٹ کمشنر تحصیل زیارت سجادالرحمان کوڑو نے ماہِ مقدس رمضان المبارک کے دوران سرکاری ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے زیارت بازار کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران بنیادی طور پر اشیائے ضروریہ کے سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخنامہ کی جانچ کی گئی، جس میں آٹا، مرغی اور چینی کی قیمتوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ تمام دکانداروں کو سرکاری نرخنامہ کے مطابق چیک کیا گیا تاکہ زائد قیمت وصولی کو روکا جا سکے۔اس کے علاوہ عوامی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کھانے پینے کی اشیاء کی میعادِ استعمال (ایکسپائری ڈیٹ) بھی چیک کی گئی۔معائنے کے نتیجے میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ مقررہ نرخنامہ رمضان سے زائد قیمت پر اشیاء فروخت کرنے والوں کے چالان کیے گئے اور موقع پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
اس وقت مارکیٹ کی صورتحال مستحکم ہے اور مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔
خبرنامہ نمبر 1847/2026
کوئٹہ: ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان کی صدارت میں تعلقاتِ عامہ بلوچستان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ادارے کی مجموعی کارکردگی، ڈویژنل اور سیکٹر دفاتر کی فعالیت اور حکومتی پالیسیوں کی مؤثر تشہیر سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر تعلقات عامہ سعیداحمد شاہوانی، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن محمد نجیب اللہ ، ڈپٹی ڈائریکٹر پبلسٹی وقاص شاہین سمیت محکمہ کے دیگر افسران شریک ہوئے، جبکہ صوبے کے تمام ڈویژنل اور سیکٹر دفاتر کے افسران و اہلکاران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران مختلف ڈویژنل دفاتر کی کارکردگی، جاری سرگرمیوں اور حکومتی منصوبوں کی تشہیر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل عسکر خان نے کہا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ حکومت بلوچستان کی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے تمام دفاتر اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر اور مربوط انداز میں انجام دیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ڈویژنل اور سیکٹر دفاتر حکومتی اقدامات، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مفاد کے پروگراموں کی بروقت اور مؤثر تشہیر کو یقینی بنائیں۔ ڈی جی اطلاعات نے افسران پر زور دیا کہ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے سرکاری معلومات اور مثبت سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچایا جائے۔عسکر خان نے مزید ہدایت کی کہ تمام دفاتر اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں، رپورٹنگ کے نظام کو مزید منظم بنایا جائے اور روزمرہ کی سرگرمیوں سے متعلق باقاعدہ فیڈ بیک اور رپورٹس ہیڈ آفس کو فراہم کی جائیں تاکہ محکمہ کی مجموعی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ بلوچستان حکومت کی پالیسیوں اور عوامی مفاد کے اقدامات کو بہتر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھرپور انداز میں جاری رکھے گا۔
خبرنامہ نمبر 1848/2026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کانفرنس منعقد ہوا جس میں میں عوام کی معیار زندگی بہتر بنانے، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی، محکمہ تعلیم اور صحت میں عارضی بنیادوں پر تعیناتیاں اور رمضان کے دوران سستے بازاروں سمیت متعدد اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ذاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے عوامی مسائل کے حل اور حکومتی منصوبوں کی رفتار کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے حوالے سے بتایا گیا کہ کل 1735 سکیموں میں سے 1478 مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ باقی منصوبوں پر بھی تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ چیف سیکرٹری نے کمشنرز کو ہدایت کی کہ باقی ماندہ منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم میں اساتذہ کے چوتھے مرحلے کے لیے اور صحت میں پیرا میڈیکس سٹاف کی عارضی بنیادوں پر تعیناتیوں کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پوست کی کاشت تلف کرنے کے عمل کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے تاکہ صوبے کو منشیات سے نجات دلائی جائے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ ابھی تک 55 ہزار ایکڑز پوست کی کاشت کو تلف کیا گیا ہے اور 500 کے قریب افراد کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال دئے گئے۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو رمضان المبارک کے دوران ہر ضلع میں سستے بازاروں کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے ہدایات دی۔ چیف سیکرٹری نے تاکید کی کہ عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیاء خوردونوش ہر صورت دستیاب ہوں، اور مہنگائی روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے اورہر ضلع میں سستے بازار قائم کرنے اور ان کی باقاعدہ نگرانی کے احکامات دیے گئے، تاکہ شہری رمضان کے مقدس مہینے میں معاشی دباؤ سے نجات حاصل کر سکیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کھلی کچہریوں میں درج ہونے والی تمام شکایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اور ماہانہ رپورٹس پیش کی جائیں۔ اس اقدام سے حکومت اور عوام کے درمیان براہ راست رابطہ مضبوط ہوگا، اور سرکاری خدمات کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں لاکھوں پودے لگائے جا چکے ہیں، لیکن ہدف پورا کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ چیف سیکرٹری نے ہر ضلع میں شجر کاری کے اہداف کی تکمیل یقینی بنانے اور پودوں کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بچوں کے سکولوں میں داخلہ مہم کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو متحرک ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ آف سکول بچوں کی شرح کم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر سروے اور اندراج کا عمل تیز کیا جائے۔ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے اس مہم کو نئی تعلیمی سیشن سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت صوبے میں 15 ہزار سکول اور 918 بنیادی صحت مرکز فعال ہیں۔
خبرنامہ نمبر 1849/2026
سبی 2 مارچ:کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض کی زیر صدارت ڈویژن بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پروگریس ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے ایگزیکٹو انجینیئرز، ایس ڈی اوز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر سبی کو روڈز سیکٹر اور بلڈنگز سے متعلق تمام جاری و زیر تکمیل منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ افسران نے منصوبوں کی فزیکل اور فنانشل پیش رفت، فنڈز کے اجراء اور استعمال، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ کمشنر سبی اسد اللہ فیض نے منصوبوں کی رفتار اور معیار پر خصوصی زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام اسکیموں کو مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فنڈز کے بروقت اور درست استعمال کو یقینی بنایا جائے اور جہاں کسی قسم کی رکاوٹ ہو اسے فوری طور پر دور کیا جائے، تاکہ ترقیاتی عمل میں تسلسل برقرار رہے۔
خبرنامہ نمبر 1850/2026
سبی 2 مارچ :ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے بختیار آباد کے علاقے کشمیر آباد میں بی ایس ڈی آئی کے تحت مکمل ہونے والے فلٹریشن آر او پلانٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے بریفنگ لی۔ اس منصوبے کے تحت ٹیوب ویل کی تنصیب، اس کی سولرائزیشن اور فلٹریشن آر او پلانٹ کے لیے باقاعدہ کمرے کی تعمیر مکمل کی گئی ہے۔ اس اقدام سے علاقے کے مکینوں کو صاف اور پینے کے قابل پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے منصوبے کو عوامی فلاح کا اہم اقدام قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس کی باقاعدہ دیکھ بھال اور فعالیت کو ہر صورت برقرار رکھا جائے تاکہ شہریوں کو مسلسل ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے بی ایس ڈی آئی کے تحت محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے بختیار آباد میں زیر تعمیر ٹوائلٹس اور انتظار گاہ کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے تعمیراتی معیار اور پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کو مقررہ وقت میں معیاری انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 1851/2026
دکی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق، صوبہ بھر میں گھر گھر راشن کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مستحق خاندانوں کو رمضان المبارک میں بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر نگرانی رمضان ریلیف پیکجز کی تقسیم شفاف اور منظم انداز میں کی گئی ۔ ڈپٹی کمشنر دکی نے میونسپل کمیٹی دکی میں 100 مستحق خاندانوں میں رمضان ریلیف پیکجز تقسیم کیے۔ اس موقع پر کرنل شاہد بلال، اسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم حریفال، ڈسٹرکٹ چیئرمین ، ایم سی چیئرمین اور دیگر اہلکار بھی موجود تھے۔ راشن مستحقین کو فراہم کرنے سے پہلے فہرستوں کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی تاکہ حقیقی حقداروں تک امداد کی بروقت اور منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ حکومت بلوچستان کی جانب سے رمضان ریلیف پیکج ہے اور انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ رمضان المبارک کے دوران ریلیف کی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں گی اور کسی بھی مستحق خاندان کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ نے یقین دلایا کہ رمضان کے اس مقدس مہینے میں ہر غریب کے گھر تک امداد پہنچائی جائے گی اور ضرورت مندوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 1852/2026
زیارت 02 مارچ :ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی ہدایت پر آج اسسٹنٹ کمشنر تحصیل زیارت سجادالرحمان کوڑو نے ماہِ مقدس رمضان المبارک کے دوران سرکاری ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے زیارت بازار کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران بنیادی طور پر اشیائے ضروریہ کے سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخنامہ کی جانچ کی گئی، جس میں آٹا، مرغی اور چینی کی قیمتوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ تمام دکانداروں کو سرکاری نرخنامہ کے مطابق چیک کیا گیا تاکہ زائد قیمت وصولی کو روکا جا سکے۔اس کے علاوہ عوامی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کھانے پینے کی اشیاء کی میعادِ استعمال (ایکسپائری ڈیٹ) بھی چیک کی گئی۔معائنے کے نتیجے میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ مقررہ نرخنامہ رمضان سے زائد قیمت پر اشیاء فروخت کرنے والوں کے چالان کیے گئے اور موقع پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
اس وقت مارکیٹ کی صورتحال مستحکم ہے اور مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔
خبرنامہ نمبر 1853/2026
موسیٰ خیل 02 فروری:وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبداللّٰہ جان کی زیرِ قیادت سکول داخلہ مہم کے سلسلے میں ایک بھرپور اور پرجوش آگاہی ریلی کا انعقاد کیا گیا اسسٹنٹ کمشنر موسی’ خیل نجیب اللہ کاکڑ کی خصوصی شرکت ریلی میں محکمہ تعلیم کے افسران ، ہیڈ ماسٹرز ، اساتذہ کرام ، والدین ، سماجی شخصیات اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ریلی تحصیل چوک سے برآمد ہوئی اور شہر کے مختلف چوکوں سے گزرتی ہوئی کنگری چوک پر جلسے کی شکل اختیار کرلی شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ہر بچہ سکول میں ہو گا‘‘، ’’تعلیم سب کے لیے‘‘ کے نعرے درج تھے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ کوئی بھی بچہ سکول سے باہر نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلہ مہم کا مقصد نہ صرف نئے بچوں کو سکول میں داخل کروانا ہے بلکہ ان بچوں کو بھی دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کرنا ہے جو کسی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ منقطع کر بیٹھے ہیں انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے انہیں لازمی طور پر قریبی سرکاری یا نجی سکول میں داخل کروائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ بچہ ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے اور تعلیم ہی غربت، جہالت اور سماجی برائیوں کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ ہے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبداللّٰہ جان موسیٰ خیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی مشترکہ کاوشوں سے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے، اساتذہ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ سکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کریں اور ان کے والدین سے رابطہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے اساتذہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور ان کی محنت اور لگن سے ہی نئی نسل سنور سکتی ہے۔ انہوں نے سماجی تنظیموں اور میڈیا کے نمائندوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس قومی فریضے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا سکے آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع بھر میں سکول داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل نگرانی اور مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے اور کسی بھی بچے کو تعلیم کے حق سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 1854/2026
صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی نے بلوچ کلچر ڈے کے مناسب سے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ثقافت کسی قوم کی پہچان تہذیب وتمدن کی عکاس ہے بلوچ ثقافت صدیوں پرانی تہذیب ہے جس کی اس خطے میں منفرد مقام ہے جس میں لباس ، بلوچی دستکاری ، مہمانوازی ، موسیقی اور لوک رقص چھاپ کو نہایت اہمیت حاصل ہے صوبائی وزیر خزانہ نے اہل بلوچستان کو بلوچ کلچر ڈے کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ثقافت ہمیں ہم آہنگی ، قومی یکجہتی اور رواداری کا درس دیتے ہیں ۔ بلوچی ثقافت قدیم روایات کی امین ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آ رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے نئی نسل کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ثقافتی اقدار کو اجاگر کرنے کیلئے مثبت کردار ادا کرنے کےلئے کوشاں رہے انہوں نے کہا کہ ثقافتی ہم آہنگی دراصل قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں اس لیے ہم سب نے مل کر مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے تمام صلاحیتوں کو قومی یکجہتی اور اتفاق کے لیے بروئے کار لانے کےلئے کوشاں رہے ۔





