خبرنامہ نمبر3332/2026
کچلاک۔ 28 مارچ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے تعلیم ہی ترقی کا زینہ ہے حکومت نے 3200 بند اسکولوں کو نہ صرف دوبارہ کھولا ہے بلکہ فعال بھی بنایا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کچلاک میں فلاحی تعلیمی ادارے کا سنگ بنیاد رکھنے سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم سے ہی ترقی ہے اور جو قومیں تعلیم کو اپنا زیور بناتی ہے وہ ترقی کی منزلیں طے کرتی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ عہد کیا ہے کہ ایک بھی سرکاری اسکول بند نہیں ہوگا اور صوبہ میں معیاری تعلیم کی فراہمی جاری رہے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اہم ذمہ داری میں مخیر حضرات کا آگے آنا ایک خوش آئند امر ہے جس کے تسلسل کو جاری رہنا چاہیے اور ایسے اقدامات حکومت کے لئے بھی باعث تقویت ہوتے ہیں اور معاشرے کی مجموعی تعمیر و ترقی اور خوشحالی میں بھی کار آمد ثابت ہوتے ہیں انہوں اس موقع پر فلاحی تعمیری ادارے کے سربراہ داؤد خان خلجی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اس تعلیمی ادارے کی مزید ترقی کے لیے اپنا مکمل تعاون فراہم کرے گی وزیراعلیٰ نے منعقدہ تقریب میں فلاحی تعلیمی ادارے کے بچوں میں یونیفارم بھی تقسیم کیے تقریب میں صوبائی وزراء، بخت محمد کاکڑ، میر ظہور احمد بلیدی، اراکین اسمبلی زرک خان مندوخیل، علی مدد جتک، ملک نعیم خان بازئی اور سینیٹز شاہ زیب خان درانی سمیت مقامی قبائلی عمائدین اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر3333/2026
کچلاک۔ 28 مارچ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ہفتہ کے روز کلی ناصران گئے جہاں قبائلی رہنما شیر خان ناصر کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ میں مقامی قبائلی عمائدین و مشران نے وزیر اعلیٰ کا پرتپاک استقبال کیا صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ، اراکین صوبائی اسمبلی ملک نعیم خان بازئی، علی مدد جتک، زرک خان مندوخیل اور سینیٹر آغا شاہزیب خان درانی سمیت قبائلی عمائدین اور مشران بھی اس موقع پر موجود تھے وزیراعلیٰ ودیگر کو اس موقع پر روایتی پگڑیاں بھی پہنائی گئی وزیر اعلیٰ نے قبائلی معتبرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے اضلاع بنانے کا مقصد صوبے کے ان علاقوں کو بھی ترقی کے سفر میں شامل کرنا ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں کاریزات کو ضلع بنانے سے متعلق امور پر ضرور غور کیا جائے گا انہوں نے اس موقع کلی ناصران کے نام ناصر آباد میں تبدیل کرنے کا اعلان بھی کیا مقامی معتبرین نے علاقے میں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کا بھرپور شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر3334/2026
لورالائی 28 مارچ۔لورالائی شہر کے علاقے مہاجر اڈا اور ملحقہ گلیوں میں حالیہ بارش کے بعد پیدا ہونے والی ابتر صورتحال پر ضلعی انتظامیہ نے فوری نوٹس لے لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں سڑکوں اور گلیوں میں جمع پانی اور شہریوں کو درپیش مشکلات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) حسیب شجاع کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم کی سربراہی میں متعلقہ عملے کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیا گیا۔ انتظامیہ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر نکاسی آب کے عمل کا آغاز کیا اور بند نالوں کی صفائی بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ بارش کے پانی کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق، عارضی اقدامات کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر مسائل کے حل کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی بحالی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ادھر مقامی شہریوں نے انتظامیہ کے فوری اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی? آب کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ بارشوں کے دوران ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔مزید یہ کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران لورالائی اور گردونواح میں مزید ہلکی سے درمیانی بارش کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ریسکیو اور میونسپل عملے کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
خبرنامہ نمبر3335/2026
تربت۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے گزشتہ روز میونسپل کارپوریشن کے عملے کے ہمراہ شہر میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کے موجودہ مقام کا دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے تربت شہر کے نواحی علاقے میں مجوزہ ڈمپنگ سائٹ کا بھی تفصیلی معائنہ کیا، تاکہ شہر کے کچرے کو مستقل بنیادوں پر شہر سے باہر منتقل کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی واضع کی جا سکے۔اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ تربت شہر کا کچرا مستقل طور پر شہر سے باہر مخصوص ڈمپنگ سائٹ پر منتقل کیا جائے گا، تاکہ بارشوں کے دوران کچرے کو ندی نالوں اور ڈیم کے پانی میں شامل ہونے سے روکا جا سکے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3336/2026
نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایس ایس پی اسد ناصر، اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ ایگزیکٹو انجینئر بی اینڈ آر عبدالرحمن خان کاکڑ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ احمد نواز جتک ڈاکٹر ایاز حسین جمالی امان اللہ گاجانی سمیت تمام ضلعی محکموں کے سربراہان اور انٹیلیجنس اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ امن و امان، سروس ڈیلیوری اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق امور پر بھی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف محکموں کے افسران نے اپنے اپنے شعبوں کی کارکردگی اور جاری اسکیموں کے بارے میں بریفنگ دی اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کیتحت جاری منصوبے علاقے کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کریں گے، انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت میں شفافیت اور معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں، انہوں نے کہا کہ محکموں کے درمیان باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جا سکے، اجلاس میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع میں ترقیاتی عمل اور عوامی خدمت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر3337/2026
ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاح سے انکے دفتر میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر و ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد مقبول نے ملاقات کی۔اس موقع پر ڈی ایچ او و ڈائریکٹر ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ سے محکمہ صحت کے مجموعی مسائل،انسداد پولیو مہم،سٹاف کی حاضری،ہیلتھ مراکز کی فعالیت، ٹرانسپورٹ کے مسائل،لیڈی ہیلتھ ورکرز کے کام بشمول دیگر تمام مسائل چیلنجز، اور محکمہ صحت کو عوام کے لئیے صحیح معنوں میں فعال ادارہ بنانا، صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری صحت اور چیف سیکرٹری کے ہدایات و احکامات کو عملی جامعہ پہنانے جیسے اقدامات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر نے انکے کئے گئے اقدامات کو سراہا۔ مل جل کر کام کرنے کی ہدایت کی۔اور اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کرائی۔
خبرنامہ نمبر3338/2026
لورالائی 28 مارچ۔لورالائی شہر کے علاقے مہاجر اڈا اور ملحقہ گلیوں میں حالیہ بارش کے بعد پیدا ہونے والی ابتر صورتحال پر ضلعی انتظامیہ نے فوری نوٹس لے لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں سڑکوں اور گلیوں میں جمع پانی اور شہریوں کو درپیش مشکلات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) حسیب شجاع کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم کی سربراہی میں متعلقہ عملے کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیا گیا۔ انتظامیہ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر نکاسی آب کے عمل کا آغاز کیا اور بند نالوں کی صفائی بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ بارش کے پانی کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق، عارضی اقدامات کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر مسائل کے حل کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی بحالی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ادھر مقامی شہریوں نے انتظامیہ کے فوری اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی? آب کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ بارشوں کے دوران ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔مزید یہ کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران لورالائی اور گردونواح میں مزید ہلکی سے درمیانی بارش کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ریسکیو اور میونسپل عملے کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
خبرنامہ نمبر3339/2026
دکی28مارچ 2026 ضلعی انتظامیہ دکی کے زیرِ اہتمام ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کو براہِ راست سننا اور ان کے فوری و مؤثر حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانا تھا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے کی، جبکہ کرنل بلال شاہد، ایس پی منصور، ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی خیر اللہ ناصر اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اعلیٰ حکام کی موجودگی اس فورم کی اہمیت اور سنجیدگی کو واضح کرتی ہے۔کھلی کچہری میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے عمائدین، سماجی شخصیات، اور عام شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے بلا جھجھک اپنے مسائل پیش کیے، جن میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر، نکاسی آب کی ناکامی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، اور صحت و تعلیم کی ناکافی سہولیات نمایاں رہے۔ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران نے شہریوں کے مسائل کو تفصیل سے سنا اور موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو فوری کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔ متعدد مسائل کے حل کے لیے واضح ڈیڈ لائنز مقرر کی گئیں، جبکہ پیچیدہ نوعیت کے معاملات کے لیے فالو اپ اجلاس منعقد کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔اجلاس کے دوران اہم فیصلے بھی کیے گئے، جن میں منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن، شہر اور مضافاتی علاقوں میں پولیس گشت میں اضافہ، اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور شہری بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوامی شکایات کے ازالے میں تاخیر سے گریز کریں اور اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں۔اجلاس کے اختتام پر کلی بختیار خان لونی کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔ اس موقع پر علاقے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں، جس سے فضا نہایت جذباتی اور یکجہتی کی عکاس بن گئی۔ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ بھی مختلف علاقوں میں کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی شکایتی سیل قائم کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے، جہاں شہری اپنی شکایات آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے درج کروا سکیں گے۔مجموعی طور پر یہ کھلی کچہری نہ صرف عوامی مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہوئی بلکہ شفاف حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
خبرنامہ نمبر3340/2026
اسلام آباد، 28مارچ:بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے سعودی عرب کی افرادی قوت کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی ترقی کے اقدامات پر غور کے لیے ایک اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں ڈاکٹر شعیب احمد کی سربراہی میں زیرک، ہاؤس آف قاصب اور کیس کیئر کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سعودی عرب کی منڈی کیضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کو جدید اور مطلوبہ مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔اس سلسلے میں تربیتی پروگرامز، تکنیکی تعلیم اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مربوط حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف افرادی قوت کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ملکی سطح پر معاشی ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔اجلاس میں مستقبل میں قریبی تعاون اور عملی اقدامات کے ذریعے مہارتوں کی ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔بلال خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق ہنر مند بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سمیت بین الاقوامی منڈیوں میں روزگار کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے معیاری تربیت، جدید مہارتوں اور مضبوط ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
خبرنامہ نمبر3341/2026
اُستامحمد۔۔ ڈپٹی کمشنر اُستامحمد کی سربراہی میں اُستامحمد میں جعفرآباد پل کے مقام پر کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ایس پی اُستامحمد ماز الرحمان، ضلع کے تمام محکموں کے سربراہان، علاقہ معززین، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں عوام نے کھل کر اپنے مسائل پیش کیے اور مختلف تجاویز بھی دیں شرکاء میں علاقہ معتبرین میں علی شیر خان مگسی، سکندر خان عمرانی، نثار احمد رند، مہیم خان لہڑی، دل مراد عمرانی، رنجھان خان جویا، صابر علی پندرانی، گل شیر (بی ایس طالبعلم)، عبدالرؤف رند، لعل محمد (پراپوزڈ سپاہی)، اسماعیل بلیدی، سلیم اختر سومرو، نذیر احمد جویا جبکہ حبیب کوٹ بیرون سے عبدالفتاح لہڑی، فرید احمد پندرانی، محمد پناہ گاؤں سے میوہ خان بابر علی، علی گل پندرانی، آصف علی جمالی، رجب علی جمالی، عطااللہ خان نوشکی سے ثنائاللہ خان رند شامل تھے ان کے علاوہ دیگر متعلقہ علاقوں سیلوگوں کی بڑی تعداد نے کھلی کچہری میں بھرپور حصہ لیا۔عوام کی جانب سے پیش کیے گئے اہم مسائل میں جعفرآباد میں گرلز ہائی اسکول کے قیام کی ضرورت، امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری اور پولیس چیک پوسٹس پر نفری میں اضافہ، سیف شاخ چیک پوسٹ کو فعال بنانے، سیم شاخ پل کی تعمیر، کِھیرتر کینال اور اس کی ڈسٹریبیوٹریز کی صفائی، فیض آباد ریگولیٹر/پل کی بحالی، مہیم خان روڈ کی بحالی، سیم نالوں کی صفائی، ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ایمبولینسز کی تعداد بڑھانے، اُستامحمد شہر میں سلاٹر ہاؤس کے قیام، حبیب کوٹ بیرون میں واٹر سپلائی اسکیم کی بحالی اور بی ایچ یو کے قیام، قبولہ تا دھابو، مِتھڑی تا کِھیرتر کینال اور فیض آباد تا باغ ہیڈ روڈ کے زیر التواء منصوبوں کی تکمیل، شامل ہیر دین ڈرین کی انکوائری (2022 ورلڈ بینک فنڈڈ منصوبہ)، سبی پل کی تعمیر، گورنمنٹ اسکولز کی بحالی و اپگریڈیشن، فیض آباد پل پر ہینڈ بورز کی تنصیب، لُنڈی مائنر کی صفائی کا کام دوبارہ شروع کرنے، جبکہ ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکاروں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی جیسے امور شامل تھے.اس موقع پر ایس پی اُستامحمد نے سیف شاخ چیک پوسٹ کو فوری طور پر بحال اور فعال کرنے کے احکامات جاری کیے، جبکہ عوامی شکایت پر ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکاروں کے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی عائد کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر اُستامحمد نے عوامی مسائل کو بغور سنا اور متعدد شکایات پر موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ خصوصاً کریم داد بلیدی کی حدبندی سے متعلق شکایت کو اسی ہفتے حل کرنے کی ہدایت متعلقہ ریونیو عملے کو دی گئی۔مزید برآں ڈپٹی کمشنر اُستامحمد نے ایگزیکٹو انجینئرز ایریگیشن، روڈز، ڈرینیج اور پی ایچ ای ڈی کو ہدایت دی کہ بی ایس ڈی آئی کے آئندہ مرحلے کے لیے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے کانسیپٹ پیپرز کی تیاری فوری شروع کی جائے، تاکہ انہیں آئندہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) اجلاس میں سفارشات کے ساتھ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (P&D) کو ارسال کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد عوام کے مسائل کو براہ راست سن کر فوری اور مؤثر حل فراہم کرنا ہے، اور ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے ہر وقت متحرک ہے۔
خبرنامہ نمبر3342/2026
گوادر۔28 مارچ، اسپیشل سیکرٹری صحت بلوچستان شہک شہداد نے رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن کے ہمراہ جی ڈی اے پاک چائنہ فرینڈشپ ہسپتال گوادر زیر انتظام انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، انتظامی امور اور مریضوں کو دی جانے والی خدمات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ہسپتال کے ہیڈ آف کیمپس ڈاکٹر عفان فائق زادہ نے اسپیشل سیکرٹری کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، طبی سہولیات اور جدید نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہسپتال نہ صرف گوادر بلکہ ضلع کے مضافاتی علاقوں، مکران ڈویژن کے دیگر اضلاع اور سرحدی علاقوں بشمول ایران سے آنے والے مریضوں کو بھی معیاری اور مفت طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔بریفنگ کے مطابق ہسپتال میں اس وقت 17 سے زائد تشخیصی شعبہ جات فعال ہیں جہاں 28 اسپیشلسٹ ڈاکٹرز، 48 میڈیکل آفیسرز اور 80 سے زائد نرسنگ اسٹاف پر مشتمل عملہ طبی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ہسپتال میں جدید طبی سہولیات جیسے سی ٹی اسکین، ایکسرے، میموگرافی، مکمل لیبارٹری، بلڈ بینک اور 24 گھنٹے فعال ایمرجنسی سروسز دستیاب ہیں۔ روزانہ اوسطاً 1100 سے 1200 مریض مستفید ہو رہے ہیں جبکہ انڈور مریضوں کے لیے ادویات کے ساتھ معیاری خوراک کا بھی انتظام موجود ہے۔مزید بتایا گیا کہ ہسپتال مکمل طور پر پیپرلیس اور ڈیجیٹلائزڈ نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے، جہاں مریضوں کا تمام ریکارڈ مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جاتا ہے، جس سے شفافیت اور سہولت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتال میں پیچیدہ طبی سہولیات جیسے گھٹنوں کی تبدیلی (Knee Replacement) اور دیگر جدید علاج بھی فراہم کیے جا رہے ہیں، جن سے مقامی آبادی کو بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔اور عنقریب کارڈیالوجی اور گیسٹرواینٹڑولوجی کے شعبے بھی شروع کر دیے جائیں گے، جس سے مریضوں کو مزید سہولیات میسر آئیں گی۔اسپیشل سیکرٹری صحت شہک شہداد نے ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، معیارِ علاج اور مریض دوست ماحول پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو صحت کے شعبے میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم جی ڈی اے پاک چائنہ فرینڈشپ ہسپتال ایک مثالی ادارہ ہے جہاں عوام کو معیاری اور مفت طبی سہولیات میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس ضمن میں ایسے اداروں کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے، خصوصاً نئے تشخیصی شعبہ جات کے قیام، نرسنگ سروسز کی مزید بہتری اور عوام میں دستیاب سہولیات کے حوالے سے آگاہی مہم کو وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہسپتال کی بدولت کراچی منتقل کیے جانے والے مریضوں کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن نے بھی ہسپتال کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ یہ ادارہ علاقے کے عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے غریب مریضوں کو علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرناپڑتا تھا، جو ان کے لیے مالی طور پر ممکن نہیں تھا، تاہم اب انہیں اپنے ہی علاقے میں مفت اور معیاری علاج میسر ہے۔آخر میں اسپیشل سیکرٹری صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت اس ہسپتال کی مزید ترقی، توسیع اور سہولیات کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے تاکہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی عوام کو بہترین طبی خدمات فراہم کرتا رہے۔ اس موقع پر ڈی ایچ او گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر، سابق ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالواحد بلوچ اور ڈسٹرکٹ مینیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی بھی ہمراہ تھے۔
خبرنامہ نمبر3343/2026
ہرنائی28مارچ:ماحولیاتی تحفظ اور تعلیمی اداروں کی خوبصورتی کے لیے ہرنائی کے بوائز اور گرلز ڈگری کالجز میں دو ماہ کی مختصر مدت میں ایک مثالی شجرکاری مہم کا انعقاد کیا گیا، جس کے تحت 80 مختلف اقسام کے 1150 سے زائد پودے اور درخت لگائے گئے۔ پرنسپل پروفیسر امرالدین ناصر اور عقیب اللہ شاہ کی متحرک قیادت میں شروع کی جانے والی اس مہم نے نہ صرف کیمپس کے منظر نامے کو بدل دیا ہے بلکہ طلبہ میں ماحول دوست شعور اجاگر کرنے کی ایک روشن مثال بھی قائم کی ہے۔اس شاندار مہم کی کامیابی کے لیے ایک منظم حکمت عملی اپنائی گئی، جس کے تحت روزانہ کی بنیاد پر ایک پروفیسر کو نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ کالج کے تدریسی عملے، اسٹاف اور درجہ چہارم کے ملازمین نے اپنی مشترکہ کوششوں سے پورے کیمپس کو سرسبز و شاداب بنا دیا۔ مہم کے دوران کالج کے مختلف حصوں میں 23 خصوصی کیاریاں (بیڈز) تیار کی گئیں جبکہ 8 مختلف مقامات پر وسیع لان بنائے گئے۔شجرکاری کا دائرہ کار صرف تعلیمی بلاکس تک محدود نہیں رہا بلکہ پروفیسرز اور سرونٹ کوارٹرز میں بھی پودے لگائے گئے تاکہ پورا رہائشی و تعلیمی علاقہ ماحول دوست بن سکے۔ اس مہم کے لیے پودے سرکاری و نجی نرسریوں اور مختلف دفاتر کے تعاون سے حاصل کیے گئے، جو کہ عوامی اور سرکاری سطح پر سماجی ذمہ داری کے بہترین اشتراک کی علامت ہے۔کالج کے پرنسپل نے اس موقع پر تمام اساتذہ اور معاون عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی محنت کو سراہا۔ انہوں نے خاص طور پر درجہ چہارم کے ملازمین حیدر شاہ، نصرالدین، سمیع اللہ ترین، نواز مری اور بلوس خان دومڑ کی لگن کی تعریف کی، جن کی انتھک محنت نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ہرنائی کے ڈگری کالجز میں جاری یہ مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر قیادت مخلص ہو اور ٹیم ورک کا جذبہ موجود ہو تو محدود وسائل میں بھی بڑے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف علاقے کے درجہ حرارت میں کمی اور فضائی آلودگی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور ہرا بھرا ماحول بھی فراہم کرے گا۔
خبرنامہ نمبر 3344/2026
کوئٹہ28 مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ مختلف قبائل کو آپس میں شیر و شکر کرنے اور علاقائی جھگڑوں کے خاتمے کیلئے ہمارا شاندار قومی جرگہ سسٹم آج بھی بہت موثر اور معتبر ذریعہ ہے۔ یہ وقت مختلف اقوام اور قبائل کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ہے کیونکہ بحیثیت قوم ہم مزید نفرتوں، قبائلی دشمنیوں اور علاقائی تنازعات کا متحمل نہیں ہو سکتے لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ علاقے کے سیاسی اکابرین، دینی علماء کرام اور مشائخ عظام کو ہر قسم کے علاقائی تنازعات اور قبائلی دشمنیوں کے خاتمے کیلئے اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کریں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے قلعہ عبداللہ اور ڈسٹرکٹ پشین میں مختلف سیاسی، مذہبی اور قبائلی شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ضلعی انتظامیہ کو خصوصی ہدایت کی کہ وہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں۔ آمن و امان کو برقرار رکھنے کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے قلعہ عبداللہ کے علاقے سیگئی میں قبائلی شخصیت حاجی محمد عمرخان ترین کی رہائشگاہ پر انکے بھائی حاجی محمد طاہرخان ترین سمیت علی محمد پہلوان اور حاجی عبدالروف خان ترین سیگئی سے انکے فرزند شہید اسلم خان ترین کی شہادت پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہداء کی مغفرت اور سوگوار خاندانوں کے لواحقین کو صبر وجمیل عطا کرنے کی دعا کی۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل کے ہمراہ صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، قبائلی رہنما ملک سعداللہ جان ترین، ملک نعمت اللہ خان سیگئی، ملک محب اللہ خان ترین اور حاجی قطب الدین اغا تھے۔ گورنر بلوچستان نے سیگئی میں گزشتہ روز مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکار نقیب اللہ ترین کی شہادت پر بھی گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا، اور ان کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ مسلح افراد کے ہاتھوں شہید ہونے والے شہید پولیس اہلکار کے بیٹے کو ملازمت دی جائیگی۔ بعدازاں گورنربلوچستان نے ضلع پشین کے علاقے یارو میں مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے باپ اور بیٹی سمیت تین افراد کی شہادت پر ان کے لواحقین سے بھی تعزیت کی اور دعائے مغفرت کی۔
خبرنامہ نمبر 3345/2026
چمن28 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی وژن عوام کو بہترین طبی سہولیات اور علاج و معالجہ کو یقینی بنانے کیلئے ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے آج نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر محمد آویس نے ڈی سی چمن کو ہسپتال کے حوالےسے تفصیلی بریفنگ دی گئی دورے کے دوران انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، انتظامی امور صفائی ستھرائی اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا انہوں نے ڈاکٹروں اور سٹاف کی حاضریاں چیک کیں ڈی سی چمن نے اس موقع پر کہا کہ ہسپتال میں ڈاکٹرز اور سٹاف اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں اور وقت کی پابندی کریں انہوں نے کہا کہ اگر ضلعی ہسپتالوں اور دیگر ہیلتھ سنٹرز میں مریضوں کی علاج معالجے کو یقینی بنایا جائے تو مقامی آبادی کو بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم پڑ جائے گی ڈی سی چمن نے ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، معیارِ علاج اور انسانیت دوست ماحول پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع چمن کو سرحدی ضلع ہونے کی وجہ سے امن و امان صحت عامہ تعلیم اور دیگر تمام حوالوں سے متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن اچھی کارکردگی اور ذمہداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس ضمن میں ہیلتھ سنٹرز کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے، خصوصاً نئے تشخیصی شعبہ جات کے قیام، نرسنگ سروسز کی مزید بہتری اور عوام میں دستیاب سہولیات کے حوالے سے آگاہی مہم کو وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال عملہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کوشش کریں کہ عوام کو مجبوراً بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے چمن کے عوام کی ممکن حد تک علاج و معالجہ اور طبی سہولیات کو چمن ہی میں فراہمی کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ چمن کی عوام کو علاقے میں ہی مفت اور معیاری علاج اور طبی سہولیات تک رسائی ممکن اور سہل بنا کر انسانیت دوست ماحول کو فروغ دیں۔
خبرنامہ نمبر 3346/2026
قلعہ عبداللہ 28 مارچ:قلعہ عبداللہ درہ ارمبئی (کاکوزئی) میں حالیہ موسلا دھار بارشوں اور طغیانی نے شدید تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں متعدد گھر متاثر، زرعی اراضی کو نقصان اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے ہنگامی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ان کی خصوصی ہدایات پر ڈی سی سپرنٹنڈنٹ جعفر خان ترین کی نگرانی میں ایک منظم ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے نقصانات کا جائزہ لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔انتظامیہ کی جانب سے سلالہ تھانہ، کلی خچو کاکوزئی، کلی کاریز، کلی مخل کاکوزئی اور درہ ارمبئی کے مختلف متاثرہ مقامات پر مستحق خاندانوں میں خوراک، خیمے، کمبل اور دیگر ضروری اشیاء تقسیم کی گئیں۔ ٹیم نے متاثرین سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے متاثرین کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے اور متاثرہ علاقوں میں مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے۔مقامی عمائدین اور عوام نے ضلعی انتظامیہ کی بروقت کارروائیوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ متاثرین کی مکمل بحالی تک امدادی کام جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 3347/2026
چمن:ملک بھر میں غیر قانونی طور مقیم افغان باشندوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے کراچی اور دیگر علاقوں سے حراست میں لیے گئے درجنوں افغان باشندوں کو چمن ود ہولڈنگ کیمپ میں نادرا ڈیٹا بیس میں رجسٹریشن اور دیگر ضروری دستاویزی کاروائی مکمل کرنے کے بعد چمن بارڈر کے راستے افغانستان ڈی پورٹ کیے جا رہے ہیں ضلعی انتظامیہ چمن کے ایک ذمہدار آفیسر نے کہا کہ چمن میں بھی روزانہ کی بنیاد پر ناکوں چوراہوں بازاروں اور دیہاتوں اور گشت کے دوران افغان باشندوں کی شناخت کے بعد انھیں ہولڈنگ کیمپ میں انٹری اور رجسٹریشن کے بعد افغان باشندوں کو عزت و احترام کے ساتھ افغانستان ڈی پورٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چمن میں موجود غیر قانونی طور مقیم افغان باشندے بغیر کسی انتظار کے اپنے کاروبار کو سمیٹتے ہوئے عزت و وقار کے ساتھ اپنے ملک افغانستان چلے جائیں بصورت دیگر انھیں گرفتار کر کے افغانستان ڈی پورٹ کا سلسلہ جاری ہے۔
خبرنامہ نمبر3348/2026
آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے شہریوں کو پولیس کے خلاف اور دیگر شکایات درج کرانے کے لئے دیئے گئے براہ راست وٹس ایپ ٹول فری نمبر اور شکایات سیل پر موصول ہونے والی 13 شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی چھان بین شروع کرکے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی عمل لائی جائے گی۔ شہریوں سے التماس ہے کہ وہ پولیس کے خلاف اور دیگر شکایات کے حوالے سے بلوچستان پولیس کی جانب سے عوام کی سہولت کے لئے جاری کئے گئے آئی جی پولیس بلوچستان کے اپنے وٹس ایپ نمبر03043470110شکایات سیل علاوہ ٹول فری نمبر 111775544-81پر اپنی شکایت درج کرائیجاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام تھانوں کے باہر بھی فون نمبر آویزاں ہے جن میں 9203377-9204081-9204180-9204094 پر کال کرکے شکایت درج کراسکتے ہیں۔ گزشتہ ماہ مذکورہ واٹس ایب نمبروں کے علاوہ ٹول فری اور فون نمبروں پر13 شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ پولیس حکام کی جانب سے اس کی چھان بین اور تحقیقات شروع کردی گئی جس کا مقصد محکمے میں خود احتسابی، سزا و جزا کے عمل کو متحرک رکھنا ہے تاکہ پولیس اہلکاروں اور آفیسران کو اختیارات سے تجاوز کرنے سے روکنا ہے تاکہ وہ عام شہریوں کی شکایات کو بروقت اندراج کرکے ان کا فوری طور پر سدباب ممکن بنایا جائے۔ سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں قائم کئے گئے شکایت سیل میں درج کی گئی شکایات کے حوالے سے شکایت کنندگان کے نام صیغہ راز میں رکھے جاتے ہیں اور شہری بلا جھجھک خوف کیاپنی شکایت درج کرائیں۔تاکہ ان کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ اور انہیں فوری انصاف فراہم کیا جاسکے۔
خبرنامہ نمبر3349/2026
کوئٹہ ایس ایس پی ٹریفک پولیس کوئٹہ مرزا بلال حسن نے کہا ہے کہ شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل کیلئے غیر قانونی رکشوں، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، بغیر پرمٹ اور روٹ پرمٹ کے چلنے والے واٹر ٹینکروں، ون ویلنگ کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائیاں کی جائیں گی عوام ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور ٹریفک پولیس اہلکار کسی بھی کارروائی میں پکڑی جانے والی گاڑی یا جھگڑے کے حوالے سے فوری طور پر اپنے متعلقہ ایس پی کو اور وہ ایس ایس پی ٹریفک کو فوری طور پر آگاہ کریں گے جو اہلکار اس ایس او پیز اور احکامات پر عملدرآمد نہیں کریں گے اس پورے عمل میں متعلقہ اہلکار سے ایس پی تک تمام حکام کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پولیس لائن کوئٹہ میں ٹریفک پولیس کی رمضان المبارک اور گزشتہ دو ماہ میں کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایس پی سٹی اور ایس پی سریاب ٹریفک پولیس کے علاوہ ڈی ایس پی محمد اعظم سرپرہ اور آئی جی پولیس بلوچستان کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز شہزادہ فرحت جان احمد زئی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ایس ایس پی ٹریفک پولیس کوئٹہ مرزا بلال حسن نے اجلاس کے دوران باچا خان چوک، عالمو چوک، سریاب یونیورسٹی چوک، گولی مار چوک، اسپنی روڈ، سیٹلائٹ ٹاؤن، منی مارکیٹ، میکانگی روڈ، سرکی روڈ، گوالمنڈی چوک، امداد چوک، ڈبل روڈ، جوائنٹ روڈ، حالی روڈ، عبدالستار ایدھی چوک سمیت دیگر مقامات کا کوئٹہ سیف سٹی کے کیمروں کے ذریعے کی جانے والی نگرانی کے دوران مرتب کئے گئے ریکارڈ کی روشنی میں سیکٹر انچارج سارجنٹ اور متعلقہ پوائنٹس پر ڈیوٹی سرانجام دینے والے اہلکاروں کی بہتر کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مزید بہتر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران اپنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے غیر قانونی ڈبل پارکنگ، کم عمر ڈرائیورز خصوصاً رکشہ اور واٹر ٹینکر چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے واٹر ٹینکروں کے روٹ اور کمرشل پرمٹ چیک کریں اس کے علاوہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، غیر قانونی اور ڈبل نمبر پر چلنے رکشوں کے علاوہ ون ویلنگ کرنے والے نوجوانوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اور انہوں نے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی رکشے یا گاڑی کو چیک کرنے سے قبل باڈی کیم کیمرہ اور اپنے موبائل فون کے کیمرے اور ریکارڈنگ کو آن کرکے اس کو روک کر چیک کریں جس اہلکار نے بھی اس میں غفلت کا مظاہرہ کیا اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ ہم نے موثر اقدامات کے ذریعے پولیس اور محکمے کی کردار کشی اور سوشل میڈیا پر بے بنیاد ون سائیڈ موقف کی ویڈیو کے خلاف اپنے اہلکاروں سے کارروائی کی مکمل شواہد کے ساتھ ویڈیو اور کارروائی درکار ہے۔ ایسا نہ کرنے والے کو قصوروار تصور کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے محکمے میں خود احتسابی، سزا اور جزا کا عمل رکھنا ہے تاکہ کرپشن اور اقربا پروری کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اہلکار گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے دوران ان کو بند کرنے کی فوری طور پر اپنے ایس پی کو 5 منٹ میں رپورٹ کریں اور وہ 10 سے15 منٹ میں ایس ایس پی کو آگاہ کریں جو بھی اس میں غفلت کا مرتکب پایا گیا اس عمل میں اہلکار سے ایس پی کی سطح تک تمام عملے کے خلاف محکمانہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہیوی ٹریفک کو مقررہ اوقات میں ہی شہر میں آنے کی اجازت ہوگی اور موٹر سائیکلوں پر اضافی سلنسر لگا کر ہلڑ بازی اور شور کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیکنگ کے دوران اہلکار کے ساتھ لڑائی جھگڑے کو برداشت نہیں کیا جائے گا ایسا کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی بارشوں کے دوران پانی میں اور عید کے دوران ڈیوٹی دیتے ہوئے ٹریفک کی روانی کوبرقرار رکھنے پر اہلکاروں کی فرض شناسی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارک باد دیتے ہوئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں میں تعریفی سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے۔ اور اس موقع پر انہوں نے ٹریفک پولیس کے زیر استعمال گاڑیوں، لفٹر، موٹر سائیکلوں کا معائنہ کیا۔
خبرنامہ نمبر3350/2026
تربت.حکومتِ بلوچستان کے تعاون سے جاری رائز بلوچستان پروگرام کے تحت تربت میں خوش حال عورت، مستحکم سماج کے عنوان سے ایک اہم سیمینار گرلز اسکول چاہ سر میں منعقد ہوا جس کا مقصد خواتین کی سماجی شمولیت، نوجوان لڑکیوں کی مثبت سرگرمیوں میں شرکت اور ایک پرامن و ہم آہنگ معاشرے کے قیام کو فروغ دینا تھا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی تھے جب کہ اسسٹنٹ کمشنر نعمان منیر، اسسٹنٹ کمشنر مہنور برکت، چیف آف سیکشن منان بلوچ، ڈائریکٹر ہیومن رائٹس و سوشل ویلفیئر بلوچستان محمد عبدہ خالد، ریجنل پروگرام منیجر بی آر ایس پی التاز سخی، ڈاکٹر آصفہ بلوچ، شکیلہ بلوچ اور سماجی کارکن سنگین گچکی نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں مختلف سرکاری محکموں، سول سوسائٹی، لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز، اساتذہ، طلبہ اور کمیونٹی نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی بنیاد خواتین کی تعلیم، خوداعتمادی اور سماجی شرکت سے جڑی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نوجوان نسل اور خواتین کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے تاکہ معاشرے میں برداشت، ہم آہنگی اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ریجنل پروگرام منیجر بی آر ایس پی التاز سخی نے کہا کہ رائز بلوچستان پروگرام کا مقصد کمیونٹی سطح پر اعتماد، مکالمہ اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی فعال شمولیت کے بغیر نہ سماجی ترقی ممکن ہے اور نہ ہی پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔چیف آف سیکشن منان بلوچ نے کہا کہ خواتین کی سماجی، معاشی اور علمی ترقی دراصل پورے معاشرے کی ترقی ہے، اور حکومتِ بلوچستان ایسے اقدامات کی سرپرستی جاری رکھے گی جو نوجوانوں اور خواتین کو مثبت کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کریں۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتِ بلوچستان خواتین کی ترقی، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ رائز بلوچستان پروگرام مقامی سطح پر کمیونٹی انگیجمنٹ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔دیگر مقررین نے بھی خواتین کی قیادت، نوجوان لڑکیوں کی صلاحیتوں اور کمیونٹی سطح پر امن کے فروغ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومتِ بلوچستان اور رائز بلوچستان پروگرام کے اشتراک سے ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے جو ایک پرامن، خوشحال اور متحد معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر3351/2026
گوادر / اورماڑہ: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے حالیہ بارشوں کے باعث اورماڑہ کے علاقے جونا لائن میں بجلی کی ٹرانسفارمر اور ترسیلی لائن میں پیدا ہونے والی خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ڈپٹی کمشنر نے کیسکو کے متعلقہ افسران کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقے میں بجلی کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔ ہدایات کی روشنی میں کیسکو کی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ٹرانسفارمر اور لائن کی مرمت مکمل کی، جس کے بعد علاقے میں بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی۔اس موقع پر علاقہ مکینوں نے بروقت اقدام پر ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور کیسکو کی کاوشوں کو سراہا۔
خبرنامہ نمبر3352/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے حالیہ بارشوں کے بعد شہر کے مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور نکاسی آب و صفائی کے جاری عمل کا خود جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے بعض مقامات پر کام کی سست رفتاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نکاسی آب اور صفائی کے عمل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے موقع پر موجود میونسپل کمیٹی گوادر اور جی ڈی اے کے افسران کو سختی سے ہدایت جاری کی کہ آج رات 12 بجے تک شہر کے تمام متاثرہ علاقوں میں نکاسی آب اور صفائی کا عمل ہر صورت مکمل کیا جائے اور شہریوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی یا شکایت کا سامنا نہ ہو۔ڈپٹی کمشنر نے خصوصی طور پر ٹی ٹی سی کالونی، شمبے اسماعیل وارڈ اور سیدظہور شاہ ہاشمی وارڈ میں فوری اور تیز رفتار بنیادوں پر نکاسی آب اور صفائی کے عمل کو مکمل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔





