29th-January-2026

خبرنامہ نمبر604/2026
رکنی۔29 جنوری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان کے پہاڑ یہاں کے غیرت مند قبائل کی تاریخ اور مسکن ہے کوہ سلیمان ڈویژن کا قیام یہاں کی پسماندگی کےخاتمے اور گڈ گورننس کی جانب اہم قدم ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام اور رکنی کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کا درجہ سے متعلق رکنی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہ سلیمان صرف ایک ڈویژن کے قیام کےنام تک محدود نہیں بلکہ یہاں تمام سہولیات بھی فراہم کرینگے اگر ڈویژن بنایا ہے تو اسکی ذمہ داری بھی اٹھائینگے انہوں نے کہا کہ یہاں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بنانے کا مقصد اس خطے کی ترقی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ رکنی جو کہ یونین کونسل ہے آج ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بننے جارہا ہے انہوں نے نئے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال کے قیام ، ریزیڈنشل کالج کی تکمیل ، نہاڑکور ڈیم کی تکمیل، رکنی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دینے ، رکنی ماڈل بازار پر آج سے ہی کام کا آغاز ، رکنی پریس کلب کے قیام اور ہاوسنگ اسکیم اور رکنی کو میونسپل کمیٹی ڈیرہ کھیتران کا نام دینے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ اس ڈویژن کے اضلاع کے لوگ آپس میں بھائی ہے اور جیسا کوہ سلیمان اونچا ہے ایسے ہی یہاں کے لوگوں کے سر اونچے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا ہے اور سوچے سمجھے سازش کے تحت یہاں کے نوجوانوں کو ریاست سے دور کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ نوجوان اس جنگ اور پراپگینڈا کا حصہ کسی صورت نہیں بنیں گے بلوچ اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں بلوچ قوم نے یہی رہنا ہے اور یہی ہی ہماری بقا اور خوشحالی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سے غلطی ہو سکتی ہے اور آپ گورننس سے ناراض ہو سکتے ہو لیکن ریاست سے کبھی ناراض نہیں ہوا جا سکتا انہوں نے کہا کہ میں جو وعدہ کرتا ہوں اسے پورا کرتا ہوں میں نے آج جو وعدہ کیا ہے اسے پایہ تکمیل تک ضرور پہچاونگا تقریب میں اقوام کھیتران ، بگٹی، زرکون ، بزدار، غرشین اور لغاری سمیت دیگر مقامی اقوام کی کثیر تعداد شریک تھی وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر کا اختتام نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان الفاظ میں کیا کہ اے سرزمین کوہ سلیمان کے نوجوانوں یہ وقت خواب دیکھنے کے نہیں بلکہ خواب پورے کرنے کا ہے یہ مٹی تم سے سوال نہیں کرتی یہ تم سے جواب مانگتی ہے کہ کب اٹھو گے کب پہچانو گے کہ تمہاری رگوں میں وہی غیرت کا خون ہے جو تاریخ بناتا رہا ہے غیرت وراثت میں ملتی ہے لیکن ترقی کمائی جاتی ہے اور جو محنت سے بھاگ جائے وہ نام تو بنا سکتا ہے لیکن مقام نہیں یاد رکھو اگر ہاتھوں میں چھالے ہو تو تم درست سمت میں ہو اگر نیند قربان ہو تو جان لو کہ مستقبل تمہارا انتظار کر رہا ہے اے نوجوانوں قوم سیال سیال کے نعروں سے نہیں بنتی قوم کردار سے بنتی ہے یہ وقت ہے کہ تم قلم کو ہتھیار بناوعلم کو طاقت بناو اور محنت کو پہچان بناو کوئی تمہیں کمزور کہے کوئی تم پر بلاوجہ تنقید کرے تم مسکرا کر ایسا جواب دو کہ جیسے آج میں جواب دے رہا ہوں میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے کردار اور ارادوں کو اونچا اور مضبوط رکھو جلسے سے راکین صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل ، حاجی علی مدد جتک ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میر باز محمد کھیتران ، سابق صوبائی وزیر نصیب اللہ مری ، نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالکریم کھیتران ، ڈسٹرکٹ چیئرمین ڈیرہ بگٹی وڈیرہ غلام نبی شمبانی، ضلع چیئرمین کوہلو میر نثار احمد مری اور زوکون قبیلے سے تعلق رکھنے والے سمیع خان زرکون نے بھی خطاب کیا اور وزیراعلیٰ کے اس احسن اور عوام دوست اقدام کو بھرپور سراہا انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی یونین کونسل کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کی حیثیت دی گئی ہے اور یقیناً اس کا سہرا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو جاتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر605/2026
رکنی 29جنوری ۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے متوقع دور رکنی کے سلسلے میں جلسہ گاہ کا معائنہ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ، ڈی آئی جی پولیس لورالائی رینج جنید احمد شیخ اور ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ،اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر نے جلسے کی جگہ کا تفصیلی جائزہ لیا اور انتظامات کا معائنہ کیا۔انہوں نےموقع پر سکیورٹی، سہولیات اور انتظامی امور کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اج تحصیل رکنی میں کوہ سلیمان ڈویژن جس کا ہیڈ کوارٹر رکھنی ہوگا کی خوشی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر یں گے۔ جس ضلع کوہلو ، ضلع قادر آ باد ضلع بارکھان کے لوگ شرکت کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر606/2026
کوئٹہ 29جنوری ۔ صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک بلوچستان سردارزادہ فیصل خان جمالی اور سیکریٹری لائیو اسٹاک محمد طیب لہڑی نے ایک نہایت پروقار اور باوقار تقریب کے دوران ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سیکریٹری محترمہ سائرہ عطا کو محکمہ جاتی خدمات، خواتین کی فلاح و بہبود اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ میں ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے محترمہ سائرہ عطا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ صوبے میں خواتین کے حقوق اور سماجی ترقی کے لیے موثر کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ سیکریٹری لائیو اسٹاک محمد طیب لہڑی نے بین المحکماتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر607/2026
موسیٰ خیل 29 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک سے تحصیل کنگری سے آئے ہوئے قبائلی عمائدین کے وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران علاقے کی مجموعی صورتحال، امن و امان کے قیام اور بالخصوص ضلع بارکھان کے ساتھ ملحقہ سرحدی حدود سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وفد نے ڈپٹی کمشنر کو ضلع بارکھان رکنی طرف کی جانب سے موسیٰ خیل کی حدود میں ہونے والی مبینہ تجاوزات کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ عمائدین کا کہنا تھا کہ سرحدی حدود میں مداخلت سے مقامی سطح پر بے چینی پیدا ہو رہی ہے جس کا فوری حل ناگزیر ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک نے وفد کے تحفظات کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ اپنی علاقائی حدود کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر سنجیدہ ہے۔تجاوزات کے معاملے کو فوری طور پر متعلقہ حکام اور بارکھان انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا تاکہ زمینی حقائق کے مطابق حدود کا تعین کیا جا سکے۔قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عوامی مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا ملاقات کے اختتام پر تحصیل کنگری کے معتبرین اور قبائلی عمائدین نے ضلعی انتظامیہ کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اورحکومتی رٹ کی بحالی کے لیے انتظامیہ کے ساتھ ہر قسم کے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر608/2026
کوئٹہ 29جنوری۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت اربن پلاننگ اینڈ ڈیزائننگ کمیٹی کاایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ مجیب الرحمن قمبرانی، ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ مرزا بلال حسن، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر کیو ڈی پی عابد محمود، ڈائریکٹر کیو ڈی اے آصف علی، ڈی ایس پی ٹریفک سیف اللہ درانی، ایس پی سٹی کوئٹہ نعمان ظفر، چیف آرکیٹیکٹ عبدالعزیز زہری کے علاوہ کیو ڈی اے، بی پی اے اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ ماسٹر پلان کی تیاری اور اس پر عملدرآمد سے متعلق مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بلڈنگ کوڈز، نکاسی آب، پارکنگ کے مسائل اور شہری ترقی سے متعلق جاری و مجوزہ منصوبوں پر غور و خوض کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ ماسٹر پلان کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر اس پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہر کی بے ہنگم توسیع کو روکا جا سکے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات میسر آئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے اور نئی تعمیرات میں پارکنگ کی سہولت کو لازمی قرار دیا جائے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ ماسٹر پلان میں نکاسی آب کے لیے خصوصی انتظامات شامل کیے جائیں تاکہ برساتی نالوں اور ڈرینج کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل ممکن ہو سکے اور شہری سیلاب سے بچاویقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اے سی ایس کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کو جبکہ ٹیکنیکل کمیٹی میں ایس پی ٹریفک اور چیف آرکیٹیکٹ میٹروپولیٹن کو لازمی شامل کیا جائے تاکہ تمام منصوبے ٹریفک، شہری ضروریات اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق ترتیب دیے جا سکیں اور پائیدار شہری ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے متعلقہ محکموں کو باہمی رابطہ مزید موثر بنانے اور منصوبہ بندی کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 29جنوری۔بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (BUMHS) کوئٹہ نے بلوچستان کے مختلف نرسنگ کالجز میں چار سالہ بی ایس نرسنگ پروگرام میں داخلوں کیلئے نرسنگ کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (NCAT) کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔یونیورسٹی اعلامیہ کے مطابق داخلے صرف اہل بلوچستان امیدواروں کیلئے ہوں گے جبکہ داخلہ میرٹ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔امیدواروں کی اہلیت کیلئے کم از کم تعلیمی معیار FSc میں 50% نمبر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ امیدوار کی عمر 30 سال سے زائد نہ ہو۔داخلوں کیلئے صوبہ بلوچستان کے درج ذیل نرسنگ کالجز میں نشستیں دستیاب ہیں۔کالج آف نرسنگ بی ایم سی کوئٹہ، نرسنگ کالج سول ہسپتال کوئٹہ، نرسنگ کالج شیخ خلیفہ بن زاید ہسپتال کوئٹہ، نرسنگ کالج لورالائی، ژوب، نصیر آباد، گوادر، مستونگ، تربت، خاران، خضدار، حب اور پنجگور۔یونیورسٹی کے مطابق امیدوار BUMHS کی ویب سائٹ www.bumhs.edu.pk پر آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں۔ داخلہ ٹیسٹ فیس 3000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے منتخب امیدواروں کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 فروری 2026ءمقرر کی گئی ہے۔ مزید معلومات کیلئے امیدوار ایڈمیشن برانچ BUMHS، بروری روڈ، نزدیک لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری فارم کوئٹہ سے رابطہ کریں یا فون نمبر 0819213066 پر معلومات حاصل کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر609/2026
گوادر29جنوری ۔ صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال گوادر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے صوبائی وزیر کو ہسپتال کو درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔دورے کے دوران صوبائی وزیرِ صحت نے ہسپتال کے کیجولٹی وارڈ (Casualty Unit) کا جائزہ لیا، جبکہ ڈائلیسز سینٹر، شعب گائنی اور ہسپتال کی فارمیسی اسٹور کا بھی معائنہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے حال ہی میں تعمیر ہونے والی نئی عمارت کا بھی دورہ کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت نے ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی یونٹ کو فوری طور پر نئی عمارت میں منتقل کیا جائے تاکہ مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال نے صوبائی وزیر کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی یونٹ (casualty Unit) کو ایک دن کے اندر نئی عمارت میں منتقل کر دیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر610/2026
کوئٹہ 29.جنوری ۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے بورڈ کا 24واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریشی، ایڈیشنل سیکرٹری صحت شہق بلوچ، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی ایڈیشنل سیکرٹری روحانہ کاکڑ، ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر سوشل ویلفیئر اشرف گچکی، پروگرام ڈائریکٹر بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ ثمینہ احسان بلوچ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عنایت اللہ کاسی، محکمہ خزانہ کے بشیر احمد، ڈاکٹر زاہد محمود، ڈاکٹر فیروز اچکزئی، ثناءدرانی، ضیا خان سمیت مختلف محکموں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں پروگرام ڈائریکٹر ثمینہ احسان بلوچ نے شرکاءکو بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے تحت کینسر، امراضِ قلب، امپلانٹ اور لِمب سیونگ ٹریٹمنٹ، گردوں کے آخری اسٹیج اور ڈائیلاسز، یرقان، جگر کی پیوندکاری، تھیلیسیمیا اور کوکلیئر امپلانٹ سمیت دیگر بیماریوں کے سابقہ کیسز اور پینل پر موجود ہسپتالوں کے دوروں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ بورڈ اجلاس میں 404 کیسز کی منظوری دی گئی تھی، جن پر مجموعی طور پر 930 ملین روپے کی لاگت آئی۔ ان میں سے 321 مریضوں کے علاج پر 269 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ 83 کیسز پر علاج جاری ہے۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مزید 1054 نئے کیسز موصول ہوئے ہیں جن پر 2 ارب 72 کروڑ 4 لاکھ 76 ہزار 386 روپے لاگت آئے گی، جس کی بورڈ نے منظوری دے دی۔ بتایا گیا کہ پینل پر موجود ہسپتالوں کے پاس عوامی انڈومنٹ فنڈ کی مد میں 520 ملین روپے موجود تھے، جو وصول کر لیے گئے ہیں۔ ان میں سے 242 ملین روپے مختلف کیسز میں ایڈجسٹ کیے جا چکے ہیں جبکہ بقایا رقم کو بھی منظوری کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 200 ملین روپے کی ادویات کی خریداری مکمل کر لی گئی ہے اور اس وقت مستفید ہونے والے مریضوں کی تعداد 492 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مزید 200 ملین روپے کی ادویات کی خریداری کی ضرورت ہے، جس کی بورڈ نے منظوری دے دی۔ اجلاس میں آریا ہسپتال کو پینل میں شامل کرنے کے لیے پروگرام ڈائریکٹر کو ورکنگ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبے کا واحد منصوبہ ہے جس کے تحت غریب عوام کو مہنگا علاج بالکل مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی بات چیت کی گئی ہے، جنہوں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ انسانی صحت سب سے زیادہ اہم ہے اور ہمیں ذاتی تعلقات اور رشتوں سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ میں موجود رقم عوام کی امانت ہے اور اس کا شفاف اور درست استعمال ہم سب کی اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر611/2026
کوئٹہ 29 جنوری ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں پولیو کی روک تھام اور خاتمے کیلئے جامع اور موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ پولیو جیسے خطرناک مرض کو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا انتہائی ضروری ہے۔ صوبائی حکومت پولیو کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دے کر مسلسل ویکسینیشن مہمات، نگرانی اور کمیونٹی شمولیت پر زور دے رہی ہے۔ 2025 میں صوبے میں ایک بھی پولیو کیس رپورٹ نہ ہونا اس کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ ان کے اضلاع میں (LQAS) کی شرح 90 فیصد سے زائد ہونی چاہئے، تاکہ ویکسینیشن مہم کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے صوبے میں پولیو کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ کیونکہ پولیو ایک خطرناک مرض ہے۔ اس کو ہر حال میں ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ایک ایسا وائرس ہے جو بچوں کو معذور بنا سکتا ہے، اور اس کی روک تھام کیلئے ویکسینیشن ہی واحد موثر طریقہ ہے۔ حکومت نے صوبے کے ہائی رسک علاقوں میں خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف صوبہ بلکہ پورے پاکستان کیلئے اہم ہیں، کیونکہ پولیو کا خاتمہ عالمی سطح پر ایک ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا یہ عزم ایک صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے، جو بچوں کو معذوری سے بچائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ای پی آئی پروگرام میں غیر حاضر ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس موقع پر صوبائی کوآرڈینیٹر سی او سی انعام الحق نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان بھر میں انسداد پولیو مہم بروز پیر دو فروری سے شروع ہوگی۔ مہم میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گزشتہ 15 مہینوں سے بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ بلوچستان کے23 میں سے صرف 2 علاقوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں بلوچستان سے پولیو وائرس کے خاتمے میں خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر612/2026
کوئٹہ: 29جنوری ۔محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے زیرِ اہتمام کاونٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ پالیسی ڈائیلاگ کے دوسرے روز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین، افسران اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مینجنگ ڈائریکٹر بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) حمود الرحمٰن نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے کے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنے کے لیے مربوط، موثر اور عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو باعزت روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو خود کفیل بنانا اور انہیں بیرونِ ملک روزگار کے مواقع سے بھرپور استفادہ کے قابل بنانا ہے۔ حمود الرحمٰن نے مزید کہا کہ ہنرمند نوجوان نہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے معاشی حالات بہتر بنائیں گے بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کا بھی ایک اہم ذریعہ ثابت ہوں گے۔پالیسی ڈائیلاگ میں پروفیسر سید حسین حیدر سینیئر لیگل ایکسپرٹ، یو این او ڈی سی، چیف کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد اور ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ خان بھی موجود تھے۔ شرکاء نے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، تعلیم اور ہنر مندی کی طرف راغب کرنے کو انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک موثر حکمتِ عملی قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ بلوچستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر613/2026
گوجرانوالہ، 29 جنوری۔کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی نے کہا ہے کہ سول سروس افسران کی موثر اور معیاری تربیت ایک مضبوط، جوابدہ اور عوام دوست انتظامیہ کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ وہ کمشنر آفس گوجرانوالہ میں ڈائریکٹر سول سروسز اکیڈمی کوئٹہ شبانہ سلطان کی قیادت میں بلوچستان سول سروس کے افسران کے لیے منعقدہ 1st اِن لینڈ اسٹڈی ٹور کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنرز کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ کمشنر نے کہا کہ اس مطالعاتی دورے میں 55 افسران شامل ہیں، جس کا مقصد بلوچستان سول سروس کے افسران کو پنجاب میں گورننس، ریونیو مینجمنٹ، ترقیاتی منصوبہ بندی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے موثر اور عملی ماڈلز سے روشناس کرانا ہے۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ بطور ٹرینر اپنی پیشہ ورانہ مہارت، فیلڈ تجربات اور انتظامی بصیرت افسران کے ساتھ بھرپور انداز میں شیئر کریں تاکہ تربیت کے مقاصد موثر طور پر حاصل کیے جا سکیں۔سید نوید حیدر شیرازی نے کہا کہ پری ٹریننگ سیشنز کی جامع منصوبہ بندی، مربوط شیڈول اور معیاری بریفنگز اس اسٹڈی ٹور کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تربیتی عمل میں شفافیت، عملی مثالوں اور زمینی حقائق کو ترجیح دی جائے تاکہ افسران کو درپیش انتظامی چیلنجز کا مو¿ثر حل تلاش کیا جا سکے۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز نے تربیتی نکات، سیشن پلان اور فیلڈ وزٹس سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ کمشنر نے تمام افسران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ مطالعاتی دورہ بین الصوبائی ہم آہنگی، ادارہ جاتی سیکھنے اور بہتر گورننس کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نوید احمد، وفد کی سربراہ ڈائریکٹر سول سروسز اکیڈمی کوئٹہ محترمہ شبانہ سلطان، سابق وفاقی وزیر و چیئرمین قائمہ کمیٹی خرم دستگیر خان، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی عمر فاروق ڈار اور عمران خالد بٹ، ایڈیشنل کمشنر ریونیو نعمان حفیظ، ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن محمد شفیق، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو محمد فرقان، اسسٹنٹ کمشنر جنرل محمد عامر، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ محمد عبدالروف سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Gujranwala, January 29: The Gujranwala Chamber of Commerce and Industry (GCCI) hosted an interactive session with a delegation of Assistant Commissioners and Probationary Officers from the Balochistan Civil Services Academy (BCSA), led by Director Civil Services Academy Quetta, Ms. Shabana Sultan, focusing on the importance of administrative leadership and public–private collaboration in promoting national development and economic stability. The delegation was warmly received by President GCCI Mr. Muhammad Ali Hamayoon Butt, Senior Vice President Mr. Saad Jamil Irfani, and Vice President Mr. Faisal Sattar Mughal. The session provided a constructive platform for dialogue on governance, investment opportunities, and strategies to strengthen trust, stability, and national cohesion, with particular emphasis on Balochistan.Addressing the gathering, President GCCI Mr. Muhammad Ali Hamayoon Butt stated that despite longstanding challenges, Balochistan possesses immense untapped potential for business and investment. He emphasized that sustainable development in the province hinges on trust-building measures and ensuring that local communities feel fully integrated as key stakeholders in Pakistan’s overall progress. Highlighting the strategic importance of Gwadar, he underscored the crucial role of district administrations in countering negative narratives and international conspiracies aimed at obstructing regional development. He noted that effective governance, administrative vigilance, and close coordination between civil administration and the business community are essential for safeguarding national interests.Mr. Butt also briefed the delegation on GCCI’s major economic initiatives, including the establishment of a Business Facilitation Center to provide one-window support to investors and entrepreneurs, and a Research and Development Center designed to enhance export competitiveness and industrial innovation.Sharing details of industrial expansion plans, he informed participants that a new Metal Processing Zone is being developed approximately 20 kilometers outside Gujranwala, where around 350 industrial units will be relocated to modern facilities to modernize the sector and improve environmental compliance.Beyond economic growth, President GCCI highlighted the Chamber’s strong commitment to social welfare, announcing plans to establish a Children’s Hospital in collaboration with the local administration as part of GCCI’s corporate social responsibility initiatives.Concluding his remarks, President GCCI emphasized that political stability and consistent long-term economic policies are critical to reducing the burden on taxpayers and reviving industrial units affected by high energy costs. He reaffirmed that the business community, as the backbone of the national economy, remains fully committed to supporting Balochistan in fostering a conducive environment for sustainable, inclusive, and long-term growth.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 614/2026
سبی 29 جنوری .۔کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض نے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال سبی کا دورہ کیا، جہاں انہیں ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈی ایچ او سبی ڈاکٹر اکبر سولنگی، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر زین العابدین سمیت متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ ہسپتال انتظامیہ نے کمشنر سبی کو آگاہ کیا کہ نیوٹریشن، پیڈیاٹرکس، ویکسینیشن اور نرسری وارڈ ایک ہی عمارت میں قائم ہیں، جو کمشنر سبی کے وژن کے عین مطابق ہے۔ تاہم ڈاکٹروں نے وارڈز کی کمی کے باعث درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا اور بچوں کے لیے دو نئے وارڈز کے قیام کی درخواست کی۔ کمشنر سبی ڈویڑن اسداللہ فیض نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بی ایس ڈی آئی میں بچوں کے لیے دو نئے وارڈز کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ دورے کے دوران کمشنر سبی نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ بھی کیا اور فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر615/2026
استامحمد29جنوری ۔ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت تحصیل گنداخہ کی یونین کونسل ہیڈ باغ میں عوامی مسائل اور شکایات کے براہِ راست اندراج اور ان کے فوری حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کا مقصد عوامی مسائل کی موثرنشاندہی، متعلقہ محکموں کے مابین ہم آہنگی اور عوام کو درپیش مشکلات کے پائیدار حل کو یقینی بنانا تھا کھلی کچہری میں ضلع کے تمام اہم محکموں کے سربراہان نے شرکت کی جن میں ایس ایس پی استامحمد غلام حسین باجوئی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد اسماعیل لاشاری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شاہ بخش پندرانی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالجبار سومرو،ایریگیشن، پی ایچ ای، بی اینڈ آر زراعت، سمیت دیگر متعلقہ افسران شامل تھے اس موقع پر علاقے کے معززین عمائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مسائل زبانی و تحریری طور پر انتظامیہ کے سامنے پیش کیے کھلی کچہری کے دوران عوام کی جانب سے جن اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی ان میں امن و امان کی صورتحال، پینے کے صاف پانی کی شدید قلت، فصلوں کی کاشت کے لیے محکمہ ایریگیشن کی جانب سے پانی کی ٹیل تک عدم دستیابی، کیرتھرکینالو سیم شاخ کی پشتوں کی بھرائی تاکہ بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال سے بچا جا سکے ،سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، سندھ اور ضلع جھل مگسی کے بارڈر پر پولیس گشت اور چیک پوسٹ قائم کرنے کی ضرورت، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفا رمرز کے کوائلوں کی چوری، واٹر کورسز کے سائز میں درستگی ذیلی شاخوں کی بھل صفائی، ہسپتالوں اور بی ایچ یوز میں ادویات کی دستیابی، سانپ اور کتے کے کاٹنے کی ویکسین کی فراہمی، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر جیسے اہم عوامی مسائل شامل تھے ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے کھلی کچہری میں ایکسین روڈز و بلڈنگز اور ڈرینیج کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور تمام ضلعی افسران کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کھلی کچہری میں آج پیش کیے گئے مسائل دوبارہ سامنے نہ آئیں اور کہا کہ آنے والے ڈی سی سی کے اجلاس میں ان مسائل کے حل کے متعلق پروگریس رپورٹس پیش کریں انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت تمام افسران کی اولین ذمہ داری ہے اور سرکاری افسران کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے حل میں سنجیدگی، دیانت داری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ خود اور تمام ضلعی سربراہان عوام کی مشکلات میں کمی لانے اور ان کے مسائل کے موثر و بروقت تدارک کے لیے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر616/2026
لورالائی:29جنوری .´۔اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیرِ صدارت پوست کی غیر قانونی کاشت کے حوالے سے ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ زراعت، لیویز، پولیس، ریونیو، اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنر کو ضلع کے مختلف علاقوں میں پوست کی ممکنہ کاشت، اس کی روک تھام کے لیے جاری اقدامات اور درپیش چیلنجز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پوست کی کاشت نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ یہ معاشرتی، معاشی اور صحت کے لحاظ سے بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق پوست کی کاشت کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مشتبہ علاقوں کی بروقت نشاندہی کی جائے، فیلڈ سرویلنس کو مو¿ثر بنایا جائے اور غیر قانونی کاشت میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے موثر مہم چلائی جائے گی تاکہ کاشتکاروں کو پوست کی کاشت کے قانونی نتائج اور نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ محکموں کے درمیان باہمی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے اور مشترکہ آپریشنز کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے آخر میں تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور اس حساس معاملے پر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی
جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر617/2026
لورالائی:29جنوری ۔حکومتِ بلوچستان کی جانب سے سرکاری ملازمین کے سروس ریکارڈ میں تاریخِ پیدائش سے متعلق امور کی جانچ پڑتال اور درستگی کے لیے قائم کمیٹی کا ایک اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسماعیل مینگل کی زیرِ صدار ت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان ضلعی خزانہ آفیسر کے علاوہ مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی افسران اور متعلقہ نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سرکاری ملازمین کی سروس بکس میں درج تاریخِ پیدائش کے غلط یا متنازعہ اندراجات سے پیدا ہونے والے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ تاریخِ پیدائش میں معمولی غلطی بھی ملازمین کی سروس، ترقی اور ریٹائرمنٹ پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے، جس کے باعث بروقت اصلاح نہایت ضروری ہے۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام سرکاری محکمے اپنے ماتحت ملازمین کے سروس ریکارڈ کا ازسرِ نو جائزہ لیں گے اور جن ملازمین کی تاریخِ پیدائش میں غلطی یا ابہام موجود ہو، ان کیسز کو مقررہ قواعد و ضوابط اور تصدیقی دستاویزات کے ساتھ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ہر کیس کا انفرادی طور پر جائزہ لے کر شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمداسماعیل مینگل نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ اس عمل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور سروس ریکارڈ کی درستگی کے عمل کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر سرکاری ملازمین کے جائز مسائل کے حل اور انتظامی امور میں بہتری کے لیے باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید موثر بنانے پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر618/2026
لورالائی:29جنوری 2026اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیرِ صدارت پوست کی غیر قانونی کاشت کے حوالے سے ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ زراعت، لیویز، پولیس، ریونیو، اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنر کو ضلع کے مختلف علاقوں میں پوست کی ممکنہ کاشت، اس کی روک تھام کے لیے جاری اقدامات اور درپیش چیلنجز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پوست کی کاشت نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ یہ معاشرتی، معاشی اور صحت کے لحاظ سے بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق پوست کی کاشت کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مشتبہ علاقوں کی بروقت نشاندہی کی جائے، فیلڈ سرویلنس کو موثر بنایا جائے اور غیر قانونی کاشت میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے موثر مہم چلائی جائے گی تاکہ کاشتکاروں کو پوست کی کاشت کے قانونی نتائج اور نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ محکموں کے درمیان باہمی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے اور مشترکہ آپریشنز کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے آخر میں تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور اس حساس معاملے پر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 619/2026
لورالائی:29جنوری ۔ لورالائی میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر کیا۔ اس موقع پر ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شاہ زمان حمزہ زئی،این سٹاف ڈاکٹر فرحان،ڈویژنل کوراڈنیٹر ڈاکٹرزرک خان ، محمد ہاشم کاکڑ،فوکل پرسن،مختیاراحمد لونی محکمہ صحت کے افسران، پولیو پروگرام کے نمائندگان، سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اور پولیو ورکرز نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور ناقابلِ علاج مرض ہے جس سے بچوں کو مستقل معذوری لاحق ہو سکتی ہے، تاہم اس کا مکمل خاتمہ صرف اور صرف پولیو ویکسین کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ انسدادِ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران قطرے لازمی پلوائیں۔ڈپٹی کمشنر لورالائی نے کہا کہ ضلع لورالائی میں پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، سیکیورٹی فورسز اور فیلڈ ٹیمیں مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہی ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے فیلڈ میں تعینات ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ سرانجام دیں اور دور دراز علاقوں تک رسائی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے علما کرام، اساتذہ، قبائلی عمائدین اور میڈیا کو بھی شعور اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آخر میں ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے پولیو ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے مہم کی کامیابی کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر620/2026
کوئٹہ 29جنوری ۔ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کرنل عمران کی شہادت پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتیران نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ کرنل عمران کی شہادت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور پوری قوم اس اندوہناک واقعے پر غمزدہ ہے۔صوبائی وزیر نے شہید کرنل عمران کی قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کا مشن ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔سردار عبدالرحمن کھتیران نے کہا کہ حکومت پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پاک فوج کی مدد سے دہشت گرد عناصر کا قلع قمع کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو مکمل شفا عطا فرمائے اور شہید کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر621/2026
کوئٹہ 29 جنوری ۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کسٹم اور گاہی خان فلائی اوور کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔واضح رہے کہ کسٹم اور گائی خان فلائی اوور کا شمار صوبائی حکومت کے دو اہم منصوبوں میں ہوتا ہے جنکے مکمل ہونے سے سندھ پنجاب بشمول اندرون صوبے اور بلخصوص ہزار گنجی مارکیٹ جو کہ تجارتی لحاظ سے پورے صوبے کا مرکز ہے ان سب کو ٹریفک کے مساہل سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ان دو فلائی اوور کا ایک کلیدی کردار ہوگا اس دورے کے موقع پر چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ، ایگزیکٹو انجینئر روڈز سریاب ڈویژن حبیب احمد اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے دورے کے دوران ایگزیکٹو انجینئر روڈز سریاب ڈویژن حبیب احمد نے جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ گاہی خان فلائی اوور تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، جبکہ کسٹم فلائی اوور کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات کو منصوبوں کے مختلف حصوں کا سائٹ وزٹ بھی کرایا گیا اور تعمیراتی معیار، پیش رفت اور باقی ماندہ کاموں سے آگاہ کیا گیا۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ کسٹم اور گاہی خان فلائی اوور نہایت اہم نوعیت کے منصوبے ہیں، جن کی تکمیل سے کوئٹہ شہر میں داخلی و خارجی ٹریفک کے مسائل کے حل میں نمایاں مدد ملے گی اور شہریوں کو آمد و رفت میں سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ گاہی خان فلائی اوور کو آئندہ پندرہ روز کے اندر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھولا جائے تاکہ اس علاقے میں ٹریفک کا دباو کم ہو سکے۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے کسٹم فلائی اوور کے حوالے سے بھی سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کام کی رفتار کو مزید تیز اور بہتر بنایا جائے، اور بالخصوص کسٹم فلائی اوور کے سائیڈ لائن گریڈر لگا کر متبادل راستے کو بہتر کیا جائے تاکہ عوام کو آمد و رفت کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں جہاں بھی ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، وہاں عوام کو غیر ضروری مشکلات سے بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں روزِ اول سے کوئٹہ شہر کی ترقی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل سے نہ صرف عوام کو سہولت حاصل ہوگی بلکہ شہر میں تجارتی اور سماجی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر622/2026
لورالائی:29جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے گزشتہ رات پٹھانکوٹ کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے لورالائی پولیس کے کانسٹیبل دلاور خان کے گھر جا کر عیادت کی۔ افسران نے زخمی اہلکار کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے افسران نے کانسٹیبل دلاور خان کی جرات، بہادری اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر وقت اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں اور ریاست ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ ضلع لورالائی میں امن و امان کے قیام کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس مشترکہ طور پر بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرائم پیشہ عناصر اور امن دشمن قوتوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قانون کی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی۔افسران نے زخمی اہلکار کے اہلِ خانہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پولیس فورس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کسی بھی مشکل گھڑی میں پولیس اہلکاروں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کے تحفظ، امن و امان اور قانون کی بالادستی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر623/2026
موسیٰ خیل 29 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک سے تحصیل کنگری سے آئے ہوئے قبائلی عمائدین کے وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران علاقے کی مجموعی صورتحال، امن و امان کے قیام اور بالخصوص ضلع بارکھان کے ساتھ ملحقہ سرحدی حدود سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وفد نے ڈپٹی کمشنر کو ضلع بارکھان رکنی طرف کی جانب سے موسیٰ خیل کی حدود میں ہونے والی مبینہ تجاوزات کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ عمائدین کا کہنا تھا کہ سرحدی حدود میں مداخلت سے مقامی سطح پر بے چینی پیدا ہو رہی ہے جس کا فوری حل ناگزیر ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک نے وفد کے تحفظات کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ اپنی علاقائی حدود کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر سنجیدہ ہے۔تجاوزات کے معاملے کو فوری طور پر متعلقہ حکام اور بارکھان انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا تاکہ زمینی حقائق کے مطابق حدود کا تعین کیا جا سکے۔قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عوامی مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا ملاقات کے اختتام پر تحصیل کنگری کے معتبرین اور قبائلی عمائدین نے ضلعی انتظامیہ کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اورحکومتی رٹ کی بحالی کے لیے انتظامیہ کے ساتھ ہر قسم کے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 624/2026
شیرانی 29جنوری ۔ضلعی ہیڈکوارٹر شیرانی میں ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ کی زیر صدارت ایک باوقار اور عوامی نوعیت کی کھلی کچہری منعقد ہوئی، جس میں ضلع بھر سے سرکاری محکموں کے سربراہان، میونسپل کمیٹی کے چیئرمین، ضلع کونسل کے چیئرمین، سیاسی جماعتوں کے نمائندے، سماجی تنظیموں کے عہدیداران، قبائلی عمائدین اور مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے معزز شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کھلی کچہری کا مقصد عوامی مسائل کو براہِ راست سننا اور ان کے فوری و دیرپا حل کے لیے عملی اقدامات کرنا تھا۔کھلی کچہری کے دوران ضلعی ہیڈکوارٹر شیرانی کی مکمل فعالی سے متعلق اہم اور تاریخی فیصلے کیے گئے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شیرانی کے تمام سرکاری محکموں کے افسران ضلعی ہیڈکوارٹر میں قائم اپنے دفاتر میں باقاعدہ اور مستقل حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں گے، جبکہ کسی بھی افسر یا محکمے کو بغیر جواز ہیڈکوارٹر سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس فیصلے کو ضلع کی انتظامی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔شرکاء نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ضلع شیرانی کو دیگر اضلاع کے ہم پلہ لانے کے لیے یہاں مزید تحصیلوں کے قیام کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے اور ضلع میں رابطہ سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر و تکمیل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے، تاکہ عوام کو سفری سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر میسر آ سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی تحصیلوں کے قیام کے حوالے سے مانی خواہ سمیت چار تحصیلوں کی سفارشات اعلیٰ حکام کو ارسال کی جا چکی ہیں، اور اس معاملے پر سنجیدگی سے پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کے مشن پر کاربند ہے اور شیرانی کے عوام کے جائز حقوق کے تحفظ اور فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ عوام اور انتظامیہ کے باہمی تعاون کے بغیر ترقی کا خواب شرمند ہ تعبیر نہیں ہو سکتا، اور ہم سب کو مل کر ضلع شیرانی کی مکمل فعالی، خوشحالی اور ترقی کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور خلوص کے ساتھ نبھاتی رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر625/2026
زیارت 29جنوری ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں میونسپل کمیٹی آفس سنجاوی میں ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے عوام کے مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری لگایا گیا کھلی کچہری میں اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی شیر شاہ غلزئی،میونسپل کمیٹی کے چیئرمین حاجی خان محمد دمڑڈسٹرکٹ افسران دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے افراد نے شرکت کی اس موقع پربڑی تعداد میں عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے درخواستیں پیش کیں جن مسائل کا ضلعی انتظامیہ سے تعلق تھا ان پر ڈپٹی کمشنر نے موقع پر ہی احکامات جاری کئےسے تعلق رکھتے تھے ان پر ڈپٹی کمشنر نےموقع پر ہی احکامات جاری کئےڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کہا گورنمنٹ آف بلوچستان کے واضح احکامات ہیں کہ عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں ہماری کمٹمنٹ ہے کہ عوام کو زندگی کی تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن ہوسکے انہوں نے کہا کہ تعلیم صحت اور زندگی کی تمام شعبہ جات کی فعالیت کے لیے بھرپور اقدامات کئے جارہے ہیں ضلع زیارت میں جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کرکے ضلع زیارت کو امن وامان کی راہ پر گامزن کردیا ہے انفراسٹرکچر کی بہتر کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ہر فورم پر اپنے مسائل کی نشاندہی کریں ہم پوری کمٹمنٹ سے ان کے مسائل حل کریں گے انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا اصل مقصدعوام کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے حکومت آف بلوچستان کے واضح احکامات ہے کہ عوام کے مسائل ھل کئے جائیں اور عوام کو زندگی کی تمام سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کئے جائیں ان کو ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے عوام کے مسائل کا ادراک ہے انہوں نے کہا کہ جو مسائل دفاتر میں حل ہوسکتے ہین ان کو دفتر میں حل کریں گے جو عوام کے عام مسائل ہے ان کو کھلی کچہری کا انعقاد کرکے ان کے مسائل سن کر ان کو ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 626/2026
زیار ت 29جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال زیارت کادورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے ملازمین کا حاضری رجسٹر چیک کیا ہسپتال کے انفارمیشن ڈیسک،مختلف وارڈزکا معائنہ کیااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر شیر شاہ غلزئی، میونسپل کمیٹی کے چیئرمین حاجی خان محمد دمڑ بھی موجود تھے،ڈپٹی کمشنرڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نےکہاکہ غیر حاضر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے گی ڈاکٹر اور مددگار اسٹاف کی غیر حاضری کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کا بروقت علاج کیا جائے ان کی داد رسی کی جائے تاکہ مریضوں کو مشکلات نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپوراقدامات کیے جائیں گے انہون نے کہا کہ ڈاکٹز قوم کے مسیحا ہے وہ اپنے قومی فریضہ کوایمانداری سے ادا کریں اور مریضوں کی بروقت علاج کریں تاکہ مریضوں کو کسی بھی مشکلات کا سامنا نہ ہو انہوں نے کہا محکمہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر627/2026
کوئٹہ، 29 جنوری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے تمام نو منتخب عہدیداران کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے نو منتخب صدر منظور احمد، سینئر نائب صدر فرید اللہ، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین، نائب صدر ظفر بلوچ، فنانس سیکرٹری عصمت سمالانی، سینئر جوائنٹ سیکرٹری کفایت علی اور جوائنٹ سیکرٹری عدنان سعید سمیت مجلسِ عاملہ کے نو منتخب اراکین رضا الرحمان، سلیم شاہد، خلیل احمد، شہزادہ ذوالفقار، ارشد بٹ، مرتضیٰ زہری، محمد عامر اور محب اللہ کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ صحافتی اقدار، آزادیِ اظہار اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے موثر کردار ادا کریں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آزاد، ذمہ دار اور مضبوط صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے صوبائی حکومت صحافی برادری کے مسائل کے حل، تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں صحافیوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور صحافتی تنظیمیں مل کر کام کریں گی وزیر اعلیٰ نے نو منتخب قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس صوبے میں مثبت، تعمیری اور ذمہ دار صحافت کے فروغ میں اپنا کردار مزید موثر انداز میں ادا کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر628/2026
کوئٹہ،29 جنوری ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے تمام نو منتخب عہدیداران کو دلی مبارکباد پیش کی ہے شاہد رند نے نو منتخب صدر منظور احمد، سینئر نائب صدر فرید اللہ، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین، نائب صدر ظفر بلوچ، فنانس سیکرٹری عصمت سمالانی، سینئر جوائنٹ سیکرٹری کفایت علی اور جوائنٹ سیکرٹری عدنان سعید کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک تمناوں کا اظہار کیا انہوں نے مجلسِ عاملہ کے نو منتخب اراکین رضا الرحمان، سلیم شاہد، خلیل احمد، شہزادہ ذوالفقار، ارشد بٹ، مرتضیٰ زہری، محمد عامر اور محب اللہ کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس صوبے میں صحافت کے پیشہ ورانہ معیار، آزادیِ اظہار اور صحافی برادری کے حقوق کے تحفظ میں ایک مو¿ثر اور ذمہ دار کردار ادا کرتی رہی ہے شاہد رند نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں آزاد اور باخبر صحافت ریاست اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے، اور صوبائی حکومت صحافی برادری کے ساتھ باہمی احترام اور تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان صحافیوں کے جائز مسائل کے حل اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی معاون برائے سیاسی و میڈیا امور نے نو منتخب قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی منتخب باڈی صوبے میں ذمہ دار، مثبت اور تعمیری صحافت کے فروغ کے لیے اپنا کردار مزید موثر انداز میں ادا کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر629/2026
کوئٹہ، 29 جنوری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے تمام نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی ہے اپنے پیغام میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے نو منتخب صدر منظور احمد، سینئر نائب صدر فرید اللہ، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین، نائب صدر ظفر بلوچ، فنانس سیکرٹری عصمت سمالانی، سینئر جوائنٹ سیکرٹری کفایت علی اور جوائنٹ سیکرٹری عدنان سعید کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط، باوقار اور ذمہ دار صحافتی قیادت معاشرے میں مثبت سوچ اور جمہوری اقدار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے انہوں نے مجلسِ عاملہ کے نو منتخب اراکین رضا الرحمان، سلیم شاہد، سید خلیل الرحمٰن شہزادہ ذوالفقار، ارشد بٹ، مرتضیٰ زہری، محمد عامر اور محب اللہ کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی منتخب قیادت بالخصوص خواتین، بچوں اور سماجی ترقی سے جڑے حساس معاملات کو اجاگر کرنے میں موثر کردار ادا کرے گی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت خواتین کے حقوق، سماجی انصاف اور انسانی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، صوبائی حکومت صحافی برادری کے ساتھ مل کر خواتین کی فلاح و بہبود، بااختیاری اور ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی انہوں نے نو منتخب عہدیداران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس آئندہ بھی معاشرتی شعور اجاگر کرنے اور مثبت صحافت کے فروغ میں اپنا موثر کردار ادا کرتی رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر630/2026
موسیٰ خیل 29 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی (PPHI) کا ماہانہ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اے ڈی ایس ایم (ADSM) پی پی ایچ آئی نے ضلع میں صحت کی مجموعی صورتحال، ادویات کی فراہمی اور مراکزِ صحت کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی دوران بریفنگ ڈپٹی کمشنر کو بتایا گیا کہ ضلع کے تمام بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) میں ادویات کا اسٹاک موجود ہے اور دور دراز علاقوں میں زچہ و بچہ کی صحت سمیت دیگر طبی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا گیا ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے ضلع میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے پی پی ایچ آئی کی مجموعی کارکردگی کو سراہا اور عملے کی کوششوں کی تعریف کی ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ عوامی خدمت کا یہ سفر اسی جذبے کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مراکزِ صحت میں طبی عملے کی حاضری کو سو فیصد یقینی بنایا جائے تاکہ غریب مریضوں کو بروقت علاج میسر آ سکے انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا ہے، اس لیے پی پی ایچ آئی ادویات کی مفت فراہمی اور مانیٹرنگ کے عمل کو مزید سخت کرے ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خود بھی مراکزِ صحت کے دورے جاری رکھیں گے تاکہ بہتری کا عمل برقرار رہے۔ اجلاس کے اختتام پر پی پی ایچ آئی کی انتظامیہ کو مستقبل کے اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر631/2026
گوادر۔ 29 جنوری ۔ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمن کے ہمراہ گوادر میں جاری میونسپل کمیٹی کے زیر انتظام سندھ بلوچستان ناک آوٹ فٹبال ٹورنامنٹ بیادِ سید ظہور شاہ ہاشمی کے کوارٹر فائنل میچ میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔کوارٹر فائنل میچ حاجی لیاقت میموریل فٹبال کلب اور عادل چاند فٹبال کلب کراچی کے درمیان کھیلا گیا، جس میں حاجی لیاقت میموریل فٹبال کلب نے ایک صفر کی برتری سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔مہمانِ خصوصی نے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے کہا کہ جی ڈی اے گوادر میں جدید طرز پر انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدانوں کی آبادکاری اور کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابا بزنجو فٹبال گراونڈ اس کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں معیاری سبزہ، وسیع سیٹنگ ایریا اور جدید لائٹنگ کا انتظام موجود ہے، جس کے باعث آج یہاں شاندار مقابلے منعقد ہو رہے ہیں اور اور پورا گراونڈ شائقین سے بھرا ہوا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جی ڈی اے کی جانب سے ایک جدید کرکٹ اسٹیڈیم بھی تعمیر و توسیع اور تزئین آرائش کیا گیا ہے، جبکہ دو مزید کھیل کے میدان زیرِ تعمیر ہیں جن میں سورگ دل گراونڈ اور ینگ جان فٹسال گراونڈ شامل ہیں۔ جی ڈی اے نے ہمیشہ کھیل اور کھلاڑیوں کی ترقی و ترویج کے لیے اقدامات کیے ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے کہا کہ کھیل صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جی ڈی اے اس ضمن میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر632/2026
موسیٰ خیل 29 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت 02 فروری سے شروع ہونے والی ملک گیر انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے پولیو ریڈنیس اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، سے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ، متعلقہ محکموں کے افسران، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندے اور یو سی ایم اوز نے شرکت کی اجلاس کے دوران مہم کی مائیکرو پلاننگ، ٹیموں کی تشکیل اور حساس یونین کونسلز میں سیکیورٹی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مہم کے تمام انتظامی و تکنیکی مراحل مکمل کر لیے گئے ہیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیو جیسی موذی بیماری کا خاتمہ ہمارا قومی فریضہ ہے، جس میں کسی بھی سطح پر کوتاہی یا غفلت کی گنجائش نہیں ہے۔ تمام فیلڈ سٹاف اور مانیٹرنگ افسران اس بات کو یقینی بنائیں کہ ضلع کے دور دراز علاقوں میں موجود ہر بچے تک رسائی حاصل کی جائے اور کوئی بھی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ مہم کی کامیابی کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی اور انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے مقامی معتبرین اور علمائ کرام کا تعاون بھی حاصل کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 633/2026
چمن29 جنوری . چمن حالیہ شدید برفباری اور سیلابی ریلوں سے چمن میں چند ایک مقامات پر گھروں کی چار دیواری اور کمرے گرنے اور املاک کو نقصان پہنچنے کے فوراً بعد بھی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے متاثرہ خاندانوں کو بروقت امدادی سامان مہیا کی گئی آج چمن ہندو سوز چوک کے قریب لالا چائے والے کے گھر کی چار دیواری اور املاک کو نقصان پہنچنے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر نے کے ساتھ ساتھ انھیں کمبلز خوراکی اجناس گیس ہیٹر سلنڈر اور دیگر گھریلو سامان فراہم کی گئی۔ جہاں متاثرہ خاندان کے افراد نے ڈی سی چمن اور ضلعی انتظامیہ کی امدادی سامان پر مسرت اور خوشی کا اظہار کیا اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نہنے اس عزم کا اظہار کیا کہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں عوام الناس اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں ضلعی انتظامیہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہیں اور عوام کیساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
۔۔۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video